ایمان کے بغیرنہ خوشحالی ممکن ہے اور نہ نجات

0 1

انسان اپنی زندگی کی بقاکے لئے مختلف چیزوں کا محتاج ہے۔کھانا’ پینا’لباس’مکان’ علم’بیوی’ بچے’ صحت’ عزت’مال ا ور آرام کے علاوہ بھی بہت سی چیزوں کی اسے ضرورت رہتی ہے۔ان احتیاجوں کو پورا کرنے کے لئے وہ مختلف مادی سامانوں سے کام لیتا ہے ۔بچپن میں والدین یا عزیزو اقار ب ہوتے ہیں۔جو اس کی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں ‘پھر وہ اپنے قدموں پر کھڑا ہو جاتا ہے اور خود محنت و مشقت کرتا اور ان ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے سامان  فراہم کرتا ہے۔لیکن انسان کی اس تگ و دو کے بعد اگر اس کی مادی احتیاجیں پوی ہو جائیںتو بظاہر تو اس کی خوشحال زندگی نظر آئے گی ۔لیکن ان مادی احتیاجوں کے علاوہ انسان کی روحانی احتیاج بھی ہے ۔جو بطاہر تو نظر نہیں آتی یعنی اس احتیاج کو آنکھیں دیکھ نہیں سکتیں لیکن انسانوں کے دل گواہی دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ دل فقط مادی سامانوں سے اطمینان یافتہ نہیں ہوتے وہ کسی اور چیز کی تلاش میں ہوتے ہیں ۔ مذہب اس تلاش  کے رستہ کا نام ہے ۔یہ رستہ ہمیں انبیاء بتاتے ہیں۔ یہ رستہ بتانے والے لوگ اپنے اندر ایک غیر معمولی ھُسن اور غیر معمولی روحانی کشش رکھتے ہیں۔ اس لئے دل ان کے ساتھ تعلق پکڑنے میں اطمینان پاتے ہیں ۔ یہ لوگ نبی جو ایسی خبریں دینے والے  جو انسانی علم سے بالا ہوتی ہیں ایسا راستہ بتانے والے جسے انسان خود نہیں دیکھ سکتا۔ان کی باتوں کو سچ سمجھ کر مان لینا ایمان کہلاتا ہے ۔نبی ہمیں خدا سے متعارف کرواتے ہیں جو ہمیں پیدا کرنے والا اور ہر آن ہماری پرورش کرنے والا۔ہماری تمام ضرورتوں کو پورا کرنے کا سرچشمہ۔ بیشک انسانی فطرت میں اللہ تعالی کا اقرار اور تصور موجود ہونے کے باوجود انسان کی فطرت پر غلط ماحول کے دبیز پردوںکی وجہ سے انسان فطرت کی آوازسُننے کی کوشش نہیں کرتا  ۔ لیکن  اللہ کی اطاعت اور ایمان لانے سے قبل ہمارے ذہنوں پر اس  بر تر ہستی کا ایک دھندلا سا نقشہ ہوتا ہے لیکن نبی اسے ہمارے سامنے اس کی تمام صفات اور قدرتوں کے ساتھ لے آتے ہیں ۔وہ ایسا ہے کہ ہم اس سے گہرا تعلق پیدا کر سکتے ہیںوہ ایسا ہے کہ ہمارے مانگنے پر ہمیں دیتا ہے کیونکہ اس کے خزانے لا انتہا اور بے  حد و حسا ب ہیں ۔اور اس کے خزانوں میں ساری مخلوق کو دینے سے بھی کچھ بھی کمی نہیں آتی۔اس لئے اس برتر ہستی سے لینے کے لئے سچے ایمان اور کامل فرمانبرداری کی ضرورت ہے ۔ نبی اللہ تعالیٰ کی ہمیں یہ نوید سُناتا ہے ۔اس کا تعلق حقیقی آرام اورراحت پہنچاتا ہے’اس کی معرفت ر وشنی بخشتی ہے ۔اور اس کی محبت دلوں کی غذا ہے ۔وہ کبھی ہمارا ساتھ نہیں چھوڑتاجب کہ باقی سب کچھ ہم سے الگ ہو جاتا ہے ۔انسان پر اسی کا سایہ ہی اصل سایہ ہے’باقی سب کہانیاںہیں ۔بد قسمت ہے وہ انسان جو ایسے خدا کو نہ پا سکے ۔  نبی ہمیں اس کی کلام کی طرف راہنمائی کرتا ہے جو اس پر خدا کی طرف سے نازل ہوتا ہے ۔وہ ہمیں نازل ہوتا دکھائی نہیں دیتا ۔لیکن محفوظ کیا گیا کلام  (قران مجید) اپنی صداقتوں کی شعاعوںسے ‘ اپنی تعلیم کی روشنی  سے صفات الہی کے بیان سے ‘زبان کی فصاحت سے’ اخبار غیبیہ کے اظہار سے ‘نظام روحانی کی تفصیل سے’دلائل کی قوت سے ‘اور اور اپنی عظیم تاثیروں  اور بے شمار خوبیوں سے’ صا ف بتا رہا ہے کہ خدا کا کلام ہے۔وہ ہمیں ایک مکمل ضابطہ حیات دیتا ہے۔جسے اختیار کرنے سے ہمیں حقیقی کامیابی مل سکتی ہے اس دنیا میں اورآخرت میں بھی لیکن اس کامیاب زندگی کے حصول کے لئے خدا پر ایمان اور اس کی اطاعت اور اس کے ساتھ تعلق کی ضرورت ہے ۔ایسا تعلق جو بدی سے نفرت پیدا کردے ۔نیکی کو خوبصورت کر کے دکھائے ۔ایسا تعلق جو اپنے بندہ کو مشکل سے مشکل گھاٹی پر چڑھنے کی ہمت دے ۔ دنیا کی آسائشوں اور لذتوں سے بے نیاز کردے ‘قربانیوں کے لئے دل کھول دے’خدا کے لئے مصیبتیں اُٹھانے کے لئے دل مضبوط کردے ۔آلام میں آرام محسوس کرائے اور ایسے تعلق کے سوا سب تعلقات سے فارغ کردے  ۔ نبی ‘ہمیں فرشتوں کے وجود بتاتے ہیں جو مومنوں کو کو تقویت بخشنے والے  اور ان کے دلوں میں نیک حرکتیں پیدا کرنے والے ہیں ۔ لیکن یہ سب راستے ایمان کی ہی بدولت کھلتے ہیںاور سب حقیقتیں ایمان کے طفیل ہی ظاہر ہوتی ہیں ۔اور بجز ایمان نجات ممکن نہیں لیکن ایک انسان دنیا کے سب تعلقات تو قائم کرتا ہے لیکن اپنے خالق مالک سے تعلق پیدا کرنے کے لئے تیار نہیں یعنی اس سے تعلق پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتاتو آسے کامیاب زندگی نصیب نہ ہو سکے گی خدا کے کلام کے مطابق ایسے انسان کا ٹھکانا جہنم ہوگا جہاں سوزش اور جلن ہوگی ۔جہاں درد اور کرب ہوگا ۔جہاں رونا اور دانت پسینا ہو گا جہاں تاریکی ہی تاریکی اور مصیبت ہوگی ‘جہاں انسان نہ زندہ رہے گا نہ مرے گا ۔عذاب اس کا پیچھا نہ چھوڑے گا ۔اس وقت وہ کہے گا کہ کاش وہ مٹی ہو جاتا  اسے یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا ۔لیکن انسان اپنے اس بدترین انجام کی طرف وہ اس لئے لوٹتا ہے کہ جب دنیا میں مادی لذتوں کا تو خوگر ہوتاہے لیکن اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے والی اپنی روحانی غذا کی فکر نہیں کرتاحالانکہ جسم کے ساتھ روح بھی ہے روح کی غذابجز ایمان اور خدا کے کلام کے سوا مل نہیں سکتی کیونکہ روحانی زندگی کی نشونما بہتری اور ترقی کے بغیر نہ انسان  خدا سے تعلق قائم کر سکتا اور نہ ہی اسے دنیا میں سچی خوشحالی نصیب ہو سکتی ہے ۔مادی زندگی کی لذتوں میں انسان اپنی خوشحالی اور دلی اطمینان کے سامان تلاش کرتا ہے۔لیکن مادیت میں آسودگی ‘ سچی خوشحالی یعنی اطمینان قلب کہاں۔ہاں مادیت اس چند روزہ زندگی کی آسائش کی اُمید دلا کر آخرت کی ابدی زندگی کو نظر انداز کر دیتی ہے ۔لیکن مادیت مال و دولت کے ساتھ بُرائیوں بے حیائیوں کا طوفان لاتی ہے جس میں انسانیت کے اعلیٰ جوہر غرق ہو جاتے ہیں’ مادیت ہوا وحرص کی آگ کو بھڑکاتی اور دلوں کے اطمینان کو چھین لیتی ہے ‘مادیت ظاہری چمک رکھتی ہے لیکن اندرونی تاریکی پیدا کرتی ہے۔مادیت متاع قلیل دیتی ہے لیکن ہزار ذلتوں اور رسوائیوںکے بعد دیتی ہے۔اس کے مقابل پر ایمان ابدی زندگی کی بہتری کا ضامن بنتا ہے ۔اور یمان سب دنیا کو بھی نظر انداز نہیں کرتااور اسے اچھا بناتا ہے ‘وہ مال و دولت کو خدا کی راہ میں قربان کرواتا ہے لیکن خدا کی معرفت اور مال و دولت سے مالا مال کرتا ہے ۔جس سے ایک عاجز بندہ پر خدا کی صفات کا رنگ چڑھ جا تا ہے۔اور ایمان  انسانیت کے اعلی جوہروں کی پرورش اور نشو نما کرتا ہے ۔وہ اس چند رو زہ زندگی میں پاکیزگی اور فلاح کے حصول کیلئے محنت اور مشقت تو ضرور کرواتا ہے لیکن اس کے اندر بھی ایک لذت پیدا کرکے اس کو آسان کر دیتا ہے اور ایمان حقیقی راحتوں اور نعمتوں کو میسر کرتا ہے ۔یہ کہنا سچ اور بالکل سچ ہے کہ مادیت اگر کھوٹہ پیسہ پیش کرتی ہے تو ایمان لا انتہا خزانے پیش کرتا ہے ۔ لیکن دورحاضر کے انسانوں کی ایمانی حالت کا جائزہ لیا جائے تو مسلمانوں کی غالب اکثریت حقیقی ایمان پر قائئم نہیں بلکہ رسمی ایمان پر تکیہ کئیء ہوئے ہیں اور اپنے ماں باپ یا بزرگوں کو جس مذہب یا مسلک پر دیکھا یہی ان کا  مذیب  اور اسی پر ان کا رسمی ایمان ہے ۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایمان کا ابتدائی مرتبہ یہ ہے کہ مومن آگ میں زندہ ڈالا جانے کو پسند کرتا ہے مگر نہیں پسند کرتا کہ وہ ایمان لانے کے بعد پھر کفر کی طرف  لوٹ جائے ۔ ( مشکوة کتاب ا لا یمان ) لیکن اکثریت جس رسمی ایمان کا دعویٰ کرتی ہے ایمان با اللہ کی حقیت سے بے نصیب ہے ۔ہمیں یہ جاننا چاہیے ایمان اس حالت قلبی کا نام ہے کہ جب تک انسان صفات باری تعالیٰ اور نشان ہائے قدرت الہی کا مشاہدہ کرکے خدا تعالیٰ کے متعلق اس مرتبہ پر قائم  ہوجاتاہے کہ جو انسان کو اس مادی محسوسات کے متعلق ان کے مشاہدہ سے حاصل ہوتا ہے ۔مثلاََ انسان اپنے باپ کو دیکھتا ہے ا ور پہچان لیتا ہے کہ یہ میرا باپ ہے ۔بیٹے کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ میرا بیٹا ہے ۔سورج کو دیکھتا ہے کہ اور جانتا ہے کہ یہ سورج ہے اسی طرح وہ خدا پر ایمان لے آئے یعنی خدا کی ہستی پر اتنا یقین ہوجائے جتنا کہ اُسے ا پنے باپ پر اور بیٹے اور سورج وغیرہ کے متعلق حاصل ہے اگر خدا کے متعلق اس کا یقین کا درجہ گرا ہوا ہے تو در اصل یہ ایمان نہیں بلکہ ایک شک ہے جسے وہ  ایمان سمجھ رہا ہوتا ہے ۔حقیقی ایمان اس حالت کا نام ہے کہ انسان گناہ سے محفوظ ہوجاتا ہے ۔ اسلام نے گناہ کے فلسفہ پر زور دیا ہے کہ گناہ عدم یقین سے پیدا ہوتا ہے اور یقین سے دور ہوتا ہے ۔پس یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان کو خدا پر سچا ایمان اور یقین حاصل ہواور وہ گنا میں بھی ملوث ہو کیونکہ گناہ تو  ایسا  مہلک زہر جو عدم یقین کی وجہ خدا سے دوری اور اس کے غضب کی ایک آگ ہے جو گناہ کے مرتکب کی روح کو جلا کر بھسم کر دیگی پس ،جس کا ایمان یقین پر قائم ہے وہ کس طرح گناہ کی طرف قدم اُٹھا سکتا ہے ۔پس مسلمانوں کی اکثریت کی رسمی ایمان کی وجہ سے ہمیں جوقابل قدر اخلاقی حالت نظر نہیں آرہی ہے۔ اس سے یہی ثابت ہے کہ حقیقی ایمان جو کامل یقین کی پیداوار ہے جو خدا کے نزدیک سچا ایمان ہے اُس میں اور رسمی ایمان میں کتنا فرق ہے ۔پس مومن  وہ صرف اُس وقت کہلائے گاجب رسمی ایمان ( ایسا ایمان جو اسے وراثت میں ملا) کی تاثیرات کے علاوہ وہ خودعلیٰ وجہ البصیرت خدا کی ہستی کو محسوس و مشہودکر کے اس کے متعلق ایک ذاتی اور زندہ تعلق قائم کر لیگا ایسا یقین جیسا وہ اس مادی دنیا کی چیزوں کے متعلق رکھتا ہے ۔ پس ایسا ایمان ہی ہے جو رضائے الہی کا وسیلہ اورمراتب قُرب کا زینہ اور گناہوں کو دھونے کے لئے ایک چشمہ ہے ۔ خدا تعالی ٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے فضل سے ایمان کے تقاضے پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے   جو رضائے الہی کا وسیلہ بن جائے کیونکہ بجز ایمان نہ سچی خوشحالی ممکن ہے اور نہ اسکے بغیر انسان کی نجات ممکن ہے

مزید  حکومت علیؑ کا حق ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.