اہم شیعہ تفاسیر کا تعارف

0 2

لغت میں ”تفسیر“ کا معنی ہے چہرے سے نقاب ہٹانا۔

تو کیا قرآن پر جو نور کلام مبین اور تمام مخلوق کی ہدایت کے لئے حق تعالی کی واضح گفتگو ہے کوئی پردہ اور نقاب پڑا ہوا ہے۔جسے ہم ہٹانا چاہتے ہیں ؟ نہیں ایسا نہیں ہے۔

قرآن کے چہرے پر تو کوئی نقاب نہیں ہے یہ تو ہم ہیں جن کے چہرے پر سے نقاب ہٹانا چاہیے اور ہماری عقل و ہوش کی نگاہ سے پردہ اٹھنا چاہیے تاکہ ہم قرآن کے مفاہیم کو سمجھ سکیں اور اس کی روح کا ادراک کر سکیں۔

دوسرا پہلو یہ ہے کہ قرآن کا صرف ایک چہرہ نہیں ۔اس کا وہ چہرا جو سب کے لئے کھلا ہے وہ نور مبین ہے اور ہدایت خلق کی رمز ہے عمومی چہرا ہے ۔

رہا اس کا دوسرا پہلو تو اس کا ایک چہرا بلکہ کئی چہرے اور ہیں ۔ جو صرف غور و فکر کرنے والوں،حق کے پیاسوں،راستے کے متلاشیوں اور زیادہ علم کے طلب گاروں پر آشکار ہوتے ہیں ۔ اس میں سے ہر ایک کو اس کے اپنے ظرف ،خلوص اور کوشش سے حصہ ملتا ہے ۔

ان چہروں کو احادیث کی زبان میں” بطون قرآن “ کہتے ہیں ۔ چونکہ ہر شخص ان کی تجلی نہیں دیکھ پاتا بلکہ زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہر آنکھ انہیں دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتی لہذا تفسیر آنکھوں کو توانائی دیتی ہے اور پردوں کو ہٹاتی ہے اور ہمارے اندر دیکھنے کی اہلیت پیدا کرتی ہے ۔ جتنا کہ ہمارے لئے ممکن ہے۔قرآن کے کئی چہرے ایسے ہیں جن سے زمانہ گزرنے اور انسانی لیاقت و استعداد میں اضافے اور مالیدگی سے پردہ اٹھتا ہے ۔ مکتب علی علیہ السلام کے ہونہار شاگرد ابن عباس اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:” القرآن یفسرہ الزمان” زمانہ قرآن کی تفسیر کرتا ہے ۔

ان سب باتوں سے قطع نظر ایک مشہور حدیث ک ے مطابق : ” القرآن یفسر بعضہ بعضاَ۔”

قرآن خود اپنی تفسیر بیان کرتا ہے اور اس کی آیات ایک دوسرے کے چہرے سے پردہ اٹھاتی ہیں۔

قرآن کا نور اور کلام مبین ہونا اس با ت کے منافی نہیں ہے کہ یہ ایک اکیلا ہے اس طرح کہ دوسرے سے پیوستہ بھی ہے اور ایک ایسا مجموعہ ہے جو ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتا اور یہ سارے کا سارا نور اور کلام مبین ہے اگرچہ اس کی بعض آیات کچھ دیگر آیات کے چہرے سے پردہ اٹھاتی ہیں۔یہ کوشش کب شروع ہوئی اور کہاں تک پہنچی اس میں شک نہیں کہ قرآن کی تفسیر اپنے حقیقی معنی کے لحاظ سے خود پیغمبر کے زمانے سے اور آنحضرت کے پاکیزہ دل پر اس کی اولین آیات کے نازل ہونے سے شروع ہوئی اور پھر اس علم کے بزرگ اور عظیم لوگ اپنی سندوں کا سلسلہ پیغمبر کے شہر ِعلم کے در تک لے جاتے ہیں۔

تفسیر قرآن کے سلسلے میں اب تک سینکڑوں کتابیں لکھی جا چکی ہیں جو مختلف زبانوں میں اور مختلف طرزوطریقہ کی ہیں۔ بعض ادبی ہیں اور بعض فلسفی،کچھ کی نوعیت اخلاقی ہے اور کچھ احادیث کی بنیاد پر لکھی گئیں ہیں۔ بعضتاریخ کے حوالے سے رقم کی گئیں اور بعض علوم جدیدہ کی اساس پر لکھی گئی ہیں ۔ اس طرح ہر کسی نے قرآن کو ان علوم کے زاویے سے دیکھا ہے جن میں وہ خود تخصص رکھتا ہے ۔

مزید  خطبۂ غدیر؛پہلا حصہ،حمد و ثنائے الہی

خلاصہ یہ کہ راہ تفسیر کے راہبوں میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں ایک مخصوص آئینہ تھا جس سے انہوں نے قرآن کی ان زیبائیوں اور اسرار کو منعکس کیا۔ لیکن یہ واضح ہے کہ یہ سب چیزیں باوجودیکہ قرآن کی تفسیریں ہیں ان میں سے کوئی بھی قرآن کی تفسیر نہیں کیونکہ ان میں سے ہر ایک قرآن کے ایک رخ سے پردہ ہٹاتی ہے نہ کہ تمام چہروں سے اور اگر ان سب کو ایک جگہ جمع کر لیا جائے تو پھر بھی وہ قرآن کے چند چہروں کی نقاب کشائی ہوگی نہ کہ تمام چہروں کی۔

اس لئے تمام علماء اور دانشوروں کا فرض ہے کہ وہ کسی زمانے میں بھی ناتھ پر ہاتھ رکھ کر نہ بیٹھ جائیں۔ قرآن مجید کے زیادہ سے زیادہ حقائق کے انکشاف کے لئے اپنی پے در پے مخلصانہ سعی و کوشش جاری رکھیں ۔ قدماء اور گذشتہ علماء (خداوند عالم کی رحمتیں ان کی ارواح پاک پر ہوتی رہیں) کے ارشادات سے فائدہ اٹھائیں لیکن انہی پر قناعت نہ کریں کیونکہ پیغمبر اکرم فرماتے ہیں :” لا تحصی عجائبہ ولا تبلی غرائبہ” قرآن کی خوبیاں کبھی ختم نہیں ہوں گی اور اس کی عجیب و غریب نئی باتیں کبھی پرانی نہ ہوں گی ۔

مذہب شیعہ اپنے اسلاف کے نقوش قدم پر چلتے ہوئے اس میدان میں بھی نہ یہ کہ کسی فرقہ سے پیچھے رہا بلکہ سب آگے نظر آتا ہے اور کیوں آگے نظر نہ آئے حضرات معصومین علیہم السلام ہی قرآن کے حقیقی مفسر ہیں کہ جو اس مذہب کے سرپرست ہیں اور اس لیے بھی کہ  یہ مذہب باب مدینۃ العلم سے وابستہ ہے لہذا ہمارے یہاں حضرات معصومین علیہم السلام کی تفاسیر سے لیکر آپ کے اصحاب کرام اور پھر غیبت کبری میں ان ورثاء ،علماء نے مسلسل اپنی کوششیں جاری رکھیں اور قرآن کریم کے ہر زاویہ سے اپنی اپنی سطح کے مطابق گفتگو کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اگر چہ تفاسیر آئمہ طاہرین آپ کے دیگر فرمودات کی طرح کہ جو آپ کے دست مبارک سے صفحہ قرطاس پر منور ہوئے اور اسی طرح آپ کے اصحاب کرام کی دستنویس تفاسیر بغداد میں سید مرتضی کے انتقال کے بعد عباسی حکومت کےذریعہ نظر آتش ہوچکی ہیں  لیکن پھر بھی ان سے منسوب یا پھر بعد میں علماء نے ان کی علوم سے استفادہ کرتے ہوئے اس خلع کو بھی پر کرنے کی کوشش کی ہے کہ جن میں سے بعض کو ہم فہرست وار ذکر کررہے ہیں:

اہم شیعہ تفاسیر

عربی تفاسیر:

تفسیر فرات کوفی۔ تفسیر منسوب بہ امام حسن عسکری۔ تفسیر عیاشی ۔ تفسیر علی ابن ابراہیم قمی ۔ تفسیر تبیان ، شیخ طوسی ۔ تفسیر مجمع البیان ، شیخ طبرسی ۔ تفسیر  جوامع الجامع ، شیخ طبرسی۔  تفسیر البرہان  ،سید ہاشم بحرینی ۔ تفیسر صافی ، فیض کاشانی ۔تفسیر اصفی، فیض کاشانی۔تفسیر شبر ، عبداللہ شبر۔تفسیر کنزالدقائق۔تفسیرالمیزان، طباطبائی۔تفسیر نور الثقلین۔تفسیر البصائر، جویاباری۔

فارسی تفاسیر:

تفسیر تسنیم ، جوادی آملی ۔تفسیر راہنما، ہاشمی رفسنجانی ۔تفسیر روشن ، حسن مصطفوی۔تفسیر ضیاء ، سید ضیاء الدین۔تفسیر نور ، محسن قرائتی۔تفسیر کوثر ، یعقوب جعفری مراغہ ای۔تفسیرنمونہ ، مکارم شیرازی

اردو تفاسیر:

ترجمہ و تفسیر مولانا مقبول احمدصاحب۔ ترجمہ و تفسیر  مولانافرمان علی صاحب۔ ترجمہ و تفسیر  مولانا  ادیب اعظم ظفر حسن امروہوی صاحب۔ تفسیر عمدة البیان۔تفسیر انوار النجف۔ ترجمہ و تفسیر امداد حسین کاظمی ۔ ترجمہ و تفاسیر علامہ ذیشان حیدر جوادی ۔ ترجمہو تفسیرمولانا محسن  علی نجفی ۔

مزید  امامت پر ایک مدلل بحث امام کے وجود کا فلسفہ

ان کے علاوہ اور بہت سی تفاسیر ہیں کہ جو تفسیر موضوعی یا پھر ترتیبی یعنی قرآن کریم کے سوروں یاآیات کے اعتبار سے تحریر ہوئی ہیں چونکہ وہ غالبا پورے قرآن کی تفسیر نہیں ہیں بلکہ بقدر ضرورت آیات یا سوروں کی تفاسیر ہیں اس لیے ان کے ذکر کی ضرورت محسوس نہیں کی جارہی ورنہ مجموعاتفاسیر کو اگر جمع کیا جائے تو شاید ان کی اجمالی فہرست کے لیےہی  ایک کتاب کی ضرورت ہے ۔  نیزاسی اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے اس فھرست کتب تفاسیر کی توضیح و تشریح بھی نہیں کی گئی تاکہ مطلب طویل نہ ہوجائے ۔

تفسیر کے میدان میں شیعہ تفاسیر کی تعداد کافی زیادہ ہے خصوصاًً آخری چند دہائیوں میں کئی نئی اور عمدہ تفاسیر منظر عام پر آئی ہیں، ہم یہاں اختصار کے پیش نظر فقط چار اہم شیعہ تفاسیر کا تعارف کراتے ہیں:

۔۱۔ تفسیر ’’اَلتِّبْیَانُ فِی تَفْسِیْرِ الْقُرْآنِ‘‘

ابو جعفرمحمد بن حسن بن علی طوسی ؒ ، جو ’’شیخ الطائفہ‘‘کے لقب سے مشہور ہیں، اس تفسیر کے مولف ہیں۔ آپ کا شمار مذہب تشیع کے عظیم فقہاء و مجتہدین میں ہوتا ہے۔ آپ مُحِدِّث، رجالی، مفسر، ادیب، متکلم اور محقق تھے۔ آپ کی پیدائش سرزمین طوس (خراسان) میں ماہ رمضان۳۸۵ ھ ق میں ہوئی۔ اور آپ نے بابرکت زندگی گزارنے کے بعد ۴۶۰ ھ ق میں رحلت فرمائی۔

تفسیر ’’تبیان‘‘ کا شماراہل تشیع کی اہم ترین تفاسیر میں ہوتا ہے، یہ قرآنِ کریم کی پہلی مکمل شیعہ تفسیر ہے، جو پانچویں صدی ہجری قمری میں تدوین کی گئی ہے۔ اس تفسیر کا شمار ’’تفاسیر کلامی‘‘ کے زُمرے میں ہوتا ہے۔اس تفسیر میں قرآنِ کریم سے متعلق تمام علوم و فنون؛ جیسے: صرف و نحو، معانی و بیان، حدیث، فقہ، کلام اور تاریخ وغیرہ سے استفادہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح یہ تفسیر، قرائت، قصص، عقائد اور ناسخ و منسوخ، ادبی وجوہ اور آئمہ علیھم السلام سے منقولہ روایات، جیسے مضامین کو بھی اپنے اندر شامل کیے ہوئے ہے۔

اس تفسیر میں اعتقادی و کلامی اور مخالفین، من جملہ وعیدیہ، تناسخہ، حشویہ، خوارج، مشبّہہ، مرجۂ، معتزلہ اور غلاۃ وغیرہ کے نظریات کی ردّ اور جوابات کے ضمن میں بھی کافی بحثیں نظر آتی ہیں اور چونکہ شیخ طوسی ؒ کو شیعہ اور مذاہب اہل سنت کی فقہ میں بڑی مہارت اور عبور حاصل تھا، لہٰذا فقہی اور اصولی مباحث بھی بیان کی ہیں اور شیعہ و اہل سنت کے فقہی مذاہب میں جو نظریاتی اختلاف ہے اس کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ یہ تفسیر دس جلدوں میں تدوین ہوئی ہے۔

۔۲۔ تفسیر ’’ مَجْمَعُ البَیَانِ فِی تَفْسِیْرِ الْقُرآنِ ‘‘

ابو علی فضل ابن حسن ابن فضل طبرسی  جن کا لقب ’’أمین الاسلام ‘‘ ہے ، چھٹی صدی ہجری کے مشہور شیعہ عالم، مفسِّر، محدِّث، فقیہ، متکلِّم، أدیب، لغت شناس اور ریاضی دان شمار ہوتے ہیں،

علامہ طبرسی  کی ولادت ۴۶۸ یا ۴۶۹ ہجری قمری کو ایران کے مشہور و معروف شہر، مشہد مقدس میں ہوئی ، اور آپ کی رحلت مشہور قول کے مطابق ۵۴۸ ہجری قمری کو عید الاضحی کی شب، خراسان کے شہر سبزوار میں ہوئی، جہاں آپ نے اپنی زندگی کے آخری ۲۵ سال گزارے، وفات کے بعد آپ کے جسدِ خاکی کو مشہد مقدس منتقل کرکے حرم امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام کے اطراف میں سپرد خاک کیا گیا۔

مزید  آئمہ اطہار(علیہم السلام) اور سیاسی حکمت عملی

آپ کی تفسیر ’’مجمع البیان‘‘ قرآنِ کریم پر لکھی جانے والی بہترین تفاسیر میں سے شمار ہوتی ہے۔ اِس تفسیر کے مقدَّمہ میں علّامہ طبرسی ؒ نے اِس تفسیر کو ’’مَجْمَعُ البَیٰانِ لِعُلُوْمِ الْقُرٰآنِ‘‘ نام سے یاد کیا ہے، لیکن فہرست نگاروں نے اِس تفسیر کو ’’ مَجْمَعُ البَیٰانِ فِی تَفْسِیْرِ الْقُرآنِ‘‘ کے نام سے بیان کیا ہے۔ یہ تفسیر، تفاسیر جامع میں سر فہرست ہے، جس میں قرآن سے متعلق تمام علوم و فنون کو یکجا اور اکٹھا کر دیا گیا ہے، جیسے: مکی ومدنی کی تقسیم، سورتوں میں آیات کی تعداد، سورتوں کے نام رکھے جانے کی کیفیت اور وجہ تسمیہ، سورتوں کی تلاوت کی فضیلت سے مربوط روایات، اختلاف قرائت، کلمات کے اعراب، مشکل لغات کے معانی، اسباب نزول، آیات کی تاویل و تفسیر، آیات کا آپس میں تناسب، قرآنی قصوں کا ذکر اور فقہی احکام کا بیان وغیرہ کی بحثیں تمام آیات اور سورتوں کے ذیل میں موجود ہیں۔ یہ تفسیر بھی دس جلدوں میں تدوین کی گئی ہے۔

۔۳۔ تفسیر ’’رَوْحُ الْجِنَانِ وَ رُوْحُ الْجَنَانِ‘‘

یہ تفسیر جمال الدین حسین بن علی بن محمد بن احمد خزاعی کی تالیف ہے، جو ’’ابوالفتوح رازی‘‘ کے لقب سے مشہور ہیں۔ آپ پیغمبر خدا ﷺ کے صحابی ’’نافع بن بُدیل بن ورقاء خزاعی‘‘ کی اولاد سے ہیں، آپ کے دادا نے پہلے ایران کے شہر نیشاپور ہجرت کی اور پھر وہاں سے شہر ری منتقل ہو گئے اور ایرانیوں کے ساتھ معاشرت اور بود و باش اختیار کرنے کی وجہ سے آپ کے خاندان پر فارسی زبان غالب آگئی، یہ تفسیر چھٹی صدی ہجری کے وسط (۵۱۰ -۵۵۶ ھ ق) کے دوران، فارسی (دری) زبان میں لکھی گئی اور یہ فارسی زبان کی پہلی مکمل اور جامع تفسیر ہے، جو شیعہ ذوق کے مطابق لکھی گئی۔ تفسیر کی کتابوں میں اس تفسیر کا بڑا اہم اور رفیع مقام ہے اور بیس ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔

۔۴۔ تفسیر ’’اَلْمِیْزَانُ فِی تَفْسِیْرِ الْقُرْآنِ‘‘

یہ تفسیر، جو ۲۰ جلدوں پر مشتمل ہے اور عربی زبان میں لکھی گئی ہے، عصر حاضر کے عظیم فلسفی اور مفسر قرآن حضرت آیت اللہ علامہ سید محمد حسین طباطبائی ؒ کی تالیف ہے۔ علامہ ۱۳۲۱ ھ ق میں ایران کے شہر تبریز میں پیدا ہوئے اور انہوں نے ۱۴۰۲ ھ ق کو قم مقدس میں رحلت فرمائی۔ آپ کی یہ تفسیر ایک ایسی تفسیر جامع ہے جس میں عقل و درایت کی رُو سے تفسیر قرآن بہ قرآن کی روش کو پیش نظر رکھا ہے، کیونکہ آپ کی نظر میں قرآن کا غیر یہ شائستگی نہیں رکھتا کہ قرآن کی تفسیر کرے اور قرآن جب دوسری تمام چیزوں کے لیے تبیان اور واضح بیان کرنے والا ہے ۱؂ تو پھر خود اپنے لیے اس کا یہ وصف کیوں نہیں کہ اپنی تفسیر کر سکے۔ ۲؂ نیز اس تفسیر میں علامہ کا ذوق فلسفی نمایاں طور پر مشاہدہ کیا جا سکتا ہے، اگرچہ علامہ نے تفسیر ترتیبی کا لحاظ رکھتے ہوئے آیات اور سورتوں کی پے در پے تفسیر کی ہے لیکن تفسیر قرآن بہ قرآن کی روش کو اپناتے ہوئے، مورد بحث آیات کی تفسیر کے دوران دوسری متناسب آیات کو بھی زیر بحث لائے ہیں تاکہ اُس موضوع کی مکمل وضاحت ہو جائے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.