اہل بیت کے نورکاانبیاء نے مشاہدہ کیاہے

0 0

اہل بیت اور چودہ معصومین یقیناً اس عالم مادی میں انبیاء الہٰی کی خلقت کے بعد آئے ہیںلیکن بہت ساری روایات اور احادیث سے واضح ہوجاتا ہے کہ خدا نے اہل بیت کا نور حضرت آدم -کو عالم ذر میں دکھایا اورحضرت ابراہیم(ع)کے بارے میں فرماتے ہیں کہ انہوں نے نمرود کے ظلم و ستم کے وقت پنجتن پاک کے نور مبارک کامشاہدہ فرمایا اور خدا سے ان کاواسطہ دے کر دعا کی تو خدا نے یا نار کونی برداً وسلاماً علیٰ ابراہیم کہہ کر نجات دی ۔ اسی طرح حضرت یحییٰ -اور حضرت نوح -وغیرہ کے حالات متعدد روایات میں تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر نبی -نے مشکل وقت میںچودہ معصومین کا واسطہ دے کر خدا سے کامیابی کی درخواست کی ہے اور خدا نے ان کی درخواست قبول فرمایا۔ان تمام واقعات سے معلوم ہوجاتا ہے اہل بیت کے نور مبارک کاتمام انبیاء الہٰی نے مشاہدہ فرمایا جن کے صدقے میں وہ کامیاب ہوئے ۔جب حضرت آدم-کو ترک اولیٰ کے نتیجہ میں خدا نے سزا دی حضرت آدم-نے پنجتن پاک کا واسطہ دے کر معافی مانگی تو خدا نے ان کو معاف کردیا[١]
نیز مفضل بن عمر بن عبد اللہ نے پیغمبر اکرم (ص)سے روایت کی ہے:
انہ قال:لما خلق ابراہیم علیہ السلام و کشف اللہ عن 
بصرہ فنظر الیٰ جانب العرش نوراً فقال الہیٰ و سیدی ما ھٰذا النور؟ قال یا ابراہیم ھٰذا نور محمد صفوتی قال الہٰی و سیدی و ارایٰ نوراً الیٰ جانبہ قال یا ابراہیم ھٰذا نور علی ناصر دینی قال الہٰی و سیدی واریٰ نوراً ثالثاً یلی النورین قال یا ابراہیم ھٰذا نور فاطمۃ تلی اباھا و بعلھا فطمت بھا محبھا من النار قال الہیٰ و سیدی واریٰ نورین یلیان ثلاثۃ انواراً قال یا ابراہیم ھٰذا الحسن و الحسین یلیان نور ابیھما وامھما و جدھما قال الہیٰ و سیدی و 
اریٰ تسعۃ انواراً قد احلقوا بالخمسۃ انواراً قال یا ابراہیم ھٰؤلآء الائمۃ من ولد ھم قال الہٰی و سیدی وبماذا یعرفون؟قال یا ابراہیم اولھم علی بن الحسین و محمد بن علی و جعفر ابن محمد وموسیٰ ابن جعفر و علی ابن موسیٰ و محمد بن علی وعلی بن محمد والحسن بن علی والمہدی بن الحسن صاحب الزمان قال الہٰی وسیدی واریٰ انواراً لا یحصی عددھا الا انت قال یا ابراہیم ہٰؤلآء شیعتھم و محبیھم قال یا ابراہیم یصلون احدی و خمسین والتختم فی الیمین و الجہر ببسم اللہ الرحمن الرحیم والقنوت قبل الرکوع والسجود و سجدۃ الشکر قال ابراہیم: الہٰی اجعلنی من شیعتھم ومحبیھم فانزل اللہ فی القرآن وان من شیعتہ لابراہیم اذجاء ربہ بقلب سلیم[2]
مفضل ابن عمر نے کہا : پیغمبر (ص)نے فرمایا جب خدا نے حضرت ابراہیم -کو خلق فرمایا اور ان کی آنکھوں سے پردے ہٹادیئے تو حضرت ابراہیم- کی نظر عرش کے کنارے ایک نور پر پڑی عرض کیا :پروردگارا!یہ نور کیا ہے؟نداء آئی: اے ابراہیم-! یہ محمد(ص) کا نور ہے جو میرا برگزیدہ بندہ ہے حضرت ابراہیم(ع) نے کہا:خدایا! اس نور کے ساتھ جو نور نظر آرہا ہے وہ کس کا ہے؟جواب ملا اے ابراہیم! وہ نور، علی مرتضیٰ کا ہے جو میرے دین کا مددگار ہے۔حضرت ابراہیم نے کہا:اے میرے آقا و مولا ان دونوں کے پیچھے تیسرا نور کس کا ہے؟ جواب ملا اے ابراہیم -! یہ حضرت فاطمہ = کا نورہے جو اپنے پدر بزرگوار اور شوہر کے کنارے نظر آرہا ہے۔جس کے صدقے میں ان کے دوستداروںکو جہنم کی آگ سے نجات ملے گی۔حضرت ابراہیم -نے کہا اے میرے مولا و آقا !ان نوروں کے پیچھے دو نور نظر آرہے ہیں وہ کون ہیں؟جواب ملا اے ابرہیم! وہ حسن و حسین (ع) ہیںجو انکے جد بزرگوار،مادر گرامی اور پدر بزرگوار کے پیچھے نظر آرہے ہیں۔پھر حضرت ابراہیم نے کہا اے میرے مولا و آقا ان پانچ نوروں کے ساتھ مزید نو نور نظر آرہے ہیں جو حلقے کی شکل میں ہیں،وہ کون ہیں؟خدا نے فرمایا:یہ ان کی اولاد ہیں جو ان کے بعد لوگوں کے امام اور پیشویٰ ہونگے۔حضرت ابراہیم نے سوال کیا اے میرے مولا و آقا ان کو کیسے اور کس نام سے یاد کروں ؟خدا نے فرمایا: اے ابراہیم! ان میں سے پہلا علی بن ال حسین (ع)ہے ان کے بعد محمدبن علی (ع) پھر جعفر ابن محمد پھر موسی بن جعفر اور پھر علی بن موسی پھر محمدبن علی اور پھر علی بن محمد پھر حسن بن علی ا ور آخری کا نام مہدی صاحب الزمان[عجّل اللہ تعالی فرجہ] ہوگا۔
ۤ اس کے بعد حضرت ابراہیم -نے کہا:اے خدا ان کے علاوہ بہت سارے نور کا مشاہدہ کر رہا ہوں ،جن کی تعداد سوائے تیری ذات کے کوئی اور نہیں جانتا،یہ کس کے نور ہیں؟۔خدا نے فرمایا: یہ ان ہستیوں کے ماننے والوں اور دوستوں کا نور ہے ۔حضرت ابراہیم -نے خدا سے دعا کی پروردگارا! مجھے بھی ان کے ماننے والے دوستوں میں سے قرار دے۔اسی لئے قرآن مجید میں ارشاد الہٰی 
ہے:
وان من شیعتہ لابراہیم اذ جاء ربہ بقلب سلیم۔

مزید  کیا قرآن کی آیات ۶۶۶۶ نہیں ہیں/ کیا ہاتھ پر سجدہ کرنا صحیح ہے؟

تحلیل:
اس حدیث کواہل سنت کی معتبر کتاب سے نقل کرنے کا ہدف یہ ہے کہ اس حدیث سے پیغمبر اکرم (ص)کے بارہ جانشین اور اہل بیت کا مصداق چودہ معصومین کے ہونے کا علم ہوجاتا ہے جو شیعہ امامیہ کے عقیدہ کے مطابق ہے۔نیز انبیاء کا ان کے نور کو مشاہدہ کرنے کی خبرکے ساتھ ان کے اسماء بھی اس روایت میں موجود ہیں اور ان کے ماننے والوں کے برحق ہونے کی دلیل بھی کیونکہ حضرت ابراہیم -خدا کے نبی ہونے کے باوجود خدا سے درخواست کرتے ہیں کہ خدایا مجھے بھی ان کے ماننے والوں میں سے قرار دے۔لہٰذا خدا نے قرآن پاک میں ان کے حق میں فرمایا کہ ابراہیم- ان کے سچے ماننے والوں میں سے ہے۔لہٰذا جب حضرت ابراہیم -سے خدا نے امتحان لیا اور خواب میں دکھایا کہ حضرت اسماعیل -کو اپنے ہاتھوں سے ذبح کررہے ہیں آپ- اسماعیل -کو قربان گاہ کی طرف لے گئے ،ہاتھ پیر باندھ دیئے اور ذبح کرنے لگے تو خدا کی جانب سے وحی نازل ہوئی اے ابراہیم – !قد صدقت الرؤیا ان کے بدلے میں دنبے کو ذبح کردے۔اس وقت حضرت ابراہیم -نے اسماعیل – کو چھوڑ دیا گوسفند کو ذبح کیا لیکن بہت زیادہ رونے لگے جبرئیل حضرت ابراہیم – کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھنے لگے اے ابراہیم -کیوں رو رہے ہو؟جبکہ خدا نے حضرت اسماعیل – کو ذبح ہونے سے بچالیاہے حضرت ابراہیم -نے فرمایا اے جبرائیل -! میں اس لئے رورہا ہوںکہ اگر میرے ہاتھوں خدا کے حکم سے میرا بیٹا ذبح ہوتا تو روز قیامت انبیاء کے درمیاں فخر سے سر بلند ہوتا،لیکن میں اس سے محروم رہا ۔اس وقت جبرائیل -نے حضرت ابراہیم -سے پوچھا اے ابراہیم – آپ کی نظر میں آپ افضل ہیں یا حضرت محمد(ص)؟حضرت ابراہیم -نے فرمایا:حضرت محمد(ص)افضل ہیں۔پھر جبرئیل -نے پوچھا اے ابراہیم – آپ کی ذریہ افضل ہیں یا حضرت محمد(ص) کی؟فرمایا:حضرت محمد(ص)کی ذریہ۔ان کی ذریہ پر میری اولاد قربان ہو ۔ جبرئیل -نے کہا آپ کی نظر میں اسماعیل افضل ہے یا حضرت حسین-؟آپ نے فرمایا:حضرت امام حسین-افضل ہیں۔ جبرئیل -کہنے لگے اے ابراہیم(ع)یہی حسین- ؑہے جو کربلا کی سرزمین پربے دردی کے ساتھ ذبح کیاجائے گا تو اپنے فرزند اسماعیل-کی قربانی نہ ہونے پر گریہ کرنے کی جگہ حسین ابن علی -کی قربانی پر گریہ کرو۔یہ سن کر حضرت ابراہیم -بے اختیار رونے لگے[3]اس طرح کی روایات اس بات کی دلیل ہے کہ اہل بیت ؑکی عظمت اور فضیلت کے تمام انبیاء قائل تھے ۔اہل سنت کی کتابوں سے منقول مذکورہ روایت سے معلوم ہوا کہ اہل بیت کے نور کا مشاہدہ سارے انبیاء الہیٰ نے کیا ہے۔سارے انبیائ ان کے وسیلہ سے امتحان الہٰی میں کامیاب ہوئے۔
نیز حضرت یحیی -کے بارے میں لکھا ہے کہ خدا نے حضرت یحیی – کو نبوت کے منصب پر مبعوث فرمایا پھر انہیں پنجتن پاک کا نام سنایا ۔حضرت یحییٰ – غور سے سنتے رہے، جب حسین -کا نام لیا گیا تو بے اختیار آنسو بہنے لگے۔خدا سے پوچھا:پالنے والے! جب آپ نے حسین- کا نام لیا تو مجھ پر غم کی حالت طاری ہوگئی اس کی وجہ کیا ہے؟خدا نے فرمایا:اے یحییٰ! یہ حسین -ہے جوکربلاکی سرزمین پربے دردی سے ذبح کیاجائے گا اس لئے ان کا نام سنتے ہی ہر مومن کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتا ہے۔یہ روایت بھی اہل بیت کی عظمت کی بہترین دلیل ہے۔
 

مزید  قرآن مجیداور حضرت علی علیہ السلام کی خدمات

 

[١]۔مناقب ص٦٣ ،ینابیع المودۃج١ص ٩٥۔

[2]۔ ابن عساکر:الاربعین ص٣٨۔

[3]اشتہاردی محمد:داستان و دوستان ،ج٢ص٢٨ ۔   

تبصرے
Loading...