اہل بیت سے محبت کے بغیر جنت ملنامحال ہے

0 1

اگرچہ بہت سارے انسان ملحد ہیں جو جنت اور جہنم کے قائل نہیں بلکہ اسی دنیوی زندگی کو آخری زندگی سمجھتے ہیں۔جبکہ تمام الہٰی ادیان کے پیروکار بہشت و جہنم کے معتقد ہیں اور جنت و جہنم کو برحق سمجھتے ہیں۔عقلی اورلفظی دلیلوںکے ذریعے ملحدین کو قائل کرانے کی کوشش بھی کرتے ہیں ،کچھ ایسے افراد بھی ہیں جو جنتی بننے کےلئے صرف صوم و صلاۃ اور دیگر فروع دین کے پابند ہونے کو کافی سمجھتے ہیں جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے بلکہ فروع دین کے مسائل کا انجام دینا اس وقت کارساز اور مفید ہے جب ہم پہلے بنیادی مسائل کو ٹھیک کریں۔اور اصول دین کا صحیح طریقہ سے معتقد ہوں ۔
لہٰذا اگر کوئی شخص توحید ،نبوت اور معاد کے معتقد ہوئے بغیر مسائل فرعی کو انجام دے تو یقیناً وہ جنت کا حقدار نہیں بن سکتا۔اسی طرح اگرتوحید ،نبوت اور معاد کا معتقد ہو،لیکن محبت اہل بیت دل میں نہ ہو پھر بھی وہ جنتی نہیں ہوسکتا ۔ کیونکہ خدا نے محبت اہل بیت کو توحید نبوت اور معاد کے بعد بنیادی شرط قرار دیا ہے۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صرف محبت اہل بیت دلوں میں رکھیں باقی دستورات الہٰی کو انجام نہ دیں۔ بلکہ محبت اہل بیت دلوں میں ہونے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ان کی سیرت پر چلیں۔ان کی سیرت پر عمل کرنے کا مطلب دستورات الہٰی کو انجام دینا ہے۔اسی لئے اہل بیت کی محبت کے بغیر جنت کا ملنا نا ممکن ہے۔
چنانچہ اس مطلب کو نافع بن عمر نے یوں نقل کیا ہے:
”قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:من اراد التوکل علیٰ اللہ فلیحب اہل بیتی و من اراد ان ینجوامن عذاب القبر فلیحب اہل بیتی ومن اراد الحکمۃ فلیحب اہل بیتی ومن اراد دخول الجنۃ بغیر حساب فلیحب اہل بیتی”۔[١]
پيغمبر اکرم (ص)نے فرمايا:اگر کوئي خدا پر بھروسہ،عذاب قبر سے نجات،حکمت اور بغير حساب کے جنت ميں جانے کا خواہاں ہو تو اسے چاہئے کہ ميرے اہل بيت سے محبت و دوستي رکھيں-
نيز جابر بن عبد اللہ – نے پيغمبر اکرم (ص)سے روايت کي ہے:
”قال توسلوا بمحبتنا الي اللہ تعالي- واستشفعوا بنا فانّ بنا تکرمون و بنا تحبون و بنا ترزقون و محبونا وامثالنا غدا فھم في الجن-[2]
پيغمبر اکرم (ص)نے فرمايا:[لوگو!] خدا سے ہم اہل بيت کي محبت اور دوستي کے ذريعہ متوسل ہوجاؤ-اور ہماري محبت کے وسيلہ سے شفاعت مانگو کيونکہ ہم اہل بيت کے صدقے ميں تمہارا اکرام ہوتا ہے اور تمہيں روزي دي جارہي ہے اور ہم سے محبت کرنے والے روز قيامت جنت ميں داخل ہونگے-
نيز شيخ سعود السجستاني نے اپني کتاب ميں ابن زياد مطرف سے روايت کي ہے:
”قال سمعت النبي(ص) يقول:من احبّ ان يحيي حياتي و يموت مماتي و يدخل الجن- التي وعدني ربي بھا وھي جن- الخلد
فليتول علي بن ابي طالب و ذريتہ من بعدہ”-[3] 
ابن زياد مطرف نے کہا:کہ ميں نے پيغمبر خدا -سے سنا ہے کہ آپ نے فرمايا:جو شخص ہماري مانند جينا اور مرنا چاہتا ہے اور اس جنت خلد ميں جانے کا خواہشمند ہو جس کاميرے پروردگار نے وعدہ ديا ہے تو اسے چاہئے کہ حضرت علي – اور ان کي ذريت کي ولايت و سرپرستي کو مان لے-
اسي طرح اور روايت ميں پيغمبر اکرم (ص)نے فرمايا:
”من سرّہ ان يحيي حياتي و يموت مماتي و يسکن جن- عدن التي غرسھا ربي فليتول علياً بعدي”-[4]
جناب ابوذر -نے کہا کہ پيغمبر اکرم (ص)نے فرمايا:اگر کوئي شخص ميري طرح جينا اور مرنا چاہتا ہے اور جنات عدن کہ جس کو خدا تبارک وتعالي- نے تيار رکھا ہے،ميں رہنا چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ ميرے بعد حضرت علي -کي
ولايت کو قبول کرلے-
توضيح:
ان احاديث سے بخوبي واضح ہوجاتا ہے کہ جنت عدن يا جنت خلد ميں داخل ہونے کي شرط محبت اہل بيت ہے،ان کي سرپرستي اور ولايت کو قبول کرنا ہے-
مندرجہ بالا روايات کا خلاصہ :
1-محبت اہل بيت کے بغير مرنا اور جينا محبت کے ساتھ جينے اور مرنے کے ساتھ فرق کرتا ہے-
2-محبت اور سرپرستي اہل بيت کے بغير جنت ميں داخل ہونے کا تصور صحيح نہيں ہے-
3-محبت اور ولايت اہل بيت کے بغيرخدا پر توکل کا دعوي- کرنا يا حکمت اور شفاعت کا دعويدار ہونا اشتباہ ہے-
4-شفاعت ،اہل بيت کي محبت کے بغير نا ممکن ہے،نيز اہل بيت کي محبت اور سرپرستي کے بغير گناہوں کي معافي کا خيال کرنا فضول ہے-
5-اہل بيت کي محبت کے نتيجے ميں پيغمبروں کي شفاعت حاصل ہوگي
اگرچہ قرآن کريم کے مسلّم مسائل ميں سے ايک مسئلہ شفاعت ہے مگر اس بارے ميںمسلمانوں کے درميان اختلاف نظرا -تا ہے -ليکن اگر ہم احاديث نبوي کا صحيح مطالعہ کريں تو معلوم ہوجاتا ہے کہ پيغمبر اکرم (ص)کي شفاعت روز قيامت ان لوگوں کےلئے ہے جنہوں نے دنيا ميں اہل بيت سے محبت اور دوستي رکھي ہو-چنانچہ علامہ بغدادي اس طرح نقل کرتے ہےں:
”قال رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم: شفاعتي لامتي من احب اہل بيتي و ھم شيعتي”-[5]
پيغمبر اکرم (ص)نے فرمايا: ميري شفاعت ميري امت ميں سے صرف ان کو نصيب ہوگي جو ميرے اہل بيت سے محبت رکھے-کيونکہ وہي ميرے سچے پيروکار ہيں-
نيز پيغمبر اکرم (ص)نے فرمايا:
”عاہدني ربي ان لا يقبل ايمان عبد الا بمحبتہ لاہل بيتي”-[6]
آنحضرت (ص) نے فرمايا:ميرے پروردگار نے مجھ سے عہد کيا ہے کہ کسي بھي بندے کا ايمان اور عقيدہ اہل بيت کي محبت اور دوستي کے بغير قبول نہيں ہوگ-
تحليل:
اگرچہ محبت اہل بيت کے بغير پيغمبر اکرم (ص)کي شفاعت نصيب نہ ہونے کے حوالہ سے احقاق الحق اور کنز العمال جيسي کتابوںميں بہت زيادہ احاديث ہيں ليکن اختصار کو مد نظر رکھتے ہوئے صرف مذکورہ حديث پر اکتفاء کر يں گے- آج کل کچھ ايسے دانشمند اور علماء نظر آتے ہيں جو اپنے حريف اور مقابل کو ناکام بنانے اور اسے غلط فہمي ميں ڈالنے کي خاطر فوراً حديث کي سند پر حملہ کرديتے ہيں کہ يہ حديث آپ کے موضوع پر دليل نہيں بن سکتي –
کيونکہ سند ضعيف ہے ليکن کسي مسئلہ پر کسي حديث کو دليل کے طور پر قبول کرنے کے لئے صرف سند کا صحيح ہونا ضروري نہيں ہے بلکہ بہت ساري احاديث سند کے حوالہ سے ضعيف ہے ليکن حديث کي عبارت يا دوسرے قرينوںسے معلوم ہوجاتا ہے کہ يہ حديث ،صحيح ہے اگرچہ سند ضعيف ہي کيوں نہ ہو-کيونکہ ايسي حديث کي عبارت سے پتہ چلتا ہے کہ غير معصوم سے ايسي فصاحت و بلاغت پر مشتمل کلام کا صادر ہونا ناممکن ہے-
ہم نے بہت ساري روايات کو اپنے مدعي- کي دليل کے طور پر ذکر کيا ہے-اگرچہ سند ضعيف ہے ليکن اس کے الفاظ ہي حديث نبوي ہونے کي شہادت ديتے ہےں-کيونکہ معصوم کے کلام اور دوسرے لوگوں کے کلام ميں فصاحت و بلاغت کے علاوہ بنيادي فرق يہ ہے کہ معصوم کے کلام کا سرچشمہ قرآن مجيد ہونے کي وجہ سے فطرت اور عقل سے ہمآہنگ ہوا کرتا ہے جبکہ دوسرے انسانوں کا کلام يا قرآن کا مخالف ہوگا يا اگر قرآن کے موافق ہے تو فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے اس ميں نقص ہوگ-لہ-ذا غير معصوم کے کلام ميں بہت سارے اشتباہات کا مشاہدہ ہوتا ہے جبکہ معصوم کے کلام ميں نہ صرف اشتباہ نظر نہيں آتا بلکہ زمانے کي ترقي اور تکامل کے ساتھ ساتھ ان کي حقانيت زيادہ سے زيادہ اجاگر ہوجاتي ہے-
لہ-ذا اگر کوئي اہل سنت کي کتابوں سے فضائل اہل بيت اور ان کي حقانيت پر کوئي روايت اورحديث بيان کرے تو اس کو ضعيف السند قرار دينا کافي نہيں ہے-بلکہ روايات اور احاديث سے استدلال اس وقت غلط ہے جب وہ حديث ضعيف- السند ہواور اس کے معصوم سے صادر ہونے پر کوئي قرينہ نہ ہومتواترہ نہ ہو مضمون حديث کا شر چشمہ قرآن اور عقل نہ ہو ليکن اگر ان قرينوں ميں سے کوئي ايک قرينہ بھي کسي حديث کے ساتھ ہوتو اسے ضعيف السند قرار دے کر ردکرناجہالت اورنافہمي کي علامت ہے -فرقين کے علم رجال کي کتابوں کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ کہاں حديث سے استدلال غلط ہے کہاں استدلال صحيح ہے پس اگر کوئي اندھي تقليد اورجاہلانہ تعصب سے ہٹ کر پيغمبر اکرم (ص)کے ان ارشادات پر اور خدا کي طرف سے محبت اہل بيت کو اجر رسالت قرار دئيے جانے پر غور کرے تو نتيجہ يہ ملتاہے کہ پيغمبر اکرم (ص) دشمن اہل بيت کي شفاعت نہيںفرمائيں گے، کيونکہ شفاعت پيغمبر اکرم (ص)نصيب ہونے ميں خدا نے اہل بيت کي محبت کو شرط قرار دي ہے اور شرط کے بغيرمشروط کا پانا عقل کے خلاف ہے-لہ-ذااہل بيت کي محبت کے بغير کوئي عمل اورکام خدا کي نظر ميں قابل قبول نہيں اگرچہ ايمان کے دعوي- کے ساتھ زبان پر شہادتين کا اقرار بھي کرے –

مزید  وہ ایک ماں تھی…..

 

[١]۔مقتل الخوارزمی ص٥٩۔

[2]-ينابيع المود-ج-2 ص68

[3]-کنز العمال ج 11 ص611-

[4]-ترجمہ امام علي -ج 2 ص98-

[5]تاريخ بغدادي ج 3 ص146

[6]المناقب ا لمرتضويہ ص99   

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.