اہلبیت علیہم السلام کی احادیث میں حصول علم

0 0

اہلبیت علیہم السلام کی احادیث میں بھی حصول علم کے بارے میں بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان فرد پر واجب ہے ، حصول علم کے بارے میں واجب کی حد تک تاکید سے اسلام میں لوگوں سے جہالت ونادانی کے خاتمہ اور علم ودانش کے حصول کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے کہ ۔ پیغمبر اکرم صلی

اہلبیت علیہم السلام کی احادیث میں حصول علم

اہلبیت علیہم السلام کی احادیث میں بھی حصول علم کے بارے میں بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان فرد پر واجب ہے ، حصول علم کے بارے میں واجب کی حد تک تاکید سے اسلام میں لوگوں سے جہالت ونادانی کے خاتمہ اور علم ودانش کے حصول کی  اہمیت کا پتہ چلتا ہے کہ ۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مذکورہ حدیث میں فرماتے ہیں کہ آگاہ ہو جاو کہ خدا اس شخص کو جو حد سے زیادہ علم حاصل کرتا ہے دوست رکھتا ہے ۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس جملے سے مراد یہ ہے کہ علم  کے لئے کوئی حد نہیں ہے انسان  کبھی بھی علم کی انتہا کو نہیں پہونچ سکتا ہے۔ بنابر ایں جس مقدار میں  بھی علم حاصل کیا جائے ‍ خدا اس پر راضی ہے ۔ لیکن جو لوگ  اس راہ میں زیادہ جد وجہد اور کوشش کرتے ہیں وہ خدا کی بارگاہ میں زیادہ محبوب ہیں ۔ عالم بزرگ اور مفسر قرآن علامہ محمد حسین طباطبائی سورہ مبارکہ زمر کی نويں آیت پراستناد کرتے ہوئے کہ جس میں ارشاد ہوتا ہے کہ کیا وہ لوگ جو جانتے ہیں ان کے برابر ہو جائيں گے جو نہیں جانتے ہیں ؟  کہتے ہیں کہ اس آیت میں علم کے ہونے اورنہ ہونے کے بارے میں مطلق کہا گیا ہے ۔ لیکن مفاد  آیت  کے مطابق خدا کاعلم ہے چونکہ خدا کے بارے میں علم انسان کو  کمال کی منزلوں تک پہونچا دیتا ہے اور حقیقت میں نافع کے معنی یہی ہیں اور اس کا نہ ہونا نقصان دہ  ہے، چنانچہ دوسرے علوم  مال ودولت کی مانند ہیں کہ جو صرف دنیوی زندگی کے لئے سود مند ہیں جو دنیا کے فناہونے کے ساتھ فنا ہو جائيں گے ۔ پس مومنین کی دو قسمیں ہیں ،عالم اور غیر عالم ، پہلے  گروہ کو بر تری حاصل ہے ۔ جیساکہ سورہ علق  میں آیا ہے کہ اسحدا کانام لیکر پڑھو جس نے پیدا کیا ہےجس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے  پیدا کیا  ہے،  پڑھو اور تمہارا پرودگار بڑا کریم ہے  جس نے قلم کے ذریعہ تعلیم  دی ہے اورانسان کو وہ سب کچھ بتا دیا ہےجو اسے نہیں معلوم تھا ۔ اس آیت میں انسان  کے نازل ترین اور اعلی ترین مرتبہ وجودی کا  ذکر کیا گیا ہے ۔انسان کا اعلی اور برترین مرتبہ عالم ہونا ہے کیونکہ خدا نے اپنی کرامت کی  صفت کے بعد تعلیم  کی صفت کو اپنی  طرف منسوب کیا ہے اور دوسری طرف علقہ یعنی جمے ہوئے خون کو نازل ترین  مرتبہ وجود دی قرار دیا ہے ۔ پس علم کی طرف حرکت کرنا انسان کے لئے کمال ہے ۔
علم سے متعلق احادیث میں مرد اورعورت دونوں شامل ہیں ،البتہ بعض روایات میں عورتوں کے لئے حصول علم کے وجوب کی خاص طور پر  وضاحت کی گئی ہے   چنانچہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ علم کاحاصل کرنا مرد وعورت دونوں پر واجب ہے ، انبیاء  کرام علیہم السلام کی  نظر میں علم کا حاصل کرنا کسی  خاص گروہ یا نسل سے  مخصوص نہیں ہے ۔بلکہ ہر انسان  کو  چاہئیے کہ وہ جہالت ونادانی سے دور ہونے کے لئے علم کے حصول کے لئے قدم اٹھائے ،  قرآن کریم کی بہت سی آیات میں  خدا لوگوں کو تعلیم حاصل کرنے اور کائنات کے اسرار ورموز کی شناخت کی دعوت دے کر  لوگوں کے سامنے معرفت کے نئے دریچے کھولنا چاہتا ہے ۔ خدا نے شناخت ومعرفت کو ایک اہم اور ضروری ذمہ داری قرار دیا ہے  چنانچہ اس نے انبیاء کرام علیہم السلام کے ذریعہ انسان کی تعلیم کو ان کی بعثت کا مقصد قرار دیا ہے ۔  اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دعوت اس  وقت دی گئ کہ جب جہالت ونادانی کے بادل سعودی معاشرے پر چھائے ہوئے تھے اور لوگ گہرے اور عمیق خواب غفلت میں پڑے ہوئے تھے ۔ ( ختم شد )

مزید  ام المومنین حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا 



source : tebyan

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.