اہلبیت علیھم السلام کتاب و سنت کیروشنی میں (۱)

0 0

﴿اِنَّمَا یُرِیْدُ اللهِ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ بَیْتِ وَ یُطَھَّرَکُمْ تَطْھِیْرَا ﴾ (احزاب 23 )

کچھ آیت تطہیر سے متعلق

یہ آیت کریمہ سرکار دو عالم (ع) کے آخر دور حیات میں اس دقت نازل ہوئی ہے جب آپ جناب ام سلمہ کے گھر میں تھے اور اس کے بعد آپ نے علی (ع) و فاطمہ (ع)و حسن (ع) و حسین (ع) کو جمع کرکے ایک خیبری چادر اوڑھادی اور بارگاہ احدیت میں عرض کی، خدایا یہی میرے اہلبیت (ع) ہیں، تو ام سلمہ نے گذارش کی کہ حضو ر میری جگہ کہاں ہے؟ فرمایا تم منزل خیر پر ہو … یا … تمہارا انجام بخیر ہے۔

دوسری روایت کے مطابق ام سلمہ نے عرض کی کہ کیا میں اہلبیت (ع) میں نہیں ہوں؟

تو فرمایا کہ تم خیر پر ہو۔

ایک دوسری روایت کی بناپر ام سلمہ نے گوشہ چادراٹھاکر داخل ہونا چاہا تو حضور نے اسے کھینچ لیا اور فرمایا کہ تم خیر پر ہو۔

مسلمان محدثین اورمورخین نے اس تاریخی عظیم الشان واقع کو اپنی کتابوں میں محفوظ کیا ہے اور بقول علامہ طباطبائی طاب ثراہ اس سلسلہ کی احادیث ستر سے زیادہ ہیں، جن میں سے اہلسنت کی حدیثیں شیعوں کی حدیثوں کے مقابلہ میں اکثریت میں ہیں ان حضرات نے حضرت ام سلمہ ، عائشہ ، ابوسعید خدری، واثلہ بن الاسقع، ابوالحمراء ، ابن عباس، ثوبان ( غلام پیغمبرِ اکرم) عبداللہ بن جعفر، حسن بن علی (ع) سے تقریباً چالیس طریقوں سے نقل کی ہے جبکہ شیعہ حضرات نے امام علی (ع) ، امام سجاد (ع) ، امام باقر (ع) ، امام صادق (ع) ، امام رضا (ع) ، ام سلمہ ، ابوذر، ابولیلیٰ ، ابواسود دئلی ، عمر ابن میمون اور دی اور سعد بن ابی وقاص سے تیس سے کچھ زیادہ طریقوں سے نقل کیا ہے۔ ( المیزان فی تفسیر القرآن 16 / 311 )

مؤلف، عنقریب آپ دیکھیں گے کہ ان تمام احادیث کو فریقین نے امام علی (ع) ، امام حسن (ع) ، امام زین العابدین (ع) ، حضرت ام سلمہ ، عائشہ، ابوسعید خدری ابولیلیٰ انصاری، جابر بن عبداللہ انصاری، سعد بن ابی وقاص، عبداللہ بن عباس سے نقل کیا ہے اور اس کے بعد خصوصیت کے ساتھ اہلسنت(ع) نے امام حسین (ع) ابوبرندہ، ابوالحمراء، انس بن مالک ، براء بن عازب، ثوبان ، زینب بنت ابی سلمہ ، صبیح، عبداللہ بن جعفر، عمر بن ابی سلمہ اور واثلہ بن الامسقع سے نقل کیا ہے جس طرح کہ اہل تشیع سے امام باقر (ع) امام صادق (ع)، امام رضا (ع)سے نقل کیا ہے اور ان روایات کو بھی نقل کیا ہے ج

ن سے اہلبیت (ع) کے مفہوم کی وضاحت ہوجاتی ہے چاہے آیت تطہیر کے نزول کا ذکر ہو۔

مختصر یہ ہے کہ یہ واقعہ سند کے اعتبار سے یقینی ہے اور دلالت کے اعتبار سے بالکل واضح… بالخصوص اسلام نے اہلبیت(ع) کے موارد کی تعیین بھی کردی ہے کہ اب اس میں کسی طرح کے شک و شبہہ کی گنجائش نہیں رہ گئی ہے اور نہ عنوان اہلبیت (ع) میں کوئی زوجہ داخل ہوسکتی ہے اور نہ اسے مشکوک بنایا جاسکتاہے۔

اس واقعہ کے بعد سرکار دو عالم (ع) مسلسل مختلف مواقع اور مناسبات پر لفظ اہلبیت (ع) کو انھیں قرابتداروں کے لئے استعمال کرتے رہے جن کا کوئی خاص دخل ہدایت امت میں تھا اور اس کی تفصیل آئندہ صفحات میں نظر آئیں گی۔

اس کے علاوہ سورہ احزاب کی آیت 33 کا مضمون بھی ان تمام روایات کی تائید کرتاہے جو شان نزول کے بارے میں وارد ہوئی ہیں اور ان سے یہ بات مکمل طور پر واضح ہوجاتی ہے کہ اہلبیت (ع) کے مصداق کے بارے میں شک و شبہہ کسی طرح کی علمی قدر و قیمت کے مالک نہیں ہے۔

رمز عظمت مسلمین

زیر نظر کتاب میں اہلبیت (ع) کی معرفت، ان کے خصائص و امتیازات، ان کے علوم وحقوق اور ان کی محبت و عداوت سے متعلق جن احادیث کا ذکر کیا گیاہے… ان سے بخوبی واضح ہوجاتاہے کہ رسول اکرم نے انتہائی واضح اور بلیغ انداز سے اپنے بعض قرابتدار حضرات کو امت کا سیاسی ،علمی اور اخلاقی قائد بنادیا ہے اور مسلمانوں کا فرض ہے کہ حقیقی اسلام سے وابستہ رہنے اور ہر طرح کے انحراف و ضلال سے بچنے کے لئے انھیں اہلبیت (ع) سے وابستہ رہیں تا کہ واقعی توحید کی حکومت قائم کی جاسکے اور اپنی عزت و عظمت کو حاصل کیا جاسکے کہ اس عظیم منزل و منزلت تک پہنچنا قرآن و اہلبیت (ع) سے تمسک کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

واضح رہے کہ آیت تطہیر کے اہلبیت (ع) کی شان میں نازل ہونے اور اس سلسلہ میں اٹھائے جانے والے والے شکوک و شبہات کی تفصیل جناب سید جعفر مرتضیٰ عاملی کی کتاب ” اہل البیت (ع) کی آیہ تطہیر“ میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے کہ انھوں نے اپنی مذکورہ کتاب میں اس موضوع پر سیر حاصل بحث درج کردی ہے۔

غالیوں سے برائت

واضح رہے کہ حقیقی شیعہ کسی دور میں بھی اہلبیت (ع) کے بارے میں غلو کا شکار نہیں رہے ہیں اور انھوں نے ہر دور میں غالیوں سے برائت اور بیزاری کا اعلان کیا ہے۔

اہلبیت (ع) علیہم السلام کی تقدیس و تمجید اور ان کے حقوق کی ادائیگی کے سلسلہ میں ان کا عمل تمامتر آیات قرآنی اور معتبر احادیث کی بنیاد پر رہاہے جس کے بارے میں ایک مستقل باب اس کتاب میں بھی درج کیا گیاہے۔

داستان مصائب اہلبیت (ع )

عالم اسلام کا سب سے زیادہ المناک باب یہ ہے کہ قرآن مجید کے ارشادات اور سرکار دو عالم (ع) کے مسلسل تاکیدات کے باوجود اہلبیت علیہم السلام ہر دور میں ایسے ظلم و ستم کا نشانہ رہے ہیں جن کے بیان سے زبان عاجز اور جن کے تحریر کرنے سے قلم درماندہ ہیں … بلکہ بجا طور پر یہ کہا جاسکتاہے کہ اگر سرکار دو عالم نے انھیں اذیت دینے کا حکم دیا ہوتا تو امت اس سے زیادہ ظلم نہیں کرسکتی تھی اور مختصر منظوم میں یہ کہا جاسکتاہے کہ اگر غم و الم ، رنج و اندوہ کو مجسم کردیا جائے تو اہلبیت علیہم السلام کی زندگی کا مرقع دیکھا جاسکتاہے۔

یہ مصائب اس قابل ہیں کہ ان پر خون کے انسو بہائے جائیں اور اگر ان کی مکمل وضاحت کردی جائے تو صاف طور پر واضح ہوجائے گا کہ قرآن مجید کو نظر انداز کردینے کا نتیجہ اور مسلمانوں کے انحطاط کا سبب اور راز کیا ہے۔

اور حقیقت امریہ ہے کہ یہ داستان مصائب اہلبیت (ع) کی داستان نہیں ہے بلکہ ترک قرآن کی داستان ہے اور دستور اسلامی کو نظر انداز کردینے کی حکایت ہے۔

امت اسلامیہ کی بیدارمغزی

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دور حاضر میں امت اسلامیہ کے تمام گذشتہ ادوار سے زیادہ بڑھتے ہوئے اسلامی شعور اور اسلامی انقلاب کے زیر اثر اسلامیات سے بڑھتی ہوئی دلچسپی نے وہ موقع فراہم کردیا ہے کہ امت علوم اہلبیت علیہم السلام کے چشموں سے سیراب ہو اور مسلمان کتاب و سنت اور تمسک بالثقلین کے زیر سایہ اپنے کلمہ کو متحد بنالیں۔

قرآن و اہلبیت (ع) کے نظر انداز کرنے کی داستان تمام ہو اور امت رنج و الم، غم و اندوہ کے بجائے سکون و اطمینان کی طرف قدم آگے بڑھائے جس کے لئے زیر نظر کتاب ایک پہلا قدم ہے، اس کے بعد باقی ذمہ داری امت اسلامیہ اور اسلامیہ اور اس کے علماء و زعماء کرام پر ہے!۔

قسم اول :مفہوم اہل البیت (ع )

ازدوا ج پیغمبر ا کرم اور مفہوم اہلبیت (ع )

1 ۔ ام سلمہ (ع )

1 ۔ عطا ء بن یسار نے جناب ام سلمہ(ع) سے روایت کی ہے کہ آیت ” اِنّمَا یُرِید اللہ لیذھب عنکم الرجس اہل البیت و یطہرکم تطہیرا ۔ میرے گھر میں نازل ہوئی ہے، جب رسول اکرم نے علی (ع) فاطمہ (ع) ، حسن (ع) اور حسین (ع) کو طلب کرکے فرمایا کہ ”خدایا یہ میرے اہلبیت (ع) ہیں“۔ (مستدرک علی الصحیحین 3 ص 158 / ص 4705 ، سنن کبریٰ 2 ص 214 / ص 2861 )۔

2 ۔ عطاء بن یسار راوی ہیں کہ جناب ام سلمہ (ع) نے فرمایا کہ آیت انّما یرید اللہ …… میرے گھر میں نازل ہوئی ہے جب رسول اکرم نے علی (ع) فاطمہ (ع) اور حسن (ع) و حسین (ع) کو طلب کرکے فرمایا کہ خدایا یہ میرے اہلبیت (ع) ہیں جس کے بعد ام سلمہ (ع) نے عرض کی یا رسول اللہ کیا میں اہلبیت (ع) میں نہیں ہوں؟ تو آپ نے فرمایا تم ” اَھلِی خَیْر“ ہو اور یہ اہلبیت (ع) ہیں خدایا میرے اہل زیادہ حقدار ہیں۔

( یہ لفظ مستدرک میں اسی طرح وارد ہوا ہے حالانکہ بظاہر غلط ہے اور اصل لفظ ہے ” علیٰ خیر“ جس طرح کہ دیگر روایات میں وارد ہوا ہے)۔

3 ۔ ابوسعید خدری نے جناب ام سلمہ سے نقل کیا ہے کہ آیت تطہیر میرے گھر میں نازل ہوئی ہے جس کے بعد میں نے عرض کی کہ یا رسول (ع) اللہ کیا میں اہلبیت میں نہیں ہوں ؟ تو آپ نے فرمایا کہ تمھارا انجام خیر ہے اور تم ازدواج رسول میں ہو۔ (تاریخ دمشق حالات امام حسن (ع) ص 70 ، ص 127 ، حالات امام حسین (ع) ص 73 ، ص 106 تاریخ بغداد ص 9 ص 126 ، المعجم الکبیر 3 ص 52 / 2662)۔

4 ۔ ابوسعید حذری جناب ام سلمہ سے نقل کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اکرم نے علی (ع) ، فاطمہ (ع) اور حسن (ع) و حسین (ع) کو طلب کرکے ان کے سرپر ایک خیبری چادر اوڑھادی اور فرمایا خدایا یہ ہیں میرے اہلبیت (ع) لہذا ان سے رجس کو دور رکھنا اور اس طرح پاک رکھنا جو تطہیر کا حق ہے۔ جس کے بعد میں نے پوچھا کہ کیا میں ان میں سے نہیں ہوں؟ تو فرمایا کہ تمہارا انجام بخیر ہے۔( تفسیر طبری 22 ص 7)۔

5 ۔ابوسعید خدری نے جناب ام سلمہ سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت ان کے گھر میں نازل ہوئی ہے اور میں دروازہ پر بیٹھی تھی ، جب میں نے پوچھا کہ کیا میں اہلبیت (ع) میں نہیں ہوں تو فرمایا کہ تمہارا انجام بخیر ہے اور تم ازواج رسول میں ہو، اس وقت گھر میں رسول اکرم ، علی (ع) ، فاطمہ (ع) ، اور حسن (ع) اور حسین (ع) تھے ” رضی اللہ عنہم“ ( تفسیر طبری 22 ص 7)۔

6 ۔ ابوہریرہ نے جناب ام سلمہ سے روایت کی ہے کہ جناب فاطمہ (ع) رسول اکرم کے پاس ایک پتیلی لے کر آئیں جس میں عصیدہ (حلوہ) تھا اور اسے ایک سینی میں رکھے ہوئے تھیں، اور اسے رسول اکرم کے سامنے رکھدیا۔

تو آپ نے فرمایا کہ تمھارے ابن عم اور دونوں فرزندکہاں ہیں ؟ عرض کی گھر میں ہیں فرمایا سب کو بلاؤ تو فاطمہ (ع) نے گھر آکر علی (ع) سے کہا کہ آپ کو اور آپ کے دونوں فرزندوں کو پیغمبر اکرم نے طلب فرمایاہے۔

جس کے بعد ام سلمہ فرماتی ہیں کہ حضور نے جیسے ہی سب کو آتے دیکھا بستر سے چادر اٹھاکر پھیلادی اور اس پر سب کو بٹھاکر اطراف سے پکڑ کر اوڑھادیا اور داہنے ہاتھ سے طرف پروردگار اشارہ کیا مالک یہ میرے اہلبیت (ع) ہیں لہذا ان سے رجس کو دور رکھنا اور انھیں مکمل طور پر پاک و پاکیزہ رکھنا ( تفسیر طبری 22 ص 7)۔

7 ۔ حکیم بن سعد کہتے ہیں کہ میں نے جناب ام سلمہ کے سامنے علی (ع) کا ذکر کیا تو انھوں نے فرمایا کہ آیت تطہیرانھیں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، واقعہ یہ ہے کہ رسول اکرم میرے گھر تشریف لائے اور فرمایا کہ کسی کو اندر آنے کی اجازت نہ دینا ، اتنے میں فاطمہ (ع) آگئیں تو میں انھیں روک نہ سکی، پھر حسن (ع) آگئے تو انھیں بھی نانا اور ماں کے پاس جانے سے روک نہ سکی، پھر حسین (ع) آگئے تو انھیں بھی منع نہ کرسکی اور جب سب ایک فرش پر بیٹھ گئے تو حضور نے اپنی چادر سب کے سر پر ڈال دہی اور کہا خدایا یہ میرے اہلبیت (ع) ہیں، ان سے رجس کو دور رکھنا اور انھیں مکمل طور پر پاکیزہ رکھنا جس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی اور میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ اور میں ؟ تو حضور نے ہاں نہیں کی اور فرمایا کہ تمہارا انجام خیر ہے( تفسیر طبری 22 ص 8)۔

8 ۔ شہر بن حوشب جناب ام سلمہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اکرم نے علی (ع) ، حسن (ع) ، حسین (ع) اور فاطمہ (ع) پر چادر اوڑھادی اور فرمایا کہ خدایا یہ میرے اہلبیت (ع) اور خواص ہیں لہذا ان سے رجس کو دور رکھنا اور انھیں پاک و پاکیزہ رکھنا ۔

جس پر میں نے عرض کی کہ کیا میں بھی انھیں میں سے ہوں ؟ تو فرمایا کہ تمھارا انجام خیر ہے ( مسند احمد بن حنبل 10 ص 197 / 26659 ، سنن ترمذی 5 ص 699 /3871 ، مسند ابویعلیٰ 6 ص290 / 6985 ، تاریخ دمشق حالات امام حسین (ع) 62 / ص88 تاریخ دمشق حالات امام حسن (ع) 65 ص 118 )۔

واضح رہے کہ ترمذی میں انا منہم کے بجائے انا معہم؟ ہے اور آخری تین مدارک میں خاصتی کے بجائے حامتی ہے۔

9 ۔ شہر بن حوشب ام سلمہ سے راوی ہیں کہ فاطمہ (ع) بنت رسول پیغمبر اکرم کے پاس حسن (ع) و حسین (ع) کو لے کر آئیں تو آپ کے ہاتھ میں حسن (ع) کے واسطے ایک برمہ (پتھر کی بانڈی) تھا جسے سامنے لاکر رکھدیا تو حضور نے دریافت کیا کہ ابوالحسن (ع) کہاں ہیں، فاطمہ (ع) نے عرض کی کہ گھر میں ہیں ! تو آپ نے انھیں بھی طلب کرلیا اور پانچوں حضرات بیٹھ کر کھانے لگے۔

جناب ام سلمہ کہتی ہیں کہ حضور نے آج مجھے شریک نہیں کیا جبکہ ہمیشہ شریک طعام فرمایا کرتے تھے ، اس کے بعد جب کھانے سے فارغ ہوئے تو حضور نے سب کو ایک کپڑے میں جمع کرلیا اور دعا کی کہ خدایا ان کے دشمن سے دشمنی کرنا اور ان کے دوست سے دوستی فرمانا۔ (مسند ابویعلی 6 ص 264 / 6915 ، مجمع الزوائد 9 ص 262 / 14971 )

10 ۔ شہر بن حوشب نے جناب ام سلمہ سے نقل کیا ہے کہ رسول اکرم نے فاطمہ (ع) سے فرمایا کہ اپنے شوہر اور فرزندوں کو بلاؤ اور جب سب آگئے تو ان پر ایک فدک کے علاقہ کی چادر اوڑھادی اور سر پر ہاتھ رکھ کر فرمایا خدایا یہ سب آل محمد ہیں لہذا اپنی رحمت و برکات کو محمد و آل محمد کے حق میں قرار دینا کہ تو قابل حمد اور مستحق مجد ہے۔

اس کے بعد میں نے چادر کو اٹھاکر داخل ہونا چاہا تو آپ نے میرے ہاتھ سے کھینچ لی اور فرمایا کہ تمہارا انجام بخیر ہے۔ ( مسند احمد بن حنبل 10 ص 228 / 26808۔ المعجم الکبیر 3 ص 53 / 2664 ۔ 23 ص 336 / 779 ، تاریخ دمشق حالات امام حسین (ع) 64 ص 93، حالات امام حسن (ع) 65 ، ص 116 67 ،ص 120 ، مسند ابویعلی ٰ 6 ص 248 / 6876 ۔

11 ۔ شہر بن حوشب ام سلمہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اکرم میرے پاس تھے اور علی (ع) و فاطمہ (ع) و حسن (ع) و حسین (ع) بھی تھے، میں نے ان کے لئے غذا تیار کی اور سب کھاکر لیٹ گئے تو پیغمبر اکرم نے ایک عبا یا چادر اوڑھادی اور فرمایا کہ خدایا یہ میرے اہلبیت (ع) ہیں، ان سے ہر رجس کو دور رکھنا اور انھیں مکمل طور سے پاک و پاکیزہ رکھنا ( تفسیر طبری 22 ص 6 )۔

12 ۔ زوجہ پیغمبر جناب ام سلمہ کے غلام عبداللہ بن مغیرہ کی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ آیت تطہیر ان کے گھر میں نازل ہوئی جبکہ رسول اکرم نے مجھے حکم دیا کہ میں علی (ع) و فاطمہ (ع) اور حسن (ع) و حسین (ع) کو طلب کروں اور میں نے سب کو طلب کرلیا ، آپ نے داہنا ہاتھ علی (ع) کے گلے میں ڈال دیا اور بایاں ہاتھ حسن (ع) کے گلے میں ، حسین (ع) کو گود میں بٹھایا اور فاطمہ (ع) کو سامنے، اس کے بعد دعا کی کہ خدایا یہ میرے اہل اور میری عترت ہیں لہذا ان سے رجس کو دور رکھنا اور انھیں مکمل طریقہ سے پاک و پاکیزہ رکھنا … اور یہ بات تین مرتبہ فرمائی تو میں نے عرض کی کہ پھر میں ؟ تو فرمایا کہ انشاء اللہ تم خیر پر ہو ۔( امالی طوسی (ر) 263 / 482 ۔ تاریخ دمشق حالات امام حسین (ع) 67 / 97 لیکن اس میں راوی کا نام عبداللہ بن معین ہے جیسا کہ امالی کے بعض نسخوں میں پایا جاتاہے )

13 ۔ عطا ابن ابی رباح کہتے ہیں کہ مجھ سے اس شخص نے بیان کیا جس نے جناب ام سلمہ کو یہ بیان کرتے سنا تھا کہ رسول اکرم ان کے گھر میں تھے اور فاطمہ (ع) ایک برمہ (ہانڈی) لیکر آئیں جس میں ایک مخصوص غذا تھی اور رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوگئیں تو حضرت نے فرمایا کہ اپنے شوہر اور بچوں کو بلاؤ اور جب سب آگئے اور کھانا کھالیا تو ایک بستر پر لیٹ گئے جس پر خیبری چادر بچھی ہوئی تھی اور میں حجرہ میں مشغول نماز تھی تو آیت تطہیر نازل ہوئی اور آپ نے اس چادر کو سب کے اوپر ڈھانک دیا اور ایک ہاتھ باہر نکال کر آسمان کی طرف اشارہ کیا کہ خدایا یہ میرے اہلبیت (ع) اور خواص ہیں، ان سے ہر رجس کو دور رکھنا اور انھیں مکمل طور پر پاکیزہ رکھنا ، خدایا یہ میرے اہلبیت (ع) ہیں ان سے ہر رجس کو دور رکھنا اور انھیں مکمل طور سے پاک و پاکیزہ رکھنا ۔ ام سلمہ کہتی ہیں کہ میں نے اس گھر میں سرڈال کر گذارش کی کہ کیا میں بھی آپ کے ساتھ ہوں یا رسول اللہ ؟ تو آپ نے فرمایا کہ تمھارا انجام خیر ہے، تمہارا انجام بخیر ہے ۔(مسند احمد بن حنبل 10 ص 177 / 26570۔ فضائل الصحابہ ابن حنبل 2 ص 587 / 994 ۔ تاریخ دمشق حالات امام حسن (ع) 68 ص 123 ، مناقب ابن مغازلی 304 / 348 ، مناقب امیر المومنین کوفی 2 ص 161 / 638 بروایت ابویعلی ٰ کندی)۔

14 ۔ عمرہ بنت افعلی کہتی ہیں کہ میں نے جناب ام سلمہ کو یہ کہتے سنا کہ آیت تطہیر میرے گھر میں نازل ہوئی ہے جبکہ گھر میں سات افراد تھے۔

جبرئیل ، میکائیل، رسول اللہ ، علی (ع) ، فاطمہ (ع) ، حسن (ع) ، حسین (ع) ۔

میں گھر کے دروازہ پر تھی ، میں نے عرض کی حضور کیا میں اہلبیت (ع) میں نہیں ہوں تو فرمایا کہ تم خیر پر ہو لیکن تم ازواج پیغمبر میں ہو ، اہلبیت (ع) میں نہیں ہو ( تاریخ دمشق حالات امام حسین (ع) 69 ص 102 ، 68 ص 101 ، در منثور 6 ص 604 از ابن مردویہ ، خصال 403 / 113 ، امالی صدوق (ر) 381 / 4 روضة الواعظین ص 175، تفسیر فرات کوفی 334 / 454 ،از ابوسعید)۔

15 ۔ امام رضا (ع) نے اپنے آباء و اجداد کے حوالہ سے امام زین العابدین (ع) کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ جناب ام سلمہ نے فرمایا ہے کہ آیت تطہیر میرے گھر میں اس دن نازل ہوئی ہے جس دن میری باری تھی اور رسول اکرم میرے گھرمیں تھے، جب آپ نے علی (ع) و فاطمہ (ع) اور حسن (ع) و حسین (ع) کو بلایا اور جبریل بھی آگئے آپ نے اپنی خیبری چادر سب پر اوڑھاکر فرمایا کہ خدایا یہ میرے اہلبیت (ع) ہیں، ان سے ہر رجس کو دور رکھنا اور انھیں مکمل طور سے پاک و پاکیزہ رکھنا جس کے بعد جبریل نے عر ض کی کہ میں بھی آپ سے ہوں ؟ اور آپ نے فرمایا کہ ہاں تم ہم سے ہوا ہے جبریل … اور پھر ام سلمہ نے عرض کی یا رسول اللہ اور میں بھی آپ کے اہلبیت (ع) میں ہوں اور یہ کہہ کر چادر میں داخل ہونا چاہا تو آپ نے فرمایا کہ اپنی جگہ پر رہو، تمہارا انجام بخیر ہے ، لیکن تم ازواج پیغمبر میں ہو جس کے بعد جبریل نے کہا کہ یا محمد ! اس آیت کو پڑھو ” انما یرید اللہ لیذہب عنکم الرجس اہل البیت و یطہرکم تطہیرا“ کہ یہ آیت نبی ، علی (ع) ، فاطمہ (ع) ، حسن (ع) اور حسین (ع) کے بارے میں ہے ( امالی طوسی (ر) 368 / 783 از علی بن علی بن رزین)۔

2 ۔ عائشہ

16 ۔ صفیہ بنت شیبہ عائشہ سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اکرم ایک صبح گھر سے برآمد ہوئے جب آپ سیاہ بالوں والی چادر اوڑھے ہوئے تھے اور اتنے میں حسن (ع) آگئے تو آپ نے انھیں بھی داخل کرلیا، پھر حسین (ع) آگئے اور انھیں بھی لے لیا ، پھر فاطمہ (ع) آگئیں تو انھیں بھی شامل کرلیا اور پھر علی (ع) آگئے تو انھیں بھی داخل کرلیا، اور اس کے بعد آیت تطہیر کی تلاوت فرمائی ( صحیح مسلم 4 / 1883 / 2424 ، المستدرک 3 ص 159 / 4707 ، تفسیر طبری 22 ص 60 اس روایت میں صرف امام حسن (ع) کا ذکر ہے، السنن الکبری ٰ 2 ص 212 / 2858 ، المصنف ابن ابی شیبہ 7 ص 502 / 39 مسند اسحاق بن راہویہ 3 ص 278 / 1271 ، تاریخ دمشق حالات امام حسن (ع) 63 / 113 )

17 ۔ عوام بن حوشب نے تمیمی سے نقل کیا ہے کہ میں حضرت عائشہ کے پاس حاضر ہوا توانھوں نے یہ روایت بیان کی کہ میں نے رسول اکرم کو دیکھا کہ آپ نے علی (ع) ۔ حسن (ع) ۔ حسین (ع) کو بلایا اور فرمایا کہ خدا یہ میرے اہلبیت (ع)ہیں، ان سے ہر رجس کو دور رکھنا اور انھیں مکمل طور پر پاک و پاکیزہ رکھنا ۔ (امالی صدوق (ر) 5 ص 382 )

18 ۔ جمیع بن عمیر کہتے ہیں کہ میں اپنی والدہ کے ساتھ حضرت عائشہ بنت ابی بکر کی خدمت میں حاضر ہوا تو میری والدہ نے سوال کیا کہ آپ فرمائیں رسول اکرم کی محبت علی (ع) کے ساتھ کیسی تھی ؟ تو انھوں نے فرمایا کہ وہ تمام مردوں میں سب سے زیادہ محبوب تھے اور میں نے خود دیکھا ہے کہ آپ نے انھیں اور فاطمہ (ع) و حسن (ع) و حسین (ع) کو اپنی ردا میں داخل کرکے فرما یا کہ خدا یا یہ میرے اہلبیت (ع) ہیں، ان سے ہر رجس کو دور رکھنا اور انھیں مکمل طور پر پاک و پاکیزہ رکھنا ۔

جس کے بعد میں نے چاہا کہ میں بھی چادر میں سرڈال دوں تو آپ نے منع کردیا تو میں نے عرض کی کیا میں اہلبیت (ع) میں نہیں ہوں؟ تو فرمایا کہ تم خیر پر ہو، بیشک تم خیر پر ہو ، (تاریخ دمشق حالات امام علی (ع) 2 ص 164 ، 642 ، شواہد التنزیل 2 ص 61 / 682 ، 684 ، العمدة 40 / 23 مجمع البیان 8/ 559 ۔

واضح رہے کہ تاریخ دمشق میں راوی کا نام عمیر بن جمیع لکھا گیا ہے جو کہ تحریف ہے اور اصل جمیع بن عمیر ہے جیسا کہ دیگر تمام مصادر میں پایا جاتاہے اور ابن حجر نے تہذیب میں تصریح کی ہے کہ جمیع بن عمیر التیمی الکوفی نے عائشہ سے روایت کی ہے اور ان سے عوام بن حوشب نے نقل کیا ہے ۔ !

آیت تطہیر کا نزول بیت ام سلمہ (ع) میں

آیت تطہیر کے نزول کے بارے میں وارد ہونے والی روایات کا جائزہ لیا جائے تو صاف طور پر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ آیت جناب ام سلمہ کے گھر میں نازل ہوئی ہے اور اس کا خود حضرت عائشہ نے بھی اقرار کیا ہے جیسا کہ ابوعبداللہ الحدبی سے نقل کیا گیا ہے کہ میں حضرت عائشہ کے پاس حاضر ہوا اور میں نے سوال کیا کہ آیت ” انما یرید اللہ “ کہاں نازل ہوئی ہے؟ تو انھوں نے فرمایا کہ بیت ام سلمہ میں ! ( تفسیر فرات کوفی 334 / 455 )

دوسری روایت میں جناب ام سلمہ کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ اگر خود عائشہ سے دریافت کروگے تو وہ بھی یہی کہیں گی کہ ام سلمہ کے گھر میں نازل ہوئی ہے۔ ( تفسیر فرات الکوفی 334 )

شیخ مفید ابوعبداللہ محمد بن محمد بن النعمان فرماتے ہیں کہ اصحاب حدیث نے روایت کی ہے کہ اس آیت کے بارے میں عمر سے دریافت کیا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ عائشہ سے دریافت کرو اور عائشہ نے فرمایا کہ میری بہن ام سلمہ کے گھر میں نازل ہوئی ہے لہذا انھیں اس کے بارے میں مجھ سے زیادہ علم ہے۔ ( الفصول المختارہ ص 53 ، 54 )

مذکورہ بالا اور عبداللہ بن جعفر کی روایت سے واضح ہوتاہے کہ جناب ام سلمہ کے علاوہ عائشہ اور زینب جیسے افراد اس واقعہ کے عینی شاہد بھی ہیں اور انھوں نے ام سلمہ کی طرح چادر میں داخلہ کی درخواست بھی کی ہے اور حضور نے انکار فرمادیا ہے لہذا بعض محدثین کا یہ احتمال دینا کہ یہ واقعہ متعدد بار مختلف مقامات پر پیش آیاہے ، ایک بعید از قیاس مسئلہ ہے۔

اصحاب پیغمبر اور مفہوم اہلبیت (ع )

1 ۔ ابوسعید خدری (ع )

19 ۔ عطیہ نے ابوسعید الخدری سے رسول اکرم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ یہ آیت پانچ افراد کے بارے میں نازل ہوئی ہے، میں ، علی (ع) ، فاطمہ (ع) ، حسن (ع) ،حسین (ع) ۔(تفسیر طبری 12 / 6، در منثور 6 ص 604 ، العمدة 39 ص21)۔

20 ۔ عطیہ نے ابوسعید خدری سے آیت تطہیر کے بارے میں روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم نے علی (ع) ، فاطمہ (ع) ، حسن (ع) اور حسین (ع) کو جمع کرکے سب پر ایک چادر اوڑھادی اور فرمایا کہ یہ میرے اہلبیت (ع) ہیں، خدایا ان سے ہر رجس کو دور رکھنا اور انھیں مکمل طور پر پاک و پاکیزہ رکھنا ۔

اس وقت ام سلمہ دروازہ پر تھیں اور انھوں نے عرض کی یا رسول اللہ کیا میں اہلبیت (ع) میں نہیں ہوں ؟ تو آپ نے فرمایا کہ تم خیر پر ہو، یا تمہارا انجام بخیر ہے، ( تاریخ بغداد 10 ص 278 ، شواہد التنزیل 2 ص 38 / 657 ۔ 2 ص 139 / 774 ، تنبیہ الخواطر 1 ص 23)۔

21 ۔ ابوایوب الصیرفی کہتے ہیں کہ میں نے عطیہ کوفی کو یہ بیان کرتے ہوئے سناہے کہ میں نے ابوسعید خدری سے دریافت کیا تو انھوں نے بتایا کہ یہ آیت رسول اکرم ، علی (ع) ، فاطمہ (ع) ، حسن اور حسین (ع) کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔( امالی طوسی (ر) 248 / 438 ۔ المعجم الکبیر 3 ص 56 / 2673، تاریخ دمشق حالات امام حسین (ع) 75 / 108 ، اسباب نزول قرآن 368 / 696 )۔

2 ۔ ابوبرزہ اسلمی

22 ۔ ابوبرزہ کا بیان ہے کہ میں نے ، 17 مہینہ تک رسول اکرم کے ساتھ نماز پڑھی جب آپ اپنے گھر سے نکل کر فاطمہ (ع) کے دروازہ پر آتے تھے اور فرماتے تھے، نماز ! خدا تم پر رحمت نازل کرے اور یہ کہہ کر آیت تطہیر کی تلاوت فرماتے تھے ( مجمع الزوائد 9 ص 267 / 14986 )۔

3 ۔ ابوالحمراء

23 ۔ ابوداؤد نے ابوالحمراء سے نقل کیا ہے کہ میں نے پیغمبر اسلام کے دور میں سات مہینہ تک مدینہ میں حفاظتی فرض انجام دیا ہے اور میں دیکھتا تھا کہ حضور طلوع فجر کے وقت علی (ع) و فاطمہ (ع) کے دروازہ پر آکر فرماتے تھے ، الصلٰوة الصلٰوة ، اور اس کے بعد آیت تطہیر کی تلاوت فرماتے تھے۔ ( تفسیر طبری 22 ص 6)۔

4 ۔ ابولیلیٰ انصاری

24 ۔ عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اپنے والد کے حوالہ سے پیغمبر اسلام کا یہ ارشا د نقل کیا ہے کہ آپ نے علی (ع) مرتضیٰ سے فرمایا کہ میں سب سے پہلے جنّت میں داخل ہوگا اور اس کے بعد تم اور حسن (ع) ، حسین (ع) اور فاطمہ (ع) … خدا یا یہ سب میرے اہل ہیں لہذا ان سے ہر رجس کو دور رکھنا اور انھیں مکمل طور پر پاک و پاکیزہ رکھنا ، خدایا ان کی نگرانی اور حفاظت فرمانا، تو ان کا ہوجا ، ان کی نصرت اور امداد فرما… انھیں عزت عطا فرما اور یہ ذلیل نہ ہونے پائیں اور مجھے انھیں میں زندہ رکھنا کہ تو ہر شے پر قادر ہے۔ ( امالی طوسی (ر) ص 352 / 272 ، مناقب خوارزمی 62 / 31)۔

5 ۔ انس بن مالک

25 ۔ انس بن مالک کا بیان ہے کہ رسول اکرم 6 ماہ تک فاطمہ (ع) کے درواز ہ سے نماز صبح کے وقت گذرتے تھے، الصلٰوة یا اہل البیت … اور اس کے بعد آیت تطہیر کی تلاوت فرماتے تھے( سنن ترمذی 5 ص 352 / 3206 ، مسند احمد بن حنبل 4 ص 516 / 13730 ، فضائل الصحابہ ابن حنبل 2/761 / 1340 ، مستدرک 3 / 172 / 4748 ، المعجم الکبیر 3 / 65 / 2671 ، المصنف 7/427 ، تفسیر طبری 22 ص 6 اس کتاب میں اذاخرج کے بجائے کلما خرج ہے کہ جب بھی نماز کے لئے نکلتے تھے)۔

6 ۔ براء بن عازب

26 ۔ براء بن عازب کا بیان ہے کہ علی (ع) و فاطمہ (ع) و حسن (ع) و حسین (ع) رسول اکرم کے دروازہ پر آئے تو آپ نے سب کو اپنی چادر اوڑھادی اور فرمایا کہ خدایا یہ میری عترت ہے ( تاریخ دمشق حالات امام علی (ع) 2 / 437 / 944 ، شواہد التنزیل 2 / 26 / 645)۔

7 ۔ ثوبان

27 ۔ سلیمان المبنہی نے غلام پیغمبر اسلام ثوبان سے نقل کیا ہے کہ حضور جب بھی سفر فرماتے تھے تو سب سے آخر میں فاطمہ (ع) سے رخصت ہوتے تھے اور جب واپس آتے تھے تو سب سے پہلے فاطمہ (ع) سے ملاقات کرتے تھے، ایک مرتبہ ایک غزوہ سے واپس آئے تو دروازہ پر ایک پردہ دیکھا اور حسن (ع) حسین (ع) کے ہاتھوں میں چاندی کے کڑے … تو گھر میں داخل نہیں ہوئے، جناب فاطمہ (ع) فوراً سمجھ گئیں اور پردہ کو اتار دیا اور بچوں کے کڑے بھی اتارلئے اور توڑ دیے، بچے روتے ہوئے پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہوئے ، آپ نے دونوں سے لے لیا اور مجھ سے فرمایا کہ اسے لے جاکر مدینہ کے فلاں گھر والوں کو دیدو کہ میں اپنے اہلبیت (ع) کے بارے میں یہ پسند نہیں کرتا کہ یہ ان نعمتوں سے زندگانی دنیا میں استفادہ کریں، پھر فرمایا ثوبان جاؤ فاطمہ (ع) کے لئے ایک عصب (…) کا ہار اور بچوں کے لئے دو عاج ( ہاتھی دانت) کے کڑے خرید کر لے آؤ ( سنن ابی داؤد 4/ 87 / 4213 ، مسند احمد بن حنبل 8/ 320 / 22426، السنن الکبری ٰ 1 / 41 / 91 ، احقاق الحق 10 /234 ، 291)۔

واضح رہے کہ روایت کے جملہ تفصیلات کی ذمہ داری راوی پر ہے، مصنف کا مقصد صرف لفظ اہلبیت (ع) کا استعمال ہے،

جوادی ۔

28 ۔ ابوہریرہ اور ثوبان دونوں نے نقل کیا ہے کہ حضور اکرم اپنے سفر کی ابتدا اور انتہا بیتِ فاطمہ (ع) پر فرمایا کرتے تھے ، چنانچہ ایک مرتبہ آپ نے اپنے پدر بزرگوار اور شوہر نامدار کی خاطر ایک خیبری چادر کا پردہ ڈال دیا جسے دیکھ کر حضور آگے بڑھ گئے اور آپ کے چہر ہ پر ناراضگی کے اثرات ظاہر ہوئے اور منبر کے پاس آکر بیٹھ گئے، فاطمہ (ع) کو جیسے ہی معلوم ہوا انھوں نے ہار ۔ بُندے اور کڑے سب اتار دیے اور پردہ بھی اتارکر بابا کی خدمت میں بھیج دیا اور عرض کی کہ اسے راہ خدا میں تقسیم کردیں، آپ نے یہ دیکھ کر تین بار فرمایا، یہ کارنامہ ہے۔ فاطمہ (ع) پر ان کا باپ قربان ۔ آل محمد کو دنیا سے کیا تعلق ہے، یہ سب آخرت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور دنیا دوسرے افراد کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ ( مناقب ابن شہر آشوب 3 ص 343)۔

نوٹ: تفصیلات کے اعتبار کے لئے حضرت ابوہریرہ کا نام ہی کافی ہے ۔

جوادی

8 ۔ جابر بن عبداللہ انصاری

29 ۔ ابن ابی عتیق نے جابر بن عبداللہ انصاری سے نقل کیا ہے کہ رسول اکرم نے علی (ع) ۔ فاطمہ (ع) اور ان کے دونوں فرزندوں کو بلاکر ایک چادر اوڑھادی اور فرمایا ، خدا یا یہ میرے اہل ہیں، یہ میرے اہل ہیں، (شواہد التنزیل 2/ 28 / 647 ، مجمع البیان 8/ 560 ، احقاق الحق 2 ص 55 نقل از عوالم العلوم)۔

30 ۔ جابر بن عبداللہ انصاری کہتے ہیں کہ میں ام سلمہ کے گھر میں رسول اکرم کی خدمت میں حاضر تھا کہ آیت تطہیر نازل ہوگئی اور آپ نے حسن (ع) حسین (ع) اور فاطمہ (ع) کو طلب کرکے اپنے سامنے بٹھایا اور علی (ع) کو پس پشت بٹھایا اور فرمایا ، خدایا یہ میرے اہلبیت ہیں ، ان سے ہر رجس کو دور رکھنا اور انھیں مکمل طور پر پاکیزہ رکھنا۔

ام سلمہ نے عرض کی یا رسول اللہ کیا میں بھی ان میں شامل ہوں ؟ فرمایا تمھارا انجام بخیر ہے۔

تو میں نے عرض کی ، حضور ا! اللہ نے اس عترت طاہرہ اور ذریّت طیبہ کو یہ شرف عنایت فرمایاہے کہ ان سے ہر رجس کو دور رکھاہے ، تو آپ نے فرمایا ، جابر ایسا کیوں نہ ہوتا، یہ میری عترت ہیں اور ان کا گوشت اور خون میرا گوشت اور خون ہے ، یہ میرا بھائی سید الاولیاء ہے۔

اور یہ میرے فرزند بہترین فرزند ہیں اور یہ میری بیٹي تمام عورتوں کی سردار ہے اور یاد رکھو کہ مہدی بھی ہمیں میں سے ہوگا ( کفایة الاثر ص 66)۔

9 ۔ زید بن ارقم

31 ۔ یزید بن حیان نے زید بن ارقم سے حدیث ثقلین کے ذیل میں نقل کیا ہے کہ میں نے دریافت کیا کہ آخر یہ اہلبیت (ع) کون ہیں ، کیا یہ ازواج ہیں تو انھوں نے فرمایا کہ ہرگز نہیں، عورت تو مرد کے ساتھ ایک عرصہ تک رہتی ہے ، اس کے بعد اگر طلاق دیدی تو اپنے گھر اور اپنی قوم کی طرف پلٹ جاتی ہے ” اور رشتہ ختم ہوجاتاہے“… اہلبیت (ع) وہ قرابتدار ہیں جن پر صدقہ حرام کردیا گیا ہے ( صحیح مسلم 4 ص 37 /1874)۔

10 ۔ زینب بنت ابی سلمہ

32 ۔ ابن لہیعہ کہتے ہیں کہ مجھ سے عمرو بن شعیب نے نقل کیا ہے کہ وہ زینب بنت ابی سلمہ کے یہاں وارد ہوئے تو انھوں نے یہ قصہ بیان کیا کہ رسول اکرم ام سلم ہکے گھر میں تھے کہ حسن (ع) و حسین (ع) اور فاطمہ (ع) آگئیں، آپ نے حسن (ع) کو ایک طرف بٹھایا اور حسین کو دوسری طرف ، فاطمہ (ع) کو سامنے جگہ دی اور پھر فرمایا کہ رحمت و برکات الہی تم اہلبیت (ع) کے لئے ہے، وہ پروردگار حمید بھی ہے اور مجید بھی ہے(المعجم الکبیر 24 ص 281 / 713 ) ۔

11 ۔ سعد بن ابی وقاص

33 ۔ عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے باپ سے نقل کیا ہے کہ جب آیت مباہلہ نازل ہوئی تو حضور نے علی (ع) و فاطمہ (ع) اور حسن (ع) و حسین (ع) کو طلب کرکے فرمایا کہ یہ میرے اہل ہیں( صحیح مسلم 4 / 32 / 1871 سنن ترمذی 5 / 225 / 2999 ، مسند ابن حنبل 1 / 391 / 1608 ، مستدرک 3/ 163 / 4719 ، السنن الکبریٰ 7 ص 101 / 13392 ، الدرالمنثور 2 ص 233 ، تاریخ دمشق حالات اما م علی (ع) 1 ص 207 / 271 ، امالی طوسی (ر) ص 307 / 616)۔

34 ۔ عامر بن سعد نے سعد سے نقل کیا ہے کہ رسول اکرم پر وحی نازل ہوئی تو آپ نے علی (ع) ، فاطمہ (ع) اور ان کے فرزندوں کو چادر میں لے کر فرمایا کہ خدایا یہی میرے اہل اور اہلبیت (ع) ہیں (مستدرک 3 ص 159 / 4708 السنن الکبریٰ 7 ص 101 / 13391، تفسیر طبری 33 / 8 ، الدرالمنثور 6 ص 605)۔

35 ۔ سعید بن جبیر نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ میں منزل ذی طویٰ میں معاویہ کے پاس موجود تھا جب سعد بن وقاص نے وارد ہوکر سلام کیا اور معاویہ نے قوم سے خطاب کرکے کہا کہ یہ سعد بن ابی وقاص ہیں جو علی (ع) کے دوستوں میں ہیں اور قوم نے یہ سن کر سر جھکالیا اور علی (ع) کو بُرا بھلا کہنا شروع کردیا ، سعد رونے لگے تو معاویہ نے پوچھا کہ آخر رونے کا سبب کیا ہے؟ سعد نے کہا کہ میں کیونکر نہ رؤوں ، رسول اکرم کے ایک صحابی کو گالیاں دی جارہی ہیں اور میری مجبوری ہے کہ میں روک بھی نہیں سکتاہوں !

جبکہ علی (ع) میں ایسے صفات تھے کہ اگر میرے پاس ایک بھی صفت ہوتی تو دنیا اور مافیہا سے بہتر سمجھتا!۔

یہ کہہ کر اوصاف علی (ع) کو شمار کرنا شروع کردیا … اور کہا کہ پانچویں صفت یہ ہے کہ جب آیت تطہیر نازل ہوئی تو پیغمبر اکرم نے علی (ع) حسن (ع) ، حسین (ع) اور فاطمہ (ع) کو بلاکر فرمایا کہ خدایا یہ میرے اہل ہیں ان سے ہر رجس کو دور رکھنا اور انھیں حق طہارت کی منزل پر رکھنا ( امالی طوسی (ر) ص 598 / 1243)۔

36 ۔ سعد بن ابی وقاص کا بیان ہے کہ جب معاویہ نے انھیں امیر بنایا تو یہ سوال کیا کہ آخر تم ابوتراب کو گالیاں کیوں نہیں دیتے ہو؟ تو انھوں نے کہا کہ جب تک مجھے وہ تین باتیں یاد رہیں گی جنھیں رسول اکرم نے فرمایاہے ۔ میں انھیں بر انہیں کہہ سکتاہوں اور اگر ان میں سے ایک بھی مجھے حاصل ہوجاتی تو سرخ اونٹوں سے زیادہ قیمتی ہوتی … ان میں سے ایک بات یہ ہے کہ جب آیت مباہلہ نازل ہوئی تو حضور نے علی (ع) و فاطمہ (ع) اور حسن (ع) و حسین (ع) کو جمع کرکے فرمایا کہ خدایا یہ میرے اہل ہیں۔ (سنن ترمذی 5 ص 638 / 3724 ، خصائص امیرالمؤمنین (ع) للنسائی 44 / 9 شواہد التنزیل 332 / 36 ، تفسیر عیاشی 1 ص 177 / 69)۔

12 ۔ صبیح مولیٰ ام سلمہ

37 ۔ ابراہیم بن عبدالرحمن بن صبیح مولی ٰ ام سلمہ نے اپنے جد صبیح سے نقل کیا ہے کہ میں رسول اکرم کے دروازہ پر حاضر تھا جب علی (ع) و فاطمہ (ع) اور حسن (ع) و حسین (ع) آئے اور ایک طرف بیٹھ گئے، حضرت باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ تم سب خیر پر ہو، اس کے بعد آپ نے اپنی خیبری چادر ان سب کو اوڑھا دی اور فرمایا کہ جو تم سے جنگ کرے میری اس سے جنگ ہے اور جو تم سے صلح کرے میری اس سے صلح ہے ( المعجم الاوسط 3 / 407 / 2854، اسد الغابہ 3 / 7 /2481)۔

13 ۔ عبداللہ بن جعفر

38 ۔ اسماعیل بن عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ جب رسول اکرم نے رحمت کو نازل ہوتے دیکھا تو فرمایا میرے پاس بلاؤ میرے پاس بلاؤ … صفیہ نے کہا یا رسول اللہ کس کو بلانا ہے؟ فرمایا میرے اہلبیت (ع) علی (ع) ، فاطمہ (ع) ، حسن، حسین (ع)۔

چنانچہ سب کو بلاگیا اور آپ نے سب کو اپنی چادر اوڑھادی اور ہاتھ اٹھاکر فرمایا خدایا یہ میری آل ہے لہذا محمد و آل محمد پر رحمت نازل فرما اور اس کے بعد آیت تطہیر نازل ہوگئی (مستدرک 3 ص 160 / 4709 ۔ شواہد التنزیل 2 ص 55 / 675 ، اس روایت میں صفیہ کے بجائے زینب کا ذکر ہے)۔

39 ۔ اسماعیل بن عبداللہ بن جعفر طیار نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ جب رسول اللہ نے جبریل کو آسمان سے نازل ہوتے دیکھا تو فرمایا کہ میرے پاس کون بلادے گا ، میرے پاس کون بلادے گا …؟ زینب (ع) نے کہا کہ میں حاضر ہوں کسے بلانا ہے ؟ فرمایا علی (ع) ، فاطمہ (ع) حسن (ع) اور حسین (ع) کو بلاؤ ۔ !

پھر آپ نے حسن (ع) کو داہنی طرف ، حسین (ع) کو بائیں طرف اور علی (ع) و فاطمہ (ع) کو سامنے بٹھاکر سب پر ایک چادر ڈال دی اور فرمایا خدایا ہر نبی کے اہل ہوتے ہیں اور میرے اہل یہ افراد ہیں جس کے بعد آیت تطہیر نازل ہوگئی اور زینب (ع) نے گزارش کی کہ میں چادر میں داخل نہیں ہوسکتی ہوں تو آپ نے فرمایا کہ اپنی جگہ پر رہو انش تم خیر پر ہو ۔ (شواہد التنزیل 2 ص53 / 673 ، فرائد السمطین 2/ 18 / 362 ، العمدة 04 / 24 ، احقاق الحق 9 ص 52 )۔

14 ۔ عبدالبہ بن عباس

40 ۔ عمرو بن میمون کا بیان ہے کہ میں ابن عباس کے پاس بیٹھا تھا کہ نو افراد کی جماعت وارد ہوگئی اور ان لوگوں نے کہا کہ یا آپ ہمارے ساتھ چلیں یا یہیں تنہائی کا انتظام کریں؟ ابن عباس نے کہا کہ میں ہی تم لوگوں کے ساتھ چل رہاہوں۔ اس زمانہ میں ان کی بینائی ٹھیک تھی اور نابینا نہیں ہوئے تھے، چنانچہ ساتھ گئے اور ان لوگوں نے آپس میں گفتگو شروع کردی، مجھے گفتگو کی تفصیل تو نہیں معلوم ہے، البتہ ابن عباس دامن جھاڑتے ہوئے اور اف اور تف کہتے ہوئے واپس آئے، افسوس یہ لوگ اس کے بارے میں برائیاں کررہے ہیں جس کے پاس دس ایسے فضائل ہیں جو کسی کو حاصل نہیں ہیں۔

یہ اس کے بارے میں کہہ رہے ہیں جس کے بارے میں رسول اکرم نے فرمایا تھا کہ عنقریب اس شخص کو بھیجوں گا جسے خدا کبھی رسوا نہیں ہونے دے گا اور وہ خدا و رسول کا چاہنے والا ہوگا … یہاں تک کہ یہ واقعہ بھی بیان کیا کہ حضور نے اپنی چادر علی (ع) و فاطمہ (ع) اور حسن (ع) و حسین (ع) پر ڈال دی اور آیت تطہیر کی تلاوت فرمائی ۔( مستدرک 3 / 143 / 4652 ، مسند ابن حنبل 1 / 708 / 3062 ، خصائص نسائی 70 / 23 ، تاریخ دمشق حالات امام علی (ع) / 189 / 250 ۔

41 ۔ عمرو بن میمون نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ رسول اکرم نے حسن (ع) و حسین (ع) اور علی (ع) و فاطمہ (ع) کو بلاکر ان پر چادر ڈال دی اور فرمایا کہ خدایا یہ میرے اہلبیت اور اقرباء ہیں، ان سے رجس کو دو رکھنا اور انھیں حق طہارت کی منزل پر رکھنا ۔( تاریخ دمشق حالات امام علی (ع) 1 ص 184 / 249 ، شواہد التنزیل 2 / 50 / 670 ، احقاق الحق 15 ص 628 ۔ 631)۔

42 ۔ سعید بن جبیر ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم نے فرمایا کہ خدا یا اگر تیرے کسی بھی نبی کے ورثہ اور اہلبیت (ع) ہیں تو علی (ع) و فاطمہ (ع) اور حسن (ع) و حسین (ع) میرے اہلبیت (ع) اور میرے سرمایہ ہیں لہذاان سے ہر رجس کو دور رکھنا اور انھیں کمال طہارت کی منزل پر رکھنا۔

43 ۔ سعید بن المسیب نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ ایک دن رسول اکرم تشریف فرماتھے اور آپ کے پاس علی (ع) اور فاطمہ (ع) اور حسن (ع) و حسین (ع) بھی تھے کہ آپ نے دعا فرمائی خدایا تجھے معلوم ہے کہ یہ سب میرے اہلبیت (ع) ہیں اور مجھے سب سے زیادہ عزیز ہیں لہذا ان کے دوست سے محبت کرنا اور ان کے دشمن سے دشمنی رکھنا ، جو ان سے موالات رکھے تو اس سے محبت کرنا جو ان سے دشمنی کرتے تو اس سے دشمنی کرنا ، ان کے مددگاروں کی مدد کرنا اور انھیں ہر رجس سے پاک رکھنا ، یہ گناہ سے محفوظ رہیں اور روح القدس کے ذریعہ ان کی تائید کرتے رہا۔

اس کے بعد آپ نے آسمان کی طرف ہاتھ بلندکیا اور فرمایا خدایا میں تجھے گواہ کرکے کہہ رہاہوں کہ میں ان کے دوستوں کا دوست اور ان کے دشمنوں کا دشمن ہوں، ان سے صلح رکھنے والے کی مجھ سے صلح ہے اور ان سے جنگ کرنے والے سے میری جنگ ہے، میں ان کے دشمنوں کا دشمن ہوں اور ان کے دوستوں کا دوست ہوں۔ (امالی صدوق (ر) 393 / 18 ، بشارة المصطفیٰ ص 177)۔

44 ۔ ابن عباس حضرت علی (ع) و فاطمہ (ع) کے عقد کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم نے دونوں کو سینہ سے لگاکر فرمایا کہ خدایا یہ دونوں مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں… خدایا جس طرح تو نے مجھ سے رجس کو دور رکھاہے اور مجھے پاکیزہ بنایاہے، اسی طرح انھیں بھی طیب و طاہر رکھنا ۔( معجم کبیر 24 ص 134 / 362 ۔22/ 412 / 1022 ، المصنف عبدالرزاق 5/ 489 / 9782)۔

15 ۔ عمر بن ابی سلمہ

45 ۔ عطاء بن ابی ریاح نے عمر بن ابی سلمہ (پروردہٴ رسالتمآب) سے نقل کیا ہے کہ آیت تطہیر رسول اکرم پر ام سلمہ کے گھر میں نازل ہوئی ہے، جب آپ نے فاطمہ (ع) اور حسن (ع) و حسین (ع) کو طلب کیا اور سب پر ایک چادر اوڑھادی اور علی (ع) پس پشت بیٹھے تھے انھیں بھی چادر شامل کرلیا اور فرمایا خدایا یہ میرے اہلبیت (ع) ہیں، ان سے رجس کو دور رکھنا اور پاک و پاکیزہ رکھنا ۔

جس کے بعد ام سلمہ نے فرمایا کہ یا نبی اللہ کیا میں بھی انھیں میں سے ہوں؟ تو آپ نے فرمایا کہ تمھاری اپنی ایک جگہ ہے اور تمھارا انجام بخیر ہونے والا ہے(سنن ترمذی) 5/663 / 3787 اسدالغابہ 2/ 17 ، تاریخ دمشق حالات امام حسین (ع) 71 / 104 ، تفسیر طبری 22 /8 احقاق الحق 3 ص 528 2 ص 510)۔

16 ۔ عمر بن الخطاب

46 ۔ عیسی بن عبداللہ بن مالک نے عمر بن الخطاب سے نقل کیا ہے کہ میں نے رسول اکرم کو یہ کہتے سنا ہے کہ میں آگے آگے جارہاہوں اور تم سب میرے پاس حوض کوثر پر وارد ہونے والے ہو، یہ ایسا حوض ہے جس کی وسعت صنعاء سے بصریٰ کے برابر ہے اور اس میں ستاروں کے عدد کے برابر چاندی کے پیالے ہوں گے اور جب تم لوگ وارد ہوگے تو میں تم سے ثقلین کے بارے میں سوال کروں گا لہذا اس کا خیال رکھنا کہ میرے بعد ان کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے، یاد رکھو سبب اکبر کتاب خدا ہے جس کا ایک سرا خدا کے پاس ہے اور ایک تمھارے پاس ہے، اس سے وابستہ رہنا اور اس میں کسی طرح کی تبدیلی نہ کرنا اور دوسرا ثقل میری عترت اور میری اہلبیت (ع) ہیں، خدائے لطیف و خبیر نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ دونوں حوض کوثر تک ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے ۔

میں نے عرض کی یا رسول اللہ یہ آپ کی عترت کون ہے ؟ تو آپ نے فرمایا میرے اہلبیت(ع) اولاد علی (ع) و فاطمہ (ع) ہیں، جن میں سے نو حسین (ع) کے صلب سے ہوں گے ، یہ سب ائمہ ابرار ہوں گے اور یہی میری عترت ہے جو میرا گوشت اور میرا خون ہے۔ (کفایة الاثر ص 91 ، تفسیر برہان ، 1/9 نقل از ابن بابویہ در کتاب النصوص علی الائمة)۔

17 ۔ واثلہ بن الاسقع

47 ۔ابو عمار نے واثلہ بن الاسقع سے نقل کیا ہے کہ میں علی (ع) کے پاس آیا اور انھیں نہ پاسکا تو فاطمہ (ع) نے فرمایا کہ وہ رسول اکرم کے پاس انھیں مدعو کرنے گئے ہیں۔ اتنے میں دیکھا کہ حضور کے ساتھ آرہے ہیں، دونوں حضرات گھر میں داخل ہوئے اور میں بھی ساتھ میں داخل ہوگیا ، آپ نے حسن (ع) و حسین (ع) کو طلب کرکے اپنے زانو پر بٹھایا اور فاطمہ (ع) اور ان کے شوہر کو اپنے سامنے بٹھایا اور سب پر ایک چادر ڈال دی اور آیت تطہیر کی تلاوت کرکے فرمایا کہ یہی میرے اہلبیت (ع) ہیں، خدایا میرے اہلبیت (ع) زیادہ حقدار ہیں۔( مستدرک 3 / 159 / 4706 ۔ 451 / 3559)۔

48 ۔ شدادابوعمار ناقل ہیں کہ میں واثلہ بن الاسقع کے پاس وارد ہوا جبکہ ایک قوم وہاں موجود تھی، اچانک علی (ع) کا ذکر آگیا اور سب نے انھیں بُرابھلا کہا تو میں نے بھی کہہ دیا ، اس کے بعد جب تما م لوگ چلے گئے تو واثلہ نے پوچھا کہ تم نے کیوں گا لیاں دیں۔ میں نے کہا کہ سب دے رہے تھے تو میں نے بھی دیدیں۔ واثلہ نے کہا کیا میں تمھیں بتاؤں کہ میں نے رسول اکرم کے یہاں کیا منظر دیکھا ہے؟ میں نے اشتیاق ظاہر کیا … تو فرمایا کہ میں فاطمہ (ع) کے گھر علی (ع) کی تلاش میں گیا تو فرمایا کہ رسول اکرم کے پاس گئے ہیں، میں انتظار کرتارہا یہاں تک کہ حضور مع علی (ع) و حسن (ع) و حسین (ع) کے تشریف لائے اور آپ دونوں بچوں کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے، اس کے بعد آپ نے علی (ع) و فاطمہ (ع) کو سامنے بٹھایا اور حسن (ع) و حسین (ع) کو زانو پر اور سب پر ایک چادر ڈال کر آیت تطہیر کی تلاوت فرمائی اور دعاکی کہ خدایا یہ سب میرے اہلبیت (ع) ہیں اور میرے اہلبیت زیادہ حقدار ۔ (فضائل الصحابہ ابن حنبل 2 ص 577 ، مسند احمد بن حنبل 6 / 45 ، المصنف ابن ابی شیبہ، العمدة 40 / 25 ، معجم کبیر 3 / 49 / 2670 ، 2669)۔

49 ۔ شداء بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے واثلہ بن الاسقع سے اس وقت سنا جب امام حسین (ع) کا سرلایا گیا اور انھوں نے اپنے غیظ و غضب کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ خداکی قسم میں ہمیشہ علی (ع) و فاطمہ (ع) اور حسن (ع) و حسین (ع) سے محبت کرتا رہوں گا کہ میں نے ام سلمہ کے مکان میں حضور سے بہت سی باتیں سنی ہیں، اس کے بعد اس کی تفصیل اس طرح بیان کی کہ میں ایک دن حضرت کے پاس حاضر ہوا جب آپ ام سلمہ کے گھر میں تھے اتنے میں حسن (ع) آگئے آپ نے انھیں داہنے زانو پر بٹھایا اور بوسہ دیا ، پھر حسین (ع) آگئے اور انھیں بائیں زانو پر بٹھاکر بوسہ دیا ، پھر فاطمہ آگئیں انھیں سامنے بٹھایا اور پھر علی (ع) کو طلب کیا اور اس کے بعد سب پر ایک خیبری چادر ڈال دی اور آیت تطہیر کی تلاوت فرمائی … تو میں نے واثلہ سے پوچھا کہ یہ رجس کیا ہے ؟ فرمایا ۔ خدا کے بارے میں شک ۔( فضائل الصحابہ ابن حنبل 2 / 672 / 1149 ، اسدالغابہ 2 / 27 ، العمدة 34 / 15 )۔

50 ۔ ابوعمار الشداد واثلہ بن الاسقع سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم نے علی (ع) کو داہنے بٹھایا اور فاطمہ (ع) کو بائیں، حسن (ع) و حسین (ع) کو سامنے بٹھایا اور سب پر ایک چادر اوڑھاکر دعا کی کہ خدایا یہ میرے اہلبیت (ع) ہیں اور اہلبیت (ع) کی بازگشت تیری طرف ہے نہ کہ جہنم کی طرف ( مسند ابویعلی 6 / 479 / 7448 ، نثر الدرا/ 236 ، السنن الکبریٰ 2 /217 / 2870)۔

51 ۔ ابوالازہر واثلہ بن الاسقع سے نقل کرتے ہیں کہ جب رسول اکرم نے علی (ع) و فاطمہ (ع) اور حسن (ع) و حسین (ع) کو چادر کے نیچے جمع کرلیا تو دعا کی کہ خدایا تو نے اپنی صلوات و رحمت و مغفرت و رضا کو ابراہیم اور آل ابراہیم کے لئے قرار دیا ہے اور یہ سب مجھ سے ہیں ان سے ہوں لہذا اپنی صلوات و رحمت و مغفرت و رضا کو میرے اور ان کے لئے بھی قرار دیدے۔

( مناقب خوارزمی 63 / 32 ، کنز العمال 13 / 603 / 37544 ، 12 / 101 /34186 )

اہلبیت (ع) اور مفہوم لفظ اہلبیت (ع )

52 ۔ موسیٰ بن عبدر بہ کا بیان ہے کہ میں نے امیر المومنین (ع) کی زندگی میں امام حسین (ع) کو مسجد پیغمبر میں یہ کہتے سنا ہے کہ میں نے رسول اکرم سے سنا ہے کہ میرے اہلبیت (ع) تم لوگوں کے لئے باعث امان ہیں لہذا ان سے میری وجہ سے محبت کرو او ران سے متمسک ہوجاؤ تا کہ گمرا ہ نہ ہوسکو۔

پوچھا گیا یا رسول اللہ آپ کے اہلبیت (ع) کون ہیں ؟ فرمایا کہ علی (ع) اور میرے دونوں نواسے اور نو اولاد حسین (ع) جو ائمہ معصوم اور امانتدار مذہب ہوں گے ، آگاہ ہوجاؤ کہ یہی میرے اہلبیت (ع) اور میری عترت ہیں جن کا گوشت اور خون میرا گوشت اور خون ہے ۔ (کفایہ الاثر ص 171)۔

53 ۔ امام صادق (ع) نے اپنے آباء کرام کے واسطہ سے رسول اکرم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑ ے جاتاہوں ایک کتاب خدا اور ایک میری عترت جو میرے اہلبیت (ع) ہیں، یہ دونوں ہرگز جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر وارد ہوجائیں اور اس حقیقت کو دو انگلیوں کو آپس میں جوڑ کر واضح کیا ، جس کے بعد جابر بن عبداللہ انصاری نے اٹھ کر دریافت کیا کہ حضور آپ کی عترت کو ن ہے ؟ فرمایا علی (ع) ، حسین (ع) ، حسین (ع) اور قیامت تک اولاد حسین (ع) کے امام ( کمال الدین ص 244 معانی الاخبار 5 / 91)۔

54 ۔ امام صادق (ع) سے ان کے آباء کرام کے واسطہ سے نقل کیا گیاہے کہ امیر المؤمنین (ع) سے رسول اکرم کے اس ارشاد گرامی کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ میں دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جاتاہوں ایک کتاب خدا اور ایک عتر ت… تو عترت سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ میں ، حسن (ع) ، حسین (ع) ، نو اولاد حسین (ع) کے امام جن کا نواں مہدی اور قائم ہوگا، یہ سب کتاب خدا سے جدا نہ ہوں گے اور نہ کتاب خدا ان سے جدا ہوگی یہاں تک کہ رسول اکرم کے پاس حوض کوثر پر وارد ہوجائیں۔( کمال الدین 240 / 64 ، معانی الاخبار 90 /4 ، عیون اخبار الرضا 1 ص 57 / 25 ۔

55 ۔ امیر المؤمنین (ع) فرماتے ہیں کہ رسول اکرم آرام فرمارہے تھے اور آپ نے اپنے پہلو میں مجھے اور میری زوجہ فاطمہ (ع) اور میرے فرزند حسن (ع) و حسین (ع) کو بھی جگہ دیدی اور سب پر ایک عبا اوڑھادی تو پروردگار نے آیت تطہیر نازل فرمادی اور جبریل نے گذارش کی کہ میں بھی آپ ہی حضرات سے ہوں جس کے بعد وہ چھٹے ہوگئے۔( خصال صدوق (ر) بروایت مکحول)۔

56 ۔ امیر المؤمنین (ع) کا ارشاد ہے کہ رسول اکرم نے مجھے اور فاطمہ (ع) و حسن (ع) و حسین (ع) کو ام سلمہ کے گھر میں جمع کیا اور سب کو ایک چادر میں داخل کرلیا اس کے بعد دعا کی کہ خدایا یہ سب میرے اہلبیت (ع) ہیں لہذا ان سے رجس کو دور رکھنا اور انھیں حق طہارت کی منزل پر رکھنا ، جس کے بعد ام سلمہ نے گذارش کی کہ میں بھی شامل ہوجاؤں؟ تو فرمایا کہ تم اپنے گھر والوں سے ہو اور خیر پر ہو اور اس بات کی تین مرتبہ تکرار فرمائی ( شواہد التنزیل 2 / 52 )۔

57 ۔ امیر المؤمنین (ع) ہی کا ارشاد ہے کہ میں رسول اکرم کے پاسس ام سلمہ کے گھر میں وارد ہوا تو یہ آیت نازل ہوئی اور آپ نے فرمایا کہ یا علی (ع) یہ آیت تمھارے، میرے دونوں فرزند اور تمھاری اولاد کے ائمہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔(کفایة الاثر ص 156 از عیسی بن موسیٰ الہاشمی …)۔

58 ۔ امام حسن (ع) کا بیان ہے کہ آیت تطہیر کے نزول کے وقت رسول اکرم نے ہم سب کو جناب ام سلمہ کی خیبری چادر کے نیچے جمع فرمایا اور دعا کی کہ خدایا یہ سب میری عترت اور میری اہلبیت (ع) ہیں لہذا ان سے ہر رجس کو دور رکھنا اور انھیں مکمل طور پر پاک و پاکیزہ رکھنا ۔( مناقب ابن مغازلی ص 372 ، امالی طوسی (ر) 559 / 1173 ، مجمع البیان 8/ 560 بروایت زاذان)۔

59 ۔ امام صادق (ع) نے اپنے پدر بزرگوار اور جد امجد کے واسطہ سے امام حسن (ع) سے آیت تطہیر کی شان نزول اس طرح نقل کی ہے کہ رسول اکرم نے مجھے، میرے بھائی ، والدہ اور والد کو جمع کیا اور جناب ام سلمہ کی خیبری چادر کے اندر لے لیا اور یہ دعا کی کہ خدایا یہ سب میرے اہلبیت (ع) ہیں، یہ میری عترت اور میرے اہل ہیں، ان سے رجس کو دور رکھنا اور انھیں حق طہارت کی منزل پر رکھنا ، جس کے بعد جناب ام سلمہ نے گزارش کی کہ کیا میں بھی داخل ہوسکتی ہوں تو آپ نے فرمایا خدا تم پر رحمت نازل کرے، تم خیر پر ہو اور تمہارا انجام بخیر ہے لیکن یہ شرف صرف میرے ا ور ان افراد کے لئے ہے۔

یہ واقعہ ام سلمہ کے گھرمیں پیش آیا جس دن حضور ان کے گھر میں تھے۔ ( امالی طوسی (ر) 564 / 2274 بروایت عبدالرحمان بن کثیر ، ینابیع المودہ 3 / 368)۔

60 ۔ امام حسن (ع) نے اپنے اکی خطبہ میں ارشاد فرمایا ، عراق و الو ! ہمارے بارے میں خدا سے ڈرو۔ ہم تمھارے اسیر اور مہمان ہیں ہم وہ اہلبیت (ع) ہیں جن کے بارے میں آیہٴ تطہیر نازل ہوئی ہے… اور اس کے بعد اسقدر تفصیل سے خطبہ ارشاد فرمایا کہ ساری مسجد میں ہر شخص گریہ و زاری میں مشغول ہوگیا ۔ معجم کبیر 3 ص 96 / 2761 ، مناقب ابن مغازلی 382 / 431 ، تاریخ دمشق حالات اما م حسن (ع) 180 / 304 بروایت ابی جمیلہ)۔

61 ۔ امام حسین (ع) نے مروان بن الحکم سے گفتگو کے دوران فرمایا کہ دو ر ہوجا۔ تو رجس ہے اور ہم اہلبیت (ع) مرکز طہارت ہیں، اللہ نے ہمارے بارے میں آیت تطہیر نازل کی ہے ۔( مقتل الحسین (ع) خوارزمی 1 ص 185 ، الفتوح 5 ص 17)۔

62 ۔ ابوالدیلم کا بیان ہے کہ اما م زین العابدین (ع)نے ایک مرد شامی سے گفتگو کے دوران فرمایا کہ کیا تو نے سورہٴ احزاب میں آیہٴ تطہیر نہیں پڑھی ہے تو اس نے کہا کہ کیا آپ وہی ہیں ؟ فرمایا بیشک ( تفسیر طبری 22 / 8)۔

63 ۔ ابونعیم نے ایک جماعت کے حوالہ سے نقل کیا ہے جو کربلا کے اسیروں کے ساتھ تھی کہ جب ہم دمشق پہنچے اور عورتوں اور قیدیوں کو بے نقاب داخل کیا گیا تو اہل شام نے کہنا شروع کیا کہ ہم نے اتنے حسین قیدی نہیں دیکھے ہیں، تم لوگ کہاں کے رہنے والے ہو تو سکینہ (ع) بنت الحسین (ع) نے فرمایا ہم آل محمد کے قیدی ہیں، جس کے بعد سب کو مسجد کے زینہ پر کھڑا کردیا گیا اور انھیں کے درمیان حضرت علی (ع) بن الحسین (ع) بھی تھے، آپ کے پاس ایک بوڑھا آدمی آیا اور کہنے لگا ، خدا کا شکر ہے کہ اس نے تمھیں اور تمھارے گھر والوں کو قتل کردیا اور فتنہ کی سینگ کاٹ دی ، اور پھر یونہی بُرا بھلا کہتا رہا ، یہاں تک کہ جب خاموش ہوا تو آپ نے فرمایا تو نے کتاب خدا پڑھی ہے؟ اس نے کہا بے شک پڑھی ہے ! فرمایا کیا آیت مودت پڑھی ہے ؟ اس نے کہا بیشک ! فرمایا ہم وہی قرابتدار ان پیغمبر ہیں ۔

فرمایا ۔ کیا آیت ” آت ذا القربیٰ حقہ “ پڑھی ہے؟ کہا بیشک ! ۔ فرمایا ہم وہی اقربا ہیں۔

فرمایا کیا آیت تطہیر پڑھی ہے؟ اس نے کہا بیشک ! فرمایا ہم وہی اہلبیت (ع) ہیں۔

یہ سن کر شامی نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھایا اور کہا خدایا میں تیری بارگاہ میں توبہ کرتاہوں اور دشمنان آل محمد سے بیزاری کا اظہار کرتاہوں اور ان کے قاتلوں سے برائت کرتاہوں، میں نے قرآن ضرور پڑھا تھا لیکن سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ حضرات وہی ہیں ۔(امالی صدوق (ر) 141 ، الاحتجاج 2 / 120 ، ملہوف 176 ، مقتل خوارزمی 2 ص 61)۔

64 ۔ امام محمد باقر (ع) نے آیت تطہیر کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ آیت علی (ع) و فاطمہ (ع) اور حسن (ع) و حسین (ع) کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور اس کا نزول ام سلمہ کے گھر میں ہوا ہے جب حضور نے علی (ع) و فاطمہ (ع) اور حسن (ع) و حسین (ع) کو جمع کرکے ایک خیبری رداکے اندر لے لیا اور خود بھی اس میں داخل ہوکر دعا کی کہ خدایا یہ میرے اہلبیت (ع) ہیں جن کے بارے میں تو نے وعدہ کیا ہے لہذا اب ان سے ہر رجس کو دور رکھنا اور انھیں حق طہارت کی منزل پر فائز رکھنا ، جس کے بعد ام سلمہ نے درخواست کی کہ مجھے بھی شامل فرمالیں؟ تو آپ نے فرمایا تمھارے لئے یہ بشارت ہے کہ تمھارا انجام خیر ہے۔

اور ابوالجارود نے جناب زین بن علی (ع) بن الحسین (ع) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ بعض جہلاء کا خیال ہے کہ یہ آیت ازواج کے بارے میں ہوئی ہے حالانکہ یہ جھوٹ اور افترا ہے، اگر مقصود پروردگار ازواج ہوتیں تو آیت کے الفاظ ” عنکن“ ، ” یطہرکن“ ہوتے اور کلام مونث کے انداز میں ہوتا جس طرح کہ دیگر الفاظ ایسے ہیں ” واذکرون “ ، ” بیوتکن“ ، ”تبرجن“ ، ” لستن“ …! (تفسیر قمی 2 ص 193 )۔

65 ۔ اما م جعفر صادق (ع) نے ایک طویل حدیث میں آیہ تطہیر کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس وقت علی (ع) و فاطمہ (ع) اور حسن (ع) و حسین (ع)تھے جنھیں رسول اکرم نے ام سلمہ کے گھر میں ایک چادر میں جمع کیا اور فرمایا کہ خدا یا ہر نبی کے اہل اور ثقل ہوتے ہیں اور میرے اہلبیت (ع) اور میرا سرمایہ یہی افراد ہیں، جس کے بعد ام سلمہ نے سوال کیا کہ کیا میں آ پ کے اہل میں نہیں ہوں؟تو آپ نے فرمایا کہ بس یہی میرے اہل اور میرا سرمایہ ہیں۔( کافی 1 / 287 از ابوبصیر )

66 ۔ابوبصیر کا بیان ہے کہ میں نے امام صادق (ع) سے دریافت کیا کہ آل محمد کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ ذریت رسول !

میں نے پوچھا کہ پھر اہلبیت (ع) کون ہیں ؟ فرمایا ائمہ اوصیاء۔ پھر میں نے دریافت کیا کہ عترت کون ہیں ؟ فرمایا اصحاب کساء پھر عرض کی کہ امت کون ہے ؟ فرمایا وہ مومن جنھوں نے آپ کی رسالت کی تصدیق کی ہے اور ثقلین سے تمسک کیا ہے یعنی کتاب خدا اور عترت و اہلبیت (ع) سے وابستہ رہے ہیں جن سے پروردگار نے رجس کو دور رکھا ہے اور انھیں پاک و پاکیزہ بنایاہے، یہی دونوں پیغمبر کے بعد امت میں آپ کے خلیفہ اور جانشین ہیں۔( امالی صدوق (ر) 200 / 10 ، روضہ الواعظین ص 294)۔

67 ۔ عبدالرحمان بن کثیر کا بیان ہے کہ میں نے امام جعفر صادق (ع) سے دریافت کیا کہ آیت تطہیر سے مراد کون حضرات ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا کہ یہ آیت رسول اکرم حضرت علی (ع) و فاطمہ (ع) اور حضرت حسن (ع) و حسین (ع) کے بارے میں نازل ہوئی ہے، رسول اکرم کے بعد حضرت علی (ع) ، ان کے بعد امام حسن (ع) اس کے بعد امام حسین (ع) ۔ اس کے بعد تاویلی اعتبارسے تمام ائمہ جن میں سے امام زین العابدین (ع) بھی امام تھے اور پھر ان کی اولاد میں اوصیاء کا سلسلہ رہا جن کی اطاعت خدا کی اطاعت ہے اور ان کی معصیت خدا کی نافرمانی ہے۔( علل الشرائع 2 ص 205 ، الاماصة و التبصرة 177 / 29)۔

68 ۔ ریان بن الصلت کہتے ہیں کہ امام رضا (ع) مرو میں مامون کے دربار میں تشریف لائے تو وہاں خراسان اور عراق والوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

یہاں تک کہ مامون نے دریافت کیا کہ عترت طاہرہ سے مراد کون افراد ہیں؟

امام رضا (ع) نے فرمایا کہ جن کی شان میں آیت تطہیر نازل ہوئی ہے، اور رسول اکرم نے فرمایا کہ میں دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جارہاہوں ایک کتاب خدا اور ایک میری عترت اور میرے اہلبیت (ع) اور یہ دونوں اس وقت تک جدا نہ ہوں گے جب تک حوض کوثر پر نہ وارد ہوجائیں ۔ دیکھو خبردار اس کا خیال رکھنا کہ میرے اہل کے ساتھ کیا برتاؤ کرتے ہو اور انھیں پڑھانے کی کوشش نہ کرنا کہ یہ تم سے زیادہ عالم اور فاضل ہیں۔ درباری علماء نے سوال اٹھادیا کہ ذرا یہ فرمائیں کہ یہ عترت آل رسول ہے یا غیر آل رسول ہے؟ فرمایا یہ آل رسول ہی ہے لوگوں نے کہا کہ رسول اکرم سے تو یہ حدیث نقل کی گئی ہے کہ میری امت ہی میری آل ہے اور صحابہ کرام بھی یہی فرماتے رہے ہیں کہ آل محمد امت پیغمبر کا نام ہے جس کا انکار ممکن نہیں ہے۔

مزید  امام خمینی(رہ) اور اسلامی بیداری

آپ نے فرمایا ذرا یہ بتاؤ آل رسول پر صدقہ حرام ہے یا نہیں ؟ سب نے کہا بیشک !

فرمایا پھر کیا امت پر بھی صدقہ حرام ہے ؟ عرض کی نہیں۔

فرمایا یہی دلیل ہے کہ امت اور ہے اور آل رسول اور ہے۔

( امالی صدوق (ر) 1 ص 422 ، عیون اخبار الرضا (ع) 1 ص 229)۔

اہلبیت (ع) پر پیغمبر اکرم کا سلام اور ان کے لئے مخصوص حکم نماز

69 ۔ ابوالحمراء خادم پیغمبر اسلام کا بیان ہے کہ حضور طلوع فجر کے وقت خانہٴ علی (ع) و فاطمہ (ع) کے پاس سے گذرتے تھے اور فرماتے تھے۔

” السلام علیکم اہل البیت“الصلوة الصلوة اور اس کے بعد آیت تطہیر کی تلاوت فرماتے ہیں۔( اسد الغابہ 6/74/27 58 )

اسی کتاب کے صفحہ 66 پر اس روایت میں یہ اضافہ ہے کہ میں نے مدینہ میں قیام کے دوران چھ ماہ تک یہ منظر دیکھاہے۔

70 ۔ ابوالحمراء خادم پیغمبر اکرم کا بیان ہے کہ حضور ہر نماز صبح کے وقت دروازہ زہر ا پر آکر فرماتے تھے” السلام علیکم یا اہل البیت (ع) و رحمة اللہ و برکاتہ“ اور وہ حضرات اندر سے جوواب دیتے تھے” وعلیکم السلام و رحمة اللہ و برکاتہ“ اس کے بعد آپ فرماتے تھے الصلوة رحمکم اللہ اور یہ کہہ کر آیت تطہیر کی تلاوت فرماتے تھے۔

راوی کہتاہے کہ میں نے ابوالحمراء سے پوچھا کہ اس گھر میں کون کون تھا تو بتایا کہ علی (ع) ۔ فاطمہ (ع) ۔ حسن (ع) ۔ حسین (ع)۔(شواہد التنزیل 2/74 / 694)۔

71 ۔ امام علی (ع) کا بیان ہے کہ رسول اکرم ہر صبح ہمارے دروازہ پر آکر فرماتے تھے ” نماز ۔ خدا رحمت نازل کرے۔ نماز اور اس کے بعد آیہ تطہیر کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔( امالی مفید (ر) 4/318 ، امالی طوسی (ر) 89 / 138 بشارة المصطفیٰ ص 264 بروایت حارث )۔

72 ۔ امام صادق (ع) نے اپنے والد اور جد بزرگوار کے واسطہ سے امام حسن (ع) سے نقل کیا ہے کہ آپ نے معاویہ سے صلح کے موقع پر حالات سے بحث کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ رسول اکرم آیہٴ تطہیر کے نزول کے بعد تمام زندگی نماز صبح کے وقت ہمارے دروازہ پر آکر فرمایا کرتے تھے ” نماز ۔ خدا تم پر رحمت نازل کرے ۔ انما یرید اللہ … ( امالی طوسی (ر)565 / 1174 از عبدالرحمٰن بن کثیر ۔ ینابیع المودة 3 ص 386)۔

ینابیع المودة میں یہ تذکرہ بھی ہے کہ یہ کام آیت ” و امرا ھلک بالصلوة“ کے نزول کے بعد ہوا کرتا تھا۔

73 ۔ امام صادق (ع)نے اپنے آباء و اجداد کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ رسول اکرم ہر صبح کے وقت درواز ہ علی (ع) و فاطمہ (ع) پر کھڑے ہوکر فرماتے تھے کہ ” تمام تعریفیں احسان کرنے والے ۔ کرم کرنے والے ۔ نعمتیں نازل کرنے والے اور فضل و افضال کرنے والے پروردگار کے لئے ہیں جس کی نعمتوں ہی سے نیکیاں درجہٴ کمال تک پہنچتی ہیں۔ وہ ہر ایک کی آواز سننے والا ہے اور سارا کام اس کی نعمتوں سے انجام پاتاہے، اس کے احسانات ہمارے پاس بہت ہیں، ہم جہنم سے اس کی پناہ چاہتے ہیں اور صبح و شام یہی پناہ چاہتے ہیں، نماز اے اہلبیت (ع) خدا تم سے ہر رجس کو دور رکھنا چاہتاہے اور تمھیں کمال طہارت کی منزل پر رکھنا چاہتاہے ۔ (امالی صدوق 124 / 14 از اسماعیل بن ابی زیاد السکونی)۔

74 ۔ تفسیر علی بن ابراہیم میں آیت کریمہ ” و امر اھلک بالصلوة“ کے بار ے میں نقل کیا گیا ہے کہ پروردگار نے خصوصیت کے ساتھ اپنے اہل کو نماز کا حکم دینے کے لئے فرمایاہے تا کہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ آل محمد کی ایک مخصوص حیثیت ہے جو دوسرے افراد کو حاصل نہیں ہے۔

اس کے بعد جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضور ہر نماز صبح کے وقت دروازہ علی (ع) و فاطمہ (ع) و حسن (ع) و حسین (ع) پر آکر فرماتے تھے” السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ“ اور اندر سے جواب آتا تھا ” و علیک السلام یا رسول اللہ و رحمة اللہ و برکاتہ۔

اس کے بعد آپ دروازہ کا باز و تھام کر فرمایا کرتے تھے” الصلوة الصلوة یرحمکم اللہ “ اور یہ کہہ کر آیت تطہیر کی تلاوت فرمایا کرتے تھے اور یہ کام مدینہ کی زندگی میں تاحیات انجام دیتے رہے۔ اور ابوالحمراء خادم پیغمبر کا بیان ہے کہ میں اس عمل کا مستقل شاہد ہوں ۔( تفسیر طبری 22/ص7، درمنثور 6 ص 403 ، تاریخ دمشق حالات امام حسین (ع) ص 60 ، مختصر تاریخ دمشق 7/ 119 ، کنز العمال 13 ص 645 ، شواہد التنزیل 2 ص 18 ، ینابیع المودة 1 ص 229 ، مناقب خوارزمی 60 فصل پنجم، تفسیر فرات کوفی ص 331 ، کشف الغمہ 1 ص 40 فصل تفسیر آل و اہل ، احقاق الحق 2 ص 501 ، 562 ، 3 ص 513 ، 531 ص 1 / 69، 14 ص 40 ، 105 ، 18 ص 359 ، 382 ، بحار الانوار 35 ص 206)۔

تحقیق احادیث سلام پیغمبر اسلام

کھلی ہوئی بات ہے کہ اس واقعہ کو اکا بر محدثین نے مختلف شخصیات کے حوالہ سے نقل کیا ہے اور اس طرح یہ واقعہ تاریخی مسلمات میں شامل ہے جس میں کسی شک اور شبہہ کی گنجائش نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں جن شخصیات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ان میں خود اہلبیت علیہم السلام شامل ہیں ( امالی صدوق (ر) 1 ص 429 ، عیون اخبار الرضا 1 ص 240 ، ینابیع المودة 2 ص 59 ، مقتل خوارزمی 1 ص 67 ، تفسیر فرات کوفی ص 339۔

صحابہ کرام میں ابوسعید خدری ہیں۔(درمنثور 6 ص 606 ، المعجمع الکبیر 3 ص 56 / 2671 ، 2674 ، مناقب خوارزمی 60 ص 280 ، شواہد التنزیل 2 ص 46 ، مجمع البیان 7 ص 59)۔

انس بن مالک ہیں اور عبداللہ بن عباس ہیں ۔( درمنثور 6 ص 606 ، احقاق الحق 9 ص 56)۔

اس کے بعد یہ مسئلہ کہ یہ واقعہ کتنی مرتبہ پیش آیاہے۔؟ اس سلسلہ میں تین طرح کی روایات ہیں۔

قسم اول! وہ روایات جن میں روزانہ سرکار دو عالم کا یہ طرز عمل نقل کیا گیا ہے کہ جب نماز صبح کے لئے مسجد کی طرف تشریف لے جاتے تھے تو علی (ع) و فاطمہ (ع) کے دروازہ پر کھڑی ہوکر سلام کرکے ، آیت تطہیر کی تلاوت فرماکر انھیں قیام نماز کی دعوت دیا کرتے تھے۔

قسم دوم ! وہ روایات ہیں جن میں راوی نے متعدد بار اس عمل کے مشاہدہ کا ذکر کیا ہے ۔( در منثور 6 ص 606 ، تفسیر طبری 22 / 6 ، تاریخ کبیر 8 ص 725 امالی طوسی 251 ، 447 ، شواہد التنزیل 2 ص 81 / 700۔

قسم سوم ! وہ روایات ہیں جن میں روزانہ کے معمول کا ذکر نہیں ہے بلکہ معینہ ایام کا ذکر ہے اور یہ بات قسم اول سے مختلف ہے، معینہ ایام کے بارے میں بھی بعض روایات میں 40 دن کا ذکر ہے۔( در منثور 6 ص 606 ، مناقب خوارزمی ص 60 / 28 ، مالی صدوق (ر) 1 ص 429 )۔

بعض روایات میں ایک ماہ کا ذکر ہے۔( اسدالغابہ 5 ص 381 / 5390 مسند ابوداؤد طیالسی ص 274)۔

بعض روایات میں چھ ما ہ کا ذکر ہے۔( تفسیر طبری 22 ص6، درمنثور 6 ص 606 ینابیع المودة 2 ص119 ، ذخائر العقبيٰ ص 24 ، العمدہ ص 45 ۔

بعض روایات میں آٹھ ماہ کا ذکر ہے۔( درمنثور 6 ص 606 کفایة الطالب ص 377)۔

بعض روایات میں 9 ماہ کا ذکر ہے۔( مناقب خوارزمی 60 / 29 مشکل الآثار 1 ص 337 ، العمدة 41 /27 ، ذخائر العقبيٰ ص25 ، کفایة الطالب ص 376۔ کھلی ہوئی بات ہے کہ پہلی اور دوسری قسم میں کسی طرح کا تضاد نہیں ہے اور انھیں دونوں قسموں سے یہ اندازہ ہوتاہے کہ قسم سوم کی تمام روایات اگر اپنی اصلی حالت پر باقی ہیں اور ان میں کسی طرح کی تحریف نہیں ہوئی ہے تو ان کا مقصد بھی افراد کے مشاہدہ کا تذکرہ ہے۔اعداد کا محدود کردینا نہیں ہے جو بات عقل و منطق کے مطابق ہے کہ ہر شخص کا مشاہدہ الگ الگ ہوسکتاہے۔

جس کا مقصد یہ ہے کہ رسول اکرم لفظ اہل البیت (ع) اور لفظ اہل کی وضاحت کے لئے ایک مدت تک روزانہ نماز صبح کے وقت در علی (ع) وفاطمہ (ع) پر آکر انھیں اہل البیت (ع) کہہ کر سلام کیا کرتے تھے اور آیت تطہیر کی تلاوت کرکے نماز کی دعوت دیا کرتے تھے اور دنوں کا اختلاف صرف رایوں کے مشاہدہ کا فرق ہے، اس سے اصل عدد کے انحصار کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

البتہ بعض روایات سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ اس عمل کا آیت تطہیر سے نہیں بلکہ آیت ” و امرا ھلک بالصلوة“ سے تعلق تھا جیسا کہ ابوسعید خدری سے نقل کیا گیا ہے کہ حضور آیت نماز کے نزول کے بعد آٹھ ماہ تک در فاطمہ (ع) پر آکر فرمایا کرتے تھے” الصلٰوة رحمکم اللہ اور اس کے بعد آیت تطہیر کی تلاوت فرمایا کرتے تھے ۔( در منثورہ ص 613 ، اخراج ابن مردویہ ، ابن عساکر، ابن النجار)۔

جس کے بارے میں علامہ طباطبائی نے فرمایا ہے کہ اس روایات سے ظاہر ہوتاہے کہ آیت ” و امر اھلک بالصلٰوة “ مدینہ میں نازل ہوئی ہے ، حالانکہ یہ کہنے والا کوئی نہیں ہے لہذا واقعہ کا تعلق آیت تطہیر سے ہے آیت نماز سے نہیں ہے… مگر یہ کہ اس واقعہ کی اس طرح تاویل کی جائے کہ آیت مکہ میں نازل ہوئی تھی لیکن حضور نے عمل مدینہ میں کیا ہے جو بات الفاظ روایات سے کسی طرح بھی ہم آہنگ نہیں ہے۔ (تفسیر المیزان 14 ص 242)۔

عدد ائمہ اہلبیت (ع )

75 ۔ جابر بن سمرہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اکرم سے جمعہ کے دن ” رجم ِاسلمی کی شام“ یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین یونہی قائم رہے گا جب تک قیامت نہ آجائے یا تم پر میرے بارہ خلفاء قائم رہے گا جب تک قیامت نہ آجائے یا تم پر میرے بارہ خلفا ء نہ گذر جائیں جو سب کے سب قریش سے ہوں گے۔( صحیح مسلم 3 / 1453 ، مسند ابن حنبل 7/ 410 / 20869 ، مسند ابویعلی ٰ 6 / 473 / 7429 ۔ آخر الذکر دونوں روایات میں ” یا“ کے بجائے ” اور “ کا ذکر کیا گیا ہے۔

76 ۔ جابر بن سمرہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم کو یہ کہتے سناہے کہ امت کے بارہ امیر ہوں گے، اس کے بعد کچھ اور فرمایا جو میں سن نہیں سکا تو میرے والد نے فرمایا کہ وہ کلمہ یہ تھا کہ سب کے سب قریش سے ہوں گے۔ (صحیح بخاری 6 /2640 / 6796)۔

77 ۔جابر بن سمرہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اکرم کو یہ فرماتے سناہے کہ یہ امر دین یونہی چلتا رہے گا جب تک بارہ افراد کی حکومت رہے گی اس کے بعد کچھ اور فرمایا جو میں نے سن سکا تو والد سے دریافت کیا اور انھوں نے بتایا کہ ” کلھم من قریش“ فرمایا تھا۔ ( صحیح مسلم 3 ص 1452 خصال 473 / 27)۔

78 ۔ جابر بن سمرہ کا بیان ہے کہ حضور نے فرمایا کہ میرے بعد بارہ امیر ہوں گے، اس کے بعد کچھ اور فرمایا جو میں نہ سمجھ سکا اور قریب والے سے دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ ” کلھم من قریش“ کہا تھا۔( سنن ترمذی 4 ص501 /2223 ، مسند ابن حنبل 7/ 430 / 20995)۔

79 ۔جابر بن سمرہ ! میں نے رسول اکرم کی زبان سے سنا کہ اسلام بارہ خلفاء تک باعزّت رہے گا، اس کے بعد کچھ اور فرمایا جو میں نہ سمجھ سکا تو والد سے دریافت کیا اور انھوں نے فرمایا کہ ” کلھم من قریش“ فرمایا تھا۔( صحیح مسلم 3 ص 1453 ، مسند ابن حنبل 7/ 412 / 20882، سنن ابی داؤد 4 / 106 / 4280 )۔

80 ۔ ابوجحیفہ کا بیان ہے کہ میں اپنے چچا کے ساتھ رسول اکرم کی خدمت میں تھا جب آپ نے فرمایا کہ میرے امت کے امور درست رہیں گے یہاں تک کہ بارہ خلیفہ گذر جائیں، اس کے بعد کچھ اور فرمایا جو میں نہ سن سکا تو میں نے چچا سے دریافت کیا جو میرے سامنے کھڑے تھے تو انھوں نے بتایا کہ کلھم من قریش فرما یا تھا۔( مستدرک 716 / 6589 ، المعجم الکبیر 22 / 120 / 308 ، تاریخ کبیر 8/ 411 / 5320 ، امالی صدوق(ر) 255 /8)۔

81 ۔ جابر بن سمرہ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ آگاہ ہوجاؤ یہ امر دین تمام نہ ہوگا جب تک بارہ خلیفہ نہ گذر جائیں، اس کے بعد کچھ اور فرمایا جو میں سمجھ نہ سکا تو اپنے والد سے دریافت کیا اور انھوں نے بتایا کہ آپ نے کلھم من قریش فرمایا تھا( تاریخ واسط ص 98 ، خصال ص 1670)۔

82 ۔ جابر بن سمرہ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ہمراہ رسول اکرم کے پاس تھا جب آپ سے یہ ارشاد سنا کہ میرے بارہ خلیفہ ہوں گے ، اس کے بعد آپ کی آواز دھیمی ہوگئی اور میں نہ سن سکا تو بابا سے دریافت کیا کہ یہ دھیرے سے کیا فرمایا تھا تو انھوں نے بتایا کہ ” کلھم من بني ھاشم“ فرمایا تھا۔( ینابیع المودة 3 ص 290 ، احقاق الحق 13 ص 30)۔

83 ۔ مسروق کا بیان ہے کہ یہ سب عبداللہ بن مسعود کے پاس بیٹھے تھے اور وہ قرآن پڑھا رہے تھا کہ ایک شخص نے دریافت کرلیا ” یا ابا عبدالرحمٰان ! کیا آپ نے کبھی حضور سے دریافت کیا ہے کہ اس ا مت میں کتنے خلفاء حکومت کریں گے ! تو ابن مسعود نے کہا کہ جب سے میں عراق سے آیاہوں آج تک کسی نے یہ سوال نہیں کیا لیکن تم نے پوچھ لیا ہے تو سنو ! میں نے حضور سے دریافت کیا تھا تو انھوں نے فرمایا تھا بارہ ۔ جتنے بني اسرائیل کے نقیب تھے۔( مسند ابن حنبل 2 ص 55 / 3781 ، مستدرک 4 ص 546 / 8529)۔

84 ۔ابوسعید نے امام (ع) باقر کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ رسول اکرم نے فرمایا کہ میری اولاد میں بارہ نقیب پیدا ہوں گے جو سب کے سب طیّب و طاہر اور خدا کی طرف سے صاحبان فہم او ر محدّث ہوں گے، ان کا آخری حق کے ساتھ قیام کرنے والا ہوگا جو دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح ظلم و جور سے بھری ہوگی ۔( کافی 1 ص 534/18)۔

85 ۔ ابن عباس نے ” والسماء ذات البروج“ کی تفسیر میں رسول اکرم سے نقل کیا ہے کہ حضور نے فرمایا کہ سماء میری ذات ہے اور بروج میرے اہلبیت (ع) اور میری عترت کے ائمہ ہیں جن کے اول علی (ع) ہیں اور آخر مہدی ہوں گے اور کل کے کل 12 ہوں گے ۔(ینابیع المودة 3 ص 254)۔

86 ۔ امام باقر (ع) نے اپنے والد کے والد کے حوالہ سے امام حسین (ع) سے نقل کیا ہے کہ میں اپنے برادر امام حسن (ع) کے ساتھ جد بزرگوار کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ہم دونوں کو زانو پر بٹھالیا اور بوسہ دے کر فرمایا کہ میرے ماں باپ قربان ہوجائیں تم جیسے صالح اماموں پر خدا نے تمھیں میری اور علی (ع) و فاطمہ (ع) کی نسل میں منتخب قرار دیا ہے اور اے حسین (ع) تمھارے صلب سے نواماموں کا انتخاب کیا ہے جن میں کانواں قائم ہوگا اور سب کے سب فضل و منزلت میں پیش پروردگار ایک جیسے ہوں گے ۔ (کمال ادین 269 / 12 از ابوحمزہ ثمالی )۔

87 ۔ امام (ع) باقر ہی سے نقل کیا گیا ہے کہ آل محمد کے بارہ امام سب کے سب وہ ہوں گے جن سے ملائکہ باتیں کریں گے اور سب اولاد رسول اور اولاد علی (ع) میں ہوں گے، والدین سے مراد رسول اکرم اور حضرت علی (ع) ہی ہیں۔

( کافی 1 ص 525 ، من لا یحضرہ الفقیہ 4/179 /5406 ، خصال ص 466، عیون اخبار الرضا ص 40 امالی صدوق (ر) 97 ، کمال الدین ص 206 ، ارشاد 2 ص 345 ، کفایة الاثر 69 از انس بن مالک ص 143 ، از امام علی (ع) ص 187 از عائشہ ص 193 از جناب فاطمہ (ع) ص 180 از ام سلمہ ص 244 از اامام باقر (ع) ، اعلام الوریٰ ص 361 ، الغیبة طوسی (ر) ص 92 ، احتجاج طبرسی (ر) 1 ص 169 کامل الزیارات ص 52 ، روضة الواعظین ص 115 ، کتاب سلیم بن قیس الہلالی 2 ص 616 ، الیقین ابن طاؤس ص 244 ، فرائد السمطین 2 ص329 ، بشارة المصطفیٰ ص 192 ، اختصاص ص 233 ، جامع الاخبار ص 61 ، احقاق الحق 2 ص 353 4 ص 103794 ۔ 356 ، 5 ص 493 7 ص 477 ، 13 ص 1 ۔74، 19 ص 628 ، 20 ص 538 ۔

تحقیق احادیث عدد ائمہ (ع )

ان احادیث کا مضمون 75 ء سے 83 ء تک اہل سنت کے مصادر سے نقل کیا گیاہے اور انھیں احادیث کا تذکرہ شیعہ مصادر میں بھی پایا جاتاہے۔ شیخ صدوق (ر) نے خصال میں اس مضمون کی 32 ، احادیث کا تذکرہ کیاہے جس طرح کہ مسند احمد بن حنبل میں جابر بن سمرہ سے تیس روایتیں نقل کی گئی ہیں اور اس طرح اصل مضمون متفق علیہ ہے اور تفصیلات کا اختلاف غالباً سیاسی مقاصد کے تحت پیدا کیا گیاہے۔

# جہاں بعض روایات میں لفظ بعدی حذف کردیا گیاہے۔

# بعض میں لفظ کو امیر سے بدل دیا گیاہے۔

# بعض میں خلیفہ کے بجائے قیّم یا ملک کہا گیاہے۔(معجم کبیر 2 ص 196 / 1794 ،) خصال ص 471 /19۔

# بعض میں قیامت تک اسلام کے مسائل کو بارہ خلفاء سے مربوط کیا گیا ہے اور بعض میں قیامت کا ذکر نکال دیا گیاہے۔

# بعض میں مصالح امت کو خلفاء کی ولایت سے مربوط کیا گیاہے اور بعض میں اس نکتہ کو نظر انداز کردیا گیاہے۔

# بعض روایات میں اسلامی سماج کے جملہ معاملات کو ان حضرات کی ولایت سے متعلق کیا گیاہے اور بعض میں اس کے بیان سے پہلو تہی کی گئی ہے۔

# اور اسطرح مختلف سیاسی حالات نے مختلف طرح کی ترمیم کرادی ہے لیکن مجموعی طورپر دو باتوں پر اتفاق پایا جاتاہے۔

1 ۔ سرکار دو عالم (ع) نے ان افراد کی تعیین کردی ہے جو ایک طویل مدت تک اسلامی قیادت کی اہلیت رکھتے ہیں۔

2 ۔ جن ائمہ کی قیادت کو سرکار دو عالم کی تائید حاصل ہے۔ ان کی تعداد بارہ ہے، نہ کم ہے اور نہ زیادہ۔

اور اس طرح روایات شیعہ کو دیکھنے کے بعد یہ حقیقت اور واضح تر ہوجاتی ہے کہ ان حضرات نے ائمہ کے اسماء گرامی اور ان کے جملہ صفات و کمالات کا بھی تذکرہ کیا ہے جس کی وضاحت کا ایک تذکرہ ص 84 سے 87 تک ہوچکاہے اور ایک تذکرہ آئندہ فصل میں کیا جائے گا۔

اس کے بعد اس نکتہ کا اضافہ بھی کیا جاسکتاہے کہ سرکار دو عالم (ع) نے یہ بات حجة الوداع کے موقع پر ارشاد فرمائی ہے۔(مسند ابن حنبل 7 ص 405 / 20840)۔

اور میدان عرفات یا منیٰ میں فرمائی ہے یا دونوں جگہ تکرار فرمائی ہے۔(مسند ابن حنبل 7 ص 429 / 20991)۔

اور یہی وہ مواقع ہیں جہاں حدیث ثقلین کا بھی تذکرہ فرمایاہے جو اس بات کی علامت ہے کہ قریش سے مراد یہی ائمہ اہلبیت (ع) ہیں جیسا کہ امیر المؤمنین (ع) نے اپنے خطبہ ص 144 میں فرمایاہے کہ ائمہ قریش بني ہاشم ہی میں پیدا ہوئے ہیں اور ان کے علاوہ یہ منصب کسی کے لئے نہیں ہے اور نہ کسی قبیلہ میں ایسے صالح حکام پیدا ہوسکتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ روایات میں ان خلفاء کے اوصاف و کمالات کے تذکرہ کا نظر انداز کردینا صرف سیاسی مصالح کی بنیاد پر تھا جس کی وضاحت اس نکتہ سے بھی ہوسکتی ہے کہ بارہ خلفاء ائمہٴ اہلبیت (ع) کے علاوہ اور کسی مقام پر پیدا نہیں ہوئے ہیں اور اگر اس نکتہ کو بحدّ تواتر نقل ہونے والی حدیث ثقلین سے جوڑ دیا جائے تو بات واضح ہوجاتی ہے اور مزید ثابت ہوجاتی ہے کہ سرکار دو عالم نے مستقبل کی قیادت کے جملہ علامات اور نشانات کا تذکرہ کردیا تھا اور کسی طرح بھی مسئلہ کو مشتبہہ نہیں رہنے دیا تھا۔

اور بعض علماء محققین نے اس حقیقت کو اس طرح بھی واضح کیا ہے کہ ائمہ قریش سے مراد ” خلفاء راشدین “ کو لیا جائے تو ان کی تعداد بارہ سے کم ہے اور ان میں خلفاء بني امیہ کو جوڑ لیا جائے تو یہ عدد بارہ سے کہیں زیادہ ہوجاتاہے اور ان میں خلافت کی صلاحیت بھی نہیں تھی کہ عمر بن عبدالعزیز کے علاوہ سب ظالم اور نالائق تھے اور ایسا انسان خلیفہٴ رسول نہیں ہوسکتاہے۔ اس کے علاوہ ان کا شمار بني ہاشم میں نہیں ہوتاہے اور بعض روایات میں بني ہاشم کی تصریح موجود ہے۔

یہی حال اس وقت ہوگا جب ان خلفاء سے مراد خلفاء بني عباس کو لے لیا جائے کہ ان کی تعداد بھی بارہ سے زیادہ ہے اور ان کے کردار میں بھی ظلم و ستم کی کوئی کم نہیں ہے اور انھوں نے یہ آیت مودت کی کوئی پرواہ کی ہے اور نہ حدیث کساء کی ۔

جس کا مطلب یہ ہے کہ خلفاء قریش سے مراد صرف ائمہ اہلبیت (ع) ہیں جو اپنے زمانہ میں سب سے اعلم، افضل، اکمل، اورع، اتقی، اکمل و اجمل تھے، نہ نسب میں کوئی ان کا جیسا بلند اور نہ حسب میں کوئی ان سے افضل و برتر، یہ خدا کی بارگاہ میں سب سے زیادہ مقرب اور رسول اکرم سے سب سے زیادہ قریب تر تھے۔

اس حقیقت کی تائید حدیث ثقلین اور دیگر احادیث صحیحہ سے بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔

ملاصدرا علیہ الرحمہ نے فرمایا ہے کہ خلفاء قریش کی روایات برادران اہلسنّت کے صحاح اور اصول میں موجود ہے اور ان کی سندیں بھی مذکور ہیں اور ان کے علاوہ و ہ صحاح و مسانید کی روایات بھی ہیں جن میں اس حقیقت کا ذکر کیا گیاہے کہ میرے بعد ائمہ میری عترت سے ہوں گے۔

ان کی تعداد نقباء بني اسرائیل کے برابر ہوگی اور نوحسین (ع) کے صلب سے ہوں گے، جنھیں پروردگار نے میرے علم و فہم کا وارث بنایاہے اور ان کا نواں مہدی ہوگا۔

اور پھر صحاح ستہ میں یہ روایات بھی ہیں کہ مہدی میری عترت میں اولاد فاطمہ (ع) میں ہوگا اور ہ ظلم و جور سے بھری ہوئی دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا اور دنیا اس وقت تک فنا نہ ہوگی جب تک عرب میں میرے اہلبیت (ع) میں سے وہ شخص حکومت نہ کرے جس کا نام میرا نام ہوگا۔

یا اگر عمر دنیا میں ایک دن بھی باقی رہ جائے گا تو پروردگار اس دن کو طول دے گا یہاں تک کہ میری نسل سے اس شخص کو بھیج دے جس کا نام میرا نام ہوگا اور ہ ظلم وجور سے بھری ہوئی دنیا کو عدل و انصاف سے بھردے گا۔

چنانچہ شارح مشکٰوة نے بھی لکھا ہے کہ اس قسم کی روایات سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ خلافت صرف قریش کا حصہ ہے اور ان کے علاوہ کسی اور کے لئے نہیں ہوسکتی ہے اور یہ حکم رہتی دنیا تک جاری رہے گا چاہے دو ہی افراد باقی رہ جائیں۔

جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کسی شخص کی عقل میں فتور اور آنکھ میں اندھاپن نہیں ہے تو وہ اس حقیقت کا بہر حال اعتراف کرے گا کہ رسول اکرم کے بعد ان کے خلفاء یہی بارہ امام ہیں جو سب قریش سے ہیں، انھیں سے دین کا قیام اور اسلام کا استحکام ہے اور یہ عدد اور یہ اوصاف و کمالات ائمہ اثنا عشر کے علاوہ کہیں نہیں پائے جاتے ہیں لہذا یہی سرکار دو عالم کے خلفاء و اولیاء ہیں اور انھیں کا قیام دنیا تک رہنا ضروری ہے کہ زمین حجت خدا سے خالی نہیں ہوسکتی ہے۔

اسماء ائمہ اہلبیت (ع )

88 ۔جابر بن عبداللہ انصاری نقل کرتے ہیں کہ میں جناب فاطمہ (ع) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے سامنے ایک تختی رکھی تھی جس میں آپ کی اولاد کے اولیاء کے نام درج تھے چنانچہ میں نے کل بارہ نام دیکھے جن میں سے ایک قائم تھا اور تین محمد تھے اور چار علی (ع) ۔( الفقیہ 4 ص 180 / 5408 ، کافی 1 ص 532 /9 ، کمال الدین 269/ 13 ، ارشاد 2 /346 ، فرائد السمطین 2 / 139 ) ان تمام روایات کے راوی ابوالجارود ہیں جنھوں نے امام باقر (ع) سے نقل کیا ہے اور کافی میں چار علی (ع) کے بجائے تین کا ذکر ہے اور یہ اشتباہ ہے یا اس سے مراد اولاد فاطمہ کے علی ہیں کہ وہ بہر حال تین ہی ہیں اگرچہ اس طرح اولاد فاطمہ (ع) کے اولیاء کے اولیاء بارہ نہیں ہیں بلکہ گیارہ ہی ہیں اور ایک مولائے کائنات ہیں واللہ اعلم ۔ جوادی۔

89 ۔ جابر بن یزید الجعفی کا بیان ہے کہ میں نے جابر بن عبداللہ انصاری کی زبان سے سناہے کہ جب آیت اولی الامر نازل ہوئی تو میں نے عرض کی یا رسول اللہ ہم نے خدا و رسول کو پہچان بھی لیا اور ان کی اطاعت بھی کی تو یہ اولی الامر کون ہیں جن کی اطاعت کو آپ کی اطاعت کے ساتھ ملادیا گیاہے؟ تو فرمایا کہ جابر ! یہ سب میرے خلفاء اور میرے بعد مسلمانوں کے ائمہ ہیں جن میں سے اول علی (ع) بن ابی طالب (ع) ہیں، اس کے بعد حسن (ع) پھر حسین (ع) پھر علی (ع) بن الحسین (ع) پھر محمد بن علی (ع) جن کا نام توریت میں باقر (ع) ہے اور اے جابر عنقریب تم ان سے ملاقات کروگے اور جب ملاقات ہوجائے تو میرا سلام کہہ دینا۔ اس کے بعد جعفر (ع) بن محمد (ع) ۔ پھر موسی بن جعفر (ع) ، پھر علی (ع) بن موسی ٰ (ع) ، پھر محمد (ع) بن علی (ع) پھر علی (ع) بن محمد ، پھر حسن (ع) پھر میرا ہمنام و ہم کنیت جو زمین میں خدا کی حجت اور بندگان خدا میں بقیة الله ہوگا یعنی فرزند حسن (ع)بن علی (ع) ، یہی دو ہوگا جسے پروردگار مشرق و مغرب پر فتح عنایت کرے گا اور اپنے شیعوں سے اس طرح غائب رہے گا کہ اس غیبت میں ایمان پر صرف وہی افراد قائم رہ جائیں گے جن کے دل کا پروردگار نے ایمان کے لئے امتحان لے لیا ہوگا۔(کمال الدین 253 /3، مناقب ابن شہر آشوب 1 ص282 ، کفایة الاثر ص53)۔

90 ۔ جابر بن عبداللہ انصاری کا بیان ہے کہ جندل بن جنادہ بن جبیر الیہودی رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ایک طویل گفتگو کے دوران عرض کی کہ خدا کے رسول ذرا اپنے اوصیاء کے بارے میں باخبر کریں تا کہ میں ان سے متمسک رہ سکوں۔ تو فرمایا کہ میرے اوصیاء بارہ ہوں گے۔ جندل نے عرض کی کہ یہی تو میں نے توریت میں پڑھاہے لیکن ذرا ان کے نام تو ارشاد فرمائیں؟

فرمایا اول سید الاوصیاء ابوالائمہ علی (ع) اس کے بعد ان کے دو فرزند حسن (ع) و حسین (ع) ، دیکھو ان سب متمسک رہنا اور خبردار تمھیں جاہلوں کا جہل دھوکہ میں نہ مبتلا کردے۔ اس کے بعد جب علی بن الحسین (ع) کی ولادت ہوگی تو تمھاری زندگی کا خاتمہ ہوجائے گا اور تمھاری آخری غذا دودھ ہوگی۔

جندل نے کہا کہ حضور میں نے توریت میں ایلیا۔ شبر،شبیر پڑھا ہے، یہ تو علی (ع) اور حسن (ع) و حسین (ع) ہوگئے تو ان کے بعد والوں کے اسماء ہیں؟ فرمایا حسین (ع) کے بعد ان کے فرزند علی (ع) جن کا لقب زین العابدین (ع) ہوگا۔ اس کے بعد ان کے فرزند محمد (ع) جن کا لقب باقر (ع) ہوگا۔ اس کے بعد ان کے فرزند محمد (ع) جن کا لقب تقی (ع) و زکی ہوگا، اس کے بعد ان کے فرزند علی (ع) جن کا لقب نقی (ع) اور ہادی (ع) ہوگا، اس کے بعد ان کے فرزند حسن (ع) جن کا لقب عسکری (ع) ہوگا، اس کے بعد ان کے فرزند محمد (ع) جن کا لقب مہدی (عج) ، قائم (عج) ہوگا، جو پہلے غائب ہوں گے پھر ظہور کریں گے اور ظہور کے بعد ظلم و جور سے بھری ہوئی دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، خوشا بحال ان کا جو ان کی غیبت میں صبر کرسکیں اور ان کی محبت پر قائم رہ سکیں یہی وہ افراد ہیں جن کے بارے میں پروردگار کا ارشاد ہے کہ یہ حزب اللہ میں اور حزب اللہ کامیاب ہونے والا ہے اور یہی وہ متقین ہیں جو غیبت پر ایمان رکھنے والے ہیں( ینابیع المودة 2 ص 283 /2)۔

91 ۔ ابن عباس کا بیان ہے کہ ایک یہودی رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا جسے نعثل کہا جاتا تھا اور اس نے کہا کہ یا محمد میرے دل میں کچھ شبہات ہیں، ان کے بارے میں سوال کرنا چاہتاہوں… ذرا یہ فرمائیے کہ آپ کا وصی کون ہوگا ، اس لئے کہ ہر نبی کا ایک وصی ہوتاہے جس طرح ہمارے پیغمبر موسیٰ بن عمران نے یوشع بن نون کو اپنا وصی نامزد کیا تھا۔؟ فرمایا کہ میرا وصی اور میرے بعد میرا خلیفہ علی (ع) بن ابی طالب (ع) ہوگا اور ان کے بعد میرے دونوا سے حسن (ع) و حسین (ع) ہوں گے، اس کے بعد صلب حسین (ع) سے نو ائمہ ابرار ہوں گے۔

اس نے کہایا محمد! ذرا ان کے نام بھی ارشاد فرمائیں ؟ فرمایا کہ حسین (ع) کے بعد ان کے فرزند علی (ع) ، ان کے بعد ان کے فرزند محمد(ع) ، ان کے بعد ان کے فرزند جعفر (ع)… جعفر (ع) کے بعد ان کے فرزند موسیٰ (ع)… موسیٰ (ع) کے بعد ان کے فرزند علی (ع) ، علی (ع) کے بعد ان کے فرزند محمد (ع) ، محمد (ع) کے بعد ان کے فرزند علی (ع) ، علی (ع) کے بعد ان کے فرزند حسن (ع) ، اس کے بعد حجت بن الحسن (ع) یہ کل بارہ امام ہیں جن کا عدد بنياسرائیل کے نقیبوں کے برابر ہے۔

اس نے دریافت کیا کہ ان سب کی جنت میں کیا جگہ ہوگی ؟ فرمایا میرے ساتھ میرے درجہ ہیں۔( فرائد السمطین 2 ص 133 ، 134 / 430)۔

92 ۔ نضر بن سوید نے عمرو بن ابی المقدام سے نقل کیا ہے کہ میں نے امام جعفر صادق (ع) کو میدان عرفات میں دیکھا کہ لوگوں کو بآواز بلند پکاررہے ہیں اور فرمارہے ہیں ایہا الناس ! رسول اکرم قوم کے قائد تھے ، ان کے بعد علی (ع) بن ابی طالب (ع) تھے، اس کے بعد حسن (ع) پھر حسین (ع) پھر علی (ع) بن الحسین (ع) پھر محمد (ع) بن علی (ع) اور پھر میں ہوں اور یہ باتیں چاروں طرف رخ کرکے تین مرتبہ دہرائی۔ ( کافی 1 ص 286 ، عیون اخبار الرضا 1 ص 40 ، الفقیہ 4 ، ص 180 / 5408 ، کمال الدین 1 ص 250 ، 285 ، الغیبتہ النعمانی ص 57، مناقب ابن المغازلی ص 304 ، احقاق الحق 4 ص 83 ، 13 ص 49 ، کفایة الاثر ص 149 ، 150 ، 177 ، 264 300 ، 306۔

معرفت اہلبیت (ع )

قیمت معرفت اہلبیت (ع )

۔ رسول اکرم ۔ جس شخص کو پرورگار نے میرے اہلبیت (ع) کی معرفت اور محبت کی توفیق دید گویا اس کے لئے تمام خیر جمع کردیا۔(امالی صدوق (ر) 383 /9 ، بشارة المصطفیٰ ص 186)۔

94 ۔ رسول اکرم۔ معرفت آل محمد جہنم سے نجات کا وسیلہ ہے اور حب آل محمد صراط سے گذرنے کا ذریعہ ہے اور ولایت آل محمد عذاب الہی سے امان ہے۔( ینابیع المودة 1 ص 78 /16 ، فرائد السمطین 2 ص257 ، احقاق الحق 18 / 496 ۔ 9/494)۔

95 ۔ سلمان فارسی میں رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا کہ پروردگار نے ہر نبی اور رسول کے لئے بارہ نقیب معین فرمائے ہیں تو میں نے عرض کی کہ میرے ماں باپ قربان۔ ان بارہ کی معرفت کا فائدہ کیاہے؟ فرمایا سلمان ! جس نے ان کی مکمل معرفت حاصل کرلی اور اقتدا کرلی کہ ان کے دوست سے محبت کی اور دشمن سے بیزاری اختیار کی وہ خدا کی قسم ہم سے ہوگا اور وہیں وارد ہوگا جہاں ہم وارد ہوں گے اور وہیں رہے گا جہاں ہم رہیں گے۔(بحار الانوار53/142۔162 ، 25 ص6 ،9)۔

96 ۔ امیر المومنین (ع) ، خوش بخت ترین انسان وہ ہے جس نے ہمارے فضل کو پہچان لیا اور ہمارے ذریعہ خدا کا قرب اختیار کیا اور ہماری محبت میں اخلاص پیدا کیا اور ہماری دعوت پر عمل کیا اور ہمارے روکنے سے رک گیا ، یہی شخص ہم سے ہے اور جن میں ہمارے ساتھ ہوگا۔( غرر الحکم ص 3297)۔

97 ۔ امام (ع) صادق کا بیان ہے کہ امام حسین (ع) اپنے اصحاب کے مجمع میں آئے اور فرمایا کہ پرودرگار نے بندوں کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ اسے پہچانیں اس کے بعد جب پہچان لیں گے تو عبادت بھی کریں گے اور جب اس کی عبادت کریں گے تو اغیار کی عبادت سے بے نیاز ہوجائیں گے۔

ایک شخص نے عرض کی کہ معرفت خدا کا مفہوم اور وسیلہ کیا ہے؟ فرمایا ہر زمانہ کا انسان اس دور کے اس امام کی معرفت حاصل کرے جس کی اطاعت واجب کی گئی ہے( اور اس کے ذریعہ پروردگار کی معرفت حاصل کرے) ( علل الشرائع 9/ 1ز سلمہ بن عطاء ، کنز الفوائد 1 ص 328 ، احقاق الحق 11/594)۔

98 ۔ امام باقر (ع) ! خدا کو وہی شخص پہچان سکتاہے اور اس کی عبادت کرسکتاہے جو ہم اہلبیت (ع) میں سے زمانہ کے امام کی معرفت حاصل کرلے۔ (کافی 1/181 از جابر)۔

99 ۔ زرارہ کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق (ع) سے عرض کیا کہ ذرا معرفت امام کے بارے میں فرمائیں کہ کیا یہ تمام مخلوقات پر واجب ہے ؟ فرمایا کہ پروردگار نے حضرت محمد کو تمام عالم انسانیت کے لئے رسول اور تمام مخلوقات کے لئے اپنی حجت بناکر بھیجا ہے لہذا جو شخص بھی اللہ اور رسول اللہ پر ایمان لائے اور ان کی تصدیق اور ان کا اتباع کرے اس پر امام اہلبیت (ع) کی معرفت بہر حال واجب ہے۔( کافی 1 ص 180 / 3)۔

 

100 ۔ سالم ! میں نے امام محمد باقر (ع) سے اس آیت کریمہ کے بارے میں سوال کیا ” ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنے منتخب بندوں کو قرار دیا ہے جن میں سے بعض اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں، بعض درمیانی راہ پر چلنے والے ہیں اور بعض نیکیوں کے ساتھ سبقت کرنے والے ہیں ” کہ ان سب سے مراد کون لوگ ہیں “؟

فرمایا سبقت کرنے والا امام ہوتاہے، درمیانی راہ پر چلنے والا اس کا عارف ہوتاہے اور ظالم اس کی معرفت سے محروم شخص ہوتاہے۔(کافی 1 ص 214/1)۔

101 ۔ زرعہ ! میں نے امام صادق (ع) سے عرض کی کہ معرفت کے بعد سب سے عظیم عمل کونسا ہے؟ فرمایا معرفت کے بعد نماز کے ہم پلہ کوئی عمل نہیں ہے اور معرفت و نماز کے بعد زکٰوة کے برابر کوئی کام نہیں ہے اور ان تینوں کے بعد روزہ جیسا کوئی عمل نہیں ہے اور روزہ کے بعد حج جیسا کوئی عمل نہیں ہے لیکن یہ یاد رکھنا کہ ان سب اعمال کا آغاز و انجام ہم اہلبیت (ع) کی معرفت ہے اور اس کے بغیر کسی شے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ ( امالی طوسی (ر) 694 / 1478)۔

102 ۔ امام صادق (ع) فرماتے ہیں کہ ہم وہ ہیں جن کی اطاعت پروردگار نے واجب قرار دی ہے اور کسی شخص کو ہماری معرفت سے آزاد نہیں رکھا گیا ہے اور نہ اس جہالت میں معذور قرار دیا گیا ہے۔… اگر کوئی شخص ہماری معرفت حاصل نہ کرے اور ہمارا انکار بھی نہ کرے تو بھی گمراہ رہے گا جب تک راہ راست پر واپس نہ آجائے اور ہماری اطاعت ہیں داخل نہ ہوجائے ورنہ اگر اسی ضلالت پر مرگیا تو پروردگار جو چاہے گا برتاؤ کرے گا ۔( کافی 1 ص 187 / 11)۔

103 ۔ اما م صادق (ع) نے آیت کریمہ ” جسے حکمت دیدی گئی اسے خیر کثیر دیدیا گیا“ کی تفسیر میں ارشاد فرمایا کہ حکمت سے مراد امام کی اطاعت اور اس کی معرفت ہے۔(کافی 1 ص185 /11 ۔ از ابوبصیر)۔

104 ۔ اما م صادق (ع) نے زرارہ کو یہ دعا تعلیم کرائی ، خدایا مجھے اپنے معرفت عطا فرماکہ اگر میں تجھے نہ پہچان سکا تو تیرے نبی کو بھی نہ پہچان سکوں گا اور پھر اپنے رسول کی معرفت عطا فرمای کہ اگر انھیں نہ پہچان سکا تو تیری حجت کو بھی نہ پہچان سکوں گا اور پھر اپنی حجت کی معرفت عطا فرما کہ اگر اس سے محروم رہ گیا تو دین سے گمراہ ہوجاؤ گا ۔( کافی 1 ص 337 / 5 از زرارہ)۔

105 ۔ اما م رضا (ع) ائمہ معصومین کی قبروں کی زیارت کے ذیل میں فرمایا کرتے تھے کہ سلام ہو ان پر جو معرفت خدا کا مرکز تھے… جس نے ان کو پہچان لیا اس نے خدا کو پہچان لیا اور جو ان کی معرفت سے جاہل رہ گیا وہ خدا سے بے خبر رہ گیا ۔( کافی 4 ص 578 / 2 ، کامل الزیارات ص 315 از علی بن حسّان)۔

مقام اہلبیت (ع )

1 ۔ مثال سفینہ نوح

106 ۔ حنش کنانی کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابوذر کو در کعبہ پکڑ کر یہ کہتے ہوئے سناہے۔ کہ جس نے مجھے پہچان لیا وہ تو جانتا ہی ہے اور اگر کسی نے نہیں پہچانا تو پہچان لے میں ابوذر ہوں اور میں نے جانتا ہی ہے اور اگر کسی نے نہیں پہچانا تو پہچان لے میں ابوذر ہوں اور میں نے رسول اکرم کی زبان سے سناہے کہ میرے اہلبیت (ع) کی مثال سفینہ نوح کی مثال ہے کہ جو اس پر سوار ہوگیا وہ نجات پاگیا اور جو الگ ہوگیا وہ ڈوب مرا ۔( مستدرک 3 ص 163 / 4720 ، فرائد السمطین 2 ص 246 ۔ 519 ، ینابیع المودة 1 ص 94 /5 شرح الاخبار 2 ص 501 / 887 ، امالی طوسی (ر) 6 ص 88، 733 ، 1532 ، کمال الدین ص 239 / 59 ، احتجاج 1 ص 361 ، کتاب سلیم بن قیس 2 ص 937 ، مناقب ابن مغازلی ص 132 ، 134 ، بشارة المصطفیٰ ص 88 رجال کشی 1 ص 115 / 52)۔

107 ۔ رسول اکرم کا ارشاد ہے کہ ہم سب سفینہ نجات ہیں جو ہم سے وابستہ ہوگیا نجات پاگیا اور جو الگ ہوگیا وہ ہلاگ ہوگیا ۔ جس کو اللہ سے کوئی حاجت طلب کرنا ہو وہ ہم اہلبیت (ع) کے وسیلہ سے طلب کرے۔(فرائد السمطین 1 ص 37 از ابوہریرہ، احقاق الحق 9 ص 203 از ارحج المطالب)۔

108 ۔ امام علی (ع) نے کمیل سے فرمایا کہ کمیل رسول اکرم نے 15 رمضان کو عصر کے بعد مجھ سے یہ بات اس وقت فرمائی جب انصار و مہاجرین کا ایک گروہ سامنے تھا اور آپ منبر پر کھڑے تھے۔ یاد رکھو کہ علی (ع) اور ان کے دونوں پاکیزہ کردار فرزند مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں، یہ سب سفینہٴ نجات ہیں جو ان سے وابستہ ہوگیا وہ نجات پاگیا اور جو الگ ہوگیا وہ بہک گیا ، نجات پانے والے کی جگہ جنت ہے اور بہکنے والے کاٹھکانا جہنم کے شعلے ہیں۔( بشارة المصطفیٰ ص 30 از بصیر بن زید بن ارطاة)۔

109 ۔ امیر المؤمنین (ع) نے اصحاب سے خطاب کرکے فرمایا خدا کی قسم میں نے کسی امر کی طرف اقدام نہیں کیا مگر یہ کہ میرے پاس رسول اکرم کی ہدایت موجود تھی خوشا بہ حال ان کا جن کے دلوں میں ہماری محبت راسخ ہوجائے اور اس کے وسیلہ سے ایمان کو احد سے زیادہ مستحکم اور پائیدار ہوجائے اور یاد رکھو جس کے دل میں ہماری محبت ثابت نہ ہوگی اس کا ایمان اس طرح پگھل جائے گا جس طرح پانی میں نمک گھل جاتاہے۔

خدا کی قسم ۔ عالمین میں رسول اکرم کے نزدیک میرے ذکر سے زیادہ محبوب کوئی شے نہیں تھی اور نہ کسی نے میری طرح دونوں قبلہ کی طرف نماز پڑھی ہے۔ میں نے بلوغ سے پہلے سے نماز ادا کی ہے اور یہ فاطمہ بنت رسول جو پارہ جگر پیغمبر ہے یہ میری شریک حیات ہے اور اپنے دور میں مریم بنت عمران کی مثال ہے۔

اور تیسری بات یہ ہے کہ حسن (ع) و حسین (ع) جو اس امت میں سبط رسول ہیں اور پیغمبر کے لئے دونوں آنکھوں کی حیثیت رکھتے ہیں جس طرح میں آپ کے لئے دونوں ہاتھوں کی جگہ پر تھا اور فاطمہ (ع) آپ کے وجود میں قلب کی حیثیت رکھتی تھیں ، ہماری مثال سفینہ نوح کی ہے کہ جو اس پر سوار ہوگیا وہ نجات پاگیا اور جو الگ رہ گیا وہ ڈوب مرا ۔(کتاب سلیم بن قیس 2 / 830)۔

110 ۔ امیر المؤمنین (ع) کا ارشاد ہے کہ جس نے ہمارا اتباع کرلیا وہ نیکیوں کی طرف آگے بڑھ گیا اور جو ہمارے علاوہ کسی دوسرے سفینہ پر سوار ہوگیا وہ غرق ہوگیا ۔( غرر الحکم ص 7894 ، 7893)۔

111 ۔ امام زین العابدین (ع) ہم ہیں جو شدتوں کی گہرائیوں میں چلنے والے سفینوں کی حیثیت رکھتے ہیں کہ جو ان سے وابستہ ہوگیا وہ محفوظ ہوگیا اور جس نے انھیں چھوڑ دیا وہ غرق ہوگیا۔( ینابیع المودة 1 ص 76 / 12)۔

112 ۔امام صادق (ع) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (ع) بن الحسین (ع) زوال آفتاب کے وقت نماز کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے اور اس طرح صلوات بھیجتے تھے۔

” خدایا محمد و آل محمد پر رحمت نازل فرما جو نبوت کے شجر اور رسالت کے مرکز تھے، ان کے گھر ملائکہ کی آمد و رفت تھی اور وہ علم کے خزانہ دار اور وحی کے اہلبیت (ع) تھے، خدایا آل محمد پر رحمت نازل فرما جو شدتوں کے سمندروں میں نجات کے سفینے تھے کہ جو ان سے وابستہ ہوگیا وہ محفوظ ہوگیا اور جس نے انھیں چھوڑ دیا وہ غرق ہوگیا، ان سے آگے بڑھ جانے والا دین سے نکل جاتاہے اور ان سے دور رہ جانے والا ہلاک ہوجاتاہے۔ بس ان سے وابستہ ہوجانے والا ہی ان کے ساتھ رہتاہے۔(جمال الاسبوع ص 251۔

2 ۔ مثال باب حِطّہ

113 ۔ رسول اکرم کا ارشاد ہے کہ تمھارے درمیان میرے اہلبیت (ع) کی مثال بنياسرائیل میں باب حطہ کی ہے کہ جو اس میں داخل ہوگیا اسے بخش دیا گیا ۔( المعجم الاوسط 6 ص 85 / 5870، المعجم الصغیر 2 ص 22 ، صواعق محرقہ ص 152 ، غیبت نعمانی ص 44)۔

114 ۔ رسول اکرم نے فرمایا کہ جو میرے دین کو اختیار کرے اور میرے راستہ پر رہے اور میری سنّت کااتباع کرے اس کا فرض ہے کہ ائمہ اہلبیت (ع) کو تمام امت پر مقدم رکھے کہ ان کی مثال اس امت میں بني اسرائیل کے باب حِطّہ جیسی ہے۔( امالی صدوق 69 / 6 تنبیہ الخواطر 2 ص 156)۔

115 ۔ رسول اکرم کا ارشاد ہے کہ میرے بعد بارہ امام ہوں گے جن میں سے نو صلب حسین (ع) سے ہوں گے اور نواں قائم ہوگا ، یاد رکھو ان سب کی مثال سفینہ نوح کی ہے کہ جو سوار ہوگیا وہ نجات پاگیا اور جو الگ رہ گیا وہ ہلاک ہوگیا اور ان کی مثال بني اسرائیل کے باب حطہ جیسی ہے۔( مناقب ابن شہر آشوب 1 ص 295 ، کفایة الاثر ص 38 از ابوذر)۔

116 ۔ عباد بن عبد اللہ لا سدی کا بیان ہے کہ میں مقام رحبہ میں امیر المؤمنین (ع) کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک شخص نے آکر اس آیت کے معنی دریافت کرے … کیا وہ شخص جو پروردگار کی طرف سے دلیل رکھتا ہو اور اس کے ساتھ اس کا گواہ بھی ہو… تو آپ نے فرمایا کہ قریش کے کسی شخص پر لمحات عقیقہ کا گذر نہیں ہوا مگر اس کے بارے میں قرآن میں کچھ نہ کچھ نازل ضرور ہوا ہے۔ خدا کی قسم یہ لوگ ہم اہلبیت (ع) کے فضائل اور رسول اکرم کی زبان سے بیان ہونے والے مناقب کو سمجھ لیں تو یہ ہمارے لئے اس وادی رحبہ کے سونے چاندی سے بھر جانے سے زیادہ قیمتی ہے۔ خدا کی قسم اس امت ہماری مثال سفینہ نوح (ع) کی ہے اور نبي اسرائیل کے باب حطہ کی ہے۔(کنز العمال 2 ص 434 / 4429، امالی مفید 145 / 5 شرح الاخبار 2 ص 480 ، 843 تفسیر فرات کوفی ص 190 / 243)۔

117 ۔ ابوسعید خدری ، رسول اکرم نے نماز جماعت پڑھائی اور اس کے بعد قوم کی طرف رخ کرکے ارشاد فرمایا ۔ میرے صحابیو ! میرے اہلبیت (ع) کی مثال تمھارے درمیان کشتی نوح (ع) اور باب حطہ کی ہے لہذا میرے بعد ان اہلبیت (ع) اور میری ذریت کے ائمہ راشدین سے متمسک رہنا کہ اس طرح کبھی بھی گمراہ نہیں ہوسکتے ہو۔

لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ ، آپ کے بعد کتنے امام ہوں گے؟ فرمایا کہ میرے اہلبیت (ع) اور میری عترت میں بارہ امام ہوں گے۔

فرمایاکہ میرے اہلبیت (ع) اور میری عترت میں بارہ امام ہوں گے۔(کفایة الاثر ص 33 ۔ 34)۔

118 ۔ امام علی (ع) ! ہم باب حطہ اور باب السلام ہیں، جو اس دروازہ میں داخل ہوجائے گا نجات پائے گا اور جو اس سے الگ رہ جائے گا وہ گمراہ ہوجائے گا ۔( خصال 626 / 10 از ابوبصیر و محمد بن مسلم از امام صاد ق (ع) تفسیر فرات کوفی 367 / 499 ، غرر الحکم 10002)۔

119 ۔ امام علی (ع) ۔ آگاہ ہوجاؤ کہ جو علم لے کر آدم آئے تھے اور جو فضائل تمام انبیاء و مرسلین کو دیئے گئے ہیں وہ سب خاتم النبیین کی عترت میں موجود ہیں تو تمھیں کہاں گمراہ کیا جارہاہے اور تم کہاں چلے جارہے ہو؟ اے اصحاب سفینہ کی اولاد ، تمھارے درمیان وہ مثال موجود ہے کہ جس طرح اس سفینہ پر سوار ہونے والے نجات پاگئے تھے اسی طرح عترت سے تمسک کرنے والے نجات پا جائیں گے اور میں اس کا ذمہ دار ہوں ، ویل ہے ان کے لئے جو ان سے الگ ہوجائیں، ان کی مثال اصحاب کہف اور باب حطہ جیسی ہے۔ یہ سب باب السلام ہیں لہذا سِلم میں داخل ہوجاؤ اور خبردار شیطان کے اقدامات کی پیروی نہ کرنا ۔( تفسیر عیاشی 1 ص 102 / 300 ،از مسعدہ بن صدقہ ، الغیبتہ نعمانی ص 44 ، ینابیع المودة 1 ص 332 / 4 المستر شدہ ص 406)۔

120 ۔ امام محمد باقر (ع) ! ہم تمھارے لئے باب حطہ ہیں۔( تفسیر عیاشی 1 ص 47 از سلیمان جعفری از امام رضا (ع) ، مجمع البیان 1 ص 247)۔

3 ۔ مثال خانہٴ خدا

121 ۔ رسول اکرم نے اما م علی (ع) سے فرمایا کہ یا علی (ع) تمھاری مثال بیت اللہ کی مثال ہے کہ جو اس میں داخل ہوگیا وہ عذاب الہی سے محفوظ ہوگیا اور اسی طرح جس نے تم سے محبت کی اور تمہاری ولایت کا اقرار کیا وہ عذاب جہنم سے محفوظ ہوگیا اور جس نے تم سے بغض رکھا وہ جہنم میں ڈال دیا گیا۔ یا علی (ع) لوگوں کا فریضہ ہے کہ خانہٴ خدا کا ارادہ کریں اگر ان میں استطاعت پائی جاتی ہے لیکن اگر کوئی مجبور ہے تو اس کا عذر اس کے ساتھ ہے یا اگر فقیر ہے تو معذور ہے یا اگر مریض ہے تو معذور ہے لیکن تمھاری محبت اور ولایت میں کوتاہی کرنے والے کو ہرگز معاف نہیں کیا جائیگا چاہے فقیر ہو یا غنی ۔ بیمار ہو یا صحیح، اندھا ہو یا بصارت والا۔ (خصائص الائمہ ص 77 از عیسیٰ بن المنصور)۔

4 ۔ مثال نجوم فلک

122 ۔ رسول اکرم ! جس طرح ستارے اہل زمین کے لئے ڈوبنے سے بچنے کا ذریعہ ہیں اسی طرح ہمارے اہلبیت (ع) اختلاف سے بچنے کا وسیلہ ہیں لہذا جب بھی عرب کا کوئی قبیلہ ان سے اختلافات کرے گا وہ شیطان کے گروہ میں شامل ہوجائے گا۔( مستدرک 3 ص 162 / 4715)۔

 

123 ۔ رسول اکرم نے اما م علی (ع) سے فرمایا ۔ یا علی (ع) ! تمھاری اور تمھاری اولاد کے ائمہ کی مثال سفینہ نوح کی ہے کہ جو اس سفینہ پر سوار ہوگیا نجات پاگیا اور جو اس سے الگ رہ گیا وہ ہلاک ہوگیا اور پھر تمھاری مثال آسمان کے ستاروں کی ہے کہ جب ایک ستارہ غائب ہوتاہے تو دوسرا طالع ہوجاتا ہے اور یہ سلسلہ یونہی قیامت تک جاری رہے گا۔( امالی صدوق (ر) ص 22 / 18 ، کمال الدین ص 241 / 65 ، بشارة المصطفیٰ ص 32 ، جامع الاخبار 52 / 59 ، مائتہ منقبہ ص 65 ، فرائد السمطین ص 243 ، 517 از ابن عباس ۔

124 ۔ رسول اکرم ! اہلبیت (ع) کی مثال میری امت میں آسمان کے ستاروں جیسی ہے کہ جب ایک ستارہ غائب ہوتاہے تو دوسرا نکل آتاہے یہ سبب امام ہادی اور مہدی ہیں ، انھیں نہ کسی کا مکر نقصان پہنچاسکتاہے اور نہ کسی کا انحراف بلکہ یہ کام انحراف کرنے والوں ہی کو نقصان پہنچائے گا ۔ یہ سب زمین پر اللہ کی حجت ہیں اور اس کی مخلوقات پر اس کے گواہ ہیں۔ جوان کی اطاعت کرے گا اس نے گویا اللہ کی اطاعت کی اور جو ان کی نافرمانی کرے گا اس نے اللہ کی نافرمانی کی ۔ یہ قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن ان کے ساتھ ہے۔نہ یہ اس سے الگ ہوں گے۔ اور نہ وہ ان سے الگ ہوگا یہاں تک کہ دونوں حوض کوثر پر میرے پاس وارد ہوجائیں۔ ان ائمہ میں سب سے پہلا میرا بھائی علی (ع) ہے ، اس کے بعد میرا فرزند حسن (ع) ، اس کے بعد میرا فرزند حسین (ع) ، اس کے بعد اولاد حسین (ع) کے نو افراد۔( الغیبتہ النعمانی 84 / 12 ، کتاب سلیم بن قیس 2/686 / 14 ، فضائل ابن شاذان ص 114 ، مشارق انوار الیقین ص 192) ۔

125 ۔ امام علی (ع) ! آگاہ ہوجاؤ کہ آل محمد کی مثال آسمان کے ستاروں جیسی ہے کہ جب کوئی ستارہ غائب ہوتاہے تو دوسرا طالع ہوجاتاہے۔(نہج البلاغہ خطبہ 100)۔

126 ۔ امام صادق (ع) کوئی عالم ہمارے علاوہ ایسا نہیں ہے جو دنیا سے جائے تو اپنا جیسا خلف چھوڑ جائے۔ البتہ ہم میں سے جب کوئی جاتاہے تو اس کی جگہ دوسرا اس کا جیسا موجود رہتاہے کہ ہماری مثال آسمان کے ستاروں جیسی ہے۔( جامع الاحادیث قمی ص 249 از حصین بن مخارق )۔

5 ۔ مثال دو چشم

127 ۔ رسول اکرم ! دیکھو میرے اہلبیت (ع) کو اپنے درمیان وہی جگہ دو جو جسم میں سرکی اور سرمیں دونوں آنکھوں کی ہوتی ہے کہ جسم سر کے بغیر اور سر آنکھوں کے بغیر ہدایت نہیں پاسکتاہے۔( امالی طوسی (ر) 482 / 1053 ، کشف الغمہ 2 ص 35 از ابوذر ، کفایة الاثر ص 111 از واثلہ بن الاسقع)۔

آگاہی از عدم معرفت اہلبیت (ع )

128 ۔رسول اکرم ، جو بغیر امام کے مرتاہے وہ جاہلیت کی موت مرتاہے، (مسند ابن حنبل 6 ص 22 / 16876 ، المعجم الکبیر 19 ، ص 388 /910 ، الملاحم والفتن ص 153 از معاویہ ، مسند ابوداؤد طیالسی ص 259 از ابن عمر ، تفسیر عیاشی 2 ص 303 / 119 ، از عمار الساباطی ، الاختصاص ص 268 از عمر بن یزید از امام موسی ٰ کاظم (ع))۔

129 ۔ رسول اکرم جو اس حال میں مرجائے کہ اس کے سر پر کوئی امام نہ ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرتاہے۔( کافی 1 ص 397 / از سالم بن ابی حفصہ ، 8 ص 146 / 123 از بشیر کناسی، اللمعجم الاوسط 6 / ص70 /5820 ، مسند ابویعلی ٰ 13 ص 366 / 7375 ، از معاویہ ، المعجم الکبیر 10 ص 289 / 1687 از ابن عباس )۔ 130۔ رسول اکرم جو امام کی معرفت کے بغیر مرجائے وہ جاہلیت کی موت مرتاہے۔( کافی 2 ص 20 / 6 ، ثواب الاعمال ص 244 / 1 ، المحاسن 1 ص 252 / 475 از عیسیٰ بن السری)۔

131 ۔ رسول اکرم ۔ جو شخص اس حالت میں مرجائے کہ اس کی گردن میں کوئی بیعت نہ ہو وہ جاہلیت کی موت مرتاہے۔ (صحیح مسلم 3 ص 1478 / 58 ، السنن الکبریٰ 8 ص 270 / 16612 از عبداللہ بن عمر، المعجم الکبیر 19 ص 334 / 769 از معاویہ)۔

132 ۔ رسول اکرم ! جو شخص اس حالت میں مرجائے کہ اس کے پاس میری اولاد میں سے کوئی امام نہ ہو وہ جاہلیت کی موت مرتاہے اور اس نے جاہلیت یا اسلام میں جو کچھ کیاہے سب کا حساب لیا جائے گا ۔( عیون اخبار الرضا 2 ص 58 / 214 از ابومحمد الحسن بن عبداللہ الرازی التمیمی ، کنز الفوائد 1 ص 327)۔ 133۔ ابان بن عیاش نے سلیم بن قیس الہلالی سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے سلمان، ابوذر اور مقداد سے یہ حدیث سنی ہے کہ رسول اکرم نے فرمایا کہ جو شخص مرجائے اور اس کا کوئی امام نہ ہو تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوتی ہے۔

اس کے بعد اس حدیث کو جابر اور ابن عباس کے سامنے پیش کیا تو دونوں نے تصدیق کی اور کہا کہ ہم نے بھی سرکار دو عالم سے سناہے اور سلمان نے تو حضور سے یہ بھی سوال کیا تھا کہ یہ امام کون ہوں گے ؟ تو فرمایا کہ میرے اوصیاء میں ہوں گے اور جو بھی میری امت میں ان کی معرفت کے بغیر مرجائے گا وہ جاہلیت کی موت مرے گا ، اب اگر ان سے بے خبر اور ان کا دشمن بھی ہوگا تو مشرکوں میں شمار ہوگا اور اگر صرف جاہل ہوگا نہ ان کا دشمن اور نہ ان کے دشمنوں کا دوست تو جاہل ہوگا لیکن مشرک نہ ہوگا۔ ( کمال الدین 413 / 15)۔

134 ۔ عیسیٰ بن السری کا بیان ہے کہ میں نے امام جعفر صادق (ع) سے سوال کیا کہ مجھے ارکان دین اسلام سے باخبر کریں تا کہ انھیں اختیار کرلوں تو میرا عمل پاکیزہ ہوجائے اور پھر باقی چیزوں کی جہالت نقصان نہ پہنچا سکے ؟ تو فرمایا کہ ” لا الہ الا اللہ “ محمد رسول اللہ کی شہادت اور ان تمام چیزوں کا اقرار جنھیں پیغمبر لے کر آئے تھے اور اموال سے زکوٰة ادا کرنا اور ولایت آل محمد جس کا خدا نے حکم دیا ہے کہ رسول اکرم نے صاف فرمایاہے جو اپنے امام کی معرفت کے بغیر مرجائے وہ جاہلیت کی موت مرتاہے اور مالک کائنات بھی ارشاد فرمایاہے کہ ” اللہ کی اطاعت کرو اور رسول اور اولی الامر کی اطاعت کرو اور اولیاء امر میں پہلے علی (ع) اس کے بعد حسن (ع) ، اس کے بعد حسین (ع)، اس کے بعد علی (ع) بن الحسین (ع)، اس کے بعد محمد (ع) بن علی (ع) اور یہ سلسلہ یونہی جاری رہے گا اور زمین امام کے بغیر باقی نہیں رہ سکتی ہے اور جو شخص بھی امام کی معرفت کے بغیر مرجائے گا وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔

( کافی 2 ص21 /9، تفسیر عیاشی 1 ص252 /175 ، از یحییٰ بن السّری)۔

135 ۔ امام محمد باقر (ع) ! جو شخص بھی اس امت میں امام عادل کے بغیر زندہ رہے گا وہ گمراہ اور بہکاہوا ہوگا اور اگر اسی حال میں مرگیا تو کفر و نفاق کی موت مرے گا۔(کافی1 ص375 /2از محمد بن مسلم)۔ 136۔ امام صادق (ع) ! رسول اکرم کا ارشاد ہے کہ جو شخص بھی اپنے امام کی معرفت کے بغیر مرجائے گا وہ جاہلیت کی موت مرے گا لہذا تمھارا فرض ہے کہ تم امام کی اطاعت کرو۔ تم نے اصحاب علی (ع) کو دیکھاہے اور تم ایسے امام کے تابع ہو جس سے بے خبر رہنے میں کوئی شخص معذور نہیں ہے۔ قرآن کے تمام مناقب ہمارے لئے ہیں۔ ہم وہ قوم ہیں جن کی اطاعت اللہ نے واجب قرار دی ہے۔ انفاق اور منتخب اموال ہمارا ہی حصہ ہیں۔( محاسن 1 ص 251 / 474 از بشیر الدہّان)۔

137 ۔ امام صادق (ع) ! جو شخص بھی اس حال میں مرجائے کہ اس کی گردن میں کسی امم کی بیعت نہ ہو وہ جاہلیت کی موت مرتاہے۔(اعلام الدین ص 459) 138۔ امام موسیٰ کاظم (ع) ! جو شخص اپنے اما م کی معرفت کے بغیر مرجائے وہ جاہلیت کی موت مرتاہے اور اس سے جملہ اعمال کا محاسبہ کیا جائے گا۔ (مناقب ابن شہر آشوب 4 ص295 از ابوخالد )

139 ۔ امام رضا (ع) ! جو شخص بھی ائمہ اہلبیت (ع) کی معرفت کے بغیر مرجائے وہ جاہلیت کی موت مرتاہے۔ (عیون اخبار الرضا (ع) 2 ص 122 /1 از فضل بن شاذان، الکافی 1 ص 376 ، محاسن1 ص 251 ، بحار الانوار 23 /76)۔

احادیث تنبیہ کی تحقیق

تمام مسلمانوں کا اس نقطہ پر اتفاق ہے کہ جن روایات نے اس مضمون کی نشاندہی کی ہے کہ امام کے بغیر مرنے والا جاہلیت کی موت مرتاہے۔ قطعی طور پر سرکار دو عالم (ع) سے صادر ہوئی ہیں اور ان میں کسی طرح کے شک اور شببہ کی گنجائش نہیں ہے۔

مفہوم اور مقصود میں اختلاف ہوسکتاہے لیکن اصل مضمون میں کسی طرح کا اختلاف نہیں ہے کہ یہ مضمون اس قدر شہرت اورا عتبار پیدا کرچکا تھا کہ حکام ظلم و جور بھی اس کا انکار نہ کرسکے اور بدرجہٴ مجبوری تحریف و ترمیم پر اتر آئے۔ جیسا کہ علامہ امینی طاب ثراہ نے ان احادیث کو صحاح اور مسانید نے محفوظ کیا ہے لہذا اس کے مضمون کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ہے اور کسی مسلمان کا اسلام اس کے مقصود کو تسلیم کئے بغیر مکمل نہیں ہوسکتاہے۔ اس حقیقت میں نہ دورائے ہے اور نہ کسی ایک نے شک و شبہہ کا اظہار کیا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ بغیر امام مرنے والے کا انجام بدترین انجام ہے اور اس کے مقدر میں کسی طرح کی کامیابی اور فلاح نہیں ہے۔ جاہلیت کی موت سے بدتر کوئی موت نہیں ہے کہ یہ موت در حقیقت کفر و الحاد کی موت ہے اور اس میں کسی اسلام کا شائبہ بھی نہیں ہے۔(الغدیر 10 ص 360)۔

رہ گیا حدیث کا مفہوم تو اس کی وضاحت کے لئے دور جاہلیت کی تشریح ضروری ہے اور اس کے بغیر مسئلہ کی مکمل توضیح نہیں ہوسکتی ہے قرآن مجید اور احادیث اسلامی میں رسول اکرم کے دور بعثت کو علم و ہدایت کادور اور اس کے پہلے کے زمانہ کو جہالت اور ضلالت کا دور قرار دیا گیاہے، اس لئے کہ اس دور میں آسمانی ادیان میں تحریف و ترمیم کی بناپر راہ ہدایت و ارشاد کا پالینا ممکن نہ تھا۔ اس دور میں انسانی سماجمیں دین کے نام پر جو نظام چل رہے تھے وہ سب اوہام و خرافات کا مجموعہ تھے اور یہ تحریف شدہ ادیان و مذاہب حکام ظلم و جور کے ہاتھوں میں بہترین حربہ کی حیثیت رکھتے تھے جن کے ذریعہ انسانوں کے مقدرات پر قبضہ کیا جاتا تھا اور انھیں اپنی خواہشات کے اشارہ پر چلایا جارہا تھا۔

لیکن اس کے بعد جب سرکار دو عالم کی بعثت کے زیر سایہ علم و ہدایت کا آفتاب طلوع ہوا تو آپ کی ذمہ داریوں میں اہم ترین ذمہ داری ان اوہام و خرافات سے جنگ کرنا اور حقائق کو واضح و بے نقاب کرنا تھا، چنانچہ آپ نے ایک مہربان باپ کی اطرح امت کی تعلیم و تربیت کا کام شروع کیا اور صاف لفظوں میں اعلان کردیا کہ میں تمھارے باپ جیسا ہوں اور تمھاری تعلیم کا ذمہ دار ہوں (مسند ابن حنبل 3 ص 53 / 7413 ، سنن نسائی 1 ص 38 ، سنن ابن ماجہ 1 ص 114 ۔ 313 ، الجامع الصغیر 1 ص 394 / 2580)۔

آپ کا پیغام عقل و منطق سے تمامتر ہم آہنگ تھا اور اس کی روشنی میں صاحبان علم کے لئے صداقت تک پہنچنا بہت آسان تھا اور وہ صاف محسوس کرسکتے تھے کہ اس کا رابطہ عالم غیب سے ہے۔

آپ برابر لوگوں کو تنبیہ کیا کرتے تھے کہ خبردار جن چیزوں کو عقل و منطق نے ٹھکرادیاہے۔ ان کا اعتبار نہ کریں کہ بغیر علم و اطلاع کے کسی چیز کے پیچھے نہ دوڑ پڑی۔(سورہ اسراء آیت 36 )

اس تمہید سے یہ بات مکمل طور پر واضح ہوجاتی ہے کہ ہر دور کے امام کی معرفت انسانوں کا انفرادی مسئلہ نہیں تھی کہ اگر کوئی شخص امام کی معرفت حاصل کئے بغیر مرجائے گا تو صرف اس کی موت جاہلیت کی موت ہوجائے گی بلکہ در اصل یہ ایک اجتماعی اور پوری امت کی زندگی کا مسئلہ تھا کہ بعثت پیغمبر اسلام کے سورج کے طلوع کے ساتھ جو علم و معرفت کا دور شروع ہوا ہے اس کا استمرار اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک مسلمان اپنے دور کے امام کو پہچان کر اس کی اطاعت نہ کرلیں۔

 

یا واضح الفاظ میں یوں کہا جائے کہ امامت ہی اس عصر علم و عرفان کی تنہا ضمانت ہے جو سرکار دو (ع) عالم کی بعثت کے ساتھ شروع ہوا ہے اور اس ضمانت کے مفقود ہوجانے کا فطری نتیجہ اس دور اسلام و عرفان کا خاتمہ ہوگا جس کا لازمی اثر دور جاہلیت کی واپسی کی صورت میں ظاہر ہوگا اور پورا معاشرہ جاہلیت کی موت مرجائے گا جس کی طرف قرآن مجید نے خود اشارہ کیا تھا کہ مسلمانو۔ دیکھو محمد اللہ کے رسول کے علاوہ اور کچھ نہیں ہیں اور ان سے پہلے بہت سے رسول گذرچکے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ مرجائیں یا قتل ہوجائیں تو تم الٹے پاؤں جاہلیت کی طرف پلٹ جاو” گویا مسلمانوں میں جاہلیت کی طرف پلٹ جانے کا اندیشہ تھا اور سول اکرم اس کا علاج معرفت امام کے ذریعہ کرنا چاہتے تھے اورابار بار اس امر کی وضاحت کردی تھی کہ امت دوبارہ جاہلیت کی دلدل میں پھنس سکتی ہے اور جاہلیت کی موت مرسکتی ہے اور اس کا واحد سبب امامت و قیادت امام عصر (ع) سے انحراف کی شکل میں ظاہر ہوگا۔

کس امام کی معرفت ؟

اگر گذشتہ احادیث میں ذرا غور و فکر کرلیا جائے تو اس سوال کا جواب خود بخود واضح ہوجائے گا کہ سرکار دو عالم نے کس امام اور کس طرح کے امام کی معرفت کو ضروری قرار دیاہے کہ جس کے بغیر نہ اصلی اسلام باقی رہ سکتاہے اور نہ جاہلیت کی طرف پلٹ جانے کا خطرہ ٹل سکتاہے۔

کیا یہ ممکن ہے کہ اس معرفت سے مراد ہر اس شخص کی معرفت اور اس کا اتباع ہو جو اپنے بارے میں امامت کا دعویٰ کردے اور اسلامی سماج کی زمام پکڑ کر بیٹھ جائے اور باقی افراد اس کی اطاعت نہ کرکے جاہلیت کی موت مرجائیں اور اس کے کردار کا جائزہ نہ لیا جائے اور اس ظلم کو نہ دیکھا جائے جو انسان کو ان اماموں میں قرار دیدیتاہے جو جہنم کی دعوت دینے والے ہوتے ہیں ؟

ائمہ جور نے ہر دور تاریخ میں یہی کوشش کی ہے کہ حدیث کی ایسی ہی تفسیر کریں اور اسے اپنے اقتدار کے استحکام کا ذریعہ قرار دیں چنانچہ یہی وجہ ہے کہ اس کے راویوں میں ایک معاویہ بھی شامل ہے جسے اس حدیث کی سخت ضرورت تھی اور کھلی ہوئی بات ہے کہ جب روایت بیان کردیگا تو درباری علماء اس کی ترویج و تبلیغ کا کام شروع کردیں گے اور اس طرح حدیث کی روشنی میں معاویہ جیسے افراد کی حکومت کو مستحکم و مضبوط بنادیا جائے گا۔ اگر چہ یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ یہ صرف لفظی بازی گری ہے اور اس کا تفسیر و تشریح حدیث سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ اسے خطائے اجتہادی کہا جاسکتاہے اور نہ سوء فہم بھلا کون یہ تصور کرسکتاہے کہ عبداللہ بن عمر کا بیعت امیر المومنین (ع) سے انکار کردینا کسی بصیرت کی کمزوری یا فکر کی سطحیت کا نتیجہ تھا اور انھیں آپ کی شخصیت کا اندازہ نہیں تھا اور راتوں رات دوڑ کر حجاج بن یوسف کے دربار میں جاکر عبدالملک بن مروان کے لئے بیعت کرلینا واقعاً اس احتیاط کی بناپر تھا کہ کہیں زندگی کی ایک رات بلابیعت امام نہ گذر جائے اور ارشاد پیغمبر کے مطابق جاہلیت کی موت نہ واقع ہوجائے جیسا کہ ابن ابی الحدید نے بیان کیا ہے کہ عبداللہ نے پہلے حضرت علی (ع) کی بیعت سے انکا کردیا اور اس کے بعد ایک رات حجاج بن یوسف کا دروازہ کھٹکھٹانے لگے تا کہ اس کے ہاتھ خلیفہ وقت عبدالملک بن مروان کے لئے بیعت کرلیں کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک رات بلابیعت امام گذرجائے جبکہ سرکار دو عالم نے فرمایاہے کہ اگر کوئی بیعت امام کے بغیر مرجائے تو جاہلیت کی موت مرتاہے، اور حجاج نے بھی اس جہالت اور پست فطرتی کا اس انداز سے استقبال کیا کہ بستر سے پیر نکال دیا کہ اس پر بیعت کرلو، تم جیسے لوگ اس قابل نہیں ہوکہ ان سے ہاتھ پر بیعت لی جائے۔ (شرح نہج البلاغہ 13 ص 242)۔ کھلی ہوئی بات ہے کہ جو حضرت علی (ع) کو امام تسلیم نہ کرے گا اس کا امام عبدالملک بن مروان ہی ہوسکتاہے جس کی بیعت سے انکار انسان کو جاہلیت مارسکتاہے اور اس کے ضروری ہے کہ رات کی تاریکی میں انتہائی ذلت نفس کے ساتھ حجاج بن یوسف جیسے جلاد کے دروازہ پر حاضری دے اور عبدالملک جیسے بے ایمان کی خلافت کے لئے بیعت کرلے اور اس کا آخری نتیجہ یہ ہو کہ اس یزید کو بھی حدیث مذکور کا مصداق قرار دیدے جس کے دونوں ہاتھ اسلام اور آل رسول کے خون سے رنگین ہوں۔

مزید  صہیونی دہشت گردی؛ الله اکبر کا ورد کرنے والوں پر حملے کے لئے کتوں کی تربیت

مورخین کا بیان ہے کہ اہل مدینہ نے 36ھء میں یزید کے خلاف آواز بلند کی اور اس کے نتیجہ میں واقعہ حرہ پیش آگیا جس کے بعد عبداللہ بن عمر نے اس انقلاب میں قریش کے قائد عبداللہ بن مطیع کے پاس حاضر ہوکر کچھ کہنا چاہا تو عبداللہ نے ان کے لئے تکیہ لگواکر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور ابن عمر نے فرمایا کہ میں بیٹھنے نہیں آیا ہوں۔ میں صرف یہ حدیث پیغمبر سنا نے آیا ہوں کہ اگر کسی کے ہاتھ اطاعت سے الگ ہوگئے تو وہ روز قیامت اس عالم میں محشور ہوکا کہ اس کے پاس کوئی دلیل نہ ہوگی اور کوئی دلیل نہ ہوگی اور کوئی اپنی گردن میں بیعت امام رکھے بغیر مرگیا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی ۔ ( صحیح مسلم 3 / 1478 / 1851)۔

ذرا ملاحظہ فرمائیے کہ اس ضمیر فروش انسان نے کس طرح حدیث شریف کا رخ بالکل ایک متضاد جہت کی طرف موڑدیا اور اسے یزید کی حکومت کی دلیل بنادیا جس موذی مرض کی طرف رسول اکرم نے اس حدیث میں اور دیگر متعدد احادیث میں اشارہ کیا تھا اور آپ کا مقصد تھا کہ لوگ ائمہ حق و ہدایت کی اطاعت کریں لیکن ارباب باطل و تحریف نے اس کا رخ ہی بدل دیا اور اسے باطل کی ترویج کا ذریعہ بنالیا اور اس طرح اسلامی احادیث ہی کو اسلام کی عمارت کے منہدم کرنے کا وسیلہ بنادیا اور دھیرے دھیرے اسلام اور علم کا وہ دور گذر گیا اور امت اسلامیہ ائمہ حق و انصاف کی بے معرفتی اور ان کے انکار کے نتیجہ میں جاہلیت کی طرف پلٹ گئی اور جاہلیت و کفر کی موت کا سلسلہ شروع ہوگیا جب کہ روایات کا کھلا ہوا مفہوم یہ تھا کہ آپ امت کو اس امر سے آگاہ فرمارہے تھے کہ خبردار ائمہ اہلبیت (ع) کی امامت و قیادت سے غافل نہ ہوجانا اور اہلبیت (ع) سے تمسک کو نظر انداز نہ کردینا کہ اس کا لازمی نتیجہ دور علم و ہدایت کا خاتمہ اور دور کفر و جاہلیت کی واپسی کی شکل میں ظاہر ہوگا جس کی طرف حدیث ثقلین، حدیث غدیر اور دوسری سینکڑوں حدیثوں میں اشارہ کیا گیا تھا اور ائمہ اہلبیت (ع) سے تمسک کا حکم دیا گیا تھا۔

روز قیامت منزلت اہلبیت (ع )

140 ۔ رسول اکرم ! سب سے پہلے میرے پاس حوض کوثر پر میرے اہلبیت (ع) وارد ہوں گے اور امت میں میرے واقعی چاہنے والے۔( السنہ لابن ابی عاصم 324 / 748 ، کنز العمال 12 / 100 / 34178)۔

141 ۔ رسول اکرم ! تم میں سب سے پہلے میرے پاس حوض کوثر پر وارد ہونے والا اور سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والا علی (ع) بن ابی طالب (ع) ہے۔(مستدرک 3 ص 147 / 2662 ، تاریخ بغداد 2 ص81، مناقب ابن المغازلی 16 / 22 ، مناقب خوارزمی 52 / 15 )

142 ۔ امام علی (ع) ! میرے پاس رسول اکرم تشریف لے آئے جب میں بستر پر تھا، آپ سے حسن (ع) یا حسین (ع) نے پانی مانگا اور آپ نے بکری کو دوہ کردینا چاہا کہ دوسرا بھائی سامنے آیا، آپ نے اسے سامنے سے ہٹادیا تو فاطمہ زہرا نے کہا کہ کیا وہ آپ کو زیادہ محبوب ہے؟ فرمایا نہیں بات یہ ہے کہ اس نے پہلے تقاضا کیاہے اور یاد رکھو کہ میں ۔ تم اور بستر پر آرام کرنے والا سب روز قیامت ایک مقام پر ہوں گے ۔( مسند ابن حنبل 1 ص 217 / 792 از عبدالرحمان ازرق ، المعجم الکبیر 3 ص 41 / 2622 از ابی فاختہ ، مسند ابوداؤد طیالسی 26 / 190 ، تاریخ دمشق حالات امام حسن (ع) 110 / 182 ۔ 118 / 191 ، اسد الغابہ 7/ 220 ، السنة لابن ابی عاصم 584 / 1322 ، تاریخ دمشق حالات امام حسین (ع) 111 /115 ، کتاب سلیم بن قیس 2 ص 732 / 21)۔

143 ۔ امیر المومنین (ع) فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اکرم نے فرمایا کہ جنت میں سب سے پہلے ہیں ۔ فاطمہ (ع) ، حسن (ع) اور حسین (ع) داخل ہوں گے تو میں نے عرض کی اور ہمارے چاہنے والے ؟ فرمایا تمھارے پیچھے پیچھے ۔(مستدرک 3 ص 164 / 4723 از عاصم بن ضمرہ ، ذخائر العقبيٰ ص 123 ، بشارة المصطفیٰ ص 46 )۔

 

144 ۔ رسول اکرم ! ہم ۔ علی (ع)۔ فاطمہ (ع)۔ حسن (ع) اور حسین (ع) سب روز قیامت زیر عرض الہی ایک قبہ میں ہوں گے ۔( کنز العمال 12 ص 100 / 34177 ، مجمع الزوائد 9 ص 276 / 15022 ، شرح الاخبار 3 ص 4 / 914 از ابوموسیٰ اشعری، مناقب خوارزمی 303 / 298 ، بشارة المصطفیٰ ص 48۔

145 ۔ رسول اکرم ! وسیلہ ایک درجہ ہیجس سے بالاتر کوئی درجہ نہیں ہے۔ پروردگار سے طلب کرو کہ وہ مجھے وسیلہ عنایت فرمادے۔( مسند ابن حنبل 4 ص

165 / 11783 از ابوسعید خدری 3 ص 86 / 7601 ص 292 / 8778 از ابوہریرہ 2 ص 571 / 6579 از عبداللہ بن عمرو ابن العاص ، صحیح بخاری 1 /222 / 589 ، صحیح مسلم 1 ص 289 / 384 ، سنن ابی داؤد 1 ص 144 / 523 ص 146 / 529 ، سنن ترمذی 5 ص 586 / 3612 ، سنن نسائی 2 ص 25 / 671 ، ص 27 / 673 ، سنن ابن ماجہ 1 ص 239 / 722۔

146 ۔ رسول اکرم ، جنت میں ایک درجہ ہے جسے وسیلہ کہاجاتاہے، اگر تمھیں اللہ سے کوئی سوال کرنا ہے تو میرے لئے وسیلہ کا سوال کرو ، لوگوں نے عرض کی کہ اس میں آپ کے ساتھ کون کون رہے گا ؟ فرمایا علی (ع) ۔ فاطمہ (ع) ۔ حسن (ع) حسین (ع) ( کنز العمال 12 ص 103 / 34195 ۔ 13 ص 139 / 37616 ، تفسیر ابن کثیر 2 ص 68 ، بشارہ المصطفیٰ ص 270 ، معانی الاخبار 116 / 1 ، تفسیر قمی 2 ص 324 ، علل الشرائع 164 / 6 ، بصائر الدرجات 416 / 11 ، روضة الواعظین 2 ص127۔

147 ۔رسول اکرم ! جنت کا مرکزی علاقہ میرے اور میرے اہلبیت (ع) کے لئے ہوگا ۔ ( عیون اخبار الرضا (ع) 2 ص 68 / 314 از حسن بن عبداللہ التمیمی)۔

148 ۔ حذیفہ ! میری والدہ نے پوچھا کہ تمھارا رسول اکرم کا ساتھ کب سے ہے؟ میں نے عرض کی فلاں وقت سے اس نے مجھے بُرا بھلا کہا تو میں نے کہا للہ خاموش ہوجائیے۔ میں رسول اکرم کے ساتھ نماز مغرب کے لئے جارہا ہوں ، نماز کے بعد ان سے درخواست کروں گا کہ میرے اور آپ کے لئے دعائے مغفرت کریں ۔ یہ کہہ کر میں حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا۔ مغرب و عشاء کی نماز ادا کی ، اس کے بعد آپ جانے لگے تو میں ساتھ ہولیا۔ راستہ میں ایک شخص مل گیا اس سے آپ نے باتیں کیں۔ پھر روانہ ہوگئے اور میں پھر ساتھ چلا، ایک مرتبہ میری آواز سن کر فرمایا کون ؟ میں نے عرض کی حذیفہ ۔

فرمایا کیوں آئے ؟ میں نے ماجرا بیان کیا ۔ فرمایا خدا تمھیں اور تمھاری ماں کو بخش دے ۔ کیا تم نے راستہ میں ملنے والے کو بھی دیکھاہے؟ عرض کی بیشک ! فرمایا یہ ایک فرشتہ ہے جو آج پہلی مرتبہ آسمان سے نازل ہوا ہے اور یہ خدا سے اجازت لے کر مجھے سلام کرنا چاہتا تھا اور یہ بشارت دینا چاہتا تھا کہ حسن (ع) و حسین (ع) جوانان جنت کے سردار ہیں۔ اور فاطمہ (ع) جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہیں اور پروردگاران سب سے راضی ہے۔( مسند احمد بن حنبل 9/ 91 / 23389 ، سنن ترمذی 5 ص 326 / 3870 ، خصائص نسائی ص 239 / 130 مجمع الزوائد 9 ص 324 / 15192 ، حلیة الاولیاء 4 / 190 ، اسد الغابہ 7 ص 304 / 7410۔ المصنف لابن ابی شیبہ 7 ص 164 ، تاریخ دمشق حالات امام علی (ع) 51 ص 72 ص 73 ، ذخائر العقبيٰ ص 121 ، امالی مفید (ر) 23 / 4 ، بشارة المصطفیٰ ص 277 ، کمال الدین ص 263 / 10 ، شرح الاخبار 3 ص 65 / 990 ص 75 / 995۔

149 ۔ رسول اکرم ! میں ایک شجر ہوں اور فاطمہ (ع) اس کی شاخ ہے اور علی (ع) اس کا شگوفہ ہے اور حسن (ع) و حسین اس کے پھل ہیں اور ہمارے شیعہ اس کے پتے ہیں ، اس شجر کی اصل جنّت عدن میں ہے اور باقی حصہ سار ی جنّت میں پھیلا ہواہے۔( مستدرک علی الصحیحین 3 ص 174 / 4755 از عبدالرحمٰن بن عوف )۔          

خصائص اہلبیت (ع )

اہم ترین خصوصیات

1 ۔طہارت

﴿ انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطھرکم تطھیرا﴾

150 ۔ رسول اکرم ! ہم وہ اہلبیت (ع) ہیں جن سے خدا نے ہر برائی کو دور رکھاہے چاہے وہ ظاہری ہوں یا باطنی ( الفردوس 1 ص 54 / 144 )

151 ۔ رسول اکرم ! پروردگار نے مخلوقات کو دو قسموں پر تقسیم کیا اور مجھے بہترین قسم میں قرار دیا جس کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے کہ کچھ اصحاب الیمین ہیں اور کچھ اصحاب الشمال ، ہمارا تعلق اصحاب الیمین سے ہے اور میں ان میں بہترین قسم میں ہوں۔

اس کے بعد اس نے دونوں قسموں کو تین حصوں میں تقسیم کیا اور مجھے ان کے بہترین حصہ میں قرار دیا جس کی طرف اصحاب میمنہ کے ساتھ ”السابقون السابقون“ کے ذریعہ اشارہ کیا گیا ہے کہ ہمارا شمار سابقین میں ہے اور میں ان میں بھی سب سے بہتر ہوں۔ اس کے بعد ان تینوں حصوں کو قبائل میں تقسیم کیا گیا اور مجھے سب سے بہتر قبیلہ میں رکھا گیا جس کی طرف اس آیت میں اشارہ کیاگیاہے کہ پروردگار نے تمھیں شعوب اور قبائل میں تقسیم کیا ہے تا کہ ایک دوسرے کو پہچان سکواور تم میں سب سے زیادہ محترم وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی اور پرہیزگار ہے۔

میں اولاد آدم میں سب سے زیادہ متقی اور پیش پروردگار مکرم ہوں لیکن یہ کوئی فخر کی بات نہیں ہے، یہ مقام شکر ہے، اس کے بعد مالک نے قبائل کو خاندانوں میں تقسیم کیا اور مجھے بہترین گھر میں قرار دیا جسکی طرف آیت تطہیر میں اشارہ کیا گیاہے تو مجھے اور میرے اہلبیت (ع) سب کو گناہوں سے پاک و پاکیزہ قرار دیا گیا ہے۔( دلائل النبوة بیہقی 1 ص 170 ، البدایة والنہایة 2 ص 257 ، الدرالمنثور 6 ص 605 ، مناقب امیر المومنین (ع) الکوفی 1 ص 127 / 70 ص 406 / 324 ، مجمع البیان 9 ص 207 ، اعلام الوریٰ ص 16 ، المعجم الکبیر 12 ص 81 / 12604 ، 3 ص 57 / 74 26 ، امالی الشجری 1 ص 151 ، امالی صدوق ص 503 / 1 تفسیر قمی 2 ص 347 )۔

152 ۔ رسول اکرم ! میں اور علی (ع) اور حسن (ع) و حسین (ع) اور نو اولاد حسین (ع) سب پاک و پاکیزہ اور معصوم قرار دیے گئے ہیں ( کمال الدین ص 280 / 28 ، عیون اخبار الرضا (ع) 1 ص 64 / 30 ، مناقب ابن شہر آشوب 1 ص 295 کفایة الاثر ص 19 ، الصراط المستقیم 2 ص 110 ، ینابیع المودة 3 ص 291 / 9 ، فرائد السمطین 2 ص 133 / 430)۔

153 ۔ رسول اکرم ! میرے بعد بارہ امام مثل نقباء بني اسرائیل ہوں گے اور سب کے سب دین خدا کے امانتدار ۔ پرہیزگار اور معصوم ہوں گے۔( جامع الاخبار 62 / 80)۔

154 ۔ رسول اکرم ! ہم وہ اہلبیت (ع) ہیں جنھیں پروردگار نے پاکیزہ قرار دیاہے ۔ ہم شجرہٴ نبوت اور موضع رسالت ہیں۔ ہمارے گھر ملائکہ کی آمد و رفت رہتی ہے۔ ہمارا گھرانہ رحمت کا ہے اور ہم علم کا معدن ہیں۔ (الدرالمنثور 6 ص 606 از ضحاک بن مزاحم)۔

155 ۔ رسول اکرم ۔ جو شخص بھی اس سرخ لکڑی کو دیکھنا چاہتاہے جسے مالک نے اپنے دست قدرت سے بویاہے اور اس سے متمسک رہنا چاہتاہے اس کا فرض ہے کہ علی (ع) اور ان کی اولاد کے ائمہ سے محبت کرے کہ یہ سب خدا کے منتخب اور پسندیدہ بندے ہیں اور ہر گناہ اور ہر خطا سے معصوم ہیں ۔( امالی صدوق (ر) ص 467 / 26 ، عیون اخبار الرضا ص 57 / 211 از محمد بن علی التمیمی )۔

156 ۔ امام علی (ع) ! پروردگار نے رسول کی اطاعت کا حکم دیاہے اس لئے کہ وہ معصوم اور پاکیزہ کردار ہیں اور کسی معصیت کا حکم نہیں دے سکتے ہیں اس کے بعد اس نے اولی الامر کی اطاعت کا حکم دیاہے کہ وہ بھی معصوم اور پاکیزہ کردار ہیں اور کسی معصیت کا حکم نہیں دے سکتے ہیں( خصال ص 139 / 158 ، علل الشرائع ص 123 ، کتاب سلیم بن قیس 2 ص 884 / 54)۔

157 ۔ امام علی (ع) ۔ پروردگار نے ہم اہلبیت (ع) کو فضیلت عنایت فرمائی ہے اور کیوں نہ ہوتا جبکہ اس نے ہمارے بارے میں آیت تطہیر نازل کی ہے اور ہمیں تمام برائیوں سے پاکیزہ قرار دیاہے، چاہے کھلی ہوئی ہوں یا مخفی ہوں، ہم ہی میں جو حق کے راستہ پر ہیں ۔ ( تاویل الآیات الظاہرہ ص 450)۔

150 ۔ امام حسن (ع) ۔ ہم ہ اہلبیت (ع) ہیں جنھیں مالک نے اطاعت کے ذریعہ محترم بنایاہے اور ہمیں منتخب اور مصطفیٰ و مجتبي قرار دیاہے۔ ہم سے ہر رجس کو دور رکھاہے اور ہمیں مکمل طور پر پاکیزہ قرار دیاہے۔ اور شک رجس ہے لہذا ہمیں خدایا دین خدا کے بارے میں کبھی شک نہیں ہوسکتاہے۔ اس نے ہمیں ہر طرح کے انحراف اور گمراہی سے پاکیزہ رکھاہے۔( امالی طوسی (ر) ص 562 / 1174 از عبدالرحمٰان بن کثیر )۔

159 ۔ امام باقر (ع) ! ہماری توصیف ممکن نہیں ہے۔ ان کی توصیف کون کرسکتاہے جن سے اللہ نے ہر رجس اور شک کو دور رکھاہے۔( کافی 2 ص 182 / 16)۔

160 ۔ امام صادق (ع) ! انبیاء اور اولیاء کی زندگی میں کوئی گناہ نہیں ہوتاہے۔ یہ سب معصوم اور مطہر ہوتے ہیں ۔( خصال ص 608 / 9)۔

161 ۔ امام صادق (ع) ! شک اور معصیت کی جگہ جہنم ہے اور ان کا تعلق کسی طرح بھی ہم سے نہیں ہے۔( کافی 2 ص 400 / 5)۔

162 ۔ امام صادق (ع) ! آیت تطہیر میں رجس سے مراد ہر طرح کا شک ہے۔(معانی الاخبار 138 / 1)۔

163 ۔ امام رضا (ع) ! امامت وہ مرتبہ ہے جسے پروردگار نے جناب ابراہیم (ع) کو نبوت کے بعد عنایت فرمایاہے اور تیسرا مرتبہ خلت کا ہے، امامت ہی کے ذریعہ انھیں مشرف کیا ہے اور اس ذریعہ سے ان کے ذکر کو محترم بنایا ہے۔” انی جاعلک للناس اماما“۔

خلیل خدا نے اس مرتبہ کو پانے کے بعد کمال مسرت سے گزارش کی کہ خدایا اور میری ذریت؟ فرمایا یہ عہدہ ظالموں تک نہیں جاسکتاہے لہذاآ یت کریمہ نے قیامت تک کہ ظالموں کی امامت کو باطل قرار دیدیا ہے اور یہ صرف منتخب افراد کا حصّہ ہوگئی ہے۔ اس کے بعد پروردگار نے اسے ان کی اولاد کے پاکیزہ افراد کا حصہ قرار دیاہے اور ارشاد فرمایاہے کہ ” ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب جیسی اولاد عطا فرمائی ہے اور سب کو صالح قرار دیاہے”— پھر ارشاد ہوا“ ہم نے انھیں امام بنایا ہے کہ ہمارے حکم سے لوگوں کو ہدایت دیں اور ان کی طرف وحی کی ہے کہ نیکیاں انجام دیں۔ نماز قائم کریں ۔ زکٰوة ادا کریں اور یہ سب ہمارے عبادت گذار بندے تھے۔( کافی 1 ص 199 / 1 ، کمال الدین ص 676 / 31 امالی صدوق (ر) 537 / 1 ، معانی الاخبار 97 / 2 ، عیون اخبار الرضا (ع) 1 ص 217 از عبدالعزیز بن مسلم)۔

164 ۔ امام ہادی (ع) زیارت جامعہ میں فرماتے ہیں۔ آپ حضرات سب ائمہ راشدین مہدی ، معصوم اور مکرم ہیں ، پروردگار نے آپ حضرات کو لغزش سے محفوظ رکھاہے ۔ فتنوں سے بچاکر رکھاہے، برائیوں سے پاک رکھاہے ارو آپ سے ہر رجس کو دور کرکے پاک و پاکیزہ قرار دیاہے۔(تہذیب 6 ص 97 /177 ، الفقیہ 2 ص 611 / 3213 ، فرائد السمطین 2 ص 180 ، عیون اخبار الرضا (ع) 2 ص 273 ، از موسیٰ بن عمران نجفی ، غالباً یہ موسیٰ بن عبداللہ ہیں)۔

2 ۔ ہم پلہ قرآن

165 ۔ زید بن ارقم کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ رسول اکرم نے مکہ و مدینہ کے درمیان خم نامی مقام پر خطبہ ارشاد فرمایا اور حمد و ثنائے الہی کے بعد وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگو! میں بھی ایک بشر ہوں اور قریب ہے کہ میرے پاس داعی الہی آجائے اور میں اس کی آواز پر لبیک کہتا ہوا چلا جاؤں تو آگاہ رہنا کہ میں تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جارہاہوں ایک کتاب خدا جس میں نور اور ہدایت ہے اسے پکڑے رہو اور اس سے وابستہ رہو ۔ یہ کہہ کر اس کے بارے میں ترغیب و تنبیہ فرمائی ۔ اس کے بعد فرمایا کہ اور ایک میرے اہلبیت (ع) ہیں جن کے بارے میں تمھیں خدا کو یاد دلارہاہوں اور اس جملہ کو تین مرتبہ دہرایا۔ (صحیح مسلم 4 / 1873 ۔ 2408 ، سنن دارمی 2/ 889 / 3198 ، مسند ابن حنبل 7/ 75 / 19285 ، سنن کبریٰ 10 / 194 / 20335 ، تہذیب تاریخ دمشق 5 ص 439 فرائد السمطین 2 ص 234 / 513 ۔

166 ۔ رسول اکرم نے فرمایا کہ میں تمھارے درمیان وہ چیزیں چھوڑے جارہاہوں جن سے متمسک رہوگے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے، ان میں ایک دوسرے سے بزرگتر ہے اور وہ کتاب خدا ہے جو ایک ریسمان ہدایت ہے جس کا سلسلہ آسمان سے زمین تک ہے اور ایک میری عترت اور میرے اہلبیت (ع) ہیں اور یہ دونوں اس وقت تک جدا نہ ہونگے جب تک میرے پاس حوض کوثر پر وارد نہ ہوجائیں ۔ دیکھو اس کا خیال رکھنا کہ تم میرے بعد ان کے ساتھ کیا برتاؤ کرتے ہو۔ (سنن ترمذی 5 ص 663 / 3788 از زید بن ارقم )۔

167 ۔ زید بن ارقم ! جب رسول اکرم حجة الوداع سے واپسی پر مقام غدیر خم پر پہنچے تو آپ نے درختوں کے نیچے زمین صاف کرنے کا حکم دیا پھر فرمایا کہ گویا میں داعی الہی کو لبیک کہنے جارہاہوں لہذا یاد رکھنا کہ میں تم میں دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جارہاہوں جن میں ایک دوسرے سے بڑی ہے، کتا ب خدا اور میری عترت لہذا یہ خیال رکھنا کہ میرے بعد ان کے ساتھ کیا برتاؤ کرتے ہو۔ اور یہ دونوں ایک دوسرے سے ہرگز جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ میرے پاس حوض کوثر پر وارد ہوجائیں اور یہ کہہ کر فرمایا کہ اللہ میرا مولا ہے اور میں تما م مومنین کا مولی ٰ ہوں اور پھر علی (ع) کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہ جس کا میں مولا ہوں اس کا یہ علی (ع) بھی مولاہے، خدا اسے دوست رکھنا جو اس سے دوستی رکھے اور اس اپنا دشمن قرا ر دیدینا جو اس سے دشمنی کرے۔ (مستدرک 3 ص 118 / 4576 ، خصائص نسائی 150 / 79 ، کمال الدین 234 / 250 ، الغدیر 1 ص 30 ، 34 ، 302)۔

168 ۔ جابر بن عبداللہ انصاری کہتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم کو حج کے موقع پر روز عرفہ یہ خطبہ ارشاد فرماتے دیکھاہے کہ ایہا الناس ! —میں تم میں انھیں چھوڑے جارہاہوں جن سے متمسک رہوگے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے ۔ کتاب خدا اور میرے عترت و اہلبیت (ع) ۔ (سنن ترمذی 5 ص 662 / 3786 )۔

169 ۔ رسول اکرم ۔ ایہا الناس میں آگے آگے جارہاہوں اور تم سب کو میرے پاس حوض کوثر پر آناہے جہاں میں تم سے ثقلین کے بارے میں سوال کروں گا لہذا اس کا خیال رکھنا کہ میرے بعد ان کے ساتھ کیا برتاؤ کرتے ہو۔ ثقل اکبر کتاب خدا ہے جس کا ایک سراپروردگار کے ہاتھوں میں ہے اور دوسرا تمھارے ہاتھوں میں ہے لہذا اس سے متمسک رہنا اور ہرگز نہ گمراہ ہونا اور نہ اس میں کوئی تبدیلی پیدا کرنا ۔( تاریخ بغداد 8 ص 442 از حذیفہ بن اسید)۔

170 ۔ حذیفہ بن اسید الغفار ی ! جب رسول اکرم حجة الوداع سے فارغ ہوکر چلے تو آپ نے اصحاب کو منع کیا کہ درختوں کے نیچے پناہ نہ لیں اور اس جگہ کو صاف کراکے آپ نے نماز ادا فرمائی اور پھر کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرمایا ۔ ایہا الناس ! مجھے خدا ئے لطیف و خیبر نے خبردی ہے کہ ہر نبی کی زندگی اس سے پہلے والے سے نصف رہی ہے لہذا قریب ہے کہ میں بلالیا جاؤں اور چلاجاؤں اور مجھ سے بھی سوال کیا جائے گا اور تم سے بھی سوال کیا جائے گا تو بتاؤ کہ تم کیا کہنے والے ہو؟ لوگوں نے عرض کی کہ ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے تبلیغ فرمائی اور اس راہ میں زحمت گوارا فرمائی اور ہمیں نصیحت فرمائی ۔ خدا آپ کو جزائے خیر دے۔

فرمایا کیا اس بات کی گواہی نہ دوگے کہ خدا وحدہ لا شریک ہے اور محمد اس کے بندہ اور رسول ہیں ؟ اور جنت و جہنم برحق ہیں اور موت بھی برحق ہے او ر موت کے بعد کی زندگی بھی برحق ہے اور بلاشبہ قیامت آنے والی ہے اور خدا لوگوں کو قبروں سے نکالنے والاہے؟ سب نے عرض کی بیشک ہم گواہی دیتے ہیں ! فرمایا خدا یا تو بھی گواہ رہنا ۔

اس کے بعد فرمایا کہ لوگو ! خدا میرا مولاہے اور میں مومنین کا مولا ہوں اور ان کے نفوس سے اولیٰ ہوں اور جس کا میں مولا ہوں اس کا یہ علی (ع) بھی مولا ہے۔ خدایا جو اس سے محبت کرے اس سے محبت کرنا اور جو اس سے دشمنی رکھے اس سے دشمنی کرنا ۔

پھر فرمایا ایہا الناس ! میں آگے آگے جارہاہوں اور تم سب میرے پاس حوض کوثر پر وارد ہونے والے ہو۔و ہ حوض جس کی وسعت بصرہ اور صنعاء کی مسافت سے زیادہ ہے اور وہاں ستاروں کے عدد کے برابر چاندی کے پیالے رکھے ہوئے ہیں اور میں تمھارے والد ہونے کے بعد تم سے ثقلین کے بارے میں سوال کروں گا کہ تم نے میرے بعد ان کے ساتھ کیا برتاؤ کیا ۔ ان میں ثقل اکبر کتاب خدا ہے جس کا ایک سراخداکے ہاتھوں میں ہے اور دوسرا تمھارے ہاتھوں میں ہے۔ اس سے وابستہ رہنا کہ گمراہ نہ ہو اور اس میں تبدیلی نہ کرنا ۔ دوسرا ثقل میری عترت اور میری اہلبیت (ع) ہیں ۔ خدائے لطیف و خبیر نے مجھے خبردی ہے کہ ان کا سلسلہ ہرگز ختم نہ ہوگا جب تک میرے پاس حوض کوثر پر نہ وارد ہوجائیں ۔( المعجم الکبیر 3 ص 180/ 352)۔

171 ۔ معروف بن خربوذ نے ابوالطفیل عامر بن واثلہ کے حوالہ سے حذیفہ بن اسید الغفاری سے نقل کیا ہے کہ جب رسولاکرم حجة الوداع سے واپس ہوئے تم ہم لوگ آپ ہمراہ تھے۔ جحفہ پہنچ کر آپ نے اصحاب کو قیام کا حکم دیا اور سب اونٹوں سے اتر آئے پھر نماز کی اذان ہوئی اور آپ نے اصحاب کے ساتھ دو رکعت نماز ( ظہر قصر ) ادا فرمائی ۔ اس کے بعد ان کی طرف رخ کرکے فرمایا کہ مجھے خدائے لطیف و خبیر نے خبردی ہے کہ مجھے بھی مرنا ہے اور تم سب کو مرناہے اور گویا کہ میں اب داعی الہی کو لبیک کہنے والا ہوں اور مجھ سے میری رسالت کے بارے میں بھی سوال کیا جائے گا اور کتاب خدااور حجت الہی کو چھوڑے جارہاہوں اس کے بارے میں بھی سوال ہوگا اور تم سے بھی سوال کیا جائے گا تو بتاؤ کہ تم لوگ پروردگار کی بارگاہ میں کیا کہوگے ؟ لوگوں نے عرض کی کہ ہم آپ کی تبلیغ ، کوشش اور نصیحت کی گواہی دیں گے خدا آپ کو جزائے خیر دے۔

فرمایا کیا توحید الہی ، میری رسالت ، جنّت و جہنم اور حشر و نشر کے برحق ہونے کی گواہی نہ دوگے؟ عرض کی بیشک گواہی دیں گے ، فرمایا خدا یا تو بھی ان کے بیان پرگواہ رہنا۔

اچھا اب میں تمھیں گواہ بناتاہوں کہ میں اس امر کا گواہ ہوں کہ خدامیرا مولا ہے اور میں ہر مسلمان کا مولا ہوں اور مومنین سے ان کے نفس کی بہ نسبت زیادہ اولی ہوں کیا تم لوگ بھی اس کا اقرار کرتے ہو اور اس کی گواہی دیتے ہو؟

سب نے عرض کی ۔ بیشک ہم گواہی دیتے ہیں۔

فرمایا تو آگاہ ہوجاؤ کہ جس کا میں مولا ہوں ۔ اس کا یہ علی (ع) بھی مولاہے۔

یہ کہہ کر علی (ع) کو اس قدر بلند کیا کہ سفیدی بغل نمایان ہوگئی ۔ اور فرمایا خدایا اس سے محبت کرنا جو اس سے محبت کرے اور اس سے عداوت رکھنا جو اس سے دشمنی کرے۔ اس کی مدد کرنا جو اس کی مدد کریاور اسے چھوڑ دینا جو اس سے الگ ہوجائے۔

آگاہ ہوجاؤ کہ میں تم سے آگے آگے جارہاہوں اور تم میرے پاس حوض کوثر پر وارد ہونے والے ہو۔ یہی کل میرا حوض ہوگا اور اس کی وسعت بصرہ سے صنعاء کے برابر ہوگی جس پرستاروں کے برابر چاندی کے پیالے رکھے ہوں گے اور میں تم سے اس کے بارے میں سوال کروں گا جس کا آج گواہ بنارہاہوں اور پوچھوں گا کہ تم نے میرے بعد ثقلین کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے؟ لہذا خبردار اس کا خیال رکھنا کہ میرے بعد ان کے ساتھ کیا سلوک کروگے اور میرے پاس کس طرح حاضر ہوگے۔

لوگوں نے عرض کی کہ حضور یہ ثقلین کیا ہیں ؟ فرمایا ثقل اکبر کتاب خدا ہے جو ایک ریسمان ہدایت ہے جس کا ایک سرکار تمھارے ہاتھوں میں ہے اور ایک پروردگار کے ہاتھوں میں ہے اس میں تمام ماضی اور قیامت تک کے مستقبل کا سارا علم جود ہے۔

اور دوسرا ثقل قرآن کا حلیف یعنی علی (ع) بن ابی طالب (ع) اور ان کی اولاد ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ میرے پاس حوض کوثر پر وارد ہوجائیں۔

معروف بن خَرَّبوز کہتے ہیں کہ میں نے اس کلام کو امام ابوجعفر (ع) کے سامنے پیش کیا تو فرمایا کہ ابوالطفیل نے سچ کہاہے ۔ اس حدیث کو میں نے اسی طرح کتاب علی (ع) میں پایاہے اور ہم اسے پہچانتے ہیں۔ (خصال ص 65 / 98 )

172 ۔ رسول اکرم ! میں تمھارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جارہاہوں جس کے بعد تم ہرگز گمراہ نہ ہوگے ، ایک کتاب خدا ہے اور ایک میری عترت اور یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر وارد ہوجائیں ۔( مجمع الزوائد 9 ص 256 / 1458 ، کمال الدین ص 235 / 47 از ابوہریرہ۔ اس روایت میں کتاب اللہ کے ساتھ نسبتی کے بجائے سنتی ہے)۔

173 ۔ رسول اکرم ! میں نے تمھارے درمیان ثقلین کو چھوڑ دیا ہے جن میں ایک دوسرے سے بزرگ تر ہے۔ کتاب خدا ہے جس کا سلسلہ آسمان سے زمین تک ہے اور میری عترت و اہلبیت (ع) ہیں۔آگاہ ہوجاؤ کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کو ثر پر وارد ہوجائیں۔( مسند ابن حنبل 4 ص 54 / 1121 از ابوسعید خدری)۔

174 ۔ ابوسعید خدری ۔ رسول اکرم نے اپنی زندگی کا آخری خطبہ مرض الموت میں فرمایا تھا جب آپ حضرت علی (ع) اور میمونہ پر تکیہ دیکر تشریف لائے اور منبر پر بیٹھ فرمایا کہ ایہا الناس ۔ میں تمھارے درمیان ثقلین کو چھوڑے جارہاہوں — اور کہہ کر خاموش ہوئے تھے کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ یہ ثقلین کون ہیں ؟ جسے سنکر آپ کو غصہ آگیا اور چہرہ سرخ ہوگیا ۔ فرمایا کہ میں تمھیں ثقلین کے بارے میں باخبر کرنا چاہتا تھا لیکن حالات نے اجازت نہیں دی تو اب سنو ۔ ایک وہ ریسمان ہدایت ہے جس کا ایک سرا خدا سے ملتاہے اور دوسرا تمھارے ہاتھوں میں ہے۔ اس کے بارے میں اس اس طرح عمل کرنا ہوگا اور وہ قرآن حکیم ہے اور دوسرا ثقل میرے اہلبیت (ع) ہیں۔ خدا کی قسم میں یہ بات کہہ رہاہوں اور یہ جانتاہوں کہ کفار کے اصلاب میں ایسے اشخاص موجود ہیں جن سے تم سے زیادہ امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں اور یاد رکھو خدا گواہ ہے کہ جو شخص بھی اہلبیت (ع) سے محبت کرے گا پروردگار اسے روز قیامت ایک نورعطا کرے گا جس کی روشنی میں حوض کوثر پر وارد ہوگا اور جوان سے دشمنی کرے گا پروردگار اپنے اور اس کے درمیان حجاب حائل کردے گا ۔( امالی مفید (ر) 135 / 3)۔

175 ۔ محمد بن عبداللہ الشیبانی نے اپنے صحیح اسناد کے ذریعہ ثقہ سے ثقہ کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اسلام مرض الموت کے دوران گھر سے باہر تشریف لائے اور مسجد کے ستون سے ٹیک لگاکر کھڑے ہوکر یہ خطبہ ارشاد فرمایا کہ ایہا الناس کوئی نبی دنیا سے نہیں گیا مگر یہ کہ اس نے اپنا ترکہ چھوڑا ہے اور میں بھی تمھارے درمیان ثقلین کو چھوڑے جارہاہوں، ایک کتاب خدا ہے اور ایک میرے اہلبیت (ع) ، یاد رکھو جس نے انھیں ضائع کردیا خدا اسے برباد کردیگا۔( احتجاج 1 ص 171 / 36 )

176 ۔ زید بن علی (ع) نے اپنے آباء کرام کے حوالہ سے امیر المؤمنین (ع) سے نقل کیا ہے کہ جب رسول اللہ کا مرض الموت سنگین ہوگیا اور آپ کا گھر اصحاب سے بھر گیا تو آپ نے فرمایا کہ حسن (ع) و حسین (ع) کو بلاؤ۔ میں نے دونوں کو طلب کیا اور آپ نے دونوں کو گلے لگاکر بوسہ دینا شروع کردیا یہاں تک کہ غشی طاری ہوگئی ۔ حضرت علی (ع) نے دونوں کو سینہ سے اٹھالیا تو آپ نے آنکھیں کھول دیں اور فرمایا کہ انھیں رہنے دو تا کہ یہ مجھ سے سکون حاصل کریں اور میں ان سے سکون حاصل کروں۔ اس لئے کہ میرے بعد انھیں قوم کی بدنفسی کا سامنا کرناہے۔

پھر فرمایا ایہا الناس ! میں نے تمھارے درمیان دو چیزیں کو چھوڑا ہے، کتاب خدا اور میری سنت و عترت و اہلبیت (ع) کتاب خدا کو ضائع کرنے والا میری سنت کو برباد کرنے والا ہے اور سنت کو ضائع کرنے والا عترت کو ضائع کرنے والا ہے۔

یاد رکھو کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہانتک کہ میں حوض کوثر پر ملاقات کروں۔(مسند زید ص 404)۔

177 ۔ سعد الاسکاف ! میں نے امام ابوجعفر (ع) سے اس قول رسول کے بارے میں دریافت کیا کہ میں تم میں ثقلین کو چھوڑے جارہاہوں ان سے وابستہ رہنا اور یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر وارد ہوجائیں ؟ تو حضرت نے فرمایا کہ کتاب خدا بھی ہمیشہ رہے گی اور ہم میں سے ایک رہنما بھی رہے گا جو اس کی طرف رہنمائی کرتا رہے گا یہانتک کہ دونوں حوض کوثر پر وارد ہوجائیں ۔( بصائر الدرجات 6 / 414)۔

178 ۔ امام علی (ع) نے جناب کمیل کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا ۔ کمیل ہم ثقل اصغر ہیں اور قرآن خدا ثقل اکبر ہے اور رسول اکرم نے یہ بات قوم کو بار بار سنادی ہے اور نماز جماعت کے بعد اس کا مسلسل اعلان فرمادیاہے۔ ایک دن آ پ نے سارا مجمع کے سامنے حمد و ثنائے الہی کے بعد فرمایا کہ لوگو! میں خدا کی طرف سے یہ بات پہنچا رہاہوں اور یہ میری ذاتی بات نہیں ہے لذا جو تصدیق کرے گا وہ اللہ کیلئے کرے گا اور اسے صلہ میں جنت ملے گی اور جو تکذیب کرے گا وہ اللہ کی تکذیب کرے گا اور اس کا انجام جہنم ہوگا۔

اس کے بعد حضرت نے مجھے آواز دی اور مجھے اپنے سامنے کھڑا کیا اور اپنے سینہ سے لگالیا اور حسن (ع) و حسین (ع) کو داہنے بائیں رکھ کر آواز دی ایہا الناس ۔ ! جبریل امین نے یہ حکم پروردگار پہنچایاہے کہ میں تمھیں یہ بتادوں کہ قرآن ثقل اکبر ثقل اصغر کی گواہی دیتاہے اور ثقل اصغر ثقل اکبر کا شاہد ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھی ہیں اور خدا کی بارگاہ میں حاضری کے وقت تک ساتھ رہیں گے اس کے بعد وہ ان دونوں اور بندوں کے درمیان اپنا فیصلہ سنائے گا۔ (بشارة المصطفیٰ ص 29)۔

179 ۔ عمر بن ابی سلمہ ناقل ہیں کہ امیر المؤمنین (ع) نے انصار و مہاجرین کی جماعت کے سامنے ارشاد فرمایا کہ میں تم سے خدا کو گواہ کرکے دریافت کرتاہوں کہ کیا تمھیں یہ معلوم ہے کہ رسول اکرم نے آخری خطبہ میں فرمایا میں فرمایا تھا کہ ایہا الناس ! میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جاتاہوں جن سے تمسک رکھو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے۔ کتاب خدا اور میری عترت اہلبیت (ع) ۔ خدائے لطیف و خبیر نے مجھے بتایاہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر وارد ہوجائیں ۔ لوگوں نے کہا بیشک ہمیں معلوم ہے اور حضور نے ہمارے سامنے فرمایاہے۔( کتاب سلیم بن قیس 2 ص 763 )

180 ۔ ہشام بن حسّان ۔ میں نے امام حسن (ع) کو بیعت خلافت کے بعد یہ خطبہ دیتے سناہے کہ ہم اللہ کے غالب آنے والے گروہ ہیں اور رسول اکرم کی عترت واقرباہیں۔ہمیں ان کے اہلبیت (ع) طیبین و طاہرین ہیں اور ثقلین کی ایک فرد ہیں جنھیں رسول اکرم نے اپنی امت میں چھوڑ ا ہے اور دوسری شے کتاب خدا ہے جس میں ہر شے کی تفصیل ہے اور باطل کا اس کی طرف کسی رخ سے گذر نہیں ہے۔ اس کی تفسیر میں ہم پر اعتماد کیا جانا چاہیئے کہ ہم گمان سے بات نہیں کرتے ہیں بلکہ یقین سے بات کرتے ہیں اور اس کے حقائق کا یقین رکھتے ہیں۔( امالی طوسی (ر) 121 / 188 ۔691 / 1469 ، امالی مفید (ر) 4 ص 349 ، بشارة المصطفیٰ ص 106 ، ینابیع المودة 1 ص 74 ، الاحتجاج 2 ص 94 ، مناقب ابن شہر آشوب 4 ص 67)۔

181 ۔ثورین ابی فاختہ نے امام ابوجعفر (ع) سے نقل کیا ہے کہ آپ نے عمرو بن ذرالقاص سے فرمایا کہ تم ان احادیث کے بارے میں کیوں گفتگو نہیں کرتے جو تمھاری طرف ساقط ہوئی ہیں؟ ابن ذر نے کہا آپ فرمائیں ۔ فرمایا انی تارک فیکم الثقلین … میں تم میں دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جاتاہوں جن میں ایک دوسرے سے عظیم تر ہے ایک کتاب اللہ ہے اور ایک میری عترت اور اہلبیت (ع) جب تک ان دونوں سے وابستہ رہوگے ہرگز گمراہ نہ ہوگے۔

دیکھو ابن ذر ! کل جب رسول اکرم سے ملاقات کروگے اور انھوں نے پوچھ لیا کہ ثقلین کے ساتھ کیا برتاؤ کیا ہے تو کیا جواب دوگے؟ یہ سننا تھا کہ ابن ذر نے رونا شروع کردیا یہاں تک کہ داڑھی آنسوؤں سے تر ہوگئی اور کہا کہ ہم تو یہی کہہ سکتے ہیں کہ اکبر کو پارہ پارہ کردیا اور اصغر کو قتل کردیا ۔ ( رجال کشی 2 ص 484 / 394)۔

182 ۔ امام باقر (ع) فرماتے ہیں کہ مولائے کائنات نے نہروان سے واپسی پر کوفہ میں خطبہ ارشاد فرمایا جب آپ کو یہ اطلاع ملی کہ معاویہ آپ پر لعنت کررہاہے اور گالیان دے رہاہے اور آپ کے اصحاب کو قتل کرررہاہے تو حمد و ثنائے الہی اور صلوات و سلام کے بعد اللہ کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر قرآن مجید کا یہ حکم نہ ہوتا کہ نعمت پروردگار کو بیان کرتے رہو تو میں ا س وقت یہ خطبہ نہ دیتا لیکن اب حکم خدا کی تعمیل ہیں یہ کہہ رہاہوں کہ پروردگار تیرا شکر ہے ان نعمتوں پر جن کا شمار نہیں اور اس فضل و کرم پر جو بھلایا نہیں جاسکتاہے۔

ایہا الناس ! میں عمر کی ایک منزل تک پہنچ چکاہوں اور قریب ہے کہ دنیا سے رخصت ہوجاؤں لیکن میں دیکھ رہاہوں کہ تم نے میرے معاملات کو نظر انداز کردیا ہے اور میں تمھارے درمیان انھیں دو چیزوں کو چھوڑے جارہاہوں جنھیں رسول اکرم نے چھوڑا ہے یعنی کتاب اور میری عترت اور یہی عترت ہادی راہ نجات۔ خاتم الانبیاء، سید الانبیاء اور نبی مصطفی کی بھی عترت ہے۔( معانی الاخبار 58 / 9، بشارة المصطفیٰ ص 12 )

183 ۔ امام علی (ع) ۔ پروردگار نے ہمیں پاک اور معصوم بنایاہے اور ہمیں اپنی مخلوقات کا نگراں اور زمین کی حجت قرار دیا ہے۔ ہمیں قرآن کے ساتھ رکھاہے اور قرآن کو ہمارے ساتھ ۔ نہ ہم اس سے جدا ہوسکتے ہیں اور نہ وہ ہم سے جدا ہوسکتاہے۔( کافی 1 ص 191 ، کمال الدین 240 / 63 ، بصائر الدرجات 83 / 6 از سلیم بن قیس الہلالی )

تحقیق حدیث ثقلین

1 ۔ سند حدیث ثقلین

یہ حدیث ثقلین جس میں رسول اسلام نے اہلبیت (ع) کو قرآن مجید کا شریک اور ہم پلہ قرار دے کر امت اسلامیہ کو ان سے تمسک کرنے پر آمادہ کیا ہے۔ ان متواتر احادیث میں ہے جس پر تمام رواة اور محدثین نے اتفاق کیاہے اور قطعی طور پر 23 ۔ اصحاب رسول نے اسے نقل کیا ہے جن کے اسماء گرامی بالترتیب یہ ہیں۔

ابوایوب انصاری۔ ابوذر غفاری، ابورافع غلام رسول اکرم ابوسعید الخدری ، ابوشریح الخزاعی، ابوقدامہ الانصاری ، ابولیلی انصاری ، ابو المیثم ابن التبیان ، ابوہریرہ، ام سلمہ ،ام ہانی ، انس بن مالک، البراء بن عازب ، جابر بن عبداللہ الانصاری جبیر بن مطعم، حذیفہ بن اسید الغفاری ، حذیفہ بن الیمان، خزیمہ بن ثابت ذوالشہادتین ، زید بن ارقم – زید بن ثابت ، سعد بن ابی وقاص ، سلمان الفارسی ، سہل بن سعد، ضمرہ الاسلمی ، طلحہ بن عبیداللہ التمیمی ، عامر بن لیلیٰ ، عبدالرحمان بن عوف ، عبداللہ بن حنطب ، عبداللہ بن عباس ، عدی بن حاتم ، عقبہ بن عامر ، عمربن الخطاب، عمرو بن العاص ( صحیح مسلم 4 ص1874، سنن ترمذی5 /662 / 2786 / 2788 ، سنن دارمی 2 / 889 / 3198 ، مسند ابن حنبل 4/30 / 11104 / 36 / 11131۔ 54 /11211 ، 7 ص 84 / 19332 ، 8 ص 138 / 21634 ، ص 154 / 21711 ، 118 / 11561 ، مستدرک 3 ص 118 / 4577 ، حصائص نسائی 150 / 79 ، تاریخ بغداد 8 ص 422 الطبقات الکبریٰ 2 ص 196 ، المعجم الکبیر 3 ص 65 ،67 / 2678 ، 2681 ، 2683 ، الدرالمنثور 2 ص 60 ، کنز العمال 1 ص 172 ، ینابیع المودة 1 ص 95 / 126 ، مجمع الزوائد 9 ص 257 ، اسدالغابہ 3 / 136 / 2739 ص 219 / 2907 ، الصواعق المحرقہ ص 226 ، البدایتہ والنہایہ 7 ص 349 ، جامع الاصول 9 ص 158 ، احقاق الحق 9 ص 309 ، 375 ، نفحات الازہار خلاصہ عبقات الانوار 2 ص 88 ، 227 ، الخصال 65 / 97 ، 459 / 2 ، امالی طوسی (ر) 1 ص 255 2 ص 490 ، کمال الدین 234 ، 241 ، معانی الاخبار 90/ 3 ، امالی مفید ص 46 / 6 ، امالی صدوق ص 339 ارشاد 1 /233 ، کفایتہ الاثر ص 92 ، 128 ، 137۔

اس کے علاوہ صاحب عبقات الانوار کے بیان کے مطابق 19 تابعین ہیں جنھوں نے اس حدیث شریف کو نقل کیا ہے اور تین سو سے زیادہ علماء و مشاہیر و حافظین احادیث ہیں جنھوں نے دوسری صدمی سے چودھویں صدی تک اپنی کتابوں اور اپنے بیانات میں اس کا ذکر کیاہے۔( نفحات الازہار 2 ص 90)۔

واضح رہے کہ صاحب نہایتہ نے ثقلین کی توجیہ اس طرح کی ہے کہ ان کا اختیار کرنا اور ان کے مطابق عمل کرنا بہت سنگین کام ہے اور اس کے علاوہ ہر گرانقدر چیز کو ثقل کہا جاتاہے اور پیغمبر اکرم نے انھیں ثقلین اسی اعتبار سے قرار دیاہے۔

نیز یہ بھی واضح رہے کہ صاحب عبقات کے بیان کے مطابق سخاوی نے ” استجلاب ارتقاء الغرف“ میں اور سہروردی نے ” جواہر العقدین “ میں بیس اصحاب کے روایت کرنے کا اعتراف کیاہے حالانکہ در حقیقت ان کی تعداد 33 ، ہے جیسا کہ گذشتہ سطروں میں تفیصلی تذکرہ کیا جاچکاہے۔

صحابہ کرام ، تابعین ، علماء و محدثین کے علاوہ ائمہ اہلبیت (ع) نے بھی اس حدیث مبارک کا مسلسل تذرکہ فرمایاہے اور اس کی اجمالی فہرست یہ ہے۔

جناب فاطمہ (ع) سے یہ حدیث ینابیع المودة 1 ص 123 ، نفحات الازہار 2 ص 236 میں نقل کی گئی ہے۔

# امام حسن (ع) سے ینابیع المودة 1 ص 74 ، کفایة الاثر ص 162 ، نفحات الازہار 2 ص67 میں نقل کی گئی ہے۔

# امام حسین (ع) سے کمال الدین ص 240 64 ، مناقب ابن شہر آشوب 4 / 67 میں نقل کی گئی ہے۔

# امام محمد(ع) باقر سے کافی 3 ص 432 امالی طوسی (ر) ص 163 ، روضة الواعظین ص 300 میں نقل کی گئی ۔

# امام جعفر صادق (ع) سے کافی 1 ص 294 ، کمال الدین 1 ص 244 ، تفسیر عیاشی 1 ص 5/9 میں نقل کی گئی ہے۔

# امام علی (ع) رضا سے عیون الاخبار 2 ص 58 بحار 10 ص 369 میں نقل کی گئی ہے۔

# امام علی (ع) نقی سے تحف العقول ص 458 ، الاحتجاج 2 ص 488 میں نقل کی گئی ہے۔

ب ۔ تاریخ صدور حدیث

حدیث مبارک کے صدور اور اس کی مناسبت کے بارے میں تحقیق کی جائے تو یہ نتیجہ نکلتاہے کہ حضور نے اس کی بار بار تکرار فرمائی ہے اور اس بات پر زور دیاہے کہ امت اسلامیہ کا سماجی اور سیاسی مستقبل انھیں سے وابستہ ہے اور ان کے بغیر تباہی اور گمراہی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ ذیل میں ان مقامات کی جمالی نشاندہی کی جارہی ہے ۔

1 ۔ حجة الوداع کے موقع پر روز عرفہ ( سنن ترمذی 5 / 262 / 3786)۔

2 ۔ مسجد خیف میں ۔ اس کے راوی سلیم بن قیس ہیں۔(ینابیع المودة 1 ص 109 / 31)۔

3 ۔ غدیر خم میں ۔ اس کے راوی زید بن ارقم ہیں ۔( مستدرک 3 ص 118 / 4576 / 3 ص 613 / 6272 ، خصائص نسائی ص 150 ، کمال الدین ص 234 / 45 ص 238 / 55)۔

واضح رہے کہ صاحب مستدرک نے دونوں مقامات پر اس امر کی تصریح کی ہے کہ اس حدیث کی سند بخاری اور مسلم دونوں کے اصول پر صحیح ہے مگر ان حضرات نے اسے اپنی کتاب میں جگہ نہیں دی ہے۔

4 ۔ مرض الموت کے دوران حجرہ کے اندر جب حجرہ اصحاب سے بھرا ہوا تھا۔ یہ روایت جناب فاطمہ (ع) سے نقل کی گئی ہے۔( ینابیع المودة 1 ص 124 ، مسند زید ص 404 )

نوٹ ! صواعق محرقہ ص 150 پر ابن حجر کا بیان ہے کہ حدیث تمسک کے مختلف طرق ہیں جن میں اس حدیث کو بیس سے زیادہ صحابہ کرام سے نقل کیا گیاہے اور بعض میں یہ تذکرہ ہے کہ حضور نے اسے حجة الوداع کے موقع پر میدان عرفات میں فرمایاہے۔ بعض میں مدینہ میں حجرہ کے اندر کا ذکر ہے بعض روایات میں حج سے واپسی پر غدیر خم کا حوالہ ہے اور ان میں کوئی تضاد نہیں ہے کہ اس بات کا امکان بہر حال پایا جاتاہے کہ حضور نے یہ بات بار بار ارشاد فرمائی ہو کہ کتاب عزیز اور عترت طاہرہ (ع) دونوں اس قابل ہیں کہ ان کے بارے میں تاکید اور اہتمام سے کام لیا جائے۔

3 ۔ خلفاء اللہ

184 ۔ کمیل بن زیاد راوی ہیں کہ امیر المؤمنین (ع) میرا ہاتھ پکڑ کر صحرا کی طرف لے گئے اور وہاں جاکر ایک آہ سرد کھینچ کر فرمایا ” بیشک زمین حجت خدا کو قائم رکھنے والے سے خالی نہیں ہوسکتی ہے چاہے ظاہر بظاہر ہو یا پردہٴ غیب میں ہوتا کہ اللہ کے دلائل و بینات باطل نہ ہونے پائیں۔ مگر یہ کتنے ہیں اور کہاں ہیں ؟ خدا کی قسم عدد کے اعتبار سے بہت تھوڑے ہیں اگر چہ قدر و منزلت کے اعتبار سے بہت عظیم ہیں۔ انھیں کے ذریعہ پروردگار اپنے حجج و بینات کا تحفظ کرتاہے یہاں تک کہ اپنے امثال کے حوالہ کردیں اور اپنے جیسے افراد کے دلوں میں ثابت کردیں۔ انھیں علم نے حقیقت بصیرت تک پہنچا دیاہے اور روح یقین ان کے اندر پیوست ہوگئی ہے۔ جسے دنیادار سخت سمجھتے ہیں وہ ان کے لئے نرم ہے اور جس سے جاہلوں کو وحشت ہوتی ہے اس سے انھیں انس حاصل ہوتاہے۔ یہ دنیا میں ان اجسام کے ساتھ زندہ رہتے ہیں جن کی روحیں عالم اعلیٰ سے وابستہ رہتی ہیں۔

یہ زمین میں ” خلفاء اللہ “ اور اس کے دین کی طرف دعوت دینے والے ہیں ۔ ہائے مجھے کس قدر اشتیاق ہے انھیں دیکھنے کا ۔ (نہج البلاغہ حکمت ص 147)۔

خصال ص 186 / 257 کمال الدین ص 291 ، تاریخ یعقوبی 2 ص 206 ، خصائص الائمہ ص 106 ، حلیة الاولیاء 1 ص 79 ، کنز العمال 10 ص 262 / 29291 ، امالی الشجری 1 ص 66 ، مناقب امیر المومنین (ع) الکوفی 2 ص 95)۔

185 ۔ امام زین العابدین (ع) دعائے عرفہ میں فرماتے ہیں ۔ خدایا رحمت نازل فرما ان پاکیزہ کردار اہلبیت (ع) پر جنھیں تو نے اپنے امر کے لئے منتخب کیا ہے اور اپنے علم کا خزانہ بنایاہے اور اپنے دین کا محافظ قرار دیاہے اور وہ زمین میں ” تیرے خلفاء“ اور بندوں پر تیری حجت ہیں ۔ انھیں ہر رجس اور کثافت سے پاک بنایاہے اور اپنی بارگاہ کے لئے وسیلہ اور اپنی جنت کے لئے سیدھا راستہ قرار دیاہے۔( صحیفہ سجادیہ دعاء ص 47 ) ۔

186 ۔ امام رضا (ع) ۔ ائمہ زمین میں پروردگار کے خلفاء ہوتے ہیں ۔ کافی 1 ص 193 )۔

187 ۔ علی بن حسان ! امام رضا (ع) سے امام موسیٰ (ع) کاظم کی زیارت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو فرمایا اطراف قبر میں جس مسجد میں چاہونماز ادا کرو اور زیارت کے لئے ہر مقام پر اسی قدر کافی ہے” سلام ہو اولیاء و اصفیاء پروردگار پر ۔ سلام ہو امناء و احباء الہی پر ۔ سلام ہو انصار و خلفاء اللہ پر ۔( الفقیہ 2 ص 608 ، عیو ن اخبار الرضا (ع) ص2 ص 271 ، کامل الزیارات ص 315 ، کافی 4 ص 579) ۔

واضح رہے کہ کافی کی روایت میں زیارت قبر امام حسین (ع) کا ذکر کیا گیاہے۔

188 ۔ امام علی نقی (ع) نے زیارت جامعہ میں ارشاد فرمایاہے ” میں گواہی دیتاہوں کہ آپ حضرات ائمہ راشدین و مہدیین ہیں۔ خدا نے اپنی روح سے آپ حضرات کی تایید کی ہے اور آپ کو زمین پر اپنا خلیفہ انتخاب فرمایاہے۔ ( تہذیب 6 ص 97 / 177)۔

4 ۔ خلفاء النبی

189 ۔ رسول اکرم ! میرے خلفاء ۔ اولیاء اور میرے بعد مخلوقات پر حجت پروردگار بارہ افراد ہوں گے۔ اول میرا برادر اور آخر میرا فرزند ! سوال کیا گیا کہ یہ برادر کون ہیں ؟ فرمایا علی (ع) بن ابی طالب ! اور فرزند کون ہے؟ فرمایا وہ مہدی جو ظلم و جور سے بھری ہوئی دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیگا ۔( کمال الدین ص 280 / 27 ، فرائد السمطین 2 ص 312 / 562 از عبداللہ بن عباس)۔

190 ۔ امام علی (ع) حضرت مہدی (ع) کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔ وہ حکم کی زرہ سے آراستہ ہوگا اور اس کے تمام آداب پر عامل ہوگا کہ اس کی طرف متوجہ بھی ہوگا اور اس کی معرفت بھی رکھتاہوگا اور اس کے لئے اپنے کو فارغ رکھے گا ، گویا اس کا گمشدہ ہے جس کی تلاش جاری ہے اور ایک ضرورت ہے جس کے بارے میں جستجو کررہاہے۔ وہ اس وقت غریب و مسافر ہوجائے گا جب اسلام غربت کا شکار ہوگا اور تھکے ماندہ اونٹ کی طرح سینہ زمین پر ٹیک دیا ہوگا اور دم مار رہاہوگا ۔ وہ اللہ کی باقیماندہ حجتوں کا بقیہ ہے اور اس کے انبیاء کے خلفاء میں سے ایک خلیفہ ہے۔( نہج البلاغہ خطبہ 182)۔

191 ۔ امیر المومنین (ع) آل محمد کی توصیف کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ ائمہ طاہرین اور عترت معصومین ہیں ۔ یہی ذریت محترم ہیں اور یہی خلفاء راشدین ہیں ۔( مشارق انوار الیقین ص118 از طارق بن شہاب ) ۔

192 ۔ امام صادق (ع) ، ائمہ رسول اکرم کی منزل میں ہوتے ہیں لیکن رسول نہیں ہوتے ہیں اور نہ ان کے لئے وہ چیزیں حلال ہیں جو صرف پیغمبر کے لئے حلال ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ہر مسئلہ میں رسول اکرم کی منزلت میں ہیں ۔( کافی 1 ص 270 از محمد بن مسلم )۔

5 ۔ اوصیاء نبی

193 ۔ رسول اکرم ! میں سید الانبیاء والمرسلین اور افضل از ملائکہ مقربین ہوں اور میرے اولیاء تمام انبیاء و مرسلین کے اوصیاء کے سردار ہیں ۔( امالی صدوق (ر) ص 245 ، بشارة المصطفی ٰ ص 34)۔

194 ۔ رسول اکرم ! میں انبیاء کا سردار ہوں اور علی (ع) بن ابی طالب (ع) اوصیاء کے سردار ہیں اور میرے اوصیاء میرے بعد کل بارہ ہوں گے جن کے اول علی (ع) بن ابی طالب ہوں گے اور آخری قائم ۔( کمال الدین ص 280 ، عیون اخبار الرضا (ع) 1 ص 64 ، فرائد السمطین 2 ص 313۔

195 ۔ رسول اکرم ! ہر نبی کا ایک وصی اور وارث ہوتاہے اور علی (ع) میرا وصی اور وارث ہے(الفردوس 3 ص 336)۔

تاریخ دمشق حالات امیر المؤمنین (ع) 3 ص 5 / 1021 ، 1022 ، مناقب خوارزمی 84/ 74 ، مناقب ابن المغازلی ص 200 / 238)۔

196 ۔ سلمان ! میں نے رسول اکرم سے عرض کی کہ ہر نبی کا ایک وصی ہوتاہے تو آپ کا وصی کون ہے ؟ آپ خاموش ہوگئے، اس کے بعد جب مجھے دیکھا تو آوازی دی ، میں دوڑ کر حاضر ہوا ۔ فرمایا تمھیں معلوم ہے کہ موسی ٰ (ع) کا وصی کون ہے ؟ میں نے عرض کی یوشع بن نون ! فرمایا کیسے ؟ عرض کی کہ وہ سب سے بہتر تھے۔ فرمایا تو میرا وصی اور میرے اس امر کا مرکز اور میری تمام امت میں سب سے بہتر، میرے تمام وعدوں کو پورا کرنے والا اور میرے قرض کا ادا کرنے والا علی (ع) بن ابی طالب ہوگا۔ (المعجم الکبیر 6 ص 221 / 63 60 ، کشف الغمہ 1 ص 157)۔

197 ۔ رسول اکرم حدیث معراج میں فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی خدایا میرے اوصیاء کون ہیں ؟ ارشاد ہوا ۔ اے محمد ! تمھارے اوصیاء کون ہیں؟ ارشاد ہوا۔ اے محمد ! تمھارے اوصیاء وہی ہیں جن کے نام ساق عرش پر لکھے ہوئے ہیں تو میں نے سر اٹھاکر دیکھا اور بارہ نور چمکتے ہوئے دیکھے اور ہر نور پر ایک سبز لکیر دیکھی جس پر میرے ایک وصی کا نام لکھا ہوا تھا جس میں پہلے علی (ع) بن ابی طالب تھے اور آخری مہدی (ع)۔

میں نے عرض کی خدایا یہی میرے اوصیاء ہیں؟ ارشاد ہوا ، اے محمد ! تمھارے اوصیاء وہی ہیں جن کے نام ساق عرش پر لکھے ہوئے ہیں تو میں نے سر اٹھاکر دیکھا اور بارہ نورچمکتے ہوئے دیکھے اور ہر نور پر ایک سبز لکیر دیکھی جس پر میرے ایک وصی کا نام لکھا ہوا تھا جس میں پہلے علی (ع) بن ابی طالب تھے اور آخری مہدی (ع) میں نے عرض کی خدایا یہی میرے بعد میرے اوصیاء ہیں ؟ ارشاد ہوا اے محمد ! یہی میرے اولیاء ، احباء ، اصفیاء اور تمھارے بعد مخلوقات پر میری حجت ہیں اور یہی تمھارے اوصیاء خلفاء اور تمھارے بعد بہترین مخلوقات ہیں۔(علل الشرائع 6 ص 1 ، عیون اخبار الرضا (ع) 1 ص 264 ، کمال الدین ص 256 از عبدالسلام بن صالح الہروی از امام رضا (ع) )۔

198 ۔ رسول اکرم کا وقت آخر تھا اور جناب فاطمہ (ع) فریاد کررہی تھیں کہ آپ کے بعد میرے اور میری اولاد کے برباد ہوجانے کا خطرہ ہے، امت کے حالات آپ کی نگاہوں کے سامنے ہیں تو آپ نے فرمایا ، فاطمہ (ع) ! کیا تمھیں نہیں معلوم ہے کہ پروردگار نے ہم اہلبیت (ع) کے لئے آخرت کو دنیا پر ترجیح دی ہے اور تمام مخلوقات کے لئے فناکو مقدر کردیا ہے، اس نے ایک مرتبہ مخلوقات پر نگاہ انتخاب ڈالی تو تمھارے باپ کو منتخب کرکے نبی قرار دیا اور دوبارہ نگاہ ڈالی تو تمھارے شوہر کا انتخاب کیا اور مجھے حکم دیا کہ میں تمھارا عقد ان کے ساتھ کردوں اور انھیں اپنا ولی اور وزیر قرار دیدوں اور امت میں اپنا خلیفہ نامزد کردوں تو اب تمھارا باپ تمام انبیاء و مرسلین سے بہتر ہے اور تمھارا شوہر تمام اولیاء سے بہتر ہے اور تم سب سے پہلے مجھ سے ملنے والی ہو۔

اس کے بعد مالک نے تیسری نگاہ ڈالی تو تمھیں اور تمھارے دونوں فرزندوں کا انتخاب کیا، اب تم سردار نساء اہل جنت ہو اور تمھارے دونوں فرزند سرداران جوانان اہل جنّت ہیں اور تمھاری اولاد میں قیامت تک میرے اوصیاء ہوں گے جو ہادی اور مہدی ہوں گے، میرے اوصیاء میں سب سے پہلے میرے بھائی علی (ع) ہیں، اس کے بعد حسن (ع) اس کے بعد حسین (ع) اور اس کے بعد نو اولاد حسین (ع) یہ سب کے سب میرے درجہ میں ہوں گے اورجنّت میں خدا کی بارگاہ میں میرے درجہ سے اور میرے باپ ابراہیم کے درجہ سے قریب تر کوئی درجہ نہ ہوگا ۔( کمال الدین ص 263 از سلیم بن قیس الہلالی)۔

199 ۔ امام حسین (ع) ! پروردگار عالم نے حضرت محمد کو تمام مخلوقات میں منتخب قرار دیا ہے، انھیں نبوت سے سرفراز کیا ہے، رسالت کے لئے انتخاب کیا ہے، اس کے بعد جب انھیں واپس بلالیا، اس وقت جب وہ بندوں کو نصیحت کرچکے اور پیغام الہی کو پہنچا چکے تو ہم ان کے اہلبیت (ع) اولیاء ، اوصیاء، ورثہ اور تمام لوگوں سے زیادہ ان کی جگہ کے حقدار تھے لیکن قوم نے ہم پر زیادتی کی تو ہم خاموش ہوگئے اور ہم نے کوئی تفرقہ پسند نہیں کیا بلکہ عافیت کو ترجیح دی جبکہ ہمیں معلوم ہے کہ ہم ان تمام لوگوں سے زیادہ حقدار میں جنھوں نے اس جگہ پر قبضہ کرلیا تھا، ۔( تاریخ طبری 5 ص 357 از ابوعثمان نہدی، البداینة والنہایتہ 8 ص 157)۔

200 ۔ امام محمد باقر (ع) ! پروردگار کی بارگاہ میں سب سے زیادہ قریب تر ، لوگوں سے سب سے اعلم اور مہربان حضرت محمد اور ائمہ کرام ہیں لہذا جہاں یہ داخل ہوں سب داخل ہوجاؤ اور جس سے یہ الگ ہوجائیں سب الگ ہوجاؤ، حق انھیں میں ہے اور یہی اوصیاء میں اور یہی ائمہ ہیں ، جہاں انھیں دیکھو ان کا اتباع شروع کردو( کمال الدین ص 328 از ابوحمزہ الثمالی)۔

201 ۔ محمد بن مسلم! میں نے امام صادق (ع) کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ اللہ کی کچھ مخصوص مخلوق ہے جسے اس نے اپنے نور اور اپنی رحمت سے پیدا کیا ہے، رحمت سے رحمت کے لئے، یہی خدا کی نگرانی کرنے والی آنکھیں اس کے سننے والے کان، اس کی اجازت سے بولنے والی زبان اور اس کے تمام احکام و بیانات کے امانتدار ہیں، انھیں کے ذریعہ وہ برائیوں کو محو کرتاہے، ذلت کو دفع کرتاہے، رحمت کو نازل کرتاہے، مردوہ کو زندہ کرتاہے، زندہ کو مردہ بناتاہے، لوگوں کی آزمائش کرتاہے، مخلوقات میں اپنے فیصلے نافذ کرتاہے۔ تو میں نے عرض کی کہ میرے ماں باپ قربان، یہ کون حضرات ہیں، فرمایا یہ اوصیاء ہیں ۔( التوحید ص 167 ، معانی الاخبار ص 16)۔

202 ۔ امام ہادی (ع) نے زیارت جامعہ میں فرمایا کہ سلام ہو ان پر جو معرفت الہی کے مرکز۔ برکت الہی کے مسکن، حکمت الہی کے معدن، راز الہی کے محافظ، کتاب الہی کے حافظ ، رسول اللہ کے اوصیاء اور ان کی ذریت ہیں، انھیں پر رحمت اور انھیں پر برکات۔(تہذیب 6 ص96 / 177)۔

مولف! واضح رہے کہ ائمہ اہلبیت (ع) کے اوصیاء رسول ہونے کی روایات بہت زیادہ ہیں جن کے بارے میں ابوجعفر محمد بن علی بن الحسین بن بابویہ القمی کا ارشاد ہے کہ قوی اسناد کے ساتھ صحیح اخبار میں اس حقیقت کا اعلان کیا گیا ہے کہ رسول اکرم نے اپنے معاملات کی وصیت حضرت علی (ع) بن ابی طالب (ع) کو فرمائی اور انھوں نے امام حسن (ع) کو … اور انھوں نے امام حسین (ع) کو … اور انھوں نے علی بن الحسین (ع) کو … اور انھوں نے محمد بن علی (ع) کو … اور انھوں نے علی بن موسیٰ کو … اور انھوں نے محمد بن علی (ع) کو … اور انھوں نے علی بن محمد (ع) کو … اور انھوں نے حسن (ع) بن علی (ع) کو … اور انھوں نے اپنے فرزند حجت قائم کو فرمائی کہ اگر عمر دنیا میں صرف ایک دن باقی رہ جائے گا تو خدا اس دن کو اس قدر طول دے گا کہ وہ منظر عام پر آکر ظلم و جور سے بھری ہوئی دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں، پروردگار کی صلوات و رحمت ان پر اور ان کے جملہ آباء طاہرین پر ۔ (الفقیہ 4 ص 177)۔

6 ۔ پیغمبر اسلام کے محبوب ترین

203 ۔ جناب ام سلمہ کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اکرم تشریف فرما تھے کہ اچانک فاطمہ (ع) ایک مخصوص غذا لے کر حاضر ہوگئیں، آپ نے فرمایا کہ علی (ع) اور ان کے فرزند کہاں ہیں ؟ جناب فاطمہ (ع) نے عرض کی کہ گھر میں ہیں۔

فرمایا انھیں طلب کرو ! اتنے میں علی (ع) و حسن (ع) و حسین (ع) آگئے اور آپ نے سب کو دیکھ کر اپنی خیبری چادر کو اٹھایا اور سب کو اوڑھا کر فرمایا خدا یا یہ میرے اہلبیت (ع) اور ” تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ محبوب “ ہیں ، لہذا ان سے ہر رجس کو دور رکھنا اور انھیں کمال طہارت کی منزل پر رکھنا جس کے بعد آیت تطہیر نازل ہوگئی ۔( کشف الغمہ 1ص 45)۔

204 ۔ امام علی (ع) ! ایک شخص رسول اکرم کی خدمت میں حاضرہوا اور دریافت کیا کہ حضور سب سے زیادہ محبوب آپ کی نظر میں کون ہے؟ فرمایا کہ یہ (علی(ع)) اور اس کے دونوں فرزند اور ان کی ماں(فاطمہ(ع)) یہ سب مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں اور یہ جنت میں میرے ساتھ اسی طرح ہوں گے جس طرح یہ دونوں انگلیاں۔(امالی طوسی ص 452 / 100 از زید بن علی (ع))۔

205 ۔ جمیع بن عمیر التیمی! اپنی پھوپھی کے ساتھ حضرت عائشہ کے پاس حاضر ہوا اور میری پھوپھی نے سوال کیا کہ رسول اکرم کے سب سے زیادہ محبوب شخصیت کون تھی؟ تو انھوں نے فرمایا فاطمہ (ع) ! پھوپھی نے پوچھا اور مردوں میں ؟ فرمایا، ان کے شوہر، وہ ہمیشہ دن میں روزے رکھتے تھے اور رات بھر نمازیں پڑھا کرتے تھے( سنن ترمذی 5 ص 701 / 3874)۔

206 ۔ جمیع بن عمیر ! میں ایک مرتبہ اپنی ماں کے ساتھ حضرت عائشہ کے پاس حاضرہو اور میری ماں نے یہی سوال تو انھوں نے فرمایا کہ تم محبوب ترین خلائق کے بارے میں دریافت کررہی ہو تو ان کے محبوب ترین بیٹئ کا شوہر ہے، میں نے خود حضور کو دیکھا ہے کہ انھوں نے علی (ع) ، فاطمہ اور حسن (ع) و حسین (ع) کو جمع کرکے ان پر چادر اوڑھاکر یہ دعا کی تھی کہ خدایا یہ سب میرے اہلبیت (ع) میں ان سے رجس کو دور رکھنا اور انھیں پاک پاکیزہ رکھنا، جس کے بعد میں بھی قریب گئی اور دریافت کیا ، کیا میں بھی اہلبیت (ع) میں شامل ہوں؟ تو فرمایا دو ر رہو تم خیر پر ہو۔( مناقب امیر المومنین (ع) الکوفی 2 ص 132 / 617)۔

7 ۔ افضل خلائق

207 ۔ رسول اکرم ! تمھارے بزرگوں میں سب سے بہتر علی (ع) بن ابی طالب (ع) ہیں، تمھارے جوانوں میں سب سے افضل حسن (ع) و حسین (ع) ہیں اور تمھاری عورتوں میں سب سے بالاتر فاطمہ (ع) بنت محمد ہیں۔(تاریخ بغداد 4 / 392 / 2280)۔

208 ۔ رسول اکرم ! میں اور میرے اہلبیت(ع) سب اللہ کے مصطفی اور تمام مخلوقات میں منتخب بندہ ہیں۔( احقاق الحق 9/483)۔

209 ۔ رسول اکرم نے جناب فاطمہ (ع) سے فرمایا۔ فاطمہ (ع) ! ہم اہلبیت (ع) کو پروردگار نے وہ سات خصال عطا فرمائے ہیں جو نہ ہم سے پہلے کسی کو عطا کئے ہیں اور نہ ہمارے بعد کسی کو عطا کرے گا، مجھے خاتم النبین اور تمام مرسلین میں سب سے بزرگ تر اور تمام مخلوقات میں سب سے محبوب تر قرار دیا ہے میں تمھارا باپ ہوں اور میرا وصی جو تمام اوصیاء سے بہتر اور نگا ہ پروردگار میں محبوب تر ہے وہ تمھارا شوہر ہے، ہمارا شہید بہترینِ شہداء ہے اور خدا کے نزدیک محبوب ترین ہے جو تمھارے باپ اور شوہر کے چچا ہیں، ہمیں میں سے وہ شخصیت ہے جسے پروردگار نے فضائل جنّت میں ملائکہ کے ساتھ پرواز کرنے کے لئے دو سبز پر عنایت فرمادیے ہیں اور وہ تمھارے باپ کے ابن عم او ر تمھارے شوہر کے حقیقی بھائی ہیں اور ہمیں میں سے اس امت کے سبطین ہیں یعنی تمھارے دونوں فرزند حسن (ع) و حسین (ع) ہیں جو جوانان جنت کے سردار ہیں اور پروردگار کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے ان کا باپ ان سے بھی بہتر ہے ، فاطمہ (ع) ! خدائے برحق کی قسم انھیں دونوں کی اولاد میں اس امت کا مہدی بھی ہوگا ( المعجم الکبیر 3 ص 57 / 2675 از علی المکی الہلالی ، امالی طوسی (ر) ص 154 ، 256 ، الخصال ص 412 ، /16 ، الغیبة طوسی (ر) ص 191 ، 154 ، کشف الغمہ 1 ص 154 ، کفایة الاثر ص 63)۔

210 ۔ رسول اکرم ، میں سید النبیین ہوں علی (ع) بن ابی طالب (ع) سید الوصیین ہیں حسن (ع) و حسین (ع) سردار جوانان جنت ہیں، ان کے بعد کے ائمہ سردار متقین ہیں ، ہمارا دوست خدا کا دوست ہے اور ہمارا دشمن خدا کا دشمن ہے، ہماری اطاعت اللہ کی اطاعت ہے اور ہمارا دشمن خدا کا دشمن ہے، ہماری اطاعت اللہ کی اطاعت ہے اور ہماری نافرمانی اللہ کی نافرمانی ہے۔خدا ہمارے لئے کافی ہے اور وہی ہمارا ذمہ دار ہے( امالی صدوق (ر) ص 448 ) ۔

211 ۔ رسول اکرم ، علی (ع) بن ابی طالب (ع) اور ان کی اولاد کے ائمہ سب اہل زمین کے سردار اور روز قیامت روشن پیشانی لشکر کے قائد ہیں۔(امالی صدوق (ر) 466 / 24 از عمرو بن ابی سلمہ )

212 ۔ رسول اکرم ! یا علی (ع) ! تم اور تمھاری اولاد کے ائمہ سب دنیا کے سردار اور آخرت کے شہنشاہ ہیں جس نے ہمیں پہچان لیا اس نے خدا کو پہچان لیا اور جس نے ہمارا انکار کردیا اس نے خدا کا انکار کردیا ۔( امالی صدوق (ع) ص 523 /6 از سلیمان بن مہران ص 448 از حسن بن علی (ع) بن فضال، عیون اخبار الرضا (ع) 2 ص 57 / 210 ملوک فی الارض)۔

213 ۔ ابن عباس راوی ہیں کہ رسول اکرم نے عبدالرحمٰن بن عوف سے فرمایا کہ تم سب میرے اصحاب ہو اور علی (ع) بن ابی طالب مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں، وہ میرے علم کا دروازہ اور میرے وصی ہیں، وہ فاطمہ (ع) ، حسن(ع) اور حسین (ع) سب اصل و شرف اور کرم کی اعتبار سے تمام اہل زمین سے افضل و برتر ہیں( ینابیع المودة 2 ص 333 / 973 ، مائتہ منقبہ ص 122 ، مقتل خوارزمی 1 ص 60)۔

مزید  فلسفہ دنیاداری

214 ۔ امیر المؤمنین (ع) رسول اکرم کی توصیف کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ کی عترت بہترین عترت ، آپ کا خاندان بہترین خاندان اور آپ کا شجرہ بہترین شجرہ ہے۔( نہج البلاغہ خطبہ 94)۔

8 ۔ مباہلہ میں شرکت

315 ۔ عبدالرحمان بن کثیر نے جعفر بن محمد، ان کے والد بزرگوار کے واسطہ سے امام حسن (ع) سے نقل کیا ہے کہ مباہلہ کے موقع پر آیت کے نازل ہونے کے بعد رسول اکرم نے نفس کی جگہ میرے والد کو لیا، ابنائنا میں مجھے اور بھائی کولیا، نساء نامیں میری والدہ فاطمہ (ع) کو لیا اور اس کے علاوہ کائنات میں کسی کو ان الفاظ کا مصداق نہیں قرار دیا لہذا ہمیں ان کیا اہلبیت (ع) گوشت و پوست اور خون و نفس ہیں، ہم ان سے ہیں اور وہ ہم سے ہیں۔(امالی (ع) طوسی (ر) 564 / 1174 ، ینابیع المودة 1 ص 165 / 1)۔

216 ۔ جابر ! رسول اکرم کے پاس عاقب اور طیب ( علماء نصاریٰ) وارد ہوئے تو انھیں اسلام کی دعوت دی ، ان دونوں نے کہا کہ ہم تو پہلے ہی اسلام لاچکے ہیں ، آپ نے فرمایا کہ بالکل جھوٹ ہے اور تم چار ہو تو میں بتا سکتاہوں کہ تمھارے لئے اسلام سے مانع کیا ہے؟ ان لوگوں نے کہا فرمائیے؟

فرمایا کہ صلیب کی محبّت ، شراب اور سور کا گوشت اور یہ کہہ کر آپ نے انھیں مباہلہ کی دعوت دیدی اور ان لوگوں نے صبح کو آنے کا وعدہ کرلیا، اب جو صبح ہوئی تو رسول اکرم نے علی (ع) ، حسن (ع) ، حسین (ع) کو ساتھ لیا اور پھر ان دونوں کو مباہلہ کی دعوت دی لیکن انھوں نے انکار کردیا اور سپر انداختہ ہوگئے۔

آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم جس نے مجھے نبی بنایاہے کہ اگر ان لوگوں نے مباہلہ کرلیا ہوتا تو یہ وادی آگ سے بھر جاتی ، اس کے بعد جابر کا بیان ہے کہ انھیں حضرات کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی ہے فقل تعالو ندع ابنائنا و ابنائکم و نسائنا و نسائکم و انفسنا و انفسکم …

شعب نے جابر کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ انفسنا میں رسول اکرم تھے اور حضرت علی (ع) ، ابنائنا میں حسن(ع) و حسین (ع) تھے اور نسائنا میں فاطمہ (ع) (دلائل النبوة ابونعیم 2 ص 393 / 244 ، مناقب ابن المغازلی ص 263 / 310 العمدة 190 / 191 ، الطرائف 46 / 38)۔

217 ۔ زمخشری کا بیان ہے کہ جب رسول اکرم نے انھیں مباہلہ کی دعوت دی تو انھوں نے اپنے دانشور عاقب سے مشورہ کیا کہ آپ کا خیال کیاہے؟ اس نے کہا کہ تم لوگوں کو معلوم ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور انھوں نے حضرت مسیح (ع) کے بارے میں قول فیصل سنادیا ہے اور خدا گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے کسی نبی بر حق سے مباہلہ کیا ہے تو نہ بوڑھے باقی رہ سکے ہیں اور نہ بچے نپپ سکے ہیں اور تمھارے لئے بھی ہلاکت کا خطرہ یقینی ہے ، لہذا مناسب ہے کہ مصالحت کرلو اور اپنے گھروں کو واپس چلے جاؤ۔

دوسرے دن جب وہ لوگ رسول اکرم کے پاس آئے تو آپ اس شان سے نکل چکے تھے کہ حسین (ع) کو گود میں لئے تھے، حسن (ع) کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے فاطمہ (ع) آپ کے پیچھے چل رہی تھیں اور علی (ع) ان کے پیچھے۔ اور آپ فرمارہے تھے کہ دیکھو جب میں دعا کروں تو تم سب آمین کہنا۔

اسقف نجران نے یہ منظر دیکھ کر کہا کہ خدا کی قسم میں ایسے چہرے دیکھ رہاہوں کہ اگر خدا پہاڑ کو اس کی جگہ سے ہٹانا چاہے تو ان کے کہنے سے ہٹا سکتا ہے، خبردار مباہلہ نہ کرنا ورنہ ہلاک ہوجاؤگے اور روئے زمین پر کوئی ایک عیسائی باقی نہ رہ جائے گا۔

چنانچہ ان لوگوں نے کہا یا ابا القاسم ! ہماری رائے یہ ہے کہ ہم مباہلہ نہ کریں اور آپ اپنے دین پر رہیں اور ہم اپنے دین پر رہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ اگر مباہلہ نہیں چاہتے ہو تو اسلام قبول کرلو تا کہ مسلمانوں کے تمام حقوق و فرائض میں شریک ہوجاؤ !

ان لوگوں نے کہا یہ تو نہیں ہوسکتاہے !

فرمایا پھر جنگ کے لئے تیار ہوجاؤ، کہا اس کی بھی طاقت نہیں ہے، البتہ اس بات پر صلح کرسکتے ہیں کہ آپ نہ جنگ کریں نہ ہمیں خوفزدہ کریں، نہ دین سے الگ کریں، ہم ہر سال آپ کو دو ہزار حلّے دیتے رہیں گے، ایک ہزار صفر کے مہینہ میں اور ایک ہزار رجب کے مہینہ میں اور تیس عدد آہنی زر ہیں !

چنانچہ آپ نے اس شرط سے صلح کرلی اور فرمایا کہ ہلاکت اس قوم پر منڈ لارہی تھی، اگر انھوں نے لعنت میں حصہ لے لیا ہوتا تو سب کے سب بندر اور سور کی شکل میں مسخ ہوجاتے اور پوری وادی آگ سے بھر جاتی اور اللہ اہل نجرات کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیتا اور درختوں پر پرندہ تک نہ رہ جاتے اور ایک سال کے اندر سارے عیسائی تباہ ہوجاتے ۔

اس کے بعد زمخشری نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ آیت شریف میں ابناء و نساء کو نفس پر مقدم کیا گیا ہے تا کہ ان کی عظیم منزلت اور ان کے بلندترین مرتبہ کی وضاحت کردی جائے اور یہ بتادیاجائے کہ یہ سب نفس پر بھی مقدم ہیں اور ان پر نفس بھی قربان کیا جاسکتاہے اور اس سے بالاتر اصحاب کساء کی کوئی دوسری فضیلت نہیں ہوسکتی ہے۔( تفسیر کشاف 1 ص 193 ، تفسیر طبری 3 ص 299 ، تفسیر فخر الدین رازی ص8 ص 88 ، ارشاد 1 ص 166 ، مجمع البیان 2 ص 762 ، تفسیر قمی 1 ص 104۔

واضح رہے کہ فخر رازی نے اس روایت کے بارے میں لکھا ہے کہ اس کی صحت پر تقریباً تمام اہل تفسیر و حدیث کا اتفاق و اجماع ہے۔

9 ۔ اولو الامر

یا ایہا الذین امنوا اطیعو اللہ و اطیعو الرسول و اولی الامر منکم۔( نساء آیت 59 )

218 ۔ امام علی (ع) ! رسول اکرم نے فرمایا کہ اولو الامر وہ افراد ہیں جنھیں خدا نے اطاعت میں اپنا اور میرا شریک قرار دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ جب کسی امر میں اختلاف کا خوف ہو تو انھیں سب کی طرف رجوع کیا جائے۔ تو میں نے عرض کی کہ حضور وہ کون افراد ہیں ؟ فرمایا کہ ان میں سے پہلے تم ہو ( شواہد التنزیل 1 ص 189 / 202 ، الاعتقادات 5 ص 121 ، کتاب سلیم 6 ص 626)۔

219 ۔ امیر المؤمنین (ع) نے کوفہ میں وارد ہونے کے بعد فرمایا اہل کوفہ ! تمھارا فرض ہے کہ تقوائے الہی اختیار کرو اور تمھارے پیغمبر کے اہلبیت (ع) جو اللہ کے اطاعت گذار ہیں ان کی اطاعت کرو کہ یہ اطاعت کے زیادہ حقدار ہیں، ان لوگوں کی بہ نسبت جوان کے ماقبلہ میں اطاعت کے دعویدار ہیں اور انھیں کی وجہ سے صاحبان فضیلت بن گئے ہیں اور پھر ہمارے فضل کا انکار کردیاہے اور ہمارے حق میں ہم سے جھگڑا کر کے ہمیں محروم کرنا چاہتے ہیں ، انھیں اپنے کئے کامزہ معلوم ہوچکاہے اورعنقریب گمراہی کا انجام دیکھ لیں گے۔( امالی مفید 127 / 5 ، ارشاد 1 / 260)۔

220 ۔ ہشام بن حسان، امام حسن (ع) نے لوگوں سے بیعت لینے کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا کہ ہماری اطاعت کرو یہ اطاعت تمھارا فریضہ ہے، یہ اطاعت خدا و رسول کی اطاعت سے ملی ہوئی ہے” اطیعو اللہ و اطیعوا الرسول و اولی الامر منکم“ … ( امالی مفید ص 349 ، امالی طوسی (ر) 122 / 188 ، احتجاج 2 ص 94 ، مناقب ابن شہر آشوب 4 ص 67)۔

221 ۔ امام حسین (ع) نے میدان کربلا میں فوج دشمن سے خطاب کرکے فرمایا ” ایھا الناس“ اگر تم تقویٰ اختیار کرو اور حق کو اس کے اہل کے لئے پہچان لو تو اس میں رضائے خدا زیادہ ہے، دیکھو ہم پیغمبر کے اہلبیت (ع) ہیں اور ان مدعیوں سے زیادہ امر رسالت کے حقدار ہیں جو ظلم و جور کا برتاؤ کررہے ہیں اور اگر اب تم ہمیں ناپسند کررہے ہو اور ہمارے حق کا انکار کررہے ہو تو یہ تمھاری نئی رائے ہے،اس کے خلاف جو تمھارے خطوط میں درج ہے اور جس کا اشارہ تمھارے رسائل نے دیا ہے اور اس بنیاد پر ہیں واپس بھی جاسکتاہوں۔( ارشاد 2 ص 79 ، وقعة الطف ص 170 ، کامل 2 ص 552)۔

222 ۔ امام زین العابدین (ع) اپنی دعا میں فرماتے ہیں، خدایا اپنی محبوب ترین مخلوق محمد اور ان کی منتخب عترت پر رحمت نازل فرما جو پاکیزہ کردار ہیں اور ہمیں انکی باتوں کا سننے والا اور ان کی اطاعت کرنے والا قرار دیدے جس طرح تو نے ان کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔( صحیفہ سجادیہ دعاء ص 34 ، ینابیع المودہ 3 ص 417)۔

223 ۔ امام محمد باقر (ع) نے اطیعو اللہ و اطیعو الرسول کے ذیل میں فرمایا کہ اولی الامر صرف ہم لوگ ہیں جن کی اطاعت کا حکم قیامت تک کے صاحبان ایمان کو دیا گیاہے۔( الکافی 1 ص 276 / 1 از برید العجلی)۔

224 ۔ ابوبصیر ! میں نے آیت اطاعت کے بارے میں امام صادق (ع) سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ حضرت علی (ع) ، امام حسن (ع) ، امام حسین (ع) کے بارے میں نازل ہوئی ہے ! میں نے عرض کی کہ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ خدا نے ان کا نام کیوں نہیں لیا؟ فرمایا کہ جب خدا نے نماز کا حکم نازل کیا جب بھی تین رکعت اور چار رکعت کا نام نہیں لیا اور رسول اکرم ہی نے اس کی تفسیر کی ہے، اسی طرح جب زکٰوة کا حکم نازل کیا تو چالیس میں ایک کا ذکر نہیں کیا اور رسول اکرم نے اس کی تفسیر کی ہے، یہی حال حج کا ہے کہ اس میں طواف کے سات چکر کا ذکر نہیں ہے اور یہ بات رسول اکرم نے بتائی ہے تو جس طرح آپ نے تمام آیات کی تفسیر کی ہے، اسی طرح اولی الامر کی بھی تفسیر کردی ہے اور وقت نزول جو افراد موجود تھے ان کی نشاندہی کردی ہے۔ ( الکافی 1 ص 276 ، شواہد التنزیل 1 ص 191 ، 203 ، تفسیر عیاشی 1 ص 229 / 169)۔

225 ۔ امام صادق (ع) نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ اولو الامر ائمہ اہلبیت (ع) ہیں اور بس ( ینابیع المودة 1 ص 341 / 2 ، مناقب ابن شہر آشوب 3 /15 ) ۔

226 ۔ ابن ابی یعفور ! میں امام صادق (ع) کی خدمت میں حاضر ہوا جب آپ کے پاس بہت سے اصحاب موجود تھے … تو آپ نے فرمایا ، ابن ابی یعفور ! پروردگار نے اپنی، رسول اور صاحبان امر کی اطاعت کا حکم دیا ہے جو صیاء رسول اکرم ہیں، دیکھو ہم بندوں پر خدا کی حجت ہیں اور مخلوقات پر اس کی طرف سے نگراں ہیں ، ہمیں زمین کے امین ہیں اور علم کے خزانہ دار، اس کی طرف دعوت دینے والے ہیں اور اس کے احکام پر عمل کرنے والے، جس نے ہماری اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی اور جس نے ہماری نافرمانی کی اس نے خدا کی نافرمانی کی ۔( الزہد للحسین بن سعید ص 104 / 286 ، الکافی 1 ص 185 ، بحار الانوار 23 / 283 ، احقاق الحق ص 224 ، 14 ص 348)۔

10 ۔ اہل الذکر

227 ۔ رسول اکرم ! فاسئلوا اہل الذکر کے ذیل میں فرمایا کہ ذکر سے مراد میں ہوں اور اہل ذکر ائمہ ہیں ( الکافی 1 ص 210)۔

228 ۔ اما م علی (ع) ! ہم میں اہل ذکر ۔( ینابیع المودہ 1 ص 357 ، مناقب ابن شہر آشوب 3 ص 98 ، العمدة ص 288 / 468 )۔

229 ۔ حارث ! میں نے امام علی (ع) سے آیت اہل الذکر کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم ہم ہی اہل ذکر ہیں اور ہمیں اہل علم اور ہمیں معدن تنزیل و تاویل ہیں، میں نے خود رسول اکرم کی زبان سے سناہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں شہر علم ہوں اور علی (ع) اس کا دروازہ ہے، جسے بھی علم لیناہے اسے دروازہ سے آنا ہوگا(شواہد التنزیل 1 ص 432 / 459 ، مناقب ابن شہر آشوب 4 ص 179)۔

230 ۔ امام علی (ع) ! آگاہ ہوجاؤ کہ ذکر رسول اکرم ہیں اور ہم ان کے اہل میں اور راسخون فی العلم ہیں اور ہمیں ہدایت کے منارہے اور تقویٰ کے پرچم ہیں اور ہمارے ہی لئے ساری مثالیں بیان کی گئی ہیں۔( مناقب ابن شہر آشوب 3 ص 89)۔

231 ۔ امام محمد باقر (ع) نے آیت اہل الذکر کی تفسیر میں فرمایا کہ اہل ذکر ہم لوگ ہیں ۔( تفسیر طبری 10 / 17 ص 5 ، مناقب ابن شہر آشوب 4 ص 178 ، تفسیر فرات کوفی ص 235 ، 315 ، تاویل الآیات الظاہرہ ص 259 ، تفسیر قمی 2 ص 68)۔

232 ۔ امام باقر (ع) ۔ اہل ذکر عترت پیغمبر کے ائمہ ہیں ۔( شواہد التنزیل 1 ص 437 / 466)۔

233 ۔ ہشام ، میں نے امام صادق (ع) سے آیت اہل الذکر کے بارے میں دریافت کیا ہے کہ یہ کون حضرات ہیں تو فرمایا کہ ہم لوگ ہیں ۔

میں نے عرض کی تو ہم لوگوں کا فرض ہے کہ آپ سے دریافت کریں ؟ فرمایا بیشک ۔

تو پھر آپ کا فرض ہے کہ آپ جواب دیں ؟ فرمایا کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے۔(امالی طوسی 664 / 1390 ، کافی 1 ص 211)۔

234 ۔ امام صادق (ع) ! ذکر کے دو معنی ہیں ، قرآن اور رسول اکرم اور ہم دونوں اعتبار سے اہل ذکر ہیں، ذکر قرآن کے معنی میں سورہ نحل 24 میں ہے۔( ینابیع المودہ 1 ص 357 / 14)۔

235 ۔ امام صادق (ع) مالک کائنات کے ارشاد فاسئلوا اہل الذکر … میں کتاب ذکر ہے اور اہلبیت (ع) و آل محمد اہل ذکر ہیں جن سے سوال کرنے کا حکم دیا گیاہے اور جاہلوں سے سوال کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔( کافی 1 ص 295)۔

236 ۔ امام صادق (ع) ، ذکر قرآن ہے اور ہم اس کی قوم ہیں اور ہمیں سے سوال کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔( کافی 1 ص 211 ، تفسیر قمی 2 ص 286)۔(بصائر الدرجات 1 ص 37)۔

237 ۔ ابن بکیر نے حمزہ بن محمد الطیار سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے امام صادق (ع) کے سامنے ان کے پدر بزرگوار کے بعض خطبوں کو پیش کیا تو ایک منزل پر پہنچ کر آپ نے فرمایا کہ اب خاموش رہو!۔

اس کے بعد فرمایا کہ جس بات کے بارے میں تم نہیں جانتے ہو۔مناسب یہی ہے کہ خاموش رہو اور تحقیق کرو اور آخر میں ائمہ ہدی ٰ کے حوالہ کردو تا کہ وہ تمھیں صحیح راستہ پر چلائیں اور تاریکی کو دور کریں اور حق سے آگاہ کریں جیسا کہ آیت فاسئلوا اہل الذکر میں بتایا گیاہے۔( کافی 1 ص 50 ، محاسن 1 ص 341 ، تفسیر عیاشی 2 ص 260)۔

238 ۔ امام صادق (ع) نے اپنے اصحاب کے نام ایک خط لکھا، اے دو گروہ جس پر خدا نے مہربانی کی ہے اور اسے کامیاب بنایاہے، دیکھو ! خدانے تمھارے لئے خیر کو مکمل کردیاہے اور یہ بات امر الہی کے خلاف ہے کہ کوئی شخص دین میں خواہش، ذاتی خیال اور قیاس سے کام لے، خدا نے قرآن کو نازل کردیاہے اور اس میں ہر شے کا بیان موجود ہے، پھر قرآن اور تعلیم قرآن کے اہل بھی مقرر کردئے ہیں اور جنھیں اس کا اہل قررا دیا ہے انھیں بھی اجازت نہیں ہے کہ وہ اس میں خواہش، رائے اور قیاس کا استعمال کریں اس لئے کہ اس نے علم قرآن دے کر اور مرکز قرآن بناکر ان باتوں سے بے نیاز بنادیاہے، یہ مالک کی مخصوص کرامت ہے، جو انھیں دی گئی ہے اور وہی اہل ذکر ہیں جن سے سوال کرنے کا امت کو حکم دیا گیا ہے( کافی 8 ص 5 ص 210 ، بحار 23 ص 172 ، امالی طوسی 664 ، / 1290 ، روضة الواعظین ص 224 ، بصائر الدرجات 5 / 37 1 ص 40 ، 23 / 511 ، کامل الزیارات ص 54 ، احقاق الحق 2 ص 482 ، 483 ، 14 ص 371 375)۔

11 ۔ محافظین دین

239 ۔ رسول اکرم نے امام علی (ع) سے فرمایا، یا علی (ع) ! میں ، تم تمھارے دونوں فرزند حسن (ع) و حسین (ع) اور اولاد حسین (ع) کو نو فرزند دین کے ارکان اور اسلام کے ستون ہیں ، جو ہمارا اتباع کرے گا نجات پائے گا اور جو ہم سے الگ ہوجائے گا اس کا انجام جہنم ہوگا ۔( امالی مفید ص 217 ، بشارة المصطفی ص 49)۔

240 ۔ رسول اکرم میری امت کی ہر نسل میں میرے اہلبیت (ع) کے عادل افراد رہیں گے جو اس دین سے غالیوں کی تحریف ، اہل باطل کی تزویر اور جاہلوں کی تاویل کو رفع کرتے رہیں گے، دیکھو تمھارے ائمہ خدا کی بارگاہ کی طرف تمھارے قائد ہیں لہذا اس پر نگاہ رکھنا کہ تم اپنے دین اور نماز میں کس کی اقتدار کررہے ہو۔( کمال الدین ص 221 ، قرب الاسناد 77/ 250 مناقب ابن شہر آشوب 1 ص 245 ، کنز الفوائد 1 ص 330)۔

241 ۔ امام صادق (ع) ! علماء انبیاء کے وارث ہوتے ہیں کہ انبیاء و درہم و دینار جمع کرکے اس کا وارث نہیں بناتے ہیں بلکہ اپنی احادیث کا وارث بناتے ہیں لہذا جو شخص بھی اس میراث کا کوئی حصّہ لے لے گویا اس نے بڑا حصّہ حاصل کرلیا لہذا اپنے علم کے بارے میں دیکھتے رہو کہ کس سے حاصل کررہے ہو، ہمارے اہلبیت (ع) میں سے ہر نسل میں ایسے عادل افراد رہیں گے جو دین سے غالیوں کی تحریف ، باطل پر ستوں کی جعل سازی اور جاہلوں کی تاویل کو دفع کرتے رہیں گے ۔( کافی 1 ص 32 ، بصائر الدرجات 10/1)۔

242 ۔ امام رضا (ع) ! امام بندگان خدا کو نصیحت کرنے والا اور دین خدا کی حفاظت کرنے والا ہوتاہے۔( کافی 1 ص 202 از عبدالعزیز بن مسل)۔

12 ۔ ابواب اللہ

243 ۔ رسول اکرم ، ہم وہ خدائی دروازے ہیں جن کے ذریعہ خدا تک رسائی ہوتی ہے اور ہمارے ہی ذریعہ سے طالبان ہدایت ہدایت پاتے ہیں۔( فضائل الشیعہ 50 / 7 ، تاویل الآیات الظاہرہ ص 498 از ابوسعید خدری)۔

244 ۔ امام علی (ع) ، ہمیں دین کے شعار اور اصحاب ہیں اور ہمیں علم کے خزانے اور ابواب میں اور گھروں میں دروازہ کے علاوہ کہیں سے داخلہ نہیں ہوتا اور جو دوسرے راستہ سے آتاہے اسے چور شمار کیا جاتاہے۔( نہج البلاغہ خطبہ ص 154)۔

245 ۔ امام علی (ع) ، پروردگار اگر چاہتا تو وہ براہ راست بھی بندوں کو اپنی معرفت دے سکتا تھا لیکن اس نے ہمیں اپنی معرفت کا دروازہ اور راستہ بنادیاہے اور ہمیں وہ چہرہ حق ہیں جن کے ذریعہ اسے پہچانا جاتاہے لہذا جو شخص بھی ہماری ولایت سے انحراف کرے گا یا غیروں کو ہم پر فضیلت دے گا وہ راہ حق سے بہکا ہوا ہوگا اور یاد رکھو کہ تمام وہ لوگ جن سے لوگ وابستہ ہوتے ہیں سب ایک جیسے نہیں ہوتے ہیں بعض گندے چشمے کے مانند ہیں جو دوسروں کو بھی گند

ہ کردیتے ہیں اور ہم وہ شفاف چشمے میں جواہر خدا سے جاری ہوتے ہیں اور ان کے ختم ہونے یا منقطع ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔( کافی 1 ص 184 ، مختصر بصائر الدرجات ص 55 ، تفسیر فرات کوفی ص 142 / 174)۔

246 ۔ امام صادق (ع) ! اوصیاء پیغمبر وہ دروازہ ہیں جن سے حق تک پہنچا جاتا ہے اور یہ حضرات نہ ہوتے تو کوئی خدا کو نہ پہچانتا پروردگار نے انھیں کے ذریعہ مخلوقات پر حجت تمام کی ہے۔( کافی 1 /193 از ابی بصیر )۔

13 ۔ عرفاء اللہ

247 ۔ رسول اکرم نے امام علی (ع) سے فرمایا یہ تین چیزیں ہیں جن کے بارے میں قسم کھاتاہوں کہ یہ برحق ہیں، تم اور تمھارے بعد کے اوصیاء سب وہ عرفاء ہیں جن کے بغیر خدا کی معرفت ممکن نہیں ہے اور وہ عرفا ء میں جن کے بغیر جنت میں داخلہ ممکن نہیں ہے کہ جنت میں وہی داخل ہوگا جو انھیں پہچانتا ہوگا اور جسے وہ پہچانتے ہوں گے اور یہی وہ عرفاء ہیں کہ جو ان کا انکار کردے یا وہ اس کا انکار کردیں اس کا انجام جہنم ہے۔( خصال 150 / 183 از نصر العطار)۔

248 ۔رسول اکرم نے فرمایا کہ یا علی (ع) ! تم اور تمھاری اولاد کے اوصیاء جنّت و جہنم کے درمیان اعراف کا درجہ رکھتے ہیں کہ جنت میں وہی داخل ہوگا جو تمھیں پہچانے اور تم اسے پہچانوا ور جہنم میں وہی داخل ہوگا تو تمھارا انکار کردے اور تم اسے پہچاننے سے انکار کردو ( دعائم الاسلام 1 ص 725 ، ارشاد القلوب ص 298 ، از سلیم بن قیس، مناقب ابن شہر آشوب 3 ص 233 ، تفسیر عیاشی 2 ص 18 / 44 اس روایت میں اولاد کے بجائے تمھارے بعد کے اوصیاء کا لفظ ہے، ینابیع المودہ 1 ص 304 / 3 از سلمان فارسی)۔

249 ۔ امام علی (ع) ، ائمہ پروردگار کی طرف سے مخلوقات کے نگراں اور بندوں کیلئے عرفاء ہیں کہ جنت میں صرف وہی داخل ہوگا جو انھیں پہچانے اور وہ اس کو پہچانیں اور جہنم میں صرف وہی جائے گا جو ان کا انکار کردے اور وہ اس کا انکار کردیں۔( نہج البلاغہ خطبہ ص 152 ، غرر الحکم ص 3911)۔

250 ۔ امام علی (ع) قیامت کے حالات کے ذیل میں فرماتے ہیں کہ اوصیاء اصحاب صراط میں جو صراط پر کھڑے رہیں گے اور جنت میں اسی کو داخل کریں گے جو انھیں پہچانے گا اور وہ اسے پہچانیں گے اور جہنم میں وہی جائے گا جو ان کا انکار کرے گا اور وہ اس کا انکار کریں گے ۔ یہی عرفاء اللہ ہیں جنھیں خدا نے بندوں سے عہد لیتے وقت پیش کیا تھا اور انھیں کے بارے میں فرمایاہے کہ اعراف پر کچھ ہوں گے جو سب کو ان کی نشانیوں سے پہچان لیں گے“۔

یہی تما م اولیاء کے گواہ ہوں گے اور رسول اکرم ان کے گواہ ہوں گے۔(بصائر الدرجات ص 498 / 9 از زربن حبیش ، مختصر بصائر الدرجات ص 53)۔

251 ۔ ہلقام ! میں نے امام باقر (ع) سے ” علی الاعراف رجال “ کے بارے میں دریافت کیا کہ اس سے مراد کیا ہے؟ فرمایا کہ جس طرح قبائل میں عرفاء ہوتے ہیں جو ہر شخص کو پہچانتے ہیں اس طرح ہم عرفاء اللہ میں اور تمام لوگوں کو ان کے علامات سے پہچان لیتے ہیں ( تفسیر عیاشی 2 ص 18 / 43)۔

252 ۔ ابان بن عمر ! میں امام صادق (ع) کی خدمت میں حاضر تھا کہ سفیان بن مصعب العبدی حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ میری جان قربان،آیتہ ” علی الاعراف رجال“ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟ فرمایا یہ آل محمد کے بارہ اوصیاء ہیں کہ جن کی معرفت کے بغیر خدا کا پہچاننا ناممکن ہے۔

عرض کی یہ اعراف کیا ہے ؟ فرمایا یہ مشک کے ٹیلے ہوں گے جن پر رسول اکرم اور ان کے اوصیاء ہوں گے اور یہ تمام لوگوں کو ان کی نشانیوں سے پہچان لیں گے۔(بحار الانوار 24 / 253 / 13 ، مناقب ابن شہر آشوب 3 ص 233)۔

14 ۔ ارکان زمین

253 ۔ امام باقر (ع) ، رسول اکرم وہ دروازہ رحمت میں جس کے بغیر جنت میں داخلہ ممکن نہیں ہے ، وہ راہ ہدایت ہیں کہ جو اس پر چلا وہ خدا تک پہنچ گیا یہی کیفیت امیر المومنین (ع) اور ان کے بعد کے جملہ ائمہ کی ہے، پروردگار نے انھیں زمین کا رکن بنایاہے تا کہ اپنی جگہ سے ہٹنے نہ پائے اور اسلام کا ستون قرار دیا ہے اور راہ ہدایت کا محافظ بنایاہے، کوئی راہنما ان کے بغیر ہدایت نہیں پاسکتاہے اور کوئی شخص اس وقت تک گمراہ نہیں ہوتاہے جبتک ان کے حق میں کوتاہی نہ کرے ، یہ خدا کی طرف سے نازل ہونے والے جملہ علوم ،بشارتیں، انذار سب کے امانتدار ہیں اور اہل زمین پر اس کی حجت ہیں ، ان کے آخرکے لئے خدا کی طرف سے وہی ہے جو اول کے لئے ہے اور اس مرحلہ تک کوئی شخص امداد الہی کے بغیر نہیں پہنچ سکتاہے۔( کافی 1 ص 198 / 3 ، اختصاص ص 21 ، بصائر الدرجات 199/1)۔

254 ۔ امام باقر (ع) نے امیر المومنین (ع) کی زیارت میں فرمایا آپ اہلبیت (ع) رحمت ، ستون دین ، ارکان زمین اور شجرہ طیبہ ہیں ۔( تہذیب 6 ص 28 ، 53 از موسیٰ بن ظبیان ، الفقیہ 2 ص 591 ، 3197 ، 3197 ، کامل الزیارات ص 45)۔

255 ۔ امام باقر (ع) ، ہم زمین کی بنیادیں ہیں اور ہمارے شیعہ اسلام کے حاصل کرنے کے وسائل ہی۔(تفسیر عیاشی 2 ص 243 / 18 ، از ابوبصیر)۔

15 ۔ ارکان عالم

256 ۔ رسول اکرم اولاد علی (ع) کے ائمہ کی توصیف کرتے ہوئے فرماتے ہیں یہ سب میرے خلفاء ۔ اوصیاء میری اولاد اور میری عترت ہیں انھیں کے ذریعہ پروردگار آسمانوں کو زمین پر گرنے سے روکے ہوئے ہے اور انھیں کے ذریعہ زمین اپنے باشندوں سمیت مرکز سے ہٹنے سے محفوظ ہے۔

( کمال الدین 258 / 3 ، احتجاج 1 ص 168 / 34 ، کفایتة الاثر ص 145 ، از علی بن ابی حمزہ از امام صادق (ع) )۔

257 ۔ امام زین العابدین (ع) ! ہم مسلمانوں کے امام اور عالمین پر اللہ کی حجت ہیں، مومنین کے سردار اور روشن پیشانی لشکر کے قائد ہیں، ہمیں مومنین کے مولا ہیں اور ہمیں اہل زمین کے لئے باعث امان ہیں جس طرح ستارے آسمان والوں کے لئے باعث امان ہیں ہمیں وہ ہیں جن کے ذریعہ پروردگار آسمانوں کو زمین پر گرنے اور زمین کو اس کے باشندوں سمیت مرکزسے کھسک جنے سے روکتاہے ، ہمارے ہی ذریعہ باران رحمت کا نزول ہوتاہے اور ہمارے ہی وسیلہ سے رحمت نشر کی جاتی ہے اور زمین کے برکات باہر آتے ہیں، اگر زمین کے برکات کا وسیلہ ہم نے ہوتے تو یہ اہل زمین سمیت دھنس جاتی ۔(امالی صدوق (ر) 156 / 15 ، کمال الدین 207 ، 22 ، ینابیع المودة 1ص 75 /11 فرائد السمطین 1 ص 6/45 / 11 روایت اعمش از امام صادق (ع) روضة الواعظین ص 220 روایت عمرو بن دینار)۔

258 ۔ امام علی نقی (ع) زیارت جامعہ میں ارشاد فرماتے ہیں، ہمارے آقاؤ ! ہم نے تمھاری مدح و ثناکااحصاء کرسکتے ہیں اور نہ تمھاری تعریف کی گہرائیوں تک پہنچ سکتے ہین اور نہ تمھاری توصیف کی حدوں تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں، تم نیک کرداروں کے لئے نمونہ، نیک انسانوں کے لئے رہنما، اور پروردگار کی طرف سے حجت ہو، تمھارے ہی ذریعہ آغاز ہوتاہے اور تمھیں پر خاتمہ ہے، تمھارے ہی ذریعہ رحمت کا نزول ہوتاہے اور تمھارے ہی ذریعہ پروردگار آسمان کو زمین پر گرنے سے روکے ہوئے ہے۔( تہذیب 6 ص 99)۔

16 ۔ امان اہل ارض

259 ۔ رسول اکرم ! ستارے اہل آسمان کے لئے امان ہیں کہ وہ ختم ہوجائیں تو اہل آسمان کا خاتمہ ہوجائے اور اسی طرح ہمارے اہلبیت (ع) اہل زمین کیلئے امان ہیں کہ ان کا سلسلہ ختم ہوجائے تو سارے اہل زمین فنا ہوجائیں گے، ( فضائل الصحابہ ابن حنبل 2ص 671 / 1145 ، الفردوس 4 ص 311 / 6913 ، ینابیع المودة 1 ص 17 / 1 بروایت امام علی (ع) ، امالی طوسی (ر) 379 /812، جامع الاحادیث قمی ص 259 ، بروایت ابن عباس، اس روایت میں اہل زمین کے بجائے امت کا لفظ ہے)۔

260 ۔ رسول اکرم ، ستارے اہل آسمان کے لئے امان ہیں ! اور میرے اہلبیت (ع) اہل زمین کے لئے امان ہیں ، اگر اہلبیت (ع) کا سلسلہ ختم ہوجائے تو وہ عذاب نازل ہوجائے جس کی وعید وارد ہوئی ہے۔( ینابیع المودة 1 ص 71 / 2 بروایت انس، مستدرک 2 ص 486 / 3676 ، مناقب کوفی ص 142 ، 623 ، علل الشرائع ص 123 / 2)۔

261 ۔ امام علی (ع) ! ہم نبوت کے گھرانے والے اور حکمت کے معدن ہیں ، اہل زمین کے لئے باعث امان اور طلبگار نجات کے لئے وجہ نجات ہیں ۔( نثر الدر 1 ص 310)۔

17 ۔ معدن رسالت

262 ۔ رسول اکرم ! ہم شجرہٴ نبوت کے اہلبیت (ع) اور رسالت کے معدن ہیں، ہمارے اہلبیت (ع) سے افضل ہمارے علاوہ کوئی نہیں ہے۔( امالی الشجری 1 ص 154 روایت امام علی (ع) ، احقاق الحق 9 ص 378 نقل از مناقب ابن المغازلی)۔

263 ۔ امام حسین (ع) نے عتبہ بن ابی سفیان سے فرمایا، ہم اہلبیت (ع) کرامت ، معدن رسالت اواعلام حق ہیں جن کے دلوں میں حق کو امانت رکھا گیاہے اور وہ ہماری زبان سے بولتاہے۔( امالی صدوق 130 / 1 روایت عبداللہ بن منصور از امام صادق (ع))۔

264 ۔ امام حسین (ع) نے والی مدینہ ولید سے فرمایا، اے حاکم ، ہم لوگ نبوت کے اہلبیت (ع) ہیں اور رسالت کے معدن ، ملائکہ کی آمد و رفت ہمارے گھر رہتی ہے اور رحمت کا نزول ہمارے یہاں ہوتاہے۔ ہمارے ہی ذریعہ پروردگار نے شروع کیاہے اور ہمیں پر ہر امر کا خاتمہ ہے۔( مقتل خوارزمی 1 ص 184 الملہوف ص 98)۔

265 ۔امام رضا (ع) (ع)! ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے کتاب میں خود اپنی تعریف کی ہے اور رحمت خدا حضرت محمد پر ہے جو خاتم الانبیاء اور بہترین خلائق ہیں اور پھر ان کی آل پر جو آل رحمت ، شجرہٴ نبوت، معدن رسالت اور مرکز رفت و آمد ملائکہ ہیں۔( کافی 5 ص 373 /7 ، عوالی للئالی 2ص 297 / 77 بروایت معاویہ بن حکمی)۔

266 ۔ ابن عباس ” فاسئلوا اہل الذکر“ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ حضرت محمد و علی (ع) و فاطمہ (ع) و حسن (ع) و حسین (ع) ہیں کہ یہی اہل ذکر و علم و عقل و بیان ہیں یہی نبوت کے اہلبیت (ع) ، رسالت کے معدن اور مرکز نزول ملائکہ ہیں ۔( احقاق الحق 3 ص 482 ، ا لطرائف 94 / 131 ، نہج الحق 210 بروایت حافظ محمد بن موسی الشیرازی از علماء اہلسنت)۔

267 ۔ ابن عباس ! روز وفات پیغمبر ملک الموت نے دروازہ فاطمہ (ع) پر کھڑے ہوکر کہا کہ سلام ہو تم پر اے اہلبیت (ع) نبوت ، معدن رسالت، مرکز نزول ملائکہ اور اس کے بعد اجازت طلب کی جس پر جناب فاطمہ (ع) نے فرمایا کہ بابا ملاقات نہیں کرسکتے ہیں، اور ملک الموت نے تین مرتبہ اجازت لی اور رسول اکرم نے التفات کرکے فرمایا کہ یہ ملک الموت ہیں۔( احقاق الحق 9 ص 402از روضة الاحباب)۔

268 ۔ امام علی نقی (ع) زیارت جامعہ میں فرماتے ہیں سلام ہو تم پر اے اہل بیتِ نبوت، معدن رسالت ، مرکز نزول ملائکہ ، منزل وحی الہی اور مصدر رحمت پروردگار ۔( تہذیب 6 ص 96 / 177)۔

18 ۔ ستون حق

269 ۔ رسول اکرم ! یہ سب ائمہ ابرار ہیں، یہ حق کے ساتھ ہیں اور حق ان کے ساتھ ہے۔( کفایة الاثر ص 177 ، روایت عطاء از امام حسین (ع) ) ۔

270 ۔ امام علی (ع) ! آگاہ ہوجاؤ کہ پروردگار نے انھیں خیر کا اہل ، حق کا ستون اور اطاعت کے لئے تحفظ قرار دیا ہے۔( نہج البلاغہ خطبہ 214)۔

271 ۔ امام علی (ع) ! ہم حق کے داعی ، خلق کے امام اور صداقت کی زبان ہیں، جس نے ہماری اطاعت کی سب کچھ حاصل کرلیا اور جس نے ہماری مخالفت کی وہ ہلاک ہوگیا۔( غرر الحکم 10001)۔

272 ۔ امام علی (ع) ! ہم نے ستون حق کو قائم کیا اور لشکر باطل کو شکست دی ہے۔( غرر الحکم 9969)۔

273 ۔ امام علی (ع) ! ہم خدا کے بندوں پر اس کے امین اور اس کے شہروں میں حق کے قائم کرنے والے ہیں، ہمارے ہی ذریعہ دوستوں کو نجات ملتی ہے اور دشمن ہلاک ہوتے ہیں ۔(غرر الحکم 10004)۔

274 ۔ امام علی (ع) ! خبردار حق سے الگ نہ ہوجانا کہ جو شخص بھی ہم اہلبیت (ع) کا بدل تلاش کرے گا وہ ہلاک ہوجائے گا او ردنیا و آخرت دونوں سے محروم ہوجائے گا۔( غرر الحکم 10413 ، خصال 626 / 10 ، بروایت ابوبصیر و محمد بن مسلم )۔

275 ۔ امام حسین (ع) ! ہم رسول اللہ کے اہلبیت (ع) ہیں، حق ہمارے اندر رکھا گیا ہے اور ہماری زبانیں ہمیشہ حق کے ساتھ کلام کرتی ہیں۔( الفتوح 5 ص 17، مقتل الحسین (ع) خوارزمی 1 ص 185)۔

276 ۔ امام ہادی (ع)! اے ائمہ کرام ! حق آپ کے ساتھ آپ کے اندر آپ سے اور آپ کی طرف ہے اور آپ ہی اس کے اہل اور معدن ہیں۔( تہذیب 6 ص 97 / 177)۔

19 ۔ امراء الکلام

277 ۔ امام علی (ع) ! ہم کلام کے امراء ہیں، ہمارے ہی اندر اس کی جڑیں پیوست ہیں اور ہمارے ہی سر پر اس کی شاخیں سایہ افگن ہیں۔( نہج البلاغہ خطبہ 233 ، غرر الحکم ص 2774 ، اس روایت میں عروق و غصون کے بجائے فروغ و اغصان کا لفظ وارد ہوا ہے)۔

278 ۔ امام صادق (ع) ! پروردگار نے ائمہ طاہرین (ع) کو مخلوقات کی زندگی تاریکی کا چراغ اور کلام کی کلید قرار دیاہے۔( کافی 1 ص 204 / 2 روایت اسحاق بن غالب )۔

20 ۔ صلح و جنگ پیغمبر

279 ۔ زید بن ارقم ! رسول اکرم نے علی (ع) و فاطمہ (ع) و حسن (ع) و حسین (ع) سے خطاب کرکے فرمایا کہ جس سے تمھاری جنگ ہے اس سے میری جنگ ہے اور جس سے تمھاری صلح ہے اس سے میری صلح ہے۔( سنن ترمذی 5 ص 699 / 3870 ، سنن ابن ماجہ 1 ص 52 / 145 ، مستدرک 3 ص 161 / 4714 ، المعجم الکبیر 3 ص 40 / 2619 ، مناقب کوفی 2 ص 156 / 634 ، بشارة المصطفیٰ ص 61 ص 64 ، کشف الغمہ 2 ص 154۔

280 ۔زید بن ارقم ! رسول اکرم نے اپنے مرض الموت میں علی (ع) و فاطمہ (ع) و حسن (ع) و حسین (ع) کی طرف جھک کر فرمایا کہ تم سے جنگ کرنے والے کی جنگ مجھ سے ہے اور تم سے صلح رکھنے والے کی صلح مجھ سے ہے۔( تہذیب تاریخ دمشق ص 319 ، امالی طوسی ص 336 / 680)۔

281 ۔ ابوہریرہ ! رسول اکرم نے علی (ع) و حسن (ع) ، حسین (ع) و فاطمہ (ع) کو دیکھ کر فرمایا کہ جو تم سے جنگ کرے اس سے میری جنگ ہے اور جو تم سے صلح رکھے اس سے میری صلح ہے۔( مسند ابن حنبل 3 ص 446 / 9704 ، مستدرک 31 ص 161 / 4713 ، تاریخ بغداد ، ص 137 ، المعجم الکبیر 3 ص 40 / 2621 ، البدایة والنہایة 8 ص 36 ، العمدہ 51 /45 ، روضة الواعظین ص 175 ، الغدیر 2 ص 154)۔

282 ۔ زید بن ارقم ! ہم رسول اکرم کی خدمت میں تھے، آپ حجرہ کے اندر تھے اور وحی کا نزول ہورہاتھا اور ہم باہر انتظار کررہے تھے، یہانتک کہ گرمی شدید ہوگئی اور علی (ع) و فاطمہ و حسن (ع) و حسین (ع) بھی آگئے اور سایہ دیوار میں بیٹھ کر انتظار کرنے لگے ، اس کے بعد جب رسول اکرم برآمد ہوئے تو ان حضرات کے پاس گئے اور سب کو ایک چادر اوڑھاکر جس کا ایک سرا آپ کے ہاتھ میں تھا اور دوسرا علی (ع) کے ہاتھ میں، ہمارے پاس آئے اور دعا کی خدایا میں انھیں دوست رکھتاہوں تو بھی ان سے محبت فرمانا۔

میں ان سے صلح کرنے والے کا ساتھی ہوں اور ان سے جنگ کرنے والے کا ، دشمن ہوں… اور یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔(اشرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید معتزلی 3 ص 207)۔

283 ۔ رسول اکرم نے مسلمانوں سے خطاب کرکے ارشاد فرمایا ، مسلمانوا! جو اہل خیمہ کے ساتھ صلح رکھے اس سے میری صلح ہے اور جو ان سے جنگ کرے اس سے میری جنگ ہے، میں ان کے دوستوں کا دوست اور ان کے دشمنوں کا دشمن ہوں، ان کا دوست صرف خوش نصیب اور حلال زادہ ہوتا ہے اور ان سے دشمنی صرف بدقسمت اور پست نسب انسان کرتاہے۔( مناقب خوارزمی ص 297 / 291 ، روایت زید بن یثیع از ابی بکر)۔

واضح رہے کہ اس وقت خیمہ میں صرف علی (ع) و فاطمہ (ع) حسن(ع) و حسین (ع) تھے اور بس۔

284 ۔ امام زین العابدین (ع) ! ایک اور رسول اکرم تشریف فرماتھے اور ان کے پاس حضرت علی (ع) و حسن (ع) و حسین (ع) حاضر تھے کہ آپ نے فرمایا قسم اس ذات کی جس نے مجھے بشیر بناکر بھیجا ہے کہ روئے زمین پر خدا کی نگاہ میں ہم سب سے زیادہ محبوب اور محترم کوئی نہیں ہے ، پروردگار نے میرا نام اپنے نام سے نکالاہے کہ وہ محمود ہے اورمیں محمد ہوں اور یا علی (ع) تمھارا نام بھی اپنے نام سے نکالا ہے کہ وہ علی اعلیٰ ہے اور تم علی (ع) ہو اور اے حسن (ع) ہو اور اے حسین (ع) ! تمھارا نام بھی اپنے نام سے نکالا ہے کہ وہ ذو الاحسان ہے اور تم حسین (ع) ہو اور اے فاطمہ (ع) ! تمھارا نام بھی اپنے نام سے مشتق کیا ہے کہ وہ فاطر ہے اورتم فاطمہ (ع) ہو،

اس کے بعد فرمایا کہ خدایا میں تجھے گواہ کر کے کہتاہوں کہ جو ان سے صلح رکھے اس سے میری صلح ہے اور جو ان سے جنگ کرے اس سے میری جنگ ہے میں ان کے دوست کا دوست اور ان کے دشمن کا دشمن ہوں۔ ان سے بغض رکھنے والے سے مجھے بغض ہے اور ان سے محبت کرنے والے سے میری محبت ہے۔ یہ سب مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں ۔( معانی الاخبار 55/3 روایت عبداللہ بن الفضل الہاشمی)۔

21 ۔ آغاز و انجام دین

285 ۔رسول اکرم ! اللہ نے دین کا آغاز و انجام ہمیں کو قرار دیا ہے اور وہ ہمارے ہی ذریعہ بغض و عداوت کے بعد دلوں میں الفت پیدا کرتاہے،(امالی مفید 251 / 4 ، امالی طوسی 21 /24 روایت عمر بن علی (ع) )۔

286 ۔ امام علی (ع) ! رسول اکرم نے اپنے بعد کے حوادث کا ذکر کرتے ہوئے مہدی کے بارے میں فرمایا تو میں نے عرض کی کہ وہ ہم میں سے ہوگا یا غیروں میں سے ؟ فرمایا ، ہمیں میں سے ہوگا ، پروردگار نے ہمارے ہی ذریعہ دین کا آغاز کیا ہے، اور ہمیں پر تمام کرے گا، ہمارے ہی ذریعہ شرک کے بعد دلوں میں الفت پیدا کی ہے اور ہمارے ہی ذریعہ فتنہ کے بعد الفت پیدا کرے گا ! تو میں نے عرض کی خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں یہ فضل و شرف عنایت فرمایاہے۔( امالی طوسی (ر) 66 / 96 ، امالی مفید (ر) 9 ص 290 ، شرح نہج البلاغہ معتزلی 9 ص 206)۔

287 ۔ عمر بن علی (ع) نے امام علی (ع) سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے رسول اکرم سے پوچھا کہ مہدی ہم میں ہوگا یا ہمارے غیر میں سے ؟ تو آپ نے فرمایا کہ وہ ہمیں میں سے ہوگا اللہ ہمارے ہی ذریعہ دین کو مکمل کرے گا جس طرح ہمارے ہی ذریعہ آغاز کیا ہے اور لوگوں کو شرک سے نکالا ہے، اب فتنوں سے نکال کر دلوں میں الفت پیدا کرے گا جس طرح شرک کی عداوت کے بعد الفت پیدا کی ہے۔

میں نے عرض کی کہ یہ لوگ مومن ہوں گے یا کافر ؟ فرمایا کہ فتنہ میں مبتلا اور کافر ( المعجم الاوسط 1 ص 57 / 157 ، الحادی الفتاوی 2 ص 217)۔

288 ۔ امام علی (ع) ، رسول اکرم نے فرمایا کہ یا علی (ع) اس امر کا آغاز بھی تمھیں سے ہے اور اختتام بھی تمھیں پر ہوگا، صبر کرنا تمھارا فرض ہے کہ انجام کار بہر حال صاحبان تقویٰ کے ہاتھوں میں ہے۔( امالی مفید 110 / 9 روایت محمد بن عبداللہ از امام رضا (ع))۔

289 ۔ امام علی (ع) ! اللہ نے ہمیں سے اسلام کا افتتاح کیا ہے اور ہمیں پر اس کااختتام کرے گا ۔( احتجاج 1 ص 544 / 131 روایت اصنبع بن نباتہ)۔

290 ۔ امام علی (ع) ، ہمیں سے اللہ افتتاح کرتاہے اور ہمیں پر کام کا اختتام ہوتاہے۔( خصال 626 / 10 روایت ابو بصیر و محمد بن مسلم )۔

291 ۔ امام علی (ع) ! ایھا النّاس ! ہم وہ اہلبیت (ع) ہیں جن سے خدا نے جھوٹ کو دور رکھاہے اور ہمارے ہی ذریعہ زمانہ کے شر سے نجات دیتاہے، ہمارے ہی واسطہ سے تمھاری گردنوں سے ذلت کے پھندے کو جدا کرتاہے اور ہمیں سے آغاز و اختتام ہوتاہے۔( کتاب سُلَیم بن قیس 2 ص 717 / 17 )۔

292 ۔ امام باقر (ع) ! ایھا النّاس ! تم لوگ کدھر جارہے ہو اور تمھین کدھر لیجایا جارہاہے؟ اللہ نے ہمارے ذریعہ تمھارے اول کو ہدایت دی ہے اور ہمارے ہی ذریعہ آخر میں اختتام کرے گا۔( کافی ص 271 / 5 ، مناقب ابن شہر آشوب 4 ص 189 ، 190 روایت ابوبکر الخصرمی)۔

293 ۔ امام رضا (ع) ! ہمارے ہی ذریعہ خدا نے دین کا آغاز کیاہے اور ہمارے ہی ذریعہ ختم کرے گا۔( تفسیر قمی 2 ص 104 از عبداللہ بن جندب)۔

294 ۔ امام ہادی (ع) ! زیارت جامعہ … آپ ہی حضرات کے ذریعہ خدا شروع کرتاہے اور آپ ہی پر خاتمہ کرتاہے۔( تہذیب 6 ص 99 / 177 ، کامل الزیارات ص 199 ، بحار الانوار 23 ص 218 / 19 / 26 ، 248 / 18 ، احقاق الحق 13 ص 128 ، مجمع الزوائد ص 616 / 12409 ، کنز العمال 4 ص 598 / 39682)۔

22 ۔ان کا قیاس ممکن نہیں ہے

295 ۔ رسول اکرم ، ہم اہل بیت وہ ہیں جن پر کسی کا قیاس نہیں کیا جاسکتاہے ۔( الفردوس 4 ص 283 ، 6838 ، فرائد السمطین 1 ص45 ، ذخائر العقب ص 17 ، روایت انس ، ینابیع المودہ 2 ص 114/322 روایت ابن عباس)۔

296 ۔ رسول اکرم ! ہم اہلبیت (ع) وہ ہیں جن کا مقابلہ کسی شخص سے نہیں کیا جاسکتاہے، جو ہمارا دشمن ہے وہ اللہ کا دشمن ہے۔( ارشاد القلوب ص 404)۔

297 ۔ امام علی (ع) ! آل محمد پر اس امت میں سے کسی شخص کا قیاس نہیں کیا جاسکتا ہے اور ان کے برابر اسے نہیں قرار دیا جاسکتاہے جس پر ہمیشہ ان کی نعمتوں کا سلسلہ رہاہے۔( نہج البلاغہ خطبہ نمبر 2، غرر الحکم 10902)۔

298 ۔امام علی (ع)، ہم اہلبیت (ع) ہیں، ہم پر کسی آدمی کا قیاس نہیں کیا جاسکتاہے۔ہمارے گھر میں قرآن نازل ہوا ہے اور ہمارے یہاں رسالت کا معدن ہے۔(عیون اخبار الرضا (ع) 2 ص 66 / 297 ، کشف الغمہ 1 ص 40)۔

299 ۔امام علی (ع) ! ہم نجیب افراد ہیں، ہماری اولاد انبیاء کی اولاد ہیں اور ہمارا گروہ اللہ کا گروہ ہے ، ہمارا باغی گروہ شیطانی گروہ ہے اور جوہمارے اور دشمن کے درمیان مساوات قائم کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔( فضائل الصحابہ ابن حنبل 2 ص 279 / 1160 ، تاریخ دمشق حالات امام علی (ع) 3 ص 144 / 1189 ، امالی طوسی (ر) 270 / 502 ، بشارة المصطفیٰ ص 128 روایت حبہ عرنی ، مناقب امیر المؤمنین (ع) کوفی 2 ص 107۔

 

300 ۔ حارث ! امیر المومنین (ع) نے فرمایا کہ ہم اہلبیت (ع) کا قیاس لوگوں پر نہیں کیا جاسکتاہے… تو ایک شخص نے ابن عباس سے دریافت کیا ۔ کیا یہ بات صحیح ہے؟ انھوں نے کہا بیشک ! جس طرح پیغمبر کا قیاس نہیں کیا جاسکتاہے اور علی (ع) کے بارے میں تو صاف اعلان قدرت ہے“ جن لوگوں نے ایمان اور عمل صالح اختیار کیا وہ بہترین مخلوقات ہیں۔( مناقب ابن شہر آشوب 3 ص 68 نقل از کتاب ” ما نزل من القرآن فی علی (ع) “ ابونعیم اصفہانی )۔

301 ۔عباد بن صہیب ! میں نے امام صادق سے دریافت کیا کہ ابوذر افضل ہیں یا آپ اہلبیت (ع)! فرمایا ابن صہی ! سال کے کتنے مہینے ہوتے ہیں ؟

میں نے عرض کی بارہ … فرمایا محترم کتنے ہیں ؟

میں نے عرض کی چار

فرمایا کیا ماہ رمضان ان میں ہے؟ میں نے عرض کی نہیں

فرمایا پھر ماہ رمضان افضل ہے یا یہ چار؟

میں نے عرض کی ماہ رمضان

فرمایا اسی طرح ہم اہلبیت (ع) ہیں کہ ہمارا قیاس کسی پر نہیں کیا جاسکتاہے اور یاد رکھو کہ خود ابوذر اصحاب کی ایک جماعت کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے جب اصحاب میں افضلِ اصحاب کے بارے میں بحث ہورہی تھی تو ابوذر نے کہا کہ افضلِ اصحاب علی (ع) بن ابی طالب ہیں ، کہ وہی قسیم جنت و نار ہیں اور وہی صدیق و فاروق امت ہیں اور وہی قوم پر پروردگار کی حجت ہیں… جس پر ہر شخص نے منہ پھیر لیا اور ان کی تکذیب کرنے لگا ، یہاں تک کہ ابوامامہ باہلی نے رسول اکرم کو واقعہ کی خبر دی تو آپ نے فرمایا کہ تم میں سے کسی ایسے شخص پر آسمان نے سایہ نہیں کیا اور زمین نے اس کا بوجھ نہیں اٹھایا جو ابوذر سے زیادہ صادق القول ہو۔( علل الشرائع 3 / 177)۔

جامع خصوصیات

302 ۔ رسول اکرم ! پروردگار نے مجھ میں اور میرے اہلبیت (ع) میں فضیلت، شرف، سخاوت، شجاعت، علم اور حلم سب کو جمع کردیاہے، ہمارے لئے آخرت ہے اور تمھارے لئے دنیا ۔ ( ینابیع المودة 2 ص 302 / 863 از ابن عمر، احقاق الحق 18 ص 532 از مودة القربیٰ )۔

303 ۔ رسول اکرم ! ہم اہلبیت (ع) کو سات فضائل دئے گئے ہیں جو نہ ہم سے پہلے کسی کو دیئے گئے ہیں اور نہ ہمارے بعد دیئے جائیں گے صباحت ، فصاحت، سماحت، شجاعت، حلم، علم ، خواتین کی قدردانی و محبت (الجعفریات ص 182 ، نوادر راوندی ص 15 ، مناقب ابن مغازلی 295 / 337)۔

304 ۔ رسول اکرم ! میں نے پروردگار سے دعا کی کہ علم و حکمت کو میری اولاد اور میری کشتِ حیات میں قرار دیدے تو میرے دعا قبول ہوگئی ۔( ینابیع المودة 1 ص 74/ 9 ، کفایة الاثر ص 165 لفظ زرعی تک)۔

305 ۔ رسول اکرم پروردگار عالم نے ہم میں دس خصائل کو جمع کردیا ہے جو نہ ہم سے پہلے کسی میں جمع ہوئے ہیں اور نہ ہمارے بعد ہوں گے۔

حکمت ، علم ، نبوت، سماحت، شجاعت، میانہ روی ، صداقت، عبادت، عفت … ہم کلمہ تقویٰ ، سبیل ہدایت۔ مثل اعلیٰ ، حجت عظمیٰ ، عروة الوثقیٰ اور حبل المتین میں اور ہمیں وہ ہیں جن کی محبت کا حکم دیا گیا اور ” ہدایت کے بعد ضلالت کے علاوہ کچھ نہیں ہے تو تم لوگ کدھر لے جائے جارہے ہو“ ۔( خصال432/14 از عبداللہ بن عباس ، تفسیر فرات کوفی 178 / 203 ، 307 / 412)۔

306 ۔ رسول اکرم ! دربارہٴ علی (ع) ! یہ سید الاوصیاء ہیں، ان سے ملحق ہوجانا سعادت ہے اور ان کی اطاعت پر مرنا شہادت ہے، ان کا نام توریت میں میرے نام کے ساتھ ہے اور ان کی زوجہ میری دختر صدیقہ کبریٰ ہے اور ان کے فرزند میرے فرزند سرداران جوانان جنت ہیں، یہ تینوں اور ان کے بعد کے تمام ائمہ انبیاء کے بعد مخلوقات پر اللہ کی حجت ہیں ، یہ سب امت میں میرے علم کے دروازے ہیں ،جو ان کا اتباع کرے گا نجات پائے گا اور جو ان کی اقتدا کرے گا اسے صراط مستقیم کی ہدایت مل جائیگی۔ پروردگار نے کسی شخص کو ان کی محبت نہیں عطا فرمائی مگر یہ کہ وہ داخل جنت ہوگیا۔( امالی صدوق 28 / 5 ، مشارق انوار الیقین ص 56 ، حلیة الابرار 1 ص 235)۔

307 ۔ امام علی (ع) ! ہم اہلبیت (ع) شجرہٴ نبوت ، محل رسالت ، مرکز رفت و آمد ملائکہ ، بیت رحمت ا ور معدن علم ہیں ۔( کافی 1 ص 221 ، بصائر الدرجات 1 ص 56 )۔

308 ۔ امام علی (ع) ! پروردگار نے ہمیں پانچ خصوصیات عنایت فرمائے ہیں فصاحت صباحت ، بخشش ، نجدہ ( دلیری) عورتوں کے نزدیک محبت ۔(خصال 286 / 40 ، نثر الدرر 1 ص 270)۔

309 ۔ امام علی (ع) ! جب آپ سے قریش کے بارے میں دریافت کیا گیا تو فرمایا کہ بنو مخزوم گل قریش ہیں ، ہم ان کے مردوں کی گفتگو کو پسند کرتے ہیں اور ان کی عورتوں سے عقد کو پسندیدہ قرار دیتے ہیں ، لیکن بنو عبد شمس انتہائی بے عقل اور بخیل ہیں اور ہم اہلبیت (ع) اپنی دولت کے عطا کرنے والے، ہنگام موت جان قربان کرنے والے ہی ں، بنوعبد شمس اکثریت میں ہیں لیکن مکار اور بدصورت ہیں اور ہم صاحبان فصاحت و نصیحت و صباحت ہیں ۔( نہج البلاغہ حکمت ص 120)۔

310 ۔ امام علی (ع) ! اہلبیت (ع) ہی کے گھر میں قرآن کریم کی عظیم آیات ہیں اور یہی رحمان کے خزانے ہیں ، جب بولتے ہیں تو سچ بولتے ہیں اور جب چپ رہتے ہیں تب بھی کوئی ان سے آگے نہیں جاسکتاہے۔( نہج البلاغہ خطبہ ص 154 )۔

311 ۔ امام علی (ع) (ع)! خدا کی قسم ہمیں تبلیغ رسالت ، ایفائے وعدہ اور تمام کلات کا علم دیا گیاہے، ہمارے پاس حکم کے پاس حکم کے ابواب اور امر کی روشنی ہے۔( نہج البلاغہ خطبہ ص 120)۔

312 ۔ امام علی (ع) ہمارے ذریعہ تم نے تاریکیوں میں ہدایت پائی ہے اور بلندیوں کی منزل تک پہنچے ہو اور ہمارے ہی ذریعہ اندھیروں سے روشنی میں آئے ہو۔ وہ کان بہرے ہیں جو حرف حق کو سنن نہ سکیں اور ہلکی آواز کو وہ کیا محسوس کرے گا جسے شور و شعب نے بہرہ بنادیاہے مطمئن وہی دل ہے جو مسلسل دھڑکتارہے۔( نہج البلاغہ خطبہ ص 4)۔

313 ۔ امام علی (ع) ! آگاہ ہوجاؤ کہ ہم اہلبیت (ع) حکمت کے ابواب ، ظلمت کے نور ، اور امت کی روشنی ہیں ۔( غرر الحکم ص 2786)۔

314 ۔ امام علی (ع) ! ہم زمین و آسمان کے انوار اور نجات کے سفینے ہیں، ہمارے ہی پاس پوشیدہ ، اسرار علم ہیں اور ہماری ہی طرف امور کی بازگشت ہے ، ہمارے مہدی کے ذریعہ تمام دلائل کو قطع کیا جائے اور وہ خاتم الائمہ ۔ہوگا، وہی امت کو تباہی سے نکالنے والا ہوگا اور وہ نور کی انتہا، خدا کا راز سربستہ ہوگا، خوش بخت ہے وہ جو ہم سے متمسک ہوجائے اور ہماری محبت پر محشور ہو۔(تذکرة الخواص ص 130 ، مروج الذھب 1 ص 33)۔

315 ۔ امام علی (ع) ! ایھا الناس ، ہم حکمت کے دروازے ، رحمت کی کلید، امت کے سردار، کتاب کے امین ، حرف آخر کہنے والے ہیں ہمارے ہی وسیلہ سے ثواب ملتاہے اور ہماری ہی مخالفت میں عذاب ملتاہے۔( مشارق انوار الیقین ص 51)۔

316 ۔ ابوحمزہ ثمالی کا بیان ہے کہ امیر المومنین (ع) نے خطبہ ارشاد فرمایا تو حمد و ثنائے الہی کے بعد فرمایا کہ پروردگار نے حضرت محمد کو رسالت کے لئے منتخب کیا اور وحی کے ذریعہ باخبر بنایا اور لوگوں میں درجہ کمال عنایت فرمایا۔ ہم اہلبیت (ع) کے گھر میں علم کے مرکز ، حکمت کے ابواب اور امور کی وضاحت ہے، جو ہم سے محبت کرے گا اس کا ایمان کارآمدہوگا اور عمل بھی مقبول ہوگا اور جو ہم سے محبت نہ کرے گا اس کا ایمان بے فائدہ ہوگا اور عمل بھی قابل قبول نہ ہوگا ۔( بصائر الدرجات 365 / 12 )۔

317 ۔ جناب فاطمہ (ع) ! ( خطبہ فدک کے ذیل میں ) پروردگار نے ایمان کو لازم قراردیاتا کہ تمھیں شرک سے پاک کرے اور ہماری اطاعت کو ملت کا نظام اور ہماری امامت کو تفرقہ سے امان کا ذریعہ قرار دیا ، ہماری محبت عزت اسلام ہے ، ہم ہمیشہ حکم دیتے رہے اور تم عمل کرتے رہے یہانتک کہ اسلام کی چکی ہماری بدولت چلنے لگی اور فوائد حاصل ہونے لگے شرک کا نعرہ دب گیا اور جنگ کی آگ بجھ گئی ، ہنگاموں کی آواز دھیمی پڑگئی اور دین کا نظام مرتب ہوگیا ۔( بلاغات النساء ص 30 روایت زید بن علی (ع) ، احتجاج 1 ص 258 ، 271 ، کشف الغمہ 2 ص 109 ، 117 ، مناقب ابن شہر آشوب 2 ص 207 ، دلائل الامامة 113 / 36 )۔

318 ۔ جناب فاطمہ (ع) ! اللہ سے ڈرو جوڈر نے کا حق ہے ، ہم مخلوقات میں اس کا وسیلہ اور اس کے خواص ہیں ، ہم اس کی پاکیزگی کا مرکز اور غیب میں اس کی حجت ہیں اور ہمیں انبیاء کے وارث ہیں۔( شرح نہج البلاغہ 16 ص 211 از کتاب ابوبکر احمد بن عبدالعزیز الجوہری ، دلائل الامامة 113/ 36)۔

319 ۔ امام حسین (ع) بروز عاشور

ہم اس علی (ع) کے فرزند ہیں جو بنئ ہاشم میں سب سے افضل ہے اور یہی ہمارے فخر کے واسطے کافی ہے۔

ہمارا جد رسول اکرم ہے جوروئے زمین پر قدرت کا روشن چراغ ہے۔

ہماری مادر گرامی فاطمہ (ع) بنت رسول ہیں اور ہمارے چچا حضرت جعفر طیار ہیں۔

ہمارے ہی گھر میں قرآن نازل ہوا ہے اور ہمارے ہی یہاں ہدایت اور وحی کا مرکز ہے۔

ہم مخلوقات کے لئے وجہ امان ہیں اور اس بات کا خفیہ و اعلانیہ ہر طرح وجود پایا جاتاہے۔

ہم حوض کوثر کے مختار ہیں جہاں اپنے دوستوں کو رسول اکرم کے جام سے سیراب کریں گے۔

ہمارے شیعہ بہترین شیعہ ہیں اور ہماری دشمن روز قیامت خسارہ میں رہیں گے۔( مناقب ابن شہر آشوب 4 /80 ، احتجاج 2 ص 25 ، ینابیع المودة 3 ص 75 ، موسوعہ کلمات الامام الحسین (ع) 498 / 286)۔

320 ۔ امام زین العابدین (ع) ( خطبہ دربار یزید )

ایھا النّاس ہمیں چھ کمالات دیئے گئے ہیں اور سات اعتبارات سے فضیلت دی گئی ہے ، ہمارے لئے قدرت کے عطایا علم ، حلم ، سماحت ، فصاحت ، شجاعت اور مومنین کے دلوں میں محبت ہے اور ہماری فضیلت کے جہات یہ ہیں کہ رسول مختار ہمیں میں سے ہیں ، صدیق ( حضرت علی (ع) ) ہمیں میں سے ہیں ۔طیار ( جعفر ) ہمیں میں سے ہیں… اسداللہ و اسدالرسول (حمزہ) ہمیں میں سے ہیں و سیدة نساء العالمین فاطمہ (ع) بتول ہمیں میں سے ہیں ، سبطین امت سرداران جوانان اہل جنت ہمیں میں سے ہیں ۔( مقتل الحسین خوارزمی 2 ص 69)۔

واضح رہے کہ ساتویں فضیلت یہ ہے کہ مہدی امت بھی ہمارے ہی گھرانے کی ایک فرد ہے۔(جوادی )

221 ۔ امام زین العابدین (ع) ! اہلبیت (ع) ایک مبارک شجرہ کی شاخیں ہیں اور ان منتخب افراد کی نسل ہیں جنھیں ہر رجس سے دور رکھا گیا ہے اور کمال طہارت کی منزل پر رکھا گیا ہے، اللہ نے انھین تمام عیوب سے دور رکھاہے اور ان کی موت کو قرآن میں واجب قرار دیاہے، یہی عروة الوثقیٰ ہیں اور یہی معدن تقویٰ ہیں ، بہترین ریسمان ہدایت اور مضبوط ترین وسیلہ ٴ نجات ( ینابیع المودة 2 ص 367 ، کشف الغمہ 2 ص 311 ، صواعق محرقہ ص ص 152)۔

332 ۔ امام (ع) باقر ! ہم حجت خدا ، باب اللہ ، لسان اللہ ، وجہ اللہ ، عین اللہ اور بندوں میں والی امر الہی ہیں ۔( کافی 1 ص 145 ، بصائر الدرجات 1 ص 61 ، بحار الانوار 25 ص 384)۔

323 ۔ امام محمد باقر (ع) ! ہم اہلبیت (ع) رحمت ، شجرہٴ نبوت ، معدن حکمت، محل نزول ملائکہ اور مرکز نزول وحی الہی ہیں ۔( ارشاد 2 ص 168 ، مناقب ابن شہر آشوب 4 ص 206 ، الخرائج و الجرائح 2 ص 892 ، بصائر الدرجات 5 ص 57 ، حلیة الابرار 2 ص 95)۔

324 ۔امام باقر (ع) ! ہم وہ ہیں جن سے آغاز ہوتاہے اور ہم وہ ہیں جن پر اختتام ہوتاہے، ہم ائمہ ہدی اور تاریکیوں کے چراغ ہیں ، ہمیں ہدایت کے منارے ہیں ، ہمیں سب سے سابق ہیں اور ہمیں سب سے آخر ہیں۔( کمال الدین ص 206 / 20 ، امالی طوسی 654 /1354 ، بصائر الدرجات 63 / 10 ، مناقب ابن شہر آشوب 4 ص 206 ، ارشاد القلوب ص 418 روایت خثیمہ الجعفی )۔

325 ۔ امام باقر (ع) ! ہم جب کسی شخص کو دیکھتے ہیں تو اسے حقیقت ایمان اور حقیقت نفاق دونوں کے ذریعہ پہچان لیتے ہیں ۔( کافی 1 ص 238، عیون اخبار الرضا 2 ص 227 ، اختصا ص 278 ، مناقب ابن شہر آشوب 4 ص 188 ، بصائر الدرجات 5 ص 288)۔

326 ۔ امام صادق (ع) ! ہم وہ قوم ہیں جن کی اطاعت پروردگار نے واجب قرار دی ہے ، انفاق ہمارے ہی لئے ہیں اور منتخب اموال بھی ہمارا ہی حصہ میں ہمیں راسخوں فی العلم ہیں اور راسخوں فی العلم ہیں اور ہمیں وہ محسود ہیں جن کے بارے میں آیت نازل ہوئی ہے کیا یہ لوگ ہمارے بندوں سے اس بات پر حسد کرتے ہیں کہ ہم نے انھیں اپنے فضل سے بہت کچھ عطا کردیا ہے۔( کافی 1 ص 186 ، تہذیب 4 ص 132 ، تفسیر عیاشی 1 ص 247 ، بصائر الدرجات ص202)۔

237 ۔ امام صادق (ع) ! ہم اہلبیت (ع) ہیں ہمارے پاس علم کے مرکز ، نبوت کے آثار ، کتاب کا علم اور فیصلہ کی مکمل صلاحیت ہے۔( اختصاص ص 309 ، بصائر الدرجات 4 ص 363)۔

328 ۔ امام صادق (ع) ! پروردگار نے ہم اہلبیت (ع) کے ذریعہ اپنے دین کی وضاحت کی ہے اور ہدایت کے راستہ کو روشن کیا ہے اور علم کے چشموں کو جاری کیا ہے۔( کافی 1 ص 20 ، الغیبتہ نعمانی ص 224 )۔

329 ۔ امام صادق (ع) ! ہم شجرہ نبوت، بیت رحمت ، مفاتیح حکمت، معدن علم ، محل رسالت، مرکز آمد و رفت ملائکہ ، موضع راز الہی ، بندوں میں اللہ کی امانت، خدا کا حرم اکبر ، مالک کا عہد و پیمان ہیں، جو ہمارے عہد کو وفا کرے گا اس نے عہد الہی کو وفا کیا ہے اور جس نے ہمارے عہد کی حفاظت کی اس نے عہد الہی کی حفاظت کی ، اور جس نے اسے توڑ دیا اس نے عہد الہی کو توڑ دیا ۔( کافی 1 ص 221 ، بصائر الدرجات 57)۔

330 ۔امام صادق (ع) ! ہم شجرہ نبوت، معدن رسالت، مرکز نزول ملائکہ، عہد الہی، امانت و حجت پروردگار ہیں ۔( تفسیر قمی 2 ص 28)۔

331 ۔ امام صادق (ع) ! ہم شجرہٴ علم اور اہل بیت النبی ہیں، ہمارے گھر میں جبریل کا نزول ہوتا تھا، ہم علم کے خزانہ دار اور وحی الہی کے معاون ہیں، جس نے ہمارااتباع کیا وہ نجات پاگیا اور جس نے ہم سے علیحدگی اختیار کی وہ ہلاک ہوگیا اور یہ پروردگار کا عہد ہے۔( امالی صدوق (ر) ص 253 ، روضة الواعظین ص 299 ، بشارة المصطفیٰ ص 54)۔

332 ۔ امام صادق (ع) ! ہم بندوں میں حجت پروردگار اور مخلوقات پر اس کے گواہ ہیں ، وحی کے امانتدار ہیں اور علم کے خزانہ دار، ہم وہ چہرہ الہی ہیں جس کی طرف رخ کیا جاتاہے اور مخلوقات میں اس کی چشم بینا، زبان گویااور قلب واعی ہیں، ہمیں وہ باب ہیں جو اس تک پہچاتاہے اور اس کے امر کے جاننے والے، اس کی راہ کی طرف ہدایت کرنے والے ہیں ، ہمارے ہی ذریعہ سے خدا کو پہچانا گیا اور اس کی عبادت کی گئی ہے اور ہمیں اس کی طرف رہنمائی کرنے والے ہیں ، ہم نہ ہوتے تو کوئی عبادت کرنے والا نہ ہوتا۔( توحید 152 /9)۔

333 ۔امام صادق (ع) ! ہم ہر خیر کی اصل ہیں اور ساری نیکیاں ہماری فروع ہیں، نیکیوں میں عقیدہ توحید، نماز، روزہ ، غصہ کو ضبط کرنا ، خطاکار کو معاف کردینا ، فقیروں پر رحم کرنا ، ہمسایہ کا خیال رکھنا ، صاحبان فضل کے فضل کا اقرار کرنا سب شامل ہیں،ہمارے دشمن برائیوں کی جڑ ہیں اور ان کے فروع میں ہر برائی اور بدکاری شامل ہے جس میں سے جھوٹ، بخل ، چغلخوری ، قطع رحم، سود خواری، مال یتیم کا کھا جانا، حدود الہی سے تجاوز کرنا ، فواحش کا ارتکاب، چوری اورا سکے جملہ امثال ہیں ۔

جھوٹا ہے وہ شخص جس کا خیال یہ ہے کہ وہ ہمارے ساتھ ہے اور پھر ہمارے اغیار کے فروع سے وابستہ ہے۔( کافی 8 ص 242 ، تاویل الآیات الظاہرہ ص 22)۔

334 ۔امام صادق (ع) ! ہم کتاب خدا کی کلیدہیں ہمارے ہی ذریعہ اہل علم بولتے ہیں ، ہم نہ ہوتے تو سب گونگے رہ جاتے۔(اختصاص ص 90 ، بروایت حمید بن المثنئ العجل)۔

335 ۔ امام رضا (ع) ! ہم مخلوقات پر اللہ کی حجت اور بندوں میں اس کے خلیفہ ہیں۔اس کے راز کے امانتدار ، کلمہ تقویٰ اور عروة الوثقیٰ ہیں۔( کمال الدین 6 ص 202 ، ارشاد القلوب ص 417)۔

336 ۔ امام رضا (ع) ! ہم آل محمد جادہٴ وسطیٰ ہیں ، غالی ہم کو پا نہیں سکتاہے اور پیچھے رہ جانے والا ہم سے آگے نہیں جاسکتاہے۔( کافی 1 ص 101 ، ا لتوحید 114 / 13)۔

337 ۔امام رضا (ع) ! ہم اہلبیت (ع) وہ ہیں جن کے بچے بزرگوں کے مکمل وارث ہوتے ہیں۔( کافی 1 ص 320، ارشاد 2 ص 276 ، اختصاص ص 279 ، بصائر الدرجات ص 296 ، الخرائج والجرائح 2 ص 899 / 4 روایت معمر بن خلاد)۔

338 ۔ امام رضا (ع) ! ہماری آنکھیں دوسرے لوگوں جیسی نہیں ہیں ، ہم میں ایک ایسا نور پایا جاتاہے جس میں شیطان کا کوئی حصہ نہیں ہے۔( امالی طوسی (ر) ص 245 / 427 ، بصائر الدرجات ص 419)۔

239 ۔ امام جواد (ع) ! ہم میں جو شخص بھی ہے وہ امر الہی کے ساتھ قیام کرنے والا اور دین خدا کی ہدایت دینے والا ہے۔( کمال الدین 378 ، احتجاج 2 ص481)۔

340 ۔ امام جواد (ع) ! حمد سے اس خدا کے لئے جس نے ہمیں اپنے نور اور اپنے دست قدرت سے خلق کیا اور تمام مخلوقات میں منتخب قرار دیا اور تمام کائنات کے لئے اپنا امین بنادیا۔( دلائل الامة 384 / 342 روایت محمد بن اسماعیل از عسکری ، مناقب ابن شہر آشوب 4 387)۔

342 ۔امام ہادی (ع) ! ہم وہ کلمات الہی ہیں جو تمام نہیں ہوسکتے اور ہمارے فضائل کا ادراک نہیں ہوسکتاہے۔( اختصاص ص 94 ، تحف العقول ص 479 از موسی المبرقع ، مناقب ابن شہر آشوب 4 ص 404 ، احتجاج 2 ص 499 / 331 ” بغیر اسناد“)۔

343 ۔ موسیٰ بن عبداللہ النخعی کہتے ہیں کہ میں نے امام علی نقی (ع) سے گزارش کی کہ مجھے ایک ایسے جامع اور بلیغ کلام کی تعلیم دیں جس کے ذریعہ آپ حضرات میں ہر ایک کی زیارت کرسکوں ؟ فرمایا غسل کرکے حرم کے دروازہ پر جاکر کھڑے ہوجاؤ اور کلمہ شہادتیں زبان پر جاری کرکے یوں کہو۔

” سلام ہو آپ حضرات پر اے اہلبیت(ع) نبوت اور معدن رسالت ملائکہ کی رفت و آمد کے مرکز اور وحی کے نزول کی منزل ، رحمت کے معدن اور علم کے خزانہ دار، حلم کی منزل آخر اور کرم کے اصول ، امتوں کے قائد اور نعمتوں کے مالک ،نیک بندوں کی اصل اورنیک کردار وں کے ستون، بندوں کے منتظم اور شہروں کے ارکان، ایمان کے ابواب اور رحمان کے امانتدار، انبیاء کی ذریت اور مرسلین کے منتخب روزگار اور رب العالمین کے پسندیدہ بندہ کی عترت … اور آپ ہی پر تمام رحمتیں اور برکتیں ہوں ۔( تہذیب 6 ص 95 / 177)۔

مولف ! اس مقام پر اس مکمل زیارت کا مطالعہ ضروری ہے کہ اس سے تمام خصائص اہلبیت (ع) کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے۔

344 ۔ اما عسکری (ع) ! ہم پناہ کے طلب گاروں کی جائے پناہ، روشنی حاصل کرنے والوں کی روشنی ، تحفظ چاہنے والوں کے لئے وسیلہ حفاظت ہیں ، جو ہم سے محبت کرے گا ہمارے ساتھ بلندترین منزل پر ہوگا اور جو ہم سے انحراف کرے گا اس کی جگہ جہنم ہوگی۔( رجال کشی 2 ص 814 / 1018 ، مناقب ابن شہر آشوب 4 ص 435 ، الخرائج والخرائج 2 ص 840 / 54 ، کشف الغمہ 3 ص 211 روایت محمد بن الحسن بن میمون)۔

3 ۔ امام مہدی (ع) ! اللہ نے انھیں اوصیاء کے ذریعہ دین کو زندہ رکھا، نور کو تمام کیا اور ان کے اوران کے تمام برادران ، ابناء عم، قرابتداروں کے درمیان واضح فرق رکھا کہ جس کے ذریعے حجت کو اس سے جس پر حجت تمام کی جائے اور امام کو ماموم سے جدا کردیا جائے ، انھیں گناہوں سے محفوظ اور عیوب سے پاکیزہ کردیا ، کثافت سے پاک رکھا اور شبہات سے منزل قرار دیا ، انھیں علم کا خزانہ دار، حکمت کا امانتدار اور اسرار کی منزل قرار دیا اور پھر دلائل سے ان کی تائید کی کہ ایسا نہ ہوتا تو تمام لوگ ایسے جیسے ہوجاتے اور ہر شخص امر آلہی کا دعویدار بن جاتا، نہ حق باطل سے الگ پہچانا جاتا اور نہ عالم و جاہل میں کوئی امتیاز ہوتا ۔(الغیبتہ طوسی (ر) ص 288 / 246، احتجاج ج2 ص 540 / 343 روایت احمد بن اسحاق )۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.