اْمید ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔

0 0

سکندر ِ عظم  نے ایران کی مْہم پر روانہ ہونے سے پہلے مقدونیہ میں اپنے محل کا تمام تر قیمتی ساز و سامان اپنے سپاہیوں  کو بخش دیا تھا یہ سب دیکھتے ہوئے سکندر کے دوست کلیرّس نے کہا سکندر میں تم سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں ـ تم نے اپنا تمام قیمتی سامان تو تقسیم کر دیا ہے تو پھر آخر تم نے خْود کے لیے کیا رکھا ییکلیرّس کا یہ سوال سْن کر اْس اولوالعزم انسان نے جو ایک عظیم جرنیل ہونے کہ ساتھ ساتھ ایک عظیم انسان بھی تھا مْسکرا کر کلیرّس کی طرف دکھا اور اور بھر پور اعتماد سے کہا ،  ۔۔۔۔۔۔ اْمید۔۔۔۔۔۔

گزشتہ دنوں ایک مقامی اخبار میں ایک سروے کے مطابق  پاکستان کے حالات اس قدر بدتر ہوتے جارہے ہیں کہ لوگوں میں  صبر ،تحمل، برداشت،  ختم ہوا چاہتا ہے لوگ بہت تیزی سے نا صرف نفسیاتی امراض میں مْبتلا ہو رہے ہیں بلکہ لوگوں میں ایک دوسرے کا احساس  کرنے کا مادہ بھی ناپید ہوتا جارہا ہے اور اْمید کی بات پر اب لوگ ہستے دکھائی دیتے ہیں یہ بہت تلخ حقیقت ہے مگرافسوس کہ سچ ہےـ انسان کا دوسرے انسان کے لیے احساس کا مادہ  ختم ہونے کی بہت سی مثالیں ہمارے سامنے ہیں اب کسی کا دْکھ ہم کو اپنا نہیں لگتا کسی اور کے آنسوّ ہماری آنکھ سے نہیں بہتے کسی کو تکلیف میں دیکھ کر ہمیں کوئی افسوس نہیں ہوتا نہ ہی کسی گرتے کو سہارا  دینے کے لیے ہمارا ہاتھ  آگے  بڑھتا ہے  ـ

بے حسی اور نا اْمیدی کی ایک مثال یوں ہے کہ  کْچھ دنوں  دن پہلے لاہور کے علاقے سمن آباد میں رات کے وقت ناقے پر موجود تین پولیس والوں کو بے دردی سے گولیاں مار کر  شہید کر دیا گیا  کْچھ لوگوں نے جنہوں نے یہ افسوس ناک حادثہ اپنی آنکھوں سے دکھا کہا کہ اب کوئی کیا کرسکتا ہے بس معمول کی بات لگتی ہے اب  ، یہ خبر نہ تو لوگوں کے لیے اہم بن سکی نا ہی لوگوں نے اس کو  یاد رکھا اخبار میں بھی ایک بہت چھوٹی سے خبر شاید آئی ہو  جن کے سامنے تین انسانوں  کا  اس بے رحمی سے قتل کر دہا گیا اْن کے مطابق یہ معمول کا قصہ ہے اور کہتے ہیں کہ  پاکستان میں رہ کر آپ کسی بھی اچھی بات کی اْمید تو رکھنے سے رہے  ایسے میں خیال  آتا ہے کہ موجودہ حالات میں ہم کوایک دوسرے کے لیے احساس بھرے دل اور  اْمید جیسے بیش قیمت خزانے کی جتنی شدید ضرورت ہے اتنا ہی حال میں ہم اس دولت سے محروم  ہوتے جا رہے ہیں ـ

مزید  امام کا انتخاب اور ذمہ داري

نفسیاتی مساہل کی بْنیادی وجہ بھی یہ ہی ہے کہ اس وقت جب ایک دوسرے کا ساتھ دینا چایے حوصلہ بڑھنا چاہیے تھا لوگ ایک درسرے سے کٹتے جارہے ہیں افراتفری اس قدر بڑھ گئی ہے کہ کسی کے پاس وقت نہیںکہ کسی  کی مدد کا سوچے انسان کو زندہ رہنے کے لیے بہت سے سہاروں کی ضرورت پڑتی ہے تنہا انسان نا جی سکا ہے نا جی سکتا ہے انسان کی زندگی میں بہیت سے اچھے بْرے وقت آتے ہیں کہتے ہیں وقت کی مثال ایک پہیے کی سی ہے جو کبھی اْپر تو کبھی نیچے یعنی اچھا بْراوقت آتا جاتا رہے گا بْرا وقت آج ہے تو کل نہیں ہو گا آج پاکستان جن حالات سے گْزر رہا ہے اْس میں صرف ایک حکومت ہی کیوں زمے دار ہے ہم لوگ ذاتی طور پر کون سے نیک اور پارسا ہیں ہم کتنوں کی دل جوئی کرتے ہیں ہم کب اپنی ضرورت کے علاوہ کسی  دوسرے کی ضرورت کو پْورا کرنے کا سوچتے ہیں  ہم نے کب اپنا نفع اس لیے چھوڑا کے کسی اور کواس سے نقصان ہورہا تھا

اگر ایک انسان کو ذندگی میں کسی چیز کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑا ہو بلکہ یہ کہنا درست ہو گا کہ  ترسنا پڑا ہو ، تو وہ انسان ہر مْمکن کوشش کرتا ہے کے اْس کی  اْولاد کو اْس چیز کے لیے ترسنا نہ پڑے ہم کتنے خْود غرض ہو گئے ہیں کہ جس امن اور سکون کو آج ہر پاکستانی ترس رہا ہے ہم نے وہ آنے والی نسل کو دینے کے بارے میں ایک دفعہ بھی نہیں سوچا ، ہمارے سیاسی لیڈر ہوں یا کویی مْولوی جیب گرم کرنے کو بڑی بری باتیں کرتے ہیں خْود کو بہترین اور دوسرے کو خراب کرنے میں کوئی کثر نہیں اْٹھارکھتے سیاسی لیڈر مْلک کو امن کا گہوارا بنانے کی بات کرتا ہے  اور مولوی جنت دلانے کی مگر عمل کا فقدان دونوں طرف ہے نہ سیاسی لیڈر مْلک کا مْستقبل سنوارنے کے لیے عملی قدم اْٹھاتا ہے نا مولوی جنت دلانے کے اصل اْصول اپنانے کو کہتا ہے دونوں ہی ہم کو  اور ہمارے پیارے مْلک کو برباد کر رہے ہیں پر کاش ان کے پاس بصیرت ہو

مزید  ”فطرت“ قرآن ميں

سخن گلاب کو کانٹوں میں تولنے والے

ْخْدا سلیقہ عرضِ ہنر تْجھے بھی دے

آج ہم لوگ ایک طرح سے حالتِ جنگ میں ہیں اور جنگ کا اصول ہے کے متحد ہو کر لڑا جاتا ہے تنہا  کویی شخص جنگ نہیں جیت سکتا جنگ جیتنے کے بھی کْچھ اصول ہوتے ہیں جن میں پہلا اصول  اتحاد ہے ایک دوسرے سے اس طرح جْوڑے رہہنا کے کوئی دوسرا حملہ نا کر سکے اور جب کرے تو متحد پو کر لڑا جائے  مگر صد افسوس کہ ہم نے دْشمن کو کھولا موقع دے رکھا ہے کہ آوْ اور ہم کو برباد کرو یہ دْشمن ہر وہ شیطانی طاقت ہے جو انسان انسانیت اور مْسلمان کے خلاف ایک ہو گئے ہیں ، آج کڑاوقت ہے مْشکلات بہت سی ہیں راستہ بھی با ظاہر دیکھائی نہیں دے رہا مگر  ٹھوکر کھا کر گرنا کوئی خامی نہیں ہے پر گر کر پھر نا سمبھلنے

میں خامی ضرور ہے جو ٹھوکر کھا کر پھر سے اْٹھ کھڑے ہوں وہ ہی تقدیر کو بدلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں بقول مْحسن بھوپالی ـ

ٹھوکرے کھا کر جو سمبھلتے ہیں

نظمِ  گیت  وہ  یی  بدلتے  ہیں

اْمید ہمارے ایمان کا حصہ ہے وقت اور حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں ہم کو خْدا کی ذات پر آخری دم تک کامل یقین رکھنا ہے ہر تصویر کے دو رْخ ہوتے ہیں اور آج ہمیں ضرورت ہے کہ ہم  تصویر کا اچھا رْخ دکھیںـ ہمارا کل ضرور مْنور ہوگا اگر ہم  آج عزم کر لیں کہ رات بہیت گہری سہی پر ہم اس میں اپنے اپنے حصے کا چراغ ہر صورت روشن کریں گے کیوں کہ  اندھیرا کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو  روشنی کی ہلکی سی لکیر بھی اْس کا سینہ چیر دیتی ہے اور ہم بھی سکندر کی طرح سے اْمید کو ہمسفر بنا کر دْنیا کو فتح کر سکتے ہیں ـ

مزید  کتاب اللہ کی خوبیاں

دیکھنا یہ ہے کہ احساس ِ شکستِ غم بھی ہے

پا ہی لیں گے منزلیں دشواریوں کے باوجود

کوئی شے راہ ِ طلب میں  کوشش پیہم بھی ہے۔(یو این این)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.