اولیاء سے مددطلبی

سورہ حمد میں ”ایاک نستعین“ کے پیش نظر جس میں استعانت اور مدد طلب کرنا خداوند عالم کی ذات سے مخصوص ھے تو کیا پھر اولیائے الٰھی سے مدد طلب کرنا بدعت نھیں ھے؟ قرآن و سنت کے ذریعہ اس مسئلہ کے جائز ھونے کی کیا دلیل ھے؟

اولیائے الٰھی سے مدد مانگنے کے سلسلہ میں تمام ھی مسلمانوں کا اتفاق ھے، بلکہ اس کو ایک مستحب کام اور توحید کے موافق سمجھتے ھیں کیونکہ اگر ھم اولیائے الٰھی یعنی پیغمبر اور ائمہ معصومین علیھم السلام سے مدد طلب کرتے ھیں تو اس وجہ سے نھیں کہ ان کو تاثیر میں مستقل سمجھتے ھیں، بلکہ اس وجہ سے کہ اولیائے الٰھی بارگاہ خداوندی کے مقرب بندے اور خداوندعالم کے صفات جمال و کمال، اسمائے حسنیٰ، اس کی قدرت اور اس کے علم وغیرہ کے مظھر ھیں اور خدا کی مشیت اور اس کے ارادے سے اس عالم میں دخل و تصرف کرتے ھیں ((مَا تَشَاوٴُوْنَ اِلاّٰ اٴَنْ یَّشَاءَ اللّٰه))
”وہ تو کچھ چاھتے ھی نھیں جب تک کہ خدا نہ چاھے“۔
لیکن اس مسئلہ میں وھابی حضرات اجماعِ مسلمین کی مخالفت کرتے ھوئے شدت کے ساتھ تحریم کے قائل ھیں، بلکہ اس کو شرک جاھلیت سے بھی بڑا گناہ مانتے ھیں، لہٰذا اس مسئلہ پر بحث کرنا ضروری ھے۔

 
وھابیوں کے فتوے

1۔ ابن تیمیہ (وھابی عقائد کے بانی) کا کہنا ھے: ”شرک کی قسموں میں سے ایک قسم یہ ھے کہ کسی مردہ انسان سے کوئی شخص کھے: میری مدد کر، مجھے سھارا دے، میری شفاعت کر، دشمنوں کے مقابل میری مدد کر، یا اس طرح کی دیگر درخواست کہ جن پر صرف خداوندعالم قدرت رکھتا ھے“۔ 1
ایک دوسری جگہ اس درخواست کو واضح طور پر شرک قرار دیتے ھوئے کھتا ھے: ”جو شخص اس طرح کھے تو اس کو توبہ کرنا چاہئے اور وہ توبہ نہ کرے تو ایسے شخص کا قتل کرنا واجب ھے“۔2

2۔ محمد بن عبد الوھاب کا کہنا ھے: ”غیر خدا کو پکارنا، اور غیر خدا سے مدد مانگنا، دین سے خارج ھونے اور مشرکین کے دائرے میں داخل اور بتوں کی پوجا کرنے کے برابر ھے، اس کا حکم یہ ھے کہ اس کی جان و مال حلال ھے،مگر یہ کہ توبہ کرلے“۔3۳
۔ شیخ عبد العزیز بن باز کا کہنا ھے: دنیا کے کسی بھی گوشہ میں اگر کوئی شخص یہ کھے: ”یا رسول اللہ! یا بنی خدا! یا محمد! میری مدد فرمائیں، میری دستگیری کریں، میری نصرت فرمائیں، مسلمانوں کے مریضوں کو شفا دیدیں یا مسلمانوں کے گمراہ لوگوں کی ہدایت فرمائیں، تو اس نے عبادت میں خدا کا شریک قرار دیا ھے“۔ 4
یھی موصوف ایک دوسری جگہ کھتے ھیں: ”اس بات میں کوئی شک نھیں ھے کہ پیغمبر اکرم (ص)، انبیاء علیھم السلام، اور اولیائے الٰھی یا ملائکہ اور جنّات سے استغاثہ کرنے والے اس اعتقاد کے ساتھ استغاثہ کرتے ھیں کہ یہ حضرات ان کی دعاؤں کو سنتے ھیں ان کے حالات سے باخبر ھیں لہٰذا ان کی حاجتوں کو پورا کردیں گے، یہ تمام چیزیں ”شرک اکبر“ ھیں، کیونکہ غیب کی باتوں کو خدا کے علاوہ کوئی نھیں جانتا، اور مردے چاھے انبیاء ھوں یا انبیاء کے علاوہ ،مرنے کے بعد اس دنیا میں کچھ میں نھیں کرسکتے“5
اسی طرح ان کا کہنا ھے: ”لیکن مردہ کو پکارنا، اس سے استغاثہ کرنا، مدد طلب کرنا، یہ تمام چیزیں شرک اکبر اور زمانہ پیغمبر کے مشرکین کی طرح ھے جوبتوں کی عبادت کیا کرتے تھے“۔6

غیر خدا سے مدد طلب کرنے کی قسمیں غیر خدا سے استعانت اور مدد مانگنے کی چند قسمیں ھیں جن کو ھم ذیل میں ان کے حکم کے ساتھ بیان کرتے ھیں:

 
1۔ کسی انسان سے اس کی زندگی میں مدد طلب کرنا

خود اس کی بھی چند قسمیں ھیں:

 
الف) عام مسائل میں مدد طلب کرنا

ان عام کاموں میں مدد حاصل کرنا جن کاموں میں طبعی اسباب و علل ھوتے ھیں، اور یہ قسم نوع بشر کا بنیادی مسئلہ ھے کیونکہ انسان کی زندگی ایک دوسرے کی مدد سے آگے بڑھتی ھے، چنانچہ اس قسم کا کوئی بھی انکار نھیں کرسکتا، اسی وجہ سے خداوندعالم جناب ذوالقرنین کی زبانی فرماتا ھے:
(( فَاٴَعِینُونِی بِقُوَّةٍ اٴَجْعَلْ بَیْنَكُمْ وَبَیْنَهمْ رَدْمًا )) 7
”اب تم لوگ قوت سے میری امداد کرو کہ میں تمھارے اور ان کے درمیان ایک روک بنادوں“۔

 
ب) دوسروں کی دعا سے طلبِ مدد کرنا

استعا نت اورطلب مدد کرنے کی ایک قسم دوسروںکی دعا ؤںسے طلب مددکرناھے، یعنی دوسروں سے دعاکی التماس کرنا، اس قسم میںبھی کوئی اعتراض نھیںھے، قران مجید میںبھی بھت سے مقامات پر اس قسم کی طرف اشارہ ھوا ھے، مثلاً دوسروںکی دعاوٴںسے مدد طلب نہ کرنامنافقین کی صفات میںشمار کیا گیاھے:ارشاد ھوتا ھے:
((وَإِذَا قِیلَ لَهمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ اللهِ لَوَّوْا رُئُوسَهمْ وَرَاٴَیْتَهمْ یَصُدُّونَ وَهمْ مُسْتَكْبِرُونَ )) 8
”اور جب ان سے کھا جاتا ھے کہ آؤ رسول اللہ تمھارے حق میں استغفار کریں گے تو سر پھرا لیتے ھیں اور تم دیکھو گے کہ استکبار کی بنا پر منھ بھی موڑ لیتے ھیں“۔
ایک دوسری جگہ مومنین کی دعائے خیر سے مدد حاصل کرنا ایک فطری ضرورت قرار دیا گیا ھے، چنانچہ برادران یوسف کے بارے میں ارشاد ھوتا ھے :
((قَالُوا یَااٴَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِینَ ۔ قَالَ سَوْفَ اٴَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّی إِنَّه هوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ )) 9
”ان لوگوںنے کھا:بابا جان! اب آپ ھمارے گناھوں کے لئے استغفار کریں ھم یقینا خطاکار تھے۔ انھوں نے کھا کہ میں عنقریب تمھارے حق میں استغفار کروں گا کہ میرا پروردگار بھت بخشنے والا اور مھربان ھے“۔
مومنین کی استغفار کے بارے میںارشادھوتاھے:
(( وَالَّذِینَ جَاءُ وا مِنْ بَعْدِهمْ یَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِینَ سَبَقُونَا بِالْإِیمَانِ)) 10
”اور جو لوگ ان کے بعد آئے اور ان کا کہنا یہ ھے کہ خدایا ھمیں معاف کردے، اور ھمارے بھائیوں کو بھی جنھوں نے ھم پر ایمان میں سبقت کی ھے“۔
اس قسم کو ابن تیمیہ نے قبول کرتے ھوئے کھا ”صحیح سند کے ساتھ پیغمبر اکرم(ص) سے نقل ھوا ھے کہ آنحضرت نے فرمایا: ”جو شخص اپنی دینی بھائی کے لئے دل سے دعا کرے تو خداوندعالم ایک فرشتہ کو موکل کرتا ھے تاکہ دعا کے وقت اس سے کھے: تیرے لئے بھی وھی چیز ھے جو تو نے اس برادر مومن کے لئے طلب کی ھے“۔ 11
ج) اولیائے الٰھی سے غیر معمولی کاموں میں مدد مانگنا
زندہ انسان سے استعانت اور مدد حاصل کرنے کی ایک قسم غیر معمولی کاموں مدد مانگنا ھے جیسے کسی مریض کو غیر معمولی طریقہ سے شفا دینا وغیرہ، البتہ اگر اعجاز کی قدرت رکھتا ھو، اس سلسلہ میں بھی کسی کو کوئی اعتراض نھیں ھے، کیونکہ در حقیت یہ تو اولیائے الٰھی کی قدرت اور ان کے معجزات پر ایمان ھے، لیکن اس اعتقاد کے ساتھ کہ سب چیزیں خدا کے دست قدرت میں ھے، جب تک وہ ارادہ نہ کرے کوئی کام انجام نھیں پاسکتا، یہ اعتقاد ”توحید در خالقیت و ربوبیت“ کے بھی مخالف نھیں ھے۔
حضرت سلیمان نے حاضرین سے چاھا کہ یمن سے تخت بلقیس ایک لمحہ میں اردن (آپ کی جائے سکونت) لے آئیں:
((اٴَیُّكُمْ یَاٴْتِینِی بِعَرْشِها قَبْلَ اٴَنْ یَاٴْتُونِی مُسْلِمِینَ )) 12
”تم میں کون ھے جو اس کے تخت کو لے آئے قبل اس کے کہ وہ لوگ اطاعت گزار بن کو حاضر ھوں“۔
جناب سلیمان کا مقصد یہ تھا کہ تخت بلقیس غیر معمولی طریقہ سے ان کے پاس حاضر ھوجائے، چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ھوتا ھے:
(( قَالَ الَّذِی عِنْدَه عِلْمٌ مِنْ الْكِتَابِ اٴَنَا آتِیكَ بِه قَبْلَ اٴَنْ یَرْتَدَّ إِلَیْكَ طَرْفُكَ فَلَمَّا رَآه مُسْتَقِرًّا عِنْدَه)) 13
” ایک شخص نے جس کے پاس کتاب کا ایک حصہ علم تھا اس نے کھا میں اتنی جلدی لے آوں گا کہ آپ کی پلک بھی نہ جھپکنے پائے، اس کے بعد سلیمان نے تخت کو اپنے سامنے حاضر دیکھا۔۔۔“۔
خداوندعالم غیر معمولی کاموں کی نسبت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف دیتے ھوئے فرماتا ھے:
((وَتُبْرِءُ الْاٴَكْمَه وَالْاٴَبْرَصَ بِإِذْنِی وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتَی بِإِذْنِی)) 14
”اور جب تم مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو ھماری اجازت سے شفا دیتے تھے اور ھماری اجازت سے مردوں کو زندہ کردیتے تھے“۔
اگر غیر معمولی کام کوئی شخص انجام دے سکتا ھے تو اس سے اس کی درخواست میں بھی کوئی اشکال و اعتراض نھیں ھے۔
خداوندعالم اور انسان کے غیر معمولی کاموں میں فرق یہ ھے کہ خداوندعالم ایسا قادر اور فاعل ھے جو اپنے کاموں میں کسی غیر سے وابستہ نھیں ھے بلکہ اپنے کاموں میں مستقل ھے، جبکہ دوسرے لوگ خود خداوندعالم کی ذات سے وابستہ ھیں۔

2۔ اولیائے الٰھی کی وفات کے بعد ان کی اروا ح سے مدد طلب کرنا

اولیائے الٰھی کی وفات کے بعد ان کی ارواح سے مدد طلب کرنا، یا استغاثہ کرنا، استعانت کے اھم مسائل میں سے ھے، چاھے دعا کی صورت میں ھو یا طلب اعجاز کی شکل میں، چنانچہ وھابیوں نے اس قسم کی استعانت کو شرک قرار دیا ھے اور اس کا شدت سے مقابلہ اور مخالفت کرتے ھیں۔ استعانت اور استغاثہ کے جائز ھونے پر دلائل
اگر ھم احادیث و روایات کا مطالعہ کریں تو ھمیں معلوم ھوجائے گا کہ اولیائے الٰھی سے استعانت اور استغاثہ کرنے میں نہ صرف کوئی حرج نھیں ھے بلکہ یہ کام مستحب ھے، کیونکہ دینی علماء کی یہ سیرت رھی ھے کہ وہ مشکلات اور پریشانیوں کے عالم میں اولیائے الٰھی سے پناہ مانگتے تھے، ھم یھاں چند روایات کی طرف اشارہ کرتے ھیں:

1۔ امام بخاری نے صحیح سند کے ساتھ رسول اکرم (ص) سے نقل کیا کہ آپ نے فرمایا: ”بے شک روز قیامت سورج لوگوں کے سروں سے اتنا نزدیک ھوجائے گا کہ گرمی کی وجہ سے پسینہ کانوں تک پہنچ جائے گا اس موقع پر لوگ پھلے حضرت آدم سے، پھر حضرت موسیٰ سے اور آخر میں حضرت محمد مصطفی (ص) سے پناہ طلب کریں گے تاکہ مخلوقات کا فیصلہ ھوجائے“۔ 15
اس حدیث سے یہ نتیجہ نکلتا ھے کہ جو کام قدرت خدا سے انجام پاتے ھیں ان میں دوسروں کو وسیلہ قرار دیا جاسکتا ھے لیکن اس اعتقاد کے ساتھ کہ تمام کام خداوندعالم کی مشیت اور اس کے ارادہ سے ھوتے ھیں۔

2۔ طبرانی اور ابویعلی نے اپنی مسند اور ابن السنّی نے ”عمل الیوم و اللیلة“ میں صحیح کے ساتھ عبد اللہ بن مسعود سے روایت کی ھے کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا: ”جب بھی تم میں سے کسی شخص کا جنگل میں کوئی حیوان گم ھوجائے تو تم لوگ اس طرح آواز دیا کرو: اے خدا کے بندو! اس کو روک لو، اے خدا کے بندو! اس کو روک لو، کیونکہ خداوندعالم کی طرف سے کچھ ایسے بندے ھیں جو انسان کے حیوان کی حفاظت کرتے ھیں“۔16
طبرانی اس روایت کو نقل کرنے کے بعد کھتے ھیں: ”یہ عمل مجرّب ھے“۔
اسی حدیث کی طرح بزار ،ابن عباس سے نقل کرتے ھیںکہ آنحضرت نے فرمایا: بےشک خداوندعالم نے روئے زمین پرحافظین کے علاوہ کچھ ملائکہ کو بھیجا ھے جو درختوں سے گرنے والے پتوںکا حساب کر تے ھیں، لہٰذا اگرکوئی شخص جنگل اوربیابان میںکسی مصیبت میں مبتلا ھوجائے تو اس کو یوں کہنا چاہئے: ”اے خدا کے بندو-! میری مدد کرو“۔ 17
ابن حجرعسقلانی نے “امالی الاذکار-“میں اس حدیث کو نقل کرنے کے بعدا س کو ”حسن “مانا ھے اورحافظ ھیثمی نے بھی اس حدیث کے تمام راویوںکوثقہ ماناھے۔

3۔ ابن حجر عسقلانی، فتح الباری میں کھتے ھیں: ”ابن ابی شیبہ صحیح سند کے ساتھ مالک دینار (کے خزانچی) سے یوں نقل کرتے ھیں: ”حضرت کے زمانہ میں قحط پڑا، چنانچہ اس موقع پر ایک شخص قبر رسول پر آیا اور استغاثہ کرتے ھوئے عرض کیا: یا رسول اللہ! اپنی امت کے لئے بارش کی دعا کریں کیونکہ آپ کی امت ھلاک ھوا چاھتی ھے“۔ 18
بے شک یہ درخواست اصحاب کے سامنے تھی لیکن کسی نے نھیں روکا، لہٰذا یہ خود اولیائے الٰھی کی ارواح سے استغاثہ کرنے پر دلیل ھے۔

4۔ دارمی نے اپنی کتاب سنن میں صحیح سند کے ساتھ ابو الجوزاء اوس بن عبد اللہ سے نقل کیا ھے کہ انھوں نے کھا: ایک مرتبہ مدینہ میں بھت سخت قحط پڑا، لوگوں نے جناب عائشہ سے اس کی شکایت کی، جناب عائشہ نے فرمایا کہ قبر پیغمبر پر جاؤ اور آسمان کی طرف ایک سوراخ کھول دو تاکہ قبر اور آسمان کے درمیان چھت حائل نہ ھو، چنانچہ ان حضرات نے ایسا ھی کیا، راوی کھتا ھے کہ اس کام کے بعد اتنی بارش ھوئی کہ سبزے لھرانے لگے اور اونٹ موٹے ھوگئے“۔ 19

5۔ پیغمبر اکرم (ص) کی رحلت کے بعد سے آج تک اولیائے الٰھی کی ارواح سے استغاثہ اور مدد طلب کرنے پر تمام امت اسلامی کا اجماع اور اتفاق رھا ھے، جبکہ اھل سنت کے نزدیک اجماع ایک خاص اھمیت رکھتا ھے۔

6۔ بیہقی نے کتاب ”الشعب“ میں اور ابن عساکر نے عبد اللہ بن احمد بن حنبل، نیزعبد اللہ بن احمد نے کتاب المسائل 20 میں صحیح سند (جس کی سند کو البانی نے صحیح مانا ھے) کے ساتھ نقل کیا ھے کہ میں نے اپنے والد کو یہ کھتے ھوئے سنا: میں نے پانچ مرتبہ حج کیا، دو بار سواری پر اور تین بار پا پیادہ، یا دو بار پا پیادہ اور تین بار سواری پر، چنانچہ میں اپنے ایک سفر میں راستہ بھٹک گیا، یہ سفر میرا پیادہ تھا، میں نے یہ جملہ کہنا شروع کیا: ”یا عباد الله دلّونا علی الطریق“ (اے خدا کے بندو! مجھے راستہ کی راہنمائی کرو) ابھی اس جملہ کی تکرار ھی کی تھی کہ اچانک مجھے راستہ مل گیا“۔ 21

7۔ قسطلانی ”المواھب اللدنیة“ سیرہٴ نبوی کی کتابوں سے نقل کرتے ھیں، جناب ابوبکر، پیغمبر اکرم کی وفات کے روز آنحضرت کے پاس حاضر ھوئے، آنحضرت ایک چادر اوڑھے ھوئے تھے، چنانچہ موصوف نے اس کو ہٹاتے ھوئے آنحضرت کے چھرہ اقدس کا بوسہ لیا اور عرض کی: یا رسول اللہ! میرے ماں آپ پر قربان، آپ اپنی زندگی اور موت میں پاک و پاکیزہ ھیں ھمیں بھی اپنے پرودگار کے حضور میں یاد فرمائے گا“۔22

8۔ یہ بات تاریخ میں موجود ھے کہ مرتدین (اھل یمامہ و تابعین مسلیمہ کذّاب) کے ساتھ جنگ میں یہ نعرہ لگاتے تھے: ”یا محمداہ! ،یا محمداہ! “23

9۔ اسی طرح نقل ھوا ھے کہ عقبہ بن عامر وہ شخص تھا جس نے فتح دمشق کی خبر حضرت کے پاس مدینہ پہنچائی، مدینہ آنے کے لئے سات دن تک سفر کیا لیکن مدینہ سے دمشق کی طرف واپسی میں ڈھائی روز سے زیادہ نہ لگے، اور یہ قبر پیغمبر پر دعا و استغاثہ کی برکت تھی، لہٰذا خداوندعالم نے ان کے سفر کو کم کردیا۔ 24

10۔ سمھودی ،اپنی سند کے ساتھ حضرت علی علیہ السلام سے نقل کرتے ھیں:
ایک بادیہ نشین عرب دفن پیغمبر کے تین دن کے بعد مدینہ آیا، اس نے اپنے کو قبر پیغمبر پر گرادیا اور قبر کی خاک کو اپنے سر پر ڈالتے ھوئے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے ھمارے سامنے اس آیت کی تلاوت فرمائی :
((إِذْ ظَلَمُوا اٴَنفُسَهمْ جَاءُ وْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهمْ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللهَ تَوَّابًا رَحِیمًا)) 25
”اور جب ان لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا تو آپ کے پاس آتے اور خود بھی اپنے گناھوں کے لئے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے حق میں استغفار کرتے تو یہ خدا کو بڑا ھی توبہ قبول کرنے والا اور مھربان پاتے“۔
میں بھی آپ کی خدمت میں حاضر ھوا ھوں تاکہ توبہ اور استغفار کروں۔ 26

11۔ ابوبکر مقری کھتے ھیں: ”میں، طبرانی اور ابوالشیخ روضہ رسول میں تھے، ھمیں بھت زیادہ بھوک لگی ھوئی تھی، دن تمام ھوا، عشاء کے وقت قبر رسول کے پاس آئے اور عرض کی: یا رسول اللہ! ھم بھوکے ھیں، چنانچہ ھم نے محسوس کیا کہ کوئی دروازہ پر ھے، دروازہ کھولا تو دیکھا کہ ایک علوی شخص دو غلاموں کو ساتھ لئے ایک تھیلے میں کھانا لئے کھڑا ھے، اس نے وہ کھانا پیش کیا، جب ھم نے کھانا لیا تو اس نے کھا: کیا آپ لوگوں نے رسول خدا (ص) سے کوئی شکایت کی تھی؟ کیونکہ میں نے ابھی رسول خدا (ص) کو عالم خواب میں دیکھا کہ آپ فرمارھے ھیں کہ تم ان لوگوں کے لئے کھانا لے کر حاضر ھوجاؤ“27

 
اعتراضات کی تحقیق

وھابیوں نے اپنے مدعا (اولیائے الٰھی سے استعانت کی حرمت اور استغاثہ کے شرک ھونے) پر چند فضول دلائل سے تمسک کیا ھے ھم ذیل میں ان کی نقد اور تحقیق کرتے ھیں:

 
پھلا اعتراض

جو شخص اولیائے الٰھی سے استغاثہ کرتا ھے وہ ان کے علم غیب کا معتقد ھوتا ھے جبکہ علم غیب خداوندعالم سے مخصوص ھے۔

 
جواب:

علم غیب اولیائے الٰھی (چاھے رسول ھو یا امام) کے لئے نہ صرف ممکن ھے بلکہ علم غیب ان کے لئے ضروری ھے، جس کے بارے میں ھم نے ایک مستقل کتاب لکھی ھے، اسی طرح مردوں کی برزخی حیات اور ان کا دنیا سے رابطہ خصوصاً اولیائے الٰھی کے بارے میں ثابت ھے۔
حافظ ھیثمی نے مجمع الزوائد میں صحیح سند کے ساتھ انس بن مالک سے نقل کیا ھے کہ رسول اکرم نے فرمایا: ”انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ھوتے ھیں اور نماز پڑھتے ھیں“ 28
اسی طرح پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: ”میرا علم، میری وفات کے بعد بھی میری زندگی کی طرح ھے“29
دارمی نے اپنی سند کے ساتھ سعید بن عبد العزیز سے نقل کیا ھے کہ وہ نماز کے وقت قبر پیغمبر سے نکلنے والی تسبیح و تھلیل کی آواز کو سنتے اور پہچانتے تھے۔ 30

 
دوسرا اعتراض

ترمذی نے ابن عباس سے نقل کیا ھے کہ انھوں کھا: ”جب کوئی چیز مانگنا ھو تو خدا سے مانگو، اور جب مدد مانگنا ھو تو خدا سے مانگو“۔31

 
جواب:

یہ حدیث اس نکتہ کی طرف اشارہ کرتی ھے کہ جب انسان کسی سے مدد چاھے تو اس اعتقاد کے ساتھ کہ تمام امور خدا کے دست قدرت میں ھیں اور اسی کی مشیت کے تحت ھے جب کوئی شخص کوئی کام انجام دیتا ھے تو اس کے لطف و کرم اور اس کی مرضی سے انجام دیتا ھے، اسی وجہ سے حدیث کے آخر میں ھم پڑھتے ھیں: ”معلوم ھونا چاہئے کہ اگر تمام لوگ مل کر تمھیں فائدہ پہنچانا چاھیں تو جب تک خدا نہ چاھے تو ھرگز فائدہ نھیں پہنچا سکتے، اسی طرح اگر تمام لوگ مل کر تمھیں کوئی نقصان پہنچانا چاھیں تو ھرگز نھیں پہنچاسکتے مگر جب تک خدا نہ چاھے“۔

 
تیسرا اعتراض

بعض وھابیوں نے استغاثہ کی حرمت کے لئے عبادہ بن صامت کی نقل کی ھوئی حدیث رسول سے تمسک کیا ھے کہ آنحضرت نے فرمایا: ”ھرگز مجھ سے استغاثہ نہ کرو، بلکہ صرف اور صرف خدا کی ذات سے استغاثہ کرو“۔ 32

 
جواب:

اس حدیث کی سند ضعیف ھے کیونکہ ابن حجر ھیثمی نے ابن لھیعہ کو چند بار ضعیف قرار دیا ھے، خصوصاً جبکہ یہ حدیث دوسری صحیح احادیث کے مخالف ھے جن میں استغاثہ کے جواز بلکہ استحباب کو واضح طور پر بیان کیا گیا ھے۔
 
چوتھا اعتراض

خداوندعالم اپنے علاوہ کسی غیر کو پکارنے سے منع کرتا ھے اور فرمایا ھے:
((وَاٴَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّه فَلاَتَدْعُوا مَعَ اللهِ اٴَحَدًا)) 33
”اور مساجد سب اللہ کے لئے ھیں لہٰذا اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرنا“۔
نیز فرمایا:
(( لَه دَعْوَةُ الْحَقِّ وَالَّذِینَ یَدْعُونَ مِنْ دُونِه لاَیَسْتَجِیبُونَ لَهمْ بِشَیْءٍ )) 34
”برحق پکارنا صرف خدا ھی کا پکارنا ھے اور جو لوگ اس کے علاوہ دوسروں کو پکارتے ھیں وہ ان کی کوئی بات قبول نھیں کرسکتے“۔
(( وَالَّذِینَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِه لاَیَسْتَطِیعُونَ نَصْرَكُمْ وَلاَاٴَنفُسَهمْ یَنصُرُونَ )) 35
”اور اسے چھوڑ کر تم جنھیں پکارتے ھو وہ نہ تمھاری مدد کرسکتے ھیں اور نہ اپنے ھی کام آسکتے ھیں “۔
((إِنَّ الَّذِینَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ عِبَادٌ اٴَمْثَالُكُمْ )) 36
”تم لوگ اللہ کو چھوڑ کر جن لوگوں کو پکارتے ھوسب تم ھی جیسے بندے ھیں“۔
((اوْلَئِكَ الَّذِینَ یَدْعُونَ یَبْتَغُونَ إِلَی رَبِّهمْ الْوَسِیلَةَ )) 37
”یہ جن کو خدا سمجھ کر پکارتے ھیں وہ خودھی اپنے پروردگار کے لئے وسیلہ تلاش کر رھے ھیں“۔
((وَلاَتَدْعُ مِنْ دُونِ اللهِ مَا لاَیَنْفَعُكَ وَلاَیَضُرُّكَ)) 38
”اور خدا کے علاوہ کسی اور کو آواز نہ دو جو نہ فائدہ پہنچا سکتا ھے اور نہ نقصان“۔
(( إِنْ تَدْعُوهمْ لاَیَسْمَعُوا دُعَائَكُمْ )) 39
”تم انھیں پکارو گے توتمھاری آواز کو نھیں سن سکیں گے“۔
((وَمَنْ اٴَضَلُّ مِمَّنْ یَدْعُو مِنْ دُونِ اللهِ مَنْ لاَیَسْتَجِیبُ لَه إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَةِ )) 40
”اور اس سے زیادہ گمراہ کون ھے جو خدا کو چھوڑ کر ان کو پکارتا ھے جو قیامت تک اس کی آواز کا جواب نھیں دے سکتے“۔
(( ادْعُونِی اٴَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِینَ یَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِی سَیَدْخُلُونَ جَهنَّمَ دَاخِرِینَ)) 41
”مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا اور یقینا جو لوگ میری عبادت سے اکڑتے ھیں وہ عنقریب ذلت کے ساتھ جہنم میں داخل ھوں گے“۔
 
جواب:

قارئین کرام! مذکورہ تمام آیات میں دعا سے مراد مطلق دعا اور طلب نھیں ھے بلکہ خاص دعا اور ندا ھے جو عبادت کے مترادف اور جو معنی الوھیت و ربوبیت میں پائے جاتے ھیں، اس کے علاوہ تمام مذکورہ آیات ان بت پرستوں کے بارے میں ھیں جو گمان کرتے تھے کہ ان کے بت (یا وہ موجودات جن کی شکلوں پر بت ھوتے ھیں) تدبیر کے بعض امور کو اپنے ھاتھوں میں لئے ھوئے ھیں، لہٰذا ان کو فعل و تصرف میں مستقل مانتے تھے، جبکہ یہ بات بھت ھی واضح ھے کہ جب کسی کے سامنے اس طرح کی تواضع اور درخواست کی جائے جس سے اس کی عبادت کا قصد کیا جائے تو یہ کام یقینی طور پر شرک ھے، یہ قید اور شرط دوسری آیات میں واضح طور پر دکھائی دیتی ھے، منجملہ درج ذیل آیات میں:
ارشاد خداوندعالم ھوتا ھے:
((فَمَا اٴَغْنَتْ عَنْهمْ آلِهتُهمْ الَّتِی یَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ مِنْ شَیْءٍ )) 42
” تو عذاب آجانے کے بعد ان کے وہ خدا بھی کام نہ آئے جنھیں وہ خدا کو چھوڑ کر پکارھے تھے “۔
((وَلاَیَمْلِكُ الَّذِینَ یَدْعُونَ مِنْ دُونِه الشَّفَاعَةَ)) 43
”اور اس کے علاوہ جنھیں یہ لوگ پکارتے ھیں وہ سفارش کا بھی اختیا رنھیں رکھتے“۔
((وَالَّذِینَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِه مَا یَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِیرٍ)) 44
”اور اسکے علاوہ تم جنھیں آواز دیتے ھو وہ خرمے کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی اختیار کے مالک نھیں ھیں“۔
(( قُلْ ادْعُوا الَّذِینَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِه فَلاَیَمْلِكُونَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنكُمْ وَلاَتَحْوِیلًا)) 45
”اوران لوگوں سے کہہ دیجئے کہ خدا کے علاوہ جن کا خیال ھے سب کو بلالیں، کوئی نہ ان کی تکلیف کو دور کرنے کا اختیاررکھتا ھے اورنہ ان کے حالات کے بدلنے کا“۔
اس بنا پر خداوندعالم کی طرف سے مشرکین کی مذمت اور ملامت کی علت یہ تھی کہ وہ بتوں کے لئے تدبیر اور تصرف کو مستقل طور پر اور خدا کی مشیت کے بغیر جانتے تھے۔
حسن بن علی سقاف شافعی کھتے ھیں کہ یہ آیہٴ شریفہ ((وَاٴَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّه فَلاَتَدْعُوا مَعَ اللهِ اٴَحَدًا)) 46 (یعنی”اور مساجد سب اللہ کے لئے ھیں لہٰذا اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرنا“) کے معنی یہ ھیں کہ غیر خدا کی عبادت نہ کرو، اس کے ساتھ ان بتوں کی پوجا نہ کرو، جن کو خدا مان بیٹھے ھیں((اتخذوا من دونہ آلھة)) (یعنی خدا کے علاوہ دوسروں کو خدا مان لیا ھے)، اور جن کے بارے میں خداوندعالم فرماتا ھے:
(( اٴَاٴَرْبَابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَیْرٌ اٴَمْ اللهُ الْوَاحِدُ الْقَهارُ)) 47
”ذرا یہ تو بتاؤ کہ متفرق قسم کے خدا بھتر ھوتے ھیں یا ایک خدائے واحد وقھار“۔
اسی طرح یہ آیہٴ شریفہ:
(( وَالَّذِینَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِه مَا یَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِیرٍ إِنْ تَدْعُوهمْ لاَیَسْمَعُوا دُعَائَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَیَوْمَ الْقِیَامَةِ یَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ)) 48
”اور اس کے علاوہ تم جنھیں آواز دیتے ھو وہ خرمے کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی اختیار کے مالک نھیں ھیں۔تم انھیں پکاروگے تو تمھاری آواز کو نہ سن سکیںگے اور سن لیں گے تو تمھیں جواب نہ دے سکیں گے اور قیامت کے دن تو تمھاری شر کت کاھی انکار کر دیں گے“۔49
اس سلسلہ میں وھابیوں کی ردّ میں لکھی جانے والی کتابیں
علمائے اھل سنت نے وھابیوں کے عقائد میں خصوصاً استغاثہ کے شرک اور حرام ھونے کی ردّ میں بھت سی کتابیں لکھی ھیں جن میں سے ھم بعض کی طرف اشارہ کرتے ھیں:
1۔ مصباح الظلام فی المستغثین بخیر الانام فی الیقظة و المنام، تالیف شمس الدین ابو عبد اللہ محمد بن موسیٰ بن نعمان مراکشی۔
2۔ شواہد الحق فی الاستغاثة بسیّد الخلق، یوسف بن اسماعیل نبھانی۔
3۔ الاغاثة بادلة الاستغاثة بالنی (ص)، حسن بن علی شغاف شافعی۔
4۔ نفحات القرب و الاتصال باثبات التصرف بالاولیاء بعد الانتقال، شھاب الدین ابی العباس حموی حنفی۔
5۔ انوار الانتباہ بحلّ النداء بیا رسول اللہ! احمد رضا افغانی۔

حوالہ جات

1. الہدایة السنة، صفحہ ۴۰۔
2. زیارة القبور، صفحہ ۱۷، ۱۸۔
3. کشف الارتیاب، صفحہ ۲۱۴۔
4. مجموع فتاوی بن باز، ج ۲، صفحہ۵۴۹۔
5. مجموع فتاوی بن باز، صفحہ۵۵۲-۔
6. مجموع فتاوی بن باز، صفحہ ۷۴۶۔
7. سورہ کہف، آیت ۹۵۔
8. سورہ منافقون، آیت ۵۔
9. سورہ یوسف، آیت ۹۷و۹۸۔
10. سورہ حشر، آیت ۱۰۔
11. رسالة زیارة القبور، صفحہ۱۵۵۔
12. سورہ نمل، آیت ۳۸۔
13. سورہ نمل، آیت ۴۰۔
14. سورہ مائدہ، آیت۰ ۱۱۔
15. فتح الباری، شرح صحیح بخاری ج۳، صفحہ۳۳۸، کتاب الزکاة، رقم ۵۲ ۔
16. مجمع الزوائدج ۱، صفحہ ۱۳۲۔
17. شرح ابن علّان بر کتاب امالی الاذکار ج۵، صفحہ۱۵۱۔
18. فتح الباری ج۲، صفحہ ۴۹۵۔
19. سنن دارمی ج۱، صفحہ۴۳۔
20. المسائل، صفحہ۲۱۷۔
21. سلسلةالاحادیث الضعیفة ج۳، صفحہ۱۱۱۔
22. حقیقة التوسل والوسیلة، موسی محمّد علی، صفحہ ۲۶۴، نقل ازالمواھب اللدنیة۔
23. حقیقة التوسل والوسیلة، موسی محمّد علی، صفحہ ۲۶۴، نقل ازالمواھب اللدنیة۔
24. حقیقة التوسل والوسیلة، موسی محمّد علی، صفحہ ۲۶۴، نقل ازالمواھب اللدنیة۔
25. سورہ نساء، آیت ۶۴۔
26. وفاء الوفاء، سمھودی، ج۴، صفحہ۱۳۶۱۔
27. وفاء الوفاء ج۴، صفحہ۱۳۸۰۔
28. مجمع الزوائد، ج ۸، صفحہ ۲۱۱۔
29. کنزالعمال، ج۱، صفحہ ۵۰۷رقم حدیث۲۱۸۱۔
30. سنن دارمی، ج۱، صفحہ۵۴رقم۹۳۔
31. صحیح ترمذی ،ج۴، صفحہ۷۴،ح۲۴۳۵۔
32. مجمع الزوائد، ج۸، صفحہ۴۰۔
33. سورہ جنّ، آیت۱۸ ۔
34. سورہ رعد، آیت۱۴ ۔
35. سورہ اعراف، آیت ۱۹۷۔
36. سورہ اعراف، آیت ۱۹۴۔
37. سورہ اسراء، آیت ۵۷۔
38. سورہ یونس، آیت۱۰۶ ۔
39. سورہ فاطر، آیت ۱۴۔
40. سورہ احقاف، آیت۵
41. سورہ غافر، آیت ۶۰۔
42. سورہ ھود، آیت۱۰۱ ۔
43. سورہ زخرف، آیت ۸۶۔
44. سورہ فاطر، آیت۱۳ ۔
45. سورہ اسراء، آیت ۵۶۔
46. سورہ جنّ، آیت۱۸ ۔
47. سورہ یوسف، آیت۳۹۔
48. سورہ فاطر، آیت۱۳ و ۱۴۔
49. الاغاثة الاستغاثة صفحہ۳۱و۳۲۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.