اهدِنَــــا الصِّرَاطَ المُستَقِيمَ ۶۔ همیں سیدھے راستے کی هدایت فرما

0 0

تفسیر آیات

اللّٰہ تعالیٰ کی حمد و ثنا، اس کی ربوبیت اور روز جزاء کے اعتراف اور عبادت و استعانت کا صحیح تصور قائم کرنے کے بعد انسان کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ھوتی ھے، وہ ہدایت و رہنمائی ھے۔ کیونکہ انسان عبث نھیں،بلکہ ایک اعلیٰ و ارفع ہدف کے لیے خلق ھوا ھے۔ اب خا لق پر لازم ھے کہ اس اعلیٰ ہد ف کی طرف اس کی رہنمائی بھی کرے ۔بنا بر ایں خالق کائنات نے خلقت سے پہلے ہدایت کا انتظام فرمایا:

لَوْ لَاکَ لَمَاْ خَلَقْتُ الْاَفْلَاکَ [1]

اے محمد(ص) ! اے پیکر ہدایت!اگر میں نے انسانوں کی رہنمائی و ہدایت کے لیے تجھے نہ چنا ھوتا تو میں افلاک کو پیدا ھی نہ کرتا۔

صراط سے بھی حرکت اور روانی کا تصور قائم ھو جاتا ھے۔ یعنی مومن قدم بہ قدم منزل کی طرف بڑھ رھا ھے:

یٰٓاَیُّھَا الْاِنْسَانُ اِنَّکَ کَادِحٌ اِلٰی رَبِّکَ کَدْحًا فَمُلٰقِیْہِ.[2]

اے انسان! تو مشقت اٹھا کر یقینا اپنے رب کی طرف جانے والاھے  پھر  اس سے ملنے وا لا ھے۔

مستقیم سے اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات کا اندازہ ھوتاھے کہ راستہ کٹھن اور دشوار گزار ھے،کیونکہ” صراط مستقیم“ کے مقابلے میں ” صراط منحرف“ ھے جس سے بچنے کے لیے ہدایت،راہنمائی اور جہد مسلسل کی ضرورت ھوتی ھے۔ چنانچہ اگلی آیت سے یہ بات واضح ھو گی کہمغضوب علیہم اور ضالین کے راستوں سے بچ کر صراط مستقیم کی تلاش اور پھر اس کی حفاظت اور اس پر پابند رہنا کوئی آسان کام نھیں۔

اَوَّلُ مٰا خَلَق اللّٰہُ نُوری۔[3]ا س کائنات میں اللہ نے سب سے پہلے نور محمدی (ص) کو خلق فرمایا تاکہ راہ ارتقا کے متلاشی اس نور کی روشنی میں اپنا راستہ تلاش کر سکیں۔

اعتراض:ہدایت کی طلب اور خواہش سے تو گمان ھوتا ھے کہ بندہ ابھی ہدایت یافتہ نھیںھوا۔

جواب: اللہ تعالیٰ کی ذات سرچشمہٴ فیض ھے۔ اس کی عنایات غیر منقطع ھوتی ھیں:

مزید  امام رضا علیہ السلام کی چالیس حدیثیں

عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ [4]

وھاں منقطع نہ ھونے والی بخشش ھو گی

اور اللہ کی جانب سے فیض کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہتا ھے جو کبھی منقطع نھیں ھوتا: لَا اِنْقِطَاعَ فِی الفَیْضِ۔ دوسری طرف سے بندہ سراپا محتاج ھے۔ وہ ایک لمحے کے لیے بھی سرچشمہٴ فیض سے بے نیاز نھیں رہ سکتا۔ ہدایت، رہنمائی اور توفیق اس کے فیوضات ھیں، جو ہمیشہ جاری و ساری رہتے ھیں اور بندہ ھر آن جن کا محتاج ھے۔ ہدایت ایسی چیز نھیںجو خدا کی طرف سے اگر ایک بار مل جائے تو پھر بندہ بے نیاز ھو جاتا ھے، بلکہ وہ ھر آن، ھر لمحہ ہدایت الٰھی کا محتاج رہتا ھے۔

بندے کا ھر آن ھر لمحہ اللہ کی رحمت و ہدایت کا محتاج ھونا اس دعائیہ جملے سے واضح ھو جاتا ھے جس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ائمہ اھل بیت علیہم السلام  اپنی دعاؤں میں نھایت اہتمام کے ساتھ کیا کرتے تھے ۔ رَبِّ لَا تَکِلْنِیْ الیٰ نَفْسِیْ طَرْفَةَ عَیْنٍ اَبَدًا۔[5]میرے مالک! مجھے کبھی بھی چشم زدن کے لیے اپنے حال پر نہ چھوڑ۔بھلاجس سے اللہ نے ھاتھ اٹھایا ھو اسے کون ہدایت دے سکتا ھے:فَمَنْ یَّھْدِیْہِ مِنْ بَعْدِ اللّٰہِ اَفَلَا تَذَکَّرُوْنَ۔[6]یعنی پس اللہ کے بعد اب اسے کون ہدایت دے گا؟ کیا تم نصیحت حاصل نھیں کرتے؟

روایت ھے کہ حضرت علی علیہ السلام اسی آیت کی تفسیر میں ارشاد فرماتے ھیں:

اَدِمْ لَنَا تَوفِیقَکَ الَّذِی بِہِ اَطَعْنَاکَ فِی مَاضِیِّ اَیَامِنَا حَتَّی نُطِیْعَکَ کَذَلِکَ فِی مُسْتَقْبِلِ اَعْمَارِنَا[7]

خداوندا ! اپنی عطا کردہ توفیق کو برقرار رکھ، جس کی بدولت ہم نے ماضی میں تیری اطاعت کی ھے، تاکہ ہم آئندہ بھی تیری اطاعت کرتے رھیں۔

دوسرا جواب یہ دیا گیا ھے کہ ہدایت کے درجات ھوتے ھیں اور ھر درجے پر فائز مسلمان بالاتر درجہٴ ہدایت کے لیے دعا کر سکتا ھے ، جیساکہ ارشاد ھے:

مزید  یوکرائن کے تازہ شیعہ ہوئے چند افراد نے حرم امیر المومنین کی زیارت کی

وَ الَّذِیْنَ اھْتَدَوْا زَادَھُمْ ہُدًی وَّ اٰتٰہُمْ تَقْوٰہُمْ ․ [8]

جن لوگوں نے ہدایت حاصل کی اللہ نے ان کی ہدایت میں اضافہ فرمایا اور انھیں ان کا تقویٰ عطا کیا۔

اهم نکات

۱۔  بندے کواللہ تعالیٰ کی مدد کی سب سے زیادہ ضرورت، ہدایت کے مسئلے میں ھوتی ھے۔

۲۔  مومن کا تصور حیات ، راہ مستقیم کی رہنمائی کے لیے دعا کرنے سے ھی متعین ھوتا ھے۔

۳۔ مومن انسان اپنی زندگی کی ایک منزل مقصود رکھتا ھے جس تک پہنچنے کے لیے ہدایت اور رہنمائی ضروری  ھے۔

۴۔  انسان مومن، متحرک اور رواں دواں ھوتا ھے، اس لیے اسے ھر آن رہنمائی کی ضرورت ھوتی ھے،کیو نکہ اگر انسان جمود و سکوت کی حالت میںھو تو اس کے لیے کسی رہنمائی کی ضرورت پیش ھی نھیں آتی۔

7- صِرَاطَ الَّذِينَ أَنعَمتَعَلَيهِمْ غَيرِ المَغضُوبِ عَلَيهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ.

۷۔ان لوگوں کے راستے کی جن پر تو نے انعام فرمایا،جن پر نہ تیرا غضب ھوا اور نہ وہ گمراہ ھوئے۔

تشریح کلمات

مغضوب: (غ ض ب )خون قلب کا جوش مارنا۔ ارادہٴ انتقام۔ غضب الٰھی سے مراد صرف انتقام ھے۔

ضالین: (ض ل ل) ضلال، ہدایت کی ضد ھے۔ یعنی سیدھے راستے سے ہٹنا۔ ضال اسم فاعل ھے جس کی جمع ضالین ھے۔

تفسیر آیات

اس آیہ شریفہ میں اسوہ کا ذکر ھے، جسے نمونہ عمل بنانا ھے اور دو انحرافی راستوں کا ذکر بھی ھے، جن سے برائت اختیار کرنا ھے۔

گویا تولیٰ  اور تبریٰ کے بغیر کوئی نظریہ قائم نھیں ھو سکتا اور نہ ھی جاذبہ و دافعہ کے بغیر کوئی نظام برقرار رہ سکتا ھے۔ لہٰذا ہدایت و نجات کے لیےمنعم علیھم” جن پر خدا کی نعمتیں نازل ھوئیں“سے محبت اور مغضوب علیہم اور ضالین سے نفرت ضروری ھے۔ جن سے محبت کرنا اور اسوہ بنانا مقصودھے، وہ انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین ھیں اور یھی معیار اطاعت ھیں۔

مزید  پہلے قم میں آؤ لوگوں ان کی زیارت کو/مشہد کی پھر دیں گی اجازت قم کی معصومہ»اشعار

چنانچہ ارشاد الٰھی ھے :

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّھَدَآءِ وَ الصّٰالِحِیْنَ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا[9]

اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے وہ  ان انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ ھو گا جن پر اللہ نے انعام کیا ھے اوریہ لوگ کیا ھی اچھے رفیق ھیں۔

مغضوب علیھم سے نفرت اور برائت اختیار کرنے کے بارے میں ارشاد ھواھے :

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ․․ [10]

اے ایمان والو! اس قوم سے دوستی نہ رکھو جن پر اللہ غضبناک ھوا ھے۔

اور ضالین کے بارے میں دوسری جگہ ارشاد فرمایا:

وَ مَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّہٓ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ [11]

اپنے رب کی رحمت سے تو صرف گمراہ لوگ ھی مایوس ھوتے ھیں۔

واضح رھے کہ غَیْر کے مجرور ھونے کی ایک صورت تو یہ ھے کہ ھم  کا بدل ھے جو عَلَیْہِمْ میں ھے۔ یعنی غَیْرِ الْمَغْضُوب وھی لوگ ھیں جو اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ ھیں۔  دوسری صورت یہ ھے کہ غَیْر، اَلَّذِیْن کا بدل ھے ۔  تیسری صورت یہ ھے کہ غَیْر ، اَلَّذِیْن کی صفت ھے ۔[12]تینوں صورتوں میں جو ترجمہ ہم نے اختیار کیا ھے وھی صحیح ھے ۔

اهم نکات

۱۔ ہدایت اللہ کی سب سے بڑی نعمت ھے۔ صِرَا طَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ۔

۲۔  اللہ کی نعمت سے محر وم لوگ مغضوب یا ضالین (مورد غضب خداوندی یا گمراہ) ھوتے ھیں․

۳۔   تولی  و تبرّیٰ ایما ن کا اهم حصہ ھیں۔

۴۔  تولاّ و تبرّیٰ سے مراد نیکوں کی روش اپنانااور برے لوگوں کی پیروی سے اجتناب برتناھے۔

[1]تاویل الآیات الظاھرہ ص ۴۳۰

[2]۸۴ انشقاق : ۶

[3]بحار الانوار ۱ : ۹۷ و ۱۵ : ۲۴۔ عوالی اللآلی ۴ : ۹۹

[4]ھود ۱۱ : ۱۰۸

[5]اصول الکافی ج ۲ ص  ۵۸۱

[6]۴۵جاثیہ : ۲۳

[7]بحارالانوار ۲۴ :۹۔ اٴیْ اٴدِمْ لنا توفیقک الذی بہ اطعناک ․․․ تفسیر امام حسن

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.