انسان قرآن کی نظر میں

0 0

مصنف:شھید مرتضی مطھری

کتابیں>انسان ۔۔۔قرآن کی نظر میں

خلاصہ :

اسلامی تصور کائنات میں انسان کی ایک عجیب داستان سامنے آتی ہے اسلامی نکتہ نگاہ سے وہ صرف ایک راست قامت چلنے پھرنے اور بولنے والا انسان ہی نہیں قرآن حکیم کی نظر اس کی حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری اور پراسرار ہے کہ چند جملوں میں اس کی توصیف کی جا سکے۔ قرآن حکیم میں انسان کی توصیف بھی بیان کی گئی ہے اور مذمت بھی۔

قرآن کی عالی ترین تعریفیں بھی انسان کے بارے میں ہیں اور سخت ترین مذمت بھی۔ جہاں اسے زمین و آسمان اور فرشتوں سے برتر پیش کیا گیا ہے وہاں اسے جانوروں سے پست تر بھی دکھایا گیا ہے۔ 

متن:

اس مکتب کے نکتہ نگاہ سے پیدائش کے وقت انسان کی کمالات اور اقدار سے نسبت ناشپاتی کے ایک ننھے سے پودے اور ایک تناور درخت کی باہمی نسبت کی سی ہے کیوں کہ ایک باطنی قوت خارجی عوامل کی مدد سے اس ننھے پودے کو درخت میں تبدیل کر دیتی ہے۔ یہ نسبت لکڑی کے تختے اور کرسی کی سی نہیں جنہیں صرف بیرونی عوامل مختلف صورتوں میں تبدیل کر دیتے ہیں۔

اسلامی تصور کائنات میں انسان

اسلامی تصور کائنات میں انسان کی ایک عجیب داستان سامنے آتی ہے اسلامی نکتہ نگاہ سے وہ صرف ایک راست قامت چلنے پھرنے اور بولنے والا انسان ہی نہیں قرآن حکیم کی نظر اس کی حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری اور پراسرار ہے کہ چند جملوں میں اس کی توصیف کی جا سکے۔ قرآن حکیم میں انسان کی توصیف بھی بیان کی گئی ہے اور مذمت بھی۔

قرآن کی عالی ترین تعریفیں بھی انسان کے بارے میں ہیں اور سخت ترین مذمت بھی۔ جہاں اسے زمین و آسمان اور فرشتوں سے برتر پیش کیا گیا ہے وہاں اسے جانوروں سے پست تر بھی دکھایا گیا ہے۔ قرآن کی نگاہ میں انسان میں یہ قوت ہے کہ وہ قوائے عالم کو مسخر کر سکتا ہے اور فرشتوں سے بھی کام لے سکتا ہے لیکن اس کے برعکس وہ اپنے برے اعمال کی پاداش میں اسفل السافلین میں بھی گر سکتا ہے ذیل میں انسان کی ان قابل تعریف صفات کا ذکر کیا جاتا ہے جو قرآن حکیم کی مختلف آیات میں انسانی اقدار کے طور پر ذکر ہوئی ہیں:

انسانی اقدار

انسان زمین پر خدا کا خلیفہ ہے۔(یہاں قرآنی آیات کا مفہوم بیان کیا گیا ہے نہ کہ تفصیلی ترجمہ)

”اور جب تیرے رب نے انسان کو پیدا کرنا چاہا تو فرشتوں کو آگاہ کیا فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میں اس کو پیدا کرے گا جو فساد کرے گا اور خون بہائے گا؟ اللہ نے فرمایا: بے شک مجھے وہ معلوم ہے جو تم نہیں جانتے۔“( سورہ بقرہ آیت ۳۰)

”اور اسی خدا نے تم (انسانوں) کو زمین میں اپنا نائب بنایا ہے تاکہ تمہیں دیئے ہوئے سرمائے کے ذریعے تمہارا امتحان لیا جائے۔“

( سورہ انعام آیت ۱۶۵)

۲۔ انسان کی علمی استعداد دوسری تمام مخلوقات کی ممکنہ استعداد سے زیادہ ہے۔

”اور اللہ نے آدم کو سب چیزوں کے نام سکھا دیئے (اسے تمام حقائق سے آشنا فرمایا) پھر ”ملکوتی مخلوق“ فرشتوں سے کہا: مجھے ان کے نام بتاؤ کہ کیا ہیں؟ وہ بولے: ہم کو معلوم نہیں مگر جتنا کہ تو نے ہمیں خود سکھایا فرمایا: اے آدم تو ان کو ان چیزوں کے نام سکھا دے اور آگاہ کر پھر اس نے سب چیزوں کے نام سکھا دیئے اور آگاہ کر دیا تو اللہ نے فرشتوں سے فرمایا: کیا میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کو خوب جانتا ہوں وہ بھی جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے اور وہ بھی جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور چھپاتے ہو۔“( سورہ بقرہ آیت ۳۱ تا ۳۳)

۳۔ انسان کی فطرت خدا کی آشنائی ہے اور وہ اپنی فطرت کی گہرائی میں خدا کو پہچانتا ہے اور اس کے وجود سے آگاہ ہے تمام شکوک و شبہات اور افکار انسانی فطرت سے انحراف اور بیماریاں ہیں۔

مزید  امام محمد تقی(ع) اور مکارم اخلاق

”ابھی آدم کے فرزند اپنے والدین کی پیٹھوں میں ہی تھے کہ خدا نے ان سے اپنے وجود کے بارے میں گواہی لی اور انہوں نے گواہی دی۔“( سورہ اعراف آیت ۱۷۲)

”تو اپنا چہرہ دین کی طرف رکھ وہی جو خدائی فطرت ہے اور اس نے سب لوگوں کو اسی پر پیدا کیا ہے۔“( سورہ روم آیت ۴۳)

۴۔ انسانی فطرت میں ان مادی عناصر کے علاوہ جو جمادات نباتات اور حیوانات میں ہیں ایک آسمانی اور روحانی عنصر بھی موجود ہے گویا انسان جسم اور روح (عالم مادہ اور عالم معنی) کا مرکب ہے۔

”اس نے جو چیز بنائی خوب بنائی انسان کی پیدائش گارے سے شروع کی پھر اس کی اولاد کو نچڑے ہوئے حقیر پانی سے قرار دیا پھر اس کو آرائش دی اور اس میں اپنی روح پھونکی۔“( سورہ حم ۷۔۹)

۵۔ انسان کی پیدائش اتفاقی نہیں بلکہ ایک مقررہ طریقے پر ہوئی ہے اور وہ خدا کا برگزیدہ اور منتخب کیا ہوا ہے۔

”خدا نے آدم کو منتخب کیا پھر اس کی جانب متوجہ ہوا اور اس کو ہدایت کی۔“( سورہ طہٰ آیت ۱۲۲)

۶۔ انسان آزاد اور مستقل شخصیت کا مالک ہے۔ وہ خدا کا امانت دار اور اس کو دوسروں تک پہنچانے کا ذمہ دار ہے۔

اس سے یہ بھی چاہا گیا ہے کہ وہ اپنے کام اور کوششوں سے زمین کو آباد کرے اور سعادت و شقاوت کے راستوں میں سے ایک کو اپنی مرضی سے اختیار کرے۔

”اور ہم نے آسمانوں زمین اور پہاڑوں کو اپنی امانت دکھائی اسے کسی نے قبول نہ کیا کہ اٹھائے اور ڈر گئے جب کہ انسان نے اس کو اٹھا لیا بے شک یہ بڑا ظالم اور نادان ہے۔“( سورہ احزاب آیت ۷۲)

”ہم نے انسان کو مرکب نطفے سے بنایا تاکہ اس کا امتحان لیں پھر ہم نے اس کو سننے والا اور دیکھنے والا کر دیا پھر ہم نے اس کو راستہ دکھایا اب یا وہ شکر کرنے والا ہے یا ناشکری کرنے والا یا وہ ہمارے دکھائے ہوئے سیدھے راستے پر چلے گا اور سعادت پائے گا یا کفران نعمت کرے گا اور منحرف ہو جائے گا۔“( سورہ دہر آیت ۲۔۳)

۷۔ انسان ذاتی شرافت اور کرامت کا مالک ہے۔

خدا نے انسان کو دیگر بہت سی مخلوقات پر برتری بخشی ہے لیکن وہ اپنی حقیقت کو خود اسی وقت پہچان سکتا ہے جب کہ وہ اپنی ذاتی شرافت کو سمجھ لے اور اپنے آپ کو پستی ذلت اور شہوانی خواہشات اور غلامی سے بالاتر سمجھے۔

”بے شک ہم نے اولاد آدم کو عزت دی اور ہم نے ان کو صحرا اور سمندر پر حاکم کر دیا اور ہم نے ان کو اپنی بہت سی مخلوقات پر برتری دی۔“( سورہ بنی اسرائیل آیت ۷۰)

۸۔ انسان باطنی اخلاق کا حامل ہے اور وہ اپنی فطری قوت سے ہر نیک و بد کو پہچان لیتا ہے۔

”اور قسم ہے نفس انسان کی اور اس کے اعتدال کی کہ اس کو (خدا نے) اچھی اور بری چیزوں کی پہچان دی۔“( سورہ شمس آیات ۷۔۹)

۹۔ انسان کے لئے اطمینان قلب کے حصول کا واحد ذریعہ ”یاد خدا“ ہے اس کی خواہشات لامتناہی ہیں لیکن خواہشوں کے پورا ہو جانے کے بعد وہ ان چیزوں سے بے زار ہو جاتا ہے مگر یہ کہ وہ خدا کی لامتناہی ذات سے مل جائے۔

الا بذکر اللہ تطمئن القلوب

”بے شک اللہ کی یاد ہی سے دل چین پاتے ہیں۔“( سورہ رعد آیت ۲۸)

”اے انسان تو اپنے رب تک پہنچنے میں بہت تکلیف اٹھاتاہے اور آخرکار تمہیں اس سے ملنا ہے۔“( سورہ انشقاق آیت ۶)

۱۰۔ زمین کی تمام نعمتیں انسان کے لئے پیدا کی گئی ہیں۔

”وہی ہے جس نے سب جو کچھ زمین میں ہے تمہارے لئے پیدا کیا۔“( سورہ بقرہ آیت ۲۹)

”اور مسخر کر دیا تمہارے لئے اپنی طرف سے سب جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو فکر کرتے ہیں۔“( سورہ جاثیہ آیت ۱۳)

مزید  اھل بيت (ع) کے متعلق نازل ھونے والي آيات

خدا نے انسان کو صرف اس لئے پیدا کیا کہ وہ دنیا میں صرف اپنے خدا کی عبادت اور اس کے احکام کی پابندی کرے پس اس کی ذمہ داری امر خدا کی اطاعت ہے۔

”اور ہم نے جن اور انسان کو نہیں پیدا کیا مگر اس لئے کہ وہ میری عبادت کریں۔“( سورہ حشر آیت ۱۹)

۱۲۔ انسان خدا کی عبادت اور اس کی یاد کے بغیر اپنے آپ کو نہیں پا سکتا اگر وہ خدا کو بھول جائے تو اپنے آپ کو بھی بھول جاتا ہے اور نہیں جانتا کہ وہ کون ہے اور کس لئے ہے؟ اور یہ کہ وہ کیا کرے؟ اسے کیا کرنا چاہئے؟ اور کہاں جانا چاہئے؟

”بے شک تم ان لوگوں میں سے ہو جو خدا کو بھول گئے۔ پھر خدا نے ان کے لئے ان کی جانی بھلا دیں۔“( سورہ حشر آیت ۱۹)

۱۳۔ انسان جونہی اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے اور اس کی روح کے چہرے سے جسم کا پردہ جو کہ روح کے چہرے کا حجاب ہے اٹھ جاتا ہے تو اس وقت اس پر ایسے بہت سے حقائق ظاہر ہوتے ہیں جو دنیا میں اس سے پوشیدہ رہتے ہیں:

”ہم نے تجھ پر سے پردہ ہٹا دیا تیری نظر آج تیز ہے۔“

( سورہ ق آیت ۲۲)

۱۴۔ انسان دنیا میں ہمیشہ مادی مسائل کے حل کے لئے ہی کوششیں نہیں کرتا اور اس کو صرف مادی ضرورتیں ہی متحرک نہیں کرتیں بلکہ وہ بعض اوقات کسی بلند مقصد کے حصول کے لئے بھی اٹھتا ہے اور ممکن ہے کہ اس عمل سے اس کے ذہن میں سوائے رضائے خداوندی کے حصول کے اور کوئی مقصد نہ ہو۔

”اے نفس مطمئنہ تو اپنے رب کی طرف لوٹ جا تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔“( سورہ فجر آیات ۲۷۔۲۸)

”اللہ نے ایمان والے مردوں اور عورتوں کو باغوں کا وعدہ دیا ہے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور نفیس مکانوں کا بھی۔ لیکن اللہ کی رضامندی ان سب سے بڑی ہے یہی بڑی کامیابی ہے۔“( سورہ توبہ آیت ۷۳)

اوپر جو کچھ کہا گیا ہے اس کی بجائے یہ کہا جا سکتا ہے کہ قرآن کی نظر میں:

”انسان خداوند تعالیٰ کی طرف سے منتخب شدہ ہستی ہے۔ وہ زمین پر اس کا خلیفہ اور جانشین ہے وہ روحانی اور مادی عناصر کا مرکب خدا آشنا فطرت کا مالک آزاد اور مختار پیغام خداوندی کا امین دنیا کا اور اپنا ذمہ دار فطرت زمین اور آسمان پر مسلط اور نیکی اور بدی کو سمجھنے والا ہے۔ اس کی زندگی کا آغاز کمزوری سے ہوتا ہے اور قوت اور کمال کی طرف بڑھتا ہے لیکن جب وہ حالت رشد و سن تمیز کو پہنچتا ہے تو اسے صرف اسی صورت میں سکون قلب ملتا ہے کہ وہ بارگاہ الٰہی میں حاضر ہو کر اس کی یاد میں مشغول ہو جائے اس کی علمی اور عملی استعداد لامحدود ہے۔ وہ ذاتی شرافت اور کرامت کا حامل ہے اس کی خواہشات پر کسی طرح کا مادی اور طبیعی رنگ نہیں چڑھتا اس کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ خدا کی دی ہوئی نعمتوں سے جائز فائدہ اٹھائے لیکن وہ اپنے خدا کے سامنے اپنے فرائض کی انجام دہی کا ذمہ دار بھی ہے۔“

منفی اقدار

قرآن کریم میں اسی انسان کی شدید مذمت اور ملامت بھی کی گئی ہے:

۱۔ ”وہ بہت ظالم اور بہت نادان ہے۔“( سورہ احزاب آیت ۷۲)

۲۔ ”وہ خدا کے بارے میں بہت ناشکرا ہے۔“( سورہ حج آیت ۶۶)

۳۔ ”جب انسان اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے تو سرکشی کرتا ہے۔“

( سورہ علق آیت ۶ ۷)

۴۔ ”انسان بڑا جلد باز ہے۔“( سورہ اسراء آیت ۱۱)

۵۔ ”جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہم کو لیٹے بیٹھے اور کھڑے کھڑے پکارنے لگتا ہے پھر جب اس کی وہ تکلیف اس سے دور کر دیتے ہیں تو پھر وہ اپنی پہلی حالت میں آ جاتا ہے گویا جو تکلیف اس کو پہنچی تھی اس کو دور کرنے کے لئے اس نے کبھی ہم کو پکارا ہی نہ تھا۔“( سورہ یونس آیت ۱۲)

مزید  برزخ

۶۔ ”اور انسان بڑا تنگ دل ہے۔“( سورہ اسراء آیت ۱۰۰)

۷۔ ”انسان سب چیزوں سے زیادہ جھگڑالو ہے۔“(سورء کہف آیت ۵۴)

۸۔ ”وہ کم ہمت پیدا کیا گیا ہے۔“( سورہ معارج آیات ۱۹۔۲۱)

۹۔ ”جب اس کو برائی پہنچے تو وہ مضطرب ہو جاتا ہے اور جب اس کو بھلائی پہنچے تو وہ بخل کرنے لگتا ہے۔“( سورہ معارج آیات ۱۹۔۲۱) 

حسین یا بدصورت

یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ کیا انسان قرآن حکیم کی نظر میں بدصورت مخلوق بھی اور حسین مخلوق بھی ہے وہ بھی بہت حسین اور بہت بدصورت؟ کیا وہ دو طرح کی فطرتوں کا حامل ہے یعنی اس کی آدھی فطرت نور ہے اور آدھی ظلمت؟ اور ایسا کیوں ہے کہ قرآن حکیم اس کی بہت زیادہ تعریف بھی کرتا ہے اور بے انتہا مذمت بھی۔

حقیقت یہ ہے کہ انسان کی تعریف اور مذمت اس سبب سے نہیں کہ وہ دو فطرتوں کا حامل ہے گویا اس کی ایک فطرت قابل تعریف اور دوسری قابل مذمت۔ قرآن حکیم کا نقطہ نظر یہ ہے کہ انسان اپنی استعدادی قوت کی بناء پر تمام کمالات کا حامل ہے اور اس کا لازم ہے کہ وہ ان کمالات کو قوت سے فعل میں لائے اور یہ خود انسان ہی ہے جو اپنی ذات کا معمار ہے۔

انسان کے ان کمالات تک پہنچنے کی اصل شرط ”ایمان“ ہے۔ ”ایمان“ ہی سے اس میں تقویٰ نیک عمل اور راہ خدا میں کوشش کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے ”ایمان“ ہی کے ذریعے سے علم نفس امارہ کے ہاتھ میں ناجائز ہتھیار کی صورت سے نکل کر مفید ہتھیار کی صورت اختیار کرتا ہے۔

پس حقیقی انسان جو کہ ”خلیفة اللہ“ ہے مسجود ملائک ہے دنیا کی ہر چیز اسی کے لئے ہے اور وہ تمام انسانی کمالات کا حامل ہے وہ ”انسان باایمان“ ہے نہ کہ ”انسان بے ایمان“ اور ناقص ہے۔ ایسا انسان حریص اور خونریز ہے وہ بخیل اور خسیس ہے وہ کافر ہے اور حیوان سے پست تر۔

قرآن حکیم میں ایسی بھی آیات ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ وہ کون سا انسان ہے جس کی تعریف کی گئی ہے؟ اور وہ کون سا انسان ہے جس کی مذمت کی گئی ہے؟ ان آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ انسان جو خدا پر ایمان نہیں رکھتا انسان حقیقی نہیں ہے اگر انسان اس حقیقت یگانہ سے تعلق قائم کر لے جس کی یاد سے دل آرام پاتا ہے تو وہ کمالات کا حامل ہے اور اگر وہ اس حقیقت یگانہ یعنی خدا سے جدا ہو جاتا ہے تو وہ ایک ایسے درخت کی مانند ہے جو اپنی جڑوں سے جدا ہو چکا ہے۔

اس موضوع پر ہم ذیل میں آیات بطور نمونہ پیش کرتے ہیں:

والعصر ان الانسان لفی خسر الا الذین آمنوا و عملو الصالحات وتواصوا بالحق وتواصوا باالصبر

”قسم ہے زمانے کی! بے شک انسان خسارے میں ہے مگر جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کرتے اور صبر و استقامت کی تاکید کرتے رہے۔“( سورہ عصر ۱)

ولقد ذرانا لجھنم کثیرا من الجن والانس لھم قلوب لا یفقہون بہاولہم اعین لا یبصرون بھا ولھم آذان لا یسمعون بھا اولئک کالانعام بل ھم اضل

”اور ہم نے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لئے پیدا کئے ان کا انجام جہنم ہے ان کے دل ہیں وہ ان سے سمجھتے نہیں اور آنکھیں ہیں وہ ان سے دیکھتے نہیں اور کان ہیں کہ وہ ان سے سنتے نہیں وہ ایسے ہیں جیسے چوپائے بلکہ وہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں۔“

( سورہ اعراف آیت ۱۷۹) 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.