انسان سوزی سے قرآن سوزی تک

0 1

اسرائیل کی غاصب صیہونیستی رژیم کے ساتھ فلسطینی اتھارٹی کے غیرآئینی صدر محمود عباس جنکی مدت صدارت بھی دو سال قبل ختم ہو چکی ہے، کی جانب سے براہ راست مذاکرات کے اعلان کے ساتھ ہی مختلف مسلم ممالک میں صیہونی ایجنٹ سرگرم عمل ہو گئے اور پھر حوادث کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ فلسطین میں حماس کی عوامی حکومت پر دباو میں اضافہ، بین الاقوامی عدالت میں حزب اللہ لبنان پر رفیق حریری کے قتل کا الزام، اپنی تاریخ کے بدترین سیلاب کا شکار پاکستان کے شہر کوئٹہ میں اسرائیل کی مخالفت میں نکالی گئی یوم القدس ریلی پر اسرائیلی اور امریکی ایجنٹوں کا انسان سوز حملہ، لاہور میں اسلام کی مظلوم شخصیت امیرالمومنین علی علیہ السلام کے یوم شہادت پر انکی عزاداری کرنے والے مسلمانوں پر خودکش حملے، پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں 

” خادمین حرمین کا راگ الاپنے والے کاش اسلام کی خدمت کرتے اور صیہونی ایجنڈے پر عمل پیرا نہ ہوتے تو آج نہ فلسطین، عراق، پاکستان، افغانستان وغیرہ میں انسان سوزی ہوتی اور نہ کسی کو قرآن سوزی اور پیغبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے کی جرات ہوتی۔ “

گستاخی کرنے والے کارٹونسٹ کو جرمن صدر انگلا مرکل کی جانب سے سرکاری اعزاز عطا کرنا اور اسرائیلی لابی کے رکن عیسائی صیہونیست پادری ٹیری جونز کی جانب سے قرآن سوزی کے اشتعال انگیز منصوبے کا اعلان جسکا انجام 11 ستمبر کے دن قرآن پاک کی بے حرمتی پر ہوا۔ یہ وہ تمام اقدامات ہیں جن پر اگر ایک نگاہ دوڑائی جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ صیہونی لابی کے گھناونے منصوبے انکے ایجنٹوں کے ذریعے کہاں کہاں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ 

صیہونی فرقہ صرف یہودیوں میں ہی موجود نہیں بلکہ اسکے رکن شدت پسند عیسائی، ہندو اور نام نہاد مسلمانوں کا تکفیری طبقے میں بھی موجود ہیں۔ ایک طرف صیہونیستوں کی حمایت مین پورا یورپ متحد ہے اور جھوٹی ہولوکاسٹ کی کہانی پر اعتراض کرنے والوں کو آزادی بیان کے علمدار سزائیں سناتے ہیں لیکن دوسری طرف ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی توہین پر انسانی حقوق کے یہ چیمپیئن چپ سادھے بیٹھے ہیں۔ اسکے علاوہ سعودی عرب امریکہ کے ساتھ اسکی اقتصاد کو سہارا دینے کیلئے 60 ارب ڈالر اسلحہ خریدنے کا معاہدہ کر رہا ہے۔ بدنام زمانہ سعودی شہزادہ بندر بن سلطان جو 1983 سے 2005 تک امریکہ میں سعودی سفیر رہ چکا ہے اور اب سعودی سیکورٹی کا انچارج ہے اور اسرائیل کو 2006 میں حزب اللہ لبنان کے ساتھ 33 روزہ جنگ کے بعد ایک اور جنگ کرنے اور اسکے تمام اخراجات برداشت کرنے کا وعدہ دے چکا ہے اب ایک اور خبر کا ہیرو بن چکا ہے۔ براثا نیوز ایجنسی کی خفیہ رپورٹ کے مطابق بندر بن سلطان نے عراق میں القاعدہ 

مزید  منتظرین کے فرائض

” سعودی عرب ہی وہ ملک ہے جو اسلام کا لبادہ اوڑھے صیہونی منصوبے کے تحت عراق، یمن، افغانستان، لبنان، پاکستان اور دوسرے مسلم ممالک میں مسلمانوں کو متحد ہونے نہیں دے رہا۔ “

کے سرغنے ابو عمر بغدادی کے مرنے کے بعد ابو سلیمان کو القاعدہ کا نیا سربراہ مقرر کیا ہے۔ یہ خبر فاش ہونے پر 70 سے زائد سیکورٹی اہلکار گرفتار ہو چکے ہیں جن سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ سعودی عرب ہی وہ ملک ہے جو اسلام کا لبادہ اوڑھے صیہونی منصوبے کے تحت عراق، یمن، افغانستان، لبنان، پاکستان اور دوسرے مسلم ممالک میں مسلمانوں کو متحد ہونے نہیں دے رہا اور معصوم بھولے بھالے افراد کو غلط صیہونی پروپیگنڈے اور وہابی مفتیوں کے فتووں کے ذریعے تقسیم کر رہا ہے۔ آج میڈیا کی ترقی کے باعث اب یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں رہی کہ ہولوکاسٹ کے افسانے سے لے کر 11 ستمبر کے دھماکے سب ایک ڈرامہ ہے۔ اسی طرح آل سعود اور آل یہود کا گٹھ جوڑ بھی کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ اگر اب بھی کسی کو اس گھناونی سازش میں تھوڑا سا شک ہو تو وہ آل سعود اور وہابی تکفیری گروہ کے برسراقتدار آنے کی تاریخ کو بغیر کسی تعصب اور ہٹ دھرمی کے مطالعہ کر سکتا ہے۔

اگر مطالعے کا حوصلہ نہ ہو تو کم از کم اتنا تو سوال کر لے کہ ہر لمحہ مسلمانوں پر فتوے لگانے والے سعودی مفتی سعودی خاندان کی طرف سے اسلامی اقدار کی کھلم کھلا توہین کے بارے میں کیوں فتوا نہیں دیتے۔

” بَلْ هِىَ فِتْنَةٌ وَ لَاكِنَّ أَكْثرََهُمْ لَا يَعْلَمُون” 

” یہ کیسی پالیسی ہے؟، کون سا اسلام ہے؟، اپنے ملک کے حکمران چاہے جوا کھیلیں، شراب پئیں، عیاشی کریں، کوئی فتوا صادر نہیں ہوتا لیکن جہاں اسلامی اتحاد، اخوت اور بھائی چارے کی ضرورت ہو اس میں دراڑیں ڈالنے کیلئے پیش پیش رہتے ہیں۔ “

مزید  یوگنڈا میں اہم دینی فعال اور سنی عالم دین کا قتل

[سورہ زمر، آیہ 49]۔

“بلکہ یہ ایک بڑی آزمائش ہے لیکن ان میں سے اکثر علم نہیں رکھتے”۔

یہ کیسی پالیسی ہے؟، کون سا اسلام ہے؟، اپنے ملک کے حکمران چاہے جوا کھیلیں، شراب پئیں، عیاشی کریں، اٹلی کے پورے پورے جزیرے کرائے پر لیں، داڑھی مونڈھیں، عورتوں کے ساتھ علنا تصویریں موجود ہوں، کوئی فتوا صادر نہیں ہوتا لیکن جہاں اسلامی اتحاد، اخوت اور بھائی چارے کی ضرورت ہو اس میں دراڑیں ڈالنے کیلئے پیش پیش رہتے ہیں۔

“وَ الْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ” [سورہ بقرہ، آیہ 191]۔

“فتنہ قتل سے زیادہ برا ہے”۔

مدرسے، مسجدیں، امام بارگاہیں، جلوس۔۔۔۔۔۔ ہر چیز انکی زد میں ہے۔

“وَ مَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللَّهِ أَن يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَ سَعَى فىِ خَرَابِهَا” [سورہ بقرہ، آیہ 114]۔

“کون اس شخص سے زیادہ ظالم ہے جو مساجد کی تعمیر اور ان میں خدا کا ذکر کرنے سے روکتا ہے اور انہیں مسمار کرنے کی کوشش کرتا ہے”۔

اگر کوئی چیز محفوظ ہے تو وہ اپنے حکمرانوں بلکہ ہر مسلمان ملک کے امریکہ اور اسرائیل نواز حکمرانوں کی عیاشیاں اور اسلام کی کھلی مخالفت ہے جن پر یہ چپ سادھے بیٹھے رہتے ہیں۔

“وَ قَدْ كَانَ فَرِيقٌ مِّنْهُمْ يَسْمَعُونَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ يحَُرِّفُونَهُ مِن بَعْدِ مَا عَقَلُوهُ وَ هُمْ يَعْلَمُون” [سورہ بقرہ، آیہ 15]۔

“ان میں سے ایک گروہ 

” اگر یہ حقیقی مسلمان ہوتے تو قرآن کی عظمت کی خاطر اسلحے کی ڈیل کو کینسل کرنے کی دھمکی ہی دے کر اس پست عمل کو رکوا سکتے تھے۔ “

ایسا ہے جو خدا کا کلام سنتے ہیں اور اسکو سمجھنے کے بعد جان بوجھ کر اس میں تحریف کر دیتے ہیں”۔

یہ منافقوں کا وہ گروہ ہے جو اسلام کا لبادہ اوڑھ کر صیہونی ایجنڈے پر کام کرنے میں لگا ہوا ہے۔

“وَ إِذَا لَقُواْ الَّذِينَ ءَامَنُواْ قَالُواْ ءَامَنَّا وَ إِذَا خَلَوْاْ إِلىَ شَيَاطِينِهِمْ قَالُواْ إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نحَْنُ مُسْتهَْزِءُون ” [سورہ بقرہ، آیہ 14]۔

“یہ لوگ [منافقین] جب مومنین سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور جب اپنے شیطان ساتھیوں کے ساتھ اکیلے ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو صرف مذاق کر رہے تھے”۔

اگر یہ حقیقی مسلمان ہوتے تو قرآن کی عظمت کی خاطر اسلحے کی ڈیل کو کینسل کرنے کی دھمکی ہی دے کر اس پست عمل کو رکوا سکتے تھے۔ تیل کی سپلائی بند کرنے کی دھمکی سے بھی سر کے بل امریکی حکومت مجبور ہو جاتی کہ اس عمل کو رکوائے۔ اسلام کی عظمت اور اسکی حفاظت کی خاطر ایک خدا، ایک رسول اور ایک کتاب کے ماننے والوں کی صفوف میں اتحاد پیدا کرتے، اسلام کی خاطر شیعہ سنی کا 5 فیصد اختلاف نظرانداز کرتے ہوئے اسلام کے 100 فیصد 

مزید  ڈیموکریسی امام خمینی کی نظر میں

” دنیا بھر میں اسلام کی عظمت، اسلامی اقدار اور حقیقی اسلام کی جھلک صرف اسلامی ملک ایران اور اسکی حمایت یافتہ قوتوں حزب اللہ کے جرات مندانہ اقدام اور حماس کے شجاعانہ عمل میں نظر آتی ہے۔ “

مخالفین کے خلاف ید واحد بن کر ڈیڑھ ارب مسلمان اسلام کے خلاف ٹیڑھی آنکھ سے دیکھنے والوں کا ناکوں چنے چبوا سکتے تھے۔ خادمین حرمین کا راگ الاپنے والے کاش اسلام کی خدمت کرتے اور صیہونی ایجنڈے پر عمل پیرا نہ ہوتے تو آج نہ فلسطین، عراق، پاکستان، افغانستان وغیرہ میں انسان سوزی ہوتی اور نہ کسی کو قرآن سوزی اور پیغبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے کی جرات ہوتی۔ 

آج حقیقت سب پر عیاں ہے۔ امریکی اور صیہونی منصوبوں میں کون تعاون کر رہا ہے اور کون سی طاقت ہے جو انکے سامنے اسلامی کی حفاظت میں ڈٹ کر کھڑی ہے۔ عراق پر حملے کا راستہ امریکی پٹھو صدام نے ہموار کیا، افغانستان پر حملے کا بہانہ امریکی صدر بش کے بزنس پارٹنر اسامہ بن لادن اور طالبان نے فراہم کیا اور ان دونوں کی مالی معاونت سعودی عرب نے ہی کی۔ صدام آخرکار ایک بل سے برآمد ہوا اور اسامہ بن لادن بھی کسی محفوظ چوہے دان میں چھپا ہو گا لیکن جو بات اہم ہے وہ یہ کہ اسکا نام لے دنیا بھر میں اسلام کو بدنام کیا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں اسلام کی عظمت، اسلامی اقدار اور حقیقی اسلام کی جھلک صرف اسلامی ملک ایران اور اسکی حمایت یافتہ قوتوں حزب اللہ کے جرات مندانہ اقدام اور حماس کے شجاعانہ عمل میں نظر آتی ہے۔ آج اگر دنیا بھر کے مسلمان اسلام اور قرآن کی خاطر آپس میں متحد ہو جاتے تو ہمیں یہ ذلت آمیز دن نہ دیکھنے پڑتے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.