انسانی معاشرہ باہمی خلفشار اور ابتری کا شکار

0 0

آج علوم و فنون کے زمانے میں جہاں پر دنیا گلوبل ویلج کی شکل اختیار کرچکی ہے وہیں پر پورا انسانی معاشرہ باہمی خلفشار اور ابتری کا شکار ہے۔ بھوک، افلاس، بیروز گاری، مہنگائی، کرپشن ، دھونس دھاندلی اور مکرو فریب کے سرطان نے ہر طبقہ¿ انسانی کے قلب و جگر میں اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ وہ تنظیمیں اور ادارے جو اِن مسائل سے نجات کیلئے معرض وجود میں آئے تھے خود انہی مسائل کے شکار ہیں۔ آج معاشرتی مائل کا بوجھ اس قدر زیادہ ہے کہ بہت سارے آزاد ممالک میں بسنے والے آزاد لوگوں کی معاشرتی حالت ہزاروں سال پرانے فراعین کے غلاموں کی حالت سے بھی بدتر ہے۔ ماضی کا غلام انسان خود کو غلام سمجھ کر ظالموں اور جابروں کی غلامی کرتا تھا لیکن آج کا انسان اپنے آپ کو آزاد سمجھ کر ظالموں اور جابروں کی غلامی کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ انسانی وسائل تو بڑھے ہیں لیکن مسائل کم نہیں ہوئے چونکہ وسائل پر ماضی کی طرح آج بھی ظالموں اور جابروں کا قبضہ ہے۔ ہم تاریخ عالم کا جتنا بھی مطالعہ کریں اور انسانی مسائل پر جتنی بھی تحقیق کریں، کتاب تاریخ میں جہاں جہاں انسان نظر آئے گا وہاں وہاں مسائل نظر آئیں گے انسانی مسائل کے حل کیلئے ضروری ہے کہ انسان کو معلوم ہو کہ اُسے مسئلہ کیا در پیش ہے؟ کس طرف سے مشکل کا سامنا ہے؟ مخالف کس طرف مورچہ زن ہے؟ دشمن کے پاس کیا کچھ اسباب و وسائل ہیں؟ دشمن کو کمک کس طرح سے پہنچائی جارہی ہے؟ دشمن کے اہداف کیا ہیں؟

اگر انسان کو دشمن کی مکمل طور پر آگاہی نہ ہو تو نہ صرف یہ کہ دشمن کو پسپا نہیں کیا جاسکتا بلکہ دشمن کے حملوں سے خود کو بھی محفوظ نہیں رکھا جاسکتا۔ لہٰذا تحقیق کیلئے ہمیں سب سے پہلے انسان حضرت آدم – کے مسائل کا جائزہ لینا ہوگا۔ معصومین ٪ کی روایات اور قرآنی آیات نیز دیگر آسمانی کتب کی رو سے بھی پہلے انسان یعنی حضرت آدم – کا حقیقی دشمن ابلیس تھا اور حضرت آدم – کے تمام تر مسائل کی جڑیں ابلیسیت میں راسخ تھیں یعنی مسائل آدمیت کا شجر ابلیسیت کی سرزمین پر نشوونما پا رہا تھا چنانچہ ہمارے لیے ابلیس کی شناخت اس کا طریقہ واردات اور اس کے اہداف کا جاننا نہایت ضروری ہے۔

ابلیس کی تعریف قرآن نے اس طرح سے کی ابی واستکبر وکان من الکفرین۔ اسے کے طریقہ واردات کے بارے میں قرآن حکیم نے اس طرح فرمایا ”الّذی یوسوس فی صدورِ الناس“ اور اس کے اہداف کے وضاحت یوں کی ”قالَ فَبِعِزَّتِکَ لا غوینّھم اجمعین اِلا عبادک منھم المخلصین“

مندرجہ بالا تینوں نکات کی روشنی میں یہ پتہ چلتا ہے کہ ابلیس مستکبر ہے اُس کا طریقہ واردات وسوسہ ہے اور اس کا ہدف انسانوں کو گمراہ کرنا ہے۔

ابلیس کے مقابلے کیلئے ضروری ہے کہ اُولاد آدم -، مستکبر، وسوسے اور گمراہی کو سمجھے! ”مستکبر“ کے معنی ہیں اپنے آپ کو بڑا سمجھنے والا اور بڑھا چڑھا کر پیش کرنے والا اور صرف اور صرف اپنے آپ کو ہی معزز و محترم سمجھنے والا۔ ”وسواس“ سے مراد انسانی قلوب اور اذہان میں وہم اور شک کی آبیاری کرکے انسانی صلاحیتوں کوماند کرنا ہے ۔ ”گمراہی“ سے مراد کسی کو راستے سے ہٹا کر منزل سے دور کرنا ہے۔

زمان و مکان کی قید نہیں، جس بھی زمانے میں، جس بھی جگہ، پر، جس بھی شخص میں یہ تینوں صفات اکٹھی ہوجائیں وہ مستکبر بھی ہوگا اور ابلیسی نمائندہ بھی ہوگا۔

ابلیس خود کو برتر اور بہت بڑا سمجھتا تھا اُس نے حضرت آدم – کی عزت و عظمت کو تسلیم کرنے کے بجائے اپنی برتری اور بڑائی کا سکہ جمانے کی خاطر آدم – اور اولادِ آدم سے ازلی دشمنی مول لے لی۔

وقت کے دھارے کے ساتھ ساتھ جیسے آدمیت کا قافلہ گردش کرتا رہا ویسے ہی مستکبرین کا سلسلہ بھی آگے بڑھتا رہا۔ جو دعویٰ ابلس کا تھا وہی قابیل کا بھی تھا، جو تکبر و نخوت ابلیس میں تھی وہی فرعون و نمرود میں بھی تھی جو خود خواہی ابلیس میں تھی وہی ابو لہب و ابو جہل میں تھی جو انانیت ابلیس میں تھی وہی یزید میں بھی تھی۔ یہ سلسلہ ہر دور میں چلتا رہا ہر دور میں مستکبرین قافلہ بشریت کی تاک میں جھک مارتے رہے کمزور انسانوں کا استحصال کرتے رہے اور ظلم و بربریت کے ساتھ اپنی طاقت اور برتری کا لوہا منواتے رہے یہاں تک کہ انسانی مسائل پیچیدہ تر ہوتے چلے گئے اور اب صورتِ حال کچھ یوں ہوگئی ہے کہ ہر مسئلہ ناقابل حل اور ہر مرض لادوا نظر آتا ہے۔

مزید  قرآن وسنت میں وحدت کا مقام

جب عصر حاضر میں انسانی مسائل پر فرزند توحید و رسالت اور وارث آدم – حضرت امام خمینی کی نگاہ پڑی تو آپ نے انسانی مسائل کی اصلی وجہ ”معیشت“ کو قرار نہیں دیا بلکہ امریکہ کو قرار دیا اور امریکہ کو شیطان بزرگ کہہ کر امریکی استکباری ذہنیت کو بے نقاب کیا۔

تاریخی تجربات و سیاسی حالات کی روشنی میں صافت دکھائی دیتا ہے کہ امریکہ ابلیس کی طرح متکبر ہے اور پوری دنیا کے انسانوں کو پروپیگنڈے اور میڈیا کے ذریعے مختلف اقتصادی و صنعتی و سیاسی و جمہوری وسواس میں مبتلا کرکے نہ صرف اپنے مفادات کو فروغ دے رہا ہے بلکہ عالم بشریت کو خدا، رسول اور دین سے دور کرکے گمراہی کی وادیوں میں دھکیلتا جارہا ہے۔ یوں تو تاریخی طور پر سامراجیت کا ہر دور میں غلبہ رہا ہے لیکن سولہویں و سترہویں صدی میں سائنسی ایجادات اور صنعتی انقلاب نے سامراجی قوتوں میں نئی روح پھونکی اور ہالینڈ، برطانیہ، فرانس، سپین اور پرتگال نے دیگر ریاستوں کو مفتوح کرنے پر کمر کس لی۔ یاد رہے کہ

”مستکبرین کے دیگر ریاستوں کے مفتوح کرنے کے عمل کو علم سیاسیات میں سامراجیت کہا جاتا ہے“ مفکر سیاسیات چارلس اے برڈ کے مطابق سامراجیت وہ طریقہ کار ہے جس کے تحت حکومت کی مشینری اور ڈپلومیسی کو دوسری اقوام یا نسلوں کے ماتحت علاقوں پر قبضہ کرنے، زیر حمایت رکھنے یا حلقہ اثر میں لانے کیلئے استعمال میں لایا جائے تاکہ صنعتی تجارت کی ترقی اور سرمایہ لگانے کے مواقع حاصل ہوسکیں۔

صنعتی انقلاب، نہر سویز کھلنے اور ریلوے کی ترقی کے بعد سامراجی ممالک نے دیگر ممالک کو مفتوحہ بنانے اور مقبوضہ رکھنے کیلئے نئے انداز اور طریقے وضع کئے جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:

۱۔ ترقی پذیر ممالک کو امداد دےکر من مانی شرائط منوائی جائیں اور ان کے علاقوں کو اپنے مفادات کیلئے استعمال کیا جائے۔

۲۔ دنیا بھر میں ایسا تعلیم یافتہ طبقہ تیار کیا جائے جو سامراجی پالیسیوں کا ہمنوا ہو۔

۳۔ غیر ترقی یافتہ علاقوں میں اپنی منڈیاں قائم کی جائیں۔

۴۔ جمہوریت اور آزادی کے نام پر دیگر ممالک میں اپنی فوجیں داخل کرکے وہاں کے وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی سیاسی و معاشی مفادات حاصل کئے جائیں۔

سامراجیت کے چوتھے طریقہ واردات یعنی جمہوریت و آزادی اور خوشحال و ترقی کے نام پر کسی ملک میں فوجیں داخل کرنے کے عمل کو سیاسیات میں استعماریت یا نو آبادیت کہتے ہیں۔ یعنی سامراجیت اصل ہے اور استعماریت اس کی ایک شاخ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں بی سامراجی طاقتیں جن ممالک کو مفتوح کرتی تھیں اُنہیں ”نو آبادی“ کہا جاتا تھا۔

تاریخی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ سامراجی قوتیں کچھ اس طرح کے بہانوں سے دیگر ممالک کو زیر تسلط لاتی تھیں کہ ترقی پذیر ممالک کے لوگ کاروبار حکومت چلانے نیز علمی و فنی پیشرفت کی صلاحیت نہیں رکھتے لہٰذا اُنہیں علوم و فنون سے آراستہ کرنے اور فلاح و بہبود کی شاہراہ پر گامزن کرنے کیلئے اور ان کی سیاسی فکر میں ارتقاءکیلئے ضروری ہے کہ انہیں مقبوضہ رکھ کر اُن پر کام کیا جائے۔

اس طرح کے لیبل لگا کر مختلف بہانوں سے طاقتور قومیں کمزور اقوام کا استحصال کرتی رہی ہیں بالآخر 1945ءمیں اقوام متحدہ نے اپنے منشور میں یہ شق شامل کی ہے کہ کوئی ریاست کسی دوسری ریاست کو اپنی نو آبادی نہیں بنائے گی لیکن اس کے باوجود سامراجی طاقتور نے آج بھی کئی دوسری ریاستوں کو اپنی نو آبادی بنا رکھا ہے۔ مثلاً ماضی قریب میں روس نے افغانستان کو اپنی نو آبادی بنانے کیلئے حملہ کردیا تھا اور تقریباً افغانستان کو اپنی نو آبادی بنا لیا تھا، بعد میں امریکہ نے افغانستان اور عراق کو غیر اعلانیہ طور پر اپنی نو آبادی بنالیا ہے اِسی طرح اسرائیل نے فلسطین اور لبنان کے بیشتر علاقے کو اور ہندوستان نے کشمیر کے ایک بڑے حصے کو اور روس نے چیکو سلاویہ، ہنگری اور بلغاریہ وغیرہ کو آج بھی اپنی نو آبادی بنا رکھا ہے۔ آج دنیا میں بہت سارے ایسے ممالک موجود ہیں جو بظاہر استعماری افواج سے خالی ہیں لیکن استعمار اُن پر مالی کمک، منڈیوں اور صنعتوں کے ذریعے قبضہ جمائے ہوئے ہے اور دنیا کے تمام تر سیاسی و معاشی مسائل استعمار کے ناجائز تسلط اور غیر قانونی قبضے کی وجہ سے ہیں۔ مستکبرین نے اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے اِس طرح کے بدترین حالات مختلف اقوام پر مسلط کئے ہوئے ہیں۔ مثلاً اگر فلسطین کا مسئلہ حل ہوجائے تو سامراج، عربوں کی دولت کو نہیں لوٹ سکتا، اگر عراق اور افغانستان کا مسئلہ حل ہوجائے تو مستکبرین اِس خطے کی دیگر ریاستوں کی نگرانی کرنے سے محروم ہونے کے ساتھ ساتھ عراق کے تیل سے بھی محروم ہوجائیں گے، اگر کشمیر سے بھارتی فوجیں نکل جائیں تو کشمیر کے آبی ذخائر، جنگلات اور معدنی ذخائر سے بھارت کو ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔ چنانچہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ مذکورہ علاقوں میں سامراجی عناصر اپنے مفادات کے حصول کیلئے انسانی خون کو پانی کی طرح بہا رہے ہیں۔ استعماری طاقتوں نے اپنے سیاسی و معاشی مفادات کی خاطر دنیا کو بدامنی اور عدم استحکام کی آگ میں جھونکا ہوا ہے۔ اگر دنیا میں امنیت بحال ہوجائے تو مستکبرین کے جنگی ساز و سامان اور اسلحہ کس سیارے پر فروخت ہوگا چنانچہ مستکبرین پوری دنیا کے انسانوں کو مختلف سازشوں کے ساتھ آپس میں اُلجھا کر اپنا اسلحہ اور بارود فروخت کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ سامراجی طاقتوں نے اپنے معاشی مفادات کیلئے ایڈز، ہیپاٹائٹس اور امریکی سونڈی کے وائرس تک دنیا میں عام کئے تاکہ اُن کی دوائیاں اور انجکشن بڑے پیمانے پر فروخت ہوں۔

مزید  سید سجاد (ع) کی شخصیت

آج پوری دنیا میں جہاں مستکبرین لوٹ مار اور دھونس دھاندلی میں مصروف ہیں وہیں پر کمزور اقوام بھی مستکبرین کے چنگل سے نکلنے کیلئے ہاتھ پاو¿ں مار رہی ہیں۔ سابقہ تجربات کی روشنی میں مستکبرین نے مستضعفین یعنی کمزور اقوام کے بیچ میں اپنے پٹھو رہنما اور وظیفہ خور دھڑے قائم کر رکھے ہیں جو مختلف عنوانات کے ساتھ مختلف علاقوں میں سامراجی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ مثلاً عصر حاضر میں عراق کے صدام اور افغانستان کے طالبان نے سامراجی عزائم کی تکمیل کیلئے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ صدام نے پہلے ایران پر حملہ کرکے امریکی سامراجی حوصلوں کو بلند کیا اور استعماری طاقتوں سے اسلحہ خرید خرید کر ایران کے نہتے عوام پر استعمال کیا، جب یہ جنگ ختم ہوگئی تو صدام نے کویت پر چڑھائی کرکے استعماری فوج کو براہِ راست اس خطے میں داخل ہونے کا جواز فراہم کیا۔ اِسی طرح طالبان نے اپنی تمام تر ظالمانہ کاروائیوں کے ساتھ اسلام کو بدنام کیا اور افغانستان میں سامراجی عزائم کی تکمیل کیلئے پل کا کردار ادا کیا۔ اس طرح کے واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ عصر حاضر میں جس طرح مستکبرین کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے اسی طرح مستکبرین کے جاسوس رہنماو¿ں اور وظیفہ خور ٹولوں سے بھی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

ہمارے سامنے جس طرح طالبان اور صدام کی صورت میں سامراج کے جا سوسوں کی مثالیں موجود ہیں اُسی طرح مستکبرین کو شکست دینے کے حوالے سے حزب اللہ لبنان اور انقلاب اسلای ایران کی مثالیں بھی موجود ہیں کہ جنہوں نے ہر قسم کی انانیت اور خود خواہی سے بلند ہو کر دیگر تمام گروہوں اور پارٹیوں سے محبت و اخوت اور باہمی افہام و تفہیم اور اجتماعی ادب و احترام کا مظاہرہ کرکے مختصر مدت میں استعماری اثر و رسوخ کو اپنی صفوں سے ختم کردیا ہے۔ مستکبرین کے خلاف جتنی بڑی کامیابی عصر حاضر میں حزب اللہ لبنان کے قیام اور انقلاب اسلامی ایران کی صورت میں وقوع پذیر ہوئی ہے اِسی طرح کی کامیابی پہلے کہیں دیکھنے میں نہیں آتی۔

مزید  اسلام ميں خواتين کي فعاليت و ملازمت

تاریخی وسیاسی تجزیہ و تحلیل سے پتہ چلتا ہے کہ استکباری سازشوں کا مقابلہ کرنے کیلئے حزب اللہ لبنان اور انقلاب کے رہنماو¿ں کی طرح ایک ٹھوس اور ہمہ جہتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ ایسی حکمت عملی کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں جن میں سے ایک صورت یہ ہے:

۱۔ عالمی استعمار کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے مرحلے میں مذہبی سکالرز، دانشوروں، سیاسی رہنماوں ، قومی مفکرین اور مختلف علوم کے ماہرین پر مشتمل تھنک ٹینکس تشکیل دیئے جائیں جو سامراجیت کے تمام پہلووں کا جائزہ لیکر اقوامِ عالم کو عصر حاضر کے سامراج کی سازشوں سے آگاہ بھی کریں اور ان سازشوں کا توڑ بھی بتائیں۔

۲۔ استکبار شناسی:

مستکبرین کے چنگل سے نجات کیلئے ضرورت ہے کہ عوام کو استکبار شناس بنایا جائے تاکہ لوگ صدام اور طالبان کی طرح کے سامراجی پٹھوو¿ں کی چالوں میں نہ آئیں۔

۳۔ سیاسی و ملی شعور:

مستکبرین کے سیاسی و ملی شعورت کی ناپختگی سے فائدہ اُٹھا کر لوگوں کو مختلف دھڑوں میں تقسیم کرکے اُن پر حکومت کرتے ہیں۔ اس صورت حال سے نجات کیلئے ضروری ہے کہ لوگوں کو حقیقی معنوں میں سیاسی و ملی شعور عطا کیا جائے تاکہ حزب اللہ لبنان کی طرح لوگ آپس کے اختلافات کو پیچھے ہٹا کر سامراج کے خلاف متحد ہوجائیں۔

۴۔ بین الاقوامی سطح پر استکبار کے خلاف مزاحمت:

ضروری ہے کہ سامراجیت شناس لوگ دیگر اقوام سے اپنے روابط قائم اور مضبوط کریں اور دیگر ممالک کے میڈیا کے ذریعہ دیگر اقوام کو عالمی استکبار کی حقیقت سے آگاہ کریں نیز حریت پسند ممالک کو یہ دعوت دی جائے کہ وہ ڈپلومیسی اور خارجہ پالیسی کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر سامراجی سازشوں کو بے نقاب کریں۔

۵۔ رائے عامہ کے ذریعہ:

ریڈیو، ٹیلی ویژن، اخبارات اور مجلات میں ہر سطح کے لوگوں کے ذہنی معیارات کے مطابق سامراجیت کے متعلق پروگرام نشر کئے جائیں اور مقالات چھاپے جائیں۔ نیز سامراجیت کے موضوع پر جا بجا تحقیقی کانفرنسیں منعقد کرکے اُنہیں میڈیا میں بھرپور کوریج دی جائے۔

۶۔ تعلیمی اداروں کے ذریعے:

دینی مدارس، سکو، کالجز الغرض ہر سطح کے طالب علموں کے سامنے نہ صرف یہ کہ سامراجیت کو موضوع بحث بنایا جائے بلکہ سامراجیت کی تاریخ کو تعلیمی نصاب میں شامل کیا جائے تاکہ آئندہ نسلیں بھی استعماریت کی سازشوں سے باخبر رہیں۔

۷۔ پبلک پلیٹ فارم، سیاسی و مذہبی اجتماعات:

مختلف فرہنگی و ثقافتی تقاریب کا انعقاد کیا جائے جن میں مختلف فنون کے ذریعہ سامراج کے مظالم سے پردہ اُٹھایا جائے، سیاسی و مذہبی اجتماعات میں استعمار کی تازہ ترین سازشوں سے لوگوں کو آگاہ کیا جائے، ہینڈ بلز اور پمفلٹس نیز چھوٹے چھوٹے کتابچوں کی صورت میں محلوں اور قصبوں کی سطح تک سامراج سے متعلق تحریری مواد پہنچایا جائے۔

۸۔ اقتصادی و صنعتی مسائل:

استعمار کے اقتصادی و صنعتی ڈھانچوں کی درست رپورٹس اکٹھی کرکے ماہرین اقتصادیات کو فراہم کی جائیں اور ان سے گزارش کی جائے کہ وہ سامراج کے چنگل سے نکلنے کیلئے مستضعف اقوام کے لئے ٹھوس اقتصادی و صنعتی لائحہ عمل تیار کریں۔

۹۔ کمزور اقوام کی حوصلہ افزائی:

کمزور اقوام کی مختلف امور میں حوصلہ افزائی کی جائے اور انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ اُن کا اور ان کی آئندہ نسلوں کا مستقبل ان کے اپنے ہاتھ میں ہے نیز یہ کہ محنت ، جدوجہد ، مستقل مزاجی اور باہمی اتحاد کے ساتھ استکبار کے غرور کو خاک میں ملایا جا سکتا ہے۔

مستکبرین کا مقابلہ کرنے کے لیے مندرجہ بالا نو نکات کے علاوہ اَن گنت نکات اور بے شمار تجاویز سوچی جاسکتی ہیں، کئی طرح کی پالیسیاں مرتب کی جاسکتی ہیں اور ہزاروں طرح کے منصوبے وضع کئے جاسکتے ہیں لیکن ایک موثر ، مضبوط اور ٹھوس حکمت عملی وضع کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ہمارے دلوں پر سامراج کا خوف اور ہماری فکروں پر مستکبرین کے پہرے نہ ہوں ۔ ہمیں سید حسن نصر اللہ کی طرح سامراج کے بارے میں یہ یقین ہونا چاہیے کہ سامراج کی حقیت مکڑی کے جالے سے زیادہ نہیں ہے۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.