انبیاء الہی كی حمایت اور ان كی پیروی

0 1

قرآن ميں ان رسولوں كى جدوجہد كا ايك اور حصہ بيان كيا گيا ہے اس حصے ميں بتآیا گيا ہے كہ ان ميں سے تھوڑے سے مومنين نے بڑى شجاعت سے ان انبياء كى حمايت كى اور وہ كا فر و مشرك اور ہٹ دھرم اكثريت كے مقابلے ميں كھڑے ہوئے اور جب تك جان باقى رہى انبياء الہى كا ساتھ ديتے رہے _

پہلے ارشاد ہوتا ہے: ”ايك (باايمان) مرد شہر كے دور دراز مقام سے بڑى تيزى كے ساتھ بھاگتا ہوا كافر گروہ كے پاس آیا اور كہا: اے ميرى قوم مرسلين خدا كى پيروى كرو _”

اس شخص كا نام اكثر مفسرين نے ”حبيب نجار” بيان كيا ہے وہ ايسا شخص تھا كہ جو پروردگار كے پيغمبروں كى پہلى ہى ملاقات ميں ان كى دعوت كى حقانيت اور ان كى تعليمات كى گہرائي كو پا گيا تھا وہ ايك ثابت قدم اور مصمم كا ر مومن ثابت ہوا جس وقت اسے خبر ملى كہ وسط شہرميں لو گ ان انبياء الہى كے خلاف اٹھ كھڑے ہوئے ہيں اور شايد انھيں شہيد كر نے كا ارادہ ركھتے ہيں تو اس نے خاموش رہنے كو جائز نہ سمجھا چنانچہ ”يسعى ”كے لفظ سے معلوم ہوتا ہے كہ بڑى تيزى اورجلدى كے ساتھ مركز شہر تك پہنچا اور جو كچھ اس كے بس ميں تھا حق كى حمايت اور دفاع ميں فرو گزاشت نہ كى _

”رجل” كى تعبير نا شناختہ شكل ميں شايد اس نكتے كى طرف اشارہ ہے كہ وہ ايك عام ادمى تھا، كوئي قدرت و شوكت نہيں ركھتا تھا اور آپنى راہ ميں يك و تنہا تھا ليكن اس كے باوجود ايمان كے نور و حرارت نے اس كا دل اس طرح سے روشن اور مستعد كر ركھاتھا كہ راہ توحيد كے مخالفين كى سخت مخالفت كى پرواہ نہ كرتے ہوئے ميدان ميں كودپڑا _

”اقصى المدينة”كى تعبير اس بات كى نشاندہى كرتى ہے كہ ان رسولوں كى دعوت شہر كے دور دراز كے مقامات تك پہنچ گئي تھى اور امادہ دلوں ميں اثر كر چكى تھى، اس سے قطع نظر كہ شہر كے دور دراز كے علاقے ہميشہ ايسے مستضعفين كے مركز ہوتے ہيں كہ جو حق كو قبول كرنے كے لئے زيادہ و تيار ہوتے ہيں، اس كے بر عكس شہروں ميں نسبتا ً خوشحال لوگ زندگى بسر كرتے ہيں جن كو حق كى طرف راغب كرنا اسانى كے ساتھ ممكن نہيں ہے _

ايئے اب ديكھتے ہيں كہ يہ مومن مجاہد آپنے شہر والوں كى توجہ حاصل كرنے كے لئے كس منطق اور دليل كو اختيار كرتا ہے _ اس نے پہلے يہ دليل اختيار كى كہ: ”ايسے لوگوں كى پيروى كرو جو تم سے آپنى دعوت كے بدلے ميں كوئي اجر طلب نہيں كرتے”_

يہ ان كى صداقت كى پہلى نشانى ہے كہ ان كى دعوت ميں كسى قسم كى مادى منفعت نہيں ہے، وہ تم سے نہ كوئي مال چاہتے ہيں اور نہ ہى جاہ ومقام، يہاں تك كہ وہ تو تشكر و سپاس گزارى بھى نہيں چاہتے اور نہ ہى كوئي اور صلہ _ اس كے بعد قرآن مزيد كہتا ہے: (علاوہ ازين ) يہ رسول جيسا ان كى دعوت كے مطالب اور ان كى باتوں سے معلوم ہوتا ہے ”كہ وہ ہدايت يافتہ افرا د ہيں ”_

مزید  انا قتيل العبره

يہ اس بات كا اشارہ ہے كہ كسى كى دعوت كو قبول نہ كرنا يا تو اس بنآپر ہوتا ہے كہ اس كى دعوت حق نہيں ہے اور وہ بے راہ روى اور گمراہى كى طرف كھينچ رہا ہے يا يہ كہ ہے توحق ليكن اس كو پيش كرنے والے اس كے ذريعے كوئي خاص مفاد حاصل كر رہے ہيں كيونكہ يہ بات خود اس قسم كى دعوت كے بارے ميں بد گمانى كا ايك سبب ہے، ليكن جب نہ وہ بات ہو اور نہ يہ، تو پھر تامل و تردد كے كيا معنى ؟

اس كے بعد قرآن ايك اور دليل پيش كرتا ہے اور اصل توحيد كے بارے ميں بات كرتا ہے كيونكہ يہى انبياء كى دعوت كا اہم ترين نكتہ ہے، كہتا ہے: ”ميں اس ہستى كى پرستش كيوں نہ كروں كہ جس نے مجھے پيدا كياہے _”

وہ ہستى پرستش كے لائق ہے كہ جو خالق و مالك ہے اور نعمات بخشنے والى ہے، نہ كہ يہ بت كہ جن سے كچھ بھى نہيں ہو سكتا، فطرت سليم كہتى ہے كہ خالق كى عبادت كرنا چاہئے نہ كہ اس بے قدر و قيمت مخلوق كى _

اس كے بعد خبردار كرتا ہے كہ ياد ركھو ”تم سب كے سب اخر كار اكيلے ہى اس كى طرف لوٹ كر جاو گے _”

آپنے تيسرے استدلال ميں بتوں كى كيفيت بيان كرتا ہے اور خدا كے لئے عبوديت كے اثبات كو، بتوں كى عبديت كى نفى كے ذريعے تكميل كرتے ہوئے كہتا ہے: ”كيا ميں خدا كے سوا اور معبود آپنالوں، جب كہ خدائے رحمن مجھے نقصان پہنچانا چاہے تو ان كى شفاعت مجھے معمولى سا فائدہ بھى نہ دے دے گى اور وہ مجھے اس كے عذا ب سے نہ بچا سكيں گے_”

اس كے بعد يہ مجاہد مومن مزيد تاكيد و توضيح كے لئے كہتا ہے: ”اگر ميں اس قسم كے بتوں كى پرستش كروں اورا نھيں پروردگار كا شريك قرار دوںتو ميں كھلى ہوئي گمراہى ميں ہوں گا _”

اس سے بڑھ كر كھلى گمراہى كيا ہوگى كہ عاقل و باشعور انسان ان بے شعور موجودات كے سامنے گھٹنے ٹيك دے اور انھيں زمين و اسمان كے خالق كے برابر جانے_

اس مجاہد مومن نے ان استدلالات اور مو ثر و وسيع تبليغات كے بعد ايك پراثر تاثير اواز كے ساتھ سب لوگوں كے درميان اعلان كيا:ميں تمہارے پرور دگار پر ايمان لے آیا ہوں اور ان رسولوں كى دعوت كو قبول كيا ہے _ ”اس بناء پر ميرى باتوں كو سنو_”

اور جان لو كہ ميں ان رسولوں كى دعوت پر ايمان ركھتا ہوں اور تم ميرى بات پر عمل كرو كہ يہى تمہارے فائدہ كى بات ہے_

اس مرد مومن كے مقابلہ ميں قوم كا ردّ عمل

مزید  "حی علٰی خیر العمل" كے جزء اذان ھونے كی دلیل

ايئے اب ديكھتے ہيں كہ اس پاكباز مومن كے جواب ميں اس ہٹ دھرم قوم كا رد عمل كيا تھا، قرآن نے اس سلسلے ميں كوئي بات نہيں كہى ليكن قرآن بعد كے لب و لہجہ سے معلوم ہوتا ہے كہ وہ اس كے خلاف اٹھ كھڑے ہوئے اور اسے شہيد كر ديا _

ہاں اس كى پر جوش اور ولولہ انگيز گفتگو قوى اور طاقتور استدلالات اور ايسے عمدہ و دلنشين نكات كے ساتھ تھى، مگر اس سے نہ صرف يہ كہ ان سياہ دلوں اور مكرو غرور سے بھرے ہوئے سروں پر كوئي مثبت اثر نہيں ہوا بلكہ كينہ و عداوت كى اگ ان كے دلوں ميں ايسے بھڑكى كہ وہ آپنى جگہ سے كھڑے ہوئے اور انتہائي سنگدلى اور بے رحمى سے اس شجاع مرد مومن كى جان كے پيچھے پڑگئے، ايك روايت كے مطابق انھوں نے اسے پتھر مارنے شروع كئے اور اس كے جسم كو اس طرح سے پتھروں كا نشانہ بنآیا كہ وہ زمين پر گر پڑ ااور جان جان افرين كے سپرد كردى، اس كے لبوں پر مسلسل يہ بات تھى كہ ”خدا وند اميرى اس قوم كو ہدايت فرماكہ وہ جانتے نہيں ہيں ”_

ايك اور روايت كے مطابق اسے اس طرح پاو ں كے نيچے روندا كہ اس كى روح پرواز كر گئي _

ليكن قرآن اس حقيقت كو ايك عمدہ اور سر بستہ جملہ كے ساتھ بيان كرتے ہوئے كہتا ہے: ”اسے كہا گيا كہ جنت ميں داخل ہوجا”

يہ وہى تعبير ہے كہ جوراہ خدا كے شہيدوں كے بارے ميں قرآن كى دوووسرى آیات ميں بيان ہوئي ہے: ”يہ گمان نہ كرو كہ جو لوگ راہ خدا ميں قتل كئے گئے ہيںو ہ مردہ ہيں بلكہ وہ توزندہ جاويد ہيں اور آپنے پروردگار سے رزق پاتے ہيں _”

جاذب توجہ بات يہ ہے كہ يہ تعبير اس بات كى نشاندہى كرتى ہے كہ يہ مرد مومن شہادت پاتے ہى جنت ميں داخل ہوگيا، ان دونوں كے درميان اس قدر كم فاصلہ تھا كہ قرآن مجيد نے آپنى لطيف تعبير ميں اس كى شہادت كا ذكر كرنے كے بجائے اس كے بہشت ميں داخل ہونے كو بيان كيا، شہيدوں كى منز ل يعنى بہشت و سعادت __كس قدر نزديك ہے _

بہر حال اس شخص كى پاك روح اسمانوں كى طرف، رحمت الہى كے قرب اور بہشت نعيم كى طرف پرواز كر گئي اور وہاں اسے صرف يہ ارزو تھى كہ: ”اے كاش ميرى قوم جان ليتى _”اے كاش وہ جان ليتے كہ ميرے پروردگار نے مجھے آپنى بخشش اور عفو سے نوازا ہے اور مجھے مكرم لوگوں كى صف ميں جگہ دى ہے _”

ايك حديث ميں ہے كہ پيغمبر گرامى اسلام (ص) نے فرمآیا: ”اس باايمان شخص نے آپنى زندگى ميں بھى آپنى قوم كى خير خواہى كى اور موت كے بعد بھى اس كى ہدايت كى ارزو ركھتاتھا _”

بہر حال يہ تو اس مومن اور سچے مجاہد كا انجام تھا كہ جس نے آپنى ذمہ دارى كى انجام دہى اور خدا كے پيغمبروں كى حمايت ميں كوئي كوتاہى نہيں كى اور اخر كار شربت شہادت نو ش كيا اور جوار رحمت ميں جگہ پائي _

مزید  رمضان کے لغوی اور اصطلاحی معنی

پيغمبروں (ع) كا انجام كار

اگر چہ قرآن ميں ان تين پيغمبروں كے انجام كار كے متعلق كوئي بات نہيں كى گئي كہ جو ا قوم كى طرف مبعوث ہوئے _ليكن بعض مفسرين نے لكھا ہے كہ اس قوم نے، اس مر د مومن كو شہيد كرنے كے علاوہ آپنے پيغمبروں كو بھى شہيد كر ديا جب كہ بعض نے تصريح كى ہے كہ اس مرد مومن نے لوگوں كو آپنے ساتھ مشغول ركھاتا كہ وہ پيغمبر اس سازش سے بچ جائيں، كہ جو ان كے خلاف كى گئي تھى، اور كسى پر امن جگہ منتقل ہو جائيں _

اس ظالم اور سركش قوم كا سرانجام

ہم نے ديكھا كہ شہر انطاكيہ كے لوگوں نے خدا كے پيغمبروں كى كيسے مخالفت كى، اب ہم يہ ديكھتے ہيں كہ ان كا انجام كيا ہوا_

قرآن اس بارے ميں كہتا ہے: ”ہم نے اس كے بعد اس كى قوم پر كوئي لشكر اسمان سے نہيں بھيجا اور اصولاً ہمارا يہ طريقہ ہى نہيں ہے كہ ايسى سركش اقوام كو نابود كرنے كے لئے ان امور سے كام ليں _”

ہم ان امور كے محتاج نہيں ہيںصر ف ايك اشارہ ہى كافى ہے كہ جس سے ہم ان سب كو خاموش كر ديں اور انھيں ديا رعد م كى طرف بھيج ديں اور ان كى زندگى كو درہم برہم كرديں _

صرف ايك اشارہ ہى كافى ہے كہ ان كے حيات كے عوامل ہى ان كى موت كے عامل ميں بدل جائيں اور مختصر سے وقت ميں ان كى زندگى كا دفتر لپيٹ كر ركھ ديں _ پھر قرآن مزيد كہتا ہے: ”صرف ايك اسمانى چيخ پيدا ہوئى، ايسى چيخ كہ جو ہلادينے والى اور موت كا پيغام تھى اچانك سب پر موت كى خاموشى طارى ہوگئي ”

كيا يہ چيخ بجلى كى كڑك تھى كہ جو بادل سے اٹھى اور زمين پر جآپڑى اور ہر چيز كو لرزہ بر اندام كر ديا اورتمام عمارتوں كو تباہ كرديا اور وہ سب خوف كى شدت سے موت كى اغوش ميں چلے گئے ؟

يا يہ ايسى چيخ تھى كہ جو زمين كے اندر سے ايك شديد زلزلے كى صورت ميں اٹھى اور فضا ميںدھماكہ ہوا اور اس دھماكے كى لہرنے انھيں موت كى آغوش ميں سلاديا _

ايك چيخ وہ جو كچھ بھى تھى لمحہ بھر سے زيادہ نہ تھى، وہ ايك ايسى اواز تھى كہ جس نے سب اوازوں كو خاموش كرديا اور ايسى ہلا دينے والى تھى كہ جس نے تمام حركتوں كو بے حركت كر ديا اور خدا كى قدرت ايسى ہى ہے اور ايك گمراہ اور بے ثمر قوم كا انجام يہى ہوتا ہے _

”بے ثمر درختوں كى لكڑى جلانے ہى كے كام اتى ہے كيونكہ بے ثمر چيز كى سزا يہى ہے _”

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.