امر بالمعروف ونہی عن المنکر

0 3

ہجرت کا نواں سال تھاحضرت پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو اطلاع ملی کہ روم کے لشکر نے جس کی تعداد ۴۰ ہزار تھی مدینہ سے۶۱۰ کلومیٹر دور تبوک کے مقام پر پڑاوٴ ڈالا ہوا ہے اور مسلمانوں پر حملہ کی تیاری میں مصروف ہے۔ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے جنگ کی تیاری کیلئے فوجی بھرتی کا اعلان کردیا مدینہ میں رہنے والے مسلمانوں نے بڑے جوش وخروش کے ساتھ جنگ کی تیاری شروع کر دی لیکن ان افراد میں سے تین ایسے بھی افراد تھے جنہوں نے ان تمام تیاریوں سے اپنے آپ کو الگ رکھا اور پھر بعد میں جنگ کے لئے بھی نہیں گئے۔ یہ تین افراد کعب ابن مالک، مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ تھے البتہ یہ لوگ منافق یا مخالف اسلام نہیں تھے بلکہ انہوں نے اس معاملے میں سستی سے کام لیا بے توجہی دکھائی۔

لشکراسلام نے جنگ کے لئے تبوک کی طرف کوچ کیا دشمن کو جب اسکی اطلاع ملی تو دشمن نے اپنی فوجوں کو واپس بلا لیا اس طرح سے اسلامی فوج پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی قیادت میں جنگ کئے بغیر واپس آگئی۔

وہ تین افراد مدینہ میں پیغمبر کی خدمت میں حاضرہوئے اور ان سے جنگ میں شرکت نہ کرنے پر معذر ت چاہی پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے ان کی باتوں کا کوئی جواب نہیں دیا حتیٰ کہ ایک جملہ تک نہیں کہا اور مسلمانوں کو بھی حکم دیا کہ کوئی بھی ان سے بات نہ کرے ان تین افراد کا سوشل بائیکاٹ شروع ہوگیا یہاں تک کہ ان کے گھرو الوں نے بھی ان سے بات کرنا چھوڑدی اس سوشل بائیکاٹ کا اس قدر دباوٴ تھا کہ قرآن اس سلسلے میں فرماتا ہے۔

حَتّٰی اِذَا اَضَاقَتْ عَلَیْھِمُ الْاَرْضَ بِمَا رَحُبَتْ

زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہوگئی۔

(سورةتوبہ آیت ۱۱۸)

جب انہوں نے مسلمانوں کی یہ حالت دیکھی توسمجھ گئے کہ اب خدا کے علاوہ کوئی ہمارا حامی نہیں اور کوئی ہماری سننے والا نہیں ہے یہ سمجھ کر انہوں نے ایک دوسرے سے بھی رابطہ منقطع کرلیا اور بیابانوں کی طرف نکل گئے اور راز ونیاز اور استغفار میں مشغول ہوگئے۔۵۰دن تک توبہ میں مشغول رہنے کے بعد خدا نے ان کی توبہ قبول کی اور سورہ توبہ کی ۱۱۸نمبر آیت پیغمبر پرنازل ہوئی

وَّ عَلَی الثَّلااَاثَةِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْاط حَتّٰیآا اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْہِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَیْہِمْ اَنْفُسُہُمْ وَظَنُّوْآ اَنْ لَّامَلْجَاَ مِنَ اللهِ اِلَّاآ اِلَیْہِط ثُمَّ تَابَ عَلَیْہِمْ لِیَتُوْبُوْاط اِنَّ اللهَ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُع

“اور ان تینوں پربھی فضل کیا جو (جہاد) میں پیچھے رہ گئے تھے (اور ان پر سحتی کی گئی) یہاں تک کے زمین باجود اس وسعت کے ان پر تنگ ہوگئی اور ان کی جانیں (تک) ان پر تنگ ہوگئیں اور ان لوگوں نے سمجھ لیا کہ خدا کے سوا اورکہیں پناہ کی جگہ نہیں۔ پھرخدا نے ان کو توفیق دی تاکہ وہ خدا کی طرف رجوع کریں بے شک خدا بڑاتوبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔”

مزید  سورۂ رعد کي آيت نمبر 2-1 کي تفسير

یہ سزا ہے ایسے افراد کی جوکہ مسلمانوں کے امور میں بے توجہی کے مرتکب ہوتے ہیں۔

اس واقعہ کو نظر میں رکھتے ہوئے ہم آئمہ کی زندگی میں موجود ایک اورمشترک اصول کی طرف اشارہ کریں گے اور وہ ہے “امر با المعروف و نہی عن المنکر “

آئمہ اطہار(علیہم السلام)زندگی کے مختلف شعبوں میں لوگوں کو برائیوں سے روکتے تھے اور ان کے پھیلاؤ کے مقابلے میں رکاوٹ بنتے تھے۔ آئمہ(علیہم السلام) کی عملی زندگی میں بحث کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ مقدمہ کے طورپر ایک بحث کو بیان کیا جائے۔

جنگ،جنگ کا لفظ سنتے ہی آپ کا ذہن سرحدوں پر ہو نے والی جنگ کی طرف جائے گا جس میں ٹینک اور توپوں کا آزادانہ استعمال ہوتاہے لیکن جب دشمن اپنے حریف کو پوری طرح زیر کرنا چاہتا ہو اور اس کو اپنا غلام بناناچاہتاہو تو پھر وہ تین طرح کی جنگیں تین مختلف محاذوں پر پے در پے شروع کرتاہے ۔

۱۔سیاسی جنگ ۲۔فوجی جنگ ۳۔ثقافتی جنگ۔

۱۔ سیاسی جنگ

اس کے اندر دشمن کچھ پست فطرت یا نادان افراد کو مختلف چیزوں کا لالچ دے کر اپنا آلہ کار بنالیتاہے یہ افراد ظاہراً تو وطن پرست ہوتے ہیں لیکن باطن میں دشمن کے ساتھ ملے ہوتے ہیں یا پھر ایسے کام کرتے ہیں جو کہ دشمن کے فائدہ کے ہوتے ہیں ۔ان کا سب سے بڑا مقصد سیاسی بد امنی پھیلانا ہوتاہے یہ افرادمختلف عناوین سے معصوم لوگوں کو اپنے گرد جمع کرلیتے ہیں اور ان کو اپنے ناپاک عزائم پورے کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں البتہ ان کی پہچان بڑ ی مشکل ہوتی ہے۔

۲۔ فوجی جنگ

اس جنگ میں دشمن اپنی تمام قوت کے ساتھ اپنے حریف کے مد مقابل ہوتا ہے اور کسی بھی چالاکی سے گریز نہیں کرتا۔ اس کی کوشش فقط یہ ہوتی ہے کہ کسی طرح بھی مد مقابل کو زیر کرلیا جائے ۔اس جنگ میں کامیابی کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ مورد حملہ قرار پانے والی قوم سختیوں کو برداشت کرے اور اتحاد اور ایمان کے ساتھ مد مقابل دشمن کا سامنا کرے۔

۳۔ ثقافتی جنگ

یہ سب سے خطرناک جنگ ہے ۔فوجی جنگ کے مقابلے میں اس میں کسی قسم کا کوئی شور اور ولولہ دشمن کی طرف سے نہیں پایا جاتا اور دشمن نہایت اطمینان اور خاموشی کے ساتھ یہ کوشش کرتاہے کہ مد مقابل کے عوام کی فکر و سوچ کو ثقافتی حربوں سے مورد حملہ قرار دے اور اس کی سوچوں کو منحرف اور بے اساس بنادے۔

دشمن کی ثقافتی یلغار ایک شب خون کی طرح ہے اور ثقافتی قتل و غارتگری ہے جوکہ انسان کو اندر سے خالی کردیتی ہے وہ شخص جوکہ ثقافتی جنگ میں مغلوب ہوجائے وہ جسمانی طورپر زخمی نہیں ہے لیکن اس کی فکر اور سوچ مجروح و آلودہ ہے ۔ظاہری طور پر وہ دشمن کا اسیر نہیں ہے لیکن اندر سے جھوٹی اقدار وغیرہ کا اسیر ہے ۔ جنگ قیدی اپنی دلیری اور شجاعت کی وجہ سے قوم کیلئے مایہ افتخار ہیں جبکہ ثقافتی قیدی قوم کی شرمندگی کا سبب ہیں۔

مزید  تاريخي تنقيد پر تبصرہ امام

جس طرح سے فوجی جنگ میں دشمن کے خلاف ہر ایک فرد کا حرکت میں آنا ضروری ہے اسی طرح سے ثقافتی جنگ میں بھی قوم کے ہر فرد کا حرکت میں آنا ضروری ہے اور اس موقعہ پر بے توجہی کسی بھی صورت میں صحیح نہیں ہے۔البتہ بعض افراد یہ خیال کرتے ہیں کہ فقط امام جماعت ، امام کعبہ یا علماء کا فریضہ ہے کہ وہ اس کے خلاف جہاد کریں یہ اسلام کے نقطہ نظر کے بالکل الٹ سوچ ہے اور تمام لوگوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ زبانی ،عملی اور قلبی طور پر امر بالمعروف ونہی عن المنکر کو انجام دیں ۔مختلف مناسب اور معقول طریقوں سے اس تباہی اور بربادی کے خلاف اٹھیں اوراس وقت تک چین سے نہ بیٹھیں جب تک دشمن کی نابودی کا یقین حاصل نہ ہوجائے۔

قرآن اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر

قرآن میں امر بالمعروف و نہی ازمنکر کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ ۱۰ سے زائد مقامات پر اس کا تذکرہ کیا گیا ہے اور خداوند کریم کی ذات سے لے کر ایک ایک فرد کوذمہ دار بنایاگیا ہے۔

“وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُوٴْمِنٰتُ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍلازموقف یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوةَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللهَ وَ رَسُوْلَہط اُولٰٓئِکَ سَیَرْحَمُہُمُ اللهُ ط اِنَّ اللهَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ”

(سورئہ توبہ : آیت ۷۱)

مومنین اور مومنات ایک دوسرے کے ولی (دوست)ہیں ایک دوسرے کو امربالمعروف ونہی ازمنکر کرتے ہیں اور نماز پڑھا کرتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں ،خدا اور رسول کی اطاعت کرتے ہیں خدا بہت جلد اپنی رحمت ان پر نازل فرمائے گا خداوند عزیز و حکیم ہے۔

قرآن میں سب سے پہلے خود ذات خداوند کو امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

اِنَّ اللّٰہَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَیَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِ وَالْبَغْیِ”

خدا عدل اور احسان کا حکم دیتاہے اور فحش اور ظلم و ستم سے منع کرتاہے۔ (سورئہ نحل :آیت ۹۰)

انبیاء(علیہم السلام) کے فریضہ کے بارے میں انکے اوصاف گنواتے ہوئے امر بالمعروف ونہی عن المنکر کو ان کی صفات میں شمارکیاہے۔ارشاد ہوا:

“یَاْمُرُہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْہٰہُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ “(سورئہ اعراف:آیت ۱۵۷)

صالح حکمران یعنی آئمہ اور معاشرے کے ذمہ دار افراد کیلئے قرآن کا بیان کچھ یوں ہے:

“اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰہُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ ٰاتَوُا الزَّکٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَہَوْا عَنِ الْمُنْکَرِط وَ لِلّٰہِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ”سورئہ حج :آیت ۴۱

“خدا کے دوست وہ لوگ ہیں کہ جب بھی زمین پر ان کو قدرت دی جائے تو وہ نماز قائم کریں گے زکوٰة ادا کریں گے امربالمعروف ونہی عن المنکر کریں گے اور تمام کاموں کا اختتام خدا کے ہاتھ میں ہے”۔

مومنین کے وہ گروہ جو کہ اس امر کو انجام دیں قرآن میں اس کا بیان یہ ہے:

“وَ لااَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْا مِنْم بَعْدِ مَا جَآئَہُمُ الْبَیِّنٰتُط وَ اُولٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ”

مزید  ایمانداری کا انعام (حصّہ دوّم)

(سورہ آل عمران : آیت ۱۰۴)

“تمہارے درمیان ایک گروہ ہوناچاہئے جوکہ نیک کاموں کی دعوت دے اور امر بالمعروف ونہی ازمنکر کرے اور یہی فلاح پائے ہوئے ہیں”۔

تمام کی تمام امت پر اس کام کو انجام دینا ضروری ہے جیسا کہ قرآن میں آیا ہے:

“کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللهِ”(سورہ آل عمران : آیت ۱۱۰)

“تم سب سے بہتر قوم کی حیثیت رکھتے ہو جو کہ لوگوں کے لئے آئی ہے کیوں کہ تم امر بالمعروف و نہی عن المنکر کر تے ہو اور خدا پر ایمان رکھتے ہو”

ہر صالح فرد ہر مومن شخص ہر نیک آدمی کے لئے امر بالمعروف نہی عن المنکر کرنا ضروری ہے۔

قرآن میں دوجگہ پر ایسے مومن افراد کا ذکر ہوا ہے ایک مومن آل فرعون اور ایک مومن آل یٰسین جس کا تذکرہ قرآن یوں کر تا ہے:

“وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌصلیقا مِّنْ ٰالِ فِرْعَوْنَ یَکْتُمُ اِیْمَانَہٓ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلااًا اَنْ یَّّقُوْلَ رَبِّیَ اللهُ وَ قَدْ جَآئَکُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّکُمْ” (سورہ مومن : آیت ۲۸)

“وہ خاندان آل فرعون کا مومن مر د جس نے اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھا اور اپنی قوم سے کہا کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اس کو قتل کر و جس نے یہ کہا کہ میرا رب اللہ ہے جب کہ اس کے لئے وہ اپنے ساتھ محکم اور واضح دلیلیں تمہارے پر ور دگار کی طرف سے لایا ہے۔ “

“وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰی قَالَ ٰیقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَ” ( سورة یٰسین آیت۲۰)

“مومن شخص دور سے آیا اور کہا کہ اے میری قوم کے لوگوں خدا کے بھیجے ہوئے افراد کی پیروی کرو”۔

ان تمام آیات سے جو کہ اوپر بیان کی گئیں یہ بات واضح طور سے سامنے آجاتی ہے کہ اسلام کی نظر میں یہ دو فریضے اہمیت کے حامل ہیں اور تمام افراد، چاہے وہ انبیاء ہوں، چاہے صالح حکمران ہو ں ، چاہے مومنین کے گروہ اور چاہے تنہا ایک شخص ہی کیوں نہ ہو سب کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس فریضہ کو ترک نہ کریں اور کسی بھی لمحہ بے تو جہی کا اظہار نہ کریں ۔

آخر میں رسول گرامی(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی ایک حدیث نقل کر تا چلوں آپ فرماتے ہیں:

“خدا کسی امت کے تمام افراد کو ایک خاص گروہ کے گناہوں کی وجہ سے عذاب میں مبتلا نہیں کر تا مگر اس وقت جب تک لوگ اپنے درمیان منکرات کو دیکھیں اور نہی عن المنکر پر قدرت رکھتے ہوں مگر نہی عن المنکر نہ کریں تو خدا وند عام و خاص تمام لوگوں پر عذاب نازل کر تا ہے”۔ (تفسیر المنار ، جلد ۹، صفحہ ۶۳۸)

یہاں پر یہ کہنا ضروری ہے کہ عذاب سے مراد فقط دنیا کا عذاب یا آخرت کا عذاب نہیں ہے بلکہ اجتماعی، سیاسی ، اخلاقی اور اقتصادی عذاب بھی اس میں شامل ہیں

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.