امتوں کی بیداری کا نقطہ آغاز

0 0

میں اس گفتگوکا آغازرہبر کبیر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی  کے ایک اہم پیغام سے کرتا ہوں جس میں وہ فرماتے ہیں :”آج حق و باطل ،فقر وغنا ،استضعاف واستکبار اور پابرہنہ ودولت کے نشے میں مست بے درد لوگوں کے درمیان جنگ شروع ہو چکی ہے ۔میں دنیا میں ان لوگوں کے ہاتھ چومتا ہوں کہ جو اپنے کندھوں پر مبارزے کا بوجھ اٹھائے ،جہاد در راہ خدا اور عزت مسلمین کی سر بلندی کا عزم کئے ہوئے ہیں اور ان غنچوں پر درود وسلام پیش کرتا ہوں کہ جو آزادی اور کمال خواہاں ہیں ۔”

”آج ہم مستضعفین اور مظلومین جہان کے اندر انقلاب اسلامی کے صدور کو ملاحطہ کر رہے ہیں ان کی طرف سے مستکبرین اور ظالمین کے خلاف جو تحریکیں شروع ہوئی ہیں اور وسعت اختیار کر رہی ہیں یہ سب ایک روشن مستقبل کی نوید ہے اور الٰہی وعدہ (طلوع آفتاب ولایت)کے نزدیک سے نزدیک تر ہونے کی خوشخبری ہے۔”

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت العظمیٰ امام خامنہ ای دامت برکاتہ نے گزشتہ سال اپنے حج کے پیغام میں فرمایا:”آج کی دنیا میں اسلامی بیداری  میں فروغ ایسی حقیقیت ہے جو امت اسلامی کو روشن مستقبل کی نوید دیتی ہے ۔”

جب امتیں بیدار ہوجاتی ہیں تو دنیا کی کوئی بھی طاقت ان کو روک نہیں سکتی ہے حال حاضر میں ہم مشاہدہ کررہے ہیں کہ جہان عرب میں ایک عظیم انقلاب برپا ہورہا ہے ۔لوگ بلا خوف وہراس کے اپنے حقوق کا مطالبہ کررہے ہیں،قربانیوں پر قربانیاں دے رہے ہیں ۔ان تما م حالات کے پیچھے کون سے علل واسباب کار فرماہیں ۔ان ہی علل واسباب کو جاننے کے لئے ہم یہاں پر ایک تحلیلی جائزہ لیتے ہیں ۔

مزید  ہمارے شیعہ نماز کے اوقات کے پابند ہیں

پہلی علت ۔ عصر بیداری

میری نظر میں سب سے پہلی علت جو ان حالات کے پیچھے ہے وہ یہ ہے کہ امتوں میں بیداری آگئی ہے یعنی امتوں میں اجتماعی فکر و شعورپیدا ہوا ہے لہٰذا عصر حاضر کو ،عصر ٹیکنالوجی ،عصر ارتباطات اور عصر پیشرفت کے بجاے سب سے بہترین نام جو حقیقتاً اس عصر کے لئے موزون ومناسب ہے وہ ”عصر بیداری”ہے ۔ کیونکہ امتوں کو اپنی ہویت و تشخص کاصحیح اندازہ ہوگیا ہے ۔ امتوں کو اپنی کرامت وشرافت کا اندازہ ہوگیا ہے ۔ امتوں کو اپنے خائن ڈکٹیٹروں کی خیانتوں کا علم ہوگیا ہے ۔لہٰذا اس بیداری کے نتیجہ میں ایک عظیم انقلاب جہان عرب میں وجود میں آیا ہے ۔

دوسری علت ۔ اسلام ناب کی تلاش

اسلامی ممالک (مصر ،تیونس ،لیبیا ،بحرین ،یمن ، مراکش،اردن)میں انقلابی تحریکوں کے علل واسباب کا اگر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ ان انقلابی تحریکوں کی ایک علت یہ ہے کہ لوگ اسلام ناب کی تلاش میں ہے ،ایسے اسلام کی تلاش میں ہے جو انسان کی حقیقی حیات کا ضامن ہے ،ایسے اسلام کی تلاش میں ہے جو مظلوموں ،مستضعفوں کا حامی ہے ۔ ایسے اسلام کی تلاش میں ہیں جس میں تمام گروہ آسائش و آسودگی کے ساتھ زندگی بسر کریں ۔ایسے اسلام کی تلاش میں ہیں جو استقلال و آزادی کی حفاظت کرے ۔ایسے اسلام کی تلاش میں ہیں جو کمزور طبقات کو عزت بخشے ۔ ایسے اسلام کی تلاش میں ہیں جو معاشرے میں عدالت برپا کر سکے ۔امتیں خشک اسلام ، سلطنتی وبادشاہی اسلام ، سوشلسٹ اسلام ،غیر سیاسی اسلام ،خانقاہی اسلام ،سرمایہ دارانہ اور لبرل اسلام سے تنگ آچکی ہیں۔

مزید  عصمت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا

تیسری علت ۔ عصر خمینیکی پیروی

حضرت امام خمینی  نے جس عصر کا آغاز کیا تھا اس کی کچھ خصوصیات ہیں ان خصوصیات میںسے ایک خصوصیت یہ ہے کہ امتوں میں خو د اعتمادی پیدا ہوجاتی ہے اس خود اعتمادی کے نتیجہ میں امتیں طاغوتوں کے خلاف قیام کرتی ہیں،اور اس اجتماعی قیام کے نتیجہ میں طاغوتوں کے نظاموں کا خاتمہ ہوجاتا ہے ۔اس کی مثال ہم حال حاضر میں مصر اور تیونس میں مشاہدہ کر رہے ہیں ۔لہٰذا جہان عرب میں انقلابی تحریکوں کے قیام کی ایک علت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ انہوں نے عصر خمینی کو اپنا اسوہ عمل قرار دیا ہے۔ جس کے نتیجہ میں یہ تحریکیں روز بروز کامیاب تر ہو تی جارہی ہیں ۔کیونکہ عصر خمینی میں ڈکٹیٹروں کو نابود ہی ہونا پڑتاہے ۔

چوتھی علت ۔  استعمار کی غلامی

ایک اور علت جو امتوں کے قیام کی ہوسکتی ہے وہ یہ ہے کہ امتوں نے دیکھا ہے کہ ہمارے خائن ڈکٹیٹر استعمار و استکبار کے غلام و آکار ہیں ان کے اشاروں پر وہ حکومت کررہے ہیں ،ملک کی سالمیت وسیاست کے ساتھ سودا کر رہے ہیں ،لوگوں کے جان ومال سے سیاسی کھیل کھیل رہے ہیں ۔ لوگوں کی کرامت و شرافت کی تحقیر و تذلیل کررہے ہیں ۔۔۔تہ تمام چیزیں سبب بنیں کہ امتوں نے اپنے خائن ڈکٹیٹروں کی نابودی کے لئے قیام کیا ۔

ُپانچویں علت ۔دینی مقدسات کی تحقیقر

امتوں کے قیام کی ایک علت یہ بھی ہے کہ ان خائن ڈکٹیٹروں نے اپنے ملک میں دینی مقدسات کی انجام دہی پر پابندی لگائی تھی ۔لوگوں کو مسجد میں نماز پڑھنے نہیں دیتے تھے ۔نماز جمعہ پڑھنے کی اصلا ًاجازت نہیں تھی ۔خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سزا بھگتنا پڑتا تھا ۔لہٰذا مقدسات کے ساتھ اس قسم کی تحقیر لوگوں نے برداشت نہیں کی ۔جس کے نتیجے میں قیام وجود میں آیا ۔

مزید  جدید تہذیب میں عورت کی حیثیت ۔۔ ایک جائزہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.