امانت اور حقیقتِ توحید

0 0

قرآن میں بکثرت ایسی آیتیں مذکور ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اطاعت، ولایت، حکم و فیصلہ اور بادشاہت صرف اللہ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے نہ تو حکومت میں اس کا کوئی شریک ہے اور نہ ہی حکم و فیصلہ میں۔جس طرح ہمارے لئے یہ مناسب نہیں کہ ہم خدا کی عبادت میں کسی اور کو شریک ٹھہرائیں کہ اس کی عبادت کے ساتھ دوسرے کی پرستش کریں اسی طرح اطاعت 

میں بھی ہمارے لئے یہ قطعاً درست نہیں کہ ہم اللہ کی اطاعت میں اس کے غیر کو بھی شامل کریں۔ اطاعت صرف اللہ کیلئے ہے اس بات کے پیش نظر ضروری ہے کہ اللہ اپنے مخلوق میں سے کسی کو امام متعین کرے تاکہ امام کی اطاعت اللہ کی اطاعت کے قائم مقام ہو۔ گویا متعین طور پر اس کی جانب سے ایسا امام ہو کہ اللہ تعالیٰ جس کی اطاعت کا حکم دے تاکہ امام کی اطاعت کے ذریعے اطاعت خداوندی میں توحید ثابت و ظاہر ہوجائے اور امام کی یہ اطاعت اللہ کی اطاعت کے ہی ہم معنی ہوگی اور اللہ سبحانہ کی اطاعت و بندگی میں وحدانیت کا حصول صرف اس امام کی اطاعت کے ذریعے ہی ممکن ہے جس کا تعیین و تقرر اللہ کی جانب سے ہوا ہو اور جو صرف اللہ کی مرضی و منشاء کے مطابق امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا کام انجام دے۔

متعدد آیات میں یہ بات مذکور ہے کہ طاعت و بندگی صرف اللہ کے لئے ہے اور حکومت و بادشاہت اور امر و ولایت اللہ کی ذات کے ساتھ ہی مختص ہے۔ جسے چاہتا ہے حکومت و بادشاہت کیلئے منتخب کرتا ہے ان میں سے بعض آیات کا تعلق عبادت سے ہے مثلا ً اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کی زبان سے کہلواتا ہے: 

(وَلَقَدْ َرْسَلْنَا نُوحًا ِلَی قَوْمِہِ فَقَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا اﷲَ مَا لَکُمْ مِنْ ِلَہٍ غَیْرُہُ َفَلاَتَتَّقُونَ) (١)

”اور ہم نوح کو اس قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیج چکے ہیں تو انہوں نے اپنی قوم سے کہا لوگو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا سچا معبود نہیں کیا تم اس کے عذاب سے نہیں ڈرتے۔”

…………..

(١) سورہ مومنون،آیت ٢٣۔

(وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِی کُلِّامَّةٍ رَسُولاً اَنْ اُعْبُدُوا اﷲَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ) (١)

”اور ہم نے ہر قوم میں ایک پیغمبر (یہ کہہ کر) بھیج چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے اور طاغوت سے بچے رہے۔” 

عبادت کے معنی اللہ کی تابعداری اور اس کی مکمل اطاعت و بندگی کے ہیں۔ ظاہری سطح پر محض رسم و رواج کا نام نہیں ہے۔ بعض آیتیں امر و حکم سے متعلق ہیں جیساکہ اللہ کا ارشاد ہے:

(َلاَ لَہُ الْخَلْقُ وَالَْمْرُ تَبَارَکَ اﷲُ رَبُّ الْعَالَمِینَ) (٢)

”سن لو! اسی نے سب کچھ بنایا اسی کی حکومت ہے اللہ تعالیٰ کی بڑی برکت ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔” 

اس آیت کے ذریعے یہ بات واضح کردی گئی کہ خلق و امر کا کام اللہ کی ذات کے ساتھ خاص ہے۔ اسی طرح اس کے غیر کو صرف اس بادشاہت و حکومت کا اختیار ہوگا جو اللہ نے اسے عطا کیا ہو کیوں کہ تمام تر اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔

اسی طرح قرآن کی بعض آیات خدا کی حاکمیت (حکم)کو واضح کرتی ہے (َلاَلَہُ الْحُکْمُ) (٣)

”اسی کا حکم چلتا ہے۔” (ِنْ الْحُکْمُا ِلاَّ لِلَّہِ) (٤)

”اللہ کے سوا کسی کو اختیار نہیں۔” 

…………..

(١) سورہ نحل ،آیت٣٦۔

(٢) سورہ اعراف ،آیت٥٤۔

(٣) سورہ انعام ،آیت٦٢۔

(٤) سورہ انعام ،آیت٥٧۔

(وَلاَ یُشْرِکُ فِی حُکْمِہِ َحَدًا) (١)

”اور وہ اپنے فرمان میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔” 

اور بعض آیتوں کا تعلق بادشاہت سے ہے: 

(قُلْ َعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ں مَلِکِ النَّاسِ) (٢)

”( اے پیغمبر ) کہو میں پناہ میں آیا لوگوںکے ربّ کی ،لوگوں کے بادشاہ کی۔” 

…………..

(١) سورہ کہف،آیت٢٦۔

(٢) سورہ الناس،آیت١،٢۔

مذکورہ بالا حوالوں اور تشریحات قرآنی سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ اللہ ہی بادشاہ امر و نہی کا سزاوار، حاکم مطلق ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ حکومت و قیادت اور امر و نہی کے کام کو بالذات اور بلا واسطہ انجام دیتا ہے اس لئے کہ وہ بشریت سے منزہ ہے اور وہ کوئی مرئی جسم نہیں رکھتا۔

مزید  ہیومنزم یا عقیدہ ٔانسان

بلکہ یہ ضروری ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ لوگوں کے مابین انہی کے مثل انسان کے ذریعہ قیادت و حکومت کے کام کو عمل میںلائے کہ حاکم و محکوم میں سے ہر ایک دوسرے کو دیکھ رہا ہو۔ خوردونوش اور دیگر بشری ضروریات میں وہ عام لوگوں کے ہم مثل ہو۔

نیز یہ بھی ضروری ہے کہ وہ ایسی مخصوص صفات کا حامل ہو جس کی بنیاد پر وہ اس بات کا اہل ہوسکے کہ وہ لوگوں کے سامنے احکام الٰہی کی توضیح کرے۔ اطاعت و بندگی کی دعوت دے اور ان امور کی طرف ان کی رہنمائی کرے جو اللہ کی رضا اور خوشنودی کا باعث ہوں۔

اسی طرح اس ربانی انسان کی اطاعت جس کے پاس من جانب اللہ ایسے دلائل و براہین موجود ہوں جو اس کو امامت و قیادت کے منصب سے سرفراز کئے جانے پر دلالت کرتے ہوں اللہ کی اطاعت، حاکمیت میں اس طرح کی تابعداری اللہ کی تابعداری ہوگی۔

مذکورہ بالا باتوں سے یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ حکومت الٰہیہ سے مراد یہ نہیں ہے کہ براہ راست حکم الٰہی کا نفاذ ہوجائے بلکہ اس کا مطلب و مقصود یہ ہے کہ حکم الٰہی کا نفاذ اللہ کے نمائندوں اور ان افرا دکے ذریعے جنہیں اللہ نے حکم و فیصلہ کی اجازت دی ہے ، عمل میں آئے، نیابتی اقتدار یا حکومت کا معاملہ صرف ربانی حکومتوں کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ انسانی حکومتیں بھی اسی انداز پر چلتی ہیں۔

مثال کے طو رپر جب ہم یہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص اس ملک کا قائد اور حاکم ہے تو اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں ہوتا ہے کہ اس ملک کا حاکم اور قائد قیادت اور حکومت کے تمام امور کو بذات خود انجام دیتا ہے بلکہ اس کے لئے معاونین ،نمائندگان ممبران اور ایک ایسے نظام کی ضرورت پڑتی ہے جس کے تحت اس کے فرمان جاری و نافذ ہوسکیں اور رعایا کی انجام دہی ممکن ہو۔

چنانچہ جب لوگ یہ کہتے ہیں کہ فلاں آدمی ہمارا قائد ہے ،اس کا مطلب قطعاً یہ نہیں ہوتا کہ ان میں سے ہر فرد کا تعلق اس قائد سے براہ راست ہے بلکہ حقیقت میں قائد اپنی طرف سے کچھ ایسے نمائندہ افراد کا تقرر کرتاہے جو اس کی نیابت میں ملکی امور کو انجام دیتے ہیں اور ان کا حکم قائد کے مانند ہی ہوتا ہے۔اور اس نمائندے کی اطاعت قائد اعلیٰ کی اطاعت کے قائم مقام ہوتی ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے:

(قُلْ اللّٰھُمَّ مَالِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ منْ تَشَائُ وَتاَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمنْ تَشَائُ) (١)

” آپ فرما دیجئے کہ اللہ ہی بادشاہت و ملک کا مالک ہے جسے چاہتاہے بادشاہت عطا کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ملک و بادشاہت چھین لیتا ہے۔”

…………..

(١) سورہ آل عمران ،آیت ٢٦۔

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ تو ہی حکومت و اقتدار عطا کرتا ہے اور تو ہی اس اقتدار و حکومت کو چھین لیتا ہے ۔تیرے علاوہ کسی کو بھی یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ حکومت و اقتدار عطا کرے اور چھین لے۔اور تو ہی جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ذلت۔ ہر قسم کی خیر و بھلائی تیرے ہی قبضۂ قدرت میں ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے۔ 

سورئہ بقرہ میں طالوت کے واقعہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

(وَ قَالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْ ا انَّ اﷲَ قَدْ بَعَثَ لَکُمْ طَالُوتَ مَلِکًا قَالُوا َنَّی یَکُونُ لَہُ الْمُلْکُ عَلَیْنَا وَنَحْنُ َاحَقُّ بِالْمُلْکِ مِنْہُ وَلَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِنْ الْمَالِ قَالَ ا انَّ اﷲَ اصْطَفَاہُ عَلَیْکُمْ وَ زَادَہُ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ وَ اﷲُ یُؤْتِی مُلْکَہُ منْ یَشَاء وَاﷲُ وَاسِع عَلِیم) (١)

”اور ان کے پیغمبر نے ان سے کہا اللہ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ بنایا ہے ۔وہ کہنے لگے طالوت ہمارا بادشاہ کیوں کر ہوسکتا ہے ۔طالوت سے تو ہم زیادہ حقدار ہیں بادشاہت کے ،اور اس کو مال و دولت کی فراغت بھی نہیں۔ پیغمبرۖ نے کہا اللہ نے تم پر(حکومت کرنے کیلئے)اس کو پسند کیا ہے اور(دوسری یہ کہ) اللہ نے اس کو علم اور جسم کی گنجائش (تم سے) زیادہ دی ہے اور (تیسرا یہ کہ) اللہ جس کوچاہتا ہے اپنی سلطنت دیتا ہے۔” 

مزید  تمام والدین کی آرزو

…………..

(١) سورہ بقرہ،آیت ٢٤٧۔

اس آیت کریمہ میں یہ تصریح موجود ہے کہ اقتدار و حکومت الٰہی صرف اللہ تعالی کی طرف سے ہوتا ہے ۔اس سلسلہ میں قرآن میں دوسری جگہ مذکور ہے ۔

(قَالَ ا انَّ اﷲَ اصْطَفَاہُ عَلَیْکُمْ وَزَادَہُ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ وَاﷲُ یُؤْتِی مُلْکَہُ منْ یَشَاء)

”پیغمبر نے کہا اﷲ نے تم پر (حکومت کرنے کیلئے)اس کو پسند کیا ہے اور اﷲ نے اس کو علم اور جسم کی گنجائش(تم سے) زیادہ دی ہے اور اﷲ جس کو چاہتا ہے اپنی سلطنت دیتا ہے۔”

اﷲ عزوجل ہی جسے چاہتا ہے اپنی بادشاہت و اقتدار کو نافذ کرنے کیلئے منتخب کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے اقتدار عطا کرتا ہے۔قرآن کہتا ہے:

(وَقُلْ الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًاوَلَمْ یَکُنْ لَہُ شَرِیک فِی الْمُلْکِ) (١)

”اور کہو سب تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جس نے اولاد نہیں رکھی اور نہ کوئی سلطنت میں سے اس کا کوئی ساجھی ہے۔”

…………..

(١) سورہ اسراء ،آیت ١١١۔

اگر کوئی شخص اﷲکے علاوہ کسی اور کیلئے اقتدار اور حکومت اور امرو نہی کا اختیار مانے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس نے اﷲ کی حکومت و قدرت میں اس کا ایک شریک ٹہرادیا اور یہ امر اﷲ کی اطاعت و بندگی میں شرک کی مانند ہے جس کو قرآن نے صراحتاً مسترد کر دیا ہے۔ہاں الٰہی سلطنت کے قیام کے لوگوں کی رائے و اختیار شامل ہونا چاہیے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ قیادت الٰہی کیلئے تعاون اور اس کے قیام کیلئے کوشش کرنا ہے تا کہ قیادت الٰہی معاشرے میں قیام عدل 

کر سکے۔پس الٰہی سلطنت اور انبیاء کی سلطنت کا مصدر صرف اور صرف ذات خداوندی ہے پس ملک و حکومت صرف اﷲ کیلئے سزاوار ہے اور جس کو چاہے منتخب کرتا ہے۔

کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ حاکم کا تقرر و تعین تو اﷲ کی طرف سے ہوتا ہے مگر لوگ اس کی اطاعت نہیں کرتے اور نہ ہی مدد اور نہ ہی اس کی قیادت و امامت کو تسلیم کرتے ہیں لیکن لوگوں کے اس کی اطاعت و نفرت اور اس کی قیادت کو تسلیم نہ کرنے سے قانون حق و جواز سلب نہیں ہوتا ہے جسے اﷲ نے اسے لوگوں کے امور کے نفاذ کیلئے اس کا تقرر و تعین کر کے دیا ہے،بلکہ وہی حاکم قانونی و شرعی ہے اور امام حق ہے اگر چہ لوگوں کے اس کے مخالف ہونے اور ان کے اس کا تعاون نہ کرنے کی وجہ سے اسے اقتدار حکومت کے اختیار کے استعمال کا موقع عملی طور پر حاصل نہ ہوا ہے۔

حکومت کو قدرت و طاقت بخشنے کیلئے عوامی رائے ضروری ہے لیکن لوگوںکی آراء پر قیام حکومت کا دارو مدار نہیں یعنی حاکم یا قائد کی قیادت کے قانونی طور پر جائز یا ناجائز ہونے میں عوامی رائے کا کوئی کردار نہیں ہوتا بلکہ حکومت و قیادت کے قیام و نفاذ میں اس کا رول ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک لوگ قائد کی قیادت کو تسلیم نہ کریں اس کے امر و حکم کی بجا آوری پر خود کو راضی نہ کریں، اور اپنے طور پراسے مطلوبہ مدد نہ پہنچائیں تو خواہ وہ قائد یا حاکم کتنا ہی اہل اور صالح مزاج و فکر کا کیوں نہ ہو وہ صحیح طور پر اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرسکتا۔

ربّانی نظریۂ امامت اور اس مادی نظریہ امامت میں بنیادی فرق یہی ہے۔جو اس کائنات میںکسی خدا کے وجود کو تسلیم نہیں کرتی۔چنانچہ ہم کہتے کہ حق اور عدل لوگوں کے اختیار اور پسندیدگی سے پہلے ہے(یعنی ایسا نہیں کہ عدل و انصاف اور حق کا وجود تب ہوگا جبکہ امام لوگوں کی رائے سے منتخب ہو) اور لوگوںکیلئے ضروری ہے۔جیسا کہ انسانی عقل و وجدان اور ضمیر کا تقاضا ہے کہ وہ اس قائد کو پسند کریں۔ہاں البتہ مادی نظریہ کے مطابق لوگوں کی طرف سے پسندیدگی کے بغیر امامت کے عدل و انصاف کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔اس مادی نظریے نے اخلاقیات اور اعلیٰ اقدار انسانی کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے۔اگر ہم اس بات سے انکار کریں کہ لوگوں کی عدم رضا کے باوجود جو امامت قائم ہوئی وہ حق پر ہے اورانسان کے مطابق ہے۔تو پھر اخلاقی اقدار کا وجود کہاں رہا؟ کہ جن کی لوگ پیروی کریں اور مصلحین اس کی لوگوں کو دعوت دیں۔پھر تو اخلاق کا اطلاق ان تمام چیزوںپر ہوگا جس کو لوگ اپنے طور پر پسند کرلیں۔خواہ وہ جیسی بھی ہوں ۔گویا اگر لوگ صالحین اور انبیاء کے قتل پر بعض مفسدین اور تکبر پسندوںکے بھڑکانے پر متفق ہوجائیں،جیسا کہ تاریخ کے مختلف دور میں ایسے واقعات بکثرت پیش آچکے ہیں تو انہیں اخلاقی طور پر مذموم نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ یہ سب کچھ لوگوںکی مرضی اور منشا سے ہوا ہے اور جو لوگوں کی مرضی اور ارادے سے ہو وہ صحیح اور قابل جواز ہے۔اگر اسے تسلیم کر لیا جائے پھر اہل اصلاح،اخلاق پسندوں اور ماہرین تعلیم و تربیت کی کوئی ضرورت نہیںرہ جائے گی اور اخلاق و اقدار کا انسانی معاشرے میں کوئی معنی نہیں رہ جاتا۔پھر تو انفرادی یا اجتماعی سطح پر جو کچھ بھی پیش آرہا ہے اس سے اہل اخلاق و اصلاح کو کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے۔

مزید  علامہ سید عارف حسین الحسینی شہید، اتحاد امت کے عظیم داعی

بہرحال انسانی عقل و وجدان کے مطابق،ایسے مسلّم انسانی اخلاق و اقدار کا پایا جانا ناگزیر ہے جو حق و عدل کا مظہر ہوں اور انسان کی اپنی خواہش اور چاہت پر موقوف نہ ہوں۔یہ اعلیٰ اخلاقی و انسانی اقدار ہی بذات خود قابل اعتبار و استناد ہیں اور خداوند قدوس ہی حکومت و قیادت کے قانونی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔مذکورہ بالا آیات اور آگے آنے والی آیات بطور دلیل اس بات کے اثبات کیلئے کافی ہیں۔

قرآن میں خدا ارشاد فرماتا ہے:

(وَقُلْ الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًاوَلَمْ یَکُنْ لَہُ شَرِیک فِی الْمُلْکِ) (١)

”اور کہو سب تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جس نے اولاد نہیں رکھی اور نہ کوئی سلطنت میں سے اس کا کوئی ساجھی ہے۔”

(فَتَعَالَی اﷲُ الْمَلِکُ الْاحَقُّ) (٢)

”تو اللہ کی شان بلند ہے جو سچا بادشاہ ہے (وہی مالک حقیقی ہے)۔” 

(لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ) (٣)

”اسی کی(سارے جہاں میں )بادشاہت اور اسی کو تعریف سجتی ہے۔”

(تَبَارَکَ الَّذِی بِیَدِہِ الْمُلْکُ) (٤)

” بڑی برکت والا ہے وہ (خدا) جس کے ہاتھ میں (سارے جہاں کی) بادشاہت ہے۔”

…………..

(١) سورہ اسراء ،آیت١١١۔

(٢) سورہ طہٰ ،آیت١١٤۔

(٣) سورہ تغابن ،آیت١۔

(٤) سورہ ملک ،آیت١۔

تمام بادشاہت و حکومت اللہ کے لئے ہے اور اللہ ہی کائنات کا مالک حقیقی اور بادشاہ ہے۔ اس بادشاہت سے مراد صرف آخرت کی بادشاہت یاحکومت ہی نہیں بلکہ اللہ کو دونوں جہانوں کی مطلق حاکمتی حاصل ہے۔ مذکورہ بالا آیات اور دیگر بہت سی آیتیں اللہ کی اس صفت پر دلالت کرتی ہیں۔

اللہ نے فرمایا :

(لَہُ الْحَمْدُ فِی الُْولَی وَالْآخِرَةِ وَلَہُ الْحُکْمُ) (١)

”دنیا اور آخرت میں اسی کو تعریف سجتی ہے اور دونوں جگہ اسی کی حکومت ہے۔”

(یُولِجُ اللَّیْلَ فِی النَّہَارِ وَیُولِجُ النَّہَارَ فِی اللَّیْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ کُلّ یَجْرِی لَِجَلٍ مُسَمًّی ذَلِکُمْ اﷲُ رَبُّکُمْ لَہُ الْمُلْکُ وَالَّذِینَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِہِ مَا یَمْلِکُونَ مِنْ قِطْمِیرٍ) (٢)

” وہ رات کو دن میں کرتا ہے اور دن کو رات میں۔ سورج اور چاند کو اس نے تمہارے لئے مسخر کردیا ہے ان میں سے ہر ایک کو ایک معین وقت تک اپنی حرکت جاری رکھنا ہے۔ یہ ہے تمہارا پروردگار اللہ ،حاکمیت اسی کیلئے ہے اور جنہیں تم اس کے علاوہ پکارتے ہو اور ان کی عبادت کرتے ہو وہ تو کھجور کی گٹھلی کے برابر بھی حاکمیت (اور مالکیت) نہیں رکھتے۔”

(وَاﷲُ یُؤْتِی مُلْکَہُ منْ یَشَاء وَاﷲُ وَاسِع عَلِیم) (٣)

” اور اللہ جسے چاہتا ہے اپنی بادشاہت عطا کرتا ہے اور سب کچھ جاننے والا ہے۔”

مذکورہ بالا قرآنی اور دیگر متعدد آیتوں کے ذریعے اطاعت میں اللہ کی توحید پر زور دیا گیا ہے۔ توحید خداوند کے مفہوم کے اندر اطاعت میں خدا کی توحید کے معنی شامل ہیں۔ عبادت و عقیدہ میں توحید اللہ کی اطاعت میں توحید کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔

…………..

(١) سورہ قصص ،آیت٧٠۔

(٢) سورہ فاطر ،آیت١٣۔

(٣) سورہ بقرہ ،آیت٢٤٧۔

تبصرے
Loading...