امام کا وجود ہر دور میں ضروری ہے

0 0

گذشتہ فصل ”امامت“ کا خلاصہ یہ ھے کہ امامت نام ھے رسالت کے مکمل کرنے والے جز کا، جیسا کہ نصوص اور عقل انسانی بھی دلالت کرتی ھےں، اور جو دلیل نبوت کے لئے قائم کی جاتی ھے اسی دلیل کے تحت امامت کی بھی ضرورت کو ثابت کیا جاسکتا ھے، کیونکہ بغیر امامت کے نبوت کا وجود مکمل نھیں هوتاھے اور اگر نبوت کو ناقص تصور کرلیں تو یہ بات حقیقت اسلام سے منافی ھے کیونکہ اسلام تو یہ کہتا ھے کہ قیامت تک نبوت ورسالت کا هوناضروری ھے۔

لہٰذا نبوت زندگی کا آغاز ھے او رامامت اس زندگی کا دوام او رباقی رہنا ھے، اور اگر ھم نبوت کوامامت کے بغیر تصور کریں تو پھر ھمیں یہ کہنے کا حق ھے کہ رسالت ایک محدود سلسلہ ھے جو رسول کے بعد اپنی حیات کو باقی نھیں رکھ سکتایعنی اپنے اغراض ومقاصد میں اپنی وصی کے بغیر پایہ تکمیل تک نھیں پهونچاسکتی۔

جبکہ حقیقت تو یہ ھے کہ اگر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکی وصیت روایات کے ذریعہ بھی ثابت نہ هو تو ھماری عقل اس بات کا فیصلہ کرتی ھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکو اس طرح کی وصیت کرنی چاہئے، کیونکہ ھمارے سامنے جب کوئی شخص اس دنیا سے جاتا ھے تو اپنے تھوڑے سے مال کے لئے بھی وصیت کرتا ھے اور کسی ایک شخص کو اپنا وصی بناتا ھے تاکہ اس کی اولاد اور مال ودولت پر نظر رکھے، تو کیا وہ رسول جوسردار انبیاء هو اور اتنی عظیم میراث (نوع بشریت کے لئے اسلام) چھوڑے جارھا ھے، اس میراث پر کسی کو وصی نہ بناکرجائے گا؟!!

لہٰذا رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے وقت ِوفات کے حالات کے پیش نظر یہ بات ثابت هوجاتی ھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے وصی بنایا اور آپ نے اپنی امت کو شک وشبھات کی وادی میں بے یارو مددگار نھیں چھوڑا۔

اسی طرح یہ بات بھی مزید روشن هوجاتی ھے کہ شیعہ امامیہ نے انتخاب کے مسئلہ میں مخالفت احساسات کی بنا پر نھیں کی، یا کسی سیاسی پھلو کو مد نظر رکھا هو، بلکہ انھوں نے تو روایات اور دیگر نصوص میں وہ چیزیں پائی ھیں جن میں صحیح زندگی کی ضمانت ھے چنانچہ ھم لوگ تو اس مسئلہ میں اس تائید کا دفاع کرتے ھیں اور وہ بھی اسلام واخلاص کی حقیقت کے پیش نظرتاکہ کسی مقصد تک پهونچ جائیں۔

حضرت علی علیہ السلام سب سے پھلے امام ھیں اور ان تمام ائمہ (ع)کے بارے میں متواتر احادیث نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمموجود ھیں جن میں کبھی تو وضاحت کے ساتھ او رکبھی اشاروں میں ائمہ (ع)کی امامت کے بارے میں بیان کیا گیا ھے، (جیسا کہ ھم پھلے بیان کرچکے ھیں) اور یہ تمام روایات اپنے انداز بیان کے اختلاف کے ساتھ ایک ھی چیز کی طرف اشارہ کرتی ھیں اور وہ یہ کہ یہ حضرات رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے بعد امام اور خلیفہ ھیں۔

دوسرے امام : حضرت حسن بن علی (علیہ السلام )

تیسرے امام : حضرت حسین بن علی( علیہ السلام )

چوتھے امام : حضرت علی بن الحسین ، (امام سجاد علیہ السلام )

پانچویں امام : حضرت محمد بن علی (امام باقر علیہ السلام )

چھٹے امام : حضرت جعفر بن محمد الصادق (علیہ السلام )

ساتویں امام: حضرت موسیٰ بن جعفر الکاظم (علیہ السلام ) 

آٹھویں امام : حضرت علی بن موسیٰ الرضا (علیہ السلام ) 

نویں امام: حضرت محمد بن علی ،تقی (علیہ السلام )

دسویں امام : حضرت علی بن محمد نقی (علیہ السلام )

گیارهویں امام: حضرت حسن بن علی عسکری (علیہ السلام )

بارهویں امام : حضرت محمد بن حسن المہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف)[1]

اوربارهویں امام لوگوں کی نظروں سے غائب ھیں اور جب حکم خدا هوگا تو آپ ظهور فرمائیں گے” اور ظلم وجور سے بھری دنیا کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے۔“ [2]

لیکن امام مہدی کے سلسلہ میں بہت سے لوگوں نے عجیب وغریب اور بے جا اعتراضات کئے ھیں اور آپ کی” غیبت“کے بارے میں بہت زیادہ بے هودہ گفتگو کی ھے جس کی بنا پر سیاہ بادلوں نے حقیقت پر پردہ ڈال دیا اور انسان صحیح طریقہ پر حقیقت کی پہچان نہ کرسکا، جبکہ بعض مخلص موٴلفین نے اس سلسلہ میں غور وخوض سے کام نھیں لیا اس خوف سے کہ یہ سلسلہ بہت مشکل ھے ، جبکہ مخالفین اور منکرین اس سلسلہ میں بہت زیادہ مذاق اڑانے کی غرض سے خوش هوتے ھیں کہ ھم نے اس موضوع کو نابود کردیا اور جس کو یہ لوگ بہت بڑا اسلحہ سمجھتے ھیں، کیونکہ ان کا خیال خام یہ ھے کہ ھماری یہ باتیں 

نھایت استدلال اور منطق پر استوار ھیں جن کی کوئی ردّ نھیں کرسکتا۔

اسی طرح بعض لوگوں نے ”مہدی ومہدویت“ کے بارے میں علمی استدلالات سے بحث نھیں کی ھے اور نہ ھی خاص موضوع کو واضح کیا ھے چنانچہ ایسے خیالات کے قائل هوگئے ھیں کہ عقل ومنطق سے دور ھیں۔

قارئین کرام ! اس کتاب میں ھماری روش اسی موضوع کے تحت هوگی تاکہ ھم بھی ان اشکالات سے دور رھیں جن میں دوسرے لوگ گرفتار هوئے ھیں۔

لہٰذا ھم اس کتاب میں اپنے طریقہ کی بنا پر احادیث کو تین حصوں میں تقسیم کریں گے :

۱۔ وہ احادیث جن میں نظریہ ”مہدویت“ کو بیان کیا گیا ھے اور وہ کس طرح اسلام سے ارتباط رکھتی ھیں۔

۲۔ وہ احادیث نبوی جن میں امام” مہدی “کو معین کیاگیا ۔

۳۔ وہ احادیث جن میں امکان ”غیبت“ پر بحث کی گئی ھے اور غیبت پر دلالت کرتی ھیں۔

مزید  قرآني آيات کي سمجھ

چنانچہ ان تمام احادیث کی وضاحت کرنے کے کے بعد حقیقت واضح هوجائے گی، اور اس کووہ تمام ھی لوگ جو اپنی هویٰ وهوس اور خود غرضی کے خواھاں نہ هوں؛آسانی سے سمجھ سکتے ھیں۔

اگر ھم تاریخ پر ایک سرسری نظر ڈالیں( خصوصاً اگر تاریخ ادیان کو ملاحظہ کریں)تو ھمیں معلوم هوجائے گا کہ ”مہدویت “ کا عقیدہ صرف اور صرف شیعہ حضرات سے ھی مخصوص نھیں ھے اور نہ ھی ان کی ایجاد ھے (جیسا کہ بعض مولفین نے کھا ھے کہ مہدویت کا عقیدہ صرف شیعوں کی ایجاد ھے) بلکہ ھم تو یہ بھی کہہ سکتے ھیں کہ یہ عقیدہ مسلمانوں سے بھی مخصوص نھیں ھے بلکہ دوسرے آسمانی ادیان بھی اس عقیدہ میں شریک ھیں۔

کیونکہ یهود ونصاریٰ بھی ایک ایسے مصلح منتظر کا عقیدہ رکھتے ھیں جو آخرالزمان میں آئے گا جس کا نام ”ایلیا“ هوگا (یہ تھا یهودیوں کا نظریہ) جبکہ عیسائیوں کے نزدیک وہ مصلح منتظر حضرت عیسیٰ بن مریم هونگے۔

اسی طرح دیگر مسلمان بھی اپنے مذھبی اختلاف کے باوجود اسی چیز کا اقرار کرتے ھیں جبکہ شیعہ امامی اور کیسانیہ اور اسماعیلیہ ”امام مہدی“ کا عقیدہ رکھتے ھیں اور اس کو ضروریات مذھب سے شمار کرتے ھیں، اسی طرح اھل سنت حضرات اپنے ائمہ اور علماء حدیث کے بارے میں عقیدہ رکھتے ھیں،جن میں سے بعض لوگوں نے مہدویت کا دعویٰ بھی کیا ھے جیسا کہ مغرب ، لیبی اور سوڈان میں اس طرح کے واقعات رونما هوئے ھیں کہ اھل سنت کے بعض بڑے بڑے علماء نے اپنے کو ”مہدی مصلح“ کھلوایا۔

نیز اسی طرح کا عقیدہ تینوں آسمانی ادیان میں ملتا ھے۔

اسی طرح یہ عقیدہ شیعہ حضرات میں، دوسرے مسلمان بھائیوں کی طرح پایا جاتا ھے اور امام مہدی کے بارے میں ان کا وھی عقیدہ ھے جس کو ڈاکٹر احمد امین صاحب نے اھل سنت کے نظریہ کو بیان کیا ھے کہ:

”اس وقت تک قیامت نھیں آئے گی جب تک آخرالزمان میں اھل بیت (ع) سے ایک شخص ظاھر نہ هوجائے جو دین کی نصرت کرے گا اور عدل وانصاف کو عام کردے گا ،تمام مسلمان اس کی اتباع وپیروی کریں گے اور تمام اسلامی ممالک پر حکومت کرے گا جس کا نام ”مہدی“ هوگا۔[3]

شیعہ حضرات بھی وھی کہتے ھیں جو شیخ عبد العزیر بن باز رئیس جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کہتے ھیں، چنانچہ موصوف فرماتے ھیں:

”(حضرت ) مہدی کا مسئلہ معلوم ھے کیونکہ ان کے سلسلہ میں احادیث مستفیض بلکہ متواتر ھیں جو ایک دوسرے کی کمک کرتی هوئی اس بات پر دلالت کرتی ھیں کہ واقعاً مہدی موعود ھیں اور ان کا ظهورحق ھے“۔ [4]

قارئین کرام ! یھاںتک یہ بات واضح هوگئی کہ ”نظریہ مہدویت“ایک صحیح نظریہ ھے جیساکہ معاصر کاتب مصری عبد الحسیب طٰہ حمیدہ کہتے ھیں[5]

لیکن واقعاً تعجب خیز ھے کہ جناب عبد الحسیب صاحب اس بات کی طرف متوجہ نھیں هوئے کہ خود پھلے نظریہ مہدویت کوصحیح مان چکے ھیں کیونکہ ان کا بعد کا نظریہ پھلے نظریہ کے مخالف ھے جبکہ اس سے پھلے انھوں نے یہ بھی کہہ ڈالا تھا کہ ”مہدویت کا نظریہ ایک ایسا نظریہ ھے جو یهودیوں سے لیا گیا ھے اور جس کا اسلام سے کوئی سروکار نھیں ھے“[6]

کیونکہ موصوف اپنی اس عبارت سے صرف اور صرف شیعوں پر تھمت لگانا چاہتے ھیں کہ شیعوں کے عقائد یهودیوں سے لئے گئے ھیں،لیکن موصوف نے اپنے اس اعتراض سے تمام مسلمانوں پر تھمت لگائی ھے (جبکہ اس بات کی طرف متوجہ بھی نھیں ھیں) کیونکہ ان کی ان دونوں بات میں واضح طور پر ٹکراؤ ھے کیونکہ پھلے انھوں نے نظریہ مہدویت کو صحیح تسلیم کیا لیکن بعد میں اس کو یهودیوں کے عقائد میں سے کہہ ڈالا، چنانچہ آپ حضرات نے بھی اندازہ لگایا لیا هوگا کہ موصوف کا اتنی جلدی نظریات کا تبدیل کرنا ان کی بد نیتی اور تعصب پر دلالت کرتا ھے کیونکہ تاریخ کا مطالعہ کرنے والے حضرات پر یہ بات واضح ھے کہ عبد اللہ ابن سبا نامی شخص کا تاریخی وجود ھی نھیں بلکہ یہ صرف خیالی اور جعلی نام ھے اور صرف اس کے نام سے مختلف عقائد منسوب کردئے گئے ھےں جو سب کے نزدیک معلوم ھیں کہ یہ سب کچھ جعلی اور صرف افسانہ ھے، اور شاید یہ سب اس وجہ سے هو کہ صدر اسلام میں عبد اللہ بن سبا کا نام بہت زیادہ زبان زدہ خاص وعام تھا اور اس سے مراد رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے جلیل القدر صحابی جناب عمّار یاسر هوتے تھے جیسا کہ بعض مولفین نے اس چیز کی طرف اشارہ بھی کیا ھے۔[7]

خلاصہ بحث یہ هوا کہ ”نظریہ مہدویت“ شیعوں کی ایجاد کردہ نھیں ھے اور نہ ھی اس سلسلہ میں یهود وغیریهود کی اتباع کرتے ھیں بلکہ اس سلسلہ میں تینوں آسمانی ادیان (یهودی ،عیسائی اور اسلام) نے بشارت دی ھے ، اور اسلام نے اس سلسلہ میں عملی طور پر مزید تاکید کی ھے ، چنانچہ تمام مسلمانوں نے اس مسئلہ کو قبول کیا ھے اور اس بارے میں احادیثیں نقل کی ھیںاور ان پر یقین کامل رکھتے ھیں۔

لہٰذا ان تمام باتو ںکو ”شیعہ حضرات کی گمراھی اور بدعتیں“ کہنا ممکن نھیں ھے اور اس قول پر یقین کرنا ناممکن ھے ، بلکہ یہ ایک ایساصحیح عقیدہ ھے جو عقائد اسلام کی حقیقت اور احادیث رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اخذ شدہ ھے جس کا انسان انکار ھی نھیں کرسکتا۔

چنانچہ اس حقیقت کا خلاصہ عراقی سنی عالم جناب شیخ صفاء الدین آل شیخ نے یوں کیا ھے:

مزید  بائیسویں پارے کا مختصر جائزه

”حضرت امام مہدی منتظر کے بارے میں احادیث اس قدر زیادہ ھیں کہ انسان کو اطمینان حاصل هوجاتا ھے کہ” وہ آخر الزمان میں ظاھر هوں گے اور اسلام کو اس کی صحیح حالت پر پلٹادیں گے، اوردین و ایمان کی قوت اور رونق کو بھی پلٹادیں گے اسی طرح دین کی رونق کو بھی لوٹادیں گے“

چنانچہ اس طرح کی روایت بغیر کسی شک وشبہ کے متواتر ھیں بلکہ ان سے کم بھی هوتیں تب بھی علم اصول کی اصطلاح کی بنا پر ان کومتواتر کہنا صحیح تھا ۔

قارئین کرام ! حضرت امام مہدی کے بارے میں صاف صاف روایات موجود ھےں اور ان کی تعداد بھی بہت زیادہ ھے کیونکہ علماء اھل سنت نے اس سلسلہ میں بہت سی روایات نقل کی ھیں جیسا کہ برزنجی صاحب نے ”الاشاعة لاشتراط الساعة“ میں ، جناب آلوسی صاحب نے اپنی تفسیر میں، ترمذی صاحب ، ابو داؤد، ابن ماجہ ، حاکم، ابویعلی ، طبرانی عبد الرازق، ابن حنبل، مسلم، ابونعیم ، ابن عساکر، بیہقی ، تاریخ بغداد ، دار قطنی ، ردیانی ونعیم بن حمادنے اپنی کتاب ”الفتن“ میں اور اسی طرح ابن ابی شیبہ، ابونعیم الکوفی، البزار، دیلمی، عبد الجبار الخولانی نے اپنی تاریخ میں، جوینی، ابن حبان، ابوعمرو الدانی نے اپنی سنن میںو۔۔۔

خلاصہ مذکورہ حضرات وغیرہ نے لکھا ھے کہ (امام مہدی) کے ظهور پر ایمان رکھنا ضروری ھے کیونکہ ان کے ظهور پر اعتقاد رکھنا حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی احادیث کی تصدیق کرنا ھے۔[8]

قارئین کرام ! اکثر علماء اسلام نے مہدویت کے بارے میں اقرار کیا ھے اور اس سلسلہ میں اخبار وراوایات کی تصحیح کی خاطر کتابیں تالیف کی ھیںتاکہ زمانہ پر حقیقت واضح هوجائے اور اس حقیقت کو لوگوں کے سامنے پیش کریں جس کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے پیش کیا ھے ، لہٰذا ھم مثال کے طور پر چند مولفین کے نام پیش کرتے ھیں ، اگرچہ مولفین کی تعداد اس سے کھیں زیادہ ھے جس کو ھم بیان کرتے ھیں:

۱۔ عباد بن یعقوب الرواجنی متوفی ۲۵۰ھ نے کتاب ”اخبار المہدی“ میں۔

۲۔ ابو نعیم اصفھانی متوفی ۴۳۰ھ نے کتاب ”اربعین حدیثا فی امر المہدی“[9] و کتاب ”مناقب المہدی“[10]و کتاب ”نعت المہدی“ میں۔

۳۔محمد بن یوسف کنجی شافعی متوفی ۶۵۸نے کتاب ”البیان فی اخبار صاحب الزمان“ میں۔

۴۔ یوسف بن یحیٰ سلمی شافعی متوفی ۶۸۵ھ نے کتاب ”عقد الدرر فی اخبار المہدی المنتظر“ میں ۔[11]

۵۔ ابن قیم جوزی متوفی ۷۵۱ھ نے کتاب ”المہدی“ میں۔

۶۔ ابن حجر ھیتمی شافعی متوفی ۸۵۲ھ نے کتاب ”القول المختصر فی علامات المہدی المنتظر“ میں[12]

۷۔ جلال الدین سیوطی متوفی ۹۱۱ھ نے کتاب ”العرف الوردی فی اخبار المہدی“ جو شایع شدہ بھی ھے اسی طرح دوسری کتاب ”علامات المہدی“ میںبھی۔

۸۔ ابن کمال پاشا حنفی متوفی ۹۴۰ھ نے کتاب ”تلخیص البیان فی علامات مہدی آخر الزمان“ میں[13]

۹۔ محمد بن طولون دمشقی متوفی ۹۵۳ھ نے کتاب ”المہدی الی ماورد فی المہدی“ میں۔[14]

۱۰۔علی بن حسام الدین متقی ہندی متوفی ۹۷۵ھ نے کتاب ”البرھان فی علامات مہدی آخر الزمان“ اورکتاب ”تلخیص البیان فی اخبار مہدی آخر الزمان“ میں۔[15]

۱۱۔ علی قاری حنفی متوفی ۱۰۱۴ھ نے کتاب ”الرد علی من حکم وقضی ان المہدی جاء ومضی“ وکتاب”المشرب الوردی فی اخبار المہدی“ میں ۔[16]

۱۲۔ مرعی بن یوسف الکرمی حنبلی متوفی ۱۰۳۱ھ نے کتاب ”فرائد فوائد الفکر فی الامام المہدی المنتظر“ میں[17]

۱۳۔ قاضی محمد بن علی شوکانی متوفی ۱۲۵۰ھ نے کتاب ”التوضیح فی تواتر ما جاء فی المہدی المنتظر والدجال والمسیح“ میں۔ [18]

۱۴۔ رشید الراشد التاذفی حلبی (معاصر) نے کتاب ”تنویر الرجال فی ظهور المہدی والدجال“ میں جو شایع شدہ بھی ھے۔

قارئین کرام ! یہ تھے چند اھل سنت مولف جنھوں نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں احادیث نقل کی اور کتابیں لکھیں ھیں۔

اسی طرح شعراء کرام نے بھی حضرت مہدی علیہ السلام کے بارے میں اپنے اپنے اشعار میں مہدی او رمہدویت کی طرف اشارہ کیا ھے چنانچہ انھوں نے اپنے اشعار وقصائد میں حضرت مہدی کی معرفت، ان کے ظهوراور ان کے وجود کی ضرورت کو بیان کیا ھے جن کی تعداد بھی بہت زیادہ ھے ، لہٰذا ھم یھاں پر چند شعراء کے ا شعار بطور مثال پیش کرتے ھیں:

۱۔ کمیت بن زید اسدی متوفی ۱۲۶ھ کہتے ھیں:

متیٰ یقوم الحق فیکم متیٰ یقوم مہدیکم الثانی[19]

کب ھمارے درمیان حق آئے گا اور کب ھمارا مہدی قیام کرے گا۔

۲۔ اسماعیل بن محمد حمیری متوفی ۱۷۳ھ کہتے ھیں:

باٴن ولیَّ الامر والقائم الذی تطلع نفسی نحوہ بتطرّبِ

لہ غیبة لابد من اٴن یغیبھا فصلی علیہ اللّٰہ من متغیب

فیمکث حیناً ثم یظھر حینہ فیملاٴ عدلا کل شرق ومغرب[20]

ولی امر قائم منتظر کے لئے میرا دل خوشحالی سے انتظار کرتا ھے۔

ان کے لئے غیبت ضروری ھے پس اس غائب پر خدا کا درود وسلام هو۔

وہ پردہ غیب سے ظاھر هونگے تو مشرق ومغرب (پوری دینا)کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے۔

۳۔ دعبل خزاعی متوفی ۲۴۶ھ کہتے ھیں:

خروج امامٍ لا محالة خارج یقوم علی اسم اللّٰہ والبرکاتِ

یمیز فینا کل حق وباطل ویجزی علی النعماء والنقمات[21]

امام کا ظهور (ایک روز) حتمی اور ضروری ھے اور آپ خدا کے نام او راس کی برکتوں کے ساتھ ظهور کریں گے۔

اور آپ کے ظهور کے وقت حق وباطل الگ الگ هوجائے گا اور نعمت ونقمت کے لحاظ سے جزا دیں گے۔

۴۔ مھیار دیلمی متوفی ۴۲۸ھ کہتے ھیں:

عسیٰ الدھر یشفی غداً من عداک قلبَ مغیظٍ بھم مکمدِ

عسیٰ سطوة الحق تعلو المحال عسیٰ یُغلب النقص بالسودد

مزید  زہراء(س) کیا کرے!

بسمعی لقائمکم دعوة یلبی لھا کل مستنجد [22]

ھم اس دن کے منتظر ھیں کہ جب آپ کے دشمن ھلاک هونگے اور ھم خوشحال۔

عنقریب وہ دن آنے والا ھے جب حق باطل پر اور کمزور متکبروں پر غلبہ حاصل کریں گے۔

اور جب ھمارے کانوں میں حضرت قائم(ع) کی آواز آئے گی تو ھم سب ان کی آواز پر لبیک کھیں گے۔

۵۔ ابن منیر طرابلسی متوفی ۵۴۸ھ مخالف کا مسخرہ کرتے هوئے کہتے ھیں:

والیتُ آل امیة ة الطھر المیامین الغرر

واکذّب الراوی واٴطعن ن فی ظهور المنتظر[23]

میں آل امیہ کو دوست رکھتا هوں جن کے صفات عالی ھیں!!

اور میں اس راوی کی تکذیب کرتا هوں جو ظهور مہدی کے انتظارمیں کہتا ھے!!

۶۔ محمد بن طلحہ شافعی متوفی ۶۵۲ھ کہتے ھیں :

وقد قال رسول اللّٰہ قولا قد رویناہ 

وقد ابداہ بالنسبة والوصف و سمّاہ 

یکفی قولہ ”منّی“ لاشراق محیاہُ

ومن بضعتہ الزھراء مرساہ ومسراہ

فمن قالوا هو المہدی ما مانوابما فاهوا[24]

بلا شبہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے (امام مہدی کے بارے میںارشاد فرمایا جس کو ھم نے بیان کیا۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے آپ کی نسبت، اوصاف اور نام بھی بیان کیا ھے۔

آپ کی شان میں لفظ ”مِنِّی“ کہنا ھی آپ کی عظمت پر دلالت کرتا ھے۔ حضرت زھرا (ع)آپ کا ایک جزء ھیں جن سے آپ باھر جاتے وقت اور واپس آتے وقت (سب سے پھلے) ملاقات کیا کرتے تھے۔ جو افراد حضرت مہدی کے بارے میں کہتے ھیں وہ کوئی نئی چیز پیش نھیں کرتے (بلکہ یہ حقیقت تو پھلے سے معلوم شدہ ھے)

۷۔ ابن ابی الحدید معتزلی متوفی ۶۵۶ھ کہتے ھیں:

ولقد علمتُ بانہ لا بد من مہدیکم ولیومہ اٴتوقعُ

یحمیہ من جند الالہ کتائب کالیم اٴقبل زاخراً یتدفعُ

فیھا لآل اٴبی الحدید صوارم مشهورة ورماحُ خط شرَّع[25]

مجھے امام مہدی پر یقین ھے اور ان کے ظهور کا انتظار ھے۔ لشکر خدا کے سپاھی امام زمانہ کی اس طرح حمایت کریں گے جس طرح دریا کی لھریں اٹھتی ھیں۔ 

اس وقت آل ابی الحدید تیر وتلوار کے ساتھ آپ کی حمایت میں جنگ کرے گی۔

۸۔ شمس الدین محمد بن طولون حنفی دمشقی متوفی ۹۵۳ھ ، موصوف ارجوزہ کے ضمن میں فرماتے ھیں جس کوبارہ اماموں کی شان میں کھا ھے: والعسکری الحسن المطھرُ محمد المہدی سوف یظھرُ[26]

امام حسن عسکری علیہ السلام کے بعد حضرت مہدی ظاھر هوں گے۔

۹۔ عبد اللہ بن علوی الحداد تریمی شافعی متوفی ۱۱۳۲ھ فرماتے ھیں:

محمد المہدی خلیفة ربنا امام المہدی بالقسط قامت ممالکہ

کاٴنی بہ بین المقام ورکنھا یبایعہ من کل حزب مبارکہ

حضرت امام مہدی ھمارے رب کے خلیفہ ھیں جن کی وجہ سے پوری دنیا عدل وانصاف سے بھر جائے گی۔ اور جب آپ رکن ومقام کے درمیان کھڑے هوں گے اس وقت ھر گروہ آپ کی بیعت کرتا هوا نظر آئے گا۔

ایک دوسرے مقام پر فرماتے ھیں:

ومنّا امام حان حین خروجہ یقوم باٴمر اللّٰہ خیر قیام

فیملوٴھا بالحق والعدل والہدی کما ملئت جوراً بظلم طغام [27]

ھمارے امام کے ظهور کا وقت نزدیک ھے جو خدا کے حکم سے بہترین قیام کرےں گے۔ چنانچہ آپ ظلم وجور سے بھری دنیا کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے۔

__________

[1] اسی کتاب کی فصل امامت پر رجوع فرمائیں۔

[2] اس حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکو جناب ابن حجر ھیتمی نے اپنی کتاب صواعق المحرقہ ص۹۹ میں بیان کیا ھے۔

[3] المہدی والمہدویہ ، تالیف ڈاکٹر احمد امین ص ۱۱۰۔

[4] مجلة الجامعة الاسلامیہ شمارہ ۳ص ۱۶۱تا۱۶۲۔

[5] ادب الشیعہ ص ۱۰۱، اور اسی بات کی تائید ڈاکٹر عبد الحلیم النجار کتاب ”المہدیة فی الاسلام“ کے مقدمہ میںکرتے هوئے کہتے ھیں: علماء حدیث نے حضرت مہدی کے سلسلہ میں اس قدر روایت بیان کی ھیں جو کہ تواتر معنوی تک پہنچی هوئی ھےں۔

[6] ادب الشیعہ ص ۱۶۔

[7] وعاظ السلاطین ، ڈاکٹر علی الوردی۔ 

[8] مجله التربیه اسلامیه سال 14 شماره 7 ص 30.

[9] اس کتاب سے ابن صباغ مالکی نے فصول المھمہ ص ۲۷۵ میں روایت نقل کی ھے۔

[10] اس کتاب سے حافظ کنجی شافعی نے اپنی کتاب ”البیان“میں بہت سی روایات نقل کی ھیں۔ 

[11] اس کتاب کا نسخہ ”عہد مخطوطات عربیہ“ قاھرہ میں موجود ھے۔

[12] اس کتاب کی روایت ”اسعاف الراغبین“ ص ۱۳۹ میں پائی جاتی ھیں اور اس کتاب کے قلمی نسخے ”حلب“ اور ”استنالبول“ میں موجود ھیں ، نیز ھمارے پاس بھی اس کی ایک فوٹو کاپی موجود ھے جو کہ مولف کے سامنے قرائت شدہ نسخہ (موجود در ”حلب“ ) ؛کے مطابق ھے۔

[13] اس کتاب کا قلمی نسخہ استانبول (ترکیہ) میں موجود ھے۔

[14] اس کتاب کا ذکر خود مولف نے اپنی کتاب ”الائمہ الاثنی عشر“ ص ۱۱۸ میں کیا ھے۔

[15] ان دونوں کتابوں کے قلمی نسخے استانبول میں موجود ھیں، اور ھمارے پاس بھی کتاب برھان کی ایک فوٹو کاپی حرم مکی کتب خانہ سے اخذ شدہ موجودھے۔

[16] پھلی کتاب کا نسخہ ہندوستان میں اور دوسری کتاب کا نسخہ استانبول میں موجود ھے۔

[17] اس کتاب کا قلمی نسخہ استانبول میں موجود ھے۔

[18] مجلة الجامعة الاسلامیہ / شمارہ ۳/ ص ۱۳۱۔

[19] الغدیر ج۲ ص ۱۸۴۔ مطبوعہ نجف اشرف ۱۳۶۵ھ۔

[20] الغدیر ج۲ ص ۲۲۳۔

[21] دیوان دعبل ص ۴۲۔

[22] دیوان مھیار جلد اول ص ۳۰۰۔

[23] الغدیر ج۴ص ۲۷۹۔ 

[24] مطالب السوال ج۲ ص ۷۹۔

[25] شرح القصائد السبع العلویات ص ۷۰۔

[26] الائمہ الاثنی عشر ص ۱۱۸۔

[27] دیوان عبد اللہ بن علوی المسمیٰ ”الدر المنظوم ص ۱۸و ۱۴۶۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.