امام زمانہ (عج) سےملاقات

0 0

امام زمانہ (عج) کے ساتھ حجہ الاسلام محمد تقی بافقی کی ملاقات ۔

حجۃ الاسلام جناب محمد تقی بافقی مرحوم جو کہ رضا شاہ سابق بادشاہ ایران کے زمانے میں مجاہد و مبارز عالم شمار ہوتے تھے اور ظالم بادشاہ ایران نے کئی دفعہ آپ کو قید میں ڈالا اور ملک بدر کیا۔
ان کے بھائی حجۃ الاسلام اسد اللہ بافقی مرحوم جو کہ اپنے زمانہ کے بہت بڑے عابد و زاہد اور عالم با عمل تھے اپنے بھائی کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ : میرے برادر محترم کئی دفعہ امام زمان عج اللہ فرجہ الشریف کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مجھے کیفیت ملاقات سے مطلع فرمایا اور وعدہ لیا کہ جب تک میں زندہ ہوں آپ یہ واقعات کسی کے لئے نقل نہ کریں چونکہ اب وہ زندہ نہیں ہیں لہذا میں اس مرحوم بزرگوار کے چند واقعات نقل کرتا ہوں:
برادر بزرگوار فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے قصد کیا کہ نجف اشرف سے امام رضا علیہ السلام کی زیارت کے لئے مشہد تک پیدل جاؤں ، سردیوں کا زمانہ تھا میں پیدل چل پڑا ، ایران میں داخل ہوا میرے سامنے بہت بلند پہاڑیاں اور بڑے عظیم درے تھے اور بہت برف پڑی ہوئی تھی ایک دن سفر کرتے ہوئے شام کے وقت کہ ہوا بہت سرد تھی ہر طرف برف تھی میں ایک قہوہ خانہ کے قریب پہنچا میں نے سوچا آج رات اس قہوہ خانہ میں رہوں صبح کو سفر آگے بڑھاؤنگا اب جب کہ میں قہوہ خانہ میں داخل ہوا تو دیکھا کہ کچھ یزیدی کرد لوگ قہوہ خانہ کے درمیان بیٹھے ہیں لہو ولعب اور جوا میں مشغول ہیں میں نے اپنے آپ سے کہا اے پروردگار اب کیا کروں نہ انہیں نہی عن المنکر کرسکتا ہوں اور نہ خود ان کی صحبت میں شریک ہوں اور ادھر ہوا بھی بہت سرد ہے میں اسی طرح قہوہ خانہ کے باہر کھڑا سوچ رہا تھا ، تاریکی چھا رہی تھی میں نے ایک آواز سنی کوئی کہہ رہا تھا : محمد تقی یہاں آؤ میں اس آواز کی طرف بڑھا دیکھا ایک عظیم شخصیت کی مالک ہستی ایک سرسبز و شاداب درخت کے نیچے تشریف فرماہے اور مجھے اپنی طرف بلا رہے ہیں میں ان کے نزدیک ہوا اور انہیں سلام کیا انہوں نے فرمایا محمد تقی وہ تمہاری جگہ نہیں ہے میں اس درخت کے نیچے آیا میں نے محسوس کیا کہ اس درخت کے نیچے ہوا سرد نہیں ہے بلکہ نارمل ہے یہاں بالکل آرام کیا جاسکتا تھا حتی درخت کے نیچے زمین بھی بالکل خشک تھی جبکہ باقی ہر طرف برف ہی برف اور ہڈیوں میں گھسنے والی یخ بستہ ہوا تھی ۔
قرائن و علامات سے واضح ہوگیا کہ وہ امام زمان ہیں میں نے ساری رات ان کی خدمت میں گزاری اور اپنی لیاقت و استعداد کے مطابق ان سے فیض کسب کیا ۔
صبح ہوئی تو نماز فجر ان کی اقتدا میں ادا کرنے کا شرف حاصل ہوا بعد میں انہوں نے فرمایا دن چڑھ گیا ہے اب چلیں میں نے عرض کی کہ اجازت فرمائیں ہمیشہ آپ کی خدمت میں آپ کے ساتھ رہوں فرمایا : تم میرے ساتھ نہیں آسکتے تو عرض کی اس کے بعد کہاں آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کا شرف بندہ کو نصیب ہوگا فرمایا میں تمہارے اس سفر میں دوبارہ تمہارے قریب آؤں گا پہلی مرتبہ قم المقدس میں اور دوسری مرتبہ سبزوار (مشہد کے راستہ میں ایک شہر) میں تم سے ملاقات ہوگی پھر وہ ایک دم میری نگاہوں سے اوجھل ہوگئے ۔
میں نے دوبارہ ان کی ملاقات کے اشتیاق میں پھر تھکاوٹ کا احساس بھی نہ کیا اور مسلسل سفر کیا چند روز بعد میں قم میں داخل ہوا اور تین دن بی بی معصومہ علیھا السلام کی زیارت اور آپ سے ملاقات کے انتظار میں قم میں رہا لیکن آپ کی زیارت نصیب نہ ہوئی۔
بالاخر دوبارہ قم سے سفر کا آغاز کیا میں اپنی بدقسمتی اور بے توفیقی پر بہت رنجیدہ تھا کہ ایک مہینہ سفر کے بعد میں سبزوار میں داخل ہوا ابھی شہر سے دور تھا تو میں یہ سوچ رہا تھا کہ انہوں نے تو مجھ سے ملاقات کا وعدہ کیا تھا لیکن مجھ سے ملاقات کیوں نہیں فرمائی ابھی یہ سب کچھ سوچ رہا تھا کہ گھوڑوں کے سموں کی آہٹ ہوئی میں نے پلٹ کر دیکھا کہ حضرت ولی عصر امام زمان ارواحنا لہ الفدا گھوڑے پر سوار ہیں میری طرف تشریف لا رہے ہیں جیسے ہی میں نے آپ کی زیارت کی وہیں رک گئے اور مجھے سلام کیا میں نے اپنی ارادت و ادب کا ان کی خدمت میں اظہار کیا اور عرض کیا مولا آپ نے وعدہ فرمایا تھا کہ قم میں مجھے اپنے محضر کا شرف بخشیں گے لیکن مجھے یہ سعادت نصیب بہ ہوئی ؟ فرمایا اے محمد تقی ہم فلاں رات فلاں وقت اپنی پھوپھی جان حضرت معصومہ سلام اللہ علیھا کے حرم سے تمہارے پاس کھڑے تھے اور تہران کی رہنے والی ایک عورت تم سے مسئلہ پوچھ رہی تھی اور تم سرجھکائے اس کا جواب دے رہے تھے میں تمہارے قریب ہی کھڑا تھا لیکن تم متوجہ نہ ہوئے۔

مزید  اسلام کے خلاف یورپ کا ایک اور گھناؤنا اقدام

امام زمانہ (عج) کے ساتھ حجہ الاسلام بافقی مرحوم کی ملاقات

مرحوم آیت اللہ محمد تقی بافقی رحمۃ اللہ امام زمان (عج) سے بہت گہرا تعلق اور رابطہ رکھتے تھے ان کا اس حوالے سے ایمان کامل تھا جب بھی ضرورت محسوس ہوتی تو فورا مسجد جمکران میں امام زمان (عج) سے مشرف ہوتے اور اپنی حوائج شرعیہ پیش کرتے تھے ۔
صاحب کتاب گنجینہ دانشمندان حوزہ علمیہ قم کے ایک عالم بزرگوار سے نقل کرتے ہیں کہ مرحوم آیت اللہ سید محمد رضا گلپایگانی فرماتے تھے کہ مرحوم آیت اللہ شیخ عبدالکریم حائری کے زمانہ میں ایک دفعہ چار سو طلبہ جمع ہوئے سب نے مل کر آیت اللہ عبدالکریم حائری کے مقسم شھریہ جناب محمد تقی بافقی سے درخواست کی کہ ہمیں سردیوں کے لئے عبائیں چاہیں جناب بافقی مرحوم نے یہ بات آیت اللہ عبد الکریم حائری کی خدمت میں بیان فرمائی تو انہوں نے فرمایا کہ ہم کہاں سے چار سو عبائیں لائیں تو جناب بافقی فرماتے ہیں ہم یہ سب صاحب الزمان حضرت ولی عصر ارواحنا فدا سے لیں گے تو جناب عبد الکریم حائری نے فرمایا میرے پاس کوئی راستہ نہیں ہے ان سے لینے کا ، تو جناب بافقی فرماتے ہیں میں انشاء اللہ حضرت سے لے لوں گا شب جمعہ جناب بافقی مسجد جمکران تشریف لے گئے اور امام زمان سے شرف ملاقات حاصل ہوا اور جمعہ کے روز جناب عبدالکریم حائری کو مطلع فرمایا کہ امام زمان عج نے وعدہ فرمایا ہے کہ کل ہفتہ کے دن چار سو عبائیں عطا کریں گے
ہفتہ کے دن ہم نے دیکھا ایک تاجر چار سو عبائیں لایا اور طلبہ میں تقسیم کیں۔

امام زمانہ (عج) کے ساتھ علامہ حر عاملی کی ملاقات

مکتب اھل بیت کی معروف کتاب وسائل الشیعہ کے مصنف عالم جلیل القدر علامہ شیخ حرعاملی مرحوم کتاب اثبات الھداۃ میں لکھتے ہیں : زمانہ بچپن میں جب میری عمر دس سال تھی تو ایسی شدید بیماری میں مبتلا ہوگیا کہ طبیب میرے علاج سے عاجز آگئے۔
میرے خاندان والے میرے اردگرد جمع ہوگئے اور انہیں میرے مرنے پر یقین ہوگیا لہذا وہ رو رہے تھے اس رات میں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ اور بارہ ائمہ علیھم السلام کو دیکھا کہ میرے اردگرد تشریف فرما تھے میں نے ان کی خدمت میں سلام عرض کیا اور سب سے مصافحہ کرنا شروع کردیاتھوڑی سی امام صادق علیہ السلام سے بات بھی ہوئی تھی لیکن مجھے صحیح طرح سے یاد نہیں ہے لیکن یہ بات یاد ہے کہ انہوں نے میرے حق میں دعا فرمائی تھی جب میں مصافحہ کرتے ہوئے امام زمان ارواح العالمین لہ الفدا کی خدمت میں پہنچا اور ان سے مصافحہ کیا تو میں رو پڑا اور عرض کیا اے میرے آقا و مولی مجھے ڈر ہے کہ اسی بیماری کی حالت میں مرجاؤں گا اور علم کی تحصیل اور اس پر عمل کی سعادت حاصل نہ ہوگی تو انہوں نے فرمایا : نہ ڈرو تمہیں اسی حالت مرض میں موت نہیں آئے گی اللہ تعالی تمہیں شفا دے گا اور لمبی عمر پاؤ گے پھر ان کے مبارک ہاتھ میں ایک پانی کا برتن تھا وہ انہوں نے مجھے دیا اور میں نے اس میں سے کچھ پانی پیا اور فورا مجھے شفا ہوگئی وہ بیماری مکمل طور پر ختم ہوگئی میرے رشتہ دار اور خاندان والے حیران رہ گئے پھر کچھ دنوں کے بعد میں نے انہیں اس واقعہ سے آگاہ کردیا۔

امام زمان (عج)کے ساتھ ایک طالب علم کی ملاقات،

حاجی نوری رحمۃ اللہ کتاب نجم الثاقب میں سید سند عالم عامل جناب سید محمد قطیفی سے نقل کرتے ہیں کہ ایک دفعہ شب جمعہ میں ایک طالب علم کے ساتھ مسجد کوفہ گیا اس زمانہ میں مسجد کی طرف آنا جانا خطرناک تھا کیونکہ چور ڈاکو اس طرف بہت زیادہ آتے تھے اور زوار بھی کم آتے تھے جب ہم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا ایک طالب علم دعائےکمیل پڑھنے میں مشغول اور وہاں کوئی بھی نہ تھا ہم بھی اعمال شب جمعہ میں مشغول ہوگئے اور ہم نے مسجد کے دروازے کو بند کردیا اور اس کے پیچھے پتھروں اور اینٹوں کا ڈھیر لگا دیا اب ہمیں اطمینان ہوگیا کہ کوئی چوری کی نیت سے داخل نہیں ہوگا۔
میں اور میرا ساتھی دکۃ القضاء نامی جگہ میں قبلہ رو ہوکر بیٹھ گئے اور عبادات و مناجات میں مشغول ہوگئے اور وہ طالب علم جو پرہیز گار شخص معلوم ہوتا تھا باب الفیل کے پاس بیٹھا بہت حزین صورت سے دعائے کمیل پڑھنے میں مشغول تھا ہوا بہت صاف تھی اور چاند بھی پورا تھا چاند کی روشنی نے مسجد کی فضا میں حیران کن جذابیت پیدا کی تھی اچانک میں متوجہ ہوا کہ ایک عجیب عطر کہ جسکی خوشبو مشک و عنبر سے بھی بڑھ کر تھی مسجد کی فضا کو پرکردیا ہے۔
اس کے بعد دیکھا کہ نورانی شعاع کہ چاند کا نور بھی اس کے سامنے ماند پڑ گیا مسجد کی فضا میں ظاھر ہوئی وہ طالب علم جو بلند آواز سے دعائے کمیل پڑھ رہا تھا خاموش ہوگیا وہ بھی عطر جیسی خوشبو اور اس نور کی طرف متوجہ ہوگیا اسی وقت دیکھا ایک جلال و عظمت کے ساتھ شخص اسی دروازے سے داخل ہوا کہ جسے ہم نے بند کررکھا تھا اس کا لباس اھل حجاز کی مانند تھا کندھوں پر سجادہ رکھا ہوا تھا اور بہت حیران کن وقار کے ساتھ حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام کے مقبرہ کی طرف رخ کئے ہوئے جارہے تھے ہم بے اختیار اس کے جلال و جمال میں مبہوت تھے ہمارا دل گویا اپی جگہ پر نہیں تھا وہ جب ہمارے قریب آئے ہمیں سلام کیا میرا ساتھی اس قدر مبہوت تھا کہ جواب نہ دے سکا لیکن میں نے کوشش کی بڑی مشکل سے جواب دیا جیسے ہی وہ مسجد سے نکل کر حضرت کے صحن میں داخل ہوئے تو ہماری حالت نارمل ہوگئی اورآپس میں ایک دوسرے سے پوچھا وہ کون تھے؟ کہاں سے مسجد میں داخل ہوئے ؟ ہم اپنی جگہ سے اٹھے اور حضرت مسلم کے صحن کی طرف بڑھے ہم نے دیکھا وہ طالب علم وہاں تھا وہ اپنی قمیض پارہ پارہ کر چکا تھا اس عورت کی مانند رو رہا تھا کہ جس کا بچہ مرچکا ہو ہم نے اس سے پوچھا کہ کیوں اس طرح رو رہے ہو؟
کہا کہ چالیس شب جمعہ گزر گئیں میں امام زمان (عج) کے جمال مقدس کی زیارت کے لئے اس مسجدمیں آرہا ہوں لیکن اپنی آرزو نہ پاسکا آج رات آپ نے دیکھا حضرت تشریف لائے میرے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا کیا کررہے ہو ؟ ان کی ہیبت و عظمت سے میری زبان گویا بولنے سے عاجز ہوچکی تھی کچھ بھی نہ کہہ سکا وہ میرے پاس ہوکر آگے چلے گئے ہم جب پلٹے اور دروازے کو دیکھا پتھر اور اینٹیں اسی طرح اس کے پیچھے پڑی ہوئی تھیں اور دروازہ بند تھا گویا کسی نے اس کو ہلایا بھی نہیں تھا!!!

مزید  حقیقت ِتقوی نہج البلاغہ میں

امام زمان (عج)کے ساتھ ایک گمنام مجاہد کی ملاقات،

مرحوم حاجی نوری کتاب نجم الثاقب میں محی الدین اردبیلی سے نقل کرتے ہیں وہ کہتے تھے کہ ایک روز میں اپنے والد کے قریب ہی بیٹھا تھا کہ ان کے پاس بیٹھے ایک شخص کو اونگھ آئی کہ ان کا عمامہ ان کے سر سے گر گیا تو میں نے دیکھا اس کے سر پر تلواروں کی ضربوں کے نشان ہیں تو میرے والد نے اس سے پوچھا کہ یہ سب کیا ہے؟ تو اس نے کہا یہ وہ نشان ہیں کہ جو جنگ صفین میں مجھے سر پر لگے میرے والد نے کہا: جنگ صفین تو امیر المومین علیہ السلام کے زمانہ میں ہوئی اس زمانہ کا آج تک بہت لمبا عرصہ ہے آپ تو اس زمانہ میں نہیں تھے۔ کہا:چند سال کی بات ہے میں مصر کی طرف جارہا تھا کہ راستہ میں قبیلہ نمرہ کا ایک فرد بھی سفرمیں میرا ساتھی بن گیا جیسے سفر کررہے تھے ہر طرح کی بات کرتے جارہے تھے یہاں تک کہ جنگ صفین کی بات چل پڑی وہ کہنے لگا : اگر میں جنگ صفین میں ہوتا تو اپنی تلوار کو علی اور اس کے ساتھیوں کے خون سے سیراب کرتا (وہ ناصبی تھا) تو میں نے کہا : اگر میں جنگ میں ہوتا تو اپنی تلوار کو معاویہ اور اس کے ساتھیوں کے خون سے سیراب کرتا اور اب تو معاویہ کا صحابی ہے میں علی علیہ السلام کا آو آپس میں جنگ کریں بہرحال ہم نے تلواریں کھینچ لیں لڑنا شروع کردیا دونوں خوب زخمی ہوگئے میں بہت زیادہ زخموں کی بنیاد پر بے ہوش ہوکر گر پڑا اچانک میں نے دیکھا ایک شخص نیزہ کی انی سے مجھے بیدار کر رہا ہے آنکھ پوری طرح کھول کر دیکھا ایک شخٰص گھوڑے پر سوار ہے اور وہ پھر گھوڑے سے اترا اپنے مبارک ہاتھ میرے زخم پر لگائے تو زخم درست ہوگیا اور کہا یہیں رہو اور غائب ہوگئے ۔
کچھ دیر نہ گزری تھی کہ میں نے دیکھا وہ پلٹ آئے ہیں اور معاویہ والے کا ایک ہاتھ میں سر اور دوسرے ہاتھ میں اس کے گھوڑے کی لگام پکڑے وہ آرہے ہیں اور فرمایا یہ تمہارے دشمن کا سر ہے تو نے ہماری نصرت کی ہم بھی تمہاری مدد کو چلے آئے اور اللہ جو اس کی نصرت کرتا ہے اس کی مدد کرتا ہے میں نے کہا آپ کون ہیں فرمایا میں حجۃ بن الحسن صاحب الزمان ہوں اور فرمایا جو بھی تم سے پوچھے کہ زخم کے نشان تمہارے سر پر کہاں سے لگے ہیں تو کہو یہ جنگ صفین میں سے لگے ہیں (یعنی تمہارا مقام جنگ صفین میں مولی کی نصرت کرنے والوں میں سے ہے)

مزید  ماہ رمضان تہذیب نفس کا مہینہ

مقدس اردبیلی مرحوم کی امام (عج) سے ملاقات،

عالم بزرگوار مقدس اردبیلی ان ہستیوں میں سے ہیں کہ جنہیں امام زمان (عج)سے ملاقات کا فیض حاصل ہوا اورا پنی علمی مشکلات کا حل آپ کے وجود مقدس سے لیا علامہ مقدس اردبیلی تقوی اور تقدس میں اس مقام تک پہنچے ہوئے تھے کہ جو بھی پرہیز گاری اور تقدس کی مثال دینا چاہتا ہے آپ کی مثال دیتا ہے۔
ان کے بارے میں مشہور ہے کہ جب بھی انہیں علمی مسائل میں دشواری پیش آتی اور ان کو حل کرنے سے عاجز ہوجاتے تو امیر ا لمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ضریح مقدس کے قریب جاتے اور ان سے پوچھتے تھے اور باب العلم کے پربرکت مقام سے جواب حاصل کرتے تھے ان کے ایک خاص شاگرد جو کہ اپنے استاد محترم کی زندگی کے اسرار سے واقف تھے اور اپنے زمانہ کے بلند پایہ دانشور تھے ایک واقعہ نقل کرتے ہیں کہ : حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے حرم کے صحن میں ایک رات جبکہ نصف رات گزر چکی تھی میں علمی مطالعہ سے تھک جانے کے بعد چہل قدمی کررہا تھا تو اس نورانی فضا میں ایک نورانی پیکر کو حرم شریف کی طرف رواں جاتے دیکھا حالانکہ حرم کے تمام دروازے لاک تھے میں بھی تجسس کی بنا پر اس کے پیچھے چل پڑا ۔
میں نے دیکھا وہ جیسے جیسے حرم کے نزدیک ہورہا ہے تالے اور حرم کے دروازے کھل رہے ہیں اور جس دروازے پر ہاتھ لگاتا ہے کھل جاتا ہے پھر و مکمل وقار اور سنجیدگی کے ساتھ امیر المومنین کی ضریح مبارک کے قریب کھڑا ہوا اور سلام کیا میں نے اس کے سلام کا جواب بھی سنا پھر کسی سے بات شروع کر دی کچھ دیر کے بعد وہ وہاں سے نکلا اور شہر سے باہر چل پڑا اور مسجد کوفہ کی طرف بڑھنا شروع کیا میں بھی متجسس اس کے پیچھے تھا پھر وہ مسجد کے محراب میں داخل ہوا اور بعد میں شہر کی طرف پلٹ گیا جیسے ہی وہ نجف کے دروازے کے پاس پہنچا تو صبح کی روشنی پھوٹ رہی تھی سوئے ہوئے چرند پرند گویا اٹھ کر صبح کی دعا کے لئے تیار ہورہے تھے اچانک مجھے چھینک آئی کہ میں اسے نہ روک سکا وہ میری آواز سن کر میری طرف متوجہ ہوا جیسے ہی اس کا چہرہ میری طرف ہوا تو میں نے دیکھا وہ میرے استاد آیت اللہ مرحوم مقدس اردبیلی تھے ۔
میں نے ان کی خدمت میں سلام اور عرض ادب کرنے کے بعد کہا : میں ساری رات جب آپ حرم مطھر میں داخل ہوئے تھے آپ کے ساتھ ساتھ رہا ہوں مہربانی کر کے فرمائیں ضریح مبارک کے پاس اور مسجد کوفہ کے محراب میں آپ نے کس کس کے ساتھ گفتگو کی تھی ؟ مرحوم مقدس اردبیلی نے سب سے پہلے مجھ سے وعدہ لیا کہ جب تک میں زندہ ہوں یہ راز آپ نے فاش نہیں کرنا پھر فرمایا : بیٹے جب بھی کوئی علمی مسئلہ میرے لئے مشکل ہوجاتا ہے اور اس کے حل سے میں عاجز ہوجاتا ہوں تو حلال مشکلات حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی خدمت میں مشرف ہوتا ہوں اور اپنے مولی سے حل پوچھتا ہوں ۔
گزشتہ رات حضرت امیر علیہ السلام نے میری حضرت صاحب الزمان (عج) کی طرف رہنمائی فرمائی اور فرمایا: میرے فرزند مہدی مسجد کوفہ میں ہیں اور آپ کے امام زمان(عج)ہیں ان کے پاس جائیں اور اپنے مسئلے کا حل ان سے پوچھیں میں نے مولی کے حکم کی تعمیل کی اور مسجد کوفہ میں داخل ہوا اور حضرت محراب میں کھڑے تھے یعنی اپنے مولا حضرت مہدی (عج) سے میں نے اپنی مشکلات کا حل پوچھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.