امام حسین (ع) کا استغاثہ پانی مانگنے کے لئے نہیں لبیک یا حسین سننے کے لئے تھا

0 0

مجلس وحدت مسلمین کے سیکریٹری جنرل حجت الاسلام والمسلمین جعفری: امام حسین (ع) کو پانی کی پیاس نہیں تھی، حسین (ع) کو اس کی پیاس تھی کہ کوئی لبیک یا حسین (ع) کہے ۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سرگودھا میں مجلس وحدت مسلمین کے زیر اہتمام لبیک یا حسین (ع) کانفرنس منعقد ہوئی جس سے مجلس وحدت مسلمین کے سیکریٹری جنرل حجت الاسلام والمسلمین جعفری کے خطاب کیا.

خطاب کا پورا متن:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ارباب مجلس چھٹے امام کے ارشاد کو جو معروف ہے اور علماء اسے اکثر اپنی گفتگو کا سرنامہ کلام قرار دیتے ہیں؛ اسے عنوان سخن قرار دیا ہے۔ معصوم ارشاد فرماتے ہیں: جو شخص اپنے زمانے کی معرفت حاصل کرلے وہ اتنا با بصیرت ہو جاتا ہے کہ پھر فتنوں کا گرد و غبار اور فتنوں کی تاریکیاں اسے اشتباہ اور غلطی کا شکار نہیں کر سکتیں؛ پھر فتنہ اسے راہ راست سے نہیں ہٹا سکتا؛ پھر یہ فتنے اس پر ہجوم نہیں لے کر آتے؛ یہ فتنوں کی تاریکیاں اس پر حملہ ور نہیں ہو سکتیں کیونکہ وہ عارف زمان بن گیا ہے۔ مولا امیرالمؤمنین علی(ع) فرماتے ہیں کہ جس نے اپنے زمانے کی معرفت حاصل کر لی وہ سکیور ہوگیا اس نے امن کو پا لیا وہ محفوظ ہو گیا۔ اگر کوئی محفوظ ہونا چاہتا ہے، اگر کوئی امن پانا چاہتا ہے، اگر کوئی دہشت گردی کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے، اگر کوئی ظالموں کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے، اگر کوئی مظلوموں کی نصرت کرنا چاہتا ہے، اگر حق کا ساتھ دینا چاہتا ہے، اگر کوئی سچ کو سمجھنا چاہتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ زمانے کو سمجھے؛ اپنے زمانے کی معرفت حاصل کرے۔ جو اپنے زمانے کو نہ سمجھ سکا تو وہ وقت سے بہت پیچھے رہ جائے گا وقت بہت آگے نکل جائے گا یہ بہت پیچھے رہ جائے گا، یہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا، پیشرفت نہیں کر سکتا۔ یہ کبھی عزت کی زندگی نہیں گزار سکتا اگر اپنے زمانے کو نہ پہچانا اور پیچھے رہ گیا وقت سے تو۔ وقت آتا ہے گزر جاتا ہے وہ لوگ کامیاب ہوتے جو وقت سے پیچھے نہیں رہتے، وقت کے ساتھ بھی نہیں ہوتے بلکہ وقت سے آگے ہوتے ہیں۔ ہم وہ ہیں جن کا امام، امام زمان (عج) ہے۔ وہ زمانے سے پیچھے نہیں ہے وہ زمانے سے آگے ہوتا ہے۔ امام زمان (ع) کو ماننے والی امت اور ملت بھی وقت سے آگے ہونی چاہیے وہ وقت سے پیچھے نہیں ہونی چاہیے چونکہ اس نے ملتوں کی امامت کرنی ہے اس نے ملت کی رہبری کرنی ہے اس نے ملتوں کو نجات دینی ہے۔ اس نے فتنوں کی تاریکیوں میں بصیرت کا نور بکھیرنا ہے اس لیے اسے بیدار ہونا ہو گا، وقت سے آگے ہونا ہو گا وقت سے پیچھے نہیں ہونا ہو گا۔ تو دوستوں کہا یہ جاتا ہے کہ امام وہ ہوتا ہے جو ہر حوالے سے امام ہوتا ہے، اس کے عقائد عقائد کے امام، اس کی خدا کی معرفت، خدا کی معرفتوں کی امام، وہ معرفت کی وادی میں بھی امام۔ اس کے افکار و نظریات بھی تمام افکار و نظریات کے امام ہوتے ہیں، اس کی صفات، صفات کی امام، اس کی شجاعت شجاعتوں کی امام، اس کا صبر، صبروں کا امام، اس کا علم علموں کا امام اور اس کی سیرت کرداروں کی امام ہوا کرتی ہے اور جب امام ایسا ہو تو اس کے ماننے والی ملت اور امت بھی ایسی ہونی چاہیے، وہ دوسری تمام ملتوں سے آگے ہونی چاہیے، صبر میں آگے، علم میں آگے، حلم میں آگے، شجاعت میں آگے، ایثار و فداکاری میں آگے اور حق کے ساتھ وفاﺅں میں آگے۔ ( لبیک یا حسین (ع) نعرہ)۔ تو دوستو! اس سرزمین پر بصیرت کے چراغ جلانے والا، بصیرت کا نور بکھیرنے والا، بصیر ت کے دیئے جلانا والا شہید عارف حسین الحسینی (رح) تھا، وہ عارف حسین تھا، وہ امام حسین (ع) کا سچا بیٹا تھا جو اپنے جد علی (ع) کی طرح محراب عبادت سے اپنے لہو میں ڈوب کر اپنے جد حسین (ع) کی بارگاہ میں گیا۔ ہمارے دشمن نے یہ سمجھا تھا کہ اسے مار دینے سے یہ چراغ بصیرت بجھ جائے گا، امید نا امیدی میں بدل جائے گی، ہمتیں جواب دے جائیں گی۔ قوم بکھر جائے گی اور یہ ملت یتیموں کی طرح سرگرداں رہے گی پھر اس کے پیکر پر جو وار کیا جائے گا جیسے میت کے بدن پر وار کیا جائے اسے کاٹا جائے تو اسے احساس نہیں ہوتا یہ بے حس ہو جائے گی، اس لیے اسے مارا گیا تھا، وہ پاکستان کی سرزمین پر اس زمانے کے حسین (ع) کا مالک اشتر تھا، وہ عام شخصیت نہیں تھا، میں نے پہلے کہا کہ وہ عارف حسین تھا، وہ نجف سے کربلا 80 کلو میٹر کا راستہ ہے، شب جمعہ کو پیدل نجف سے کربلا جاتا تھا اور عام راستوں سے نہیں، بیابانوں اور جنگلوں سے گزر کر جاتا تھا، غیر معروف راستوں سے جاتا تھا، اپنے جد، اپنے آقا اور مولا حسین (ع) کے حرم کی زیارت کو۔ دوستو! دشمنوں نے اسے ہم سے چھینا یعنی ہم سے ملت کے پیکر سے روح کو نکالنے کی کوشش کی۔ دشمن منظم ہے، دشمن بیدار ہے، دشمن آگاہ ہے، وہ اس سے پہلے کہ ہم اپنے اصلی افراد کو پہچانیں وہ پہلے پہچان لیتا ہے اور انہیں ہم سے چھین لیتا ہے۔ پوری طاقت سے۔نعرہ: زندہ ہے حسینی (رح)، زندہ ہے حسینی (رح)۔ 42 سال چند مہینوں کی عمر میں شہید ہو گیا وہ۔ 4 سال اور چند مہینے رہبری کی اس نے۔ اس زمانے میں امکانات اور وسائل نہیں تھے۔ آپ پاکستان کے جس شہر میں جائیں گے، جس علاقے میں جائیں گے اس کے نقشہ پا آپ کو ملیں گے، وہاں پتہ چلے گا کہ گوہر گیا ہے وہ۔ یہاں آیا تھا وہ۔ وہ مسیحا آیا تھا یہاں۔ وہ فرزند سیدۃ‍‍ الزہرا سلام اللہ علیہا آیا تھا یہاں۔ وہ ہمیں بیدار کرنے آیا تھا۔ وہ ہمیں شجاعت کا رزق دینے آیا تھا۔ وہ ہمیں رزق شعور دینے آیا تھا۔ وہ آیا تھا کہ ہم جاگ جائیں۔ ہم بیدار ہو جائیں، اس سے پہلے کہ یزیدی پھر وار کر دیں لیکن دوستو ! ہوا کیا، اڑھائی سال تک وہ یہ ثابت کرتا رہا کہ”میں شیعہ ہوں وہابی نہیں ہوں”، عجیب نہیں ہے یہ!؟ اڑھائی سال بعد اس سے پوچھا گیا آپ نے کیا کیا ہے؟ اس نے کہا میں نے یہ ثابت کیا ہے، میں یا علی(ع) مدد کا منکر نہیں ہوں، میں شیعہ ہوں، میں عزادار ہوں، میں عاشق حسین (ع) ہوں، میرا مولا (ع) کی ولایت پر ایمان ہے۔ دیکھا دشمن نے اسے اندر ہی میں الجھا کر رکھ دیا تھا، اندر ہی الجھا دیا تھا، پہلی کوشش یہ تھی کہ اسے اندر ہی الجھا کر رکھ دیا جائے اور یہ رکاوٹ عبور نہ کر سکے لیکن جب اس نے یہ رکاوٹ عبور کر لی پھر یزیدوں کی طرح، اس زمانے کے یزیدوں نے اسے ہنگام سحر وقت نماز ہم سے چھین لیا، وہ ہم سے جدا ہو گیا۔ دوستو! لیکن اس کی روح، اس کا راستہ، اس کا مقصد اور آرزوئیں اللہ نے پاکیزہ مؤمنوں کے وجود کی زمین میں اس طرح سے کاشت کی جیسے کوئی کسان زمیندار اپنی زمین میں بیج کاشت کرتا ہے۔ وہ آرزوئیں اللہ نے مؤمنوں کے وجود کی زمین میں بو ڈالیں، وہ ارمان کاشت کر دیئے جو آج پھر پروان چڑھے ہیں۔ آج پھر لہلہاتی فصل کی طرح موجود ہیں یہاں۔ پورے پاکستان میں موجود ہیں اور لبیک یا حسین (ع) کہتے ہوئے پھر میدان میں آگئے ہیں۔ نعرہ: لبیک یا حسین (ع)، لبیک یا حسین (ع)۔ ہم شہید کے راستے کے راہی ہیں، اس کی میراث اور اس کی امانت کے امین ہیں۔ وہ پرچم جو دشمنوں اور یزیدوں نے اس کے ہاتھ سے گرانے کی کوشش کی تھی آج اس کے ماننے والے فرزندوں نے اٹھا لیا ہے اور پھر لبیک یا حسین (ع) کہتے ہوئے عصر کے یزیدوں کے مقابلے میں آگئے ہیں۔ نعرہ: لبیک یا حسین (ع)، لبیک یا حسین (ع)۔ یہ سفر عزت کا سفر ہے، ذلت سے نجات اور رہائی کا سفر ہے، یہ سفر آگاہی اور بصیرت کا سفر ہے، یہ سفر امید کا سفر ہے، یہ سفر کربلا کی طرف سفر ہے۔ ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے، یہ پرچم نہیں گرنے دیں گے۔ دنیا کے یزیدی حسرت دل میں لے کر مر جائیں گے کہ یہ غیرت، شرف، آزادی، انسانی کرامت اور حریت کا پرچم جو حسینیوں کو ملا ہے ان کے ہاتھ سے گر جائے گا۔ دنیا کی کوئی طاقت نہیں گرا سکتی۔ یہ زمانہ ! یزیدوں کی شکست کا زمانہ ہے، عالمی استکبار کی شکست کا زمانہ ہے۔ ایران میں حسینیوں نے عالمی استکبار اور یزیدوں کو شکست دے ڈالی ہے، لبنان میں حسینیوں نے اس عصر کی یزیدیت کو شکست دے ڈالی ہے، عراق میں ان کو شکست ہونے والی ہے اور پاکستان کی سرزمین پر حسین (ع) کے ماننے والے اس عصر کے یزیدوں کے سینے میں خنجر گھونپیں گے۔لہٰذا بیداری کا وقت ہے۔ غفلتوں سے نکلنے کا وقت ہے، دشمنوں کو شکست دینے کا وقت ہے، دشمنوں کو نا امید کرنے کا وقت ہے، انسانی اپنے سروں پر تاج کرامت پہننے کا وقت ہے۔ دشمن کی کوشش ہے ہمیں اندرونی معاملات میں الجھا دے، ہم داخلی جھگڑوں میں الجھ جائیں، نہیں یہ ہم نے نہیں کرنا، ہم شیعہ ہیں سارے، ہم علی ولی اللہ کہنے والے ہیں، ہم بارہ اماموں کے عصمت کے قائل ہیں، قائل ہیں کہ امام منصوص من اللہ ہے، گیارہ امام شہید ہیں، بارہویں پردے غیبت میں ہیں اور ہم سب ان کے منتظر ہیں، درجات معرفت مختلف ہیں، کوئی پہلے درجے کا مومن ہے، کوئی دوسرے کا ہے، کوئی تیسرے کا ہے، کوئی چوتھے کا ہے اور کوئی دسویں کا ہے۔ روایت میں ہے کہ اگر ابو ذر کو پتہ چل جاتا کہ سلمان کے دل میں کیا ہے توسلمان کو قتل کر ڈالتا، سلمان دسیوں درجے ایمان پر، ابو ذر نویں درجے ایمان پر، معرفت کے درجے مختلف ہیں۔ ایک وہ چیز ہے کہ جس کو ایک درجے معرفت پر پہنچا ہوا شخص دو اور دو چار کی طرح سمجھتا اور پہچانتا ہے اور ایک وہ ہے جو اس کو نہیں سمجھتا، البتہ ہم جو شہید کے ساتھی اور پیروکار ہیں، ہم آئمہ کی ولایت تکوینی پر ایمان رکھتے ہیں، قائل ہیں کہ امام واسطہ فیض ہے، خدا سے براہ راست فیض امام لیتا ہے اور پھر ساری کائنات میں اس کی عادلانہ تقسیم کرتا ہے، امام واسطہ فیض ہے، امام حجت خدا ہے، “امام عالمِ ما کانَ و ما یَکُونُ سے باخبر ہے”، وہاں جہالت کا کوئی گزر نہیں، وہ مظہر اسم علی بھی ہے اور وہ مظہر اسم قدیر بھی ہے، خدا کے علم کا کامل ظہور اس کے وجود میں ہے،خدا کی قدرت کا کامل ظہور اس کے پنجہ قدرت میں ہے کہ اس کا ہاتھ یداللہ ہے۔ ہم امام خمینی (رح) کو اس زمانے کا مجدد سمجھتے ہیں، جو عقیدہ ان کا ہے وہی ہمارا ہے، ہم اسی عقیدے کے ہیں، وہی عقیدہ ہمارا ہے، امام عالمِ ما کانَ و ما یَکُونُ سے باخبر ہے، جب وہ مظہر اسم علی ہے تو ہر جگہ حاضر و ناظر بھی ہے، بہرحال یہ موضوع نہیں ہے۔ امام کے واسطہ ہونے کے ہم قائل ہیں، شہید حسینی(رح) قائل تھے اس کے، ہم اس کے قائل ہیں۔ ائمہ جب اس دنیا سے جاتے ہیں تو ہمارے عقیدے کے مطابق وہ مر نہیں جاتے، ختم نہیں ہو جاتے، ہم جب زیارت کے لیے جاتے ہیں تو کیا پڑھتے ہیں، امام میں گواہی دیتا ہوں کہ تو مجھے دیکھ رہا ہے، مجھے سن رہا ہے اور میرے سلام کا جواب دے رہا ہے۔ یہ عرفان آل محمد (ص) ہے، یہ معرفت آل محمد (ص) ہے، وہ ہماری طرح کے انسان نہیں ہیں، وہ ہمارے بڑے بھائی نہیں ہیں نعوذبااللہ من ذالک، ہم کہاں اور وہ کہاں، تصور درست نہیں ہے، سوچنا درست نہیں ہے، یہ شہید کا عقیدہ تھا، یہ خمینی کا عقیدہ ہے، ہمارا بھی یہی عقیدہ ہے، ایک بات۔ دوسری بات، یہ عرفان ہے اور دوسری بات کیا ہے کہ اجتماعیت سے نہیں کٹنا، میدان یزیدوں کے لیے خالی نہیں چھوڑنا، کہیں عقیدے کی جنگ کے اندر الجھ کر، کبھی طالبان کی شکل میں یزید، کبھی القاعدہ کی شکل میں یزید، کبھی لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ کی شکل میں یزید۔ ہم داخلی طور پر الجھے رہیں، وہ ہم پر حملے کرتے رہیں، ہمیں نقصان پہنچاتے رہیں، ایمان کے مختلف درجے ہیں، ہمارے اندر پہلے درجے والے ایمان والے بھی ہیں ممکن ہیں پہلے والے اگلوں والوں کو صحیح نہ سمجھیں، اگلے والے پچھلے والوں کو صحی

مزید  صفات اولیاء الٰہی

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.