امام حسین علیہ السلام کی تحریک؛انقلاب یا صلح؟عماد الدّین باقی کے نظریے کا تنقیدی جائزہ(حصہ اول)

0 1

تمہید

امام حسین علیہ السلام  کی تحریک، انقلاب اور سن ۶۱ ہجری میں آپ علیہ السلام کے موقف کی تفسیر کے حوالے سے مختلف نظریات پیش کیے جاتے ہیں اور معاصر محقّق استاذ عماد الدین باقی کا نظریہانہی میں سے ایک ہے کہ جس کے ضمن میں انہوں نے اس تصوّر کا دفاع کیا ہے کہ امام حسین علیہ السلام  نے کوئی انقلاب برپا نہیں کیا، آپ علیہ السلام  کے پاس تبدیلی کا کوئی جامع منصوبہ نہیں تھا اور جنگ، جہاد یا خون ریزی وغیرہ کے بارے میں ان کی کوئی فکرنہیں تھی
بلکہ طول تاریخ میں مسلمانوں اور مذہب اہل بیت علیہم السلام  کی پیروی کرنے والوں نے خود ہی یہ تصور قائم کر لیا کہ امام حسین علیہ السلام  اپنی اس تحریک کے ذریعے کسی انقلاب ، جنگ، جہاد یا بڑے منصوبے  کا ارادہ رکھتے تھے۔
میں اس بحث کو اختصار و اجمال کے ساتھ دو مرحلوں میں تقسیم کرنے کی سعی کروں گا:
پہلا مرحلہ: استاد عماد الدّین باقی کے نظریے اور اس کی بنیاد کی تشریح۔
دوسرا مرحلہ : استاد باقی کے تفکر کا تنقیدی جائزہ ۔

 
پہلا مرحلہ :

اس نظریے کی ابتدا اس چیز کا جائزہ لینے سے ہوتی ہے کہ کیا شیعہ حلقوں میں رائج امام حسنعلیہ السلام  اور امام حسین علیہ السلام  کےموقف کے درمیان اختلاف والا تصور درست ہے ؛ اس لیے کہ اہل تشیّع می ںیہ زبان زد عام و خاص ہے کہ امام حسن علیہ السلام  اور امام حسین علیہ السلام  کے موقف میں فرق ہے؛ پہلا موقف صلح، امن، جنگ کی نفی اور طاقت کا استعمال نہ کرنے کی علامت ہے اور دوسرا موقف انقلاب، مزاحمت، شجاعت ، قربانی ، خون ریزی اور جنگ کی رمز ہے ؛ پس شیعہ موقف کی بنیاد یہ مفروضہ ہے کہ ان دو ہستیوں کے موقف کے درمیان بنیادی فرق ہے پس امام حسن علیہ السلام  کی تحریک صلح و امن کی تحریک ہے جبکہ امام حسین علیہ السلام  کی تحریک انقلابی ، مزاحمتی اور مسلح تحریک ہے کہ جو شہادت ، خون ، جنگ اور لڑائی کے تمام مفاہیم کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے ۔
اس نظریے کا قائل ابتدا سے ہی اس تقسیم کی عدم درستگی کو ثابت کرتا ہے ؛ پس مسلمانوں کے امور کو چلانے اور ان کی گتھیاں سلجھانے کے لیے امام حسن علیہ السلام  اور امام حسین علیہ السلام  کی روش کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔
اس بنیاد پر عماد الدّین باقی انسانوں ، علما ، تحریکیوں اور سیاسی جماعتوں کی حسنیوں اور حسینیوں میں صف بندی کرنے پر بھی تنقید کرتا ہے اور اسے غلط تقسیم قرار دیتا ہے کیونکہ ہمارے یہاں سرے سےایسی تقسیم موجود ہی نہیں ہے کہ جس کی بنیاد پر ہم انسانوں ، تحریکوں اور جماعتوں کو یوں تقسیم کریں ۔
اس کا خیال ہے کہ امام حسین علیہ السلام  کا نعرہ انقلابی ہے لیکن یہ جنگ کے خلاف انقلاب ہے ، یعنی اس نظریے کا قائل ایک مختلف تصویر پیش کرنا چاہتا ہے کہ جس کا مطلب یہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام   نے جنگ ، طاقت کے استعمال، لڑائی اور خون ریزی کے خلاف انقلاب کیا،نہ یہ کہ آپ علیہ السلام  نے انقلاب کیا اورآپ علیہ السلام  کا انقلاب طاقت کے استعمال، جنگ، لڑائی اور خون ریزی کا حامل تھا ۔
استاد باقی مزید کہتےہیں کہ شیعہ عقیدے کی رو سے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اہل بیت علیہم السلام سب کے سب نورِواحد ہیں اور “نور واحد” کی تعبیر کا مفہوم یہ ہے کہ ان کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ، تو پھر حسنی تحریک کو پر امن اور حسینی تحریک کو طاقت کے استعمال کی حامل قرار دےکر امام حسن علیہ السلام  اور امام حسین علیہ السلام  کے درمیان (باقی کی تعبیر کے مطابق) دیوار کیوں حائل کی جاتی ہے؟! اس طرح ہم نے  ان دو عظیم اماموں کے درمیان دیوارکھڑی کر  دی ہے جبکہ مفروضہ یہ تھا کہ یہ دونوں ایک ہی نور اور ضو ہیں جو کائنات میں اپنی کرنیں بکھیر رہا ہے، اور ان کے درمیان نہ کوئی امتیاز ہے اور نہ کوئی فرق ، تو پھر ہم ان دونوں ہستیوں کی اس طرح سے تصویر کشی کیوں کرتے ہیں کہ ان کے دو سیاسی راستے ہیں جن میں سے ہر ایک دوسرے کی مخالف سمت کی طرف جاتا ہے؛کیونکہ سیاسی عمل میں ان میں سے ہر ایک  کی مخصوص منطق ہے جو دوسری سے سو درجے مختلف ہے؟! اور یہ تصوّر شیعہ کے اس بنیادی عقیدے کہ اہل بیت علیہم السلام ایک نورہیں اور ان کی راہ و روش ایک ہے؛ کے سراسر خلاف ہے۔
اور جب  ہم محقق باقی سے سوال کرتے ہیں کہ پھر امام حسین علیہ السلام  نے مدینہ سے جو حرکت کی اورجو آخر کار جنگ اور خون ریزی پر منتہی ہوئی؛ تو اس حرکت سے آپ علیہ السلام  کا مقصد کیا تھا؟ تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ۶۱ہجری میں امام علیہ السلام  شہادت کیلئے نہیں گئے جیسا کہ مشہور نظریہ یہی ہے اور نہ ہی حصول اقتدار کی خاطر جنگ کرنے کیلئے گئے جیسا کہ یہ کتاب “الشھید الخالد” (۱)کے مؤلف شیخ نعمت اللہ صالحی نجف آبادی کا نظریہ ہے، بات صرف یہ تھی کہ آپ علیہ السلام کو یزید بن معاویہ کی بیعت ناقابل قبول تھی جس پر انہوں نے امام علیہ السلام کا پیچھا کیا یہاں تک کہ انہیں قتل کر دیاپس امام علیہ السلام  بالکل جنگکا ارادہ نہیں رکھتے تھے لیکن جس وقت انہوں نے بیعت نہ کرنے کی وجہ سےامام علیہ السلام  پر حملہ کیا اور آپ علیہ السلام  کو قتل کرنے کے درپے ہوئے تو آپ علیہ السلام  اپنے دفاع کیلئے تلوار اٹھانے پر مجبور ہوئے بس سارا ماجرا یہی ہے، پس نہ توعراق سے سے حکومت اور نظام کے خلاف کوئی بغاوت اٹھ رہی تھی، نہ ہی جنگ اور تصادم  کا کوئی منصوبہ تھا اور نہ ہی دسیوں شہدا کی قربانی پیش کرنے کی کوئی تدبیر تھی کہ جس سے پوری امت کو جھٹکا لگے اور اس کا ضمیر بیدار ہو جائے جیسا کہ بطور مثال شہید صدر (رہ) کہا کرتے تھے، ساری بات یہ تھی کہ امام حسین علیہ السلام  یزید بن معاویہ کی بیعت کر کے حکومت کو شرعی حیثیت نہیں دینا چاہتے تھے، پس وہ مدینہ سے نکلے تاکہ بیعت نہ کرنا پڑے، انہوں نے مکّہ تک آپ علیہ السلام  کا پیچھا کیا تو آپ علیہ السلام  مکہ سے کوفہ روانہ ہو گئے لیکن انہوں نے راستے میں آپ علیہ السلام  کو آن لیا،جس قدر بھی انہوں نے آپ علیہ السلام  سے بیعت کا مطالبہ کیا امام علیہ السلام  نے انکار کر دیا لیکن جنگ اور ٹکراؤ کے پیچھے نہیں تھے اور جب یزیدی فوج نے صحرا کے بیچ میں جنگ کے ارادے سے تلواریں سونت لیں تو امام علیہ السلام کو بھی ذاتی دفاع کیلئے تلوار اٹھانا پڑی۔
اسی وجہ سے ہمیں ملتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام  نے ان سے بار بار تقاضا کیا کہ مجھے خدا کی وسیع زمین میں کہیں جانے دیں جیسا کہ اس نظریے کے قائل”عماد الدین باقی” اس کی تصریح کرتے ہیں جبکہ سیاسی، شہادت طلبانہ یا انقلابی پروگرام رکھنے والے کسی شخص کیلئے ناممکن ہے کہ وہ اس طرح کی باتیں کرے مثال کے طور پر یہ کہے کہ وہ کسی غار میں چھپ جائے گا یا کسی صحرا میں زندگی بسر کر لے گا، تو پھر پانچ یا چھ سے بھی زائدبار (جیسا کہ روائی اور تاریخی شواہد اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں) اس طرح کے مطالبات پیش کرنے کا کیا مطلب ہے؟!
ان شواہد سے ہم بخوبی یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام  نے صلح و سلامتی کا داعی ہونے کی وجہ سے ایسا کیا اور اس محقق کے بقول امام علیہ السلام  مستقبل قریب میں بہائے جانے والے خون کی ذمہ داری نہیں اٹھانا چاہتے تھے ، اسی طرح امام علیہ السلام  ہرگز ایسی شخصیت بھی نہ تھے جو خون ریزی چاہتے ہوں پس آپ علیہ السلام  کی تحریک ان انقلابات کی مانند ہے جو بیسویں صدی میں رونما ہوئے اور انہیں پر امن انقلابات کا نام دیا جاتا ہے جیسے انقلاب ہندوستان۔ اس بنا پر  امام حسین علیہ السلام ایسے پر امن انقلاب کی علامت ہیں جو طاقت کے استعمال کی بجائے اسے ترک کرنے کی بنیاد پر قائم ہے ۔
محقّق باقی گھوم پھر کر آخر کار درج ذیل نتیجے تک پہنچتے ہیں کہ: امام حسن علیہ السلام  اور امام حسین علیہ السلام جنگ کی صورت میں عاقلانہ جنگ لڑنا چاہتے تھے ، جنگ کے عاقلانہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں طاقت کا توازن ہو اور اگر جنگ میں طاقت کا توان نہ ہو تو ہرگز ایسی جنگ عاقلانہ نہیں ہو سکتی، امام حسین علیہ السلام خوب جانتے ہیں کہ ان کے اور یزید بن معاویہ کے لشکر کے درمیان طاقت کا کوئی توازن نہیں ہے کیونکہ پوری اسلامی مملکت اس کے ہاتھ میں ہے اور اس محقق کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام کبھی بھی خود کو ایسی جنگ میں نہیں دھکیل سکتے کیونکہ آپ علیہ السلام ایک عاقل انسان ہیں اور ایسا انسان نابرابر جنگ میں داخل نہیں ہوتا ۔
اس لیے یہ محترم محقّق دیکھتا ہے کہ جب امام حسن علیہ السلام  نے معاویہ بن ابو سفیان کے مقابلے میں طاقت کے عدم توازن کا احساس کیا تو آپ علیہ السلام نے امن و صلح کے اقدامات کیےکیونکہ طاقت میں توازن کے بغیر کسی جنگ میں کود پڑناصحیح نہیں ہے،بصورت دیگر اسے خود کشی، نابودی اور بے فائدہ خون ریزی سمجھا جائے گا اور ایساکرنے والے کو اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
یہ محترم محقّق استاد عماد الدّین باقی کے نقطہ نظر اور تحلیل کا خلاصہ ہے (۲)

مزید  عید الاضحیٰ کے باعث ملک بھر میں قیدیوں کو پھانسیوں کا عمل روک دیا گیا

(جاری ہے)

 
حوالہ جات

 [1] شیخ صالحی نجف آبادی اپنی مشہور کتاب “الشہید الخالد” میں امام حسین علیہ السلام  کی تحریک کو چار مراحل میں تقسیم کرنے اور امام علیہ السلام  کے کوفہ کی جانب سفر کے عزم سے لے کر حر بن یزید الریاحی کے ساتھ ملاقات کی درمیانی مدت کو دوسرے مرحلے میں قرار دینے کے بعد کہتے ہیں: امام حسین علیہ السلام  کی تحریک کے بالترتیب تین اہداف تھے

۱۔ یزید کی بیعت کا انکار کر کے ایک مضبوط اسلامی حکومت کی تشکیل “جیسا کہ عراق کے آزاد لوگوں کا مطمع نظر تھا” اور ظلم و فساد کا راج ختم کر کے اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنا تھا۔اس طرح آپ علیہ السلام  مسلمانوں کو نجات دلا سکتے ہیں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سنت کا احیا کر سکتے ہیں۔

۲۔ دوسرا ہدف واپس پلٹ جانا، یعنی جب عراق کے حالات دگرگون ہو گئے اور عبید اللہ بن زیاد نے کوفہ کا کنٹرول سنبھال لیا اور فوجی کامیابی کا امکان نہ رہا تو امام علیہ السلام  نے خود کو ناچار پا کر واپس جانے کے لیے کہہ دیا۔

۳۔ تیسرا ہدف صرف شہادت ؛ اس لیے کہ جب امام علیہ السلام  نے دیکھا کہ یزیدی حکومت کے کارندے اس بات پر مصر ہیں کہ آپ علیہ السلام  کو واپس نہیں جانے دیا جائے گا اور آپ علیہ السلام  کو یقین ہو گیا کہ ان کے سامنے جھکنے کا مطلب ذلّت اور پستی کے ساتھ ان کے ہمراہ ہونا ہے جیسا کہ مسلم بن عقیل کے ساتھ ایسا ہی ہوا، جب دشمن کے مقابلے میں دفاع ضروری ہو گیا تو آپ علیہ السلام  نے اپنی جان کا نذرانہ عزت و افتخار کے ساتھ شہادت کی شکل میں پیش کر دیا، پس فوجی کامیابی پہلا ہدف ہے؛ آبرومندانہ صلح دوسرا ہدف ہے؛ اور شہادت تیسرا ہدف ہے، ملاحظہ ہو: شہید جاوید: 157 ـ 159.
[2] ان کا نقطہ نظر اور تحلیل دیکھنے کیلئے ملاحظہ ہو ان کا مقالہ “امام حسین علیہ السلام  کی صلح، حسنی منطق اور حسینی عمل کے درمیان ” کہ جس کا عربی ترجمہ جریدہ “نصوص معاصرة، 2012م کے موسم خزاں کے شمارہ نمبر ۲۸” میں شائع ہو چکا ہے۔

مزید  عراق میں ایک اور صدام کو بنانے کی کوشش

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.