امام حسین علیہ السلام کون ہیں

0 0

سید الشہدا، امام حسین بن علی علیھما السلام، رسول اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نواسے اور شیعوں کے تیسرے امام ہیں۔ آپ (ع) کی مادر گرامی سیدہ کونین حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا ہیں۔ آپ ہجرت کے تیسرے سال تین شعبان کو یا دوسری روایت کے مطابق ہجرت کے چوتھے سال تیسری یا پانچویں شعبان کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ جب اس نومولود کو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں لے جایا گیا تو آپ مسرت سے پھولے نہ سمائےاور آپ کے دائیں کان میں آذان اور بائیں کان میں اقامت کہی۔
ولادت کے ساتویں روز عقیقہ کی رسم ادا کرتے ہوئے آپ کے سر کے بال اتارے گئے۔ اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی بیٹی فاطمہ زہرا (س) سے فرمایا کہ حسن کی طرح میرے حسین کے سر کے بالوں کا وزن کر کے ان کے برابر چاندی صدقہ کرو۔
امام حسین(ع) اپنے بھائی امام حسن(ع) سے عمر میں بہت کم چھوٹے تھے اسی وجہ سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ان دونوں سے متعلق احادیث اور واقعات میں دونوں کا ایک ساتھ تذکرہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل شدہ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ” جو شخص حسن و حسین کو دوست رکھے گا میں اسے دوست رکھوں گا اور جو مجھے دوست رکھے گا خدا اسے دوست رکھے گا اور خدا سے دوستی بہشت کا سبب ہے۔ اور جو ان دونوں سے دشمنی رکھے گا میں اس سے دشمنی رکھوں گا اور جسے میں دشمن سمجھوں گا خدا بھی اس کو اپنا دشمن قرار دے گا۔ اور جس سے خدا دشمنی کرے گا وہ جہنم کی آگ میں بھنے گا”۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ایک اور روایت میں نقل ہوا ہے کہ فرمایا: میرے یہ دو بیٹے، میرے لیے اس دنیا کے دو پھول ہیں۔
محمد بن عبد اللہ نے ابن ابی نعم سے نقل کرتے ہوئے کہا: میں اپنے چچا زاد بھائی کے پاس تھا کہ ایک آدمی آیا اور اس نے اس سے مچھر کے خون کا حکم معلوم کرنا چاہا۔ اس نے پوچھا تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ جواب دیا: عراق کا۔ اس نے کہا: اس آدمی کو دیکھو کہ مجھ سے مچھر کے خون کا حکم معلوم کر رہا ہے حالانکہ انہوں نے فرزند رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا خون بہایا ہے۔ میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سنا تھا کہ آپ نے فرمایا: میرے یہ دوبیٹے( حسن و حسین) میرے لیے اس دنیا کے دو پھول ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے نواسوں کو جنت کا سردار بنایا ہے۔
حذیفہ نے آنحضرت سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: مجھ پر آج وہ فرشتے نازل ہوئے ہیں جو اس سے پہلے کبھی نہیں آئے اذن خدا سے مجھ پر سلام کرنے کےبعد یہ خوشخبری دی ہے کہ فاطمہ خواتین جنت کی سردار اور حسن و حسین جوانان جنت کے سردار ہیں۔
امام حسین علیہ السلام کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ آپ رسول خدا سے شباہت رکھتے تھے عاصم اپنے باپ سے نقل کرتے ہوئے کہتا ہے: میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو خواب میں دیکھا اور اپنی خواب کو ابن عباس کے سامنے بیان کیا۔ اس نے پوچھا: کیا ان کو دیکھتے وقت تمہیں امام حسین یاد نہیں آئے؟ میں نے کہا: بخدا کیوں نہیں۔ پیغمبر کے شانوں پر نگاہ پڑتے ہی مجھے امام حسین کی یاد آگئی۔ ابن عباس نے کہا: امام حسین رسول خدا سے کتنا مشابہ ہیں!۔
امام حسین علیہ السلام سن ۶۱ ہجری میں شہادت فرما گئے۔ اس وقت آپ کی عمر مبارک ۵۶ سال تھی۔ اپنی زندگی کے چھ یا سات سال اپنے نانا رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ گزارے ۳۷ سال تک اپنے بابا علی مرتضی علیہ السلام کے ساتھ اور ۴۷ سال کی عمر تک اپنے بھائی امام حسن(ع) کے ساتھ رہے۔اپنے بھائی کی شہادت کے دس سال بعد خود بھی مقام شہادت پر فائز ہو گئے۔
آپ کی کنیت ابا عبد اللہ تھی اور القاب: الرَّشيد، الوَفىّ، الطّيِّب، السّيد الزّكى، المبارك، التّابع لمرضاة اللَّه، الدّليل على ذات اللَّه والسِّبط، تھے۔
سید شباب اھل الجنہ اور سبط اصغر دو ایسے القاب ہیں جو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آپ کو عطا کئے۔
امام حسین (ع) کے چھ بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں۔ ۱: علی اکبر کہ جو کربلا میں شہید ہو گئے جن کی ماں لیلی ابومرۃ بن مسعود ثقفی کی بیٹی تھی۔ ۲: علی اوسط، ۳: علی اصغر، زین العابدین کہ جن کی ماں ” شاہ بانو” ایران کے بادشاہ یزدگرد کی بیٹی تھیں۔ لیکن شیخ مفید کے عقیدہ کے مطابق زین العابدین علی اکبر سے بڑے تھے۔ ۴: محمد۔ ۵: جعفر کہ جو پہلے ہی دنیا سے چل بسے تھے۔ ۶: عبد اللہ، شش ماہے جو کربلا میں اپنی گردن پر سہ شعبہ تیر کھا کر شہید ہو گئے۔ آ پ کی بیٹیاں سکینہ، فاطمہ اور زینب تھیں۔
واقعہ کربلا کے بعد آپ کی اولاد میں سے صرف امام زین العابدین باقی بچے تھے جن سے آپ کی نسل آگے بڑھی۔
اخلاقی فضائل

امام حسین علیہ السلام انسانی فضائل و کمالات اور اسلامی اخلاق کے نمونہ عمل تھے۔ سخاوت، کرامت، عفو و بخشش، شجاعت و بہادری، ظلم و ستم کا مقابلہ آپ کی آشکارا خصوصیات تھیں۔ یہاں پر آپ کے بعض فضائل و کمالات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
اسامہ بن زید حالت احتضار میں تھے امام حسین علیہ السلام عیادت کرنے انکے پاس گئے اور انہیں غمگین حالت میں دیکھا۔ سبب معلوم کیا تو انہوں نے کہا: ساٹھ ہزار درھم کا مقروض ہوں۔ اور اس بات سے ڈر رہا ہوں کہ کبھی ادا کرنے سے پہلے ہی مر جاؤں۔ آپ نے فرمایا: میں تمہارے مرنے سے پہلے اسے ادا کر دوں گا اور اس کے بعد آپ نے ان کا قرضہ ادا کر دیا۔
ایک دیہاتی آدمی آپ کی خدمت میں آیا اور کہا: ایک دیّت میری گردن پر ہے اسے ادا کرنے سے ناتوان ہوں۔ اور میں نے سوچا باکرامت ترین شخص سے اس کا مطالبہ کروں گا اور خاندان پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے زیادہ کریم کوئی شخص میں نے نہیں پایا۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: اے مومن بھائی میں تجھ سے تین سوال کروں گا۔ اگر ایک کا جواب دیا تو تمہاری دیّت کا ایک تہائی مال ادا کروں گا اور دو سوال کے جواب دئے تو دو تہائی اور تینوں کا جواب دیا تو پورا مال عطا کر دوں گا۔ اس آدمی نے کہا: آپ جیسا عالم اور شریف آدمی مجھ سے سوال کرے گا؟ فرمایا: ہاں، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے میں نے سنا ہے کہ ” المعروف بقدر المعرفۃ” نیکی انسان کی معرفت کی مقدار میں ہونا چاہیے۔ اس آدمی نے کہا: اچھا سوال پوچھئے اگر معلوم نہیں ہوں گے تو آپ سے معلوم کر لوں گا۔ آپ نے فرمایا:
سب سے بہترین عمل کون سا ہے؟ اس نے کہا: خدا پر ایمان۔ فرمایا: ہلاکت اور عذاب سے بچنے کا راستہ کیا ہے؟ کہا: خدا پر بھروسہ اور توکل۔ امام نے پھر پوچھا: مرد کی زینت کیا ہے؟ کہا: علم حلم اور بردباری کے ساتھ۔ فرمایا: اگر یہ اس کے پاس نہ ہو؟ ( یعنی علم اور حلم نہ رکھتا ہو) اس نے کہا: مال سخاوت کے ساتھ۔ فرمایا اگر یہ بھی نہ ہو؟ فقر صبر کے ساتھ۔ فرمایا: اگر یہ بھی نہ ہو؟ اس نے کہا: پس آسمان سے بجلی گرے اور مر جائے۔ امام حسین علیہ السلام مسکرائے اور ایک ہزار دینار کی تھیلی اسے عطا کی۔ اور ایک انگوٹھی جس کی قیمت دو سو درھم تھی اسے دی اور کہا ان پیسوں سے دیت ادا کرو اور انگھوٹھی بیچ کر اپنا خرچ چلاؤ۔ اس اعرابی نے پیسے لیئے اور کہا: خدا بہتر جانتا ہے کہ اس کی رسالت کا سزوار کون ہے؟
انصار کا ایک آدمی اپنی حاجت لے کر امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ امام (ع) نے فرمایا: اے میرے بھائی ! سوال کر کے اپنی آبرو ریزی نہ کرو اپنی حاجت ایک خط میں لکھ کر مجھے دو۔ اس نے لکھا : یا ابا عبد اللہ ! میں فلاں آدمی کا پانچ سو دینار کا مقروض ہوں۔ اس سے کہیئے کہ کچھ دن مجھے مہلت دے۔ امام (ع) خط پڑھنے کے بعد گھر تشریف لے گئے اور ایک ہزار دینار کی تھیلی لا کر اس کو دی اور فرمایا: پانچ سو دینار اس کا قرض دو اور پانچ سو اپنے بال بچوں پر خرچ کرو۔ اور اپنی حاجت کو کسی سے طلب نہ کرو مگر تین اشخاص سے: دیندار، سخی اور سید و سردار ۔ اس لیے کہ دیندار اپنی دینداری کا پاس و لحاظ رکھے گا۔ سخاوت مند اپنی سخاوت مندی سے شرم و حیا کر کے دے گا اور سید و سردار یہ جانتا ہے کہ جب آپ نے اس کے سامنے اپنی آبرو ریزی کی ہے تو اس کی حفاظت کرتے ہوئے آپ کی ضرورت کو پورا کرے گا۔
نقل ہوا ہے کہ روز عاشورا آپ کی پیٹھ پر گھٹوں کے نشان نکھائی دئے تو اس کا سبب امام سجاد علیہ السلام سے معلوم کیا گیا تو آپ نے فرمایا: آپ اپنی پیٹھ پر اناج کی بوریاں لاد کر یتیموں، بیواؤں اور بیکسوں کے گھروں میں پہنچاتے تھے۔
ایک دن آپ کا چند فقیروں کے پاس سے گذر ہوا جو عبا بچھا کر بیٹھے ہوئے سوکھی روٹیاں چبا رہے تھے۔ آپ نے ان پر سلام کیا اور ان کی دعوت قبول کرتے ہوئے ان کے پاس بیٹھ گئے اور کہا: اگر یہ روٹیاں صدقہ نہ ہوتیں تو میں بھی آپ کے ساتھ کھاتا۔ اس کے بعد انہیں اپنے گھر ساتھ لے گئے اور کھانا کھلایا پہنے کو لباس دیا اور ہر ایک کو کچھ درھم عطا کئے۔
فصاحت و بلاغت

مزید  حضرت ام البنین (ع)کی وفات

امام حسین علیہ السلام ایک بہترین سخنور تھے آپ ایسے گھر میں پروان چڑھے کہ جہاں الٰہی فرشتے کلام خدا لے کر نازل ہوتے تھے۔ جب آپ نے انکھیں کھولیں تو سب سے پہلے رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زبان مبارک سے آذان و اقامت کی صورت میں کلام وحی کو سنا۔ آپ کی معلم اور مربی آپ کی والدہ گرامی سیدہ کونین دختر رسول جناب زہرا (س) تھیں اور استاد آپ کے والد بزرگوار علی مرتضیٰ تھے کہ جن کا خطابت کے میدان میں عرب و عجم میں کوئی ماں کالال مقابلہ نہ کر پایا۔
حضرت سید الشھداء (ع) کے بہت سارے حکیمانہ خطبات نقل ہوئے ہیں کہ جن میں سے ایک خوبصورت اور لاجواب خطبہ صبح عاشور آپ نے فرمایا:
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذى‌ خَلَقَ الدُّنيا فَجَعَلَها دارَ فَناءٍ وَزَوالٍ، مُتَصَرِّفَةً بِأَهْلِها حالًا بَعْدَ حالٍ، فَالْمَغْرُورُ مَنْ غَرَّتْهُ وَالشَّقِىُّ مَنْ فَتِنَتْهُ، فَلا تَغُرَّنَّكُمْ هذِهِ الدُّنْيا، فَإِنَّها تَقْطَعُ رَجاءَ مَنْ رَكَنَ إِلَيْها وَتُخَيِّبُ طَمَعَ مَنْ طَمِعَ فيها وَأَراكُمْ قَدْ اجْتَمَعْتُمْ عَلى أَمْرٍ قَدْ أَسْخَطْتُمُ اللَّهَ فيهِ عَلَيْكُمْ. فأَعْرَضَ بِوَجْهِهِ الْكَريمِ عَنْكُمْ وَأَحَلَّ بِكُمْ نِقْمَتَهُ وَجَنَّبَكُمْ رَحْمَتَهُ فَنِعْمَ الرَّبُّ رَبُّنا وَبِئْسَ الْعَبْدُ أَنْتُمْ، أَقْرَرْتُمْ بِالطَّاعَةِ وَآمَنْتُمْ بِالرَّسُولِ مُحَمَّدٍ- صَلىَّ اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ- ثُمَّ إنَّكُمْ زَحَفْتُمْ إِلى ذُرِّيَّتِهِ وَتُريدُونَ قَتْلَهُمْ، لَقَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْكُمُ الشَّيْطانُ فَأَنْساكُمْ ذِكْرَ اللَّهِ الْعَظيمِ. فَتَبّاً لَكُمْ وَما تُرِيدُونَ، إنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ، هؤُلاءِ قَوْمٌ كَفَرُوا بَعْدَ إيمانِهِمْ فَبُعْداً لِلْقَوْمِ الظَّالِمينَ۔
تمام تعریفیں اس خدا عظیم کی ہیں جس نے دنیا کو خلق کیا اور اس کو فنا اور زوال کا گھر بنا دیا۔ دنیا اپنے اندر بسنے والوں کو ہر لمحہ دگرگوں بناتی ہے۔ مغرور وہ شخص ہے جس کو دنیا نے فریب دیا ہو اور بد بخت وہ ہے جس کو دنیا نے گمراہ کیا ہو۔ مبادا دنیا کا فریب کھاجاؤ۔ اس لیے کہ دنیا اس پر اعتماد کرنے والوں کے ساتھ قطع تعلق کرتی ہے اور اس کی لالچ کرنے والوں کو امید دلاتی رہتی ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں ایسے کام کو کرنے کی خاطر جمع ہوئے ہو کہ جس سے خدا غضبناک ہوا ہے۔ اور اس کریم اور مہربان خدا نے اپنا منہ تم لوگوں سے موڑ کر تمہارے لیے عذاب کا سامان فراہم کیا ہے۔ اور تم لوگوں کواپنی رحمت سے محروم کر دیا ہے۔ ہمارا پرودگار کتنا اچھا پرودگار ہے۔ اور تم لوگ کتنے برے لوگ ہو۔ تم لوگوں نے یہ قبول کیا تھا کہ خدا کے حکم کی اطاعت کروگے اور اس کے رسول (ص) پر ایمان لاؤ گے لیکن آج اس کی اولاد کے ساتھ جنگ کرنے آگئے ہو۔ اور انہیں قتل کرنے پر مصمم ہو۔ بتحقیق شیطان نے تم لوگوں پر غلبہ کر لیا ہے اور خدا کی یاد کو اپنے دلوں سے محو کر دیا ہے۔ وای ہو تم پر تم کس چیز کی تلاش میں ہو؟۔ ہم خدا کی جانب سے ہیں اور اس کی طرف ہماری بازگشت ہو گی۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایمان کے بعد کفر اختیار کر لیا ہے ۔ پس نابودی ہو ظالم قوم پر۔
شجاعت اور دلیری

مزید  حضرت عبدالعظیم حسنی کی زندگی پر سرسری نگاہ

امام حسین علیہ السلام نے گویا پوری دنیا کی شجاعت کو اپنے اندر سمیٹ رکھا تھا۔ آپ اس معمولی اور انگشت شمار دوست و احباب کے ساتھ یزید کے لاکھوں کی تعداد میں لشکر کے مقابلہ میں صف آرا ہو گئے اور جنگ کے یقینی ہونے کےبعد ذرہ برابر خوف و ہراس آپ کے چہرے پر ظاہر نہیں ہوا۔ اس کے باوجود کہ اپنی اور اپنے اصحاب کی شہادت پر یقین کامل رکھتے تھے پورے انتظام کے ساتھ اپنی مختصر سی فوج کو آمادہ کیا اور پورے اقتداراور دلیری کے ساتھ جنگ کو قبول کر لیا۔
آپ کی آنکھوں کے سامنے آپ کے اعزاء و اقرباء اور اصحاب و انصار خون میں غلتیدہ ہوگئے لیکن ہر گز آپ دشمن کے سامنے تسلیم نہیں ہوئے۔ اور جب اپنی جنگ کی باری آئی، تو شیر دلاور کی طرح دشمن پر ایسا حملہ کیا کہ ان کی صفوں کر چیرتے ہوئے لاشوں پر لاشے بچھا دئے۔
آپ نے ہر جنگی ٹیکنیک کو پوری امید کے ساتھ استعمال کرتے ہوئے ایسی جنگ کی کہ دشمن نے جنگی قوانین کو پامال کرتے ہوئے حیوانوں کی طرح آپ پر حملہ کیا۔
وہ لوگ جو آپ کے مد مقابل بر سر پیکار تھے کوچہ و بازار کے افراد نہ تھے بلکہ پیشاور اور ماہر جنگجو تھے لیکن آپ کی شجاعت کے سامنے سب نے گھٹنے ٹیک دئے اور اس بات کا اعتراف کیا کہ آج تک کسی کو ایسا نہ دیکھا کہ جس کی آنکھوں کے سامنے اس کی گودی کے پلے ہوئے اور لاڈلے ذبح کئے جائیں پھر بھی وہ تمام قوت کے ساتھ میدان کارزار میں اپنی شجاعت کا مظاہرہ کرے۔
برخلاف دشمن کے کہ جو حکومت اور اقتدار کی لالچ دلا کر لوگوں کو جنگ کرنے پر مجبور کر رہا تھا۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے اصحاب و انصار کو واپس چلے جانے اور جنگ کرنے میں اختیار دیا تھا۔ آپ نے اپنی اپنے مختصر سے لشکر کو دنیا پرستی اور پست عناصر سے پاک وپاکیزہ کر دیا تھا اور صرف وہی لوگ آپ کے ہمراہ آئے تھے جنہوں نے دنیا کو بیچ کر جنت کے مقامات خرید لئے تھے یہی وجہ تھی کہ دشمن نے کبھی بھی امام حسین (ع) اور ان کے اصحاب کے اندر ضعف اور ناتوانی کے آثار نہیں دیکھے۔
فوج اشقیاء کے چاروں طرف سے آپ کو گیر کر جو چیز انہیں میسر ہوئی اس سے آپ پر حملہ کیا لیکن پھر بھی شجاعانہ طریقہ سے دفاع کر رہے تھے اور دشمن کو نزدیک نہیں آنے دیا۔ ہاں، حسین ابن علی (ع) نے زخموں سے چھلنی بدن کے ساتھ زندگی کے آخری لمحہ تک فوج اشقیاء کے سیلاب کے سامنے جبل راسخ کی طرح ڈت کر مقابلہ کیا یہاں تک کہ جام شہادت نوش فرما لیا۔
حریت اور آزادی

امام حسین علیہ السلام کی شخصیت کی آشکارا صفات میں سے ایک صفت حریت اور آزادی تھی۔
امام حسین (ع) نے ذلت کو قبول نہیں کیا، ظلم وستم کے نیچے نہیں دبھے اور ظالموں کا آخری لمحہ تک منہ توڑ جواب دیا۔ یزید کے بر سر اقتدار آنے سے یہ احساس کیا کہ اسلامی اور انسانی قدریں نابود ہو رہی ہیں۔ اگر یزید جیسا شرابخوار، ہوس پرست اور زن باز اسلامی تخت خلافت پر بیٹھ جائے تو دین اور دینداری کا چراغ گل ہو جائے گااسی وجہ سے روز اول مروان کے سامنے بیٹھ کر یہ اعلام کر دیا:
جب بھی اسلامی حکومت کی باگ ڈور یزید جیسوں کے ہاتھ میں ہو تو ایسے میں اسلام کی فاتحہ پڑھنا چاہیے ۔ اپنے بھائی محمد حنفیہ کے جواب میں جو مسالحت کی دعوت دے رہے تھے فرمایا: چنانچہ پوری دنیا میں اگر کہیں پناہگاہ نہ ملے تب بھی یزید کی بیعت نہیں کی جائے گی۔
وہ حسین (ع) کہ جنہوں نے آغوش وحی میں تربیت حاصل کی تھی ہر گز اپنے ذاتی مفاد اور مصالح کی حفاظت کی خاطر اھداف رسالت کو پامال ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے تھے۔ جیسا کہ فرمایا تھا: ہم خاندان پیغمبر، آماجگاہ رسالت اور فرشتوں کی رفت و آمد کی جگہ ہیں۔ خدا وند عالم نے ہم سے آغاز کیا ہے اور ہمیں پر ختم کرے گا۔
مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔

آپ نے اپنی تحریک اور قیام کے اندر بھی حریت اور آزادی کو پیغام دیا ہے مدینہ سے مکہ کی طرف حرکت کرتےوقت آپ کو یہ پیشنہاد دی تھی کہ آپ بھی عبداللہ بن ذبیر کی طرح کہیں اور کا راستہ اختیار کریں لیکن آپ نے فرمایا: خدا کی قسم میں اس راستے کو نہیں چھوڑ سکتا جب تک کہ خدا جو چاہے میرے مقدر میں لکھ دے۔ جب جناب حر نے آپ پر راستہ روکا اور آپ سے کہا گیا کہ خدا کے لیے اپنا راستہ بدل دیں اور جان بچالیں اگر جنگ کریں گے تو قتل ہو جائیں گے۔ آپ نے فرمایا: میری روش اور منطق اس اوسی بھائی کی طرح ہے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نصرت کا قصد رکھتا تھا لیکن اس کا چچیرا بھائی اسے موت کا خوف دلا رہا تھا اس نے جواب میں کہا:
میں جاؤں گا اس لیے کہ جب تک مرد مجاہد کی نیت حق رہے اور اسلام کی راہ میں جنگ کرتا رہے موت اس کے لیے ننگ و عار نہیں ہے۔
میں اپنی جان کو قربان کرتا ہوں اس کے باقے رہنے کی آرزؤں نہیں کرتا۔ یہاں تک کہ دو چھوٹے اور بڑے لشکر آپس میں معرکہ آراء نہ ہو جائیں۔
اگر زندہ رہ گیا تو پشیمان نہیں ہوں اور اگر قتل ہو گیا تو سرزنش نہ کریں مرد کے لیے یہی سب سے بڑی ذلت ہے کہ وہ زندہ رہے لیکن ظالم کے حکم کی اتباع کرتا رہے۔
دشمن کے پاس عظیم لشکر تھا اور امام حسین علیہ السلام کے مختصر اصحاب و انصار انے مقابلہ میں ناچیز تھے۔ لیکن علی (ع) کے لال اس لشکر غفیر کو اپنے مد مقابل کے لیے کچھ بھی سمجھ رہا تھا اس لیے وہ پست و ضمیر فروش لوگ تھے اور انسانی اعلی قدروں کے لیے کسی حرمت کے قائل نہیں تھے اسی وجہ سے ان کی بے غیرت مندانہ رفتار کو دیکھ کر آپ نے فرمایا:
«انْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ دينٌ وَكُنْتُمْ لا تَخافُونَ الْمَعادَ فَكُونُوا أَحْراراً فِى دُنْياكُمْ …» اگر تمہارے پاس دین نہیں ہے اور قیامت سے نہیں ڈرتے تو کم سے کم اپنی زندگی میں آزاد تو رہو۔۔۔۔
صلح امام حسن (ع) کے دور میں

مزید  اسلام کي روحاني طاقت

حضرت امام حسن علیہ السلام نے اپنے دور کے سیاسی۔ سماجی اور عسکری شرائط کے پیش نظرمعاویہ کے ساتھ ایسا عہد و پیمان کر جس اسلامی قدروں کا محفوظ رکھا جا سکتا تھا جنگ کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا۔ لیکن خود خوواہ اور زیرک عناصر اس بیچ اس صلح پر راضی نہ تھے امام حسن علیہ السلام کے ساتھ مخالف کا اظہار کرتے ہوئے امام حسین علیہ السلام کو بھی اس صلح سےکنارہ کشی کی ترغیب دلاتے تھے۔لیکن امام حسین علیہ السلام نے ان کی پیشنہادوں کو در کرتے ہوئے فرمایا ہم نے بیعت کر لی ہے اور بیعت ٹورنے کا ابھی کوئی راستہ ہمارے پاس نہیں ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ اس وقت منصب امامت پر امام حسن علیہ السلام فائز ہیں ان کے ساتھ مخالفت جائز نہیں ہے۔
امام حسن (ع) کی شہادت کے بعد جب تک معاویہ زندہ تھا پیمان صلح کی بنا پر آپ نے اس کے ساتھ عہد و پیمان نہیں توڑا اور کسی طرح کا قیام اس کے خلاف نہیں کیا۔ جو اس کے ساتھ مخالفت کی دعوتیں دیتے تھے آپ فرماتے تھے کہ جب تک معاویہ زندہ ہے ہم پیمان صلح کی وجہ سے اس کے ساتھ مخالفت کا حق نہیں رکھتے۔
امام حسن (ع) اور معاویہ کے درمیان پیمان صلح کی بنا پر معاویہ اپنے بعد جانشین مقرر کرنے کا حق نہیں رکھتا تھا ایک دن مغیرہ بن شعبہ کہ جو کوفہ کی سربراہی سے معزول ہوا تھا معاویہ کے پاس آیا اور اسے پیشنہاد دی کہ اپنے بعد یزید کو جانشین مقرر کرے۔ معاویہ اس پیشنہاد کو عملی جامہ پہنانے میں مردّد تھا لیکن مغیرہ نے اسے دعدہ دیا کہ وہ کوفہ اور بصرہ کے لوگوں سے اس کے لیے بیعت لے گا اور ان شہروں کی بیعت کے بعد مخالفت کوئی معنی نہیں رکھتی۔
اس کے بعد معاویہ نے بھی کوشش کرنا شروع کردی کہ یزید کے لیے ہر ممکن صورت میں بیعت لے اور چونکہ سب زیادہ مخالف لوگ اس کے حجاز میں تھے لہذا حاکم مدینہ کو حکم دیا کہ وہ امام حسین (ع) اور چند دوسرے سر کرفہ افراد سے یزید کے لیے بیعت لے لے۔ اس تلاش و کوشش کے ناکام ہونے کے بعد وہ خود مکہ و مدینہ میں عزم سفر ہوا اور لوگوں کے درمیان اس پیشنہاد کو رکھا لیکن اس کوشش بھی ناکام رہ گئی اور وہ واپس شام آنے پر مجبور ہو گیا۔
معاویہ کی مرگ کے بعد سب سے پہلا سیاسی اقدام یہ تھا کہ امام حسین اور چند دوسرے افراد سے یزید کے لیے بیعت حاصل کی جائے۔ لیکن امام حسین (ع) یزید کی بیعت کرنے پر راضی نہیں ہوئے اور اس کے مقابلہ میں قیام کرنے پر تیار ہوگئے۔ حاکم مدینہ نے یزید کے حکم کے مطابق امام حسین(ع) کو اس کام کے لیے مجبور کرنے کی کوشش کی۔ لیکن آپ نے اپنا وطن مدینہ چھوڑا اور مکہ کی طرف چل پڑے۔ کوفہ کے لوگوں کو محض خبر ملتے کہ امام یزید کی بیعت کے مخالف ہیں اور نتیجہ میں اس کی مخالف میں قیام کرنا چاہتے ہیں ان کی طرف خطوط کے ڈھیر لکھنا شروع کر دئے کہ امام ان کے شہر یعنی کوفہ میں تشریف لے جاکر حکومت اسلامی کی زمام کو اپنے ہاتھ میں لیں۔ ان کے خطوط کے مضامین تقریبا کچھ اس طرح کے تھے: “ہمارے ہاں کوئی امام نہیں ہے۔ آپ آجائیے ۔ خدا آپ کےذریعے ہمیں حق کی طرف ہدایت کرے گا” امام علیہ السلام نے بھی فریضہ الہی پر عمل کرتے ہوئے اور حجت تمام کرتے ہوئے یہ ارادہ بنا لیا کہ ان کے تقاضہ و پورا کیا جائے۔
اس دوران مکہ میں کئی شخصیات آپ کو اس کام سے روکنے کی غرض آئیں۔ منجملہ ابن عباس نے اس سلسلے میں امام (ع) سے گفتگو کی اور کہا اگر کوفہ کے لوگ اپنے حاکم کو قتل کرکے حکومتی امور کو اپنے ہاتھ میں لیں اور اپنے دشمنوں کو اپنے شہر سے باہر کریں تو ٹھیک ہے آپ جائیں۔ لیکن اگر ان کا حاکم ان پر حکومت کر رہا ہو اور وہ اس کو ٹیکس اور جزئیہ ادا کرتے ہوں تو ایسی حالت میں آپ کو دعوت صرف جنگ و جدال کے ہو گی۔ ابن عباس نے مزید کہا اگر سچ مچ آپ کو مکہ بھی چھوڑنا تو یمن کی طرف چلے جائیے اور اپنا آپ بچا لیجیئے۔
اس کے بعد عبد اللہ بن زبیر نے بھی اصرار کیا کہ آپ مکہ میں ہی ٹھر جائیں اس لیے کہ مکہ میں آپ کا مقام و منزلت عظیم ہے۔ اور لوگ یہی پر آپ کے حکم کی اتباع کریں گے۔
اس باوجود ان میں سے بعض باتیں منطقی اور بظاہر صحیح معلوم ہوتی ہیں لیکن امام (ع) نے کسی ایک کی بھی نہ سنی اور سب کی باتوں کی تردید کی۔ آخر کیوں؟ اس بات کو راز امام (ع) کے عقیدہ اور دوسرے لوگوں کے طرز تفکرات میں نہفتہ تھا۔ وہ لوگ سیاسی اور فوجی نگاہ سے اس مسئلہ کی طرف دیکھتے تھے اور نتیجہ میں امام (ع) کی بنی امیہ پر کامیابی کو امر محال سمجھتے تھے۔ لیکن امام (ع) ان خبروں کی بنا پر جو آپ کے نانا اور بابا کی طرف سے آپ کی شہادت کے بارے میں نقل ہوئیں تھی اورآپ کے لیے تعیین تکلیف کر رہی تھیں آگے بڑھ رہے تھے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فرمادیا تھا کہ میرا بیٹا حسین (ع) بنی امیہ کےہاتھوں شہید ہوگا۔ اور امام حسین (ع) قضای الٰہی کے سامنے تسلیم تھے اور الہی الھامات کی بنا پر قدم اٹھا رہے تھے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.