امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی صلح اور اس کے نتائج(٤٠ ھ تا ٦٠ ھ) (حصہ اول)

0 4

مقدمہ

اہلیبیت علیھم السلام کی کرشماتی و لازوال خصوصیات کی حامل شخصییات کو جاننے اور ماننے کے لیے کسی تمہید کی ضرورت نہیں. وقت کی ضرورت کے پیش نظر دل چاہا کہ اہلیبیت علیہ السلام کے ایک ایسے نفس کے دور امامت میں واقع ہونے والے تمام واقعات کے اصل حقائق بیان کروں جن کا انہوں نے اپنے دور میں سامنا کیا

میرے عنوان کا مرکز سکون دل مصطفیٰ علیہ السلام ، علی علیہ السلام کی آنکھوں کے نور ، چراغ بیت زہرا علیہ السلام ، جنّت کے جوانان کے سردار، سبز قبا حضرت امام حسن علیہ السلام ہیں.

خدا علامہ سید علی نقی کے درجات بلند فرماتے، ان کی کتاب ‘شہید انسانیت ‘ سے امام ع کے بارے میں اقتباس سے یہ سلسلہ کچھ اقساط میں لکھا جارہا ہے

 

٭٭٭————— امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی صلح اور اس کے نتائج(٤٠ ھ تا ٦٠ ھ)————٭٭٭٭

جناب امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب نے انتقال سے پہلے ایک تحریری وصیت نامہ امام حسن علیہ السلام کے نام لکھا اور اس پر امام حسین علیہ السلام اور محمد بن حنفیہ اور اپنی دیگر اولاد و عزا اور مخصوص اصحاب کی گواہیاں لکھوائیں اور وصیت نامہ حضرت حسن علیہ السلام کے سپرد کرتے ہوے فرمایا کہ دنیا سے رخصت ہوتے وقت تم اسے حسین علیہ السلام کے سپرد کر دینا.( کافی ج ١ ) اس کے علاوہ اپ نے ایک وصیت امام حسن و حسین ع کو مشترک طور پر فرمائی جو یہ تھی :

 

__________***وصیت جناب امیر المومنین براۓ حسنین علیہ السلام ***_____________

میں تم کو فرض شناسی کی وصیت کرتا ہوں اور یہ کہ تم کبھی دنیا کے طلب گار نہ ہونا چاہے وہ دنیا خود تمہاری طلب گاری کرے، اور کسی دنیوی کام پر رنجیدہ نہ ہونا اور ہمیشہ حق کے لیے زبان کھولنا اور ثواب کے لیے کام کرنا، ظالم کے مقابلے میں مظلوم کی مدد کرنا، میں تم اور اپنی سب اولاد اور ان لوگوں تک میرا پیغام پوھنچاو کہ میں وصیت کرتا ہوں کہ ہمیشہ خدا سے ڈرتے رہنا اپنے شیرازہ کو منتشر نہ ہونے دینا، اپنے درمیانی جھگڑوں کو صلح سے طے کرنا، یتیموں کا خیال کرنا اور ان کی خبر گیری کرنا، پڑوسیوں کا خیال رکھنا، دیکھو رسول الله نے فرمایا تھا کہ قرآن کا خیال رکھنا اس لئے کہ تم سے بڑھ کر قران پر عمل کرنے والا نہیں اور نماز کا خیال کرنا یہ تمہارے دین کا ستون ہے ، الله کے گھر کا خیال رکھنا زندگی بھر اس کو اکیلا نہ چھوڑنا، دیکھو خدا کی راہ میں اپنے جان و مال اور زبان سے جہاد کرتے رہنا اپس میں صلہ رحم رکھنا خدا کی خلق کو نیک اعمال کی ترغیب دینے اور بد اعمالیوں سے روکنے سے باز نہ آنا تا کہ تم پر برے لوگوں کا اقتدار نہ ہونے پاۓ، اور دیکھو میرے بعد ایسا نہ ہو کہ بنی ہاشم مسلمانوں میں میرے خون بہانے سے خونریزی شروع کر دیں. زیادہ سے زیادہ میرے خون کے قصاص کے طور پر بس میرے قاتل کو قتل کیا جا سکتا ہے اور وہ بھی اس طرح کے اس کو ایک ضربت کی پاداش میں ایک ضرب لگائی جائے، اس کو ہرگز مثلہ نہ کیا جائے یعنی اعضاء و جوارح قطعا نہ کیے جایں، اس لیے کہ رسول اللہ فرما گئے ہیں کہ خبردار کسی کو مثلہ نہ کیا جائے چاہے وہ کاٹنے والا کتا ہی کیوں نہ ہو.”

نفسیات کے واقف کار بہتر جانتے ہیں کچھ وہ حالات ہوتے ہیں جن میں بات پتھر کی لکیر کی طرح سننے والے کے دل پر جم جاتی ہے، اور ایسے بزرگ والد جو بستر بیماری پر پڑا ہے ان کی اطاعت واجب لی ہے ان کے بیٹوں نے. اور جب ان کی رحلت کا وقت قریب آیا تو وہ اپنے تمام اہلبیت میں سے دو سعید فرزندوں کو خصوصیت کے ساتھ بلا کر کوئی خاص بات کہتا ہے یقینا اس وقت کی کہی ہوئی بات ان فرزندوں کے دل و دماغ پر ایسا اثر کرے گی جیسا کسی دوسرے صبر و سکون کے لمحوں میں اثر نہیں کر سکتی.

یوں تو یہ وہ فرزند تھے جو خود صحیح اور مناسب ہی کام کیا کرتے تھے مگر حضرت علی کو تو بظاھر اپنا فرض انجام دینا تھا جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ وصیتوں کا ہر ہر لفظ سعادت شعار بیٹوں کے دل پر نقش ہو جائے. یہ الفاظ ہمیشہ ان کے کانوں میں گونجتے رہیں. یہ الفاظ کہ خدا کی راہ اپنے جان و مال اور زبان سے جہاد کرتے رہنا، امر با لمعروف اور نہی عن المنکر کو کبھی ترک نہیں کرنا ایسا نہ ہو برے لوگ اقتدار میں آ جاییں ، خصوصیت کے ساتھ ان کو عملی جامہ پہنانے کا جس طرح حسین ع کو موقع ملا وہ دنیا کی تاریخ میں یادگار ہے.

حضرت علی علیہ السلام کے بعد تمام مسلمانوں نے متفقہ طور پر آپ کے بڑے فرزند امام حسن علیہ السلام کی خلافت تسلیم کی.

 

_________*** بیعت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام ***____________

حضرت علی علیہ السلام کے بعد تمام مسلمانوں نے متفقہ طور پر امام حسن ع کی خلافت تسلیم کی . آپ پر اپنے والد کی وفات کا بہت گہرا اثر تھا. آپ نے اس موقع پر جو خطبہ ارشاد فرمایا اس میں حضرت علی ابن ابی طالب کے فضائل و مناقب کے ساتھ بیان کرتے ہوے خاص طور پر آپ کی سیرت و ترک دنیا کیا اور اس ذکر میں گریہ آپ کے گلو گیر ہوا اور تمام حاضرین بھی آپ کے ساتھ بے اختیار رونے لگے. پھر آپ نے اپنے ذاتی اور خاندانی فضائل بیان کیے .اس کے بعد عبدللہ بن عبّاس نے کھڑے ہو کر لوگوں کو آپ کی بیعت کرنے کی طرف دعوت دی اور سب نے برضا و رغبت آپ کی بیعت کی- یہ جمعہ کے دن ٢١ رمضان ٤٠ ھ کا واقعہ ہے. آپ نے اسی وقت لوگوں سے صاف صاف یہ قول و قرار لے لیا تھا کہ اگر میں صلح کروں تو تم کو صلح کرنا ہو گی اور اگر میں جنگ کروں `تو تمھیں میرے ساتھ جنگ کرنا ہوگی. اس کے بعد آپ ملک کے بندوبست کی طرف متوجہ ہوے- اطراف میں عمال مقرر کئیے، حکام معین کیے اور مقدمات کے فیصلے کرنے لگے-

 

______________***معاویہ کی حکومت میں دراندازی ***_______________

ابھی ملک حضرت علی کے غم میں سوگوار ہی تھا اور حضرت امام حسن علیہ السلام پورے طور پر انتظامات بھی نہ کر چکے تھے کہ معاویہ کی طرف سے آپ کی مملکت میں دراندازی شروع ہو گئی اور ان کے خفیہ کارکن ریشہ دوانیاں کرنے لگے. چناچیہ ایک شخص قبیلہ حمیرہ کا کوفہ میں اور ایک شخص بنی قین میں سے بصرہ میں پکڑا گیا – یہ دونوں اس مقصد سے آے تھے کہ یہاں کے حالات سے دمشق میں اطلاع دیں اور فضا کو امام حسن علیہ السلام کے خلاف ناخوشگوار بنائیں. غنیمت یہ کہ انکشاف ہو گیا- حمیر والا آدمی کوفہ میں ایک قصائی کے گھر سے اور قین والا بصرہ میں بنی سلیم کے یہاں سے گرفتار کیا گیا اور دونوں کو جرم کی سزا دی گئی . اس واقعہ کے بعد حضرت امام حسن علیہ السلام نے معاویہ کو ایک خط لکھا.

مزید  قرآن مجید کاتعارف

 

_______________***امام حسن علیہ السلام کا معاویہ کو خط ***________________

جس کا مضمون یہ تھا

” تم اپنی دراندازیوں سے باز نہیں آتے ہو- تم نے لوگ بھیجے ہیں کہ میرے ملک میں بغاوت پیدا کرائیں اور اپنے جاسوس پھیلا دیے ہیں. معلوم ہوتا ہے کہ تم جنگ کے خواہشمند ہو- ایسا ہے تو پھر تیار رہو یہ منزل کچھ دور نہیں نیز مجھ کو خبر ہوئی ہے کہ تم نے میرے باپ کی وفات پر طعن و تشنیع کے الفاظ کہے. یہ ہرگز کسی ذی ہوش آدمی کا کام نہیں ہے موت سب کے لیے ہے آج ہمیں اس حادثہ سے دوچار ہونا پڑا کل تمھیں ہوگا اور حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنے مرنے والے کو مرنے والا نہیں سمجھتے. وہ تو ایسا ہے جیسے کوئی ایک مکان سے منتقل ہو کر اپنے دوسرے مکان میں جائے اور آرام کی نیند سو جائے.

اس خط کے بعد معاویہ اور امام حسن علیہ السلام کے درمیان بہت سے خطوط کا تبادلۂ ہوا

 

____________***مقصد معاویہ کا واضح ہونا ***____________

معاویہ کی ان حرکتوں سے اور کچھ ہو نہ ہو اس کے مقصد کا واضح ہونا صاف نظر آتا ہے کہ امیر شام کو جناب امیر ع کی ذات سے کوئی وقتی عداوت نہ تھی ورنہ وہ ان کی شہادت کے ساتھ ختم ہو جاتی بلکہ یے آل رسول سے ایک مستقل دشمنی ہے جس کے نتائج بہت آگے تک نظر آے .

یہ بھی اس واقعہ سے ثابت ہو گیا کہ ملک میں دشمن کے جاسوس اور مخبروں کے لیے جائے پناہ موجود ہے. اور ایک واقعیات کا انکشاف ہوا اور دو آدمی گرفتار ہو گئے تو یہ یقین کیا جا سکتا ہے کہ ایسے ہی کچھ دوسرے لوگ بھی موجود تھے جن کا انکشاف نہیں ہو سکا اور انہیں کافی موقع مل رہا تھا امام کے خلاف کام کرنے کا.

بہرحال امام دشمن کے مقابلہ کے لیے تیار تھے اور حق کے بارے میں اس کے ساتھ کوئی مراعات کرنے پر آمادہ نہ تھے. لیکن آپ کو اور آپ کے ساتھ امام حسین علیہ السلام کو اپنے ملک کی فضا کی طرف سے بے اطمینانی ضرور تھی اس لیے کہ خوارج کے فتنہ کے بعد خود اہل کوفہ میں پھوٹ پڑ چکی تھی اور بہت سے لوگ بظاھر حضرت علی ع کی فوج میں شامل تھے مگر قرابت، دوستی ، یا کسی وجہ سے خوارج کے ساتھ ہمدردی رکھتے تھے. اور امام علی کے بعد امام حسن کو ایسے لوگوں کی کثرت سے جماعت ملی.

 

______*** امام علی ع کی دور حکومت کے اصحاب جو امام حسن ع کی دور تک رہے  ***________

حضرت امیر کو خود ان لوگوں کی شورش پسندی، اختلاف راۓ اور نظم کی کمی سے اتنی تکلیف اور پریشانی تھی کہ آپ موت کے آرزومند تھے- تمام کتب تاریخ اور خاص کر نہج البلاغہ میں آپ کے وہ خطبے درج ہیں جو آپکی کبیدہ خاطری بلکہ روحانی تکلیف کے مظہر ہیں. آپ نے ان کو مخاطب کر کے کبھی فرمایا کہ ‘ تم نے میرا دل پیپ سے بھر دیا ہے اور میرے سینے کو غم و غصّہ سے پر کر دیا ہے. کبھی فرمایا کہ کاش معاویہ میرے ساتھ اپنی جماعت کا تمہاری جماعت سے تبادلۂ کر لیتا. اس طرح سونے کے سکّے کا چاندی کے سکّے سے ہوتا ہے. یعنی تم میں سے دس لے لیتا اور اپنوں میں کا ایک مجھے دے دیتا. کبھی فرمایا کتنے افسوس کی بات ہے کہ اہل شام باطل راستے پر متفق ہیں اور تم حق راستے پر ہو کر باہم تعاون نہیں رکھتے. اہل شام اپنے حاکم کی اطاعت کرتے ہیں حالاں کہ وہ خدا کی نافرمانی کرتا ہے اور تم اپنے امام کا کہنا نہیں مانتے حالاں کہ وہ خدا کی اطاعت کرتا ہے- اور کبھی فرمایا کہ تم لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جہاد کے لیے چلو جاڑے کے زمانے میں تو تم کہتے ہو کہ یہ کڑاکے کا جاڑا ہے ہمیں اتنی مہلت دی جائے کہ سردی کم ہو جائے اور جب تم سے کہا جاتا ہے گرمی کے زمانہ میں تو کہتے ہو یہ تو ترا ٹے کی گرمی ہے. اتنی مہلت دی جائے کہ یہ گرمی کم ہو جائے. افسوس ! تم گرمی اور سردی سے اتنا بھاگتے ہو تو تلوار کی آنچ سے اور زیادہ بھگو گے_

یہی وہ جماعت تھی جس سے امام حسن کو سابقہ پڑا تھا-

 

__________*** معاویہ کی در اندازیاں اور جنگ کی با قاعدہ تیاری ***_________

امام حسن علیہ السلام بھی ان لوگوں کی حالتوں سے واقف تھے اور یقینا امیر شام کو بھی اپنے جاسوس کے ذریعہ سے یہاں کے حالات کا علم ہو گیا ہو گا اور وہ یہ بھی سمجھتے ہوں گے کہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی جو ہیبت تمام عرب کے قلوب پر چھائی ہوئی تھی وہ بلکل اسی درجہ پر حضرت حسن علیہ السلام کے لیے ابھی حاصل نہیں ہو سکتی اس لئے انہیں ہمّت ہوئی کہ وہ یکایک عراق پر حملہ کر دیں چناچہ وہ اپنی فوجوں کو لے کر جسر منج تک پہنچ گئے. اب امام حسن علیہ السلام نے بھی مدافعت کے انتظامات شروع کے اور حجر بن عدی کو بھیجا کہ وہ دورہ کر کے تمام مقامات کے عاملوں کو صورت حال کا مقابلہ کرنے پر آمادہ کریں اور لوگوں کو جہاد کے لیے تیار کریں مگر اندازہ کے باکل مطابق یہ افسوسناک صورت حال سامنے آئی کہ لوگوں نے حجر بن عدی کی کوشش کا گرم جوشی کے ساتھ استقبال نہیں کیا. ام طور پر جمود اور سرد مہری سے کام لیا گیا

.

________*** جماعت میں شامل لوگوں کی تعداد اور ان کے حالات ***________

کچھ تھوڑی سی جماعت مقابلہ کے لیے تیار ہوئی تھی تو اس میں کچھ حصّہ خوارج کا تھا جو کسی نہ کسی حیلہ سے معاویہ سے جنگ کرنا ہی چاہتے تھے- کچھ شورش پسند اور مال غنیمت کے طلب گار اور کچھ لوگ صرف اپنے سرداران قبائل کے دباؤ سے بادل ناخواستہ ساتھ ہو گئے تھے جنہیں فرض کے احساس سے کوئی واسطہ نہ تھا. تھوڑے لوگ وہ ہوں گے جو واقعی حضرت علی ہم امام حسن کے شیعہ سمجھے جا سکتے ہیں.

بہر حال حضرت امام حسن نے قیس بن سعد بن عبادہ انصاری کو بیس ہزار کی فوج کے ساتھ روانہ کیا اور خود مقام دیر کعب کے قریب سا باط میں جا کے قیام کیا. یہاں پوھنچ کر نمایاں طور سے آپ کو اپنے ساتھیوں کی سرد مہری کا مشاہدہ ہوا. آپ نے ان لوگوں کو جمع کر کے خطبہ ارشاد فرمایا.

مزید  ماہ مبارک رمضان اور ہم

 

________*** امام کا اپنی فوج سے خطاب ***_________

” دیکھو میں تمام خلق سے زیادہ خلق خدا کا بہی خواہ ہوں اور مجھے کسی مسلمان سے کینہ نہیں. آگاہ ہونا چاہیے کہ اتفاق و اتحاد چایے تمھیں نا پسند ہو اختلاف و افتراق سے بہتر ہے چاہے وہ تمھیں کتنا ہی پسند ہو. یاد رکھو کہ میں تمہارے فائدے کے لیے تم سے بہتر سوچنے کا حق رکھتا ہوں. تم کو لازم ہے کہ میری راے سے انحراف اور میرے حکم کی مخالفت نہ کرو- “

 

______***امام کے خطاب کے بعد خوارج کا رد عمل***_______

آپ کی تقریر کا ختم ہونا تھا کہ مجمع میں بد نظمی پیدا ہو گئی اور خوارج نے پکار پکار کر کہنا شروع کیا کہ یہ کافر ہو گئے ہیں، کچھ لوگوں نے آپ پر حملہ کر کے آپ کے قدموں کے نیچے سے مصلہ کھینچ لیا اور دوش مبارک پر سے چادر بھی اتار لی. آپ فورا گھوڑے پر سوار ہوے اور آواز بلند سے پکارا کہ کہاں ہیں ربیعہ اور ہمدان – یہ دونوں قبیلے ادھر ادھر سے دوڑ پڑے اور شورش پسندوں کو آپ سے دور کیا.

ابن جریر کی روایت یہ ہے کہ کسی نے خبر اڑا دی کہ قیس بن سعد قتل ہو گئے بس اس پر یہ عذر مچ گیا اور وہ خیمہ جس میں امام حسن علیہ السلام کا قیام تھا لوٹ لیا گیا یہاں تک کہ جس بچھونے پر آپ تھے اسے آپ کے نیچے سے کھینچ لیا گیا.

اس کے بعد آپ مدائن کی طرف ہو گئے مگر وہاں پوھنچنے پر جراح بن قبیصہ اسدی نے جو انہی خوارج میں سے تھا کمینگاہ میں چھپ کر خنجر سے حملہ کر دیا جس سے آپ زخمی ہو گئے عرصۂ تک مدائن میں علاج کے بعد آپ اچھے ہوے اور پھر معاویہ سے مقابلہ کی تیاری کی-

 

_____*** معاویہ کی صلح کی پیشکش ***______

معاویہ نے آپ کے پاس پیغام بھیجا کہ آپ جن شرائط پر چاہییں صلح کرنے پر تیار ہوں اور اس کے ساتھ آپ کی فوج کے ان سرداروں کے خطوط بھی روانہ کر دیے جنہوں نے خفیہ طور پر طور پر معاویہ سے ساز بازی کرنا چاہی اور دعوت دی تھی کہ آپ آیے تو ہم حسن کو گرفتار کر کے آپ کے سپرد کر دییں گے یا ان کو قتل کر ڈالیں گے.

امام حسن علیہ السلام پہلے ہی اپنے ساتھیوں کی غداری سے واقف تھے اور اس لئے جنگ کو مناسب وقت خیال نہیں کرتے تھے لیکن یہ ضرور چاہتے تھے کہ کوئی ایسی صورت حال پیدا ہو کہ باطل کی حمایت کا دھبہ بھی میرے دامن پر نہ آنے پاے. اس خاندان کے لوگوں کو حکومت و اقتدار کی تو ہاؤس کبھی رہی نہیں، انہیں تو مطلب اس سے تھا کہ مخلوق خدا کی بہتری ہو اور حدود و حقوق الہی کا اجر ہو. اب معاویہ نے جو آپ سے منہ مانگے شرائط پر صلح کرنے کی آمادگی ظاہر کی تو آپ نے نانا اور اپنے والد کی دیکھی ہوئی سیرت کے مطابق مصالحت کے بڑھتے ہوے ہاتھ کو ناکام واپس نہیں کیا. آپ نے صلح کی شرائط مراتب کر کے معاویہ کے پاس روانہ کیے – وہ تمام شرائط جن سے قانونی طور پر آئین و شریعت کا تحفظ ہو جاتا ہے چناچے صلح کی دستاویز مکمل ہوئی اور جنگ کا خاتمہ ہو گیا.

 

_______*** صلح حسن ع میں کردار امام حسین علیہ السلام ***_________

حضرت امام حسین علیہ السلام اپنے باپ کی وفات کے بعد اپنے بڑے بھائی حضرت ام حسن علیہ السلام کے ساتھ ان سرد گرم حالات کا برابر مطالعہ کر رہے تھے- انہوں نے ان واقعیات پر کبھی ایک غیر متعلق انسان کی طرح نظر نہیں ڈالی بلکہ وہ اس کو اپنی سرگزشت سمجھتے تھے اور جانتے تھے کہ ہمیں اسی حال پر مستقبل کی عمارت کو بلند کرنا ہے. اس وقت کے واقعیات کا یہ پہلو بہت اہم تھا کہ ساتھیوں کی کثرت اور جمعی پر اعتماد کا خیال کلیتہ دو رازکار ہے- حسین علیہ السلام اپنے والد بزرگوار کے ساتھ ایک دفعہ ان ساتھیوں کے طرز عمل کو دیکھ لیا کہ خود اپنی فوج کے ہاتھوں کس طرح ان کے بھائی کی جان خطرے میں پڑ گئی تھی ممکن ہے کسی وجہ سے اس وقت حسین اپنے بڑے بھائی کے پاس موجود نہ ہوں اور ایسا ہی معلوم ہوتا ہے اس لئے اس سخت اور ناگوار موقع پر کوئی تذکرہ امام حسین علیہ السلام کا نظر نہیں آتا مگر انہوں نے یقینا ان حالات کو درد مندانہ طریقہ پر سنا اور اس زخم کو دیکھا ہو گا جو ان کے بھائی کے جسم پر خود اپنے ساتھ والوں میں سے کسی کے ہاتھ سے آ گیا تھا اور اس کا اثر ان کے حساس دل پر جتنا ہوا ہو وہ کم ہے.

اس کے علاوہ آپ نے اپنے بزرگوں کی سیرت میں ایک دفعہ یہ نمونہ اور دیکھ لیا کہ امن عالم کے لیے نقطۂ اول صلح و سلامتی ہے . جنگ کا درجہ صلح کے بعد ہے اور صلح کے امکانات پیدا ہونے تک ہے اس لیے صلح کے خیال کو جنگ کے پہلے اور جنگ کے دوران میں ہمیشہ پیش نظر رکھنا چایے- دشمن سے صلح کی گفتگو کو کبھی اپنی خوداری کے خلاف نہ سمجھو چاہے جذباتی لوگ اس پر معترض بھی ہوں اور چاہے اس کے لیے تمھیں اپنے جاہ و اقتدار راحت و آرام یا کسی دوسرے شخصی مفاد کی قربانی بھی کر دینا پڑے مگر یہ خیال ضروری ہے کہ اس صلح کے اندر کوئی ایسا اصول پامال نہ ہونے پاے جس کا محفوظ رکھنا بہر حال اپنا مقدس فریضہ ہے. یہی نمونہ حسین علیہ السلام نے اپنے نانا سے دیکھا تھا یہی ان کو اپنے باپ کے کے یہاں نظر آیا اور یہی اب ان کو اپنے واجب الاطاعت بھائی امام حسن علیہ السلام کی جانب سے پیش نظر آیا تھا-

ایک بات ضمنی طور پر اور دوبارہ سامنے آ گئی ، وہ یہ کہ سچائی کے راستے میں اگر اتمام حجت کی ضرورت ہو تو دوست نہیں بلکہ دشمن کے بھی اقرار پر بھروسہ کر لینا چاہیے-

 

______**صلح نامہ کی شرائط **_________

اس صلح نامہ کے مکمل شرائط جو علامہ ابن ہجر مکّی نے درج کیے حسب ذیل ہیں :

*١* یہ کہ معاویہ حکومت اسلام میں کتاب خدا اور سنت رسول اور صحیح راستے پر چلنے والے خلفا راشدین کے طریقہ پر عمل کریں گے-

*٢* یہ کہ معاویہ کو اپنے بعد کسی خلیفہ کو نامزد کرنے کا حق نہ ہو گا-

*٣* یہ کہ شام و عراق و حجاز و یمن سب جگہ کے لوگوں کے لیے امان ہو گی.

*٤* یہ کہ حضرت علی علیہ السلام کے شیعہ اور اصحاب جہاں بھی رہیں گے ان کے جان اور مال اور ناموس و اولاد محفوظ رہیں گے-

*٥* یہ کہ معاویہ حسن ابن علی علیہ السلام اور ان کے بھائی حسین علیہ السلام اور کسی کو بھی خاندان رسول میں کوئی نقصان پوھنچانے یا ان کی جان لینے کی کوشش نہ کریں گے نہ خفیہ طور پر اور نہ اعلانیہ اور ان میں سے کسی کو دھمکایا، ڈرایا اور دہشت میں مبتلا نہیں کیا جائے گا-

مزید  حضرت ام البنین (ع)کی وفات

یہ معاہدہ ربیع الاول یا جمادی الاول ٤١ ھ کو عمل میں آیا.

 

________** بحث **_______

اگر غور کیا جائے تو اس صلح کے ذریعہ سے حضرت امام حسن علیہ السلام نے وہ مقصد حاصل کر لیا تھا جس کے لیے ان کی اپنے فریق مخالف سے منازعت تھی.

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ حضرات ذاتی اغراض

کے لیے کسی سے مخالفت نہیں رکھتے تھے ان کی لڑائی جو کچھ تھی وہ اصول شریعت و مذہب کے لیے تھی.

حضرت امام حسن علیہ السلام نے صلح نامہ کی پہلی شرط کے لحاظ سے امیر شام کو پابند بنا دیا کہ وہ کتاب و سنّت کے مطابق عمل کرے. اس سے آپ نے ایک طرف تو یہ بات ہمیشہ کے لیے مسلم بنا دی کہ اصول شریعت اور ہے آئین حکومت اور ہے.

یہ وہ بڑی چیز تھی جس کے لیے آل محمد برابر کوشاں رہے تھے یعنی کبھی ایسا نہ ہو کہ حکّام اسلام کا طرز عمل عین شریعت سمجھ لیا جائے.

دوسرا امر یہ بھی آپ نے ثابت کر دیا بلکہ فریق مخالف سے تسلیم کرا لیا کہ اب تک جو کچھ حکومت شام کا رویہ رہا ہے وہ کتاب اور سنّت کے مطابق نہیں ہے کیوں کہ ہر شخص جانتا ہے کہ صلح نامہ کی بنیادی چیزیں ووہی ہوتی ہیں جو دو فریقوں میں بنے مخاصمت ہوں اگر حکومت شام کا سابقہ طرز عمل اب تک برابر کتاب و سنّت کے مطابق ہوتا تو اس شرط کی ضرورت کیا تھی- اس کے بعد دوسری اہم شرط یہ قرار دی کہ ان کو اپنے بعد کسی کو نامزد کرنے کا حق نہ ہوگا. اس طرح آپ نے مستقبل کا تحفظ کیا کیوں کہ ممکن تھا کہ معاویہ اپنی زندگی بھر کتاب اور سنت کے مطابق عمل کرتے لیکن بعد میں کوئی ایسا آتا جو اس کے مخالف کرتا- اس لیے آپ نے آئندہ کے لیے جانشین بنانے کا حق سلب کر لیا.

 

______**معاویہ کی حکومت اور پہلا خطبہ **_______

صلح کےبعد فوجیں واپس چلی گئیں اور معاویہ کی گرفت تمام ممالک اسلامیہ پر مظبوط ہو گئی اور اب شام و مصر کے ساتھ عراق و حجاز، یمن اور ایران وغیرہ بھی ان کے تصرف میں آ گئے.

معاویہ نے جنگ کے ختم اور سیاسی اقتدار کے قائم ہوتے ہی عراق میں داخل ہو کر نخیلہ میں جسے کوفہ کی سرحد سمجھنا چاہیے قیام کیا اور جمعہ کے خطبہ کے بعد یہ اعلان کر دیا کہ میرا مقصد جنگ سے یہ نہ تھا کہ تم لوگ نماز پڑھنے لگو، روزے رکھنے لگو ، حج کرو یا زکات ادا کرو. یہ سب تو تم کرتے ہی ہو میرا تو مقصد جنگ سے فقط صرف یہ تھا کہ میری حکومت تم پر مسلم ہو جائے. وہ حسن کے اس معاہدہ کے بعد مکمل ہو گئی اور باوجود تم لوگوں کی ناگواری کے خدا نے مجھے اس مطلب میں کامیاب کر دیا . رہ گئے وہ شرائط جو میں نے حسن کے ساتھ کیے ہیں وہ سب میرے پیروں کے نیچے ہیں اور ان کا پورا کرنا یا نہ کرنا میرے ہاتھ کی بات ہے . مجمع میں سناٹا چھایا ہوا تھا مگر اب کس میں دم تھا کہ وہ اس کے خلاف زبان کشائی کرتا-

 

_____** صلح کے بعد امام حسن علیہ السلام کا لوگوں کی باتیں برداشت کرنا**_______

حضرت امام حسن علیہ السلام کو اس صلح کے بعد اپنے ساتھ کے بہت لوگوں کی طرف سے انتہائی دلخراش اور توہین آمیز الفاظ سننا پڑے جن کا برداشت کرنا انہی کا کام تھا- بعض لوگ ایسے جو کل تک ” امیر المومنین ” کہہ کر تسلیم بجا لاتے تھے آج ” مذل المومنین ” یعنی ” مومنین کی جماعت کو ذلیل کرنے والے ” کے الفاظ سے سلام کرتے تحت مگر امام حسن ع نے صبر و استقلال اور نفس کی بلندی کے ساتھ ان تمام ناگوار حالات کو برداشت کیا اور معاہدہ پر سختی سے قائم رہے.

 

__________** معاویہ کی اہل بیت کی شان میں گستاخی **_______

اقتدار شاہی کی جرات اس نقطۂ تک پوھنچی کہ کوفہ میں امام حسن اور امام حسین کی موجودگی میں معاویہ نے حضرت امیر ع اور امام حسن علیہ السلام کی شان میں نہ زیبا الفاظ اور کلمات استعمال کیے. اس پر سکوت کرنا اعتراف و اقرار کا مترادف سمجھا جا سکتا تھا. اس لیے فورا امام حسین علیہ السلام معاویہ کو جواب دینے کے لئے خود کھڑے ہوے اور نہایت مختصر اور جامع الفاظ میں امیر شام کی تقریر کا جواب دیا. حسین علیہ السلام جانتے تو پہلے ہی تھے مگر اس وقت سے محسوس کر لیا تھا کہ حالات کی رفتار کیا ہے اور ہم کو اس کا آخری مقابلہ کس سے کرنا ہوگا مگر وہ جلد باز انسان نہ تھے، نہ وہ ذمہ داریوں کے محل سے نا واقف تھے. انہیں صبر آزما انتظار کے ساتھ حالات کی تدریجی رفتار کے دوش بدوش اپنے کردار کی منزل کو آگے بڑھانا تھا اور اپنے فرض شناس بھائی کی طرح ساکن رہنا تھا

 

____*** امام کی سلطنت سے کنارہ کشی اور امام حسین ع کا ساتھ دینا ***_____

حضرت امام حسن علیہ السلام نے امور سلطنت سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے بعد کوفہ کا قیام ترک کر کے پھر سے مدینہ میں جا کر سکونت اختیار فرمائی تو حسین ع نے بھی بھائی کا ساتھ دیا اور مدینہ میں جا کر قیام کیا مگر اس اتحاد عمل کے باوجود بھی بنی امیہ نے یہ غلط شہرت دی کہ اس صلح کے بارے میں حضرت امام حاصل علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام دونوں بھائیوں کی یکجہتی میں واقعی کوئی فرق آ جائے مگر ان کے تمام توقعات غلط سبط ہوے.

حسین قول، عمل ، اور مسلک میں اپنے بھائی کے ساتھ بلکل متحد تھے اور ہمیشہ رہے آپ کو معلوم تھا کہ امام نے اگرچہ اتمام حجت کے لیے خاموشی اختیار کی اور گوشہ نشینی اختیار کی ہے مگر ان کا بھی خیال تھا آخر میں پھر تلوار درمیان میں ہے گی اور اس کے لیے اقدامات کرنا ضروری تھے. امام حسن علیہ السلام اکثر یہ اشعار بطور تمثیل پڑھا کرتے تھے_

” جو تلوار کو اپنا پشت پناہ بناے وہ عجیب سکون و اطمینان حاصل کرے گا یا دنیا سے جلد ہی گزر جانا اور یا زندگی ایسی جو داد رسی کے ساتھ ہو، کبھی سہولت پسندی سے کام نہ لو، سہولت پسندی بڑی خرابی کی بات ہے، عزت حاصل کر ہی نہیں سکتے جب تک کہ دشوار گزار منزل کو طے نہ کرو “

جاری ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.