امام جعفر صادق (ع) اور مسئلہ خلافت (2)

0 0

ھم نے گزشتہ تقریر میں عرض کیا ھے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور امامت میں مسئلہ خلافت بھر پور طریقے سے سامنے آیا اس کی وجہ یہ ھے کہ آپ کے دور میں حالات نے کچھ اس طرح کروٹ لی کہ طالبان حکومت داعیان خلافت ایک بار پھر پورے جوش وخروش کے ساتھ میدان عمل میں آگئے لیکن مصلحت وقت کے تحت امام جعفر صادق علیہ السلام نے گوشہ نشیشی اختیار کر لی۔ آپ کے دور امامت میں سب سے بڑا فائدہ یہ ھوا کہ امویوں کی حکومت کا مکمل طور پر خاتمہ ھوا۔ پھر ابو سلمہ خلال اور ابو مسلم جیسے انقلابی لوگ پیدا ھوئے۔ ابو سلمہ کو وزیر آل محمد (ع) اور ابو مسلم کو امیر آل محمد (ص) کے لقب سے یاد کیا گیا ھے۔ یھی نوجوان امویوں کی حکومت کے خاتمے کا باعث بنے اگرچہ انھوں نے عباسیوں کو اقتدار حکومت سونپنے میں بھر پور کردار ادا کیا تاھم ابو سلمہ ایسا نوجوان ھے کہ جو آخر میں اس چیز کی خواھش رکھتا تھا کہ اقتدار آل علی (ع) کو منتقل کیا جائے۔ انھوں نے اسی مقصد کی تکمیل کیلئے ایک خط امام جعفر صادق علیہ السلام اور عبداللہ محض کے نام بھی ارسال کیا تھا ان دونوں شخصیات میں عبداللہ حکومت ملنے پر خوش اور آمادہ تھے لیکن امام جعفر صادق علیہ السلام نے ابو سلمہ کی اس پیش کش کو ذرہ بھر اھمیت نہ دی۔ یھاں تک آپ نے اس کے خط کو بھی نہ پڑھا جب آپ کی خدمت میں چراغ لایا گیا تو امام علیہ السلام نے اس خط کو نہ فقط پھاڑ دیا بلکہ اسے جلا بھی دیا اور فرمایا اس خط کا جواب یھی ھے اس سے متعلق ھم تفصیل سے گفتگو کر چکے ھیں۔
امام جعفر صادق علیہ السلام نے سیاسی و حکومتی امور میں دلچسپی لینے اور ان میں مداخلت کرنے کی بجائے گوشہ نشینی کو ترجیح دی اور آپ اقتدار کو سنبھالنے کی ذرا بھر خواھش نہ رکھتے تھے اور نہ ھی اس کے لئے کسی قسم کی کوشش کا سوال پیدا ھوتا ھے کہ امام علیہ السلام اگر کوشش کرتے تو اقتدار کو اپنے ھاتھ میں لے سکتے تھے۔ اس کے باوجود آپ خاموش کیوں رھے؟ اس عدم دلچسپی کی وجہ کیا ھوسکتی ھے؟ جبکہ فضا بھی امام کے حق میں تھی۔ بالفرض اگر اس مقصد کے لئے آپ شھید بھی ھو جاتے تو شھادت بھی آل محمد (ص) کے لئے سب سے بڑا اعزاز ھے۔ ان سوالات کا جواب دیتے ھوئے، ایک بار پھر ھم امام جعفر صادق علیہ السلام کی ھمہ جھت شخصیت کے بارے میں کچھ روشنی ڈالتے ھیں تاکہ حقیقت پوری طرح سے روشن ھو جائے۔ ھم نے پہلے عرض کیا ھے کہ اگر امام حسین علیہ السلام اس دور میں ھوتے تو آپ کا انداز زندگی بالکل امام جعفر صادق علیہ السلام اور دیگر آئمہ طاھرین (ع) جیسا ھوتا چونکہ امام حسین علیہ السلام اور دیگر اماموں کے دور ھائے امامت میں فرق تھا اس لئے ھر امام نے مصلحت و حکمت عملی اپناتے ھوئے امن و آشتی کا راستہ اختیار کیا۔ ھماری گفتگو کا محوریہ نھیں ھے کہ امام علیہ السلام نے اقتدار کیوں نھیں قبول کیا؟ بلکہ بات یہ ھے کہ آپ چپ کیوں رھے اور میدان جنگ میں آکر اپنی جان جان آفرین کے حوالے کیوں نھیں کی؟

 
امام حسین (ع) اور امام صادق (ع) کے ادوار میں باھمی فرق

 ان دو اماموں کا آپس میں ایک صدی کا فاصلہ ھے۔ امام حسین علیہ السلام کی شھادت سال ۶۱ ھجری کو ھوئی اور امام صادق علیہ السلام کی شھادت ۱۴۸ کو واقع ھوئی گویا ان دو اماموں کی شھادتیں ۸۷ سال ایک دوسرے سے فرق رکھتی ھیں۔ اس مدت میں زمانہ بہت بدلا، حالات نے کروٹ لی اور دنیائے اسلام میں گونا گوں تبدیلیاں ھوئیں۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کے دور میں صرف ایک مسئلہ خلافت تھا کہ جس پر اختلاف ھوا دوسرے لفظوں میں ھر چیز خلافت میں سموئی ھوئی تھی، اور خلافت ھی کو معیار زندگی سمجھا جاتا تھا۔ اس وقت اختلاف کا مقصد اور بحث کا ما حصل یہ تھا کہ کس کو “امیر امت” متعین کیا جائے اور کس کو نہ کیا جائے۔ اسی وجہ سے خلافت کا تصور زندگی کے تمام شعبوں پر محیط تھا۔ معاویہ سیاسی لحاظ سے بہت ھی طاقتور اور ظالم شخص تھا۔ اس کے دور حکومت میں سانس لینا بھی مشکل تھا۔ لوگ حکومت وقت کے خلاف ایک جملہ تک نہ کہہ سکتے تھے۔ تاریخ میں ملتا ھے کہ اگر کوئی شخص حضرت علی علیہ السلام کی فضیلت میں کوئی حدیث بیان کرنا چاھتا تو وہ اپنے اندر خوف محسوس کرتا تھا اور اس کو دھڑکا سا لگا رھتا کہ کھیں حکومت وقت کو پتہ نہ چل جائے۔ نماز جمعہ کے اجتماعات میں حضرت علی علیہ السلام پر کھلے عام تبرا کیا جاتا تھا۔ امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کی موجودگی میں منبر پر حضرت امیر علیہ السلام پر (نعوذ باللہ) لعنت کی جاتی تھی۔ جب ھم امام حسین علیہ السلام کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ھیں تو معلوم ھوتا ھے کہ اس وقت کا موسم کس قدر پتھریلا اور سخت تھا؟
کیسا عجیب دور تھا کہ امام حسین علیہ السلام جیسے امام سے ایک حدیث، ایک جمعہ، ایک مکالمہ ایک خطبہ اور ایک تقریر اور ایک ملاقات کا ذکر نھیں ھے۔ عجیب قسم کی گھٹن تھی۔ لوگوں کو آپ سے ملنے نھیں دیا جاتا تھا۔آپ نے پچاس سالوں میں کتنی تلخیاں دیکھیں۔ کتنی پابندیاں برداشت کیں۔ یہ صرف امام حسین علیہ السلام ھی جانتے ھیں یھاں تک آپ سے تین جملے بھی حدیث کے نقل نھیں کیے گئے۔ آپ ھر لحاظ سے مصائب میں گھرے ھوئے تھے۔یہ دور بھی گزر گیا جانے والے چلے گئے اور آنے والے آگئے بنی امیہ کی حکومت ختم ھوئی اور بنو عباس کی حکومت شروع ھوئی اس وقت لوگوں میں علمی و فکری لحاظ سے کافی تبدیلی ھو چکی تھی۔ لوگ فکری لحاظ سے آزادی محسوس کرتے تھے۔ اس دور میں جس تیزی سے علمی وفکری ترقی ھوئی اس کی تاریخ میں کوئی نظیر نھیں ھے۔ اسلامی تعلیمات کی نشر واشاعت پر وسیع پیمانے پر کام ھونے لگا مثال کے طور پر علم قرات، علم تفسیر، علم حدیث، علم فقہ اور دیگر ادبی سرگرمیاں عروج پر ھونے لگیں یھاں تک کہ طب، فلسفہ، نجوم اور ریاضی وغیرہ جیسے علوم منظر عام پر آنے لگے۔
یہ سب کچھ تاریخ میں موجود ھے کہ حالات کا رخ بدلنے سے لوگوں میں علمی وفکری شعور پیدا ھوا۔ باصلاحیت افراد کو اپنی صلاحیتیں آزمانے کا موقعہ ملا۔ یہ علمی فضا اور تعلیمی ماحول امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے زمانوں سے قبل وجود تک نہ رکھتا تھا۔ یہ سب کچھ صرف حالات بدلنے سے ھوا کہ لوگ اچانک علم و عمل، فکر و نظر کی باتیں سننے لگے اور پھر کیا ھوا کہ چھار سو علم کی روشنی پھیلتی چلی گئی۔ اب اگر بنو عباس پابندی عائد کرنا بھی چاھتے تو ان کے بس سے باھر تھا۔ کیونکہ عربوں کے علاوہ دوسری قومیں مشرف بہ اسلام ھوچکی تھیں۔ ان قوموں میں ایرانی غیر معمولی حد تک روشن فکر تھے۔ ان میں جوش و جذبہ بھی تھا اور علمی صلاحیت بھی۔ مصری اور شامی لوگ بھی فکری اعتبار سے خاصے زرخیز تھے۔ ان علاقوں میں دنیا کے مختلف افراد آکر آباد ھوئے۔ پھر دنیا کے لوگوں کی آمد و رفت نے اس خطے کو علم و ادب کا گھوارا بنا دیا۔ مختلف قومیں، مختلف نظریات اور پھر بحث مباحثوں سے فضا میں حیرت انگیز تبدیلی رونما ھوئی۔ یھاں پر اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ حاصل ھو چکا تھا۔ لوگ چاھتے تھے کہ اسلام کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کریں۔ دوسری طرف عرب قرآن مجید میں کچھ زیادہ غور و خوض نہ کرتے تھے، لیکن دوسری قوموں میں قرآنی تعلیمات حاصل کرنے کے بارے میں بہت زیادہ جذبہ کار فرما تھا۔ اس دور میں قرآن مجید کے ترجمہ، تفسیر اور مفاھیم پر خاصہ کام ھوا اور لوگ قرآن مجید کو بنیادی حیثیت دے کر بات کرتے تھے۔

 
نظریات کی جنگ

اچانک پھر کیا ھوا کہ عقائد و نظریات کا بازار گرم ھوگیا، سب سے پھلے تو تفسیر قرآن، قرات اور آیات قرانی پر بحث ھونے لگی۔ ایک ایسی جماعت پیدا ھوئی کہ جو لوگوں کو علم قرات، اور الفاظ، حروف کی صحیح ادائیگی کے بارے میں تعلیم دینے لگی، اس وقت قرآن مجید کی اشاعت و طباعت ایسی نہ تھی کہ جیسا کہ ھمارے دور میں ھے۔ ان میں سے ایک شخص کھتا تھا میں قرات کرتا ھوں اور یہ روایت فلاں بن فلاں صحابی سے نقل کرتا ھوں اور ان کی اکثریت حضرت علی علیہ السلام تک پھنچتی تھی۔ دوسرے افراد مختلف شخصیات سے روایت کرتے اسی طرح بحثوں اور مذاکروں کا سلسلہ عروج تک جا پھنچا۔ یہ لوگ مساجد میں جاکر لوگوں کو قرآن مجید کی تعلیم دیتے۔ عربوں کی نسبت غیر عرب زیادہ شوق و ذوق سے شرکت کرتے تھے، اس کی وجہ یہ ھے کہ عجمی لوگ قرآن مجید کو پڑھنے اور سمجھنے میں زیادہ دلچسپی لیتے تھے۔ ایک قرات کے استاد مسجد میں آکر لوگوں کو درس قرآن دیتے اور ان کے ارد گرد لوگوں کا ایک ھجوم جمع ھوجاتا۔ اتفاق سے قرات میں بھی اختلاف پیدا ھوگیا پھر قرآن مجید کے معانی پر اختلاف پیدا ھوگیا، کوئی کچھ معنی کرتا اور کوئی کچھ ۔ اسی طرح احادیث کے بارے میں بھی مختلف آراء تھیں۔ حافظ احادیث کو بہت زیادہ احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ وہ مساجد و محافل میں بڑے فخر و انبساط سے احادیث نقل کرتا اور لوگوں کو نئے اسلوب کے ساتھ حدیثیں بیان کرتا۔ نقل احادیث کے مراحل بھی بیان کرتا کہ یہ حدیث میں نے فلاں سے سنی اور اس نے فلاں سے اور فلاں نے پیغمبر اکرم (ص) سے نقل کی ھے پھر اس کا معنی و مفھوم یہ ھے۔
ان میں قابل احترام طبقہ فقھاء کا تھا لوگ ان سے فقھی مسائل پوچھتے تھے جیسا کہ اب بھی لوگ علماء سے شرعی و فقھی مسائل دریافت کرتے ھیں۔فقھاء کی ایک کثیر تعداد مختلف علاقوں میں پھیل گئی۔ لوگوں کو آسان طریقے سے بتایا جاتا تھا کہ یہ چیز حلال ھے اور یہ حرام یہ چیز پاک ھے اور یہ نجس یہ کاروبار صحیح ھے اور یہ ناجائز وغیرہ وغیرہ، مدینہ بہت بڑا علمی مرکز تھا اور دوسرا بڑا مرکز کوفہ میں قائم تھا۔ جناب ابو حنیفہ کوفہ میں تھے بصرہ بھی علمی لحاظ سے کافی اچھی شھرت کا حامل تھا۔ اس کے بعد امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور امامت میں اندلس فتح ھوا تو یھاں پر بھی علمی مرکز قائم ھوگیا دوسرے لفظوں میں یوں سمجھئے کہ ھر اسلامی شھر علم و عمل کا مرکز کھلاتا تھا کھا جاتا تھا کہ فلاں فقیھہ کا یہ نظریہ ھے اور فلاں فقیھہ یہ فرماتے ھیں مختلف مکاتب فکر کی موجودگی میں اختلاف رائے کا پیدا ھونا ضروری امر تھا۔ چنانچہ فقھی میدان میں بھی عقائد کی جنگ چھڑ گئی اور یہ روز بروز زور پکڑتی گئی۔ ان تمام اختلافات سے بڑھ کر اختلاف “علم کلام” کا تھا۔
پہلی صدی ھی میں متکلم حضرات کی آمد شروع ھوگئی جیسا کہ ھم امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور میں دیکھتے ھیں کہ “متکلمین” آپس میں بحث مباحثہ کرتے اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے بعض شاگرد علم کلام میں خاص مھارت رکھتے تھے اور اعتراض کرنے والوں کو بڑے شائستہ طریقے سے جواب دیتے تھے۔ یہ لوگ خدا، صفات خدا اور قرآن مجید کی ان آیات سے متعلق بحث و تمحیص کرتے جو خدا کے بارے میں ھوا کرتی تھیں۔ کہا جاتا تھا کہ خدا کی فلاں صفت عین ذات ھے یا نھیں، کیا وہ حادث ھے یا قدیم؟ نبوت اور وحی کے بارے میں بحث کی جاتی تھی، شیطان کو بھی بحث میں لایا جاتا ھے کہ یہ کون ھے؟ اور کھاں سے آیا ھے اس کا کام کیا ھے اور اس کے شر سے کیسے بچا جاسکتا ھے؟ پھر ایمان اور عمل پر روشنی ڈالی جاتی قضا وقدر، جبر و اختیار پر گفتگو ھوتی۔ غرض کہ علم کلام کے ماھرین کے مابین نوک جھونک ھوتی رھتی اور مباحثوں کا یہ طویل سلسلہ بڑھتا چلا گیا اور آج تک موجود ھے اور قیامت تک رھے گا لیکن بحث کے وقت انسان انتھا پسندانہ رویے کو ترک کرکے صلح و آشتی اور پرامن رویے کو اپنے سامنے رکھے۔ ان بحثوں کا نتیجہ تھا کہ ایک خطرناک ترین گروہ پیدا ھو گیا۔ ان کو آپ زندیق، لا مذھب کھہ سکتے ھیں۔ یہ لوگ خدا اور ادیان کے قائل نہ تھے۔ ان کو ھر لحاظ سے مکمل آزادی تھی، یہ مکہ و مدینہ، مسجد الحرام یھاں تک مسجد الحرام اور مسجد النبی میں بیٹھ کر اپنے عقائد کی ترویج کرتے تھے۔
اگر چہ وہ ھمارے نزدیک ایک بے دین کی سی حیثیت رکھتے ھیں لیکن وہ پڑھے لکھے ضرور تھے، ان کے سینوں میں علم اور ان کے ذھنوں میں فکر تھی، جو انھیں کچھ سوچنے اور بولنے پر مجبور کر رھی تھی یہ اور بات ھے کہ وہ سیدھی راہ سے بھٹک گئے تھے۔ ان میں کچھ سریانی زبان بولتے تھے اور کچھ یونانی زبان جانتے تھے، کچھ ایرانی تھے کہ فارسی بولتے تھے۔ کچھ ھندی زبان جانتے تھے۔ سر زمین ھند سے کافی زندیق منگوائے گئے تھے۔ یہ ایک الگ بحث ھے کہ زندیقیوں کا وجود کھاں سے شروع ھوا اور اس کی وجہ کیا ھے؟اس دور کی ایک اور بات کہ لوگ افراط وتفریط کا شکار ھوگئے تھے۔ کچھ لوگ صوفیوں اور خشک مقدس مولویوں کے روپ میں سامنے آگئے۔ یہ صوفی حضرات بھی حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور امامت میں وارد ھوئے۔ انھوں نے بہت جلد اپنا ایک مستقل اور الگ گروہ بنا لیا۔ یہ کھلے عام تبلیغ کرتے تھے۔
یہ لوگ اسلام کے خلاف کوئی بات نہ کرتے بلکہ لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے تھے کہ اصل اسلام وھی ھے کہ جو یہ کھہ رھے ھیں۔ ان خشک مقدس مولویوں نے لوگوں میں عجیب قسم کا نظریہ پیدا کرنے کی بھر پور کوشش کی۔ ان کا ظاھری صالحانہ، عابدانہ اور زاھدانہ انداز اختیار کرنا زبردست کشش کا باعث بنا اور یہ خالص اور حقیقی دین اسلام کے لیے زبر دست خطرے کا باعث تھا خوارج بھی اسی نظریہ کی پیداوار ھیں۔
 
امام جعفر صادق (ع) اور مختلف مکاتب فکر

مزید  حضرت ابراہيم (ع)

ھم دیکھتے ھیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے اتنی بڑی مشکلات اور پریشانیوں کے باوجود مختلف فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی اسلامی طریقے سے تربیت کرنے کی بھر پور کوششیں کیں۔ قرآت اور تفسیر میں امام علیہ السلام نے انتھائی قابل ترین شاگرد تیار کیے جو لوگوں کو قرآن مجید کی صحیح طریقے سے تعلیم دیتے اور ان کو صحیح تفسیر سے متعارف کراتے، جہاں کہیں کسی قسم کی غلطی دیکھتے فوراً پکار اٹھتے اور بروقت اصلاح کرنے کی کوشش کرتے۔ پھر ایسے ھونھار طلبہ بھی میدان میں آئے جو علم حدیث میں پوری طرح سے مھارت رکھتے۔ نا سمجھ لوگوں کو بتایا جاتا کہ حدیث صحیح ھے اور یہ صحیح نھیں ھے۔ اس حدیث کا سلسلہ پیغمبر اسلام (ص) تک پھنچتا ھے اور یہ حدیث من گھڑت ھے۔
فقھی مسائل کے حل اور لوگوں کی شرعی احکام میں تربیت کے لیے آپ کے لائق ترین شاگردوں نے بھر پور کردار ادا کیا۔ جولوگ فقہ سے نا آشنائی رکھتے یہ نوجوان طلبہ قریہ قریہ جاکر لوگوں کو حلال وحرام اور دیگر مسائل فقھی کی تعلیم دیتے۔ یہ ایک عجیب اتفاق ھے کہ برادران اھل سنت کے تمام بڑے مذھبی رھنما کسی نہ کسی حوالے سے امام جعفر صادق علیہ السلام سے علمی فیض حاصل کرتے رھے ھیں۔تاریخ کی تمام کتب میں درج ھے کہ جناب ابو حنیفہ دو سال تک امام علیہ السلام سے پڑھتے رھے ھیں۔ جناب ابو حنیفہ کا ایک قول بھت مشھور ھے اور یہ قول تمام کتب اھل سنت میں موجود ھے کہ ملت حنفیہ کے سر براہ جناب ابو حنیفہ نے فرمایا کہ
“لولا السنتان لهلک نعمان”
“اگر میں نے وہ دو سال امام علیہ السلام کی شاگردی میں نہ گزارے ھوتے تو میں ھلاک ھوجاتا۔”
جناب ابو حنیفہ کا اصل نام نعمان ھے۔ کتب میں آپ کو نعمان بن ثابت بن زوطی بن مرزبان، کے نام سے یاد کیا گیا ھے۔ آپ کے آباؤ اجداد ایرانی تھے۔
اسی طرح اھلسنت کے دوسرے امام جناب مالک بن انس امام جعفر صادق علیہ السلام کے ھم عصر تھے۔ جناب مالک نے بھی امام علیہ السلام سے کسب فیض کیا اور عمر بھر اس پر فخر کرتے رھے۔ امام شافعی کا دور بعد کا دور ھے انھوں نے جناب ابو حنیفہ کے شاگردوں، مالک بن انس اور احمد بن حنبل سے استفادہ کیا۔ لیکن ان کے اساتذہ کا سلسلہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے جا ملتا ھے۔ اپنے وقت کے چند علماء، فقہاء، محدثین امام جعفر صادق علیہ السلام کی علمی و دینی فیوضیات سے مستفیض ھوئے۔ امام علیہ السلام کے حلقہ درس میں علماء و فضلاء کا ھمہ وقت ٹھٹھ لگا رھتا تھا۔ اب میں اھل سنت کے بعض علماء کے امام جعفر صادق علیہ السلام کے بارے میں تاثرات پیش کرتا ھوں اس امید کے ساتھ کہ ھمارے محترم قارئین اسے پسند فرمائیں گے۔

 
امام جعفر صادق (ع) کے بار ے میں جناب مالک کے تاثرات

 جناب مالک بن انس مدینہ میں رھائش پزیر تھے۔ نسبتاً خود پسند انسان تھے۔ ان کا کھنا ھے کہ میں جب بھی حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ھوتا تو آپ کو ھمیشہ اور ھر وقت ھنستا مسکراتا ھوا پاتا۔
“وکان کثیر التبسم”
آپ کے ھونٹوں پر ھمیشہ مسکراھٹ کے پھول کھلے ھوئے ھوتے تھے۔”
گویا آپ کو میں نے ھمیشہ خوش اخلاق پایا۔ آپ کی ایک عادت یہ تھی کہ جب آپ کے سامنے پیغمبر اسلام (ص) کا نام مبارک لیا جاتا تو آپ کے چھرے کا رنگ یکسر بدل جاتا۔ میں اکثر اوقات امام علیہ السلام کے پاس آتا رھتا تھا۔ آپ اپنے زمانے کے عابد و زاھد انسان تھے۔ تقويٰ و پرھیز گاری اور راستبازی میں آپ کا کوئی ثانی نھیں تھا۔ جناب مالک ایک واقعہ نقل کرتے ھوئے کھتے ھیں کہ میں ایک مرتبہ امام علیہ السلام کے ھمراہ تھا جب ھم مدینہ سے نکل کر مسجد الشجرہ پر پھنچے تو ھم نے احرام باندھ لیا ھم چاھتے تھے کہ لبیک کھیں اور رسمی طور پر محرم ھو جائیں، چنانچہ ھم نے لبیک کھنا شروع کیا اور احرام باندھا تو میری نگاہ امام علیہ السلام پر پڑی تو میں نے دیکھا کہ آپ کے چھرہ اقدس کا رنگ یکسر بدل گیا ھے، اور آپ کا بدن کانپ رھا ھے۔ یوں لگتا تھا کہ شاید سواری سے گر جائیں۔ خدا خوفی کی وجہ سے آپ پر عجیب قسم کی کیفیت طاری تھی۔ میں نے عرض کیا اے فرزند رسول (ص) ! اب آپ لبیک کھہ ھی دیں تو آپ نے فرمایا میں کیا کھوں اور کیسے کھوں اگر میں لبیک کھتا ھوں؟ تو مجھے جواب ملے کہ لا لبیک تو اس وقت میں کیا کروں گا؟ اس روایت کو آقا شیخ عباس قمی اور دوسرے مورخین نے اپنی کتب میں نقل کیا ھے۔ اس روایت کے راوی جناب مالک بن انس ھیں جو اھل سنت حضرات کے بہت بڑے امام ھیں جناب مالک کا کھنا ھے کہ:
“ما رات عین ولا سمعت اذن ولا خطر علی قلب بشر افضل من جعفر بن محمد”
آنکھ نے نھیں دیکھا کان نے نھیں سنا اور کسی کے خیال خاطر میں نھیں آیا کہ کوئی مرد امام جعفر صادق علیہ السلام سے افضل نظر سے گزرا ھو۔”
محمد شھرستانی جو کتاب الملل والنحل کے مصنف ھیں آپ پانچویں ھجری میں بہت بڑے عالم، متکلم، فلاسفی ھو کر گزرے ھیں۔ دینی و مذھبی اور فلسفیانہ اعتبار سے یہ کتاب دنیا بھر میں مشھور ھے۔ مصنف کتاب ایک جگہ پر امام جعفر صادق علیہ السلام کا تذکرہ کرتے ھوئے لکھتا ھے کہ:
“هو ذو علم غریر”
کہ آپ کا علم ٹھاٹھیں مارتا ھوا سمندر تھا۔”
وادب کامل فی الحکمۃ”
حکمت میں ادب کامل تھے۔”
وزهد فی الدنیا وورع تام عن الشهوات”
آپ غیر معمولی پر متقی و پرھیز گار تھے آپ خواھشات نفسانی سے دور رھتے تھے۔”
“ویفیض عليٰ الموالی له اسرار العلوم ثم (دخل العراق)”
آپ سرزمین مدینہ میں رہ کر دوستوں اور لوگوں کو علم کی خیرات بانٹتے تھے۔” پھر آپ عراق تشریف لے آئے یہ مصنف امام علیہ السلام کی سیاست سے کنارہ کشی پر تبصرہ کرتے ھوئے لکھتا ھے۔”
ولا نازع فی الخلافة احدا”
“کہ آپ نے خلافت کے مسئلہ پر کسی سے کسی قسم کا اختلاف ونزاع نہ کیا۔”
اس کنارہ گیری کی وجہ یہ تھی کہ چونکہ آپ علم و معرفت کے سمندر میں غوطہ زن رھتے تھے اس لیے دوسرے کاموں کے لیے آپ کے پاس وقت ھی نہ تھا۔ میں محمد شھرستانی کی توجیہ کو صحیح نھیں سمجھتا۔ میرا مقصود اس سے یہ ھے کہ اس نے کھلے لفظوں میں امام کی غیر معمولی معرفت کا اعتراف کیا ھے لکھتا ھے۔
“ومن غرق فی بحر المعرفة لم یقع فی شط”
کہ جو دریائے معرفت میں ڈوبا ھوا ھو وہ خود کو کنارے پر نھیں لے آئے گا” اس کے نزدیک خلافت و حکومت ایک سطحی سی چیزیں ھیں جبکہ علم و معرفت کی بات ھی کچھ اور ھے۔
“ومن تعليٰ اليٰ ذروة الحقیقة لم یخف من حط”
کہ جو حقیقت کی بلند و بالا چوٹیوں پر پھنچ جائے وہ نیچے کی طرف آنے سے کیسے ڈرے گا۔”
با وجودیکہ شھرستانی شیعوں کا مخالف شخص ھے، لیکن امام جعفر صادق علیہ السلام کے بارے میں مدحت سرائی کر رھا ھے۔ اس نے اپنی کتاب الملل و النحل میں شیعوں کے خلاف بہت زیادہ زھر اگلا ھے۔ لیکن اس نے امام علیہ السلام کو بہت ھی اچھے لفظوں کے ساتھ یاد کیا ھے۔ اگر چہ یہ دشمن تھا لیکن حقیقت کو ماننے پر مجبور ھو گیا۔ یہ نہ مانتا تو کیسے نہ مانتا؟ امام جعفر صادق علیہ السلام جیسا کوئی ھوتا تو یہ سامنے لاتا۔ سورج کا بھلا چراغوں سے کیسے مقابلہ کیا جاسکتا ھے؟ اب بھی دنیا میں ایسے علماء موجود ھیں جو شیعیت کے سخت دشمن ھیں۔ لیکن امام جعفر صادق علیہ السلام کا بیحد احترام کرتے ھیں۔ وہ کھتے ھیں کہ شیعہ حضرات سے جن باتوں پر ھمارا اختلاف ھے۔ وہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے بیان کردہ باتوں میں نھیں ھے کیونکہ صادق آل محمد علیھم السلام ایک انتھائی باکمال شخصیت و بے نظیر حیثیت کے مالک انسان تھے اور آپ کی علمی خدمات اور دینی احسانات کو کبھی اور کسی طور بھی نھیں بھلایا جاسکتا۔
احمد آمین کی رائے فجر الاسلام، ضحيٰ الاسلام، ظھر الاسلام، یوم الاسلام یہ احمد آمین کی معروف ترین کتب ھیں۔ احمد آمین ھمارے ھم عصر عالم دین ھیں۔ اور یہ شیعوں کے سخت مخالف ھیں۔ ان کو مذھب شیعہ کے بارے میں ذرا بھر علم نھیں ھے۔ سنی سنائی باتوں کو وجہ اعتراض بناکر شیعوں کے خلاف اپنی کتابوں میں انھوں نے بھت کچھ لکھا ھے۔ حالانکہ اس سطح اور اس پائے کے عالم دین کو حق کو سامنے رکھ کر حقیقت پسندی کا مظاھرہ کرنا چاھیے تھا۔ لیکن انھوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی جتنی تعریف کی ھے اتنی کسی اور سنی عالم نے نھیں کی۔ امام علیہ السلام کے فرامین اور ارشادات کی تفسیر و تشریح اس انداز میں کی ھے کہ کوئی عالم دین بھی نہ کر سکے۔ اس کی وجہ یہ ھے کہ انھوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی سیرت اور تاریخ کا مطالعہ کیا ھے۔ ملت اسلامیہ، مذھب جعفریہ کے بارے میں ذرا بھر بھی تحقیق کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ کاش وہ شیعوں کے بارے میں حقیقت پسندی سے کام لیتے اور ایک عظیم اور شریف ملت پر الزامات عائد کر کے اپنی کتب کے صفحات کو سیاہ نہ کرتے؟

 
جاحظ کا اعتراف

 میرے نزدیک جاحظ کی علمی صلاحیت اور دینی قابلیت دوسرے سنی علماء سے بڑھ کر ھے۔ یہ شخص دوسری صدی کے اواخر اور تیسری صدی کے اوائل کا سب سے بڑا عالم ھے۔ یہ شخص ذھانت ومطانت کا عظیم شاھکار ھونے کےساتھ ساتھ غیر معمولی حد تک صاحب مطالعہ تھا۔ جاحظ نہ صرف اپنے عھد کا بہت بڑا ادیب ھے بلکہ ایک بہت بڑا محقق اور مورخ بھی ھے انھوں نے حیوان شناسی پر ایک کتاب الحیوان تحریر کی تھی آج یہ کتاب یورپی سائنسدانوں کے نزدیک بہت اھمیت رکھتی ھے۔ بلکہ ماھرین حیوانات اس کتاب پر نئے نئے تحقیقات کر رھے ھیں۔ جانوروں اور حیوانات کے بارے میں اس سے بڑھ کر کوئی کتاب نھیں ھے۔ یہ کتاب اس دور میں لکھی گئی جب یونان اور غیر یونان میں جدید علوم نے اتنی ترقی نہ کی تھی۔ اس وقت ان کے پاس کسی قسم کا موادنہ تھا۔ انھوں نے اپنی طرف سے حیوانات پر تحقیق کر کے دنیا بھر کے جدید و قدیم ماھرین کو ورطئہ حیرت میں ڈال دیا ھے۔
جاحظ ایک متعصب سنی عالم ھے۔ انھوں نے شیعوں کے ساتھ مناظرے بھی کئے اور انتھا پسندی کے باعث شیعہ حضرات ان کو ناصبی بھی کھتے ھیں۔ لیکن میں ذاتی طور پر کم از کم ان کو ناصبی نھیں کھہ سکتا۔ یہ شخص امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور کا عالم ھے۔ ھوسکتا ھے اس نے امام علیہ السلام کا آخری دور پایا ھو؟ شاید یہ اس وقت بچہ ھو یا یہ بھی ھوسکتا ھے کہ امام علیہ السلام کا دور ایک نسل قبل کا دور ھو۔ کھنے کا مقصد یہ ھے کہ اس کا دور اور امام علیہ السلام ایک دوسرے کے بہت قریب ھے۔ بھر حال جاحظ امام جعفر صادق (ع) کے بارے میں اظھار خیال کرتے ھوئے لکھتا ھے کہ:
“جعفر بن محمد الذی ملأ الدنیا علمه و فقهه”
کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے پوری دنیا کو علم و دانش اور معرفت و حکمت سے پر کردیا ھے۔”
ویقال ان ابا حنیفة من تلامذته و کذلک سفیان الثوری”
کہا جاتا ھے کہ جناب ابو حنیفہ اور سفیان ثوری کا شمار امام علیہ السلام کے شاگردان خاص میں سے ھوتا ھے سفیان ثوری بہت بڑے فقیھہ اور سوفی ھو کر گزرے ھیں۔

 
میر علی ھندی کا نظریہ

 میر علی ھندی ھمارے ھم عصر سنی عالم ھیں وہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے بارے میں اظھارے خیال کرتے ھوئے لکھتے ھیں کہ
“لا مشاحة ان انتشار العلم فی ذلک الحین قد ساعد علی فک الفکر من عقاله”
علوم کا پھیلاؤ اس زمانے میں ممکن بنایا گیا اور لوگوں کو فکری آزادی ملی اور ھر طرح کی پابندیاں ختم کردی گئیں۔”
فاصبحت المناقشات الفلسفیة عامة فی کل حاضرة من حواضر العالم الاسلامی”
“دنیا بھر کے اسلامی حلقوں میں علمی و عقلی اور فلسفیانہ مباحث کو رواج ملا۔”
جناب ھندی مزید لکھتے ھیں کہ:
“ولا یفوتنا ان نشیر الی ان الذی تزعم تلک الحرکة هو حفید علی ابن ابی طالب المسمی بالامام الصادق”
ھم سب کو یہ بات ھرگز نھیں بھولنی چاھیے کہ جس عظیم شخصیت نے دنیائے اسلام میں فکری انقلاب کی قیادت کی ھے وہ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے پوتے ھیں اور انکا نام نامی امام صادق (ع) ھے۔”
وهو رجل رحب افق التفکیر”
وہ ایسے انسان تھے کہ جن کا افق فکری بہت بلند ھے یعنی جن کی فکری وسعت کی کوئی حد نہ تھی۔”
“بعید اغوار العقل”
ان کی عقل و فکر بہت گھری تھی ۔”
“ملم کل المام بعلوم عصره”
آپ اپنے عھد کے تمام علوم پر خصوصی توجہ رکھتے تھے۔ جناب ھندی مزید کھتے ھیں ۔”
ویعتبر فی الواقع هو اول من اسس المدارس الفلسفیة المشهورة فی الاسلام”
در حقیقت سب سے پھلے جس شخصیت نے جدید علمی مراکز قائم کیے ھیں وہ امام جعفر صادق علیہ السلام ھی ھیں۔”
ولم یکن یحضر حلقته العلمیة اولئک الذین اصبحوا مؤسسی المذاهب الفقهیة فحسب بل کان یحضرها طلاب الفسفة والمتفلسفون من انحاء الواسعة”
وہ کہتا ھے کہ آپ نہ صرف ابو حنیفہ جیسی بزرگ شخصیت کے استاد تھے بلکہ جدید علوم کی بھی طلبہ کو تعلیم دیا کرتے تھے گویا جدید ترقی امام علیہ السلام کی مرھون منت ھے۔

مزید  عید میلادالنبی (ص) ہفتہ وحدت کا آغاز

 
احمد زکی صالح کے خیالات

 کتاب امام صادق علیہ السلام میں آقائے مظفر احمد زکی صالح ماھنامہ الرسالۃ العصریہ سے نقل کرتے ھیں کہ شیعہ فرقہ کی علمی پیشرفت تمام فرقوں سے زیادہ ھے۔ کھا جاتا ھے کہ علوم کی ترقی اور پیشرفت میں اھل ایران کا بھت بڑا عمل دخل ھے۔ یہ اس وقت کی بات ھے کہ جب ایران میں شیعوں کی اکثریت نہ تھی۔ ابھی ھم اس کے بارے میں بحث نھیں کرتے یہ پھر کبھی سھی یہ مصری لکھتا ھے:
“من الجلی الواضح لدی کل من درس علم الکلام الفرق الشیعة کانت انشط الفرق الاسلامیة حرکة”
کہ واضح سی بات ھے کہ ھر وہ شخص جو ذرا بھر علمی شعور رکھتا ھے وہ اس بات کا معترف ھے کہ شیعہ فرقہ کی مذھبی و علمی پیشرفت تمام فرقوں سے زیادہ ھے۔”
وکانت اوليٰ من اسس المذاهب الدینیة علی اسس فلسفیة حتيٰ ان البعض ینسب الفلسفة خاصة بعلی بن ابی طالب”
“یعنی شیعہ پہلا اسلامی مذھب ھے کہ جو دینی مسائل کو فکری و عقلی بنیادوں پر حل کرتا ھے۔ شیعہ یعنی امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور امامت میں مختلف علوم کو عقلی و فکری لحاظ سے پرکھا جاتا تھا۔ اس کی بھترین دلیل یہ ھے کہ اھل تسنن کی احادیث کی ان کتابوں (صحیح بخاری، صحیح مسلم، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد و صحیح نسائی) میں صرف اور صرف فروعی مسائل کو پیش کیا گیا ھے۔ دوسرے لفظوں میں بتایا گیا ھے کہ وضو کے احکام یہ ھیں، نماز کے مسائل کچھ اس طرح کے ھیں۔ روزہ، حج، جھاد، وغیرہ کے احکام یہ ھیں۔ مثال کے طور پر پیغمبر اسلام (ص) نے سفر میں اس طرح عمل فرمایا ھے لیکن آپ اگر شیعہ کی احادیث کی کتب کا مطالعہ کریں تو آپ دیکھیں گے شیعہ احادیث میں سب سے پھلے عقل و جھل کے بارے میں گفتگو کی گئی ھے، لیکن اھل سنت حضرات کی کتب میں اس طرح کی باتیں موجود نھیں ھیں۔ میں یہ کھنا چاھتا ھوں کہ اس کی بنیاد صرف امام جعفر صادق علیہ السلام ھیں، بلکہ امام صادق علیہ السلام کے ساتھ ساتھ اس میں تمام آئمہ طاھرین علیھم السلام کی کوشش بھی شامل ھیں۔ اس کی اصل بنیاد تو خود حضرت پیغمبر اکرم (ص) کی ذات گرامی ھے۔ اس عظیم مشن کا آغاز حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا تھا اور اسے آگے آل محمد (ص) نے بڑھایا ھے۔
چونکہ امام جعفر صادق (ع) کو کام کرنے کا خوب موقعہ ملا ھے اس لیے آپ نے اپنے آباءو اجداد کی علمی میراث کو کما حقہ محفوظ رکھا ھے۔ اور اس عظیم ورثہ کو قیامت تک آنے والی نسلوں کیلئے ثمر آور بنادیا۔ ھماری احادیث کی کتب میں کتاب العقل والجھل کے بعد کتاب التوحید آتی ھے۔ ھمارے پاس توحید الٰھی کے بارے میں ھزاروں مختلف احادیث موجود ھیں۔ ذات خداوندی، معرفت الٰھی، فضاء و قدر، جبر و اختیار سے متعلق ملت جعفریہ کے پاس نہ ختم ھونے والا ذخیرہ احادیث موجود ھے۔ شیعہ قوم فخر سے کھہ سکتی ھے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام اور ھمارے جلیل القدر دیگر آئمہ طاھرین نے جتنا ھمیں دیا ھے اتنا کسی اور پیشوا نے اپنی ملت کو نھیں دیا۔ اس لیے ھم کھہ سکتے ھیں کہ فکری، علمی اور عقلی و نظریاتی لحاظ سے امام جعفر صادق علیہ السلام نے نئے علوم کی بنیاد رکھ کر بنی نوع انسان پر بہت بڑا احسان کیا ھے۔

 
جابر بن حیان

 ایک وقت ایسا آیا کہ ایک نئی اور حیرت انگیز خبر نے پوری دنیا کو ورطئہ حیرت میں ڈال دیا وہ تھی جابر بن حیان کی علمی دنیا میں آمد ۔ تاریخ اسلام کے اس عظیم ھیرو کو جابر بن حیان صوفی بھی کھا جاتا ھے۔ اس دانائے راز نے علمی انکشاف اور سائنسی تحقیقات کے حوالے سے ایک نئی تاریخ رقم کر کے مسلمانوں کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ ابن الندیم نے اپنی مشھور کتاب الفھرست میں جناب جابر کو یاد کرتے ھوئے لکھا ھے کہ جابر بن حیان ایک سو پچاس علمی وفلسفی کتب کے مصنف و مؤلف ھیں۔ کیمسٹری جابر بن حیان کے فکری احسانات کا صلہ ھے۔ ان کو کیمسٹری کی دنیا میں باپ اور بانی کا درجہ دیا جاتا ھے۔ ابن الندیم کے مطابق جناب جابر حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے دسترخوان علم سے خوشہ چینی کرنے والوں میں سے ایک ھیں۔
ابن خلکان ایک سنی رائٹر ھیں۔ وہ جابر بن حیان کے بارے میں لکھتے ھیں کہ کیمسٹری کا یہ بانی امام جعفر صادق علیہ السلام کا شاگر تھا۔ دوسرے مورخین نے بھی کچھ اس طرح کی عبارت تحریر کی ھے۔ لطف کی بات یہ ھے کہ جن جن علوم کی جناب جابر نے بنیاد رکھی ھے وہ ان سے پھلے بالکل وجود ھی نہ رکھتے تھے۔ پھر کیا ھوا کہ جابر بن حیان نے نئی نئی اختراعات ایجاد کر کے جدید ترین دنیا کو حیران کر دیا۔ اس موضوع پر اب تک سینکڑوں کتابیں اور رسالہ جات شائع ھو چکے ھیں۔ دنیا بھر کے سائنسدان اور ماھرین نے جناب جابر کی جدید علمی خدمات کو بیحد سراھتے ھوئے کھا ھے کہ اگر جابر نہ ھوتے تو پوری انسانیت اتنے بڑے علم سے محروم رھتی۔ ایران کے ممتاز دانشور جناب تقی زادہ نے جابر بن حیان کی علمی ودینی خدمات پر انھیں زبردست خراج تحسین پیش کیا ھے۔ میرے خیال میں جابر کے متعلق بھت سی چیزیں مخفی اور پوشیدہ ھیں۔ تعجب کی بات یہ ھے کہ شیعہ کتب میں بھی جناب جابر جیسے عظیم ھیرو کا تذکرہ بھت کم ھوا ھے۔ یھاں تک کہ بعض شیعہ علم رجال اور حدیث کی کتابوں میں اسی بزرگ ھستی کا نام کھیں پہ استعمال نھیں ھوا۔ ابن الندیم شائد شیعہ ھو اس لئے انھوں نے جناب جابر کا نام اور تذکرہ خاص اھتمام اور احترام کے ساتھ کیا ھے۔ یہ ایک حقیقت ھے کہ پوری دنیا کو بالآخر ماننا پڑا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے جس طرح لائق و فائق علماء تیار کئے ھیں اتنے اور کسی مذھب نے پیشوا نھیں کئے۔

 
ھشام بن الحکم

 امام جعفر صادق علیہ السلام کے ایک اور معروف شاگرد کا نام ھشام بن الحکم ھے۔ یہ شخص واقعتاً نابغہ روزگار ھے، اپنے دور کے تمام دانشوروں پر ھمیشہ ان کو برتری حاصل رھی ھے۔ آپ جب بھی کسی موضوع پر بات چیت کرتے تو سننے والوں کو مسحور کر دیتے۔ اس مرد قلندر کی زبان میں عجیب تاثیر تھی۔ جناب ھشام سے بڑے بڑے علماء آکر شوق وذوق کے ساتھ بحث و مباحثہ کرتے اور سمندر علم کی جولانیوں اور طوفان خیزیوں کو دیکھ کر وہ اپنے اندر ایک خاص قسم کا اطمینان و سکون حاصل کرتے۔ یہ سب کچھ میں اھل سنت بھائیوں کی کتب سے پیش کر رھا ھوں۔ ابو الھزیل علاف ایک ایرانی النسل دانشور تھے۔ آپ علم کلام کے اعليٰ پایہ کے ماھر تسلیم کیے جاتے تھے۔ شبلی نعمانی تاریخ علم کلام میں لکھتا ھے کہ ابو الھزیل کے مقابلے میں کوئی شخص بحث نھیں کرسکتا تھا۔ لیکن یھی ابو الھزیل ھشام بن الحکم کے سامنے آنے کی جرأت نہ کرتا تھا۔ جناب ھشام نے جدید علوم میں جدید تحقیق کو رواج دیا۔ آپ نے طبعیات کے بارے میں ایسے ایسے اسرار و رموز کو بیان کیا ھے کہ وہ لوگوں کے وھم و خیال میں بھی نہ تھے۔ ان کا کھنا ھے کہ رنگ و بو انسانی جسم کا ایک مستقل جزو ھے اور وہ ایک ایسی چیز ھے جو فضا میں پھیل جاتی ھے۔
ابو الھزیل ھشام کے شاگردوں میں سے تھا اور وہ اکثر اپنی علمی آراء میں اپنے استاد محترم جناب ھشام کا حوالہ ضرور دیا کرتے تھے۔ اور ھشام امام جعفر صادق علیہ السلام کی شاگردی پر نہ فقط فخر کیا کرتے تھے بلکہ خود کو “خوش نصیب” کھا کرتے تھے۔ جیسا کہ ھم نے پھلے عرض کیا ھے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے تعلیم و تربیت اور تھذیب و تمدن کے فروغ اور احیاء کے لیے شب و روز کام کیا۔ فرصت کے لمحوں کو ضروری اور اھم کاموں پر استعمال کیا، چونکہ ھمارے آئمہ میں سے کسی کو کام کرنے کا موقعہ ھی نہ دیا گیا۔ امام جعفر صادق علیہ السلام واحد ھستی ھیں کہ جنھوں نے بہت کم عرصے میں صدیوں کا کام کر دکھایا۔ پھر امام رضا علیہ السلام کو بھی علمی و دینی خدمات کے حوالے سے کچھ کام کرنے کا موقعہ میسر آیا۔ ان کے بعد فضا بدتر ھوتی چلی گئی، حضرت امام موسيٰ کاظم علیہ السلام کا دور انتھائی مصیبتوں، پریشانیوں اور دکھوں کا دور ھے۔ آپ پر حد سے زیادہ پابندیاں عائد کر دی گئیں، بغیر کسی وجہ اور جرم و خطا کے آپ کو زندگی بھر زندانوں میں رہ کر اسیرانہ زندگی بسر کرنی پڑی۔
ان کے بعد دیگرائمہ طاھرین علیھم السلام عالم جوانی میں شھید کر دیئے گئے۔ ان کا دشمن بھی کتنا بزدل تھا کہ اکثر کو زھر کے ذریعہ شھید کر دیا گیا۔ ان پر عرصہ حیات ا س لیے تنگ کر دیا تھا کہ وہ علم و عمل کے فروغ اور انسانیت کی فلاح و بھبود کے لیے کام نہ کر سکیں۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کو ایک تو کام کرنے کا موقع مل گیا دوسرا آپ نے عمر بھی لمبی پائی تقریباً ستر (۷۰) سال تک زندہ رھے۔
اب یہ صورت حال کس قدر واضح ھو گئی ھے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے ادوار میں کتنا فرق تھا؟ امام عالی مقام علیہ السلام کو ذرا بھر کام کرنے کا موقعہ نہ مل سکا، یعنی حالات ھی اتنے نا گفتہ بہ تھے کہ مصیبتوں اور مجبوریوں کی وجہ سے سخت پریشان رھے۔ پھر انتھائی بے دردی کے ساتھ آپ کو شھید کر دیا گیا، لیکن آپ کی اور آپ کے ساتھیوں کی مظلومیت نے پوری دنیا میں حق و انصاف کا بول بالا کر دیا اور ظالم کا نام اور کردار ایک گالی بن کر رہ گیا۔
امام حسین علیہ السلام کے لیے دو ھی صورتیں تھیں ایک یہ کہ آپ خاموش ھو کر بیٹھ جاتے اور عبادت کرتے دوسری صورت وھی تھی جو کہ آپ نے اختیار کی، یعنی میدان جھاد میں اتر کر اپنی جان جان آفرین کے حوالے کر دی۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کو حالات و واقعات نے کام کرنے کا وقت اور موقعہ فراھم کر دیا۔ شھادت تو آپ کو نصیب ھونی تھی۔ آپ کو جو نھی موقعہ ملا آپ نے چھار سو علم کی شمعیں روشن کر کے جگہ جگہ روشنی پھیلا دی۔ علم کی روشنی اور عمل کی خوشبو نے ظلمت و جھالت میں ڈوبی ھوئی سوسائٹی کو از سر نو زندہ کر کے اسے روشن و منور کر دیا۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ھے کہ آئمہ اطھار (ع) کی زندگی کا مقصد اور مشن اور طریقہ کار ایک جیسا ھے۔ دوسرے لفظوں میں اگر امام صادق علیہ السلام نہ ھوتے تو امام حسین علیہ السلام بھی نہ ھوتے۔ اسی طرح امام حسین (ع) نہ ھوتے تو امام صادق (ع) نہ ھوتے۔ یہ ھستیاں ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتی ھیں۔ امام حسین علیہ السلام نے ظلم اور باطل کے خلاف جھاد کرتے ھوئے شھادت پائی۔ پھر آنے والے آئمہ اطھار (ع) نے ان کے فلسفہ شھادت اور مقصد قیام کو عملی لحاظ سے پایہ تکمیل تک پھنچایا۔
امام جعفر صادق (ع) نے اگر چہ حکومت وقت کے خلاف علانیہ طور پر جنگ شروع نھیں کی تھی۔ لیکن یہ بھی پوری دنیا جانتی ھے کہ آپ حکام وقت سے نہ فقط دور رھے بلکہ خفیہ طور پر ان کے ساتھ بھر پور مقابلہ بھی کیا۔ ایک طرح کی امام علیہ السلام سرد جنگ لڑتے رھے۔ آپ (ع) کی وجہ سے اس وقت کے ظالم حکمرانوں کی ظالمانہ کاروائیوں کی داستانیں عام ھوئیں اور ان کی آمریت کا جنازہ اس طرح اٹھا کہ مستحق لعن و نفریں ٹہرے، یھی وجہ ھے کہ منصور کو مجبور ھو کر کھنا پڑا کہ:
“هذا الشجی معترض فی الحلق”
کہ جعفر بن محمد میرے حلق میں پھنسی ھوئی ھڈی کے مانند ھیں۔ میں نہ ان کو باھر نکال سکتا ھوں اور نہ نگلنے کے قابل رھا ھوں نہ میں ان کا عیب تلاش کرکے ان کو سزادے سکتا ھوں، اور نہ ان کو برداشت کرسکتا ھوں۔”
یہ سب کچھ دیکھتے ھوئے کہ وہ جو کچھ بھی کر رھے ھیں وہ ھمارے خلاف ھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔برداشت کر رھا ھوں۔ مجھے پتہ ھے کہ امام علیہ السلام نے ھمارے خلاف لوگوں کو ایک نہ ایک دن اکٹھا کر ھی لینا ھے۔ اس کے باوجود بھی میں اتنا بے بس ھوں کہ ان کے خلاف ذرا بھر اقدام نھیں کرسکتا۔
اس سے پتہ چلتا ھے کہ امام علیہ السلام نے اپنی حسن سیاست اور بھترین حکمت عملی کی بدولت اپنے مکار، عیار اور با اختیار دشمن کو بے بس کیے رکھا۔ ھم سب پر لازم ھے کہ اپنے دشمنوں، مخالفوں کے مقابلے میں ھمہ وقت تیار ھیں۔ ھوشیاری و بیداری کے ساتھ ساتھ ھمارا قومی و ملی اتحاد بھی وقت کی اھم ضرورت ھے۔ ھمارا بزدل دشمن گھات لگائے بیٹھا ھے۔ وہ کسی وقت بھی ھمیں نقصان پھنچا سکتا ھے۔ جوں جوں وقت گزرتا جارھا ھے۔ طاقت و غلبہ کے تصور کی اھمیت بڑھتی جارھی ھے۔ خوش نصیب ھیں وہ لوگ جو وقت کی نبض تھام کر سوچ سمجھ کر آگے بڑھتے ھیں اور پھر بڑھتے چلے جاتے ھیں۔

مزید  قرآن کریم میں گفتگو کے طریقے

 
علمی پیشرفت کے اصل محرکات

 جیسا کہ ھم نے پہلے بھی عرض کیا ھے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور امامت میں غیر معمولی طور پر ترقی ھوئی ھے۔ معاشرہ میں فکر و شعور کو جگہ ملی گویا سوئی ھوئی انسانیت ایک بار پھر پوری توانائی کے ساتھ جاگ اٹھی، بحثوں، مذاکروں اور مناظروں کا سلسلہ شروع ھوگیا تھا۔ انھی مذاکرات سے اسلام کو بہت زیادہ فائدہ ھوا، علمی ترقی اور پیشرفت کے تین بڑے محرکات ھمیں اپنی طرف متوجہ کرنے ھیں۔ پھلا سبب یہ تھا کہ اس وقت پورے کا پورا معاشرہ مذھبی تھا۔ لوگ مذھبی و دینی نظریات کے تحت زندگی گزار رھے تھے۔
پھر قرآن و حدیث میں لوگوں کو علم حاصل کرنے کی ترغیب دی گئی تھی۔ لوگوں سے کھا گیا تھا کہ جو جانتے ھیں وہ نہ جاننے والوں کو تعلیم دیں، حسن تربیت کی طرف بھی اسلام نے خصوصی توجہ دی ھے۔ یہ محرک تھا کہ جس کی وجہ سے علم و دانش کی اس عالمگیر تحریک کو بہت زیادہ ترقی ھوئی۔ دیکھتے ھی دیکھتے قافلے کے قافلے اس کا رواں علم میں شامل ھوگئے۔ دوسرا عامل یہ تھا کہ مختلف قوموں، قبیلوں، علاقوں اور ذاتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ مشرف بہ اسلام ھو چکے تھے۔ ان افراد کو تحصیل علم سے خاص لگاؤ تھا۔ تیسرا محرک یہ تھا کہ اسلام کو ھی وطن قرار دیا گیا یعنی جھاں اسلام ھے اس شھر، علاقے اور جگہ کو وطن سمجھا جائے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ھوا کہ اس وقت جتنے بھی ذات پات اور نسل پرستی تصورات تھے وہ اسی وقت دم توڑ گئے۔ اخوت وبرادری کا تصور رواج پکڑنے لگا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اگر استاد مصری ھے تو شاگرد خراسانی یا شاگرد مصری ھے تو استاد خراسانی، ایک بہت بڑا دینی مدرسہ تشکیل دیا گیا۔ آپ کے حلقہ درس میں نافع، عکرمہ جیسے غلام بھی درس میں شرکت کرتے ھیں، پھر عراقی، شامی، حجازی، ایرانی، اور ھندی طلبہ کی رفت و آمد شروع ھوگئی۔ دینی ادارے کی تشکیل سے لوگوں کا آپس میں رابط بڑھا اور اس سے ایک ھمہ گیر انقلاب کا راستہ ھموار ھوا۔ اس زمانے میں مسلم، غیر مسلم ایک دوسرے کے ساتھ رھتے۔ رواداری کا یہ عالم تھا کہ کوئی بھی کسی کے خلاف کوئی بات نھیں کرتا تھا۔ عیسائیوں کے بڑے بڑے پادری موجود تھے۔ وہ مسلمانوں اور ان کے علماء کا دلی طور پر احترام کرتے بلکہ غیر مسلم مسلمانوں کے علم و تجربہ سے استفادہ کرتے۔ پھر کیا ھوا؟ کہ دوسری صدی میں مسلمانوں کی اقلیت اکثریت میں بدل گئی ۔ اس لحاظ سے مسلمانوں کا عیسائیوں کے ساتھ روداری کا مظاھرہ کرنا کافی حد تک مفید ثابت ھوا۔ حدیث میں بھی ھے کہ اگر آپ کو کسی علم یا فن کی ضرورت پڑے اور مسلمانوں کے پاس نہ ھو تو وہ غیر مسلم سے بھی حاصل کر سکتے ھیں۔ نھج البلاغہ میں اس چیز کی تاکید کی گئی ھے اور علامہ مجلسی (رح) نے بحار میں تحریر فرمایا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ھے کہ:
“خذوا الحکمة ولو من مشرک”
“یعنی اگر آپ کو مشرک سے بھی علم و حکمت حاصل کرنا پڑے تو وہ ضرور حاصل کریں”۔
اور ایک حدیث میں ھے کہ:
“الحکمة ضالة المؤمن یاخذها اینما وجدها”
“یعنی حکمت مومن کا گم کردہ خزانہ ھے اس کو حاصل کرو چاھے جھاں سے بھی ملے۔”
بعض جگھوں میں یہ بھی کھا گیا ھے کہ:
“ولو من ید مشرک”
کہ خواہ پڑھانے والا مشرک ھی کیوں نہ ھو۔”
قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ھے:
“یؤتی الحکمة من یشاء ومن یوت الحکمة فقد اوتی خیراً کثیراً” 26
“اور جس کو (خدا کی طرف سے) حکمت عطا کی گئی تو اس میں شک ھی نھیں کہ اسے خوبیوں کی بڑی دولت ھاتھ لگی۔”
واقعاً صحیح ھے کہ علم مومن کا گمشدہ خزانہ ھے اگر انسان کی کوئی چیز گم ھو جائے تو وہ اس کے لئے کتنا پریشان ھوتا ھے اور ا س کو کس طرح تلاش کرتا ھے۔ مثال کے طور پر آپ کی ایک قیمتی انگوٹھی ھو اگر وہ گم ھوجائے، تو آپ جگہ جگہ چھان ماریں گے اور اگر وہ آپ کو مل جائے تو بھت زیادہ خوشی ھوگی۔ علم سے زیادہ قیمتی چیز کونسی ھوسکتی ھے اس کو تلاش کرنے اور طلب کرنے کیلئے انسان کو اتنی محنت کرنی چاھیے۔ اس کے لیے ضروری نھیں ھے کہ تعلیم دینے والا اور فن سیکھانے والا مومن و مسلمان ھی ھو، بلکہ آپ علوم اور جدید ٹیکنالوجی کافروں، مشرکوں سے بھی حاصل کر سکتے ھیں۔ حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد گرامی ھے “مومن علم کو کافر کے پاس عارضی مال کے طور پر دیکھتا ھے اور خود کو اس کا اصلی مالک سمجھتا ھے” اور وہ خیال کرتا ھے کہ علم کا لباس مومن ھی کو جچتا ھے کافر کو نھیں۔
جیسا کہ ھم نے پہلے عرض کیا ھے کہ مسلمانوں کا غیر مسلموں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اس بات کا سبب بنا کہ وہ تحقیق و تلاش کرتے ھوئے دائرہ اسلام میں داخل ھو گئے۔ ایک وقت تھا کہ مسلمان، عیسائی، یھودی، مجوسی وغیرہ سب ایک جگہ، ایک شھر، ایک محلّہ میں رھتے تھے۔ وہ انتھا پسندی کا مظاھرہ کرنے کی بجائے ایک دوسرے سے استفادہ کرتے تھے۔ یہ بات پورے معاشرے کے لیے مفید ثابت ھوئی۔ مشہور مور خ جرجی زیدان نے اس وسعت قلبی کو انسانی معاشرہ بالخصوص مسلمانوں کے لیے نیک شگون قرار دیا ھے۔ وہ سید رضی کے واقعہ کو نقل کرتے ھوئے لکھتا ھے کہ سید رضی اپنے دور کے بہت بڑے عالم دین تھے بلکہ غیر معمولی طور پر درجہ اجتھاد پر فائز تھے۔ آپ سید مرتضی علم الھديٰ کے چھوٹے بھائی تھے جب ان کے ھم عصر عالم دین ابو اسحٰق صابی نے انتقال کیا تو رضی نے ان کی شان مین ایک قصیدہ کھا۔ ابو اسحٰق صابی مسلمان نہ تھے یہ مجوسی فرقے سے ملتے جلتے خیالات کے حامل تھے۔ یہ بھی ھوسکتا ھے کہ وہ عیسائی ھوں۔ یہ اعليٰ پایہ کے ادیب، ممتاز دانشور تھے۔ ادیب ھونے کے ناطے سے قرآن مجید سے بہت زیادہ عقیدت رکھتے تھے۔ وہ اپنی تحریر و تقریر میں قرآن مجید کی متعدد آیات کا حوالہ دیا کرتے تھے۔ ماہ رمضان میں دن کو کوئی چیز نھیں کھاتے تھے۔ کسی نے ان سے پوچھ لیا کہ آپ ایک غیر مسلم ھیں تو رمضان میں دن کو کھاتے پیتے کیوں نھیں ھیں تو کھا کرتے تھے کہ ادب کا تقاضا یہ ھے کہ ھم افراد معاشرہ کا احترام کرتے ھوئے ان کی مذھبی اقدار کا احترام کریں چنانچہ سید رضی نے کہا۔

ارایت من حملوا علی الاعواد
ارایت کیف خبا ضیاء النادی

کیا آپ نے دیکھا کہ یہ کون شخص تھا کہ جس کو لوگوں نے تابوت میں رکھ کر اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا تھا؟ کیا آپ نے سمجھا ھے کہ ھماری محفلوں کا چراغ بجھ گیا ھے؟ یہ ایک پہاڑ تھا جو گرگیا کچھ لوگوں نے سید رضی پر اعتراض کیا کہ آپ ایک سید، اولاد پیغمبر اور بزرگ عالم دین ھوتے ھوئے ایک کافر کی تعریف کی ھے؟ فرمایا جی ہاں:
“انما رثیت علمه”
کہ میں نے اس کے علم کا مرثیہ کھا ھے۔”
وہ ایک بہت بڑا عالم تھا، دانشمند تھا میں نے اس پر اس لیے مرثیہ کھا کہ اھل علم ھم سے جدا ھو گیا ھے، اگر اس زمانے میں ایسا کیا جائے تو لوگ اس عالم کو شھر بدر کردیں گے۔ جرجی زیدان کھتا ھے کہ ایک جلیل القدر عالم دین نے حسن اخلاق اور رواداری کا مظاھرہ کر کے اپنی خاندانی عظمت اور اسلام کی پاسداری کا عملی ثبوت دیا ھے۔ سید رضی حضرت علی علیہ السلام کے ایک لحاظ سے شاگر تھے۔ کہ انھوں نے مولا امیر المومنین علیہ السلام کے بکھرے ھوئے کلام کو جمع کر کے نھج البلاغہ کے نام سے ایک ایسی کتاب تالیف کی کہ جسے قرآن مجید کے بعد بہت زیادہ احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ھے۔ سید رضی اپنے جد امجد پیغمبر اسلام (ص) اور حضرت علی علیہ السلام کی تعلیمات سے بھت زیادہ قریب تھے۔ اسی لیے تو کھتے ھیں کہ علم و حکمت جھاں کھیں بھی ملے اسے لے لو۔ یہ تھے وہ محرکات کہ جن کی وجہ سے لوگوں میں فکری و نظریاتی اور شعوری طور پر پختگی پیدا ھوئی اور تعلیم و تربیت، علم و عمل کے حوالے سے جتنی بھی ترقی ھے یہ سب کچھ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی مھربانیوں کا نتیجہ ھے۔ پس ھماری گفتگو کا نتیجہ یہ ھوا کہ اگر چہ امام جعفر صادق علیہ السلام کو ظاھری حکومت نھیں ملی اگر مل جاتی تو آپ اور بھی بھتر کارنامے انجام دیتے لیکن آپ کو جس طرح اور جیسا بھی کام کرنے کا موقعہ ملا آپ نے کوئی لمحہ ضائع کئے بغیر بے شمار قابل ستائش کام کیے۔ مجموعی طور پر ھم کھہ سکتے ھیں کہ مسلمانوں کے جتنے بھی علمی و دینی کارنامے تاریخ میں موجود ھیں وہ سب صادق آل محمد علیہ السلام کے مرہون منت ھیں۔
شیعہ تعلیمی مراکز تو روز روشن کی طرح واضح ھیں۔ اھل سنت بھائیوں کے تعلیمی و دینی مراکز میں امام علیہ السلام کے پاک و پاکیزہ علوم کی روشنی ضرور پھنچی ھے۔ اھل سنت حضرات کی سب سے بڑی یونیورسٹی الازھر کو صدیوں قبل فاطمی شیعوں نے تشکیل دیا تھا اور جامعہ ازھر کے بعد پھر اھل تسنن کے مدرسے اور دینی ادارے بنتے چلے گئے۔ ان لوگوں کے اس اعتراض (کہ امام علیہ السلام میدان جنگ میں جھاد کرتے تو بھتر تھا؟) کا جواب ھم نے دے دیا ھے ان کو یہ بات بھی بغور سننی چاھیے کہ اسلام جنگ کے ساتھ کبھی نھیں پھیلا بلکہ اسلام تو امن و سلامتی کا پیامبر ھے۔ مسلمان تو صرف دفاع کرنے کا مجاز ھے، آپ اسے جھاد کے نام سے بھی تعبیر کر سکتے ھیں۔ امام علیہ السلام کی حلم و بردباری اور حسن تدبر نے نہ فقط ماحول کو خوشگوار بنایا بلکہ لوگوں کو شعور بخشا، علم جیسی روشنی سے مالا مال کر دیا، اسلام اور مسلمانوں کی عظمت و رفعت میں اضافہ ھوا۔
باقی رھا یہ سوال کہ ائمہ طاھرین (ع) عنان حکومت ھاتھ میں لے کر اسلام اور مسلمانوں کی بخوبی خدمت کر سکتے تھے انھوں نے اس موقعہ سے فائدہ نھیں اٹھایا پر امن رھنے کے باوجود بھی ان کو جام شھادت نوش کرنا پڑا؟ تو اس کا جواب یہ ھے کہ حالات اس قدر بھی سازگار و خوشگوار نہ تھے کہ آئمہ اطھار (ع) کو حکومت و خلافت مل جاتی؟ امام علیہ السلام نے حکمرانوں سے ٹکرانے کی بجائے ایک اھم تعمیری کام کی طرف توجہ دی۔ علماء فضلاء، فقھاء اور دانشور تیار کر کے آپ نے قیامت تک کے انسانوں پر احسان عظیم کر دیا۔ وقت وقت کی بات ھے آئمہ طاھرین علیھم السلام نے ھر حال، ھر موقعہ پر اسلام اور مظلوم طبقہ کی بھر پور طریقے سے ترجمانی کی۔ حضرت امام رضا علیہ السلام کو مامون کی مجلس میں جانے کا موقعہ ملا آپ نے سرکاری محفلوں اور حکومتی میٹنگوں میں حق کی کھل کر ترجمانی کی اور جیسے بھی بن پڑا غریبوں اور بے سھارا لوگوں کی مددکی۔ امام رضا علیہ السلام دو سال تک مامون کے قریب رھے۔ اس دور میں آپ سے کچھ نہ کچھ احادیث نقل کی گئیں اس کے بعد آپ کی کوئی حدیث نظر نھیں آتی۔ دوسرے لفظوں میں مامون کے دور میں آپ کو دین اسلام کی ترویج کیلئے کام کرنے کا موقعہ ملا اس کی وجہ مامون کی قربت ھے اس کے بعد پابندیوں کا دور شروع ھو گیا۔ آپ جو کرنا چاھتے تھے وہ بندشوں اور رکاوٹوں کی نظر ھو گیا۔ پھر آپ کو جام شھادت نوش کرنا پڑا۔ جو آپ کے باپ دادا کے ورثہ میں شامل تھا۔

 
ایک سوال اور ایک جواب سوال:

کیا جابر بن حیان نے ذاتی طور پر امام جعفر صادق علیہ السلام سے علم حاصل کیا تھا؟
جواب:میں نے عرض کیا ھے کہ یہ ایک سوال ھے جو تاریخ میں واضح نھیں ھے ابھی تک تاریخ یہ فیصلہ نہ کر سکی کہ جابر بن حیان نے سوفی صد امام جعفر صادق علیہ السلام سے درس حاصل کیا ھے۔ البتہ کچھ ایسے مورخین بھی ھیں جو جابر کو امام علیہ السلام کا شاگردتسلیم نھیں کرتے ۔ان کا کہنا ھے کہ جابر کا زمانہ امام علیہ السلام کے بعد کا دوران ھے ان کے مطابق جابر امام علیہ السلام کے شاگردوں کا شاگرد ھے۔ لیکن بعض کھتے ھیں کہ جابر نے براہ راست امام علیہ السلام سے کسب فیض کیا ھے۔ جابر نے ان علوم میں مھارت حاصل کی ھے کہ جو پھلے موجود نہ تھے، اس سے ظاھر ھوتا ھے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے مخلتف شعبوں میں اپنے ھونھار شاگرد تیار کیے تھے جس کا مقصد یہ تھا کہ اس سمندر علم سے ھر کوئی اپنی اپنی پیاس بجھا کر جائے۔
جیسا کہ حضرت امیر علیہ السلام نے کمیل بن زیاد سے فرمایا ھے:
“ان ههنا لعلما جما لو اصبت له حملة” 27
آپ نے اپنے سینہ اقدس کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا دیکھو یھاں علم کا بڑا ذخیرہ موجود ھے کاش! اس کے اٹھانے والے مجھے مل جاتے۔”ھاں کوئی تو ایسا؟ جو ذہین تو ھے نا قابل اطمینان ھے اور دنیا کے لیے دین کو آلہ کار بنانے والا ھے۔ یا جو ارباب حق ودانش کا مطیع تو ھے مگر اس کے دل کے گوشوں میں بصیرت کی روشنی نھیں ھے یا ایسا شخص ملتا ھے کہ جو لذتوں پر مٹا ھوا ھے یا ایسا شخص جو جمع آوری و ذخیرہ اندوزی پر جان دیئے ھوئے ھے۔
—————
26.بقرہ، ۲۶۹.
27.نھج البلاغہ، ۱۳۹.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.