امام جعفر صادق (ع) اور مسئلہ خلافت (1)

0 0

اس وقت ھم مسئلہ امامت و خلافت پر گفتگو کر رھے ھیں۔ مسئلہ صلح امام حسن علیہ السلام پر بات چیت ھوچکی امام رضا (ع) کی ولی عہدی کے بارے میں ھم گفتگو کریں گے۔ اس سلسلے میں کئی سوالات بھی پیدا ھوتے ھیں، جن کا جواب دینا بہت ضروری ھے ۔ حضرت امیر (ع) حضرت امام حسن علیہ السلام اور حضرت امام رضا علیہ السلام، حضرت امام صادق علیہ السلام کی خلافت حقہ کے بارے میں کچھ اعتراضات سننے کو آئے ھیں، میں چاھتا ھوں ان کا تفصیل کے ساتھ جواب دوں، ایسا جواب کہ جس کے بعد کسی قسم کا ابھام نہ رھے۔ لیکن میں اس وقت امام جعفر صادق (ع) کے بارے میں گفتگو کروں گا۔ امام علیہ السلام کے بارے میں دو سوالات ھمارے سامنے پیش کئے گئے ھیں۔ پہلا سوال یہ ھے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا دور امامت بنی امیہ کی حکومت کے آخری ایام اور بنی عباس کے اوائل اقتدار میں شروع ھوتا ھے۔
سیاسی اعتبار سے امام علیہ السلام کے لئے بھترین موقعہ ھاتھ میں آیا۔ بنی عباس نے تو اس موقعہ پر بھر پور طریقے سے فائدہ اٹھا لیا۔ امام علیہ السلام نے ان سنھری لمحوں سے استفادہ کیوں نھیں کیا؟ بنی امیہ کا اقتدار زوال پذیر تھا۔ عربوں اور ایرانیوں، دینی اور غیر دینی حلقوں میں بنی امیہ کے بارے میں شدید ترین مخالفت وجود میں آچکی تھی۔ دینی حلقوں میں مخالفت کی وجہ ان کا علانیہ طور گناھوں کا ارتکاب کرنا تھا۔ دیندار طبقہ کے نزدیک بنی امیہ فاسق وفاجر اور نالائق لوگ تھے؟ اس کے علاوہ انھوں نے بزرگان اسلام اور دیگر دینی شخصیات پر جو مظالم ڈھائے ھیں وہ انتھائی قابل مذمت اور لائق نفرت تھے۔ اس طرح کی کئی مخالف وجوھات نفرت واختلاف کا باعث بن چکی تھیں” خاص طور پر امام حسین علیہ السلام کی شھادت نے بنی امیہ کے ناپاک اقتدار کو خاک میں ملا دیا۔ پھر رھی سھی کسر جناب زید بن علی ابن الحسین اور یحیی بن زید کے انقلابات نے نکال دی۔ مذھبی اور دینی اعتبار سے ان کا اثر و رسوخ بالکل ناپید ھوگیا تھا۔ بنی امیہ علانیہ طور پر فسق وفجور کے مرتکب ھوئے تھے، عیاشی اور شرابخوری میں تو انھوں نے بڑے بڑے رنگین مزاج حکمرانوں کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ یھی وجہ ھے کہ لوگ ان سے سخت نفرت کرتے تھے۔ اور ان کو لادین عناصر سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ کچھ حکران ظلم و ستم کے حوالے سے بہت ظالم وسفاک شمار کیے جاتے تھے ان میں ایک نام سلاطین بنی امیہ کا ھے۔ عراق میں حجاج بن یوسف اور خراسان میں چند حکمرانوں نے ایرانی عوام پر مظالم ڈھائے۔ وہ لوگ بنی امیہ کے مظالم کو ان مظالم کا سر چشمہ قرار دیتے تھے۔ اس لئے شروع ھی سے اسلام اور خلافت میں تفریق قائم کی گئی خاص طور پر علویوں کی تحریک خراسان میں غیر معمولی طور پر مؤثر ثابت ھوئی ۔ اگر چہ یہ انقلابی لوگ خود تو شھید ھوگئے لیکن ان کے خیالات اور ان کی تحریکوں نے مردہ قوموں میں جان ڈال دی۔ اور ان کے نتائج لوگوں پر بہت اچھے مرتب ھوئے۔
جناب زید بن زین العابدین (ع) نے کوفہ کی حدود میں انقلاب برپا کیا وھاں کے لوگوں نے ان کے ساتھ عھد و پیمان کیا اور آپ کی بیعت کی، لیکن چند افراد کے سوا کوفیوں نے آپ کے ساتھ وفا نہ کی، جس کی وجہ سے اس عظیم سپوت اور بھادر و جری نوجوان کو بڑی بیدردی کے ساتھ شھید کر دیا گیا۔ ان ظالموں نے آپ کی قبر پر دو مرتبہ پانی چھوڑ دیا تاکہ لوگوں کو آپ کی قبر مبارک کے بارے میں پتہ نہ چل سکے، لیکن وہ چند دنوں کے بعد پھر آئے قبر کو کھود کر جناب زید کی لاش کو سولی پر لٹکا دیا اور کچھ دنوں تک اسی حالت میں لٹکتی رھی اور کہا پر وہ لاش خشک ھوگئی۔ کہا جاتا ھے کہ جناب زید کی لاش چار سالوں تک سولی پر لٹکتی رھی۔ جناب زید کا ایک انقلابی بیٹا تھا ان کا نام یحیی تھا ۔انھوں نے انقلاب برپا کیا لیکن کامیاب نہ ھوسکے اور خراسان چلے گئے۔ پھر جناب یحیی بنی امیہ کے ساتھ جنگ کرتے ھوئے شھید ھوگئے۔ آپ کی محبت لوگوں کے دلوں میں گھر کرتی چلی گئی۔ آپ کی شھادت کے بعد خراسان کے عوام کو پتہ چلا کہ خاندان رسالت کے ان نوجوانوں نے ایک ظالم حکومت کے خلاف جھاد کیا اور خود اسلام اور مسلمانوں کا دفاع کرتے ھوئے شھید ھوگئے۔ ا س زمانے میں خبریں بہت دیر سے پھنچا کرتی تھیں۔ جناب یحیی نے امام حسین علیہ السلام اور جناب زید کی شھادت کو از سر نو زندہ کر دیا۔ لوگوں کو بعد میں پتہ چلا کہ آل محمد (ص) نے بنی امیہ کے خلاف کس پاکیزہ مقصد کے تحت قیام کیا تھا۔
مورخین لکھتے ھیں جب جناب یحیی شھید ھوئے تو خراسان کے عوام نے ستر (۷۰) روز تک سوگ منایا۔ اس سے معلوم ھوتا ھے انقلابی سوچ رکھنے والے لوگوں کا اثر پھلے ھی سے تھا لیکن جوں جوں وقت گزرتا جاتا ھے لوگوں کے اذھان میں انقلابی اثرات گھر کرتے جاتے ھیں۔ ایک انقلابی اپنے اندر کئی انقلاب رکھتا ھے۔ بہر حال خراسان کی سرزمین ایک بڑے انقلاب کیلئے سازگار ھوگئی۔ لوگ بنی امیہ کے خلاف کھلے عام نفرت کرنے لگے۔

 
بنی امیہ کے خلاف عوامی رد عمل اور بنی عباس

 بنو عباس نے سیاسی حالات سے فائدہ اٹھاتے ھوئے خود کو خوب مستحکم و مضبوط کیا، یہ تین بھائی تھے ان کے نام یہ ھیں۔ ابراھیم امام، ابو العباس سفاح اور ابو جعفر منصور یہ تینوں عباس بن عبدالمطلب کی اولاد سے ھیں۔ یہ عبداللہ کے بیٹے تھے۔ عبداللہ بن عباس کا شمار حضرت علی علیہ السلام کے اصحاب میں سے ھوتا ھے۔ اس کا علی نام سے ایک بیٹا تھا۔ اور علی کے بیٹے کا نام عبداللہ تھا” پھر عبداللہ کے تین بیٹے تھے۔ ابراھیم، ابو العباس سفاح اور ابو جعفر، یہ تینوں بہت ھی با صلاحیت، قابل ترین افراد تھے۔ ان تینوں بھائیوں نے بنی امیہ کے آخری دور حکومت میں بھر پور طریقے سے فائدہ اٹھایا۔ وہ اس طرح کہ انھوں نے خفیہ طور پر مبلغین کی ایک جماعت تیار کی اور پس پردہ انقلابی پروگرام تشکیل دینے میں شب و روز مصروف رھے۔ اور خود حجاز و عراق اور شام میں چھپے رھے، ان کے نمائندے اطراف و اکناف میں پھیل کرامویوں کے خلاف پروپیگنڈا کرتے تھے، خاص طور پر خراسان میں ایک عجیب قسم کا ماحول بن چکا تھا۔ لیکن ان کی تحریک کا پس منظر منفی تھا یہ کسی اچھے انسان کو اپنے ساتھ نہ ملاتے۔ یہ آل محمد (ص) کے گھرانے میں صرف ایک شخصیت کا نام استعمال کر کے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے۔ اس سے معلوم ھوا کہ عوام کی توجہ کا مرکز آل محمد (ص) ھی تھے۔ ان عباسیوں نے ایک کھیل کھیلا کہ ابو مسلم خراسانی کا نام استعمال کیا اس سے ان کا مقصد ایرانی عوام کو اپنی طرف متوجہ کرنا تھا۔
وہ قومی تعصب پھیلا کر بھی لوگوں کی ھمدردیاں حاصل کرنا چاھتے تھے، وقت کی قلت کے پیش نظر میں اس مسئلہ پر مزید روشنی نھیں ڈالنا چاھتا، البتہ میرے اس مدعا پر تاریخی شواھد ضرور موجود ھیں۔ ان کو بھی لوگ بالکل پسند نھیں کرتے تھے۔ لیکن بنی امیہ سے نجات حاصل کرنے کیلئے وہ ان کو اقتدار پر لے آنا چاھتے تھے۔ بنی امیہ ھر لحاظ سے اپنا مقام کھو چکے تھے، اگر چہ بنی امیہ ظاھری طور پر خود کو مسلمان کہلواتے تھے۔ لیکن ان کا اسلام سے دور تک واسطہ نہ تھا۔ خراسان میں ان کا اثر و رسوخ بالکل نہ تھا کہ لوگوں کو اس وقت کی حکومت کے خلاف اکٹھا کر سکیں اور خراسان کی فضا میں ایک خاص قسم کا تلاطم پیدا ھو چکا تھا، اگر چہ یہ لوگ چاھتے تھے کہ خلافت اور اسلام ھر دونوں کو اپنے پروگرام سے خارج کر دیں، لیکن نہ کرسکے، اور یہ اسلام کی بقاء اور مسلمانوں کی ترقی کا نام استعمال کر کے آگے بڑھتے گئے اور سال ۱۲۹کے پہلے دن مرو کے ایک قصبے”سفید نج” میں اپنے قیام کا رسمی طور پر اعلان کیا۔ عید الفطر کا دن تھا۔ نماز عید کے بعد اس انقلاب کا اعلان کیا گیا، انھوں نے اپنے پرچم پر اس آیت کو تحریر کیا اور اسی آیہ کو اپنے انقلابی اھداف کا ماٹو قرار دیا:
“اذن للذین یقاتلون بانهم ظلموا وان الله علی نصرهم لقدیر” 25
“جن (مسلمانوں) سے (کفار) لڑا کرتے تھے چونکہ وہ (بہت) ستائے گئے اس وجہ سے انھیں بھی (جھادکی) اجازت دے دی گئی اور خدا تو ان لوگوں کی مدد پر یقیناً قادر (و توانا) ھے۔”
پھر انھوں نے سورہ حجرات کی آیہ نمبر ۱۳کو اپنے منشور میں شامل کیا ارشاد خداوندی ھے:
“یا ایهاالناس انا خلقناکم من ذکر و انثی و جعلناکم شعوبا و قبائل لتعارفوا ان اکرمکم عندالله اتقکم”
لوگو ھم نے تو سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور ھم نے تمھارے قبیلے اور برادریاں بنائیں تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کر سکیں اس میں شک نھیں کہ خدا کے نزدیک تم سب سے بڑا عزت دار وھی ھے جو بڑا پرھیز گار ھو۔”
اس آیت سے بنی نوع انسان کو سمجھایا جارھا ھے کہ اسلام اگر کسی کو دوسرے پر ترجیح دیتا ھے تو وہ اس کا متقی ھونا ھے۔ چونکہ اموی خاندان عربوں کو غیر عربوں پر ترجیح دیتے تھے اسلام نے ان کے اس نظریہ کی نفی کر کے ایک بار پھر اپنے دستور کی تائید کی ھے کہ خاندانی و جاھت، مالی آسودگی کو باعث فخر سمجھنے والو! تقوی ھی معیار انسانیت ھے۔
ایک حدیث ھے اور اس کو میں نے کتاب اسلام اور ایران کا تقابلی جائزہ میں نقل کیا ھے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا ھے یا ایک صحابی نے نقل کیا ھے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ سفید رنگ کے گوسفند کالے رنگ کے گوسفند میں داخل ھوگئے اور یہ ایک دوسرے سے ملے ھیں اور اس کے نتیجہ میں ان کی اولاد پیدا ھوئی ھے۔ پیغمبر اکرم (ص) نے اس خواب کی تعبیر ان الفاظ میں فرمائی کہ عجمی اسلام میں تمھارے ساتھ شرکت کریں گے، اور آپ لوگوں میں شادیاں کریں گے۔ آپ کی عورتیں ان کے مردوں اور ان کی عورتیں آپ کے مردوں کے ساتھ بیاھی جائیں گی۔ یعنی آپ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ رشتے کریں گے۔ میں نے اس جملہ سے یہ سمجھا کہ آپ (ص) نے فرمایا کہ میں دیکھ رھا ھوں کہ ایک روز تم عجم کے ساتھ اور عجم تمھارے ساتھ اسلام کی خاطر جنگ کریں گے یعنی ایک روز تم عجم کے ساتھ جنگ کر کے انھیں مسلمان کریں گے اور ایک روز عجم تمھارے ساتھ لڑیں گے اور تمھیں اسلام کی طرف لوٹائیں گے اس حدیث کا مفھوم یھی ھے کہ اس قسم کا انقلاب آئے گا۔
بنی عباس انتھائی مضبوط پروگرام اور ٹھوس پالیسی پر عمل کرتے ھوئے تحریک کو پروان چڑھا رھے تھے۔ ان کا طریقہ کار بہت عمدہ اور منظم تھا انھوں نے ابو مسلم کو خراسان اپنے مقصد کی تکمیل کیلئے بھیجا تھا۔ وہ یہ ھر گز نھیں چاھتے تھے کہ انقلاب ابو مسلم کے نام پر کامیاب ھو بلکہ انھوں نے چند مبلغوں کو خراسان بھیجا کہ جاکر لوگوں میں اچھے انداز میں تقریریں کر کے عوام کو امویوں کے خلاف اور عباسیوں کے حق میں جمع کریں۔ ابو مسلم کے نسب کے بارے میں آج تک معلوم نھیں ھو سکا تاریخ میں تو یھاں تک بھی پتہ نھیں ھے کہ ابو مسلم ایرانی تھے یا عربی؟ پھر اگر ایرانی تھے تو پھر کیا اصفھانی تھے یا خراسانی؟ وہ ایک غلام تھا اس کی عمر ۲۴برس کی تھی کہ ابراھیم امام نے اس غیر معمولی صلاحیتوں کو بھانپ لیا اور اس کو تبلیغ کے لئے خراسان روانہ کیا تاکہ وہ خراسان کے عوام کے اندر ایک انقلاب برپا کر دے۔ اس نوجوان میں قائدانہ صلاحیتیں بھر پور طریقے سے موجود تھیں۔ یہ شخص سیاسی لحاظ سے تو خاصا با صلاحیت تھا لیکن حقیقت میں بہت برا انسان تھا۔ اس میں انسانیت کی بوتک نہ آتی تھی۔ ابو مسلم حجاج بن یوسف کی مانند تھا، اگر عرب حجاج پر فخر کرتے ھیں تو ھم بھی ابو مسلم پر فخر کرتے ھیں۔
حجاج بہت ھی زیرک اور ھوشیار انسان تھا۔ اس میں قائدانہ صلاحتیں کوٹ کوٹ کر بھری ھوئی تھیں، لیکن وہ انسانیت کے حوالے سے بہت ھی پست اور کمینہ شخص تھا۔ اس نے اپنے زمانہ اقتدار میں بیس ھزار آدمی قتل کیے اور ابو مسلم کے بارے میں مشھور ھے کہ اس نے چھ لاکھ آدمی قتل کیے۔ اس نے معمولی بات پر اپنے قریبی دوستوں کو بھی موت کے گھاٹ اتاردیا اور اس نے یہ نھیں دیکھا کہ یہ ایرانی ھے یا عربی کہ ھم کہہ سکیں کہ وہ قومی تعصب رکھتا تھا۔
میں نھیں سمجھتا کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس تحریک میں کسی قسم کی مداخلت کی ھو، لیکن بنو عباس نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ان کا یہ نعرہ تھا کہ وہ بنی امیہ سے خلافت ھر صورت میں لے کر رھیں گے۔ اس کیلئے وہ کسی قسم کی قربانی سے دریغ نھیں کریں گے۔ یھاں پر قابل ذکر بات یہ ھے کہ بنو عباس کے پاس دو اشخاص ایسے ھیں کہ جو شروع سے لے کر آخر تک تحریک عباسیہ کی قیادت کرتے رھے۔ ایک عراق میں تھا اور وہ پس پردہ کام کررھا تھا اور دوسرا خراسان میں، اور جو کوفہ میں تھا وہ تاریخ میں ابو سلمہ خلال کے نام سے مشھور ھے اور جو خراسان میں تھا اس کا نام ابو مسلم ھے۔ میں پھلے عرض کر چکا ھوں کہ اس کو بنی عباس نے خراسان روانہ کیا اور اس نے بہت کم مدت میں بے شمار کامیابیاں سمیٹیں۔ ابو سلمہ کی حیثیت صدر اور ابو مسلم کی ایک وزیر کی تھی۔ یہ پڑھا لکھاشخص، سمجھدار سیاستدان اور بھترین منتظم تھا۔ گفتگو کرتے وقت دوسروں کو متأثر کر دیتا۔ یھی وجہ ھے کہ ابو مسلم ابو سلمہ سے حسد کرتا تھا۔ جب اس نے خراسان میں اپنی تحریک کا آغاز کیا تو ابو سلمہ کو درمیان سے ھٹا دیا اور ابو عباس سفاح کے نام ابو سلمہ کےخلاف ڈھیر سارے خط لکھ ڈالے، اور اس کو خطرناک شخص کے طور پر متعارف کروایا اور کھا کہ اس کو تحریک سے خارج کر دیجئے۔ اس نے اسی قسم کے خطوط بنی عباس کے مختلف اشخاص کی طرف ارسال کیے۔
لیکن سفاح نےاس کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا اور کھہ دیا کہ وہ مخلصانہ طویل خدمات کے صلے میں ابو سلمہ کےخلاف کسی قسم کا قدم نھیں اٹھا سکتے۔ پھر اعتراض کرنے والوں نے سفاح سے شکایت کی کہ ابو سلمہ اندر سے کچھ ھے اور باھر سے کچھ اور، وہ چاھتا ھے کہ آل عباس سے خلافت لے کر آل ابی طالب (ع) کے حوالے کرے۔ یہ سن کر سفاح نے کھا مجھ پر اس قسم کے الزام کی حقیقت ثابت نہ ھوسکی اگر ابو سلمہ اس طرح کی سوچ رکھتا ھے کہ وہ ایک انسان کی حیثیت سے اس طرح کی غلطی کرسکتا ھے۔ وہ ابو سلمہ کے خلاف جتنی بھی کوششیں کرتا تھا کار گر ثابت نہ ھوتی تھیں۔ کیونکہ ابو سفاح ابو سلمہ اس کو کسی نہ کسی حوالے سے نقصان دے سکتا ھے۔ اس لئے اس نے اس کے قتل کا منصوبہ بنا لیا۔ ابو سلمہ کی عادت تھی کہ وہ سفاح کے ساتھ رات گئے تک رھتا وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ باتیں کرتے ایک رات وہ سفاح سے ملاقات کر کے واپس آرھا تھا کہ ابو مسلم کے ساتھیوں اس کو قتل کر دیا۔ چونکہ سفاح کے کچھ آدمی اس قتل میں شریک تھے اس لئے ابو سلمہ کا خون کسی شمار میں نہ آسکا۔ یہ واقعہ سفاح کے اقتدار کے ابتدائی دنوں میں پیش آیا۔ اس سانحہ کی کچھ وجوھات ھوسکتی ھیں۔ ان میں کچھ محرکات یہ بھی ھیں۔

مزید  کرونا، حقیقت یا افسانہ؟

 
ابو سلمہ کا خط امام جعفر صادق (ع) اور عبد اللہ محض کے نام

مشھور مورخ مسعودی نے مروج الذھب میں لکھا ھے کہ ابو سلمہ اپنی زندگی کے آخری لمحات میں اس فکر میں مستغرق رھتا تھا کہ خلافت آل عباس سے لے کر آل ابی طالب (ع) کے حوالے کرے۔ اگر چہ وہ شروع میں آل عباس کیلئے کام کرتا رھا۔۱۳۲ھ میں جب بنی عباس نے رسمی طور پر اپنی حکومت کی داغ بیل ڈالی اس وقت ابراھیم امام شام کے علاقہ میں کام کرتا تھا لیکن وہ منظر عام پر نھیں آیا تھا۔ وہ بھائیوں میں سے بڑا تھا۔ اس لئے اس کی خواھش تھی کہ وہ خلیفہ وقت بنے لیکن وہ بنی امیہ کے آخری دور میں خلیفہ مروان بن محمد کے ہتھے چڑھ گیا اور اس کو یہ فکر دامن گیر ھوئی کہ اگر اس کے خفیہ ٹھکانے کا کسی کو پتہ چل گیا تو وہ گرفتار کر لیا جائے گا۔ چنانچہ اس نے ایک وصیت نامہ لکھ کر مقامی کسان کے ذریعے اپنے بھائیوں کو بھجوایا۔ وہ کوفہ کے نواحی قصبے حمیمہ میں مقیم تھے، اس نے اس وصیت نامے میں اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں اپنی حالیہ پالیسی کے بارے میں اعلان کیا اور اپنا جانشین مقرر کیا اور اس میں اس نے یہ لکھا کہ اگر میں آپ لوگوں سے جدا ھوگیا تو میرا جانشین سفاح ھوگا (سفاح منصور سے چھوٹا تھا) اس نے اپنے بھائیوں کو حکم دیا کہ وہ یھاں سے کوفہ چلے جائیں اور کسی خفیہ مکان میں جاکر پناہ لیں اور انقلاب کا وقت قریب ھے۔ اس کو قتل کردیا گیا اور اس کا خط اس کے بھائیوں کے پاس پھنچایا گیا۔ وہ وھاں سے چھپتے چھپاتے کوفہ چلے آئے اور ایک لمبے عرصے تک وھیں پہ مقیم رھے۔ ابو سلمہ بھی کوفہ میں چھپا ھوا تھا اور تحریک کی قیات کررھا تھا دو تین مھینوں کے اندر اندر یہ لوگ رسمی طور پر ظاھر ھوئے اور جنگ کر کے بہت بڑی فتح حاصل کی۔
مورخین نے لکھا ھے کہ اس انقلاب کے بعد ابراھیم امام کو قتل کردیا گیا۔ حکومت سفاح کے ھاتھ میں آگئی۔ اس واقعہ کے بعد ابو سلمہ کو پریشانی لاحق ھوئی اور وہ سوچنے لگا کہ خلافت کیوں نہ آل عباس سے لے کر آل ابو طالب کے حوالے کی جائے۔ اس نے دو علیحدہ علیحدہ خطوط لکھے ایک خط امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں روانہ کیا اور دوسرا خط عبداللہ بن حسن بن حسن بن علی بن ابی طالب (ع) کے نام ارسال کیا۔ (حضرت امام حسن (ع) کے ایک بیٹے کا نام حسن تھا جسے حسن مثنيٰٰ سے یاد کیا جاتا ھے یعنی دوسرے حسن، حسن مثنی کربلا میں شریک جھاد ھوئے لیکن زخمی ھوئے اور درجئہ شھادت پر فائز نہ ھو سکے۔
اس جنگ میں ان کی ماں کی طرف سے ایک رشتہ داران کے پاس آیا اور عبید اللہ ابن زیاد سے سفارش کی کہ ان کو کچھ نہ کہا جائے۔ حسن مثنی نے اپنا علاج معالجہ کرایا اور صحت یاب ھوگئے۔ ان کے دو صاجزادے تھے ایک کانام عبداللہ تھا۔ عبداللہ ماں کے لحاظ سے امام حسین علیہ السلام کے نواسے تھے اور باپ کی طرف سے امام حسن علیہ السلام کے پوتے تھے۔ آپ دو طریقوں سے فخر کرتے ھوئے کھا کرتے تھے کہ میں دو حوالوں سے پیغمبر اسلام (ص) کا بیٹا ھوں۔ اسی وجہ سے ان کو عبداللہ محض کھا جاتا تھا۔ یعنی خالصتاً اولاد پیغمبر، عبداللہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور امامت میں اولاد امام حسن علیہ السلام کے سربراہ تھے، جیسا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام اولاد امام حسین علیہ السلام کے سربراہ تھے۔)
ابو سلمہ نے ایک شخص کے ذریعہ سے یہ دو خطوط روانہ کیے، اور اس کو تاکید کی کہ اس کی خبر کسی کو بھی نہ ھو۔ خط کا خلاصہ یہ تھا کہ خلافت میرے ھاتھ میں ھے۔ خراسان بھی میرے پاس ھے اور کوفہ پر بھی میرا کنٹرول ھے، اور اب تک میری ھی وجہ سے خلافت بنی عباس کو ملی ھے۔ اگر آپ حضرات راضی ھوں تو میں حالات کو پلٹ دیتا ھوں یعنی وہ خلافت آپ کو دے دیتا ھوں۔

 
امام (ع) اور عبداللہ محض کا رد عمل

 قاصد وہ خط سب سے پھلے امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں لے آیا۔ رات کی تاریکی چھا چکی تھی۔ اس کے بعد عبداللہ محض کو ابو سلمہ کا خط پھنچایا گیا۔ جب اس نے یہ خط حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت اقدس میں پیش کیا تو عرض کی مولا یہ خط آپ کے ماننے والے ابو سلمہ کا ھے۔ حضرت نے فرمایا ابو سلمہ ھمارا شیعہ نھیں ھے۔ قاصد نے کہا آپ مجھے ھر صورت میں جواب سے نوازیں۔آپ نے چراغ منگوایا آپ نے ابو سلمہ کا خط نہ پڑھا اور اس کے سامنے وہ خط پھاڑ کر جلا دیا اور فرمایا اپنے دوست (ابو سلمہ) سے کھنا کہ اس کا جواب یھی ھے اس کے بعد حضرت نے یہ شعر پڑھا ؂

مزید  واقعہ کربلا شاعر مشرق کی نظر میں/محمد اشفاق

ایا موقدانارا لغیرک ضوءها
یا حاطبافی غیر حبلک تحطب

“یعنی آگ روشن کرنے والے اور، اس کی روشنی سے دوسرے مستفید ھوں۔ اے وہ کہ جو صحرا میں لکڑیاں اکٹھی کرتا ھے اور تو خیال کرتا ھے کہ یہ تو اپنی رسی میں ڈالی ھیں تجھے یہ خبر نھیں ھے تو نے جتنی بھی لکڑیاں جمع کی ھیں اس کو تیرے دشمن اٹھا کر لے جائیں گے۔”
اس شعر سے حضرت کا مقصد یہ تھا کہ ایک شخص محنت کرتا ھے لیکن اس کی محنت سے استفادہ دوسرے لوگ کرتے ھیں گویا آپ کھہ رھے تھے کہ ابو سلمہ بھی کتنا بد بخت شخص ھے کہ اس نے حکومت کی تشکیل دینے کیلئے بہت زیادہ محنت کی ھے لیکن اس سے فائدہ دوسروں نے اٹھایا ھے یا اس شعر کا مطلب یہ تھا کہ اگر ھم خلافت کے لئے محنت کرتے ھیں اور وہ نا اھل ھاتھوں میں چلی جاتی ھے۔
کتنے افسوس اور دکھ کی بات ھے حضرت نے خط کو جلا دیا اور اس قاصد کو جواب نہ دیا ابو سلمہ کا قاصد وھاں سے اٹھا اور عبداللہ محض کے پاس آیا اور ان کو ابو سلمہ کا خط دیا۔ عبد اللہ خط کو پڑھ کر بے حد مسرور ھوئے۔ مورخ مسعودی نے لکھا ھے کہ عبداللہ صبح ھوتے ھی اپنے گھوڑے پر سوار ھو کر حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے در دولت پر آئے۔ امام علیہ السلام نے ان کا احترام کیا، حضرت جانتے تھے کہ عبداللہ کے آنے کی وجہ کیا ھے؟ فرمایا لگتا ھے کہ آپ کوئی نئی خبر لے کر آئے ھیں۔ عبداللہ نے عرض کی جی ھاں ایسی خبر کہ جس کی تعریف و توصیف بیان نہ کی جاسکے۔ (نعم ھو اجل من ان یوصف) یہ خط ابو سلمہ نے مجھے بھیجا ھے انھوں نے اس خط میں تحریر کیا ھے کہ خراسان کے تمام شیعہ اس بات پر مکمل طور پر تیار ھیں کہ خلافت و ولایت ھمارے سپرد کردیں۔ انھوں نے مجھ سے درخواست کی ھے کہ ان کی یہ پیشکش قبول کر لوں۔ یہ سن کر امام علیہ السلام نے فرمایا:
“ومتی کان اهل خراسان شیعة لک؟”
خراسان والے آپ کے شیعہ کب بنے ھیں؟”
انت بعثت ابا مسلم الی خراسان؟”
کیا آپ نے ابو مسلم کو خراسان بھیجا ھے؟”
آپ نے خراسان والوں سے کہا ھے کہ وہ سیاہ لباس پہنیں اور ماتمی لباس کو اپنا شعار بنائیں۔ کیا یہ خراسان سے آئے ھیں یالائے گئے ھیں؟تم تو ایک آدمی کو بھی نھیں پھچانتے؟ امام علیہ السلام کی باتیں سن کر عبداللہ ناراض ھو گئے۔ انسان جب کوئی چیز پسند کرے اور اس کی خوشخبری سننے کے بعد کوئی اور بات سننا گوار نھیں کرتا۔ گویا یہ انسان کی سرشت میں شامل ھے۔ اس نے حضرت امام جعفر صادق سے بحث کرنی شروع کردی اور حضرت سے کہا کہ آپ کیا چاھتے ھیں:
“انما یرید القوم ابنی محمدا لانه مهدی هذه الامة”
یہ میرے بیٹے محمد کو خلافت دینا چاھتے ھیں آُپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم اس امت کا امام مھدی آپ کا بیٹا محمد نھیں ھے اگر اس نے قیام کیا تو قتل کیا جائے گا۔ یہ سن کر عبداللہ اظھار ناراضگی کرتے ھوئے بولا آپ خواہ مخواہ ھماری مخالفت کر رھے ھیں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا بخدا ھم تمھاری خیر خواھی اور بھلائی کے سوا اور کچھ نھیں چاھتے۔ آپ کا مقصد کبھی پورا نھیں ھوگا۔ اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا کہ بخدا ابو سلمہ نے بالکل اسی طرح کا خط ھماری طرف بھی روانہ کیا ھے لیکن ھم نے پڑھنے کی بجائے اس کو آگ میں جلا دیا۔ عبداللہ ناراض ھو کر چلے گئے۔ ان حالات کو دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ھے کہ اس وقت سیاسی فضا کس قدر مکدر تھی، بنی عباس کی تحریک کامیاب ہوتی ھے؟ ابو مسلم اس وقت خاصا فعال ھوتا ھے۔ اور وہ ابو سلمہ جیسے انقلابی شخص کو قتل کرادیتا ھے۔ سفاح بھی اس کی حمایت کرنے لگ جاتا ھے۔ پھر ایسا ھوا کہ ابو سلمہ کا قاصد ابھی مدینہ سے کوفہ نہ پھنچا تھا کہ ابو سلمہ قتل ھو چکا ھوتا ھے۔ اسی وجہ سے عبداللہ محض کا جواب ابو سلمہ کے ھاتھوں تک نہ پھنچ سکا۔

 
ایک تحقیق

 اس واقعہ کو جس خوبی کے ساتھ مسعودی نے لکھا ھے اتنا اور کسی مورخ نے نھیں لکھا۔ میرے نزدیک ابو سلمہ کا مسئلہ بہت واضح ھے کہ وہ شخص سیاستدان تھا۔ وہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے شیعوں میں ھر گز نہ تھا۔ مطلب صاف ظاھر ھے کہ وہ ایک مرتبہ آل عباس کیلئے کام کرتا ھے اور دوسری مرتبہ وہ اپنی پالیسی بدل لیتا ھے۔ دراصل عوام کی اکثریت یہ نھیں چاھتی تھی کہ خلافت خاندان رسالت سے باھر کسی دوسرے شخص کے پاس جائے۔ آل ابی طالب میں دو شخصیات اھم شمار کی جاتی تھیں ایک حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اور دوسرے جناب عبداللہ محض، ابو سلمہ ان دونوں شخصیات کے ساتھ دینداری اور خلوص کی وجہ سے یہ کام نھیں کر رھا تھا وہ چاھتا تھا کہ خلافت بدلنے سے اس کے ذاتی مفادات محفوظ رھیں۔ ابھی اس کو امام جعفر صادق علیہ السلام اور عبد اللہ محض کی طرف سے جواب موصول نہ ھوا تھا کہ ابو سلمہ قتل ھو گیا۔ جب میں یہ بات کرتے ھوئے لوگوں کو سنتا ھوں تو مجھے حیرانگی ھوتی ھے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے ابو سلمہ کے خط کا جواب کیوں نھیں دیاتھا اور اس کی دعوت قبول کیوں نھیں کی تھی؟ ا سکا جواب بھی صاف ظاھر ھے کہ یھاں پر بھی حالات سازگار نہ تھے۔
صورت حال نہ روحانی لحاظ سے اچھی تھی اور نہ ظاھری لحاظ سے بھتر تھی بلکہ امام علیہ السلام نے جو بھی اقدامات کیے وہ حقیقت پر مبنی تھے ھم پہلے بھی کہہ چکے ھیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے شروع ھی سے بنی عباس کی کسی قسم کی حمایت نھیں کی۔ دراصل آپ نہ امویوں کے حق میں تھے اور نہ عباسیوں کے حق میں۔ یہ دو خاندان اور موروثی حکمران ذاتی مفاد کے علاوہ کوئی سوچ نہ رکھتے تھے۔ ھم نے کتاب الفرج اصفھانی سے استفادہ کیا۔ اس سلسلے میں جتنی ابو الفرج نے تفصیل لکھی ھے اتنا اور کسی مورخ نے نھیں لکھا۔ ابو الفرج اموی مورخ تھے۔ اور سنی المذھب تھے ان کو اصفھان میں سکونت رکھنے کی وجہ سے اصفھانی کہا جاتا ھے۔ حقیقت میں یہ اصفھانی نہ تھے بلکہ اموی تھے اگر چہ یہ اموی مورخ تھے لیکن انھوں نے تاریخ نویسی میں اعتدال قائم رکھا اس لئے جناب شیخ مفید (رح) نے اپنی کتاب ارشاد میں ابو الفرج سے روایات نقل کی ھیں۔

 
ھاشمی رھنماؤں کی خفیہ میٹنگ

 دراصل بات یہ ھے کہ شروع میں یہ طے پایا تھا کہ امویوں کے خلاف تحریک شروع کی جائے۔ بنی ھاشم کے سرکردہ لیڑر ابواء مقام پر جمع ھوگئے تھے۔ یہ مقام مکہ و مدینہ کے درمیان واقع ھے۔ (ابواء یہ ایک تاریخ جگہ ھے یہ وہ جگہ ھے جھاں پیغمبر اکرم (ص) کی والدہ ماجدہ نے انتقال فرمایا تھا۔) حضور (ص) پاک کی عمر پانچ سال کے لگ بھگ تھی بی بی اپنے اس عظیم صاجزادے کو اپنے ھمراہ لائی تھیں۔ حضرت آمنہ کے رشتہ دار مدینہ میں آباد تھے۔ اس لئے حضور پاک مدینہ والوں کے ساتھ ایک خاص نسبت رکھتے تھے۔ بی بی مدینہ سے ھوکر واپس مکہ جارھی تھیں کہ راستہ میں مریض ھوئیں اور وھیں پر انتقال فرمایا اس جگہ کو مورخین نے ابواء کے نام سے یاد کیا ھے۔ حضورپاک (ص) اپنی ماں کی کنیز خاص بی بی ام ایمن کے ساتھ مدینہ چلے گئے اور آپ کی والدہ ماجدہ کو ابواء ھی میں سپرد خاک کیا گیا۔ آپ نے عالم غربت میں اپنی عظیم ماں کی المناک رحلت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور عمر بھر آپ اس غم کو نہ بھلا سکے۔ یھی وجہ ھے کہ آپ ۵۳ سال کی عمر میں مدینہ واپس لوٹ آئے اور اپنی زندگی کے آخری دس سال مدینہ ھی میں گزارے۔ آپ ایک موقعہ پر اثناء سفر میں ابواء نامی جگہ سے گزرے تو آپ چند لمحوں کیلئے اپنے صحابہ سے جدا ھوگئے اور ایک خاص جگہ پر رک گئے ۔ دعا پڑھی اس کے بعد زار وقطار رونے لگے۔ صحابہ کرام نے تعجب کیا کہ حضور پاک (ص) رونے کی وجہ کیا ھے؟ آپ نے فرمایا یہ میری والد ماجدہ کی قبر اطھر ھے۔ آج سے پچاس سال قبل جب میں پانچ سالہ بچہ تھا تو یھیں پر والدہ محترمہ کا انتقال ھوا تھا۔ آپ پچاس سالوں کے بعد اس مقام پر گئے اور دعا پڑھی اور اس کے بعد اپنی انتھائی عزیز ترین ماں کی یاد میں بہت ھی زیادہ روئے”۔ چناچہ ابواء کے مقام پر ھونے والی خفیہ میٹنگ میں اولاد امام حسن (ع) عبداللہ محض اور آپ کے دونوں صاجزادے محمد و ابراہیم موجود تھے۔ اسی طرح بنی عباس کی نمائندگی کرتے ھوئے ابراہیم امام، ابوالعباس سفاح، ابو جعفر منصور اور ان کے چند بزرگوں نے شرکت کی۔ اس وقت عبداللہ محض نے گفتگو کا آغاز کرتے ھوئے کہا کہ اے بنی ھاشم! اس وقت لوگوں کی نگاھیں آپ کی طرف لگی ھوئی ھیں۔ اور عوام کی آپ سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ ھیں۔ اللہ تعالی نے آپ کو یھاں پر اکٹھے ھونے کا موقعہ بخشا ھے لھذا سب مل جل کر اس نوجوان (عبداللہ محض کے بیٹے) کی بیعت کریں۔ ان کو اپنی تحریک کا قائد منتخب کریں۔ اور امویوں کے خلاف وسیع پیمانے پر جنگ کا آغاز کریں۔ یہ واقعہ ابو سلمہ کے واقعات سے پھلے کا ھے۔ تقریباً انقلاب خراسان سے بارہ سال قبل۔ اس وقت اولاد امام حسن علیہ السلام اور بنو عباس کی مشترکہ خواھش تھی کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ متحد ھو کر امویوں کا مقابلہ کریں۔

 
محمد نفس زکیہ کی بیعت

 بنی عباس کا شروع سے یہی پروگرام تھا کہ وہ آل علی علیہ السلا میں ایسے نوجوان کو اپنے ساتھ ملائے رکھیں کہ جو لوگوں میں مقبول ھو اور لوگ اس کی وجہ سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ھوسکتے ھوں۔ جب ان کی تحریک کامیاب ھو جائے گی تو اس نوجوان کو درمیان میں سے ھٹا دیا جائے گا۔ اس کام کیلئے انھوں نے محمد نفس زکیہ کو منتخب کیا ۔ محمد جناب عبداللہ محض کے صاحبزادے تھے ۔ عبد اللہ بہت ھی متقی اور پرھیز گار اور انتھائی خوبصورت شخصیت کے مالک تھے۔ ان کا بیٹا محمد کردار و گفتار اور شکل و صورت میں ھو بھو اپنے باپ کی تصویر تھا۔ اسلامی روایات میں ھے کہ جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ھے تو اولاد پیغمبر (ص) میں سے ایک نوجوان ظاھر ھوتا ھے اور اپنے جد امجد کی طرح اسی کا نام بھی محمد ھوگا اسی طرح اسلامی تحریکیں چلتی رہیں گی اور اولاد زھرا (ع) میں سے ایک سید زادہ انقلابی جد وجھد کی قیادت کرتا رھے گا۔ اولاد امام حسن علیہ السلام کے دل میں یہ خیال پیدا ھوا کہ امت کا مھدی یھی محمد ھے۔ بنو عباس کے نزدیک بھی یھی محمد مھدی کے طور پر نمودار ھوئے تھے۔ یہ بھی ھو سکتا ھے کہ انھوں نے سازش کر کے ان کو مھدی وقت مان لیاھو؟
بہر حال ابو الفرج نقل کرتے ھیں کہ عبداللہ محض نے لوگوں سے خطاب کرتے ھوئے مزید کھا ھمیں متحد ھو کر ایک ایسے نوجوان کی قیادت میں کام شروع کردینا چاھیے کہ جو اس مظلوم ملت کو ظالموں کے شکنجوں سے نجات دے سکے۔ ا سکے بعد بولے ایھا الناس اے لوگو! میری بات غور سے سنو ان ابنی ھذا ھو المھدی کہ میرا بیٹا محمد ھی مھدی دوراں ھے۔ آپ سب مل کر ان کی بیعت کریں۔ اس اثناء میں منصور بولا کہ مھدی کے عنوان سے نھیں البتہ یہ نوجوان موجودہ دور میں قیادت کے فرائض احسن طریقے سے نبھا سکتا ھے۔ آپ سچ کھہ رھے ھیں ھم سب کو اس نوجوان کی بیعت کرنی چاھیے۔ میٹنگ کے تمام شرکاء نے ایک زبان ھو کر اس کی تصدیق کی اور ایک ایک کرکے انھوں نے محمد کی بیعت کی۔ اس کے بعد انھوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کو پیغام بھیجا کہ آپ بھی تشریف لائیں۔ جب حضرت تشریف فرما ھوئے سب نے حضرت کا استقبال کیا۔ عبداللہ محض جو صدر مجلس تھے نے اپنے پہلو میں حضرت کو جگہ دی۔ اس کے بعد انھوں نے امام علیہ السلام کی خدمت میں رپورٹ پیش کی اور کہا جیسا کہ آپ بخوبی جانتے ھیں کہ ملکی و سیاسی حالات مخدوش ھیں لھذا وقت کا تقاضا یہ ھے کہ ھم میں سے کوئی شخص اٹھے اور امت و ملت کی قیادت کرے۔ اس میٹنگ کے تمام شرکاء نے میرے بیٹے محمد کی بیعت کی ھے ۔کیونکہ ھمارے نزدیک مھدی دوراں یہی محمد ھی ھیں۔ لھذا آپ ان کی بیعت کریں۔ فقال جعفر لا تفعلوا امام علیہ السلام نے فرمایا نھیں تم ایسا نہ کرو:
“فان هذا الامر ثم یات بعد ان کنت تری ان ابنک هذا هو المهدی فلیس به ولا هذا اوانه”
رھی بات مھدی علیہ السلام کے ظھور کی تو یہ وقت ظھور نھیں ھے۔ اے عبداللہ اگر تم خیال کرتے ھو کہ تمھارا یہ بیٹا محمد مھدی ھے تو تم سخت غلطی پر ھو، تمھارا بیٹا ھر گز مھدی نھیں ھے اس وقت مھدی علیہ السلام کا مسئلہ نھیں ھے اور نہ ھی ان کی آمد اور ظھور کا وقت ھوا ھے۔” وان کنت انما یرید ان تخرجه غضبا لله ولیامر بالمعروف وینه عن المنکر فانا والله لا ندعک فانت شیخنا ونبایع ابنک فی الامر “
حضرت نے اپنا موقف واضح کرتے ھوئے فرمایا اگر تم مھدی کے نام پر بیعت لے رھے ھو تو میں ھرگز بیعت نھیں کروں گا۔ کیونکہ یہ سراسر جھوٹ ھے یہ مھدی نھیں ھے اور نہ ھی مھدی (ع) کے ظھور کا وقت ھوا ھے لیکن اگر آپ نیکی کے فروغ اور برائیوں اور ظلم کے خاتمے کے لئے جھاد کریں گے تو ھم آپ لوگوں کا ھر طرح سے ساتھ دیں گے۔”
امام علیہ السلام کے اس فرمان سے آپ کا موقف کھل کر سامنے آجاتا ھے۔ آپ نے نیکیوں کی ترویج اور برائیوں کے خاتمہ کے لئے ساتھ دینے کا وعدہ تو کیا لیکن آپ نے ان کی غلط پالیسیوں کی مخالفت کردی کہ یہ محمد مھدی نھیں ھے۔ جب آپ نے بیعت کا انکار کیا تو عبداللہ ناراض ھوگئے۔ جب آپ نے عبداللہ کی ناراضگی کو دیکھا تو فرمایا دیکھو عبداللہ میں آپ سے کہہ رھا ھوں کہ تمہارا بیٹا محمد مھدی نھیں ھیں ھم اھل بیت کے نزدیک یہ ایک ایسا راز ھے کہ جس کو ھم ھی جانتے ھیں ھمارے سوا کوئی اور نھیں جانتا کہ وقت کا امام کون ھے اور مھدی (ع) کون ھوگا؟ یاد رکھو تمھارا یہ بیٹا بہت جلد قتل کر دیا جائے گا۔ ابو الفرج نے لکھا ھے کہ عبداللہ سخت ناراض ھوئے اور کھا خیر آپ نے جو کھنا تھا کہہ دیا لیکن ھمارا نظریہ یھی ھے کہ محمد مھدی وقت ھے، آپ حسد اور خاندانی رقابت کے باعث اس قسم کی باتیں کر رھے ھیں۔
“فقال والله ماذاک یحملنی ولکن هذا واخوته وابنانهم دونکم وضرب یده ظهر ابی العباس”
امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنا دست مبارک ابو العباس کی پشت پر مارتے ھوئے فرمایا یہ بھائی مسند خلافت پر فائز ھو جائیں گے اور آپ اور آپ کے بیٹے محروم رھیں گے۔”
اس کے بعد آپ نے عبداللہ حسن کے کندھے پر ھاتھ رکھ کر فرمایا:
“ما هی الیک ولا الی ابنیک”
تم اور تمھارے بیٹے خلافت تک نھیں پھنچ سکیں گے۔”
ان کو قتل ھونے سے بچائیے۔ بنو عباس آپ کو خلافت تک پھنچنے نھیں دیں گے۔ اور تمھارے دونوں بیٹے قتل کر دئیے جائیں گے۔ اس کے بعد امام علیہ السلام اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ھوئے۔ آپ نے اپنا ایک ھاتھ عبدالعزیز عمران زھری کے کندھے پر رکھتے ھوئے اس سے کہا:
“ارایت صاحب الرداء الاصغر؟”
کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ھے کہ جس نے سبز قبا پہنی ھوئی تھی؟”
(آپ کی اس سے مراد ابو جعفر منصور تھی) وہ بولا نعم جی ھاں آپ نے فرمایا خدا کی قسم ھم جانتے ھیں کہ یھی شخص مستقبل قریب میں عبداللہ کے بیٹوں کو قتل کردے گا۔
یہ سن کر عبدالعزیز سخت متعجب ھوا اور اپنے آپ سے کھنے لگا یہ لوگ آج تو اس کی بیعت کر رھے ھیں اور کل اسے قتل کردیں گے؟ آپ نے فرمایا ھاں عبدالعزیز ایسا ھی ھوگا عبدالعزیز نے کہا میرے دل میں تھوڑا سا شک گزرا ھو سکتا ھے امام علیہ السلام نے حسد وغیرہ کی وجہ سے ایسا کھا ھو لیکن خدا کی قسم میں نے اپنی زندگی ھی میں دیکھ لیا کہ ابو جعفر منصور نے عبداللہ کے دونوں بیٹوں کو قتل کردیا۔ دوسری طرف حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام محمد سے بے حد پیار کرتے تھے۔ ابوالفرج کے بقول
“کان جعفر بن محمد اذا رای محمد بن عبدالله بن الحسن تغر غرت عیناه”
کہ امام علیہ السلام کی نگاہ مبارک جب محمد پر پڑتی تو آپ کی آنکھو سے بے ساختہ آنسو چھلک پڑتے اور فرمایا کرتے:
“بنفسی هو ان الناس فیقولون فیه انه لمقتول لیس هذا فی کتاب علی من خلفاء هذه الامة”
میری جان قربان ھو اس پر لوگ جو اس کے بارے میں مھدی ھونے کے قائل ھیں وہ غلطی پر ھیں۔ یہ نوجوان قتل کیا جائے گا ھمارے پاس حضرت علی علیہ السلام کی ایک کتاب موجود ھے اس میں محمد کا نام خلفاء میں شامل نھیں ھے۔”
اس سے معلوم ھوتا ھے کہ شروع میں تحریک کا آغاز ھی مھدویت کے نام پر ھوا ھے لیکن امام جعفر صادق (ع) نے اس کی سخت مخالفت کی اور فرمایا اگر یہ تحریک نیکیوں کے فروغ اور برائیوں کے خاتمہ کے لئے ھے تو پھر ھم اس کے ساتھ ھر طرح کا تعاون کریں گے لیکن ھم محمد کو مھدی کے طور پر تسلیم نھیں کرسکتے، رھی بات بنو عباس کی تو ان کا مطمع نظر سیاسی و حکومتی مفادات حاصل کرنے کے سوا کچھ نھیں ھے ۔

مزید  کون سے بچے دماغی فالج کا زیادہ شکار ہوتے ہیں ؟

 
امام جعفر صادق (ع) کے دور امامت کی چند خصوصیات

 یھاں پر ھم جس لازمی نکتے کا ذکر کرنا چاھتے ھیں وہ یہ ھے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کا دور امامت اسلامی خدمات کے حوالے سے بے نظیر اور بھترین دور ھے۔ آپ کے دور میں مختلف قسم کی تحریکوں نے جنم لیا، بے شمار انقلابات رونما ھوئے ۔ امام علیہ السلام کے والد گرامی حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کا انتقال ۱۱۴کو ھوا۔ آپ اس وقت امام وقت مقرر ھوئے اور ۱۴۸ تک زندہ رھے۔ ظھور اسلام سےلیکر اب تک دو تین نسلیں حلقہ اسلام میں داخل ھو چکی تھیں۔ سیاسی و تمدنی لحاظ سے بے تحاشا ترقی ھوئی۔ اور کچھ ایسی جماعتیں بھی وجود میں آئیں جو خدا کی منکر تھیں۔ زندیق اس دور میں رونما ھوئے یہ لوگ خدا، دین اور پیغمبر کے مخالف تھے۔ بنی عباس کی طرف سے ان بے دین عناصر کو ھر لحاظ سے آزادی حاصل تھی۔ صوفیاء بھی اسی دور میں ظاھر ھوئے اور کچھ ایسے فقھا بھی پیدا ھوئے کہ جو فقہ کو قیاس کی طرف لے گئے۔ اس دور میں مختلف نظریات رکھنے والے لوگ، جماعتیں پیدا ھوئیں۔ اس نوع کی تبدیلی اور جدت وندرت پہلے ادوار میں نہ تھی۔
امام حسین (ع) اور امام جعفر صادق (ع) کے زمانوں کا زمین و آسمان کا فرق ھے۔ امام حسین علیہ السلام کے دور میں بہت زیادہ گھٹن تھی اور مشکل ترین دور تھا اس لئے امام عالی مقام نے اپنے دور امامت میں حدیث کے پانچ چھ جملے بیان فرمائے اس کے علاوہ کوئی حدیث نظر نھیں آتی، لیکن امام جعفر صادق علیہ السلام کا دور امام تعلیمی وتربیتی حوالے سے بھترین دور تھا۔ آپ نے فرصت کے ان لمحوں سے فائدہ اٹھاتے ھوئے بہت کم مدت میں چار ھزار فضلاء تیار کیے۔ لھذا اگر ھم فرض کریں (جو کہ غلط ھے) کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کو وھی حالات پیش آتے جو امام حسین علیہ السلام کو پیش آئے تھے تو پھر بھی امام جعفر صادق علیہ السلام علمی کارنامے انجام دیتے؟ ھم نے پھلے عرض کیا ھے کہ آئمہ طاھرین کی حیات طیبہ کا انداز ایک جیسا ھوتا ھے اور آپ کی شھادت وھی رنگ لاتی جو کہ امام حسین (ع) کی لائی ھے۔ اگر چہ آپ ایک وقت درجئہ شھادت پر فائز بھی ھوئے لیکن آپ کو قدرت نے خوب موقعہ فراھم کیا کہ آپ نے علمی و دینی لحاظ سے غیر معمولی کارنامے سر انجام دیئے۔ آج امام جعفر صادق علیہ السلام کا نام پوری دنیا میں ایک بہت بڑے مصلح کے طور پر مانا جانا جاتا ھے۔ امام علیہ السلام کے بارے میں اگلی نشست میں کچھ مزید باتیں عرض کروگا۔ ان شاء اللہ۔
——————–
25.حج، ۳۹.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.