امامت

0 0

امامت
تحریر: ڈاکٹر سید خلیل طباطبائی (حفظہ اﷲ) مئوسس  امام حسین علیہ السلام  فاؤنڈیشن)
ترجمہ: یوسف حسین عاقلی پاروی
تصحیح: حجۃ الاسلام غلام قاسم تسنیمی                          
پیشکش: موسسہ امام حسین علیہ السلام (امام حسین فاؤنڈیشن)

امامت کی تعریف
الف: لغوی تعریف
  امامت کی لغوی معنی سے پہلے اس کی اصل کو جانیں گے
تو امامت سے ولایت عامہ مرادہے جس کا مطلب امارت ، حکومت ،سلطنت اور اقتدار ہے
 اور لفظ “امام” اسم مصدر ہے اس کا مطلب یہ ہے: کہ جس کی اقتداء اورپیروی کی جائے یا جس کی پیروی اور جس پر عمل کریں  جیساکہ ابن منظور( لغت داں) نے لکھاہے:
(الإمام كُلّ من أئتم به قوم (سواء) كانوا على الصراط المستقيم أو كانوا ضالين۔ قال تعالى: ( يَوْمَ نَدْعُوا كُلّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ) (والجمع أئمة)” امام “وہ ہے کہ  قوم اسکی کی پیروی و اقتداء کریں ( چاہیے) وہ صراط مستقیم )سیدھے راستے(  پر گامزن ہو یا ضلالت و گمراہی کا شکار ۔
پروردگار عالم کا ارشاد ہے)يَوْمَ نَدْعُوا كُلَّ أُناسٍ بِإِمامِهِمْ(قیامت کے دن ہم ہر انسان کو اسکے امام کے ساتھ محشور کرینگے
دوسری بات لفظ” امام “مفرد ہے جس کا جمع “ائمہ” ہے۔
اسی طرح جناب راغب اصفہانی لکھتے ہے:(الإمام هو المؤتم به أنساناً كأن يقتدى بقوله أو فعله)” امام” وہ ہے جس کی کوئی انسان اقتداء و پیروی کرے ، پیروی چاہیے اس کے گفتارکی ہو یا کردار کی۔
پس کسی امام کا اذن و اجازت دوسرے پیروی کرنے والے انسانوں کے لئے آئیڈیل و نمونہ ہے اور اگر امام سچا اور حق ہو تو وہ دوسروں کو بھی صراط مستقیم، سیدھے راستے پر گامزن کریں گا اور جنت میں پہنچادیگا لیکن اگر امام ضلال ہو تو وہ دوسروں کو بھی گمراہی و ظلمت کی طرف دھکیل دیگا اور جہنم کی آگ کا مستحق قراردےگا ۔
ملاحظہ:
پس اس سے یہ نتیجہ نکلتاہے کہ “امام” ” نبی” اور “رسول” نہیں ہے جیساکہ اہل بیت علیہم السلام کی نورانی روایات سے واضح ہے چونکہ” نبی” وہ ہوتاہے جس پر( حالت نوم )خواب کی حالت میں و حی الہی نازل ہوتی ہو اور “نبی”  لفظ  “انبیاء” سے لیا گیاہے جس کا معنی خبر کے ہے۔ لیکن” رسول” وہ ہوتاہے جو فرشتے کو مشاہد ہ کرنے کے ساتھ گفتگو بھی کرے اور رسالت آسمانی کے ساتھ روئے زمین پر کسی قوم کی طرف بھیجا جائے جبکہ “امام” سے مرادوہ ہے  جس کی گفتار و کردار کی لوگ پیروی  اور اقتداء کریں۔
ب: اصطلاحی تعریف:
لفظ “امامت “کی ایک جامع اور کامل تعریف بیان کرنے میں مسلمانوں کے آپس میں بہت اختلافات ہیں لیکن پھربھی بعض تعاریف کی اطلاع کے خاطر قارئین کے پیش ہے اور ساتھ ہی  امام  کےجن صفات کو قرآن نے بیان کیاہے ان کا ذکر بھی فائدہ سے خالی نہیں رہے گا۔
1-الإمامة رئاسة عامة في أمور الدين والدنيا لشخص من الأشخاص، نيابة عن النبي (صلى الله عليه وآله وسلّم) (المواقف)
“امامت” یعنی :رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نیابت میں کسی شخص کا دوسروں  پردین و دنیا کے امور کی ریاست عامہ او رسرپرستی کرنا ہے۔
2-الإمامة خلافة الرسول في إقامة الدين، بحيث يجب إتباعه على كافة الأمّة (المواقف)
” امامت” سے مراد اقامہ دین (دینی امور کے اجراء) میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خلافت ہے اس حیثیت سے کہ جس کی اتباع و پیروی تمام امت پر واجب ہو۔
3- الإمامة نيابة عن صاحب الشريعة في حفظ الدين وسياسة الدنيا۔(مقدمة ابن خلدون)
“امامت” کا مطلب دنیاوی سیاست اور دین کی حفاظت میں صاحب شریعت کی نیابت ہے۔
4- الإمامة خلافة عن الرسول في إقامة الدين وحفظ الملة بحيث يجب إتباعه على كافة الأمّة (للفضل بن روز بهان)۔
“امامت”سے مراد اقامہ دین (دینی امور کے اجراء)اور ملت اسلامیہ کی حفاظت کرنے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خلیفہ بننا ہے اس حیثیت سے کہ جس کی اتباع و پیروی ساری امت پر واجب ہو۔
ملاحظہ
قارئین کرام!
آپ نے ملاحظہ کیاکہ ان تمام تعاریف میں مسلمانوں کے بڑے بڑے علماء کااجماع ہے کہ” امامت” سے مراد فقط سیاسی قیادت نہیں بلکہ اس منصب مقدس “امامت” سے مراد اور اس کی ذمہ داری سیاسی امور سے بڑ کر تمام امور مسلمین ہے اس میں کوئی فرق نہیں کہ مسلمانوں کے امور، دینی ہو ںیا دیناوی یعنی اسلامی معاشرے کی ریاست اور ولایت مطلقہ کا مالک ہو تو اسے منصب “امامت” ملے گا۔
اور اس منصب مقدس کا تقاضا یہ ہے کہ اس منصب پر فائز  ہونے  والے شخص یا اشخاص میں یہ صلاحیت و  لیاقت  ہونی  چاہے  کہ وہ اس کاصحیح  حق ادا کرسکیں تو لازمی بات ہے کہ اس شخص کو سب  سے پہلے تمام دینی اور شریعت کے مسائل سے آگاہی حاصل ہو اور اگر کوئی شرعی مسئلہ پوچھے تو جواب سے عاجز نہ ہو اور شریعت کے عین مطابق جواب  دے سکتاہو اور ساتھ ہی اسکا تمام گناہوں سے معصوم ہونا لازم ہے یعنی تمام گناہان کبیرہ و صغیرہ، بری صفات سے پاک، تمام سہو و خطا اور نسیان (بھول چوک) سے مبراء ہو تو امت اسلامیہ پر اس صاحب منصب” امام” کی اتباع و پیروی اور اطاعت واجب ہوگی کیونکہ امام ارادہ پروردگار اور حکم و دستور الہی کا اجراء کرتاہے۔

 

حاشیہ
مترجم:
(لیکن اگر اس منصب مقدس پر کوئی ایسا شخص قابض ہوجائے جس میں یہ تمام شرائط موجودنہ ہوں اور اگر ساتھ ہی انسان یہ فیصلہ نہ کرسکیں کہ کونسا انسان معصوم ہے اور کون تمام امور و احکام الہی سے باخبرہے تو ایسا شخص امت اسلامی کی کیا رہنمائی کریگا)۔
اور اگر لوگو جاہل ہو ںکہ کون معصوم ہے اور کون تمام امور اور احکام الہی کا علم رکھتا ہے تو اس وقت لازمی بات ہے کہ اس منصب پر خداوندعالم ہی کسی کو منصوب اور معین فرمایگا۔
اور ساتھ ہی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے بھی لازمی ہے کہ وہ اپنے بعد کسی کو اس منصب پر بٹہا کرجائے اور لوگوں کو اعلان کریں اور دستور و حکم الہی کے مطابق عمل کریں تاکہ لوگوں کو معلوم ہو، پہچانے اور اس کی پیروی و اتباع کرسکیں۔
اور یہ بات  روز روشن کی مانند واضح ہے اور  سب جانتے ہیں کہ ان تمام شرائط کے حامل سوائے امام علی ابن طالب علیہ السلام  اور ائمہ معصومین علیہم السلام(یعنی انکے اولاد)کے اور کوئی فرد اس دنیا میں موجود نی  ہے۔

امامت اصل اصول دین
قارئین کرام!
ہمارے عقائد کے مطابق امامت پر اعتقاد اور ایمان رکھنا اصول دین میں چوتھے نمبرہے جبکہ دیگر مسلمانوں کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں کہ امامت اصول دین  ہے یا فروع دین میں سے ،یعنی “امامت” ایک فقہی مسئلہ ہے کہ جس   میں ایک حاکم شرع اور صاحب صفات حاکم کی حیثیت سے اسلامی معاشرے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد استنباط کرتاہے( یعنی اسلامی معاشرے کے حاکم اپنی اجتہاد کے مطابق  نصب کریں)!۔
قرآن مجید کے پیروکار کے لئے قرآن نے کس کی اتباع کاحکم و دستور دیاہے؟ جوبھی قرآن کی اتباع کرنے والاہو اس کو معلوم ہوگا کہ دستور و حکم قرآنی یہ ہے  کہ” امامت” منصب نبوت و رسالت کا تسلسل ہے تو اس منصب پر فائز ہونے والے امام کو چاہے کہ وہ علم و تقوی اورعصمت کے درجے پرفائز ہو اور منصب امامت کا صحیح مستحق بھی ہو اور تمام بشریت کی رہنمائی کرنے کی ذمہ داری اور فریضہ کو کماحقہ پوری مسؤلیت کے ساتھ چلا سکے اور ساتھ ہی انسانوں کے دینی و اخروی مسائل کے بارے میں صحیح ہدایت کرسکے پس ایسے شخص کا مکمل کون و مکان اور حیات  دنیاوی و اخروی  پر احاطہ ہونا لازمی ہے۔
“امامت” جس طرح اصول دین میں شامل ہے اسی طرح منصب نبوت و رسالت پر فائز شخص ان تمام امور کو انجام دیتے تھے اصل میں” امامت” تسلسل منصب رسالت و نبوت ہے تو عقل حکم کرتی ہے کہ جس طرح نبوت و رسالت پر ایمان و عقیدہ رکھنا واجب ہے بالکل اسی طرح امامت بھی اصول دین میں سے ہے اور اس پر ایمان و عقیدہ رکھنا بھی واجب ہے کیونکہ” امامت” استمرار و  امتداد اور تسلسل منصب نبوت  ہے اور امام کو بھی تمام و ظایف و صفات انبیاء کا متحمل ہونا  چاہے سوائے وحی کے ۔کیونکہ وحی صرف انبیاء کے لئے مخصوص ہے جبکہ امام پر وحی نازل نہیں ہوتی البتہ الہام  ہوتا ہے۔
امامت کی ضرورت پر عقلی دلیل
1-دلیل لطف:
 وخلاصة هذا الدليل هو(إنّ نصب الإمام للناس لطف بالناس، واللطف واجب عليه تعالى، فيجب نصب الإمام عليه تعالى)۔
اس دلیل کا خلاصہ یہ ہے :بےشک لوگوں کے لئے امام کا نصب و معین کرنا خودلوگوں کےلئے ایک لطف ہے، اوریہ لطف خداوند عالم کی ذات پر واجب ہے پس خدا کے اوپر امام کا نصب و معین کرنابھی واجب ہے۔
کیونکہ نبوت و رسالت کا نصب کرنااور بھیجنا لوگوں کے لئے خداکے اوپر واجب تھا بالکل اسی طرح لوگوں کے لئے امامت کا نصب کرنابھی خداکے اوپرواجب ہے اور جس طرح پروردگار کا لوگوں کی ہدایت کے لئے انبیاء کا بھیجنا بھی خود بندوں پر لطف ہے پس جس ذات پروردگار نے لوگوں کی ہدایت کے انبیاء کو بھیجا ہے تو اس ذات پر اس سلسلہ ہدایت کو تاقیامت جاری و ساری رکھنے کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد کسی کو خلیفہ  معین کرنا بھی ضروری ہے، کیونکہ لوگ بغیر ہادی و صحیح رہنما او ر رہبر کے ہدایت کی راہ سے بھٹک سکتےہیں لہذا امامت کاباقی رہنا امت اسلامی کے لئے ضروری ہے کیونکہ یہ نبوت و رسالت کا تسلسل ہے ۔
پروردگار کا ارشاد ہے:(اللَّهُ لَطِيفٌ بِعِبَادِهِ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ وَهوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ) (1)اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہے وہ جس کو بھی چاہتا ہے رزق عطا کرتا ہے اور وہ صاحبِ قوت بھی ہے اور صاحبِ عزت بھی ہے۔
پس قارئین کرام!
 اگر نبی اور انبیاء الہی ور سل کا ارسال بشریت کی رہبری و ہدایت کے لئے لازمی ہو تو یہ سلسلہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات و رحلت یاشہادت کے بعد بھی جاری و مستمر رہنا چاہے۔
کیونکہ لوگوں کو صحیح راہ  ہدایت کی بھی ہر وقت ضرورت ہے ورنہ ہادی اور صحیح قیادت و رہبر کے بغیر لوگ گمراہی کا شکار اور صحیح راہ سے بھٹک سکتےہیں اور خداوندعالم کی ذات امت اسلامیہ کو بغیر کسی قیادت و رہبری اور سرپرستی کے کیسے چھوڑ سکتاہے تو اس قائد و رہبر پر لوگوں کے  تمام امور دینی و دنیاوی اور سیاسی کو صحیح راستے کی طرف ہدات کرنا لازمی ہے اور لوگ بھی ان انتہائی اہمیت کے حامل امور کو بغیر کسی شرائط و صفات کےپوری امت اسلامیہ کے  رہبر کیسے منتخب کرسکتےہیں مثلاً جامعہ اسلامی کی قیادت سنبھالے تو ممکن ہے عالم زمان ہو یا جاہل، عادل ہو یا ظالم، فاجر و فاسق ہو، یا نیک پس اس صورت میں معاشرے میں حرج و مرج برپاہوگا اور ہر قسم کا ظلم و فساد سے معاشرہ میں  بڑھ جائیگا۔
کیونکہ لوگ اپنے نا قص عقول اور اپنی خواہشات کے مطابق امام ور ہبر کوانتخاب کرینگے جبکہ خود انسان کسی صحیح عالم و مدبر اور ہادی کے محتاج ہیں۔
جبکہ امر و دستور پروردگار کے مطابق اس بات کو تسلیم کرنابھی ناممکن ہے چونکہ عام انسان خود ہدایت کا محتاج ہو تو وہ کسی دوسرے کو کیسے ہادی و ہدایت کرنے والا معین و مشخص کرسکتاہے۔
اسی لئے ارشاد پروردگار ہے:(أَفَمَنْ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَنْ يُتَّبَعَ أَمَّنْ لا يَهِدِّي إِلاّ أَنْ يُهْدَى فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ)(2)بتائیے کہ اللہ ہی حق کی ہدایت کرتا ہے اور جو حق کی ہدایت کرتا ہے وہ واقعا قابلِ اتباع ہے یا جو ہدایت کرنے کے قابل بھی نہیں ہے مگر یہ کہ خود اس کی ہدایت کی جائے تو آخر تمہیں کیاہوگیا ہے اور تم کیسے فیصلے کررہے ہو۔
2- دلیل حکمت:
(إنّ وجود الإمام المعصوم يمثل الأصلح في حركة تكامل الإنسان، وهدايته إلى الصواب)۔
روئے زمین پر انسانیت کی اصلاح و ہدایت کے لئے امام معصوم کاہونا حکمت الہی کاتقاضاہے چونکہ امام معصوم  کے بغیر ہدایت بشر اورتکامل انسانی ممکن نہیں چونکہ پرودرگار  کا اصلی ہدف اپنے بندوں کی تکامل و  اصلاح ہے اور یہ ارادہ پرودرگار پر موقوف ہے اور معلوم ہے کہ اللہ تبارک و تعالی نے اسلامی معاشرے اور مسلم امہ کی اصلاح اور انسان کامل بنانے کے لئے انبیاء و نبوت کا سلسلہ شروع کیا اور نبی کا معصوم عن الخطاء ہونالازمی ہے تو نبوت کے بعد یہ ذمہ داری ان کے خلیفہ بلا فصل کی گردن پر آتی ہے اور یہ بدیھی بات ہے کہ امام  کو بھی معصوم ہونا چاہے چونکہ نبوت کے بعد نظام اجتماعی، نظام سیاسی اور نظام کون و مکان کی اصلاح کی عظیم ذمہ داری بھی ان کے جملہ وظایف میں سے اہم وظیفہ ہوتاہے۔
اور ان عظیم  امور کو سلسلہ نبوت کے بعد  بغیر کسی معصوم نائب  کے چھوڑ نا  عقلا  محال ہے پس حکم عقل یہ ہوا  کہ نبوت کے بعد حکمت  الہی ٰ کا  تقاضا یہ ہے کہ یہ سلسلہ ہدایت ٗ نبوت کے بعد امام کے ذمے ہونا چاہیے اور امام کا معصوم ہونا بھی لازمی ہے اور ساتھ ہی اگر بغیر خلیفہ برحق کے امت اسلامی کو چھوڑ ے تو اسلامی معاشرے بغیر معصوم قیادت کے ہلاکت و گمراہی کا شکار ہوگا اور  ساتھ ہی صراط مستقیم سے بھی بھٹک سکتاہے جو  حکمت الہیٰ  او ر  ارادہ پروردگار کے خلاف ہے چونکہ حکمت و ارادہ الہیٰ ہدایت بشر اور مخلوقات الہی کو کمال تک پہنچاناہے۔
3-دلیل عصمت:
 قارئین کرام! منصب” امامت” کے لئے اہم ترین اہداف اور ادوار مندرجہ ذیل ہیں!
الف-  امامت کا ہر دور میں ہونا:
 چونکہ امام  کا ئنات  کے نظام کی حفاظت اور انسانیت کی قیادت کرناہے تاکہ انسان کو  انسان کامل، مثل اعلیٰ اور کمال تک پہنچاسکے ۔
ب-دور تشريعیٗ تفسير دين اور احكام اسلامي
” امام  “دستور و احکامات الہیٰ کی صحیح تشریح کرنے والاہو یعنی احکامات الہی و اسلامیہ اور دین مبین  اسلام کی عقیدتی    ٗ فقہی  اوراخلاقی وغیرہ کی صحیح و سالم تشریح و تفسیر کرنے والاہونا چاہے جس میں کچھ شک و شبہ کی گنجائش تک نہ ہو۔
ج- سیاسی قیادت:
 امام کے اہم ترین اہداف میں سے تیسرا ہدف سیاسی قیادت ہے کیونکہ انسانی معاشرہ ہر وقت کمال کا محتاج رہتاہے اور انسانی فطرت کا تقاضابھی یہی ہے کہ وہ مدنی الطبع ہے اور یہ پوری زمین پر بغیر عدل و انصاف اور کمال مطلق  ٗ حاکم شرع کے ممکن نہیں اور جس کی تمام شرایع اور ہر انسان دم برتاہے اور یہ قیادت سیاسی کسی حقیقی جامع الشرائط امام کے امکان پذیر نہیں ہوسکتا۔
(د) آئیڈیل اور صالح قیادت:
“امام ” کی ایک اور اہم ترین صفت یہ ہے کہ وہ جامع الصفات مطلقہ کے حامل ہو اور پوری انسانیت کے لئے اسوہ حسنہ ٗ  نمونہ عمل اور آئیڈیل ہونا چاہے تاکہ ایک صالح قائد و رہنما کی حیثیت سے لوگ اس کی ابتاع و پیروی کریں اور پوری بشریت اپنی عملی زندگی میں اس کی اقتداء کرسکیں۔
نتیجہ بحث
قارئین محترم!
 سابقہ ابحاث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انسانی معاشرے کی قیادت اور ان عظیم اہداف کاحاصل ہونا بغیر کسی قیادت الہی کے ممکن نہیں جو تمام گناہوں ، خطاؤں اور لغزشوں سے پاک و منزہ اور معصوم عن الخطاء ہونالازمی ہے تاکہ اس کے اقوال و گفتار اور کردار مکمل طورپرقرآن مجید، دستورات  الہی اور شریعت اسلامیہ کے عین مطابق قرار پائیں جن کاحکم خداوندعالم نے خاتم الانبیاء و المرسلین حضرت محمدبن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی پر نازل فرمایاتھا اور ہم جانتے ہیں کہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعثت کے بعد 23 سالہ زندگی کے دوران پوری توان کے ساتھ تعالیم اسلامیہ کو پہنچایا لیکن پھر بھی اکثر مسلمانوں نے تمام احکامات الہی کو نہیں سیکھا  نتیجہ یہ ہوا کہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد اختلاف کا شکار ہوگئے اور واضح طور پر بہت سارے مسلمانٗ   حق اور صحیح راستے سے انحراف کا شکار ہوگئے اور گمراہی کے راستے پہ گامزن ہوگئے اور اگر روئے زمین پر اہلبیت علیہم السلام کا وجود اقدس نہ ہوتےتو کائنات پردین  مقدس اسلام کا نام ونشان رہتا اور نہ ہی اسم و رواج باقی رہتا
(لولا وجود اهلبیت علیهم السلام لمابقی من الاسلام اسم ولارسم)پس نتیجہ یہ ہوا کہ کائنات کے اندر  نبی کے بعد امام معصوم کاہونا ضروری ہے اور ان ہستیوں کے علاوہ کوئی نبی کے بعد نعم البدل نہیں ہوسکتا تاکہ لوگوں کی ہدایت کرسکیں اور اختلافات دور ہوں۔
سوال:
 پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے  بعداگر جامعہ اسلامی ٗ  قیادت کے لئے تعین شدہ امام معصوم سے ناواقفیت اور جاہل ہو تو عقل حکم لگاتی ہےکہ امام اور قیادت کی تعیین اور انتخاب امرپروردگار سے ہونا چاہے  ۔ نہ کہ ناقص العقل اور جاہل انسان کسی کو امام اور خلیفہ انتخاب کریں!
جیساکہ حکم الہی ہے:( وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ) (3) اور آپ کا پروردگار جسے چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور پسندکرتا ہے – ان لوگوں کو کسی کا انتخاب کرنے کا کوئی حق نہیں ہے  خدا  ان کے شرک سے پاک اور بلند و برتر ہے۔
پس ان عقلی لائل کی روشنی میں یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ ہم بنی نوع انسان کو امام حق کی حقیقی معرفت حاصل کرنے کے لئے سعی و کوشش کرنی چاہے اور اس اہم کا م کے لئے عقل ہمیں اگساتی کہ اس کے بارے میں بحث و تحقیق اور علم حاصل کرنا بھی ضروری ہے تاکہ امام حق کو پہچان سکیں جسکی اتباع کا حکم اللہ تعالی نے دیاہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے واضح انداز میں روشن طریقے سے بیان فرمایاہے۔
امام کی صفات قرآن میں
قرآن کریم   نےہمیں بہت ساری آیات میں” امام” کی بہت ساری صفات اور خصوصیات کو بتایا ہے جن سے جو مقام و منزلت الہی ان کو ملی ہے واضح اور آشکار ہوتی ہے ان صفات اور خصوصیات میں سے کچھ درج ذیل ہیں:
1-امامت کا عہدہ  امام معصوم کے لئے:
 اللہ تعالی ان آیات میں اس منصب مقدس کے معیار کو اس طریقے سے بیان فرمایا :                                                           
( وَ إِذِ ابْتَلى إِبْراهيمَ رَبُّهُ بِكَلِماتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قالَ إِنِّي جاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِماماً قالَ وَ مِنْ ذُرِّيَّتي قالَ لا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمينَ) (4)اور اس وقت کو یاد کرو جب خدانے چند کلمات کے ذریعے ابراہیم علیہ¬السّلام کا امتحان لیا اور انہوں نے پورا کردیا تو اس نے کہا کہ ہم تم کو لوگوں کا امام اور قائد بنا رہے ہیں۔ انہوں نے عرض کی کہ میری ذریت؟ ارشاد ہوا: کہ یہ عہدہ  امامت ظالمین تک نہیں جائے گا۔
اس آیہ مجیدہ میں پروردگار عالم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے امتحان کاذکر کیاہے اور اس چیز کی طرف اشارہ فرمایاہے کہ جس کلمات کے ذریعے اپنے نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا امتحان لیاگیا اور وہ اس  امتحان الہی میں احسن طریقے سے کامیاب قرار پائے کیونکہ اس منصب مقدس امامت کیلئے یہ امتحان ضروری تھا  اس منصب کی بزرگی و عظمت کا حضرت ابراہیم کو علم ہوا تو اس منصب مقدس کی اپنی ذریت کے لئے تمنا بھی کی تھی۔ اور پروردگار نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی لیکن واضح کردیا کہ پر منصب امامت بیت عظیم اور بڑا منصب وہ بھی خدا ہی کی طرف  سے ہے اس  لئے ممکن نہیں اس پر کسی ظالم کو فائز کیا جائے۔اگرکسی معمولی ترک اولی اور چھوٹے گناہ کی وجہ سے کسی انسان سے   سہوا سرزد ہونے کو ظلم قرار دے تو اگر کوئی کھل کر گناہ اور معصیت انجام دے چاہے پوری عمر میں ایک ہی مرتبہ کیوں نہ انجام دے یہ اصلا ممکن نہیں کہ اس منصب پر فائز قرار دے کر “امام “کے اسم اور لقب سے ملقب کریں چہ جائیکہ کوئی عمرکے بڑے حصے کولات و منات، ضم او روثن (بتوں) کی پوجا میں گزارا ہو (ایسے شخص سے یہ منصب مقدس کو سوں دور ہے)۔
ملاحظہ:
قارئین کرام!
 اب ہم اس آیہ مجید کی مختصر تحلیل کرینگے وہ اس طرح:
اولاً: اللہ تعالی نے اس آیہ مجیدہ میں امامت کو “عھدی” کے لفظ سے تعبیر کیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ منصب امامت خدا کی طرف سے امام معصوم کر عطا ہوتا ہے جو خود خدا کا عہد ہے اور اس منصب امامت ہر کسی کو تعیین ا ورفائز کرنا یا نصب کرنا (لوگوں کیلئے) بھی خدا کے حکم اور دستور سے ہوگا جیسا کہ او پر کی آیت نص ہے۔
اور اس  منصب  پر  کسی کو انتخاب کرنا یا نامزد کرنا کسی عام انسان بشر کے اختیار میں نہیں ۔ نہ ہی کسی خلیفہ کو اپنے بعد کسی کو اس منصب پر انتخاب کرنے کا حق ہے اور نہ ہی شوری اور بیعت و غیرہ کے ذریعے کسی کو معین کرسکتاہے اگر  ایسا ممکن  ہوتا  تو یہ عہد امام  و ٗخلیفہ یا عہد الناس  (لوگوں کا عہد)  ہوتا  اور خود ہی آپس میں کسی کی بیعت کرتے اور امام منتخب کرتے جبکہ قرآن نے واضح طورپر امامت کے لیے ارشاد فرمایا: (عهدی) یعنی اپنی طرف نسبت دی  ٗ نہ کہ (عهدالناس) لوگوں کا عہد۔
ثانیا: دوسری بات اس آیہ شریفہ میں واضح طورپر منصب امامت کی کسی ظالم کو ملنے کی نفی کی گئی ہے(لَايَنَالُ عَهْدِى الظَّالِمِين )یہ عہدہ  امامت ظالمین تک نہیں جائے گا۔
چونکہ ظالم اس منصب کے اہل اور قابل نہیں پس یہ لوگوں میں سے کسی معصوم کاحق ہے اور اگر کوئی اپنی زندگی کے کسی بھی حصے میں یا کسی بھی لمحے معصوم نہ رہا ہو وہ اس منصب کامستحق قرار نہیں پاسکتا۔
ہماری اس بات کی تائید احادیث شریفہ بھی کررہی ہیں جیساکہ: ابن مسعود نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں خداکے اس ارشاد پر نقل کیا ہے:( من سجد لصنم من دوني لا أجعله إماما أبدا، و لا يصلح أن يكون إماما)جوکوئی میرے علاوہ کسی بت(صنم) کی پوجا کرے میں ہرگز اسے امام قرار نہیں دوں گا۔
تو اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا(وانتهت الدعوة إلي و إلى أخي علي، لم يسجد أحدنا لصنم قط)مجھ پر اور میرے بھائی علی پر حجت و دعوت الہی تمام ہوچکی ہے کیونکہ ہم میں سے کسی نے کبھی بھی کسی بت( صنم) کی پوجا نہیں کی ہے۔
شیخ محمدیعقوب کلینی رحمة اللہ علیہ نے اصول کافی میں امام جعفرصادق علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے جس میں امام علیہ السلام فرماتے ہیں:  خداوند متعال نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو منصب نبوت پر فائز کرنے سے پہلے منصب عبدیت کے لئے منتخب فرمایاٗ اور رسالت سے پہلے منصب نبوت پر فائز فرمایاتھا اور مقام خُلت (خلیل)سے پہلے رسالت کے لئے منتخب فرمایاتھا اور منصب مقدس امامت سے پہلے منصب خلت پر فائز فرمایاتھا: جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ تمام عہدےمل چکے تو پروردگار نے ارشاد فرمایا: (قالَ إِنِّي جاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِماماً) اے ابراہیم! میں تم کو لوگوں کے لیے امام بنا رہا ہوں۔
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس مقام کی عظمت کو آنکھوں سے دیکھا تو کہنے لگے!( قالَ وَ مِنْ ذُرِّيَّتي ) انہوں نے عرض کی کہ میری ذریت میں سے قرار پائینگے؟
تو اس وقت اللہ نے جواب دیا:(قالَ لا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمينَ)ارشاد ہوا کہ یہ (میرا)عہدہ امامت ظالمین تک نہیں جائے گا۔
اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا: کہ سفیہ (بے عقل انسان) متقی کا امام نہیں بن سکتا۔
نیز صاحب تفسیر عیاشی رحمة اللہ علیہ نے بھی جناب صفوان جمال سے ایک روایت نقل کی ہے صفوان کہتاہے کہ ہم مکہ معظمہ میں بیٹھے ہوئے تھے تو ہمارے درمیان اس آیت مجیدہ(وَإِذِ ابْتَلى )کے بارے میں بحث ہونے لگی (وَ إِذِ ابْتَلى إِبْراهيمَ رَبُّهُ بِكَلِماتٍ فَأَتَمَّهُنَّ)اور اس وقت کو یاد کرو جب خدانے چند کلمات کے ذریعے ابراہیم علیہ السّلام کا امتحان لیا اور انہوں نے پورا کردیا۔
تو  امام علیہ السلام نے فرمایا :وہ کلمات یہ تھے محمد، علی اور آئمہ علی علیہ السلام کی نسل سے ہونگے۔
جیساکہ ارشاد رب العزت ہے(ذُرِّيَّةً بَعْضُها مِنْ بَعْضٍ وَ اللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ) یہ ایک نسل ہے جس میں ایک کا سلسلہ ایک سے ہے اور اللہ سب کی سننے والا اور جاننے والا ہے۔
یہ روایت تفسیر کررہی ہے کہ ان کلمات سے مراد آئمہ طاہرین علیہم السلام ہیں اس بات پر دلیل یہ آیہ مجیدہ ہے( وَ جَعَلَہا كَلِمَةً باقِيَةً في عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ) (5)اور انہوں نے اس پیغام کو اپنی نسل میں ایک کلمہ باقیہ قرار دے دیا کہ شاید وہ لوگ خدا کی طرف پلٹ آئیں۔
پس اس آیت کا معنی یہ ہوا( وَ إِذِ ابْتَلى إِبْراهيمَ رَبُّهُ بِكَلِماتٍ فَأَتَمَّهُنَّ) یعنی (ہن امامتہ و امامة اسحاق و ذریتہ (فَأَتَمَّهُنَّ) حضرت ابراہیم کی امامت او رحضرت اسحاق اور ان کی اولاد( ذریت) کی امامت ہے جس کی تکمیل امامت پیغمبراکرم  حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، علی مرتضی، ارو اہلبیت طاہرین علیہم السلام پر ہوئی جو کہ حضرت اسحاق علیہ السلام کی اولاد اور ذریت  میں سے تھے  پہر اس آیت کی تلاوت فرمائی: (قالَ إِنِّي جاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِماماً) اللہ تعالی نے دستور دیا کہ اے ابراہیم ہم تمہیں لوگوں کے امام قرار دے رہے ہیں۔
2-امامٗ حکم خدا سے  ہدایت کرتا  ہے:
قارئین کرام!
 قرآن نے امام کےلئے جو صفات بتائی ہیں ان میں سے دوسری صفت، صفت ہدایت ہے  جو دستور اور حکم پروردگار سے انجام پاتاہے جیساکہ ارشاد پروردگار ہے:)وَ جَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا لَمَّا صَبَرُوا وَ كانُوا بِآياتِنا يُوقِنُونَ( (6)اور ہم نے ان میں سے کچھ لوگوں کو امام اور پیشوا قرار دیا ہے جو ہمارے امر سے لوگوں کی ہدایت کرتے ہیں اس لئے کہ انہوں نے صبر کیا ہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے۔
دوسری  آیت میں اس طرح ارشاد باری تعالی ہورہاہے:(وَ جَعَلْناهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا وَ أَوْحَيْنا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْراتِ وَ إِقامَ الصَّلاةِ وَ إيتاءَ الزَّكاةِ وَ كانُوا لَنا عابِدينَ ) (7) اور ہم نے ان سب کو پیشوا قرار دیا جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے اور ان کی طرف کارخیر کرنے نماز قائم کرنے اور زکوِٰادا کرنے کی وحی کی اور یہ سب کے سب ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔
ان  دونوں  آیتوں  میں  “امام ” کی ایک   اہم  زمہ داری ( جو  ہدایت  کا  فریضہ  ہے ) کو  بیان  کیا  کہ” امام “لوگوں کو حق کی ہدایت کرتے ہیں او رحق کی طرف ہدایت کرنا خداوند عالم کے حکم و دستور کے مطابق ہے اور یہ امر الہی ایک ملکوتی امر او ر ثابت و واقع شدہ  ہے جیساکہ قرآنی آیت ہے(إِنَّما أَمْرُهُ إِذا أَرادَ شَيْئاً أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ،فَسُبْحانَ الَّذي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْ ءٍ وَ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ )  (8)اس کا  امر صرف یہ ہے کہ کسی شے کے بارے میں یہ کہنے کا ارادہ کرلے کہ ہوجا اور وہ شے ہوجاتی ہے،پس پاک و بے نیاز ہے وہ خدا جس کے ہاتھوں میں ہر شے کا اقتدار ہے اور تم سب اسی کی بارگاہ میں پلٹا کر لے جائے جاؤ گے۔
نتیجہ
 پس امامت وحقیت میں  ولایت ہے جو لوگوں کے اعمال پر واقع ہوتی ہے اور ہدایت سے مراد حکم الہی سے لوگوں کو انسان کامل بنانا او ر کمال کے درجے پر پہنچاناہے اور کمال کی منزل تک پہنچانا مختلف طریقوں سے ہوسکتاہے مثلاً تبلیغ         ٗسیدھے راستے کی ہدایت، و عظ و ارشاد اور موعظہ( اچھے اخلاق و گفتار) جو رسول، نبی، اور مؤمنین کی شان ہے اصل میں یہی حضرات لوگوں کو حکمت اور موعظہ کے ذریعے ہدایت کرتے ہیں مگر کبھی ان کی ہدایت سے لوگ ہدایت یافتہ ہوجاتے ہیں تو وہ کامیاب ہوجاتے  ہیں  اور اصل ہدف کو پاتے ہیں اور اگر کبھی لوگ  ہدایت حاصل نہیں کرتے تو اپنی جہالت پر باقی رہتے ہیں اور گمراہ ہوجاتے ہیں۔
ارشاد پروردگار ہے(وَ ما أَرْسَلْنا مِنْ رَسُولٍ إِلاَّ بِلِسانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ فَيُضِلُّ اللَّهُ مَنْ يَشاءُ وَ يَهْدي مَنْ يَشاءُ وَ هُوَ الْعَزيزُ الْحَكيمُ ) (9) اور ہم نے جس رسول کو بھی بھیجا اسی کی قوم کی زبان کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ لوگوں پر باتوں کو واضح کرسکے اس کے بعد خدا جس کو چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے وہ صاحب عزّت بھی ہے اور صاحبِ حکمت بھی۔
دوسری  آیت میں اس طرح ارشاد رب العزت ہورہاہے: (وَ يَقُولُ الَّذينَ كَفَرُوا لَوْ لا أُنْزِلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِنْ رَبِّه إِنَّما أَنْتَ مُنْذِرٌ وَ لِكُلِّ قَوْمٍ هادٍ) (10) ور یہ کافر کہتے ہیں کہ ان کے اوپر کوئی نشانی (ہماری مطلوبہ)کیوں نہیں نازل ہوتی تو آپ کہہ دیجئے کہ میں صرف ڈرانے والا ہوں اور ہر قوم کے لئے ایک ہادی اور رہبر ہے۔
سابقہ آیات کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ منصب امامت اگر کسی کو ملتا ہے تو مفت اور بغیر کسی امتحان کے نہیں ملتاہے بلکہ ان حضرات سے اللہ نے ہر حوالے سے امتحان لیا  اور پہر آزمائش کے بعد جب انہوں نے(لما صبروا) صبر مطلق اور تحمل سے امور کو احسن طریقے سے انجام دیا اور درجہ یقین(و کانوا بایاتنا یوقنون)کی منزل پر پہنچے (اور یہ کام کسی غیر معصوم سے ممکن نہیں تھا لہذا معصوم ہونا اور تمام گناہوں اور خطاؤں سے  پاک و منزہ ہونا بھی لازمی تھا )اور تمام گناہوں اور خطاؤں سے پاک ہونے کا علم و یقین حاصل ہوا تو منصب امامت عطافرمایا۔
اور یہاں   پر اس بات کی بھی وضاحت ضروری ہے کہ آئمہ پر وحی کا نازل ہونا  (وَ أَوْحَيْنا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْراتِ)  ہم نے ان پر خیرات اور اچھے امور کی وحی نازل کی  یہاں  پر  وحی  سے مراد “وحی الہام ” اہم وحی (important revelatiom)(تشدید) لوٹانے یا(repay) ہے جبکہ”وحی تشریعی”(inspired legislation)( انسپائرڈ قانون سازی) مراد نہیں ہے چونکہ” وحی” جو انبیاء الہی اور رسول اکرم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان ہے جن پر نبوت ختم ہوئی اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔
اور یہ اس قسم کی “وحی “آئمہ طاہرین علیہم السلام پر خدا کی طرف سے ان کے فعل کی وجہ سے ان کے احترام میں صادر ہوئی ہے جو ان کی حقانیت و سچاہونے کی دلیل کے ساتھ ساتھ ان کی عصمت اور راہ حق سے متمسک ہونے اور راہ باطل سے دوری کی بھی دلیل ہے۔
3-ہر زمانے میں وجود امام
دستور وقانون الہی کے مطابق کائنات اور روئے زمین پر کسی حجت الہی کاہونا ضروری ہے چونکہ زمین حجت خدا  اور معصوم سے خالی نہیں رہ سکتی۔اور ہر قوم کے لئے رہنماو ہادی (ولکل قوم ہاد) ہر زمانے میں امام معصوم ہادی برحق کا وجود ضروری ہے چونکہ ہدایت ٗوحی الہی اور نبوت کا سلسلہ ہمارے آخری نبی ختم الرسل حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ختم ہوچکا تو ضروری ہے کہ یہ سلسلہ ہدایت و رہبری جاری وساری رہے اور یہ کسی امام معصوم کے بغیر ممکن نہیں۔
فلسفہ ہدایت
ارشاد پروردگار کے مطابق: (يَوْمَ نَدْعُوا كُلَّ أُناسٍ بِإِمامِهِمْ فَمَنْ أُوتِيَ كِتابَهُ بِيَمينِهِ فَأُولئِكَ يَقْرَؤُنَ كِتابَهُمْ وَ لا يُظْلَمُونَ فَتيلاً)  (11)یامت کا دن وہ ہوگا جب ہم ہرگروہ انسانی کو اس کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے اور اس کے بعد جن کا نامئہ اعمال ان کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ اپنے صحیفہ کو پڑھیں گے اور ان پر ریشہ برابر ظلم نہیں ہوگا۔
یعنی اس دنیا میں دو گروہ زندگی کرتے ہیں ایک حق دوسرا باطل  ٗ قیامت کے دن  مؤمنین کو اپنے امام حق جنہوں نے انہیں حق اور صراط مستقیم کی ہدایت کی تھی ان کو اپنے امام کے ساتھ جنت میں داخل کیاجائے گا اور امام باطل اور آئمہ کفر کو ان کی باطل اور غلط رہنمائی پر ان کے پیروکاروں کے ساتھ جہنم کی آگ میں ڈالاجائے گا۔
قارئین کرام!
 اس ایہ مجیدہ میں (بامامهم) کالفظ ہے اور اس کے ساتھ لفظ(با) کااستعمال ہواہے اس کا معنی ساتھ( مصاحبہ) کے ہے تو اس آیت میں شاید تابع اور متبوع کا ملازمہ مرادہو یعنی تابع کا متبوع  ٗ جس کی اتباع اور پیروی کرےگا اسی کے ساتھ محشور کیاجائے گا۔
جیساکہ جلال الدین نے کتاب درالمنثور میں امام علی علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہے: وفي الدر المنثور عن علي (عليهم السّلام) أنّه قال:(قال رسول الله (صلى الله عليه وآله وسلّم): (يَوْمَ نَدْعُوا كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ) قال: يدعى كُلّ قوم بإمام زمانهم وكتاب ربهم وسنة نبيهم) قیامت کے دن ہر انسان کو ان کے امام کے ساتھ محشور کیاجائے گا آپ علیہ السلام نے فرمایا: قیامت کے دن ہر انسان کو ان کے اپنے زمانے کے امام ٗ پروردگار کی کتاب اور اپنے نبی کی سنت کے ساتھ محشور کیاجائے گا۔
صاحب کتاب تفسیر البرہان نے  امام  جعفر صادق علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: وفي تفسير البرهان عن الإمام الصادق(عليهم السّلام) أنّه قال:(ألا تحمدون الله؟ أنّه إذا كان يوم القيامة يدعى كُلّ قوم إلى من يتولونه ، وفزعنا إلى رسول الله(صلى الله عليه وآله وسلّم) وفزعتم أنتم إلينا)۔ اے لوگو!کیا تم اﷲکی حمد و تعریف نھی  کرتے ہو؟ قیامت کا دن ہوگا جب  ہرگروہ انسانی کو اس کے پیشوا (امام)کے ساتھ بلائیں گے جن کی وہ اتباع اور پیروی کرتا تھا۔
جبکہ تفسیر عیاشی میں امام جعفرصادق علیہ السلام سے ا یک اور روایت نقل ہے جس میں آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: (لا يترك الأرض بغير إمام يحلّ حلال الله ويحرّم حرامه ، وهو قول الله : (يَوْمَ نَدْعُوا كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ ) ثمّ قال : قال رسول الله (صلى الله عليه وآله وسلّم) : من مات بغير إمام مات ميتة جاهلية) ۔ اللہ تعالی  روئے زمین کو ” امام “سے خالی نہیں رکھ سکتا جو احکام حلال کو حلال ٗ  احکام حرام کو حرام بیان کریں اس آیت کی طرف اشارہ ہے: (يَوْمَ نَدْعُوا كُلَّ أُناسٍ بِإِمامِهِمْ)  ہر انسان کو قیامت کے دن ان کے امام کےساتھ اٹھایاجائے گا پھر فرمایا: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاارشاد ہے انہوں نے فرمایا : (من مات بغير امام مات ميتة جاهلية) جوکوئی بغیر امام کے مرجائے تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔
نتیجہ
پس ہدایت کرنے والے آئمہ ھدی کبھی انبیاء ہوتے ہیں جیسے نبی ابراہیم علیہ السلام اور نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جوکہ انبیاء و مرسلین اور آئمہ کے سردار ہیں  اور کبھی غیر انبیاء یعنی انبیاء کے اوصیاء ہوتے ہیں جیسے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام اور آئمہ طاہرین علیہم السلام جو ان کے صلب اور پاک نسل سے ہیں۔
قارئین کرام!
 کچھ صفات امام جو قرآن نے بیان کی تھی  ہم نے آپ تک پہنچانے کی  ایک ادنی سعی و کوشش کی  ہےلیکن” امام” کی ان صفات سے ہٹ کر بھی بہت ساری صفات بیان ہوئی ہیں ان سب کے اس چھوٹے  مقالے میں بیان کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔

مزید  فلسطین پر قبضه کی روش

والحمد الله رب العالمین، والصلاة والسلام علی محمد وآله الطاهرین۔

——
1.شوری،19.
2.یونس،35.
3 .قصص،68.
4 .بقرہ،124.
5 .زخرف،28.
6 . سجدہ،24.
7 .الانبیاء،73.
8 یسن،82 الی 83.
9 .ابراہیم،4.
10.رعد،7.
11 .اسراء،71.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.