الاھی اسوے حصہ (2)

0 1

عظیم ترین بحران 

اس وقت دنیاکا سب سے بڑا بحران اور المیہ کیا ہے؟دنیا کے مختلف ممالک میں متعدد بحرانوں کا ذکر ہوتا ہے، کہیں سیاسی بحران ہے، کہیں اقتصادی بحران ہے،کہیں جنگ کا بحران ہے، کہیں پانی کابحران ہے لیکن یہ اصلی بحران نہیںہیں اس وقت اصلی بحران یہ ہے کہ انسانیت مسخ ہورہی ہے اور اس کے پاس کرامت و شرافت کاکائی نمونہ نہیں رہا، ایسی ضد انسانی اور ضد بشری تہذیبیں پھیلی ہیں جنہوں نے روح انسانیت کو ختم کردیا۔ آج دنیا سب سے زیادہ اس بات کی محتاج ہے کہ اس کے سامنے اسوے متعارف کرائے جائیں، لہٰذا آج وقت ہے کہ دوسروںکے سامنے اپنا سرمایہ پیش کریںاور آج مکتب کا جتنا زیادہ استقبال ہوگا اتنا کسی دور میں بھی ممکن نہیں تھا۔

بعض بزرگان کا یہ کہنا ہے کہ اس وقت انسان کے اندر ہردور سے زیادہ آمادگی پائی جاتی ہے کیونکہ اس وقت خلاء سب سے زیادہ ہے۔ اس وقت انسانوں کو سب سے زیادہ خلاء کا احساس ہوتا ہے۔ آج معنوی سرمائے کے فقدان کا احساس بہت شدت سے ہو رہا ہے لیکن اس خلاء کو پُر کرنے کے لئے ہندو، بدھسٹ اور مسیحی پہنچ جاتا ہے یا اس کو بھرنے کے لئے موسیقاراور اس طرح دوسرے لوگ پہنچ جاتے ہیں، اس کو پُر کرنے کے لئے گمراہ فرقے وجود میں آرہے ہیں تاکہ اس معنوی خلاء کو پُر کریں، جعلی تصوف اور جعلی فرقے پیدا ہورہے ہیں جو انسان کی اس تشنگی سے سوء استفادہ کررہے ہیں اور اس کے سامنے ایک کاذب معنویت رکھ رہے ہیں،

درحالیکہ تشیّع حقیقی معنویت کے سرمائے پُر ہے لیکن ضرورت ہے کہ اس سرمائے کو نکال کر دنیا کے سامنے اس زبان میں پیش کریںجو دنیا کو سمجھ میں آتی ہے ، ایسی زبان میںنہ پیش کریں جس سے لوگ نابلد ہوںِ خصوصاً ان اسوؤں کو پیش کریںجو خاص بحرانوں میںنکھرکر سامنے آتے ہیں جیسے حضرت زینب کا اسوۂ۔

آج اسوۂ زینبی کی ضرورت

آج تقریباً وہی المیہ دوبارہ تکرار ہورہاہے جو سن ٦١ ہجری میں کوفہ میں نظر آیا تھا۔آج پوراجہان ایک کوفہ کا سماں بناہوا ہے، اس میںکوفی کی تمام صفات موجود ہیں فقط ایک اسوۂ زینبی کی کمی ہے۔ اس بازار کوفہ میں فقط ایک خطبہ زینبی کی کمی ہے۔ باقی ساری چیزیں شبیہ کوفہ ہیں۔ بعض اہل فکر شعراء نے اس کمی کومحسوس کیا ہے کہ آج زمانہ کس چیز کا محتاج ہے؟

یہ زمانہ اپنے براہیم کی تلاش میں ہے

صنم کدہ ہے جہاں لا الہ الّا اللہ

قافلہ حجاز میں اک حسین بھی نہیں

گرچہ ہے تاب دار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات

یہ احساس خلاء ہے اور یہاں پرکسی کو ہو نا چا ہیے کہ آج کر بلا و نجف اور عراق کے اسیروں کے قا فلے میں ایک اسوئہ زینبی کی کمی ہے جس کی وجہ سے تمام ذلت و رسوائی کا سماں پیدا ہو ا ہے کیونکہ وہاں ایک اسوئہ عزت موجود نہیں ہے۔

اسوئہ کی انسان پر تأثیر ہو تی ہے خواہ وہ اسوہ خود بن کر آئے یا دوسرے بنا کر پیش کر یں اور اگر آپ حقیقی اسوہ ٔکو لو گوں کے سا منے پیش نہیں کر یں گے تو دوسرے اسوہ بنا کر پیش کر یں گے ۔

اگرآج جہان اسلام کو عملی اسوئہ نہ ملا تو مغربی میڈیا اور اربابان سیاست خود عالم اسلام سے ایک اسوہ بنا کر دنیا کے سا منے پیش کر ے گی اور کہے گی کہ یہ آپ کے لئے منا سب اسوہ ہے جیسا کہ وہ اس کام میں مشغول بھی ہیں ۔

اگر ہم نے دینی اقدار اور دینی بنیا دوں پر ایک درست تعلیمی نظام تشکیل نہیں دیا تو تو خود آ کر ہما رے لئے یہ کام انجام دیں گے۔ آج تین اسلامی ممالک(سعودی عرب،افغانستان اور پاکستان)میںامریکہ کا بنا ہوا اسلامی نصاب اجراہو چکاہے۔ ان تین ملکوں میں آج امر یکی ما ہر ین کی را ئے سے بنا ہوانصاب اسکو لوں ، کا لجوں حتی دینی مدرسوں میں چل رہا ہے دینی مدرسوں کادینی نصاب ا نہوں نے مشخص کیا ہے۔

مزید  علی اصغر (ع) کی شہادت، اہل بیت(ع) کے سینے پر ایک زخم

اس طرح اگر مسلمانوں میں سیا سی بیداری نہیں آئی اور سیا سی مسا ئل کے لئے اگر خود مسلمانوں نے سیاسی رہنمااور سیاسی تنظیمیں نہیں بنا ئیں تو وہ خود بنا کر لا ئیں گے ، وہ خود صدر و وزیراعظم بنا کر مسلمانوں کے سا منے پیش کریں گے بلکہ ان پر تحمیل کر یں گے ۔ سیا سی جما عتیں ، سیاسی حزب اور سیاسی لیڈر بنا کر قوموں کے سا منے پیش کر یں گے کہ یہ آپ کی جما عت ، یہ آپ کے لیڈر اور یہ آپ کے سیاست دان ہیں۔

جوچیز مسلمان خود نہیں بنا سکتے وہ اسے بنا کر دیں گے ۔ اگر مسلمان خود پارلیمنٹ تشکیل نہیں دے سکتے تو وہ آکر بنا کردیں گے اور بنا ر ہے ہیں اس طرح اگر مسلمان دین کی بنیادوں پر ایک تہذیب نہیں بنا سکتے تو وہ اپنے نقطہ نظرسے تہذیب بنا کر مسلمانوں کو پیش کر یں گے کہ یہ آپ کی تہذیب ہے اور اس کو اپنا ئیں ، جس طرح اقتصادی دنیا میں ایسا ہی ہوا ہے ۔ ہم جو چیزیںنہیں بنا پا ئے وہ بنا کر پیک کر کے ہما رے با زاروں میں بھیج دیتے ہیں اور ہم ان سے خر ید لیتے ہیں ۔ اقتصادی دنیا میں یہ بات کسی حد تک قابل قبول ہو سکتی ہے لیکن سیا سی ،معنوی، مذہبی اور تعلیمی دنیا میں بھی یہی ہو رہا ہے۔ جس طرح انہوں نے کا رخا نے لگا ئے ہیں اور ہما ری اقتصادی ضرورتوں کے مطابق ہر چیزکی بستہ بندی کر کے ہما رے گھروں میں پہنچا دیا ہے۔ اس طرح انہوں نے تہذیب ،نظریات اور تعلیمی نظام بھی ہما رے گھروں میں پہنچا دیا ہے ۔ اس وقت تمام اسلا می ممالک میں پسندیدہ ترین تعلیمی نظام ان کا بنا یا ہوا ہے۔ما نٹیسوری تعلیمی نظام برطا نوی اور امریکی طرز کا تعلیمی نظام ہے۔ یہ ان کے اسکولوں کی کا پی ہے متدین ترین لوگ بھی چا ہتے ہیں کہ ان کے بچے انہیں اسکولوں میں پڑھیں حتیٰ وہ علماء جو اپنے بچے کی تعلیم کا خرچ خمس و زکات اور بیت المال سے حاصل کر تے ہیں اسی سے ان بڑے بڑے اسکولوں کی فیس ادا کرتے ہیں تا کہ ان کے بچے اس ما ڈل کے نظام میں جا کر پڑ ھیں۔

انہوں نے تعلیمی ماڈل طرز زندگی اور کلچر و ثقافت لا کر دیا تا کہ تم اس طرح زندگی بسر کرو ،اس طرح سے سو چواور اس طرح سے پڑھو۔انہوں نے ہمیں ہر چیز لا کر دی اورہم صرف ایک با زار مصرف اور منڈی میں تبدیل ہو گئے ہیں ۔

جعلی اسوے

ایک زمانے میں ایک شخصیت اسوۂ بن کر سامنے آجاتی ہے اور دوسروں کے لئے نمونہ بن جاتی ہے۔ اگرچہ نمونہ بننے کے لیے ایک شخصیت کو بہت طولانی راہ طے کرنی پڑتی ہے لیکن بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخصیت وہ طولانی راہ طے کرکے ایک منزل تک پہنچ جاتی ہے پھر آہستہ آہستہ تمام افراد لا شعوری طور پر اس جیسا انداز اپنانا شروع کر دیتے ہیں، لباس اس کے جیسا پہنتے ہیں، بات اس کے جیسی کرتے ہیں، محاورے اور جملے وہی استعمال کرتے ہیں جو اس کی زبان سے ادا ہوتے ہیں۔ اس متأخر زمانے میں ایسا ہوا کہ امام خمینی کی شخصیت اسوۂ مسلمین کے عنوان سے ابھر ی اور انہوں نے دیکھا ایک مدت تک اس اسوۂ کی تأثیر ہے یعنی اگر اس سطح کی شخصیت عالمی شہرت کے ساتھ متعارف ہوجائے تو لوگ اس کے افکار لینا شروع کردیتے ہیں، اس کی تصویریں لگانا شروع کردیتے ہیں، ہر جگہ اس کا تذکرہ ہوتا ہے اور لوگ اپنے آپ کو اس کی راہ پر لانے کی کوشش کرتے ہیں، لہٰذا دشمنان دین اس کی طرف متوجہ ہوئے اور یہ کام اب خود شروع کردیا ہے یعنی وہ کوشش میں ہیں کہ مسلمانوں اور دنیا کے لئے ایک خود ساختہ اسوۂ پیش کریں اور چونکہ طبقات مختلف ہیں لہٰذا ایک اسوۂ سب کے لئے کافی نہیں ہوسکتا یعنی ایک دینی اسوۂ دیندار اور بے دین سب کے لئے کافی نہیں ہوسکتا لہٰذا وہ ہر شعبے اور ہر صنف کے لئے ایک خاص اسوۂ بناکر پیش کرنا چاہتے ہیں تاکہ لوگ اس کی طرف متوجہ ہوں اور یہ اسوۂ جس طرح سے ہو لوگ خود بخود اسی طرح سے ہوجائیں۔ لوگ اسی طرح سوچنا شروع کردیں اور اپنے آپ کو اسی قالب میں ڈھالنا شروع کردیں۔

مزید  امام حسن عليہ السلام اور تہمت طلاق اور روايات کا دوسرا گروہ

لہذاآج ضرورت اس کی ہے کہ ہم خدا کی طرف سے بنائے ہوئے دینی اور اسلامی اسوات کو پیش کریں۔ یہ سرمایہ اسی دن کے لئے تھا۔ آج ان کاذب اسوؤں کے مقابلے میں صادق اسوؤں کو متعارف کرانے کی اشد ضرورت ہے۔ آج اگر اقدار کی بنیادوں پر الہٰی اسوے پیش نہ ہوئے تو اقدار سے یہی اسوئے لوگوں کے سامنے پیش کردیئے جائیں گے بلکہ پیش بھی کئے جا رہے ہیںاور ظاہر ہے کہ جب ایک اسوۂ لوگوں کے ذہنوں میں راسخ ہوجائے گا اور لوگ عملی طور پر اس کی پیروی کرناشروع کردیں گے پھر اس کو لوگوں سے لینا بہت مشکل ہے، کسی سے اسوۂ چھیننا بہت مشکل کام ہے، مثلاً بچوں اور جوانوں کو دیکھیں کہ وہ اگر بال کٹوانے میں کسی سے متأثر ہیں اور ایک مرتبہ اس جیسا بال بنانا شروع کردیا اور ہیراسٹائل میں اس کو اپنا اسوۂ مان لیا تو اب اس بچے کو روکنا بہت مشکل ہے۔ اگر لباس پہننے میں بچے نے کسی کو اپنا اسوۂ مان لیا تو اب یہ اسوۂ اس سے چھیننا بہت مشکل ہے۔ پس اس سے پہلے کہ کاذب ، جعلی، مصنوعی اور اقدار سے تہی بلکہ ضد اقدار اور خلاف اقدار اسوے متعارف کراکے ان کو پوری بشریت کی گمراہی کے لئے استعمال کیا جائے حق یہ بنتا ہے کہ ہم اپنا سرمایہ پیش کریں اور یہاں اگر یہ سرمایہ پیش نہیںہو اتو پوری انسانیت خسارے میں ہے۔ اگر ہم آج اس سرمائے کو نہیںپیش کر سکے تو پھر کب پیش کریں گے؟

آج دنیا کو حضرت زینب جیسا اسوۂ درکار ہے۔آج پورے عالم اور زمانے میں کوفے کا سماں ہے۔ اگر کوفیوں کے ان خصائل اور صفات کو دیکھیں جو حضرت زینب نے بیان کیے ہیں تو پورا جہان ایک کوفہ نظر آتاہے، آج اس عالمی کوفے میں ایک اسوۂ زینبی کی کمی ہے، آج انسان کو حضرت زینب کی حقیقی شخصیت کی ضرورت ہے، نہ وہ شخصیت جو لوگوں نے خود بنالی ہے۔ انسان حضرت زینب کی واقعی شخصیت کی جستجو کرے کہ وہ بی بی کیا ہیں؟ کربلا سے کوفہ و شام یا اس سے پہلے اور اس کے بعد حضرت زینب نے کس چیز کو محسوس کیا جس کی بنیاد پر یہ عظیم اقدام کیا۔

عالم اسلام کا سکوت

اسؤوں کا طرز عمل لوگوں کے لئے دلیل بن جاتا ہے ۔ یہ تأثیر اسوۂ کے لحا ظ سے ایک اصلی نکتہ ہے جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایک اجتماعی و عمومی عمل جس کو ایک پورا معاشرہ انجام دیتا ہے وہ کیسے انجام پاتا ہے؟یہاں فردی عمل کی بحث نہیں ہے بلکہ پورے سماج اور معاشرے کو کسی عمل پر اکسانے کے لئے کس چیز کی ضرورت ہے اور اس کی بنیاد کیا ہے؟ مثلاً ایک اجتماع کو ساکت اور خاموش رکھنا ہے تو اس کے لئے کیا کرنا چاہیے؟ فرض کریں اس وقت جہان اسلام کو ساکت رکھنا ہے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ جس طرح اس وقت انہوں نے لوگوں کو ساکت کردیاہے۔ اس سکوت کے لئے انہوں نے کیا کیا ہے کہ پورے جہان ِاسلام کو ساکت کردیا؟ اتنے منچلے، جوشیلے، جذباتی اور چپ نہ ہونے والے مسلمان ناگہاں کس طرح خاموش ہوگئے ہیں؟ ان کے ساتھ کیا کیاگیا ہے؟یہ ایک بہت بڑا معمہ ہے جسے کوئی حل کرے کہ انہوں نے کس طرح سب کوساکت کر دیا ہے۔کچھ تو پہلے سے ہی ساکت چلے آرہے ہیں اور انہوں نے استصحاب سکوت جاری کر رکھا ہے لیکن کچھ تو بول رہے تھے آج وہ بھی چپ ہوگئے ۔یہ زبانوں پرکیسے تالے پڑ گئے ہیں اور اب کسی طرح اس اجتماعی سکوت کو توڑا جائے اور اجتماع کو کس طرح بولنے اور اقدام کرنے پر اکسایا جائے؟یہ سوچنے کا مقام ہے۔

مزید  عاشقان حسين عليہ السلام کے ليۓ انعام

سکوت توڑنے کی ذمہ داری کس پر؟

اہل فکر و اہل دانش کا کام ہے کہ وہ سوچیں ، جو اپنے آپ کو معمار اجتماع اور معمار امت سمجھتے ہیں ۔ وہ پر راہ حل تلاش کریں ۔ یہ کام ان رہبروں کا نہیں جنہوں نے عملی و اجرائی کام سبنھال رکھا ہے بلکہ اہل فکر نے انہیں فکر بناکر دینی ہے جیسا کہ سکوت اسی طرح طاری کیا گیا ہے۔ آج جنہوں نے دنیا اور عالم اسلام پر سکوت نافذکیا ہے انہوں نے اس کی فکرنہیں کی بلکہ فکر کسی اور نے کی ہے نافذ انہوں نے کی ہے۔ ہم نے سارا کام ان افراد پر چھوڑ دیاہے جن کاکام نفاذ ہے کہ وہی فکر بھی کریں اور وہی نافذ بھی کریں یہ ان کا کام نہیں بلکہ یہ حوزوں کا کام ہے۔

فرض کریں کہ ایک اسلامی حکومت موجود ہے جیسا کہ ایران میں اور اس ملک میں اسلام نافذ کرنا ہے تو اسلام کے بارے میں سوچنا ، اسلام کی فکر بنانا اور اسلام کا نظام بنانا حوزہ کاکام ہے۔ حوزہ سوچ کر دے گا تو حکومت نافذ کرے گی۔ حکومت کا کام سوچنا نہیں ہے بلکہ نافذ کرنا ہے جیسا کہ یہ جو سکوت کا سماں چھایا ہوا ہے اس کو کسی نے نافذکیا ہے لیکن خود انہوں نے سوچا نہیںہے بلکہ کسی اور نے سوچ کر اِنہیں دیا ہے کہ تمہیں اس طرح اقدام کرنا ہے۔ یہ شعبہ ہمارے یہاں بالکل خالی ہے، سوچ کا شعبہ خالی ہے اور نفاذ کے لئے سب تیار ہے۔

حکومت اسلامی میں ابھی بھی دیکھیں تو کتنی مشکلات موجود ہیں مثلاً انقلاب آئے ہوئے٣٠ سال گزر گئے ہیںلیکن ابھی تک یہاں پر اسلامی بینک کاری شروع نہیں ہوئی، ایسا کیوں ہے؟ کیا نافذ کرنے والے نہیں ہیں نافذ کرنے والے تو فراوان ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ اسلامی بینک کاری پر فکر کرنے والے نہیں ہیں۔ انہوںنے اپنا فریضہ ادا نہیں کیا ۔ اس وقت ایسانہیںہے کہ اسلامی بینک کاری کا بلا سودی نظام موجود ہے اور اسے نافذ نہیں کررہے ہیں بلکہ سرے سے نظام ہی موجود نہیں ہے۔ بعض بزرگان کے بقول امام خمینی نے بلاسود بینک کاری کا نظا م مرتب کرنے لئے جو کمیٹی تشکیل دی تھی انہوں نے کچھ ہفتے تک میٹنگ و سیمینار کر کے ایک مسودہ تیار کیا اور امام کے پاس لے گئے۔ ان بزرگوار کے بقول جب اس مسودے کو امام کی خدمت میں پیش کیا گیا تو امام نے اسے اٹھا کر پھینک دیا اور کہا کہ یہ کیا لائے ہو؟ نام بدلنے سے کوئی نظام اسلامی ہوجاتا ہے؟میں نے نام بدلنے کو کہا تھا یا یہ کہا تھا کہ اس پر بیٹھ کر سوچو، کام کرو، فکر کرو اور دینی اصولوں کے مطابق نظام وضع کرو۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.