افضلِ خلائق

0 0

یہ بات روزروشن کی طرح واضح ہے کہ چودہ معصومین عليه السلام خداکی تمام مخلوقات میں سے افضل ہیں یہاں تک کہ ان کی فضیلت کاخداکے اولوالعزم پیغمبربھی مقابلہ نہیں کرسکتے؛لیکن اس کے باوجودسماج میں کچھ ایسے متعصب ونافہم افرادپائے جاتےہیں جوکسی خاص غرض کی بناپریہ ثابت کرنےکی کوشش کرتےہیں کہ نہ فقط ائمہ معصومین عليه السلام؛بلکہ خاتم الانبیاءﷺ بھی ایک عام انسان تھے،جبکہ ہمارا(شیعہ)کایہ عقیدہ ہے کہ چودہ معصومین عليه السلام تمام مخلوقِ خداسے افضل وبرترہیں؛لہذا اس مختصرتحریر میں اسی بات کوثابت کرنےکی کوشش کی جارہی ہے۔

ابن ابی الحدیدلکھتےہیں:ائمہ کی فضیلت وبرتری کااعتقادکوئی نئی بات نہیں ہے؛بلکہ اس کی جڑیں اتنی قدیم ہیں کہ کچھ صحابہ کرام وتابعین کابھی یہی عقیدہ تھا۔[1]

یہاں سے معلوم ہوتاہےکہ یہ عقیدہ صدراسلام سے شروع ہوااورآج تک رائج ہے،اسی وجہ سے شیعہ کے بزرگ علماء نےایک لمحہ بھی اس امرسےغفلت نہیں کی اورہمیشہ فضائل ائمہ عليهم السلام کوبیان کرتےرہےہیں اورتمام علمائے کرام مثلاًشیخ مفید،شیخ طوسی،علامہ حلی،علامہ مجلسی اورمعاصرعلماء نےاپنی اپنی تصانیف میں اس عقیدہ کی ادلّہ بیان کی ہیں،لہذاہم بھی مختصر اندازمیں ان کی ادلّہ کوپیش کرنےکی کوشش کریں گے۔

۱-قرآنی ادلّہ

شیعہ علماء اوراہل سنت کے بعض علماء نے ائمہ عليهم السلام کی مخصوصاًحضرت علی عليه السلام کی حضرت محمدﷺکےعلاوہ تمام انبیاءپربرتری کو ثابت کرنے کیلئے قرآن مجیدکی بہت سی آیات سےتمسک کیاہے کہ ہم ان آیات میں سے کچھ آیات کی طرف اشارہ کریں گے۔

الف)آیت ابتلا

حضرت ابراہیم عليه السلام کی امامت کےبارےمیں قرآن مجیدارشادفرماتاہے:﴿وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِي قَالَ لاَ يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ﴾ [2]

اوراس وقت کویادکروجب خدانےچندکلمات کےذریعہ ابراہیم کاامتحان لیااورانہوں نےپوراکردیاتواس نےکہاہم تم کولوگوں کاامام اورقائدبنارہےہیں،انہوں نےعرض کی کہ میری ذریت؟ارشادہواکہ یہ عہدہ امامت ظالمین تک نہیں جائےگا۔

استدلال کی کیفیت اس آیت سے یہ ہےکہ یہ آیت حضرت ابراہیم عليه السلام کی زندگی کےمہم ترین نشیب وفراز؛یعنی ان کے سخت ترین امتحانات اوران کی آزمائشیں اورپھران میں کامیابی کےبارےمیں بتلارہی ہے وہ آزمائشیں کہ جنہوں نے حضرت ابراہیم عليه السلام کی شخصیت کونمایاں اوران کےمقام کی بلندی اوران کی قدروقیمت کوواضح کردیا،پس جس وقت حضرت ابراہیم عليه السلام ان تمام امتحانوں میں کامیاب ہوگئےتوخداوندعالم نےچاہاکہ ان کوانعام واکرام سےنوازےلہذافرمایا:میں تمہیں لوگوں کاامام وپیشوابناتاہوں۔

حضرت ابراہیم عليه السلام کے امتحانات

۱-سب سےبڑااورسخت امتحان یہ تھاکہ اپنےلخت جگرکوقربان گاہ میں لےآئےاورخداوندکےفرمان کی اطاعت میں مصمم ارادہ سےان کوذبح کردیاکہ جوخداوندنےقبول کرتےہوئےاس قربانی کوذبح عظیم پرموکول کردیا،اس امتحان میں حضرت ابراہیم عليه السلام کےدل میں کسی قسم کے شیطانی وسوسہ نےاثرنہ کیااوران کواپنےمصمم ارادہ سےنہ روک سکے۔

مزید  جہاد

۲-خداکےحکم کےمطابق اپنی بیوی،بچےکومکہ کی اس خشک وبےآب وگیاہ زمین میں چھوڑآئےکہ جس میں ایک آدمی بھی ساکن نہیں تھا،لیکن انہوں فقط رضائےپروردگارکی خاطرایساکیا۔

۳-بابل کے بت پرستوں کیساتھ مقابلہ اوران کےبتوں کاقلع قمع کرنااورپھرانہیں کی بنائی ہوئی عدالت میں دلیری کیساتھ ان کامقابلہ اورپھربرہان ومنطق کی بنیادپران پرغالب آنااوران کولاجواب کرنا۔

۴-آگ کےدل میں چلےجانااورانتہائی صبرواستقلال سےکام لینااورآخروقت تک خداپرایمان وبھروسہ رکھنااوراپنے پروردگارکادامن ہاتھ سے نہ چھوڑنا،حقیقت میں یہ سب بہت مشکل اورسخت امتحان تھے،لیکن حضرت ابراہیم عليه السلام نےاپنی ایمانی طاقت سے تمام آزمائشوں میں کامیابی حاصل کرکے یہ ثابت کردیاکہ وہ مقام امامت کی لیاقت رکھتے ہیں۔

اس آیت سےمختصرطورپریہ استفادہ کیاجاسکتاہے کہ مقام امامت کہ جوحضرت ابراہیم عليه السلام کواتنی آزمائشوں میں کامیابی کے بعدعطاہواہےوہ مقام رسالت ونبوت سےبرترتھا،کیونکہ اس مقام ومرتبہ سےپہلےان کوخلّت،رسالت ونبوّت کامقام عطاہوچکاتھااوراگرمقام امامت وہی مقام نبوّت ورسالت ہے توپھریہ جملہ لغوہوجائےگا:﴿إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا﴾یعنی جب پہلےسےوہ نبی ورسول ہیں توپھر،کہنے کی کیاضرورت ہے کہ میں تمہیں امام ؛یعنی نبی،یارسول بناتاہوں؟!اور اگرمقام امامت،مقام نبوّت ورسالت کےعلاوہ کوئی مقام ہےتوپھرمقام امامت کوافضل ہوناچاہیے؛کیونکہ اگرافضل نہ ہوتوپھراس کاکوئی فائدہ نہیں ہے۔

امامت کاباقی مناصب سےفرق

نبوّت کامعنی یہ ہے کہ نبی، خداکی جانب سےاخباراخذکرتاہے؛رسالت کامعنی یہ ہے کہ انہی اخبا کوجوخداسے لی ہیں لوگوں تک پہنچانا؛تقدم ومطاع کامعنی یہ ہے کہ لوگ اس کے نظریات واوامرکی پیروی واطاعت کریں،تقدّم ومطاع،نبوّت ورسالت کےلوازم میں سے ہے؛یعنی رسالت کالازمہ یہ ہے کہ رسول کےارشادات کی اطاعت کی جائےاوررسول دوسرے تمام لوگوں سےمقدم ہوتاہے؛خلافت ووصایت کامعنی یہ ہے کہ کسی کاجانشین ونائب ہونا؛ ریاست کامعنی یہ ہے کہ سب دستوررئیس صادرکرے؛یعنی وہی مطاع والامعنی مرادہے۔

ان تمام معانی میں سےکوئی بھی معنی،امامت کےمعنی سےسازگارنہیں ہے؛کیونکہ امامت کایہ معنی ہے کہ لوگوں کی خاص قسم کی ہدایت؛یعنی انبیاء ورسول بھی لوگوں کی ہدایت کرتےہیں،لیکن وہ صرف نصیحت وموعظہ اورفقط راستےکااڈریس بتاتے ہیں؛جبکہ امامت کامعنی یہ ہے کہ کسی کاہاتھ تھام کرحق کےراستے پرلےآنا؛یعنی راستہ دیکھانااورہےاورہاتھ تھام کر منزل مقصودتک پہنچانااورہے۔

امام ،خداکےامرکےساتھ ہدایت کرتاہے ،جیساکہ خداوندفرماتاہے: ﴿ وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً وَكُلًّا جَعَلْنَا صَالِحِينَ ، وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا ﴾[3] اورابراہیم کواسحق اوران کے بعدیعقوب عطاکئےاورسب کوصالح اورنیک کردارقراردیا،اورہم نےان سب کوامام قراردیاکہ ہمارےامرکیساتھ ہدایت کریں۔﴿وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا ﴾[4] اورہم نے ان میں سےکچھ لوگوں کوامام قراردیاہےجوہمارےامرکیساتھ لوگوں کی ہدایت کرتےہیں۔

مزید  دعا قرآن کی نظرمیں

ان دو اور باقی آیات میں جہاں پرامام کاکام ہدایت بتایاگیاہے وہاں پرہدایت کوامرکیساتھ مقیّدکیاگیاہے کہ جس سے یہ سمجھانےکی کوشش کی گئی ہے کہ ہدایت سے مرادمطلق ہدایت نہیں ہے؛بلکہ ایک خاص قسم کی ہدایت ہےکہ جوامر پروردگارسےہوتی ہے اوریہ امروہی امرہےکہ جس کےبارےمیں خدافرماتاہے: ﴿ إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ﴾[5] اس کاامرصرف یہ ہےکہ کسی شےکےبارےمیں یہ کہنےکاارادہ کرلےکہ ہوجااوروہ شےہوجاتی ہے۔ ﴿وَمَا أَمْرُنَا إِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ﴾[6] اورہماراحکم پلَک جھپکنے کی طرح کی ایک بات ہے؛پس جیساکہ خداوند،لفظ کن کے ساتھ شےکوایجادکرتاہے، امام بھی ہدایت کوایجادکرتاہے؛کیونکہ امام بھی خداکےامرکےساتھ ہدایت کررہاہوتاہے؛ لیکن انبیاء کی ہدایت ایسےنہیں ہوتی،انبیاء کی ہدایت کےبارےمیں خداوندفرماتاہے: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ فَيُضِلُّ اللَّهُ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴾[7] اورہم نےجس رسول کوبھی بھیجااسی کی قوم کی زبان کےساتھ بھیجاتاکہ وہ لوگوں پرباتوں کوواضح کرسکےاس کےبعدخداجس کوچاہتاہے گمراہی میں چھوڑدیتاہےاورجس کوچاہتاہےہدایت دےدیتاہے وہ صاحب عزّت بھی ہےاورصاحب حکمت بھی۔ یعنی رسول فقط راہ دیکھادیتاہےاوربس اس کےبعداگرخداکسی کوتوفیق ہدایت عطاکرےتووہ ہدایت پالیتاہےاوراگرتوفیق عطانہ کرےتووہ گمراہی میں پڑارہتاہے۔

اس آیت سےکلی طورپریہ نتیجہ لیاجاسکتاہے کہ جوکوئی بھی امامت کامنصب رکھتاہوگاوہ تمام انبیاء ورُسُل سے برتر وافضل ہوگااورفریقین کی کتابوں میں یہ بات ثابت ہے کہ رسول گرامی اسلام کےبعدبارہ امام ہونگےجوکہ سارے کےسارے قریش سےہونگے اوربعض روایات میں جیساکہ حضرت پیغمبراکرمﷺ کے خطبہ غدیرمیں تمام اماموں کےنام بھی ذکرہوئے ہیں ؛پس یہ ثابت ہواکہ جس طرح شیعہ کاعقیدہ ہے اسی طرح چودہ معصومین عليهم السلام تمام مخلوقات سےافضل ہیں۔

اگرکوئی یہ کہےکہ جوامام ہوتاہے وہ سب سے افضل ہوتاہے،اب حضرت ابراہیم عليه السلام بھی امام ہیں اورحضرت علی عليه السلام اوران کےگیارہ فرزندبھی امام ہیں؛لہذا حضرت علی بن ابی طالب عليه السلام اورباقی امام ،حضرت ابراہیم عليه السلام کے برابرہوئےنہ کہ ان سے افضل ہیں!!اس کاجواب یہ ہے کہ جیساکہ حضرت محمدمصطفےٰ ﷺ تمام عالمین کیلئے رسول ہیں ان کےخلفاء وامام بھی تمام عالمین کے امام ہیں؛جبکہ حضرت ابراہیم عليه السلام کی امامت تمام عالمین کیلئے نہیں ہے،لہذا معصومین عليه السلام ایسےچھوٹےبڑےآئینےہیں کہ جن میں حضرت محمدﷺکی سرسےپاؤں تک ساری تصویرنظرآتی ہے اوریہ سب ان کی سیرت کے صحیح معنوں میں عکاس ہیں۔

آیہ مباہلہ

﴿فَمَنْ حَآجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءنَا وَأَبْنَاءكُمْ وَنِسَاءنَا وَنِسَاءكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَةُ اللّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ﴾ [8] پیغمبرﷺعلم کےآجانےکےبعدجو لوگ تم سےکٹ حجتی کریں ان سے کہہ دیجئےکہ آؤہم لوگ اپنےاپنےفرزند،اپنی اپنی عورتیں اوراپنےاپنےنفسوں کوبلائیں اورپھرخداکی بارگاہ میں دعاکریں اورجھوٹوں پرخداکی لعنت قراردیں۔

مزید  اربعین حسینی اور ہم

استدلال

اس آیت میں کلمہ (انفسنا) سےمرادحضرت علی عليه السلام بن ابی طالب عليه السلام ہیں اوربعیدہے کہ اس کلمہ سےمرادخودرسول اکرمﷺ ہوں؛کیونکہ حضرت رسول اکرمﷺ تومباہلہ کی دعوت دینےوالےہیں،لہذایہ کیسےہوسکتاہےکہ انسان اپنےآپ کودعوت دےرہاہو؛بلکہ دعوت کامعنی یہ ہےکہ انسان دوسرےکودعوت دے۔[9] اس بناء پرحضرت امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب عليه السلام نفس رسولﷺ ہیں اوررسولﷺ تمام انبیاء سےافضل ہیں،لہذاحضرت علی عليه السلام بھی تمام انبیاء سےافضل ہیں اورجب حضرت امیرالمؤمنین عليه السلام کی برتری وفضیلت ثابت ہوگئی باقی معصومین عليه السلام کی برتری وفضیلت بھی خودبخودثابت ہوجائےگی؛کیونکہ تمام معصومین عليهم السلام ایک ہی نورسےہیں؛دوسری فضیلت کی بات جواس آیت سے سمجھی جاسکتی ہےوہ یہ ہے کہ کسی کاجھوٹایاسچاہوناکسی نہ کسی مدعامیں ہوتاہے ؛مثلاً کوئی کہے کہ خداکےسواکوئی عبادت کےلائق نہیں ہے تواس بات میں اس کوسچایاجھوٹاکہاجاسکتاہے،لہذااس آیہ میں اہل بیت بھی رسول اکرمﷺ کی اس دعوت میں شریک ہیں کہ لااله الا الله محمد الرسول الله ،وعيسیٰ بن مريم عبده ورسوله،اور اہل بیت علیہم السلام بھی کہہ رہےہیں کہ اگرہم اس دعویٰ میں جھوٹےہوئے توجھوٹےپرخداکی لعنت ہو،لیکن اگر اہل بیت علیہم السلام اس دعوت میں شریک نہ ہوں اوریہ فقط حضرت رسول اکرم ﷺ کادعویٰ ہوتوپھرسچایاجھوٹابھی رسول اکرمﷺ کوکہاجائے گااورجوجھوٹاہوگالعنت بھی اسی پرپڑی کی لہذااہل بیت علیہم السلام کومباہلہ میں لےجانافضول ہوجائےگا،لہذامعلوم ہواکہ اہل بیت عليهم السلام بھی اس دعوت اورمدعامیں برابر کےشریک ہیں لہذااس سےبڑھکر اورکیافضیلت ہوسکتی ہے کہ خاتم الانبیاء اورسیدالمرسلین کی اہم اوربنیادی دعوت میں ائمہ معصومین عليهم السلام شریک ہوں ؛جبکہ انبیاء ومرسلین اس بات کی خواہش رکھتےہیں کہ حضرت محمدمصطفیﷺ کی امت میں ان کاشمارہوتا!!کہاں حضرت محمدﷺ کی امّت میں شمارہونےکی خواہش اورکہاں ان کی توحیدکی دعوت میں شریک ہونا۔

البتہ یہاں پریہ بات بھی واضح کرتاچلوں کہ تبلیغ دین ودین کی دعوت دینا،عین نبوّت وبعثت نہیں ہے؛یعنی کوئی یہ نہ سمجھے کہ اہل بیت عليهم السلام حضرت رسول اکرم ﷺکی رسالت میں شریک ہیں؛اگرچہ تبلیغ دین ودین کی دعوت دینا،رسالت کےلوازم میں سےاورالہی مناصب میں سے ہے ؛یعنی ہررسول کیلئےضروری ہےکہ وہ دین کی تبلیغ کرے؛لیکن ہرتبلیغ کرنےوالاضروری نہیں ہےکہ رسول بھی ہو،اسی لئےتو انسان کوزمین میں اللہ کاخلیفہ کہاگیاہے کہ وہ خداکے دین حق کی تبلیغ کرتاہے۔

-ابن ابی الحدیدمعتزلی،شرح نہج البلاغہ،ج۲۰،ص۲۲۱،والقول بالتفضيل قول قديم قدقال به کثيرمن الصحابةوالتابعين۔[1]

-بقرہ،آیہ۱۲۴۔[2]

-الانبیاء،آیہ۷۲و۷۳۔[3]

-سجدہ،آیہ۲۴۔[4]

-یس،آیہ۸۲۔[5]

-القمر،آیہ۵۰۔[6]

-ابراہیم،آیہ۴۔[7]

-آل عمران،آیہ۶۱۔[8]

-محمدجوادنجفی خمینی،تفسیرآسان،ج۲،ص۳۰۹۔[9]

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.