اعتماد اور ثبات قدم

0 1

قال امیر المؤمنین علي علیہ السلام: “یَومٌ لَكَ وَ یَومٌ عَلَیكَ”

ایك رو زتمہارے حق میں اوردوسرا تمہارے خلاف ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے كہ زندگی ہمیشہ ایك حالت پرنہیں رہتی، بلكہ زندگی بھی دن رات كی طرح روشن و تاریك ہوتی رہتی رہے۔ یہ كبھی خوش گوار ہوتی ہے توكبھی درد جان بن جاتی ہے ! كچھ لوگ خوش وخرم رہتے ہیں توكچھ روتے بلكتے زندگی بسر كرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے كہ زندگی میں ہمیشہ نشیب و فراز آتے رہتے ہیں۔

لہذا سماجی زندگی كے لئے انسان كو ایك ایسی روحی طاقت كی ضرورت ہوتی ہے جس كی مددسے مشكلوں اور دشواریوں كے سامنے آنكھیں نہ جھكانی پڑیں۔ بلكہ مایوس ہونے اور ہار ماننے كے بجائے، ثابت قدم رہ كر ان كا مقابلہ كریں اورایك ایك كركے تمام مشكلوں كا خاتمہ كر سكیں۔

بے شك ! ثابت قدم رہنے كی عادت كی بنیاد گھركے ماحول میں ركھی جاتی ہے۔ ماں باپ اپنے بچوں میں اعتماد نفس اورثبات قدم پیدا كرنے كے لئے ماحول بناتے ہیں۔

ہمارا عقیدہ ہے كہ تمام اچھے انسانوں كی ترقی اوربلندی كی ابتداء اورتمام برے لوگوں كی پستی كی شروعات ان كے گھر كے ماحول سے ہی ہوتی ہے اور وہ ان كاموں كو گھر سے ہی شروع كرتے ہیں ۔

دوسرے لفظوں میں یہ كہا جا سكتا ہے كہ كسی بھی انسان كی ترقی اورتنزلی اس كی زندگی كے ماحول سے الگ نہیں ہو سكتی۔

درخت چاہے كتنا ہی مضبوط ہو، اس كی طاقت اس كی جڑسے جدا نہیں ہو سكتی۔ كیوں كہ زمین كی طاقت ہی اس درخت كو مضبوطی عطا كرتی ہے۔ لہذا گھر كے تربیتی ماحول كی ذمہ داری ہے كہ وہ بچوں كے اندر ثبات قدم كا جذبہ پیدا كریں۔ دیہاتی سماج میں رہنے والے بچوں كے اندر خود اعتمادی اور ثبات قدمی زیادہ پائی جاتی ہے ۔ كیوں كہ اس سماج میں لڑكیاں اور لڑكے بچپن سے ہی اپنے ماں باپ كے ساتھ سخت اور پر مشقت كام كرنا سیكھ جاتے ہیں۔ انہیں كاموں كی وجہ سے ان كے اندر تدریجا ثبات قدمی كاجذبہ پروان چڑھتا جاتاہے۔ شہروں میں رہنے والے مالدار گھروں كے اكثر بچوں میں ہمت وتخلیق كم پائی جاتی ہے، كیوں كہ وہ عملی طور پر مشكلوں كا سامنا كم كرتے ہیں۔ اس طرح كے جوان خواب وخیال میں زندگی بسر كرتے ہیں اورزندگی كی سچائی سے بہت كم واقف ہو پاتے ہیں۔ ماں باپ كوچاہئے كہ اپنے بچوں كو آہستہ آہستہ زندگی كی سچائیوں سے آگاہ كرایں اور انہیں زندگی كی حقیقت یعنی تنگدستی، فقیری اور دوسرے تمام مسائل كے بارے میں بھی بتائیں۔ كیوں كہ اس طرح كہ بچے جب سماجی زندگی میں قدم ركھتے ہیں تو ثبات قدم كے ساتھ مشكلوں كاسامناكرتے ہیں اور ایك ایك كركے تمام مشكلوں سے نجات حاصل كرلیتے ہیں ۔

مزید  اہل سنت والجماعت کی اصطلاح کا موجد؟

جو اعتماد، محنت و مشقت كے ذریعہ حاصل ہوتا ہے، وہ كسی دوسری چیز سے حاصل نہیں ہوتا۔

خداوند عالم نے انسان كو پیداكرنے كے بعد، اسے اس كے كاموں میں آزاد چھوڑ كر، اس كی پوری شخصیت كو اس كی محنت و كوشش سے وابستہ “لیس للانسان الا ما سعی” انسان كے لئے كچھ نہیں ہے، مگرصرف وہ جس كے لئے اس نےكوشش كی ہو۔ یہاں پر ایك اہم نكتہ یہ ہے كہ كبھی كبھی ایسابھی ہوتا ہے كہ بچوں كی محنت كے باوجود ان كے كام میں كوئی خامی رہ جاتی، ایسی صورت میں والدین كی عقلمندی یہ ہے كہ وہ اپنی اولاد كے مستقبل كی خاطر ان خامیوں كو معمولی اور چھوٹا سمجھتے ہوئے نظرانداز كر دیں اور ان كی ہمت بڑھاتے ہوئے ان كے اندرجرات كچھ كرنے كے حوصلہ كو زندہ ركھیں ۔

گناہگار والدین

كچھہ گھرانے ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی جہالت اور نادانی كی وجہ سے اپنے بچوں كی بربادی كے اسباب خود فراہم كرتے ہیں۔ بعض والدین ایسے ہوتے ہیں جو اپنے بچوں كے شرمانے، جھجكنے، ہچكچانے، كم بولنے، تنہارہنے، بچوں كے ساتھ نہ كھیلنے وغیرہ كوفخر كی بات سمجھتے ہیں اوران كو بہت زیادہ مودب بچوں كی شكل پیش كرتے ہیں۔ جبكہ حققت یہ ہے كہ یہ كام ان كی شخصیتوں كی كمزوریوں كو اور بڑھا دیتا ہے۔ وہ اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں كہ شرمانے اور جھجكنے والے لوگ نارمل نہیں ہوتے، كیوں كہ شرمانے اورگھبرانے ولے لوگ عام انسانوں كی عادتوں سے محروم ہوتے ہیں۔ وہ لوگ یہ سوچتے ہیں كہ ہم لوگوں سے دور رہ كر خود كو ایك عظیم انسان كی شكل میں پہچنوا سكتے ہیں۔ جبكہ حقیقت یہ ہے ان كے اس جھوٹے چہرے كے پیچھے ان كا كمزور وجود ہوتا ہے، جو انہیں اس بات پر اكساتا ہے۔

مزید  شيعہ کافر ، تو سب کافر ( حصّہ ہفتم )

ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد ركھنی چاہئے كہ صحیح و سالم بچے وہی ہیں جو اپنا دفاع كرنے كی صلاحیت ركھتے ہیں۔ اگر ان پر زیادتیاں كی جا تی ہیں تو وہ ان كے آگے نہیں جھكتے اور منطقی غور و فكر كے ذریعہ ان زیادتیوں كا مقابلہ كرتے ہیں۔سالم بچے وہی ہیں جواپنی گفتگو كے ذریعہ اپنے احساس وافكار كوبیان كرسكیں۔ یہ بات بھی یاد ركھنی چاہئے كہ وہی لوگ سماجی زندگی میں ناكام ہوتے ہیں جن كی روح كمزور اور بیمار ہوتی ہے۔ اس لئے كہ بہادر و طاقتور انسان ہرطرح كی مشكل كا جم كر مقابلہ كرتے ہیں اوركامیاب ہوتے ہیں۔ جنگ جمل میں حضرت علی علیہ السلام نے اپنے فرزندجناب محمد حنفیہ سے یہ فرمایا: “تزول الجبال ولاتزول” پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ دیں مگر تم اپنی جگہ سے مت ہلنا۔ یہ حضرت علی علیہ السلام كی طرف سے تربیت كا ایك نمونہ ہے یعنی یہ باپ كی طرف سے اپنے بیٹے كی وہ تربیت ہے، جسے ہم تمام مسلمانوں كو نمونہ عمل بنانا چاہئے تاكہ اپنے بچوں كی تربیت بھی اسی طرح كرسكیں۔

تاریخ میں ہے كہ جب تیمورلنگ نے اپنے دشمنوں سے شكشت كھاكر ایك ویرانے میں پناہ لی تو اس نے وہاں یہ منظر دیكھا كہ ایك چیونٹی گیہوں كے ایك دانے كو اپنے بل تك پہنچانے كی كو شش كررہی ہے، مگر جیسے ہی وہ اس تك پہنچتی ہے، دانا نیچے زمین پرگرجاتاہے۔ تیموركہتا ہے كہ میں نے دیكھا كہ ۶۵ ویں بار وہ چیونٹی اپنے مقصد میں كامیاب ہوئ اور اس نے اس دانے كو اپنےبل میں پہنچایا۔ تیمور كا قول ہے كہ اس چیزنے میری آنكھیں كھول دیں اور میں شرمندہ ہوكر پختہ ارادے كے ساتھ پھرسے اٹھ كھڑا ہوا اور اپنے دشمنوں كے خلاف جنگ كی اور آخركار انہیں ہرا كر ہی دم لیا۔

مزید  حضرت زینب (س) عالمہ غير معلمہ ہیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.