اعتدال اور میانہ روی

0 3

 

 تاریخ کی ورق گردانی کرنے سے اقوام اور کچھ افراد پر آنے والے عذاب کے اسباب میں یہ بات پڑھنے اور سننے میں آتی ہے کہ ’’ یہ لوگ گناہ یا ظلم میں حد سے بڑ ھ گۓ تھے ‘‘ اس لۓ ان کو اس قسم کے درد ناک عذاب سے دوچار کیا گیا ہے۔ اسی طرح روز مرہ کے امور میں بھی حد وسط سے گذرنے والے افراد کو یہ نصیحت کی جاتی ہے کہ اپنی صحت کی حفاظت کے لۓ افراط اور تفریط سے پرہیز کریں ۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں انسانی صحت اور تندرستی کے لۓ مقوی غذا کے استعمال کا مشورہ دیا جاتا ہے وہاں میانہ روی اور اعتدال کی تاکید بھی کی جاتی ہے ۔اعتدال کے بارے میں سفارش صرف مادی امور میں ہی نہیں بلکہ ائمہ معصومین علیہم السّلام کے فرامین میں ہمیں عبادت کے سلسلے میں بھی ملتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اعتدال اور میانہ روی کو انسانی زندگی میں بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اسی لۓ ہم نے اس مقالے میں مولاۓ کا ئنات کے مافوق البشر کلام سے الہام لیتے ہوۓ ’’ اعتدال اور میانہ روی ‘‘ کے عنوان سے کچھ لکھنے کے لۓ قلم اٹھایا ہے ۔اس نوشتہ میں اعتدال اور میانہ روی کی اہمیت ،افراط اور تفریط کے نقصان اور زندگی کے مختلف مراحل میں اس کے اثرات کے بارے میں اشارہ کیا جاۓ گا ۔   خداوند متعال سے دعاگوہوں کہ ہمیں اپنی زندگی میں اس صحیح روش پر عمل کرکے ہدایت یافتہ افراد میں شامل ہونے کی توفیق عنایت فرماۓ۔          (آمین) الف)اعتدال کے معنی اور اہمیت   الف: اعتدال کے معنی :لغت میں اعتدال کے کئ معنی بیان ہوۓ ہیں جن میں سے چند یہ ہیں: استقامت ،درمیانی درجہ کی روش ، کفایت شعاری ، افراط اور تفریط سے دوری ۔ابن منظور کہتے ہیں کہ ’’اعتدال عدل سے لیا گیا ہے ‘‘ جس کا مطلب ہے +++’’ الاستقامة ‘‘(١) معجم المقاییس الغة میںلکھا ہے کہ مادہ ’’ ع،د،ل‘‘ کے دو صحیح اصل ہےں، ایک سیدھی راہ کے معنی میں آیا ہے اور دوسرا کجروی اور ٹیڑھی راہ کے معنی میں ہے ۔(٢)فیروز اللغات میں اعتدال کے معنی یہ بیان ہوۓ ہےں :اوسط درجہ کی روش ، کفایت شعاری اور افراط و تفریط سے دوری۔(٣) لغات الحدیث میں اعتدال کے معنی ہےں :توسط ،تناسب اور افراط و تفریط کے بیچ کا درجہ ۔(٤)معجم الوسیط اردو میں تناسب اور میانہ روی اعتدال کے معنی میں شمار ہوۓ ہیں ۔ (٥)   مذکورہ اقوال کو مد نظر رکھتے ہوۓ اعتدال کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ اعتدال ،افراط اور تفریط سے خالی حد وسط کی کیفیت کو کہتے ہیں۔ چاہے یہ اقوال ، افعال ، حالات یا افکار سے متعلق ہو ۔ ب)اعتدال کی ضرورت اور اہمیت : کسی بھی چیز کی اہمیت کا اندازہ اس کے فوائد اور اس سے متعلق کی گئ تاکید اور سفارش سے کیا جاتاہے۔ اعتدال کے بارے میں قرآن اور سنّت رسول(ص) اور اہلبیت (ع) کی احادیث میں بہت تاکید کی گئ ہے بالخصوص مولاۓ کائنات(ع) باب علم نبی ،حضرت علی  کے کلام میں اس کی تاکید جگہ جگہ نظر آتی ہے۔ اگر چہ مقالہ کا تعلق اور ارتباط نہج البلاغہ سے ہے لیکن اگر حدیث نبوی کو اعتدال کے سلسلے میں بیان کیا جاۓ تو اس کی اہمیت میں اور اضافہ ہوگا لھٰذا اس کی اہمیت کے بیان کی ابتداء حدیث نبوی سے ہی کی جاۓ ۔رسول اکرم سے میانہ روی کے بارے میں منقول ہے کہ: ’’ من اقتصد اغناہ اﷲ‘‘(٦) جس نے کفایت شعاری اور میانہ روی اختیار کی اﷲ تعالیٰ اس کو بے نیاز بنادیتا ہے۔مولاۓ کا ئنات سے نقل ہے :’’الاقتصادُ ینمی القلیل والاسرافُ یفنی الکثیر‘‘(٧) میانہ روی کم چیز کو بڑھا دیتی ہے اور اسراف کثیر چیز کو فنا کر دیتا ہے ۔نہج البلاغہ کے خطبات، خطوط اور قصار الحکم میں جگہ جگہ مولاۓ کائنات سے اعتدال کے بارے میں تاکید نقل ہوئ ہے ۔ خطبہ٢٢٢/٥،٦میں امیرالمومنین  فرماتے ہیں : ’’ من اخذا القصد حمد وا الیہ طریقہ وبشروہ بالنّجاةِ ومن اخذیمینًاو شمالاً ذمو الیہ الطریقہ ‘‘ جو صحیح راستے پر چلتا ہے اس کی روش کی تعریف کرتے ہیں اور اسے نجات کی بشارت دیتے ہیں اورجو دائں بائں چلا جاتا ہے اس کے راستے کی مذت کرتے ہیں اور اسے ہلاکت سے ڈراتے ہیں ۔خطبہ کے اس حصہ میں میانہ رو افراد کی تعریف اور افراط و تفریط کرنے والوں کی مذمت بیان ہوئ ہے۔  کتا ب ’’ حدیث تربیتی اہلبیت ‘‘جلد ٢صفحہ ٣٦٢میں سفینة البحار سے اعتدال کے بارے میں امیرالمومنین  کا قول یوں نقل کیا گیا ہے ’’ واقتصد یا بنیّ فی معیشتک واقتصد فی عبادتک وعلیک فیھا بالامر دائم الذّی تطیقہُ‘‘۔بیٹا !اپنے اخراجات اورعبادت میں اعتدال اور میانہ روی اختیار کر لواور ہمیشہ وہ کام انجام دو جو تمہاری قدرت میں ہو ۔ مولاۓ کائنات ؑ اعتدال سے ہٹنے والوں کی مذمت کرتے ہوۓ ان کو افراط وتفریط کے بُرے آثار سے آگاہ کرتے ہیں :’’ثمرةالتفریط الندامة ُ و ثمرة الحزم السّلامة ‘‘۔(قصار الحکم ١٨١) کو تاہی کا نتیجہ شرمندگی ہے اور احتیاط و دوراندیشی کا نتیجہ سلامتی ہے ۔نیز غیر ضروری خضوع اور جذبہ کے اظہار کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ ما اقبح الخضوع عند الحاجة والجفا عند الغنیٰ ‘‘( نامہ ١٣ / ٦٠١) احتیاج کے وقت خضوع اور خشوع کا اظہار کس قدرذلت کی بات ہے اور بے نیازی کے وقت بد سلوکی کس قدر قبیح حرکت ہے ۔ مولاۓ کا ئنات  زندگی کے تمام مراحل میں عملی طور پر افراط اور تفریط سے پرہیز کرتے ہوۓ دوسروں کو بھی اس سے دور ہٹنے کی تلقین کرتے ہیں چنانچہ بیت المال کے بارے میں ان کا اپنے بھائ عقیل کی درخواست پر عملی رد عمل اس کا بیّن ثبوت ہے جس کو خطبہ ٥٢٢/٥،٧میں مولاۓ کائنات نے بطور خاص بیان کیا ہے ’’ فاصغیت الیہ سمعی ‘فظنّ انّی ابیعہ دینی و اتبع قیادہ مفارقاًطریقتی ‘ فاحمیت لہ حدیدة …الی تجرّنی الی نارٍ سجرھا جبّارھالغضبہ اتئنّ من الاذیٰ ولا ائنّ من لظیٰ‘‘(٨) حضرت عقیل نے فقر کی بناپر بیت المال سے کچھ اضافی جو ( یا گندم) مانگے تھے تو امام  نے فرمایا :’’ انھوں نے مجھ سے بار بار تقاضہ کیا اور مکر ر مطالبات کو دہرایا تو میں نے ان کی بات پر کان دھرلیے اور وہ سمجھے کہ شاید میں دین بیجنے اور اپنے راستے کو چھوڑ کر ان کے مطالبے پر چلنے کو تیار ہوںلیکن میں نے ان کے لۓ لوہا گرم کیا اور ان کے نزدیک لے گیا تاکہ وہ اس سے سبق سیکھ سکےں پس انہوں نے اس طرح چیخے مارنا شروع کیں جیسے کوئ بیمار درد کی وجہ سے فریاد کرتا ہے اور قریب تھا کہ وہ لوہے کی گرمی سے جل جاتے تو میں نے کہا:’ ’واۓ ہو تم پر ! رونے والی عورتیں تم پر روئں اے عقیل! آپ اس لوہے کی گرمی سے فریاد کررہے ہیں جس کوایک ا نسان نے صرف کھیل اور مذاق کے لۓ گرم کیا ہے اور مجھے اس آگ کی طرف دعوت دے رہے ہیں جس کو خداۓ جبار نے بھڑکایا ہو اہے ۔‘‘ اسی خطبہ کے بند ٠١‘١١‘٢١ میں فرماتے ہیں :’’ واﷲ لو اعطیت الاقالیم السبعة بما تحت افلاکھا علی ان اعصی اﷲ فی نملة اسلبھا جلب شعیر ة ما فعلتہ ‘‘ خدا کی قسم ! سات افلاک اور ان کے تحت موجود سب کچھ مجھے دیا جاۓ صرف اس لیے کہ میں چونٹی کے منھ سے ایک جو کا دانہ (چھلکہ ) چھین کر خدا کی معصیت کروںتو کبھی ایسا نہیں کروں گا۔ (٩)اس کے بعد فرمایاکہ ہم عقل کے خواب غفلت میں پڑ جانے اور لغزشوں کی برائ سے خدا کے دامن میں پناہ لیتے ہیں اور اسی سے مدد لیتے ہیں۔ کلام کے اس حصّے میں اگر چہ ظلم کے بارے میں بیان ہے لیکن غور کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ظلم بھی تو راہ اعتدال سے ہٹنے کے نتیجہ میں انسان سے سر زدہ ہوتا ہے، جس کی فکر، اعتدال کے مرکب پرچلتی ہے ظلم اس کا انجام نہیں ہو تا بلکہ ہمیشہ اس کے افعال میں بھی اعتدال نظر آتا ہے ۔اسی لیے عقلمند انسان کبھی بھی راہ اعتدال کو نہیں چھو ڑتا ہے اور زندگی کے تمام مرحلے میں اس کا خیال رکھتا ہے کیوں کہ افراط اور تفریط کا نتیجہ ندامت اور نقصان ہے جبکہ میانہ روی کا انجام کامیابی ،سکون قلب اور اطمینان ہے ۔     اگر اعتدال کے بارے میں جامع ترین کلام کو پیش کیا جاۓ تو مولاۓ کائنات  کا یہ قول مبارک کافی ہے جس میں آپ نے فرمایا ہے : ’’الزّھدکلّہ بین کلمتین من القرآن : قال ﷲ سبحانہ : ( لکیلا تاسو ا علی ما فا تکم ولا تفرحو ا بما اتاکم ) ومن لم یاس علی الماضی ، ولم یفرح بالاتی فقد اخذ الزّھد بطرفیہ ( قصار الحکم ٩٣٤) تمام زہد قرآن مجید کے دوجملوں میں ہے ’’جو چیز ہاتھ سے نکل جاۓ اس پر افسوس نہ کرواور آنے والی چیز پر مغرور نہ ہو ‘‘لہٰذا جو شخص گذشتہ پر افسوس نہ کرے اور آنے والے چیز پر غرور کا اظہار نہ کرے تو اس نے سارا زہدسمیٹ لیا ہے۔ اس( حکمت) میں اگر چہ بات زہد کی تھی لیکن ایک نکتہ ہمیں افراط اور تفریط سے بچنے اور اعتدال اختیا ر کرنے کی تاکید کرتا ہے وہ یہ جملہ ’’  اخذ الزّھد بطرفیہ ‘‘ہے ۔لازمی بات ہے جو غیر ضروری افسوس کا اظہا ر نہ کرے اور نعمت کے ملنے پر مغرور نہ ہو وہی زاہد ہو سکتا ہے اور یہ اعتدال اور میانہ روی کا بہترین نتیجہ ہے لہٰذا افراط اور تفریط سے بچ کر اعتدال کا راستہ اختیا ر کرنے والا انسان ہی حقیقت میں زاہد ہو سکتا ہے ۔ نظام کائنات اور اعتدال نظام نظم سے لیا گیا ہے جسکا مطلب ہے’’کسی مجمو عے کے اجزا یا چندمجموعوںکے درمیان ھماھنگی، ارتباط اور انسجام کو کہتے ہیں جو ایک ہدف خاص اور معین مقصد تک پہنچاتی ہو۔‘‘ (٠١)مثل جسم کے اجزا کے درمیان ہماھنگی جو جسم کی بقا ء کے لیے ضروری ہے اسی طرح حیوانات اور نباتات کے درمیان تکوینی ارتباط جو ایک دوسرے کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں ۔ کائنات میں موجود ہر شی کا دوسری اشیا سے کسی نہ کسی طریقے کاا رتباط موجود ہے۔ سائنس کے مطالعہ سے معلوم ہو تا ہے کہ خالق نے کائنا ت کوسنبھالنے کے لۓ ایک عجیب نظم اور حیرت انگیز دقیق سسٹم (system) قائم کر رکھا ہے ۔چنانچہ سائنس کی روشنی میں اگر ہم نظام شمسی اور زمین کی حرکت میں اعتدال کو دیکھےں تو یہ عجیب اور حیران کن بحث نظر آتی ہے جسے اس علم کے ماہر ہی اچھی طرح سے سمجھ سکتے ہیں ۔ ڈاکٹر ذاکر نائک کا کہنا ہے کہ ’’ ایک تحقیق کے مطابق صرف ایک کہکشاں میں پانچ لاکھ میلین نظام شمسی موجود ہےں اورایسی اربوںکی تعداد میں کہکشاں پائ جاتی ہےں اور ہر کہکشاں کو عبور کرنے کے لیے پچاس لاکھ سال درکا ہو تے ہیں ۔ ہمارا یہ نظام شمسی پوری کائنات کا ایک حقیر زرہ ہے اور ہماری یہ دنیا اس حقیر ذرہ سے بھی چھوٹی کہ سورج میں تیرہ لاکھ زمینیں سماجاۓں ۔( نظام شمسی کی اتنی وسعت کے باوجو د ) اگر پنسل کو نوک کے بل کھڑاکیا جاۓ اور وہ ایک ارب سال تک اسی حالت میں کھڑی رہے تو اندازہ کیجیے اس باریک بینی سے ایک ’ماسڑمائنڈ‘ نے اس کا ئنات کو ڈیزاین(Desighne) کیا ہے اور قرآن کی آیت /٧٤ سورہ ذاریا ت(جو کا ئنات کے پھیلائو پر دلالت کرتی ہے ) کے مطابق کا ئنات پھیل رہی ہے ان سب باتوںکے بعد غور کیجیے اگر اس میں ایک سکنیڈکے دس لاکھ کھربویں حصے کے برابر عدم توازن پیدا ہو تا تو یہ کائنات وجود میں نہ آتی یا پھر تباہ ہو جاتی ہے لیکن آج تک اس میں کبھی بھی عدم توازن پیدا نہیں ہو ا ۔‘‘(١١)اس سے یہ بات بطور واضح ثابت ہو تی ہے کہ خالق نے کیسا توازن اور اعتدال اس کا ئنات میں ایجاد کیا ہے کہ جس کی وجہ سے پوری کائنات ایک خاص نظم کے ساتھ رواں دواں ہے۔ اس فصل میں دیکھےں گے کہ امیر لمومنین کی نظر میں نظام کائنات اور پہاڑوں کی خلقت کا زمین کی حرکت میں اعتدال پیداکرنے میں کیا کردار ہے ۔ الف )نظام کائنات اور حرکت زمین میں اعتدال  مولاۓ کائنات نظام کائنات کے حرکت زمین میں اعتدال پیدا کرنے کے سلسلے میں یوں فرماتے ہیں 🙁 خطبہ ١١٢ /٢،٣)’’ وارسیٰ ارضاً یحملھا الاخضر المشعنجر والقمقام المسخر۔۔۔۔۔.۔‘‘ پھر زمین کو یوں گاڑ دیا کہ اسے سبز رنگ کا گہرا سمندر اٹھاۓ ہوۓ ہے جو خدا وندمتعال کے قانون کے آگے مسخر اور اس کے حکم کے تابع ہے اور اس کی ہیبت کے سامنے سرنگوں ہے اور اس کے خوف سے اس کا بھاؤ تھما ہو ا ہے۔(٢١) امام بند٧،٨ میں فرماتے ہیں کہ’’ فسبحان من امسکھا بعد موجان میاھا واجمدھا بعد رطوبةٍ ……….انّ فی ذالک لعبرة لمن یخشیٰ ‘‘ پاک ہے وہ ذات جس نے پانی کی طغیانیوں کے بعد زمین کو تھام رکھا اور اس کے اطراف و جوانب کو تربتر ہو نے کے بعد خشک کیا اور اس سے اپنی مخلوقات کے لیے گہوارہ بنا دیا اور ایک ایسے گہرے دریا کی سطح پر اس کے لیے فرش بچھایا جو تھما ہو ا ہے بہتا نہیں ہے اور رکا ہوا ہے جنبش نہیں کر تا ہے۔ جسے تند ہوائں ادھر سے ادھر دھکیلتی رہتی ہیں اور برسنے والے بادل اسے متھ کر پانی کھینچتے رہتے ہیں ۔بے شک ان چیزوں میں سر وسامان عبرت ہے ان لوگوں کے لۓ جو اﷲ سے ڈرتے ہیں ۔(٣١)      اس مقطع کلام میں مولاۓ کائنات نے زمین کی حرکت کو معتدل بنانے کے ساتھ حرکت کو جاری رکھنے کے سلسلے میں نظم اور قانون الہی کو واضح کر دیا ہے ۔جب دوسرے ستاروں کی حرکت کا سائنسی کتابوں میں مطالعہ کرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ خالق کائنات نے دقیق نظام بنایا ہے بالخصوص جب کچھ ستاروں کے بارے میں پایا جاتا ہے کہ ایک سکینڈمیںکئ لاکھ کلومیٹر کا سفر طے کر تے ہیں لہٰذا اگر ان کی حرکت کو کنٹر ول کرنے کے سلسلے میں نظام نہ ہوتا اوراعتدال سے خالی سرعت و حرکت ہر ستارے میں موجود ہوتی تو سب کے سب تباہ ہوجاتے ۔ ب) پہاڑوں کی خلقت اور حرکت زمین پہاڑ زمین کی حرکت کو کیسے کنٹرول کرتاہے اس بارے میں امیر المومنین فرماتے ہیں : (خطبہ١١٢/بند ٣،٦)’’ و جبل جلامیدھا و نشوزمتونھا ………وجعلھا للارض عمادًا وارّزھافیھا اوتاداً ‘‘ پھر پھتروں ، ٹیلوں اور پہاڑوں کو خلق کرکے انہیں ان کی جگہوں پر گا ڑ دیا اور ان کی منزلوں پر مستقر کردیا کہ اب ان کی بلند یاں فضا ؤں سے گزر گئ ہیں اور ان کی جڑیں پانی کے اندر راسخ ہیں۔ ان کے پہاڑوں کوہموار زمینوں سے اونچا کیا اور ان کے ستونوںکو اطراف کے پھلائواور مراکز کے ٹھراو میں نصب کر دیا۔ اب ان کی چوٹیاں بلند ہےں اور ان کی بلندیاں طویل ترین ہیں اور انھیں زمین کے لیے ستون قرار دیا (٤١)اور میخوں کی صورت میں انھیں گاڑ ا پس جس کے نتیجے میں زمین حرکت سے یوں باز آگئ کہ اپنے اندر رہنے والوں کو لے کر ڈوبنے سے بچ گئ چنانچہ وہ ہچکوے کھانے کے بعد یوں تھم گئ کہ نہ اھل زمین کو لے کر کسی طرف جھک سکی اور نہ ان کے بوجھ سے دھنس سکی اور نہ اپنی جگہ سے ہٹ سکی ۔(٥١) زمین کی حرکت میں اعتدال کے حوالے سے کائنات میں نظم اور پہاڑوں کی خلقت کے کردار کو بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اعتدال کائنات کی ہر شی میں بقاکی ضمانت ہے اور اس کا انسانی زندگی پر بہت گہرااثر پڑتا ہے۔ اس سے انسان اعتدال کے مثبت نتیجہ اور اہمیت سے آگا ہ ہوجا تاہے نیز افراط اور تفریط کے بارے میں انسان کو یہ علم حاصل ہو جاتا ہے کہ یہ زندگی کے ہر شعبے میں مضر ہے لہٰذا عقل مند انسان ان چیزوں کو دیکھ کر عبرت حاصل کر لیتا ہے۔ اعتدال اور تربیت اسلام میں تربیت کا مقصد یہ ہے کہ انسان کے لۓ ایسے درست راستے کا انتخاب کیا جاۓ جس میں اس کا دنیوی اور اخروی فائدہ ہو اور اس راہ پر چلتے ہوۓ وہ کمال تک پہنچ جاۓ ۔یہی وجہ ہے کہ تربیت اور اعتدال میں بہت گہرا تعلق اور رابطہ ہے۔ انسان چونکہ مادی ہے اس لۓ اس میںوہ غرائز اور خواہشات بھی موجود ہےں جو دوسرے حیوانوں میں ہوتے ہیں ۔ وہ تربیت حاصل کرنے کے ذریعے ان سے آگا ہ ہو جا تا ہے اور ان میں در پیش مشکلات کا مناسب حل تلاش کرتا ہے نیز ان غرائز و خواہشات میں تعادل پیدا کر کے بہتر زندگی گزار سکتا ہے۔ تربیت بالخصوص نوجوانوں میں بقیہ تمام اصناف کی نسبت زیا دہ ہو تی ہے ۔امیر المومنین اپنے فرزند ارجمند امام حسن کو وصیت کر تے ہوۓ یو ں فرماتے ہیں : (نامہ ١٣ / ١٢) ’’ …او یسبقنی الیک بعض غلبات الھویٰ فتکون کالصعب النفور……فبادتک بالادب قبل ان یقسوقلبک …….الی ….من علاج التجربة .‘‘ …….یا وصیت سے پہلے ہی خواہشات کا غلبہ اور دنیا کے فتنے تم تک نہ پہنچ جا ئں اور تمہارا حال بھڑ کے ہو ۓ اونٹ جیسا ہو جاۓ۔ یقینًا نوجوانوں کا دل ایک خالی زمین کی مانند ہے کہ جو چیز اس میں ڈال دی جاۓ اسے قبول لرلیتا ہے لہٰذا میں نے چا ہا کہ تمہیں دل سخت ہونے اور عقل کے مشغول ہو نے سے پہلے وصیت کر دوں تاکہ تم سنجیدہ فکر کے ساتھ اس امر کو قبول کرلو جس کی تلاش اور جس کے تجربے کی زحمت سے تمہیں تجربہ کار لوگوں نے بچا لیا ہے ۔ (٦١)اسی لیے مشکلات کا مقابلہ بھی اچھی تربیت کے ذریعہ ممکن ہے اور باتربیت انسان ہی ہر قسم کی مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوۓ ان کےلۓ بہترین راہ حل تلاش کر سکتا ہے نیز تر بیت کے ذریعے ہی سے انسان میں موجود خواہشات اور غرائز میں اعتدال اور میانہ روی پیدا کی جاسکتی ہے۔ اعتدال اور تربیت کے عنوان کے ذیل میں چند نمونے ذکرکۓ جاۓں گے جن کے بارے میں امام  نے خصو صی طور پر ذکر کیا ہے۔ غرایز میں اعتدال    ١)غصہ اور اعتدال: غصہ کی حالت اگر چہ انسان کے اندر خدا وند متعال نے ودیعت کی ہے لیکن اگر حد سے بڑھ جا ے تو انسان کے لۓ عذاب سے کم نہیں ہے۔ مولاۓ کائنات فرماتے ہیں :’’الحدة ضرب من الجنون لانّ صاحبھایندم فان لم یندم فجنونہ مستحکم‘‘(٧١)غصہ ایک قسم کی دیوانگی ہے کیونکہ غصہ ور بعد میں پشیمان ہو تا ہے اور اگر پشیمان نہ ہو ا تو اس کی دیوانگی پختہ ہے ۔البتہ غصہ اگر اعتدال میں اور میانہ روی کی حدتک ہو تو ایک قسم کی نعمت ہے کیوں کہ انسان غصہ ہی کے ذریعہ اپنے آپ ، اپنے ناموس، وطن اور دین کادفاع کرتا ہے ۔    ٢)جنسی خواہش:یہ غریز ہ بھی اﷲ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے جس کے ذریعہ انسان بعض چیزوں سے لطف اندوز ہو تا ہے منتہیٰ اس حالت میں افراط و تفریط کی وجہ سے انسان انسانی اوصاف کھو دیتا ہے اورصف حیوان میں چلا جاتا ہے ۔امیرالمو منینؑ خواہشات نفسانی کے بارے میں فرماتے ہیں :(خطبہ ٦٧١/٣)’’فرحم اﷲ امرئً نزع عن شہوتہ و قمع ھوی نفسہ ‘‘ اﷲ اس بندے پر رحمت نازل کرے جو خواہشات سے الگ ہو جاۓ اور نفس کے ہوا وہوس کو اٹھا کر پھینک دے ۔(٨١)خواہشات کو ختم نہیں کیا جاسکتا البتہ ان کو اعتدال میں لاکرکنٹرول کرنا ہی کمال ہے لہٰذامراد یہ ہے کہ انسان ہواۓ نفسانی کی غلامی سے آزاد ہو کر زندگی گزارے اور اس سے اپنے حد میں فائدہ اٹھا ۓ ۔ ٣)عادت اور اعتدال :یہ غریزہ بھی ان غرائز میں سے ہے جن میں اعتدال پیداکرکے انسان اچھے اوصاف کا حامل بن سکتا ہے۔ چونکہ عادت کے ذریعے اچھی اور بری صفات دونوں کو اپنے اندر پیدا کیا جا سکتا ہے ۔مولا ۓ کا ئنات فرماتے ہیں ؛( حکمت ٩٥٣/٢) ’’ ایھا النّاس تولّوا من انفسکم تادیبھا و اعدلوا بہا عن ضرائة عاداتھا‘‘اے لوگو! اپنے اند ر نفس کی اصلاح کی ذمہ داری خود سنبھال لو اور اپنی عادتوں کے تقاضوں سے منھ موڑ لو۔(٩١) ٤) خوف اور اعتدال :مولاۓ کا ئنات  کی نظر میں وہ خوف قابل تعریف ہے جو انسان کو گناہوں سے دور رکھے ۔امام  فرماتے ہیں :’’رحم اﷲ امرئً سمع حکماً فوعیٰ ودعیَ الی رشادٍ فدناو اخذ بحجزتہ…‘‘خدا رحمت کرے اس شخص پر جو نصیحت کو سن کر اس کو ذہن نشین کر لیتا ہے اور جب ھدایت کی طرف بلایا جاتا ہے تو نزدیک آتا ہے اور اپنے اعمال   پر نگرانی ،خدا وندکو فراموش کرنے اور ہمیشہ اپنے گناہوں سے ڈرتا رہتا ہے ۔ امیرالمومنین غیر ضروری اوربے جا خوف کے شکار افراد کو اعتدال کا درس دیتے ہوۓ یوں فرماتے ہیں : (قصار الحکم ٥٧١)’’ اذا ھبت امراً فقع فیہ…… ‘‘(٠٢) جب کسی امر سے دہشت محسوس کرو تو اس میں کود پڑو کہ زیادہ خوف و احتیاط خطرے سے زیادہ خطرناک ہو تا ہے ۔ ٥) برتری طلبی اور اعتدال :برتری طلبی اور دوسروں پر غالب آنے کی خواہش انسانوں اور حیوانوں میں مشترک صفت ہے۔ امیر المومنین  مالک اشتر کو اس سے دور رہنے کی تلقین یوں فرتاتے ہیں :’’یا مالک ایّاک والاستثمار بما النّاس فیہ اسوة فانّہ ماخوذ منک لغیر ک ‘‘(نامہ ٣/٩٤١۔) اور دیکھو (اے مالک!) جن چیزوں میں سب لوگ شریک ہیں اسے اپنے لۓ مخصوص نہ کر لینا اور قابل لحاظ حقوق سے غفلت نہ بر تنا جو نظروں کے سامنے نمایاں ہیں کیونکہ دوسروں کے لۓ یہ ذمہ داری تم پر عائد ہے اور مستقبل قریب میں تمام معاملات پر سے پردہ اٹھایا جاۓ گا اور تم سے اس کی داد خواہی کی جاۓ گی۔   اس کے مقابلے میں کچھ موارد ہیں جن میں برتری طلبی اور نفوس کو اچھا اور قابل تعریف سمجھا گیا ہے۔ مولاۓ کا ئنات فرماتے ہیں :(خطبہ ١٢١/٤)’’اللّھمّ انّی اوّل من اناب وسمع واجاب لم یسبقنی الیٰ رسول اﷲ (ص)بالصّلوة …‘‘(١٢) خدا یاتو جانتا ہے کہ میں نے سب سے پہلے تیری طرف رخ کیا ہے، تیری آواز سنی ہے اور اسے قبول کیا ہے اور تیری بندگی میں رسول خدا(ص) کے علاوہ کسی نے مجھ پر سبقت نہیں لی ہے ۔مولاۓ کائنا ت کے کلام میں ہمارے لۓ یہ نصیحت اور سفارش کی گئ ہے کہ مسابقہ، عبادت اور خداکی خوشنودی میں ایک بہترین اور قابل تعریف چیز ہے ۔ زندگی کے مختلف مراحل میں اعتدال کا حکم گزشتہ صفات میں ’تربیت اور اعتدال ‘کے عنوان کے ضمن میں چند مشترکہ غرائز میں اعتدال کے فوائد اور افراط وتفریط کے نقصان کے بارے امام علی  کے ارشادات کو بیان کیاگیا۔ اس فصل میںان موارد کو ذکر کیا جاۓ گا جو انسان کے روز مرہ افعال اور کردار سے متعلق ہیں ۔غرائز میں اعتدال کی بحث کو اس لۓ مقدم ذکر کیا گیا چونکہ ان کو انسان کے افعال کی بہ نسبت اصل کی  حیثیت حاصل ہے ۔اگر انسان تربیت کے ذریعے ان غرائز میں میانہ روی اور اعتدال لانے میں کا میاب ہوتا ہے تو عملی زندگی میں میانہ روی پر عمل کرنا اس کے لۓ آسان ہو گا ورنہ اس کو عملی میدان مشکلات کا سامنا کر نا پڑے گا۔ہم ذیل میں ان موارد کو ذکر کریں گے جن کے بارے میں امیر المومنین نے بطور خاص خطبات، کلمات قصار اور خطوط میں لوگوں کی رہنمائ کرتے ہوۓ اعتدال اور میانہ روی کی سفارش کی ہے ۔ ١)عہدیداران حکومت اور اعتدال: امیر المو منین اپنے بعض گورنروں کو عوام الناس کے ساتھ میانہ روی اختیار کرنے کی سفارش کرتے ہوۓ فرماتے ہیں :(نامہ ٩١/٢،٣) ’’ فالبس لھم جلبابًا من اللین تشوبہ بطرفٍ من الشّدة وداول لھم بین ……….‘‘ ان کے ساتھ ایسی نرمی کا رویہ اختیارکرو جس میں قدر ے سختی بھی شامل ہو اور ان کے ساتھ سختی اور نرمی کے درمیان کا سلوک کرو کہ کبھی قریب کرلو کبھی دور کرلو ۔کبھی نزدیک بلاو اور کبھی الگ رکھو انشاء اﷲ۔(٢٢) مولاۓ کائنات نے اگر چہ بعض عمال کو یہ خط لکھا تھا لیکن تمام حکام کے لۓ بہتر ین ہدایت ہے کہ جس میں میانہ روی کا درس دیا ہے کیونکہ بے جا سختی سے عوام اپنے حاکم سے متنفر ہو جاتے ہیں اور زیادہ نرمی سے عوام قوانین پر عمل کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور نظام کمزروہو جا تا ہے ۔ ٢) اخراجات میں اعتدال:مولاۓ کا ئنات اسراف اور تبذیز نیز کنجوسی سے منع کرتے ہوۓ اعتدال کے بارے میں فرماتے ہیں :(قصار الحکم ٣٣)’’کن سمحاً ولا تکن مبذّراًوکن مقدراً ولا تکن مقتّراً‘‘ (٣٢)سخاوت مندی کرو۔سخی بن جائو لیکن فضول خرچی نہ کرو اور کفایت شعاری اختیار کرو لیکن بخیل مت بنو ۔امیر المومنین  نے ایک کلام میں چار ایک دوسرے کی متضاد صفات بیان کرکے انسانیت کو اعتدال کا صحیح راستہ دکھا یا ہے ۔کفالت شعاری اور سخاوت کی سفارش کی ہے اور بخل اور اسراف سے منع کیا ہے ۔نامہ ١٢میں آپ نے اسراف کے بارے میں یوں فرمایا ہے: ’’فدع الاسراف مقتصدًا‘(٤٢) اسراف کو چھوڑ کر میانہ روی اختیا رکرو۔ ٣) گھریلوامور میں اعتدال : مولاۓ کائنات حکمت ٢٥٣میں ان لوگوں کے لۓ راہ اعتدال کی نشاندہی کررہے ہیں جو گھر کی چار دیواری میں محصور اور دنیا و مافیھا سے کٹ کر رہتے ہیں۔ ’’لا تجعلنّ اکثر شغلک بعیالک وولدک فان یکن اھلک وولدک اولیا ء اﷲ فانّ اﷲ لایضع اولیا ئہ وان …….‘‘(٥٢)زیادہ حصہ بیوی اور بچوں کی فکر میں مت رہوکہ اگر یہ اﷲ کے دوست ہیں تو اﷲ انہیںنہ برباد ہونے دے گا اور اگر اس کے دشمن ہیں توتم دشمن خدا کے بارے میں کیوں فکر مند ہو ۔ ٤) تجارت اور کاروبار میں اعتدال : جو لوگ کمانے اور مال جمع کرنے میں تھکتے نہیں ہیں اورکسب مال میں پوری عمر کو کھو دیتے ہیں،ان کے بارے میں فرماتے ہیں : ’’ یابن آدم ماکسبت فوق قوتک فانت فیہ خازنٌ لغیرک‘‘اے فرزندآدم ! تونے اپنی غذا سے زیادہ جوکمایا ہے اس میں دوسروں کا خزانچی ہے۔ یقینًا جو کچھ انسان کے مرنے کے بعد بچتاہے وہ دوسرے کی میراث بن جاتاہے کہ جسکو اس نے حاصل کیا تھا ۔(قصارالحکم٢٩١) ٥) پرہیز گار وںکا اعتدال:  (نامہ ٧٢/٣،٤) ’’واعلموا عباداﷲ انّ المتقین ذھبو ا لعاجل الدّنیا وآجل الاخرة فشارکوا اھل الدّنیا فی دنیا ھم ولم یشارکوااھل الدّنیا فی آخر تھم ‘‘(٦٢) خدا کے بندو ! تمہیں معلوم ہو نا چایۓ کہ پر ہیز گار وں نے جانے و الی دنیا اور آنے والی آخرت دونوں کے فائد ے اٹھاۓ وہ دنیا والوں کیساتھ ان کی دنیا میں شریک رہے مگر دنیا والے ان کی آخرت میں حصہ نہ لے سکے ۔ پر ہیز گار جہاں اپنے خالق کی یاد میں اپنا وقت صرف کرتے ہیں وہاں اپنے اور اھل وعیال کی معاشی ضروریات کو پورا کرنے کے لۓ کماتے بھی ہیں اس لۓ وہ دنیا والوںکے ان ساتھ دنیوی زندگی میں شریک ہےںلیکن چونکہ ان کے کاندھے پر دوسروں کے حق کا بو جھ نہیں ہو تا ہے اس لۓ دنیا والے ان کی اخروی زندگی میں حصہ دار نہیں بن سکتے ہیں ۔انہوں نے غیبت نہیں کی، تہمت نہیں لگائ ،چوری نہیں کی ہے تاکہ قیامت کے دن اس کا بدلہ نہ دینا پڑے۔ ٦) خوشی اور غم کے اظہار میں اعتدال : مولاۓ کائنات اعتدال کو یوں بیان فرماتے ہیں :(حکمت ٩٣٤ ) ’’الزّھد کلّہ بین کلمتین من القران قال اﷲ سبحانہ ’’لکیلا تاسو ا علی ما فاتکم ولا تفرحو ا بما اتاکم ‘‘و من لم یا س علی ماضی ولم یفرح بالاتی فقد اخذ الزّھد بطرفیہ‘‘زہد کی جامع تعریف قرآن کے صرف دوجملوں میں  ہے۔ خدا وند متعال کا ارشاد ہے ’’ جو چیز تمہارے ہاتھ سے نکل گئ ہے اس پر افسوس نہ کرواور جو چیز ملے اس پر مغرور نہ ہوپس جس نے گزری ہوئ چیز پر افسوس نہ کیا اور ملنے والی چیز پر غرور نہ کیااس نے سارازہد سمیٹ لیا ۔ لہٰذا ’’بطرفیہ‘‘ کے لفظ میں خوشی اور غم میں اعتدال برتنے کی تلقین کرتا ہے ۔پس زاہد اور معتدل انسان وہ ہے جو کسی چیز کے ہاتھ سے جانے پر افسوس کرنے کے بجاۓ سوچتا ہے اور کوتا ہیوں کو دور کر تا ہے اور کسی چیز کے ملنے پر غرور کا اظہار کرنے کے بجاۓ شکر ادا کر تا ہے ۔ ٧) لڑائ جھگڑے میں اعتدال : ’’من بالغ فی الخصو مة اثم ومن قصّر فیھا ظلم ولا یستیطع ان یتّقی اﷲ من خاصم ‘‘(٧٢) جو لڑائ جھگڑے میں حد سے آگے بڑ ھ جاتا ہے وہ گنہگار ہو تا اور جو کوتاہی کرتا ہے وہ اپنے نفس پر ظلم کر تا ہے اوراسی طرح جھگڑاکرنے والا تقویٰ کے راستے پر نہیں چل سکتا ہے ۔ایک اور روایت میں یوں فرمایا : ’’انّ للخصومة قحماً ‘‘(٨٢) لڑ ائ کے نتیجے میں قحم ہوتے ہیں ۔قحم سے مراد تباہیاں ہیں جو کہ لوگوں کو ہلاکت میں ڈالتی ہیں ۔ ٨) دوستی اور دشمنی میں اعتدال : مولاۓ کائنات  دوستی اور دشمنی میں اعتدال کو یوں بیان فرماتے ہیں ’’ احبب حبیبک ھو نًا ما ، عسیٰ ان یکون بغیضک یومًا ما ،وابغض بغیضک ھونًا ما عسیٰ ان یکون حبیبک یومًاما‘‘۔اپنے دوست سے ایک محدود حد میں دوستی کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک دن دشمن ہو جاۓ اور دشمن سے بھی ایک حد تک دشمنی کرو شاید ایک دن دوست بن جاۓ ۔(٩٢) امیر المومنین نامہ ١٣/٠٠١ میں فرماتے ہیں : ’’ لاتتّخذنّ عدوّصدیقک صدیقًا فتعادی صدیقک ‘‘ اپنے دوست کے دشمن کو دوست مت بنائو کہ جس سے دوست کو دشمن میں تبدیل کرو گے ۔نیز ١٠١،٢٠١میں فرماتے ہیں ’’ ولن لمن غالظک …..الی فانّہ احلی الظفرین‘‘ اور جو شخص تم سے سختی سے پیش آۓ اس کیساتھ نرمی سے پیش آؤ کیونکہ اس رویہ سے وہ خود ہی نرم پڑ جاۓ گا ۔(٠٣) یعنی دشمن کےلۓ اتنی جگہ دل میں باقی رکھو کہ اس میں تبدیلی آۓ تو اس کےلۓ گنجائش باقی ہو ۔ ٩) امام کیساتھ دوستی میں اعتدال :(خطبہ ٧٢١/٧)میںمو لاۓ کائنات  فرماتے ہیں :’’خیر النّاس فیّ حالًا النّط اراوسط فالزموہ‘‘ جو لوگ میرے بارے میں درمیانی راہ اختیار کریں گے وہی بہتر حالت میں ہوں گے کہ تم اسی راہ پر چلتے رہو ۔(١٣) نیز دوستی اور دشمنی میں افراط اور تفریط سے کام لینے والوں کی مذمت کرتے ہوۓ اسی خطبہ کا بندمیں فرمایا :  ’’وسیھلک فیّ صنفان محبٌّ مفرطٌ یذھب بہ الحب الیٰ غیر الحق و مبغض مفرط یذ ھب بہ البغض الیٰ غیر الحق ‘‘اور عنقریب میرے بارے میں دوطرح کے لوگ گمراہ ہوں گے : محبت میں غلو کرنے والے جنہیں محبت غیر حق کی طرف لے جائگی اور عداوت میں زیادتی کرنے والے جنہیں عداوت باطل کی طرف لے جائگی ۔(٢٣) حرف آخر نتیجہ : اعتدال کے بارے میں مولاۓ کائنات  کے اقوال سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ’’اعتدال ‘‘ انسانی زندگی میں سب سے زیادہ ثمر بخش اور مفید ہونے کیساتھ انتہای ضروری چیز ہے کیونکہ جہاں پوری کائنات کی بقاء میں اس کا کردار ایک مسّلمہ حقیقت ہے وہاں انسان کی زندگی میں مثبت اثرات کا سبب بھی اعتدال ہی ہے ۔افراط وتفریط کے نتیجے میں اگر انسان اضطراب ذہنی ،انزوا اورعملی میدان میں نقصان اورندامت و پشمانی کا شکار رہتا ہے تو اعتدال اور میانہ روی انسان کو سکون قلبی، اطمینان نفس سے سرشار کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ مولاۓ کا ئنات  عبادت ، معیشت ،کاروبار ،اخراجات اور دوسرے موارد میں حتیٰ امام کے ساتھ دوستی کے اظہار میں اعتدال سے کام لینے کی تلقین کرتے ہیں کیونکہ ممکن ہے کہ ایک کام فی ذاتہ اچھا ہو لیکن اگر اس میں افراط وتفریط سے کام لیا جاۓ تو انسان کو حق سے دور کر دیتا ہے جس کی واضح مثال امام کیساتھ دوستی میں افراط ہے۔ امیر المومنین  کے کلام کی روشنی میں اعتدال کےلۓ بیان کردہ فوائد کو سمجھ کر ہمیںاس پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہۓ ۔ آخر میں خدا وندمتعال وسے دعا گو ہوں کہ ہم سب کو راہ اعتدال اور حق کی ہدایت فرماۓ۔آمین حوالہ جات ١) لسان العرب ابن منظور جلد ٩ ص/٣٨۔٨٨  ٢) معجم مقاییس الغہ ص/٧١٨ ٣) فیروز الغات اردو ص/٠٩٣ ١ ٤) لغات الحدیث ج/٣ ص/٤١١    ٥) معجم الوسیط اردو ص/٦٩٦ ٦) منتخب میزان الحکمہ ص/٢٢٤ تبیہ الخواطر ج/١ ص/٧٦١ سے نقل کرتے ہوۓ ۔ ٧) ایضًا ‘ غررالحکم ص/٤٣٣ و٥٣٣سے نقل کرتے ہوۓ ٨)نہج البلاغہ علامہ ذیشان حیدر جوادی ص/٩٥٤ ٩) ترجمہ نہج البلاغہ مفتی جعفر حسین ص/٣١٦ ٠١) محاضرات فی الالٰہیات ،جعفر سبحانی  ص/ ١١)قران اور جدید سائنس ،ڈاکڑ ذاکر نائک ص/٤١     ٢١) تر جمہ نہج البلاغہ علامہ ذیشان حیدر جوادی ص/٣٣٤ ٣١) ترجمہ نہج البلاغہ مفتی جعفر حسین ص/٦٨٥ ٤١) ترجمہ نہج البلاغہ ،علامہ ذیشان حیدر جوادی ص/٣٣٤   ٢) مفتی جعفر حسینص/٦٨٥      

مزید  موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور ید بیضا

٥١)ترجمہ نہج البلاغہ ،علامہ ذیشان حیدر جوادی ص/٧٢٥ ٦١) امام علی وامور معنوی و عبادی ،محمد دشتی ص/٤٥ تحف العقول ص/١٩١سے نقل کرتے ہوۓ  ٧١) ترجمہ نہج البلاغہ ،علامہ ذیشان حیدر جوادی  ص/٣٣٣ ٨١)ایضًا ص/٧٨٧ ٩١) ترجمہ نہج البلاغہ ،علامہ ذیشان حیدر جوادی  ص/٣٩٦ ٠٢)ترجمہ نہج البلاغہ ،علامہ ذیشان حیدر جوادی  ص/٧٩٥ ١٢) ایضًاص/ ٣٠٥    ٢٢) ایضًا ص/ ٩٣٦ ٤) ایضًاص/ ٣٠٥ ٥) ایضًاص/ ٥٥٧ ا)ترجمہ نہج البلاغہ ،علامہ ذیشان حیدر جوادی  ص/٩٩٦ ٢) ایضًا ص/٣٩٧ ٣) ایضًا ص/١٣٧ ) ایضًا ص/٩٢٧ ٥ )  ترجمہ نہج البلاغہ مفتی جعفر حسین ص/٧٠٧ ا)ترجمہ نہج البلاغہ ،علامہ ذیشان حیدر جوادی  ص/٧٤٢ ٢) ایضًا ص/٤٧٢

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.