اطاعت میں توحید اور شرک

مومن جبکہ یقین کے ساتھ جانتاہو کہ پیدا کرنے والا اور رزق دینے والا اور مدبّر و مربی اپنا اور ساری مخلوقات کا صرف ایک ہے۔ اس کی الوہیّت اور ربوبیّت میں کوئی شریک نہیں۔ تو عقل اور ایمان کی رو سے خدائے واحد کے علاوہ اور کسی کی فرمانبرداری نہیں کرتا اور نہ حاکم تسلیم کرتا ہے اور فقط اسی کولازم الاطاعت جانتا ہے اور اپنے علاوہ دوسرے موجودات بھی اس کی قدرت و قوّت کے مقابل عاجز و ضعیف ہیں اور کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ تمام مخلوقات اپنی ذات کے لیے نفع حاصل کرنے پرقادرہیں۔نہ ضررکادفاع کرسکتی ہیں اورنہ موت وحیات اورحشرونشرکااختیار۔

لَایَمْلِکُوْنَ لِاَنْفُسِھِمْ نَفْعاً وَّلَا ضَرّاً وَّلاَ مَوْتاً وَّلَاحَیَاتاً وَّلَا نُشُوراً۔

کیونکہ ولایت یعنی مطلق سرپرستی واختیارکل اللہ ہی کیلئے مخصوص ہے ۔البتہ اگرخداخودکسی کو ولایت پرمتعین کرے اورمخلوق خداکے امورکامرجع ومرکزقرار دے تواس صورت میں وہ بھی لازماًواجب الاطاعت ہوگاکیونکہ وہ منصوب من اللہ ہے۔

اللہ کے پسندیدہ احکام

ولایت الٰہیہ کاسلسہ انبیاءِ کرام،ائمہ ہدیٰ (علیہم السلام) کے علاوہ زمانہٴ غیبتِ صغریٰ میں نواب خاصہ اورغیبتِ کبریٰ کے زمانے میں نواب عامّہ پرمنحصرہوتاہے۔جن کے بارے میں قرآنِ میں ہے:

مَنْ یُّطِع الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ (سورہ۴۔آیت۲۸)

“جس نے رسول کی فرمانبرداری کی حقیقت میں اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی۔”

اورارشادہے:

مَا اٰتاکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھَا کُمْ عَنْہُ فَاںْ نُتَھُوْا۔

(سورہ ۵۹۔آیت۷)

“جو تم کو رسول امر کریں اُسے لے لیا کرو اور جس سے منع کریں اس سے باز رہو۔ “

مزید ارشاد ہو تا ہے:

یٰاَ یُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اَطِیعُوْاللّٰہِ وَاَطِیْعُوالرَّسولَ وَاُوْلِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ (سورہ۴۔ آیت ۶۲)

“اے صاحبانِ ایمان ! خدا کی اطاعت کرو اور رسول کی اور تم میں سے جو صاحبان امر ہیں ، ان کی اطاعت کرو۔”

اولی الامر کون ہیں ؟

صاحبان امر کے بارے میں اہل سنّت والجماعت کے کئی اقوال ہیں۔ کہتے ہیں اس سے مراد حکام ہیں۔ یہ قول علم و حجّت اور دلیل سے خالی ہے۔ اگر حاکم ہو اورعدالت نہ ہو۔ اورحکم ِخداکوجاننے میں سب سے زیادہ ماہرنہ ہو،خواہشات نفسانی کامخالف نہ ہو،اپنے آقاکامطیع نہ ہووغیرہوغیرہ تواجتماعِ ضدین یانقیض لازم آتے ہیں۔دیگرباتیں ہمارے موضوع بحث سے خارج ہیں۔جیساکہ عمربن خطاب کاقول ہے:

مُتْعَتَانِ مُحلَّلتَانِ فِیْ عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ وَاَنَا اُحَرِّمُھُمَا۔

“دومتعہ(متعہٴ حج اور متعہٴ نساء) رسول خدا کے زمانے میں حلال تھے اور میں نے دونوں کو حرام قرار دیا۔”

پس جو کوئی ان کو اولی الامر جانتا ہے اسے چاہیئے کہ پیغمبر خدا کے حکم کے مطابق متعہ کو حلال جانے جیسا کہ خود اس نے اعتراف کیا۔ اور حرام بھی جان لیں جیسا کہ اس نے حکم دے دیا۔ جب موضوع ایک ہی اور اس کے متعلق دو مختلف حکم صادر ہوتے ہیں تو اجتماعِ ضدین یا نقیض لازم آتا ہے۔

حب علی حکم ِپیغمبر سے ہونی چاہیئے یا معاویہ کی نسبت سے؟

مثلاً معاویہ علی (علیہ السلام) کے ساتھ جنگ کرنا واجب جانتا تھا جبکہ حضرت رسول ِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے حرام قراردیا تھا ۔ جیسا کہ فرمایا: علی (علیہ السلام)سے لڑنا میرے ساتھ لڑنا ہے۔ اور معاویہ علی (علیہ السلام) سے بغض رکھنے کا حکم دیتا تھا جب کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے اُن کی دوستی واجب اور اللہ تعالیٰ نے حضرت علی (علیہ السلام) اور آلِ علی (علیہ السلام) کی مودت کو اجرِرسالت قرار دیا ہے۔ چنانچہ اس بارے میں قرآن شاہد ہے:

قُلْ لَا اَسْئلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْراً اِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِیْ الْقُرْبٰی (سورہ۴۲۔آیت۲۲)

“(اے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ)) تم کہہ دو کہ میں اس (تبلیغ ِ رسالت) کا اپنے قرابت داروں (اہل بیت) کی محبت کے سوا تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا۔”

اس صورت میں خدا اور رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی اطاعت کا لازمی نتیجہ محبت حضرت علی اور ان سے صلح و صفائی ہے اور معاویہ کو اولی الامر تسلیم کرنا حضرت علی (علیہ السلام) سے بغض رکھنے اور جنگ کرنے کے مترادف ہے۔ (اس صورت میں بھی اجتماع نقیض یا ضدین لازم آتا ہے۔)

اولی الامر ایک گروہ کے لیے مخصوص نہیں

اولی الامر کا منصب صرف امراء و حکام ہی کے لیے مخصوص سمجھنا آیہٴ مذکورہ کے خلاف ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ نے اولی الامر کی اطاعت کو اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کے بعد ذکر فرمایا یعنی اولی الامر کی اطاعت عین اطاعت ِ رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) ہے۔ اسی لیے اَطیعوااُولی الامر منکم نہیں فرمایا، بلکہ تیسری مرتبہ اطیعوا کی تکرار کرنے کی بجائے واو عطف استعمال کیا گیا ہے۔ بایں معنی کہ اطاعت اولی الامر عین اطاعت ِ رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) ہے۔ دونوں ایک ہیں۔ ان کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ حضرت رسول ِاعظم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے اوامر کی اطاعت سارے مکّلفین کے لیے عام ہے، کسی کے لیے مخصوص نہیں۔ اسی طرح تمام اوامر میں اولی الامر کی اطاعت بھی واجب ہے۔ عقلا ء کی نظر میں یہ درست نہیں بلکہ اولی الامر خود رسول کی طرح ہے اور ہر قسم کے سہو و خطا سے پاک و معصوم ہے تاکہ مکمل اطمینان سے ان کی پیروی اور اطاعت کر سکیں۔

کیا اولی الامر سے مراد علماء ہیں

مذکورہ مطالب سے بعض علمائے عامّہ کے قول کا بطلان واضح ہوتا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اولی الامر سے مراد علماء ہیں ۔ حالانکہ علماء معصوم نہیں ہوتے۔ سب جائز الخطا ہیں۔ یہی وجہ ہے علماء کے اقوال اور ان کی آرا ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ عصمت باطنی امر ہے اور لوگوں کی نظر سے پوشیدہ ہے۔ اس لیے اولی الامر کا تعین و انتخاب خدائے عالم الغیب اور اس کے پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ) (ہی) کی جانب سے ہونا چاہیئے۔

بارہ امام اولی الامر ہیں

بہت سی شیعہ اور سنی کتب کی معتبر روایات موجود ہیں۔ جن میں اولی الامر تعین کر کے “آئمہ ٴ اثنا عشر” میں منحصر کیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک مشہور روایت حوالے کے طور پر یہاں ذکر ہوتی ہے جو کہ خاص و عام دونوں کے نزدیک “متواتر” ہے۔

پیغمبر اولی الامر کا بیان فرماتے ہیں

جناب جابر ابن عبداللہ انصاری سے یہ روایت منقول ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے پوچھا کہ میں خدائے تعالیٰ اور رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو جانتا ہوں مگر اولی الامر کو نہیں جانتا۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا: اے جابر! اولی الامر میرے بعد میرے خلفاء اور مسلمانوں کے آئمہ ہیں۔ ان میں سے پہلے علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) ہیں۔ ان کے بعد حسن (علیہ السلام) ، ان کے بعد حسین (علیہ السلام) ، ان کے بعد ان کے فرزند علی بن الحسین (علیہ السلام) ، ان کے بعد محمد بن علی (علیہ السلام)،جن کا لقب توریت میں باقر ہے۔تمہاری ان سے ملاقات ہوگی تو ان کو میرا سلام کہنا، ان کے بعدجعفر (علیہ السلام)، ان کے بعد موسیٰ (علیہ السلام)، ان کے بعد علی (علیہ السلام)، ان کے بعد محمد (علیہ السلام)، ان کے بعد علی (علیہ السلام)، ان کے بعد حسن (علیہ السلام)، جب حجت ابن الحسن (علیہ السلام) کا نام لیا تو فرمایا، وہ میرا ہم نام ہوگا اور اس کی کنیت میری کنیت ہوگی۔ وہ اللہ کی طرف سے اس کے بندوں پر حجت اور بقیةاللہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اُسے مشرق اور مغرب کا فاتح قرار دے گا۔ وہ اپنے پیرووٴں کے درمیان سے اس طرح غائب ہوں گے کہ غیبت کا زمانہ طولانی ہو نے کی بنأ پر لوگ ان کے وجود کی تصدیق نہیں کریں گے، مگر ایسے مومن کہ جن کا دل اللہ تعالیٰ نے آزمایا ہو۔

جابر کہتے ہیں ، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! کیا شیعوں کو ان کی غیبت سے فائدہ ہوگا۔

فرمایا: جی ہاں۔ لوگ اس طرح فیض یاب ہوں گے جس طرح بادل کے پردے میں موجود سورج کی روشنی سے موجودات عالم بہرہ مند ہوتے ہیں۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل بیت اطہار (علیہم السلام) کی اطاعت بھی عین اطاعت خدا ہے(منقول از تفسیر منہج الصادقین)۔ اس کے علاوہ مزید معلومات کے خواہشمند کتاب غایةالمرام کی طرف رجوع کریں۔ اس کتاب کے باب ۵۹میں اہل سنت کی چار حدیث اور چودہ شیعہ احادیث نقل کی ہیں۔ اسی کتاب کے ایک سو چالیسویں باب امامت میں چار اہل سنت کی احادیث اور ۲۷ شیعہ احادیث منقول ہیں۔

عاد ل مجتہد کی اطاعت

اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ غیبت امام (علیہ السلام) کے زمانے میں جامع الشرائط فقیہہ کی اطاعت بھی واجب ہے۔ اسکی اطاعت عین اطاعت ِامام ہے۔کیونکہ وہ امام کی جانب سے منصوب ہے۔چنانچہ توقیع حضرت حجت عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف میں لکھاہواہے۔

اُنْظُرُوْا اِلٰی مَنْ کَانَ مِنْکُمْ قَدْ رَوَیْ حَدِیْثَنَا وَنَظَرَ فِیْ حَلَالِنَا وَحَرَامِنَا وَعَرَفَ اَحکَامَنَا فَارْضُوْابِہِ حَکَماًفَاِنّی قَدْ جَعَلْتُہُ عَلَیْکُمْ حَاکِماً فَاِذا حَکَمَ بِحُکْمِنَا فَلَمْ یَقْبِلْ مِنْہُ فَاِنَّمَا بِحُکْمِ اللّٰہِ اسْتَخَفَّ وَعَلَیْنَا رَدَّ۔ وَالرَّادُّ عَلَیْنَا کَالرَّادِّ عَلَی اللّٰہِ وَھُوَ عَلٰی حَدِّالشِّرکِ بِاللّٰہِ (کتاب کافی)

فکرونظرسے اس شخص کی طرف دیکھوجوتم میں سے (اثناعشری شیعہ اوراہل بیت (علیہم السلام)کی پیروی کرنے والاہو)جوہماری احادیث کوروایت ہے اورہمارے حلال وحرام دیکھتاہے۔اورہمارے احکام کووہ جانتاہے۔پس تم اسکے حکم پرراضی ہوجاو۔بے شک اس شخص کومیں تمہاراحاکم قراردیتاہوں ۔جب وہ ہمارے احکام کے بارے میں حکم صادرکرے تواسے قبول نہ کرنیوالایقینا حکم خدا کا استخفاف کرتاہے۔اورہلکاشمارکرکے اسکی تردید وانکار کرتا ہے۔ ہمارے احکام سے روگردانی شرک بااللہ کی حدہے۔

آزادفقیہ پیروی کے قابل ہے

فقیہ کے لیے شرط ہے کہ وہ دنیاکالالچی نہ ہو۔دنیوی شہرت وجاہ وجلال کاطالب نہ ہو۔اس کے دل میں باطل تعصب نہ ہو۔اس قسم کی صفات سے متصف فقیہ کی پیروی کرنی چاہیے اگرچہ کوئی دوسرااس سے زیادہ پرہیز گاربھی موجودہو۔چنانچہ اسی مضمون کی ایک حدیث عالم ربانی شیخ انصاری علیہ الرحمتہ نے کتاب احتجاج میں خبرواحدحجت ہونے کے بارے میں حضرت امام حسن عسکری (علیہ السلام) سے نقل کی ہے جس کی عبارت یہ ہے:

مَنْ کانَ مِنَ الْفُقَھَاءِ صَائِناً لِّنَفْسِہِ حَافِظاً لِّدِیْنِہِ مُخَالِفاً لِّھَوَاہُ مُطِیْعاً لِاّ مْرِ مَوْلَاہُ۔ فَلِلْعَوامِ اَنْ یُّقَلِّدُوْہُ

فقہا ء میں سے کوئی فقیہ ہونے کے علاوہ اپنے نفس کا نگران دین کا محافظ، خواہشات نفسانی کا مخالف اور ہر لحاظ سے اپنے مولا کا مطیع ہو تو ایسی صورت میں عوام کو اس کی پیروی کرنی چاہیئے ۔ اس کی اطاعت امام (علیہ السلام) کی فرمانبرداری کے مانند واجب ہے۔

والد ین کی اطاعت بھی اطاعت خدا ہے

والدین کی اطاعت ان لوگوں کے مانند ہے جن کی فرما ں برداری عین اطاعتِ خدا ہے ۔ اس لئے قرآن مجید میں ان کو تکلیف پہنچانا حرام قرار دیا ۔اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت کا ذکر کرنے کے بعد بلافاصلہ والدین سے احسان کرنے کا حکم فرمایا ہے :

وَقَضیٰ رَبُّکَ اَلاَّ تَعْبُدُوْا اِلاَّ ایَّاہ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَاناً اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرُ اَحَدُھُما اَوْکِلَاھُمَا فَلا تَقُلْ لَّھُمَا اُفٍّ وَّلَا تَنْھَرْ ھُمَا وَقُلْ لَّھُمَا قَوْلاً کَرِیْماً۔ وَاخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیَانِی صَغِیْراً (سورہ۱۷۔ آیت ۲۳۔ ۲۴)

اور تمہارے پروردگار نے حکم دیا کہ سوائے اس کے کسی دوسرے کی عبادت نہ کرنا ا و رماں باپ سے نیکی کرنا ۔اگر ان میں سے ایک یا دونوں تیرے سامنے بڑھاپے کو پہنچیں(اور تیری خدمت کے محتاج ہو جائیں ) تو خبردار ان کے جواب میں اف تک نہ کہنا (یعنی نفرت اور ناراضگی کا اظہار نہ کرنا ) اور نہ جھڑکنا اور (جو کچھ کہنا سننا ہو ) تو بہت ادب سے کہا کرو ۔اور ان کے سامنے نیازوادب اور خاکساری کا پہلو جھکائے رکھنا اور (ان کے حق میں )دعا کرو کہ اے میرے پالنے والے جس طرح ان دونوں نے بچپن میں میری پرورش کی ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما ۔

والد ین واجب سے منع اورحرام کاامرنہیں کرسکتے

ضمنًایہ بھی جانناضروری ہے کہ تمام اوامرونواہی میں مطلق طورپروالدین واجب الاطاعت نہیں ہیں بلکہ ان کی اطاعت مشروط ہے ،کہ وہ کسی حرام کاامرنہ کریں اورنہ واجب قطعی کی انجام دہی سے منع کریں۔اس صورت میں خدااوررسول کی اطاعت مقدم ہے۔چونکہ قرآن میں اس کے متعلق واضح بیان موجودہے:

وَوَصَیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حُسْناً ط وَاِنْ جَاھَدَاکَ لِتُشْرِکَ بِیْ مَالیس لَکَ بِہ عِلْمٌ فَلاَتُطِعْھُمَا (سورہ ۲۹ آیت۷)

ہم نے انسان کواپنے ماں باپ سے اچھابرتاوکرنے کاحکم دیاہے اور(یہ بھی کہاہے)کہ اگرتجھے تیرے ماں باپ اس بات پرمجبورکریں کہ ایسی چیزکومیراشریک بناکہ جن (کے شریک ہونے کا)تجھے علم تک نہیں تووالدین کی اطاعت نہ کرنا۔

ماں باپ کی اطاعت کاوجوب اس قدرمسلم ہے کہ اولادکی نافرمانی اورمخالفت سے والدین کی ناراضگی اورتکلیف کاسبب نہ بن جائے۔کیونکہ ان کوتکلیف دیناازروئے قرآن حرام ہے ۔اس لیے اگرماں باپ کسی کام کی انجام دہی کاحکم دیں یامنع کریں مگربچے ان کی مرضی کے خلاف کام کریں تولازمی طورپرناراض ہوں گے اورانھیں تکلیف پہنچے گی ۔اس صورت میں ان کی اطاعت واجب ہے اورمخالفت حرام۔

والدین کی مخالفت میں اذیت کی تفصیل

لیکن اس صورت میں جبکہ ماں باپ کسی چیز کاحکم دیتے ہیں یاممانعت کرتے ہیں مگراولادکی عدم تعمیل سے ان کوتکلیف نہیں ہوتی نہ ناراض ہوتے ہیں۔کیونکہ ان کی نظر میں وہ چیز اتنی اہم نہیں۔اس صورت میں مخالفت حرام نہیں۔مثلاًوالدین اپنے فرزندکوسفرپرجانے سے روکتے ہیں لیکن وہ پھربھی وہ سفرپرجائے توناراض نہیں ہوتے اس لیے سفرمباح ہے۔اس کے برخلاف اس کی مسافرت ماں باپ کیلئے اذیت کاسبب بنتی ہوتویہ سفرمعصیت ہے۔نمازپوری پڑھی جائے اورروزہ بھی رکھناچاہئے۔

شوہرسے بیوی کی اطاعت

جن افرادکی اطاعت بجالاناخدااوررسول کی اطاعت کے برابرسمجھاجاتاہے ان میں سے ایک شوہر کے حق میں بیوی کی اطاعت ہے ۔چنانچہ قرآن مجیدمیں ارشاد ہے:

الرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَبِمَا اَنْفَقُوْا من اَمْوَالِھِمْط فالصّٰلِحٰتُ قانِتاٰتٌ حَافِطَاتٌ لِلْغیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰہُط

مردوں کوعورتوں کے امورمیں قیام اورسرپرستی (کاحق)ہے۔ کیونکہ خدا نے بعض آدمیوں (مرد ) کو بعض آدمیوں (عورت ) پر فضیلت دی ہے ۔ (اس کے علاوہ ) مرد (عورتوں ) پر اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔ پس خوش نصیب بیبیاں تو (شوہروں کی) تابعداری کرتی ہیں ۔اور ان کے پس پشت جس طرح خدا نے حفاظت کا حکم دیا ہے(ہر چیز کی) حفاظت کرتی ہیں ۔

اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر فضیلت دی اور ان کا قیم (نگران و سرپرست) اس لئے بنایا کہ عورتوں کی نسبت مردوں کو اپنے فضل و کرم سے بہت کچھ عطا فرمایا ہے۔ جیسے عقل کی زیادتی ،حسن تدبیر ، جسمانی قوت اور سوچ سمجھ وغیرہ وغیرہ۔ اس کے علاوہ ان چیزوں کی وجہ سے جو عورتوں کو خوراک و پوشاک و قیام اور مہر وغیرہ بھی دیتے ہیں۔ پس صالحہ عورتیں شوہروں کے حقوق کی ادائیگی کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والی ہوتی ہیں اور شوہر کی غیر حاضری میں اپنی عفتّ وعصمت اور شوہرکے اموال اور غیر مرد سے) اپنے آپ کو محفوظ رکھتی ہیں ۔

اس کے علاوہ حضرت رسول ِاکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:

لَوْاَمَرْتُ اَحَداً اَنْ یَسْجُدَ لِاَحَدٍ لَاَمَرْتُ الْمَرْأةَ اَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِھَا (وسائل الشیعہ کتاب نکاح باب ۱۸۱)

“یہ جائز نہیں کہ بشر ایک دوسرے کو سجدہ کریں ۔ اگر جائز ہوتا تو میں سب سے پہلے بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔”

میاں بیوی کے امور میں تمکین واجب ہے

شوہر کی اطاعت بیوی پر لازم ہونے کے بارے میں بہت سی روایتیں ملتی ہیں لیکن خواتین کے لیے قابل توجّہ بات یہ ہے کہ تمام امور میں شوہر کی خوشنودی حاصل کرنا مستحب اور ان کے لیے بہترین عبادت ہے۔ لیکن تمکین یعنی ہم بستری کے بارے میں شوہر کی اطاعت کرنا فقہا کے نزدیک مسلّم واجب ہے اور گھر سے باہر جانے کے لیے بھی شوہر سے اجازت لینا واجب ہے۔ اگر چہ ماں باپ سے ملاقات یا ان کی عیادت کے لیے جانا ہو۔ اگر خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر جائے تو واپسی تک آسمان و زمین میں رہنے والے فرشتے اور رحمت و غضب کے ملائکہ اس پر لعن کرتے ہیں۔

مستحب اخراجات خاوند کی اجازت سے ہونے چاہیئیں

مستحب اخراجات میں بیوی کا شوہر سے اذن حاصل کرنا ضروری ہے اگر چہ وہ اپنے ذاتی مال ہی سے خرچ کیوں نہ کرے۔ اور بیوی کی نذر اسی شرط پر صحیح ہے کہ شوہر اُسے اجازت دے دے۔ البتہ واجبات مثلاً واجب حج و زکوٰة و خمس بلکہ قریبی رشتہ داروں اور ماں باپ سے نیکی کرنے کے بارے میں شوہر سے اذن لینا لازم نہیں بلکہ وہ منع بھی کرے پھر بھی شرعاً کوئی اثر مرتب نہیں ہوتا۔ اگر کوئی عورت اپنے پروردگار کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنے شوہر کی اطاعت بجا لائے اگرچہ وہ اعمال مستحب ہوں یا واجب ، یقینا اس نے خداوند عالم اور رسول اکرم کی پیروی کی ہے ۔ وہ بہترین عبادت بجا لائی ہے۔

ظالم حاکم کی طرف رجوع نہیں کرنا چاہیئے

جبکہ یہ معلوم ہوا کہ فقط خدا کی عبادت و اطاعت اور جس کو خدا معین کرے اس کی اطاعت واجب ہے چنانچہ پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور بارہ اماموں کی اطاعت ، نوابین امام اور بعض دوسرے افراد جن کی اطاعت شرع مقدّس کی اور احکام خدا کی تعلیم کے لیے ان کی طرف رجوع کرنا واجب ہے۔

مگر دعوے اور فیصلوں کے لیے حکام جور کی طرف رجوع کرنا اور عدالتوں میں حاضر ہونا یا ان کی درباری حمایت کرنا اسی طرح ناجائز ہے جیسا طاغوتی حکومت سے رجوع کرنا۔ ایسی عدالتوں کے ذریعہ جو کچھ لیتا ہے وہ (سُحت )اور حرام ہے اگرچہ وہ مال اس کا حق کے ساتھ ہو۔ چنانچہ حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام)نے ارشاد فرمایا ہے۔

مَنْ تَحَاکَمَ اِلَیْھِمْ فِیْ حَقٍ اَوْبَاطِلٍ فَانَّمَا تَحَاکَمَ اِلٰی الطَّاغُوْتِ وَمَا یَحْکُمُ لَہ فَاِنَّمَا یَاخُذُ مُحتاً وَاِنْ کَانَ حقّاً ثَابِتاً لَہ (وسائل الشیعہ کتاب قضاء باب۱۱)

“اگر کوئی حاکم جور کی عدالت میں دعویٰ دائر کرے اگرچہ اس کا دعویٰ حق پر مبنی ہو یا ناحق۔ بے شک اس قسم کے دعوے دار نے طاغوت (سرکش و معبود غیر خدا) کو اپنا قاضی و حاکم قرار دیا ہے۔ اور جو کچھ اس کے حکم سے لیتا ہے خالص سُحت (دین خدا کے خلاف اور حرام) ہے اگرچہ لی ہوئی چیز پر اس کا حق ہونا شرعاً ثابت ہو۔”

بالا ضافہ قرآن مجید حاکم جور کی طرف رجوع کرنے سے ممانعت کرتا ہے:

فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیءٍ فَرُدُّوْہُ اِلٰی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ (سورہ۴۔آیت۵۹)

“پس اگر تم کسی بات میں اختلاف کرو تو اس امر میں خدا و رسول کی طرف رجوع کرو(نہ کہ سرکشوں اور حاکم ظالم کی طرف)۔”

بے عمل عالم پیروی کے قابل نہیں

جس طرح حق بجانب ہوتے ہوئے حاکم جور کی طرف رجوع کرنے کی ممانعت ہے اسی طرح دینی احکام اور شرعی مسئلہ مسائل دریافت کرنے کے لیے مال دنیا اور جاہ و جلال کے طلبگار عالم بے عمل کی طرف رجوع کرنا ممنوع ہے۔ عالم دین کی شرائط کو “آزاد فقیہہ کی پیروی” کے عنوان میں پہلے بیان کیا جا چکا ہے۔ اگر کوئی عالم دین یا فقیہہ ان شرائط پر پورا نہیں اترتا تو اس کی پیروی کرنا جائز نہیں۔ ان کی طرف رجوع کرنا ممنوع قرار دیا ہے۔ اس بارے میں صرف دو روایات پیش کی جاتی ہیں۔

د نیا پرست علماء راہ خدا کے لٹیرے ہیں

حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے روایت ہے کہ:

اِذَارَاَیْتُمُ الْعَالِمَ مُحِباًّ لِّدُنْیَاہُ فَاتَّھِمُوْہُ عَلٰی دِیْنِکُمْ فَاِنَّ مُحِبَّ کُلِّ شیءٍ یَحُوْطُ بِما اَحَبَّ۔ وَاَوْحیٰ اللّٰہُ اِلٰی دَاوٴدَ لَاتَجْعَلَْ بَیْنِیْ وَبَیْنَکَ عَالِماً مَفْتُوْناً بِالدُّنْیَا فَیَصُدُّکَ عَنْ طَرِیْقِ مَحَبتِیْ۔ فَاِنَّ اُوْلٰئِکَ قُطَّاعُ طَرِیقِ عِبادِیَ الْمُرِیْدِیْنَ اِنَّ اَدْنیٰ مَا اَصْنَعُ بِھِمْ اَنْ اَنْزَعَ حَلاَوَةَ مُنَا جَاتِیْ مِنْ قلُوْبِھِمْ (اصول کافی)

“جب تم کسی دنیا دوست عالم کو دیکھو تو اس کو دین دار نہ سمجھو۔ بے شک جو شخص جس چیز سے محبت رکھتا ہے اس کی حالت اور طبیعت اپنے محبوب جیسی ہوتی ہے(یعنی جس کسی کو حب دنیا ہے ، اسے آخرت سے سروکار نہیں)۔ چنانچہ اللہ تبارک تعالیٰ نے حضرت داؤد علیٰ نبیّنا (علیہ السلام) پر وحی نازل فرمائی : اے داؤد ! میرے اور اپنے درمیان ایسے عالم کو واسطہ قرار نہ دو جو دنیا کی محبت میں مبتلا ہو۔ یہ تم کو میری محبت کے راستے سے روک دے گا(یعنی ایسا عالم تم کو بھی اپنے جیسا دنیا دوست بنائے گا)۔یقینا ایسے علماء میری بارگاہ تک آنے والے بندوں کا راستہ کاٹنے والے لُٹیرے ہیں۔ کم سے کم معاملہ جو ان کے ساتھ کر سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں اپنے ساتھ راز و نیاز کا شوق و شیرینی ان کے دلوں سے چھین لوں گا۔”

صرف اللّٰہ کے لیے فقیہ ہونا چاہیئے

عَن ابی جعفر (ع) مَنْ طَلَب الْعِلْمَ لِیُبَاھِیْ بِہِ الْعُلَمَاءَ اَوْیُمَارِسَ بِہِ السُّفَھَآءَ اَوْیَصْرِفَ بِہ وُجُوْہ النَّاسِ اِلَیْہِ فَلْیَتَبَوَّا مَقْعَدَہ مِنَ النَّارِ۔ اِنَّ الرِّیَاسَةَ لَاتُصْلِحُ اِلاَّ لِاَھْلِہِ (کافی)

“حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) سے روایت ہے کہ اگر کوئی علماء کے ساتھ فخر کرنے یا بے وقوفوں کے ساتھ جھگڑنے یا ریاست ملحوظ رکھ کر لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرنے کے لیے علم حاصل کرتا ہے تو اس نے اپنے ٹھہرنے کی جگہ کو آگ سے بھر دیا ہے۔ بلاشبہ ریاست (سرداری) الگ چیز ہے۔ وہ اس کے اہل کے لیے سزاوار ہے مگر اہل علم کے لیے نہیں۔”

عوام مقصّر ہیں

درحقیقت وہ تمام افراد جو کہ اہل بیت اطہار (علیہم السلام) اور ان کی جانب سے معین علمائے ربّانی سے جان بوجھ کر کنارہ کشی اختیار کرنے ہوئے خواہشات نفسانی پورا کرنے کی خاطر دوسروں کی طرف رجوع کرنے ہیں ایسے لوگ “مقصّر” (یعنی باوجود قدرت احکام اللہ ترک کرنے والے) ہیں،اور اس آیہ شریفہ کے مصداق ہیں:

اَفَرَاَیْتَ مَنْ اِتَّخَذَ اِلٰھَہ ھوٰہُ (سورہ جاثیہ آیہ ۲۳)

“تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی نفسانی خواہش کو معبود بنا رکھا۔”

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.