اسلام کي مخالفت اور ترويج

0 0

آج اسلام کا سورج اپني پوري آب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہے اور اسکي روشني سے شکست خوردہ مغرب کي آنکھيں چندھيا رہي ہيں، جس کي وجہ سے يہ اندھيرے کے چمگادڑ اللہ کے پيارے نبي (ص) کي شان ميں گستاخي کے مرتکب ہو رہے ہيں، ليکن ايمان کے متوالوں کي شان بھي بڑھتي جا رہي ہے اور اسلام کي روشني بھي تيزي سے پھيل رہي ہے- يورپ کے بہت سار

آج اسلام  کا سورج اپني پوري آب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہے اور اسکي روشني سے شکست خوردہ مغرب کي آنکھيں چندھيا رہي ہيں، جس کي وجہ سے يہ اندھيرے کے چمگادڑ اللہ کے پيارے نبي (ص) کي شان ميں گستاخي کے مرتکب ہو رہے ہيں، ليکن ايمان کے متوالوں کي شان بھي بڑھتي جا رہي ہے اور اسلام کي روشني بھي تيزي سے پھيل رہي ہے- يورپ  کے بہت سارے علاقوں ميں مساجد کي تعمير کو روکا جاتا ہے اور مساجد کے مناروں پر پابندي عائد ہے – بعض  يورپي ممالک ميں اسلامي ثقافت کو روکنے کے ليۓ قانون سازي بھي کي جا رہي ہے – غرض يہ کہ اسلام فوبيا کو عام کرنے کے ليۓ  اسلام مخلف قوّتوں نے ہر طرح کے  طريقے اپناۓ ہوۓ ہيں –   ان تمام پہلوۆں کے باوجود بھي يورپ کے وہ  ذي شعور لوگ جن کا نصيب اچھا ہوتا ہے وہ  اسلام کي طرف راغب ہو رہے ہيں – مغربي خواتين ميں اسلام   کي طرف بہت زيادہ رحجان پايا جاتا ہے –  مغرب کي عورتيں اسلام کي جانب کيوں مائل ہو رہي ہيں؟ يہ سوال يقيناً قابل غور ہے- نائن اليون کے تقريباً ڈھائي سال بعد بائيس فروري2004ء کو سنڈے ٹائمز نے ’’اسلامي برطانيہ ممتاز افراد کو متاثر کر رہا ہے‘‘ (Islamic Britain lures top people) کے عنوان سے شائع ہونے والي اپني ايک رپورٹ ميں بتايا کہ ’’مغربي اقدار سے غيرمطمئن اور مايوس ہونے کے بعد چودہ ہزارگورے برطانويوں نے اسلام قبول کرليا ہے اوربرطانيہ کے کئي چوٹي کے لينڈ لارڈز، سيلي بريٹيز اورحکومت کي ممتاز شخصيتوں کي اولاديں مسلم عقيدے کے سخت اصول اپنا چکي ہيں-‘‘

مزید  ولادت امام رضا علیہ السلام اور عشرہ کرامت کا حسن اختتام

اس کے باوجودمغرب ميں انتہائي بااثر قوتوں کي جانب سے اہل مغرب خصوصاً مغربي عورتوں کو اسلام سے متنفر کرنے کي منظم کوششيں عروج پر ہيں -افغانستان اور عراق پر حملے ميں امريکہ کے سب سے بڑے اتحادي سابق برطانوي وزير اعظم ٹوني بلير کي خواہر نسبتي لارن بوتھ (Lauren Booth) جيسي نماياں شخصيت سميت ہزاروں مغربي عورتيں دس سال کے اسي عرصے ميں دائرہ اسلام ميں داخل ہوئي ہيں-(انسٹي ٹيوٹ آف پاليسي اسٹڈيز اسلام آباد )خودفرماتي ہيں کہ ”‌ميں اسلام قبول کرنے کے ليے ہرگز سرگرم نہ تھي، نہ ہي ميں اسلام کا مطالعہ کر رہي تھي، بات دراصل يہ ہے کہ جب آپ ايک مسلم معاشرے ميں مسلمانوں کے درميان رہ کرايک طويل عرصے سے کام کر رہے ہوں تو لامحالہ ان سے روزمرہ کي گفتگو کے دوران اُن کے دين اور قرآن کے متعلق کچھ نہ کچھ معلومات حاصل ہوتي ہي رہتي ہيں، ميں يہ سمجھتي ہوں کہ ميں نے اتفاقاً مسلمانوں کے ساتھ رہتے ہوئے تھوڑا بہت قرآن کے بارے ميں جانا، اس دوران يہ بھي اندازہ ہوا کہ اگر آپ نے اسلام ميں دلچسپي ليتے ہوئے اسکے بارے ميں جاننے کي خواہش ظاہرکي تو مسلم اُمہ کي تمام تر محبت،يگانگت اور خلوص کو آپ يقينا محسوس کئے بنا نہ رہ سکيں گے“-

يورپ ميں اسلام کي اشاعت بڑي تيزي کے ساتھ جاري ہے اور اميد کي جا رہي ہے کہ وہ دن اب  دور نہيں جب تمام دنيا پر اسلام کا پرچم لہراۓ گا –

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.