اسلام میں جنگ کی کیفیت

0 0

اسلام میں انسان بلکہ تمام جانداروں کے سلسلے میں جو تجزیہ وتفسیر کی گئی ہے اور زندگی کی اھمیت کا جس طرح اسلام قائل ہے اسکی روشنی میں ا سلام میں موضوع جنگ ایک دلچسپ شکل اختیا ر کرلیتا ہے ۔ اس موضوع کو مزید واضح وروشن کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان بلکہ عام زندگی کے بارے میں اسلام کی تفسیر و تجزئے پر ایک نظر ڈالتے چلیں ۔ ھم جانتے ھیں کہ اسلام نے بغیر کسی علت کے ایک انسان کے قتل کو تمام نوع بشر کے قتل کے مرادف قرار دیا ہے ۔اس مقام پر اس کے علاوہ بھی چند نکتوں کی جانب اشارہ کیا جائے گا :

 (1)۔ ان تمام اوصاف حمید ہ سے قطع نظر کرتے ہوئے کہ جن کی بنا پر حضرت علی بن ابی طالب (ع) کو پیغمبر اسلام (ص) کے بعد اسلام کی اولین ردیف میں شمار کیا جاتا ہے ،بغیر کسی شک و شبہ کے پھلی ردیف کے مجاھدبھی ھیں۔تمام تاریخوں نے متفقہ طور پر لکھا ہے کہ آپ کو کسی ایک شخص یا دشمن کی پوری فوج کے مقابلے میں کبھی ڈر کر پیچہے ھٹتے ہوئے نھیں دیکھا گیا۔جنگ تبوک کے علاوہ اسلام کی تمام جنگی فتوحا ت آپ کی علمبرداری اور فداکاری کی بنیاد پرمعرض وجود میں آئی ھیں۔

اسلام کے اسی اولین ردیف کے جنگجو کا ارشادگرامی ہے:”واللّٰہ لو اعطیت الا قالیم السبعةبما تحت افلاکھا علی ان اعصی الله فی نملة اسلبھا جلب شعیرة ما فعلت۔“

(خدا کی قسم !اگرھفت اقلیم ان چیزوں سمیت جو آسمانوں کے نیچے ھیں مجہے دےدئے جائیں کہ صرف الله کی اتنی معصیت کروں کہ میں چیونٹی سے جو کا ایک چھلکا چھین لوںتو کبھی ایسا نہ کروں گا۔)

 اسلام نے علی (ع) کی اس طرح تر بیت کی ہے کہ ایک طرف آپ کے سامنے اس دنیا کی آخر ی قا بل تصور عظیم ترین منفعت (پوری دنیا کی مالکیت ) ہے اور دوسری طرف دنیا کی ضعیف تر ین مو جو د چیونٹی کے منہ سے ایک جو کا چھلکا چھیننا جو اس کا ئنا ت کا نا قا بل شمار اور بے ارزش ترین حادثہ ہے۔ علی (ع) دونوں کا مقا بلہ کر نے کے بعد اس چہو ٹی سی نا فر مانی کو اس لا محدو د لذت سے کھیں زیا دہ خوف ناک سمجھتے ھیں اور اس چہوٹی سی معصیت سے بچنے کے لئے اس عظیم منفعت کو ٹھکر اد یتے ھیں ۔یہ ہے اسلام کا مجا ھد ، اسے کھتے ھیں اسلام کے لئے تلوار چلانے والا، یہ وہ جنگجو ہے جو مفسد ین کے ساتھ بر سر پیکار ہے ، جنگ کر رھا ہے ، اسلام کے لئے میدان کا رزا ر میں کشتو ں کے پشتے لگا رھا ہے در حالیکہ چیونٹی جو ایک زندہ مو جود ہے ، کے منہ سے ایک جو کے چھلکے کو بھی ظلم وستم کے ساتھ چھیننا گوا رانھیں کرتاہے۔

(2) ۔ اخلاق انسانی کا جو سلو ک حضرت علی بن ابی طالب (ع) نے اپنے قا تل ابن ملجم کے ساتھ اختیار کیا ہے اس سے اندا ز ہ لگا یاجاسکتا ہے کہ اسلام میں شمشیر کشی کا مسئلہ زور آزمائی کے لئے نھیں تھا بلکہ اسکا اصل مقصد انسان سازی تھا ۔ آپ نے اپنے فرزندو ں سے فرمایاتھا کہ اگر ابن ملجم کو معاف کردو گے تو یہ تقویٰ سے زیا دہ نزدیک ہے ۔

(3)۔ حضرت رسول گرا می صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تمام جنگو ں کے مو قع پر عا م فر مان یہ ہوا کرتا تھا :” سیر وا با سم اللّٰہ وفی سبیل اللّٰہ وعلی ملةرسول اللّٰہ لا تغدرو اولا تغلو ا ولا تمثلو او لا تقطعو اشجر ة الا ان  تضطرو ا الیھا ولا تقتلو اشیخا فا تیا ولا صبیاولا امراة ولا متبتلا فی شاھق ولا تحر قو اا لنخل ولا تغر قو ابا لماء ولا تعقروامن البھا ئم مما یوٴ کل لحمہ الا مالا بد لکم “(خداکانام لیکر،اسکی مدد ،اسکی راہ میں پیغمبر خدا کی ملت پر آگے بڑہو ۔ جنگ کے موقع پر فریب نہ کرنا ، کسی کواسیر نہ کرنا ، مثلہ نہ کرنا ،کسی درخت کو مجبوری کے موقع کے علاوہ قطع نہ کرنا ،کسی چو پائے کو کہ جسکا گوشت قابل استفادہ ہو ،نہ مارناسوائے اس کے کہ کوئی دوسری راہ موجود نہ ہو ۔) یہ اسلام کاجنگ کے سلسلے میں محکم دستور ہے۔ یہ نکتہ قابل غور ہے کہ آپ فرماتے ھیں کہ خدا کے نام سے ،خداکی مددسے ،خداکی راہ میں، کسی مقام پر یہ نھیں کھا ہے کہ تلوار کے نام سے ،کامیابی کے را ہ میں ۔کبھی نھیں فرمایا کہ عرب کے نام سے ،عرب کے تعاون سے ،عرب کی سربلندی کے راستے میں۔ کھیں پر یہ ارشاد نھیں ہوا کہ حسب ونسب کہ نام پر ، نسلوں کے تعاون سے ،نسلوں کی کامیابی کے لئے وغیرہ غیرہ ۔

 آپ فرماتے ھیں کہ فریب دھی،قید و بند میں مبتلا کرنا ،مثلہ کرنا ممنوع ہے جب کہ معمولی انسانوں کے نزدیک یہ تمام چیزیں جنگ کا جز ء لاینفک ھیں صرف اتنا ھی نھیں کہ انسان کو شمشیر کی نوک پر رکھنے سے منع فرمایا ہے بلکہ حکم یہ ہے کہ بلاوجہ حیوانات کے لئے بھی مزاحمت ایجاد نہ کرنا ۔

ان تمام چیزیوں سے بڑالازم الاجراء حکم د یا جارھا ہے کہ کسی بھی درخت کو بغیر مجبوری کے قطع نہ کیا جا ئے۔

جھاد کے فقھی احکام میں سے ایک حکم یہ بھی ہے کہ دشمن کی کمین گاہ میں سم پاشی ممنوع ہے۔

(4)۔اگر کسی موقع پر کفارجنگ کے دوران عورتوں ،بچوں ،اوربوڑہوںکواپنی سپر بنالیں مثلاًاگر اسلامی لشکر کی صفوں کے سامنے لا کھڑا کریں تو ایسی حالت میں جنگ ممنوع ہوجائیگی،یھا ں تک کہ مفر و ضہ کیفیت ختم ہو جا ئے ۔ سوا ئے اسکے کہ فردی جنگ کے مو قع پر مذکورہ کیفیت کی رعا یت کی بنا پر شکست کھا نے کا خوف ہو ۔ ایسی صورت میں پو ری دقت وتو جہ کے ساتھ مذکورہ اشخاص کو کمتر ین تعداد میں قتل کر تے ہو ئے جنگ کو جا ری رکھا جائے گا۔

اگر مفر وضہ حالات میں کو ئی اسلامی سپاھی مذکورہ احکام کی رعایت نہ کر تے ہو ئے بو ڑہو ں ، بچو ں اور عورتو ں پر حملہ کر دے اور ان مستثنی افراد میں سے کسی کو قتل کر دے تو اگر یہ قتل عمد 1 ہو اہو تو اس سے قصاص لیا جائے گا نیز قتل عمد ی کا کفا ر ہ بھی اسے ادا کر نا ہو گا اور اگر یہ قتل غلطی سے سر زد ہو ا ہو تو مقتو ل کا فر کی دیت اس مسلمان کے مال سے لیکر مقتو ل کے ورثا ء کو دی جا ئے گی ۔(جوا ھر : کتاب جھاد ص/ 563)

(5) ۔ جنگ کو ظھر سے قبل شرو ع کر نا مکروہ ہے ۔ یحیی بن ابی العلا ء سے روا یت ہے کہ امیر المو منین (ع) بیان فر ماتے ھیں :” ظھر گز رنے کے بعد شب    قر یب ہو جا تی ہے جسکی بناپر خو نریز ی کم ہو جاتی ہے اسلئے جو میدان جنگ میں آنا چا ھتا ہے وہ تا ریکی پھیل جانے کی بنا پر نھیں پہو نچ سکے گا ۔ میدان جنگ سے فرار کر نے والے کے لئے بھا گنے کے امکانات زیادہ ھیں۔“ (سا بقہ حوالہ )

(6) ۔ جنگ کے آغاز کی لا زمی شر ط ، حقا ئق وا صول اسلام کو بیان کر نا ہے ۔ مسمع بن عبد الملک نے حضرت جعفر صادق (ع) سے نقل کیا ہے کہ امیر المو منین (ع) نے فرمایا :” پیغمبر اسلام (ص)نے مجہے یمن بھیجا اور حکم دیا کہ اسلام کے اصول وحقا ئق کو بیان کئے بغیر کسی سے جنگ نہ کروں“۔ پھر آپ نے فر مایا :” اے علی !اگر تمھارے ذریعے خدا وند عالم کسی کی ھدا یت فر مادے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم ان تمام موجودات کے مالک ہو جاوٴجن پر آفتاب طلوع وغروب کرتا ہے ۔“

 ضروری ہے کہ قبل از جنگ، کفار کے لئے واضح کردیا جا ئے کہ ھمارا مقصد دنیا وی مال ومنال اور حکومت وسلطنت نھیں ہے ۔لھذا اگر ایک اسلامی سپاھی دعوت سے قبل کسی ایک کا فر کو قتل کردے تو اسکو مجرم سمجھا جائے گا حتی کہ بعض فقھاء کا نظر یہ یہ ہے کے اسلامی سپاھی اس کا فر کے خون کا ذمہ دار ہے ۔مذکورہ بالاشرائط کے ملا حظے کے بعد اس حقیقت کو قبول کرنا بہت آسان ہے کہ پیغمبر اسلام(ص) اپنے آخری ایام میں ایک وسیع وعریض سرزمین جسکی مقدار تمام یو روپ کے مساوی ہے، پر حکمرانی کررہے تہے اور اس وقت لاکہوں افراد اس سرزمین پر زندگی بسر کررہے تہے۔دشمن کے صرف 150 / افراد کے جانی نقصان کے بعد یہ علاقہ فتح ہو اتھا (بہ استثنائے مقتولین یہود بنی قریضہ کہ یہ لوگ اپنی سرکشی کی بنیاد پر قتل ہوئے تہے)۔مسلمانوں کے جانی نقصان کا تخمینہ دس سال کی مدت کے دوران ایک فرد ماھانہ کے حساب سے لگایا جاسکتا ہے ۔ 120/مسلمان اور 150/ کافر کل ملاکر270/ افراد قتل ہوے ھیں اور پورے یوروپ کے مساوی سرزمین پر حکومت اسلامی قائم ہوئی ہے اور اسکے باشندوں نے اسلام قبول کیا ہے۔( رسول اکرم(ص) در میدان جنگ : ص/12)

(7) ۔جنگوں میں نہ صرف مسلمانوں کے لئے روا نھیں ہے کہ پیمان شکنی کریں بلکہ اگر کفار کے دو گروہ بر سر پیکار ہوں اور پھر صلح اور آپس میں عھد وپیمان کرلیں، اس کے بعد ان دونوں گروہوں میں سے کوئی اپنے دشمن کے خلاف مسلمانوں کے ساتھ عھد وپیمان کرناچاہے تو یہ پیمان اسلام کی نظر میں ممنوع ہے۔کتاب جواھر ،باب جھادص /625 پرروایت ذکر ہوئی ہے کہ طلحہ بن زید حضرت امام صادق (ع) سے نقل کرتے ھیں : ” کفار حربی میں سے دو گروہوں نے باھم جنگ کی اور پھر صلح کرلی ۔پھران دونوں بادشاہوں میں سے ایک نے اپنے دشمن کو دہوکا دیتے ہوئے مسلمانوںکے ساتھ اس دوسرے بادشاہ سے جنگ کے سلسلے میں پیمان کرلیا ۔ آیا یہ مصا لحت اور پیمان جائز ہے ؟“ آنحضرت نے فرمایا :” مسلمان فریب دھی نھیں کرسکتا ہے ، نہ فریب وحیلہ کا حکم دے دسکتاہے اور نہ فریب کاروںاور حیلہ گروں کا ساتھ دے سکتا ہے۔مسلمان صرف مشرکین سے جنگ کر سکتے ھیں لیکن ان کفار کا ساتھ نھیں دے سکتے جنہوں نے باھم جنگ نہ کرنے کا پیمان کرلیا ہو۔“

مزید  قرآن کریم میں قَسَم کی اقسام
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.