اسلام مخالف فلم کے پس پردہ حقائق

گذشتہ چند سالوں سے يورپ اور خاص طور پر امريکہ کے نشرياتي اداروں کي طرف سے ” اسلام فوبيا ” کو مسلسل بڑھا چڑھا کر بيان کيا گيا ہے ليکن بات يہيں پر ختم نہيں ہوئي اور اس گھنا‌ۆنے فعل کو انہوں نے مزيد ترقي دے کر ” اسلام کے خلاف محاذ آرائي ” کي شکل دے دي ہے – نائن اليون کے واقعہ کو القاعدہ سے منسوب کرکے ميڈيا ميں سياسي اور معاشرتي طور پر مسلمانوں کو مختلف طرح سے تضحيک کا نشانہ بنايا گيا اور غير مسلم معاشرہ کے افراد کے سامنے اسلام کي بہت ہي غلط رنگ ميں تصوير کشي کي گئي – اب نوبت يہاں تک آن پہنچي ہے کہ نہ صرف مسلمانوں کو نشانہ بنايا جا رہا ہے بلکہ خود اسلام کے خلاف بھي اعلانيہ طور پر مہم جوئي کا آغاز کر ديا گيا ہے – گذشتہ چند سالوں سے جہاں ہالي وڈ اور بعض ديگر غير مسلم ممالک کي فلموں ميں مسلمانوں کو دہشتگرد ، پسماندہ، جاہل ، ظالم اور تخريب کار کے روپ ميں دکھايا جاتا رہا ہے وہيں اب اسلام کے بنيادي اصولوں اور تعليمات کو خراب کرکے پيش کرنے کي کوشش کي جا رہي ہے – يورپ ميں اسرائيل کے وجود اور ھولوکاسٹ کے متعلق کسي کو بھي بات کرنے کي اجازت نہيں ہے اور ايسا کرنے والے کے خلاف قانوني طور پر بڑي سختي برتي جاتي ہے مگر بڑے افسوس کي بات ہے کہ اسي يورپي معاشرے ميں آزادي صحافت اور آزادي بيان کے نام پر اسلام کي مقدس ہستيوں ، کتب اور ثقافت کي توہين کي جاتي ہے – رحمت اللعالمين ، سرکار دوجہاں ، پيغمبر اسلام حضرت محمد صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے کارٹون بناۓ گۓ ، آخري مقدس کتاب قرآن مجيد کو جلايا گيا اور مقدس ہستيوں کي توہين کي گئي اور اب رسول پاک صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اور اسلام کے خلاف توہين آميز فلم بنائي گئي ہے – يہ سب چيزيں يورپي معاشرہ کي انتہاپسندي اور اسلام کے خلاف محاذ آرائي کو ظاہر کرتي ہيں –

کسي بھي مسلمان کے ليۓ نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي ذات اپني جان،مال اور اولاد سے عزيز تر ہے – اس ليۓ نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي شان ميں گستاخي کسي بھي مسلمان کے ليۓ ناقابل قبول ہے – اسلامي ممالک ميں اس توہين آميز فلم کے خلاف شديد ردعمل سامنے آيا ہے اور دنيا بھر کے مسلمانوں کے جذبات اس گھناۆني حرکت سے مجروح ہوۓ ہيں – اب سوال يہ پيدا ہوتا ہے کہ اس فلم کو بنانے والے کون لوگ ہيں ؟ اس فلم کو کس مقصد کے ليۓ بنايا گيا اور اس کام کي حمايت اور پشت پناہي کن لوگوں نے کي ؟ ہم اپني اس تحرير ميں ان سوالات کے جوابات ديں گے – نائن اليون کے واقعہ کي سالگرہ کے موقع پر ٹيري جونز کشيش ھٹاک اور سفيھي کے توسط سے اس فلم کي نمائش ہوئي – يہ وہي لوگ ہيں جو گذشتہ سال قرآن جلانے کے واقعات ميں بھي ملوّث تھے – 

اس فلم کا نام ‘مسلمانوں کي معصوميت‘ ہے اور اس کے منظر عام پر آنے کے بعد پورے عالم اسلام ميں غم و غصّہ پايا جاتا ہے – اس فلم کے مصنف اور ہدايت کار کا نام ” سيم بيسائل ” ہے جو ايک اسرائيلي نژاد يہودي امريکي ہے – اس کي عمر پـچاس سے ساٹھ سال کے درميان ہے اور اس نے اس واہيات فلم کو بنانے کے ليۓ يہوديوں سے کئي ميلين ڈالر بطور عطيہ بھي وصول کيے – اس کام ميں چند دوسرے لوگوں نے بھي “سيم بسائل ” کا ساتھ ديا – دائيں بازو سے تعلق رکھنے والے سٹيو کلائن نامي ايک امريکي جنہوں نے فلم کي تشہير کي – مورس صادق جو اسلام مخالف نيشنل امريکن کاپٹک اسمبلي سے تعلق رکھتا ہے اور مصري نژاد امريکي ہے –

کيلي فورنيا سے تعلق رکھنے والي اداکارہ سنڈي لي گارسيا نے ايک ويب سائٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کا فلم ميں ايک چھوٹا سا کردار تھا اور اسے کہا گيا تھا کہ فلم کا نام ‘صحرائي جنگجو‘ ہو گا اور يہ دو ہزار سال قبل کے مصر کے بارے ميں ہو گي –

اس فلم کے آغاز ميں يہ دکھايا گيا ہے کہ اسلامي رحجان رکھنے والے سخت گير افراد ايک قبطي ڈاکٹر کے ميڈيکل اسٹور پر حملہ کرتے ہيں اور يہ بڑي داڑھيوں والے افراد اس بزدلانہ حملے کے دوران قبطي ڈاکٹر کي بيوي پر حملہ آور ہونے کے ساتھ اس کے اسٹور کو بري طرح نقصان پہنچاتے ہيں – اس موقع پر فلم ميں پوليس کو خاموش تماشائي کے طور پر دکھايا گيا ہے جو اس سارے واقعہ کو ديکھ رہي ہوتي ہے مگر حملہ آوروں کو اس کام سے نہيں روکتي ہے – ياد رہے کہ قبطي ايک اقليتي مسيحي فرقہ ہے جو مصر ميں آباد ہے –

اس حصے کے بعد فلم کو نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي زندگي اور اسلام کے ابتدائي اياّم کي طرف لے جايا جاتا ہے جس ميں بيہودہ قسم کے مناظر دکھاۓ گۓ کہ جنہيں بيان کرنے سے ہم قاصر ہيں – اس کے علاوہ ان مناظر ميں نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي توہين کي گئي ، مذھب اسلام کو ايک ” سرطان ” يعني کينسر کے طور پر پيش کيا گيا اور مسلمانوں کو ظالم ، وحشي ، پسماندہ اور قتل و غارت گري کرنے والوں کے روپ ميں پيش کيا گيا –

ميڈيا ميں آنے والي مزيد وضاحت ميں يہ بات بھي سامنے آئي ہے کہ اس فلم ميں نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي توہين کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو شکنجہ گر کے طور پر متعارف کروايا گيا ہے اور فلم کے ايک منظر ميں يہ دکھايا گيا ہے کہ مسلمانوں نے ايک نہايت ہي نحيف اور کمزور عورت کو بڑے عجيب انداز ميں شکنجوں ميں جکڑ رکھا ہے – حقيقت يہ ہے کہ اسلامي تاريخ ميں ايسا کوئي بھي واقعہ نہيں ملتا کہ جس ميں عورت کو شکنجوں ميں جکڑا گيا ہو يا عورت ذات کي اس انداز ميں تذليل کي گئي ہو –

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.