اسلام سے قبل جہالت کي حکمراني تھي

0 0

اسلام کي آمد سے قبل انساني معاشرہ بہت بھيانک تصوير پيش کر رہا تھا – دنيا ميں جہالت اور ضلالت کي حکمراني تھي اور ہر طرف سرکشي اور بغاوت کا سکہ رواں تھا – معاشرتي اقدار تباہ و برباد ہو گئيں تھيں اور خانہ کعبہ کو بتوں سے بھر ديا گيا تھا – دين ابراہيمي کا چہرہ مسخ ہو چکا تھا- شرک کي سياہ چادر نے ذہن انساني کو اپني لپيٹ ميں لے رکھا تھا، شيطانيت رقص کناں تھي، دجل، فريب، جھوٹ اور منافقت پر مبني انفرادي طرز عمل اور اجتماعي رويوں نے شرف انساني کي بحالي کي ہر

اسلام کي آمد سے قبل انساني معاشرہ بہت بھيانک تصوير پيش کر رہا تھا –  دنيا ميں جہالت اور ضلالت کي حکمراني تھي  اور ہر طرف سرکشي اور بغاوت کا سکہ رواں تھا –  معاشرتي اقدار تباہ و برباد ہو گئيں تھيں اور خانہ کعبہ کو بتوں سے بھر ديا گيا تھا – دين ابراہيمي کا چہرہ مسخ ہو چکا تھا- شرک کي سياہ چادر نے ذہن انساني کو اپني لپيٹ ميں لے رکھا تھا، شيطانيت رقص کناں تھي، دجل، فريب، جھوٹ اور منافقت پر مبني انفرادي طرز عمل اور اجتماعي رويوں نے شرف انساني کي بحالي کي ہر خواہش کو سينے ميں دفن کر رکھا تھا، قدم قدم پر انا کي ديواريں اٹھائي جا رہي تھيں، غرور و تکبر اور نسلي تفاخر سے سماجي حيثيت کا تعين ہوتا تھا- دختر حواء کے برہنہ سر پر دست شفقت رکھنے والا کوئي نہ تھا- وہ سسک رہي تھي، بلک رہي تھي ليکن کوئي اس کا پر سان حال نہ تھا، لڑ کيوں کو پيدا ہوتے ہي زندہ درگور کر ديا جاتا تاکہ چھوٹي شان کي آگ ميں جلنے والوں کاوقار مجروح نہ ہو جائے، عدل، انصاف اور مساوات کے الفاظ اپنا مفہوم کھو چکے تھے، فصيل ديدہ و دل پر چراغ جلتے تھے، مگر ان ميں روشني نہ تھي، جزيرہ نما عرب ہي نہيں پوري دنيا گمراہي اور کفر و شرک کے قعر مذلت ميں گري ہوئي تھي، قيصر و کسري کي حکومتيں جبر کي علامت بن کر نسل آدم پر مسلط تھيں، اس حواس باختہ اور بے ہنگم معاشرے ميں جمہوري شعور، انساني حقوق اور کسي ضابطہ اخلاق کا تصور بھي نہيں کيا جا سکتا تھا جاہلي اور قبائلي رسم و رواج کي زنجيروں ميں جکڑا ہو معاشرہ اپنے افراد کے گرد جہالت اور گمراہي کے حصار کو تنگ سے تنگ کرتا جا رہاتھا، انسان اس معاشرتي جبر کے ہاتھوں اندر سے ريزہ ريزہ ہو چکا تھا، ليکن حالات سے سمجھو تہ کرنے کے سوا اسے کوئي تدبير نہيں سوجھ رہي تھي-

مزید  قرآن اور سنت ميں وعدوں کي سچائي

طلوع اسلام سے قبل عرب مختلف مذاہب اور خود ساختہ اقدار کو سينے سے لگائے ہو ئے تھے- کہيں بت پرستي ہو رہي تھي اور کہيں آتش پرستي سے سکون قلب کا سامان مہيا کيا جا رہا تھا- کہيں سورج کي پرستش ہو رہي تھي اور کہيں انسان جسے اشرف المخلوقات بنايا گيا تھا ستاروں کے آگے سر بسجود تھا، خانہ کعبہ اصنام پرستيس کا مرکز تھا، جہاں تين سو ساٹھ بت رکھے گئے تھے ہر قبيلے کا الگ بت تھا- ہبل، لات، منات، عزي، نائلہ يعوق اور نسر زيادہ مشہور بت تھے جن کے آگے سجدہ کيا جاتا اور دعائيں مانگي جاتي تھيں انہيں اپنا ملجا ومأوي سمجھا جاتا تھا، پتھر کے ان بے جان ٹکڑوں کو أپنا حاجت روا ٹھہرايا جاتا بت پرستي نے توہم پرستي کو جنم ديا فطرت کي ہر ايک چيز، پتھر، درخت، چاند، سورج ، پہاڑ، دريا وغيرہ کو فورا اپنا معبود بنا ليتے تھے اس طرح خدائے حقيقي کي عظمت و جلالت کو فراموش کر دينے کے ساتھ ساتھ اپني قدرو قيمت کو بھي بھول چکے تھے- انساني وقار خود انسان نے أپنے پاۆں تلے روند ديا تھا-

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.