اسلام اور جدید سائنس

0 0

سِول انجینئرنگ (Civil engineering)

مسلمان جس خطۂ ارضی میں بھی حکمران ہوئے وہاں کے تہذیب و تمدن کے ارتقاء اور اُس میں اسلامی روایات کے فروغ کے علاوہ تعمیرات کی صورت میں بھی انہوں نے وہاں اَنمٹ نقوش چھوڑے۔ اِسلامی سپین کے مسلمان حکمران بھی تعمیرات کا نہایت عمدہ ذوق رکھتے تھے۔ اندلس میں اُنہوں نے بہت سی باقیات چھوڑیں۔ اُن کی تعمیرات میں عمارات، شاہراہیں اور دریاؤں پر بنائے گئے پل شامل ہیں، جو سپین کے انجینئروں کی ماہرانہ کاریگری کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ سِول انجینئرنگ کے ذیل میں اسلامی سپین بہت آگے تھا۔ یہاں ہم تفصیل میں جائے بغیر چند اہم عمارات کا ذکر کرتے ہیں تاکہ قارئین پر سپین کے اسلامی دور کا یہ نقشہ بھی واضح ہو سکے:

مسجدِ قرطبہ

قرطبہ کی عظیم جامع مسجد جس کا سنگِ بنیاد عبدالرحمن سوُم نے اپنی وفات سے دو برس پہلے 959ء میں رکھا تھا، بعد کے خلفاء نے اُسے مزید وسعت دی اور وہ تاریخِ اِسلام کی عظیمُ الشان مساجد میں سے ایک ٹھہری۔ وہ ایک مستطیل شکل کی مسجد ہے جس کی دیواریں بڑے قیمتی اور نفیس پتھروں سے بنی ہیں۔ اُس کے مینار 70 فٹ بلند بنائے گئے۔ مسجد میں4,700 فانوس روشن ہوتے جن کے لئے سالانہ 24,000پاؤنڈ زیتون کا تیل اِستعمال ہوتا تھا۔ مسجد کے ستونوں کی کل تعداد1,390 ہے جو اعلیٰ کوالٹی کے دیدہ زیب ماربلز سے تعمیر کئے گئے تھے۔ ستونوں کے اُوپری حصہ میں دُہری محرابیں بنا کر اُن کے حسن کو مزید اُجاگر کیا گیا ہے، جو تمام عالمِ اِسلام میں اپنی نوعیت کا انوکھا کام ہے۔ مسجد کی تعمیر میں اِسلامی شان و شوکت اور اِستقامت دیدنی ہے۔ آٹھویں صدی عیسوی میں قرطبہ کے اندر ایسی حسین و جمیل اور مضبوط عمارت کا وُجود حیرت انگیز بات ہے، جبکہ اُس دوران میں دُنیا میں عام طور پر انجینئرز میں اِتنی قابلیت بھی نہیں پائی جاتی تھی۔ مسجد کی تعمیر میں کاشی کاری کا کام اپنی نفاست اور دیدہ زیب رنگوں کے حسین اِمتزاج سے اِنتہائی خوبصورت شکل اِختیار کر گیا ہے، جسے دیکھ کر آج بھی اِنسان کی آنکھیں خیرہ ہوتی ہیں۔

ایک انگریز مؤرخ نے اُس مسجد کے بارے میں یہاں تک لکھا ہے کہ:

Whatever the human eye has witnessed this is the most charming of them all, and its craftsmanship and splendour are not to be found in any of the ancient or modern monuments.

ترجمہ: “یہ اِنسانی آنکھ کے سامنے سے گزرنے والے تمام مناظر میں سے سب سے زیادہ دِلکش منظر ہے اور اس کی مہارت اور عظمت قدیم یا جدید عمارات میں کہیں نہیں ملتی۔”

علامہ اقبال نے مسجدِ قرطبہ پر بالِ جبریل میں ایک طویل نظم لکھی، جو اندلس میں مسلمانوں کے عروج و زوال میں مخفی اَسرار سے پردہ سرکاتی نظر آتی ہے اور دورِ حاضر کے مسلمان کو ایک عظیم اِنقلاب کا درس دیتی ہے۔ اُس طویل نظم میں مسجدِ قرطبہ کی تعریف میں کہے گئے چند اَشعار یوں ہیں:

تیرا جلال و جمال، مردِ خدا کی دلیل

وہ بھی جلیل و جمیل، تو بھی جلیل و جمیل

تیری بناء پائیدار، تیرے ستوں بے شمار

شام کے صحرا میں ہو جیسے ہجومِ نخیل

مزید  صحیفہ سجادیہ یا زبور آل محمد (ص)

تیرے دَر و بام پر وادئ اَیمن کا نور

تیرا منارِ بلند جلوہ گہِ جبرئیل

مٹ نہیں سکتا کبھی مردِ مسلماں، کہ ہے

اُس کی اَذانوں سے فاش سرِ کلیم و خلیل

قصرُ الزہراء

قرطبہ سے 400 میل مغرب کی طرف ’عبدالرحمن سوم‘ نے ایک محل ’قصرالزہراء‘ تعمیر کروایا، جو اُس کی ایک بیوی ’الزہراء‘ کے نام سے موسوم تھا۔ بعد اَزاں اُس محل کے اِردگرد ’مدینۃُ الزہراء‘ نامی شہر آباد ہو گیا۔ قصر الزہراء ایک ایسی عظیم الشان عمارت تھی جس کا مقابلہ عظیم تاریخی عمارات میں کسی کے ساتھ بھی کیا جا سکتا ہے۔اُس کے در و دیوار منقّش تھے اور اُن میں جگہ کی مناسبت سے تصاویر بھی کندہ کی گئی تھیں جو اندلس میں اِسلامی فنِ مصوّری کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ’قصر الزہراء‘ کی تعمیر کے لئے بغداد اور قسطنطنیہ جیسے دُور دراز ممالک سے انجینئروں اور کاریگروں کو بلایا گیا تھا جنہوں نے اپنی کمالِ صناعی سے عمارت کو وہ حسنِ دوام بخشا کہ وہ رشکِ خلائق ہو گئی۔ پانی کی بہم رسانی کے لئے بُعدِ مسافت پر واقع پہاڑوں سے نہر کاٹ کر لائی گئی تھی جس سے نہ صرف محل کے حوض اور فوّاروں کو پانی میسر آتا بلکہ مقامی آبادی کے پینے کے لئے بھی کافی ہوتا۔ ’قصر الزہراء‘ کو ’دارالروضہ‘ کا نام بھی دیا گیا جو اندلس میں اِسلام کی تہذیبی روایات کا امین تھا۔

(تاریخ ابن خلدون، 4:172)

’قصر الزہراء‘ کے دروازے پر عبدالرحمن سوم کی محبوب بیوی ’زہراء‘ کی تصویر نقش کی گئی، جس کے نام پر اُس کا نام ’قصر الزہراء‘ پڑ گیا۔

(دولۃُ الاسلام فی الاندلس، 4:510)

یہ عجوبۂ روزگار اِس قدر عظیم فن کا آئینہ دار تھا کہ ایک ترکی مؤرّخ ’ضیاء پاشا‘ بیان کرتا ہے:

This palace is such a wonder of the world that a concept of the design of this type could not occur to any human being from the dawn of creation to this day and human intellect has through the ages failed to produce a parallel or even approaching it in beauty of design.

(Dr. Mustafa Siba’, Some Glittering Aspects of the Islamic Civilization)

ترجمہ: “یہ محل دُنیا کا ایک ایسا عجوبہ ہے کہ اُس کی ساخت کا تصوّر روزِ اوّل سے لے کر آج تک کسی اِنسان کے بس میں نہیں۔ اِنسانی شعور کئی اَدوار سے اُس جیسی یا جمالیاتی ساخت میں اُس کے قریب قریب بھی کوئی مثال پیدا کرنے سے قاصر رہا ہے”۔

’دریائے وادیٔ کبیر‘ (Guadalimar River) کے کنارے تعمیر ہونے والے ’قصر الزہراء‘ کو صحیح معنوں میں سپین کا تاج کہا جا سکتا ہے۔ اُس محل میں کل 400 کمرے تعمیر کئے گئے۔ تعمیر میں اِستعمال ہونے والا بہت سا تعمیراتی سامان جس میں سنہری ستون اور دیگر سامانِ آرائش شامل ہے، ’قسطنطنیہ‘ سے منگوایا گیا تھا۔ سنگِ مر مر کا بڑا ذخیرہ ہمسایہ مسلمان افریقی ریاست ’مراکش‘ سے درآمد کیا گیا تھا۔ بعض تاریخی رِوایات کے مطابق اُس محل کی تعمیر10,000 مزدوروں کی محنت سے صرف 4 سال کی مختصر مدّت میں تکمیل پذیر ہوئی۔ ’قصر الزہراء‘ صنعتِ تعمیر کا عظیم شاہکار تھا جس کا گنبد 4,613 سنہری ستونوں پر قائم تھا۔ محل میں صاف شفاف پانی کی چھوٹی چھوٹی نہریں ہر طرف رواں رہتیں جو اُس کے حسن کو اور بھی دوچند کئے دیتیں۔ اُس کی دیواروں پر نقّاشی کے نمونوں میں سنگِ مرمر، سونے اور جواہرات کا عام اِستعمال کیا گیا تھا۔

مزید  دعا کی تعریف (دعا کسے کہتے ہیں)

آبِ روانِ ’کبیر‘ تیرے کنارے کوئی

دیکھ رہا ہے کسی اَور زمانے کا خواب

الحمراء

’مسجدِ قرطبہ‘ کے علاوہ دُوسری اہم عمارت جو سپین میں اِسلامی فنِ تعمیر کے منہ بولتے ثبوت کے طور پر زندہ سلامت کھڑی ہے، وہ ’الحمراء‘ ہے، جو2,200 مربع میٹر رقبے پر محیط ہے۔ اگرچہ اُس کی تعمیر ’مسجدِ قرطبہ‘ کی طرح مضبوط بنیادوں پر نہیں ہے مگر اُس کے باوُجود صدیاں گزرنے کے بعد بھی عمارت کا ابھی تک سلامت رہنا ایک معجزے سے کم نہیں۔ ’الحمراء‘ دُنیا کی یادگار عمارات میں سے ایک ہے جسے صدیوں قبل نہایت نفاست کے ساتھ تعمیر کیا گیا تھا۔ وہ اپنی فصیل اور برجوں کی وجہ سے ایک قلعہ دِکھائی دیتا ہے۔ اُس کی تعمیر غرناطہ کی سرخ مٹی سے ایک پہاڑی کی ڈھلان پر کی گئی تھی اور اُس میں جا بجا حوض اور فوّارے نصب ہیں۔ پانی کے بہاؤ کے لئے قدرتی ڈھلان سے مدد لی گئی ہے جس کی وجہ سے اِضافی توانائی کی بہم رسانی ضروری نہیں رہی۔ محل کا ہر حصہ مرکزی حصے کی سی دِلکشی کا حامل ہے اور دیکھنے والا اُسی حصہ کو اُس کا مرکز سمجھنے لگتا ہے۔ اُس کے ہر حصے میں آیات، اَحادیث اور عربی اَشعار و عبارات کندہ ہیں، جو اِسلامی فنِ خطاطی (calligraphy) کے بہترین شہ پارے ہیں۔ ’الحمراء‘ کے پہلو میں بعد کے اَدوار میں ایک عیسائی بادشاہ نے بھی محل بنوایا تھا جو پختہ پتھروں سے بنا ہے۔ اُس محل کے تضاد کے ساتھ الحمراء کا حسن اور بھی دوبالا ہو جاتا ہے۔ پورے محل میں پتھر کی تراشی ہوئی جالیاں اور مختلف انداز کی محرابیں اُس کے حسن کو چار چاند لگائے ہوئے ہیں۔ یہاں مصوّری اور سنگ تراشی کے بھی چند بہترین نمونے موجود ہیں، جن میں اُس دَور کے لوگوں کا طرزِ بود و باش منقّش کیا گیا ہے۔

اِسلامی سپین کا طرزِ تعمیر مجموعی طور پر تمام دُنیائے اِسلام میں منفرد حیثیت کا حامل ہے۔ مساجد کے مینار مربع شکل کے ہیں جو عالمِ اِسلام میں ایک انوکھا طرزِ تعمیر تھا۔ اُس دَور کی عمارتوں پر جا بجا خطاطی کے بے مثل نمونے ثبت ہوتے تھے۔ عمارات عربی عبارتوں اور آیاتِ قرآنیہ کی دیدہ زیب خطاطی سے مزین ہوتیں۔ اندلس کا فنِ خطاطی (calligraphy) اپنے کمال کی بنا پر یورپ کے بہت سے ملکوں میں فروغ پذیر ہوا، چنانچہ اکثر عیسائی سیدنا عیسیٰؑ اور سیدہ مریم علیہ ا السلام کی تصاویر اور مجسموں کی تزئین و آرائش کے لئے اُن پر س کے علاوہ کلمۂ طیبہ کی نقاشی بھی کرواتے، اگرچہ وہ یہ نہ جانتے تھے کہ یہ کیا الفاظ نقش کئے جا رہے ہیں۔

 

اَغیار کا اِعترافِ عظمت

بعثتِ محمدی (ص) کے زیر اثر عربوں میں شروع ہونے والی علمی و ثقافتی تحریک نے عالمِ اِسلام میں علم و تحقیق اور تہذیب و ثقافت کو خوب فروغ دیا، جس کے نمایاں اثرات سپین کی اِسلامی حکومت کے دَور میں بھی دیکھے گئے ہیں۔

مزید  امام خمینی (ره) اور کتاب

E. Rosenthal بیان کرتا ہے:

In Muslim days, Cordova was the centre of European civilisation and one of the greatest seats of learning in the world. After the expulsion of the Moors from Spain, however, Cordova sank to the level of a provincial town. Yet her wonderful mosque is a superb legacy of the days when Cordova was the capital of the Arab Empire in Spain. “Traces of Arabic Influence in Spain”

(Islamic Culture 11:336 July, 1937)

ترجمہ “اِسلامی دَورِ حکومت میں قرطبہ یورپی تہذیب کا مرکز اور دُنیا کا سب سے بڑا علم و دانش کا مقام تھا۔ تاہم مسلمانوں کے سپین سے اِخراج کے بعد قرطبہ کی حیثیت صوبائی شہر کی سی رہ گئی۔ وہ عظیم الشان مسجدِ قرطبہ اُن عظیم دِنوں کی یاد دِلاتی ہے جب قرطبہ سپین میں عرب سلطنت کا دارُالحکومت تھا”۔

اِسی حقیقت کو Sir Thomas W. Arnold نے یوں بیان کیا ہے:

د سویں صدی عیسوی میں ہی قرطبہ یورپ کا مہذب ترین اور متمدّن شہر بن چکا تھا۔ یہ دُنیا کے قابلِ تحسین اور حیران کن عجائبات میں شامل تھا۔ یہ ریاست ہائے بلقان کا “وینس” کہلاتا تھا۔ شمال سے جانے والے سیاحوں کے علم میں جب یہ بات آتی کہ اُس شہر میں 70 لائبریریاں اور 900 حمام ہیں تو وہ خوف اور حیرت کے ملے جلے جذبات کا اِظہار کرتے۔ لیون (Leon)، ناقار (Navarre) اور برشلونہ (Barcelona) کی ریاستوں کے حکمرانوں کو جب کبھی سرجن، ماہرِ تعمیرات (Architect)، ماہرِ ملبوسات (Dressmaker) یا کسی عظیم موسیقار (Singer) کی خدمات کی ضرورت ہوتی تو اُن کی نظریں قرطبہ کی طرف ہی اُٹھتی تھیں اور وہ اُنہیں یہیں سے منگواتے تھے۔

(The legacy of Islam)

اِ س موضوع پر C. H. Haskins کے الفاظ ملاحظہ ہوں:

The broad fact remains that the Arabs of Spain were the principal source of the new learning for Western Europe.

(Studies in the History of Medical Science)

ترجمہ “یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ سپین کے عرب ہی مغربی یورپ کے تمام جدید علوم و فنون کا سرچشمہ اور منبع تھے”۔

اِسی طرح H. E. Barnes نے اِس تاریخی حقیقت کا اِعتراف اِن الفاظ میں کیا ہے:

In many ways, the most advanced civilisation of the Middle Ages was not a Christian culture at all, but rather the civilisation of the people of the faith of Islam.

(H.E. Barnes, A History of Historical Writings)

ترجمہ: “بہت سی جہتوں سے قرونِ وُسطیٰ کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ تہذیب و ثقافت ہرگز عیسائی ثقافت نہیں تھی بلکہ یہ ثقافت اِسلامی عقیدہ رکھنے والی اَقوام کی تھی”۔

معروف مُستشرق منٹگمری واٹ لکھتا ہے:

“Yet it was the culture of the Arabs which became the matrix of the new Islamic civilisation, and all that was best in the older and higher culture was assimilated into the new culture.”

(W. Montgomery Watt, A History of Islamic Spain, p.166)

G. R. Gibb نے بھی اِس اَمر کی تصریح کی ہے کہ دسویں صدی سے تیرھویں صدی عیسوی تک سپین کی اِسلامی ثقافت یورپ کی سب سے بلند اور ترقی یافتہ ثقافت تھی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.