اسلام اور اس کا سیاسی نظریہ

0 0

جس وقت ھم یہ بحث کرتے ھیں کہ اسلام ”سیاست اور حکومت“ کے سلسلہ میں ایک خاص نظریہ رکھتا ھے ، جواسلامی اصول و ضوابط پر مبتنی ھے توسب سے پھلے یہ سوال ھوتاھے کہ کیا دین سیاست و حکومت کے بارے میں کوئی خاص نظریہ رکھتا ھے تاکہ اسلام اس سیاسی نظریہ کو بیان کرے ؟ یہ ایک ایسا مشھور سوال ھے جو صدیوں سے مختلف ممالک اور مختلف معاشرہ میں ھوتا آیا ھے ، ھمارے ملک میں بھی یہ سوال مورد بحث چلا آیا ھے خصوصا مشروطیت کے زمانے سے آج تک اس سوال پر کافی زور دیا گیا ھے ،اور اس سلسلہ میں مختلف طریقوں سے بحث بھی ھوچکی ھے ،البتہ امام خمینی ۻ کے بیانات کے پیش نظر اور مرحوم شھید مدرس کے مشھور و معروف جملہ کہ ”ھمارا دین عین سیاست اور ھماری سیاست عین دین ھے“ جس نے ھمارے ذھن میں نقش بنا لیا ھے ، اور یہ مسئلہ ھم لوگوں کے لئے واضح اور روشن ھوچکا ھے، اور ھم اپنے لئے اس سوال کا واضح جواب رکھتے ھیں ، لیکن اسلام کے سیاسی نظریہ اور دین کی سیاست میں دخالت جیسے مسائل پر تحقیق اور بررسی کی ضرورت ھے ۔ 

مغربی تمدن میں دین کو جامعیت نھیں دی گئی ھے اور اس کو محدود کرکے پیش کیا گیا ھے کہ دین کا تعلق اجتماعی وسیاسی مسائل سے نھیں ھے ، فقط دین کے اندر انسان کا خدا سے رابطہ ھونا چاھئے اور فرد کا رابطہ خدا سے کیا ھے اس اس چیز کو دین کے اندر مغربی تمدن کے نزدیک بیان کیا جاتا ھے، لھٰذا سیاسی، اجتماعی ، بین الاقوامی، حکومت اور لوگوں کے درمیان روابط اور حکومتوں کے آپسی روابط یہ سب انسان اور خدا کے رابطہ سے جداگانہ چیزیں ھیں، یعنی ان کا دین سے کوئی ربط نھیں ھے، لیکن اسلامی نقطہ نگاہ سے دین ایک وسیع مفھوم رکھتا ھے کہ جس کے اندر انسان کے فردی مسائل اجتماعی مسائل شامل ھیں اور اس کے اندر انسان کا خدا سے رابطہ اور انسان کا آپس میں رابطہ اور دیگر سیاسی، اجتماعی اور بین الاقوامی روابط بھی شامل ھیں یعنی دین کے اندر یہ ساری باتیں پائی جاتی ھیں، کیونکہ اسلام کے اعتبار سے خداوندعالم تمام دنیا پر حاکم ھے لھٰذا سیاست، اقتصاد (معاش) تعلیم وتربیت، مدیریت ارو وہ تمام مسائل جو انسانی زندگی سے متعلق ھیں وہ سب دینی احکام میں شامل ھیں۔ 

مزید  شیعوں کے عبادی اعمال

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.