اسلام اور آج کا دل گرفتہ مسلمان

0 0

آج اس کرۂ ارض کے گوشہ گوشہ اور چپہ چپہ پر ظلم و استبداد کی گرما گرمی ہے ۔فضا و ماحول مسموم ہے ۔ہر آن،ہر لمحہ نفاق و حسد اور عداوت و دشمنی کے جدید ترین شعلہ عالمی سطح پر انسانیت اور امن وامان کو خاکستر کئے جارہے ہیں ۔آئے دن بغض وعنا د ،حق تلفی خونریزی اور باہمی تصادم کی آبیاری و آب پاشی کی جارہی ہے ۔ثابت قدمی ،راست بازی ،اخوت و بھائی چارگی اور دوستانہ تعلقات و مراسم سے قطع تعلق ،چشم پوشی اور جانب دارانہ رویہ کا حیرت انگیز مظاہرہ کیا جارہاہے۔اولاً عدل پسند اسلام کے ماننے والوںکو ہر سمت سے للکارا جارہاہے ۔ان کی عزت و آبرو اور عفت و عصمت سے کھلواڑ اور ان کی دینی ،تبلیغی ،اصلاحی ،سماجی گویاکہ ہر نوع کے حقائق کی پامالی کی جارہی ہے ۔یہ مقام محوِ تفکر ہے کہ مصائب و آلام اور دن بدن قعر ِ مزلت میںبے چارگی اور بزدلی کی سانس لینا خود مسلمانوں کے بت بنے خاموش تماشائی بنے بیٹھے اور قرآن و احادیث کی تعلیمات ،صحابہ کے طریق و اطوار اور علماء و مشائخ کے اقوال سے تجاہل عارفانہ کا نتیجہ ہے۔ورنہ تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ ماضی میں مسلمانوں کا بول بالا رہا ہے۔ان کے وقار وشان کے سامنے ہر قوم سجدہ ریز رہا کر تی تھی ۔

لیکن آج مسلمانوں پر فرعونی و طاغوتی طاقتیں ہمہ سمت سے یلغار بولتی جا رہی ہیں ۔اور بیچارے مسلما ن ہیں کہ خواب خرگوش میں مست و مگن ہیں۔اور نااتفاقی ،قبائلی غرور ،اعزہ پروری ،دھوکہ دھڑی اور بے مروتی کے درخت کے سایے تلے استراحت کی سانس لے رہے ہیں ۔فرقوں اور جماعتوں میں منقسم ہوتے جارہے ہیں ۔کوئی دیو بندیت کا پرچم لہرارہا ہے تو کوئی بریلویت کے جھنڈے کو حر کت دے رہا ہے ۔کوئی اپنے آپ کو سنی کہتا ہے تو کو ئی شیعہ ہونے کا دعویٰ کر ر ہا ہے ۔حالا نکہ قر آن ہم سے یو ںمخاطب ہے ۔”وعتصموا بحبل اللہ جمیعاً و لا تفرقوا”( اٰل عمران:٢٠١ ) اے ایمان والوں!اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو،مسلکی اختلاف نہ کرو،فساد و بگاڑ کو ہوا مت دو ،گروہ اور جماعت بندی نہ کرو،بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگاکہ گروہ بندی کی باتیں بھی چھوڑدو۔تاہم یہ کیسا کرشمہ ہے کہ آج مسلمانوں کا ہر فرد و بشر تنازعات  وخلفشار کا بیج بورہا ہے اور شعار اسلام کے فقدان پر تلا ہوا ہے اور اسلام کے بنیاد ی  جوامور ہیں انہیں فراموش کر بیٹھا ہے ، ان  امور کی سمت ان کی نگاہیں کبھی نہیں جاتی ہیں ، وہ امور یہ ہیں۔

مزید  دینی معاشرہ میں قرآن کا مرتبہ

عقائد

اپنے عقیدے کو درست کرلیں اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عقیدہ کیا ہے ؟ تو آیئے اور قرآن کے اصول اور عقیدہ پر طائرانہ نظر ڈالئے کہ قرآن کیا کہہ رہا ہے۔”اولم یر الذین کفروا ان السموٰت والارض کا نتا رتقاً ففتقنٰھما”( الانبیائ)کیا انکاریوں نے اتنا بھی نہیں سوچا کہ زمین و آسمان کے منہ بند تھے پھر ہم نے ان کو کھول دیا ،یعنی نہ آسمان سے پانی کی بوندیں برستی تھیں اور نہ ہی زمین غلہ اگاتی تھی ۔لیکن اللہ کی شان رحیمی و کریمی پر قربان جائیے کہ ہمارے لئے زمین سے غلہ اور آسمان سے پانی برساتے ہیں ( بیان القرآن) لیکن بد عقائد کے متوالے ان گرانقدر نعمت عظمیٰ کے منکر و کافر ہیں۔تو ہم اس کے سزاوار ہیں کہ اپنے عقیدوں کی اصلاح اور درستگی کے لئے اللہ کی نعمتوں کا خورد بیں سے معائنہ کریں اور اس کی وجہ تخلیق پر غور و فکر کریں ۔بہت سی ایسی باتیں ہیں جن کا خیا ل اپنے دل میں مستحضر کرلیں تو عقیدۂ مسائل کے متعلق جو ایچ پیچ ہے وہ سب حل ہوتے نظر آئیں گے ۔بس یہ سمجھ لیجئے کہ تمام عالم پہلے با لکل ہی ناپید تھا پھراللہ نے اسے پیدا فرمایا ۔( بہشتی ثمر)

عبادات

خدا سے ہمارا عبدیت کا لگاؤہے ۔وہ حاکم ہے ہم محکوم ۔ہم عابد ہیں وہ معبود ۔لہذا ہم رحمان وحیم کا نام سن کر مشرکوںکی طرح ناک بھوں نہ چڑھائیںبلکہ مقبولیں و خاصین خدا کی جو شناخت ہوتی ہے اس کا وجود ہم اپنے اندر پیداکریں ۔مالک الملک کا فرمان ہے:”وما خلقت الجن الانس الا لیعبدون ”( الذریات)

میںنے تو انس و جن کی تخلیق صرف اور صرف اپنی عبادت کے لئے کی ہے ،یعنی ان کے پیدا کرنے سے شرعاً بندگی مطلوب ہے۔حبیب کے محبوب نے فرمایا ” بنی الاسلام علیٰ خمس ”یعنی اسلام کی بنیاد واساس پانچ چیزوں پر ہے ۔ایک ایمان کی لازوال دولت عظمیٰ ،دوسری نماز ،تیسری روزہ ،چوتھی روزہ اور پانچویں حج ۔اس لئے ہمیں چاہئے کہ ان امور کی ادائیگی کریں۔

مزید  اسلامی جہاد کا مقصد

معاملات

یعنی خرید وفروخت،بیع و شرائاورع ہر قسم کے معاملات اللہ کے حکم اور نبیۖ کے فرمان کے عین مطابق ہوں۔شفیع المذنبین برہان عظیم نبی آخرالزماں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا” من اعطی للہ و منع للہ و احب للہ و ابغض للہ فقد استکمل ایمانہ'(ترمذی)جو شخصکسی کو کچھ دے تو اللہ کیلئے دے ، کسی کو کچھ دینے سے روکے تو اللہ کے لئے روکے ،کسی سے محبت ہوتو اللہ ہو اور کسی سے بغض وعناد ہو تو وہ بھی اللہ کیلئے ہو ۔ تو ایسے افراد  کا ایمان کا مل ہوگیا ۔یعنی اگر کوئی شخص کسی موقع پر کچھ بھی خرچ کر رہاہو تو اس خرچ کرنے میں اللہ لہ رضا و خوشنودی مقصود ہو ۔احسان جتلانا ،نام و نمود اور دکھاوا مطلوب نہ ہو یہ سب معاملات اللہ کے لئے ہو گیا ۔اسی طرح اگر کوئی کسی کو کچھ دینے سے روکے تو وہ بھی اللہ کے لئے ہو ۔مثلاًکوئی شخص اگر آپ سے یا کسی اور سے ایسے کا موں کے لئے پیسوںکا مطالبہ کر رہا ہے جو شرعاً ممنوع ہے۔اب آپ نے اسے منع کردیا تو وہ بھی اللہ کے لئے ہو گیا ۔اگر آپ کسی سے دل بستگی اور محبت کا معاملہ کر رہے ہیں صرف اس نیت سے کہ ان سے محبت اور تعلق کا نتیجہ دین کا فائدہ ہوگا ۔تو آپ یہ سمجھ لیجئے کہ یہ اللہ کے لئے ہو گیا ۔اسی طرح آپ اگر کسی سے دلبرداشتہ او ر دل گرفتہ ہیں تو اس عمل کو بھی اللہ ہی کیلئے  کریں یعنی کسی سے بھی بغض وعناد رکھیں تو اس کے ایسے کر تو توں اور برے اعمال کی وجہ سے کریں جو مالک حقیقی کی ناراضگی کا سبب ہے ۔(اصلاحی خطبات)

معاشرت

یعنی باہمی میدان میں ہمدم اور ہم نو ا و ہم نفس کی مثالیںپیش کرنا ،ایک دوسرے کے سا تھ اٹھنے بیٹھنے اور زندگی بسر کرنے میںمیل جول کا پاس و لحاظ کرنا ۔اگر ہمارے اندر ان باتوں کا فقدان ہے اور ہما را معاشرہ شرور و فتن کے پھندوں میں جکڑا ہو ا ہے تو ہم ہر گز اقبال و عروج کے منا زل طے نہیں کر سکتے ہیں۔اپنوں کے حقوق کی ادائیگی ہو گی اور نہ ہی ان کی پاسداری ۔اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ ہمارے اندرتحمل و بر دباری ،ایثار و محبت ،ہمدردی و غمگساری ،مروت و فاداری ،خلوص و محبت اور سخاوت وشجاعت نا م کی کوئی چیز نہ ہو گی۔اس لئے ہم اس کے سزا وار ہیں کہ ہم دریا دلی او ر جود و سخا کا پیکربن جائیں ۔کیو نکہ ہما رے اندر وہ نسخۂ کیمیا ہے کہ اگر ہم چا ہیں تو پھول برسا دیں اور چاہیں تو شعلہ بھڑ کا دیں ۔بوجہ ایں اگر ہم پھول بن جائیں تو کیا ہی اچھا ہوگا ۔اللہ کے نبی ۖ کی ایک حدیث ہے ۔عبداللہ ابن مسعود روا یت کر تے ہیں ” الا اخبر کم بمن یحرم علی النار او بمن یحرم علیہ النار و کل قریب ھین سھل ”(ترمذی)سنو!میں تمہیں ایسے لو گو ں کی شناخت و پہچان کر واتا ہوں جس پر جہنم کی آگ کی حرام ہے اور وہ آگ پر حرام ہے ۔یہ وہ لوگ ہیں جو نرم مزاج ،نرم طبیعت اور نرم خوہو تے ہیں۔

مزید  جہاد

اخلاق

اچھے اخلاق تما م نعمتوں میں ایک ممتاز اور قا بل قدر نعمت ہے ۔نبی آخر الزماں نے فرمایا ” انما بعثت لاتم مکار م الاخلاق ” مجھے اس لئے بھیجا گیاہے تاکہ میں مکارم اخلاق کی تکمیل کروں۔تو کیوں نہ ہو کہ ہمارے اخلاق بھی پاکیزہ ہو ں تاکہ خود ہماری زندگی بھی خوشگوار اور پر سکون ہوجائے اور اس کا وجود دوسروں کیلئے باعث رحمت بن جا ئے ۔اس طرح ان کی زندگی ہماری  وجہ سے بے مزہ اور تلخ نہ ہو ۔کیو نکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے”اکمل المومنین ایماناًواحسنھم خلقاً ” (ترمذی) کا  مل ترین مومن وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔(یو این این)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.