اسلام ، مکمل اور جاوید قانون

0 1

اسلام ، صحیح اعتقادات، پسندیدہ کردار، اخلاق حسنہ ، مستحکم احکام اور اوامر و نواہی کا مجموعہ ہے ، یہ تخلیق کائنات کی ابتداء سے خدا کا دین تھا اور اس خلقت کے اختتام تک خدا کا دین رہے گا ۔

اس دین کے اصول وقواعد ہر زمانہ کے لئے انسان کی ضرورت کے لحاظ سے وحی کے ذریعہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے قلب مبارک پر نازل ہوئے ہیں اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) لوگوں کی ہدایت کے لئے ان قواعد کو بیان کرتے تھے ۔

پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی رسالت کے دوران غدیر خم میں جب امیر المومنین علی (علیہ السلام) کو مومنین کی سرپرستی ، لوگوں کی ولایت اور حکومت و رہبری کے لئے انتخاب کیا گیاتو یہ دین اسلام قوانین کو پیش کرنے ، حلال و حرام کو بیان کرنے اور حقایق کو ثابت کرنے کے لحاظ سے پایہ تکمیل کو پہنچا اورلوگوں کو صبح قیامت تک آنحضرت کے علاوہ کسی دوسرے پیغمبر ، قرآن کے علاوہ کسی دوسری کتاب اور اسلام کے علاوہ کسی دوسرے دین سے بے نیاز کردیا گیااور ان کو ایسی حقیقت سے نزدیک کردیا گیا جس کے ذریعہ وہ قیامت تک اپنے مادی اور معنوی قوانین کی ہر ضرورت کو پورا کرسکیں ۔

” الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دینَکُمْ وَ أَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتی وَ رَضیتُ لَکُمُ الِْسْلامَ دینا ” [1] ۔ آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا ہے اور اپنی نعمتوں کو تمام کردیا ہے اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسندیدہ بنادیا ہے ۔

امام باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں :

” و کانت الفریضة تنزل بعد الفریضة الاخری و کانت الولایة آخر الفرائض فانزل اللہ عزو جل : ( الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دینَکُمْ وَ أَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتی وَ رَضیتُ لَکُمُ الِْسْلامَ دینا )” [2] ۔[3] ۔

پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی بعثت کے زمانہ میں مسلسل مختلف احکام نازل ہوتے تھے ، امت کی ولایت اور رہبری آخری واجب امر تھا(جس کو نازل کرنے کے بعد ) خداوند عالم نے یہ آیت نازل فرمائی (آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا ہے اور اپنی نعمتوں کو تمام کردیا ہے اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسندیدہ بنادیا ہے) ۔

ایک روایت میں امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں :

پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی خدمت میں جبرئیل تشریف لائے اور کہا : یا محمد ! خداوند عالم آپ پر سلام بھیجتا ہے اور آپ سے کہتا ہے : اپنی امت سے کہو : آج تمہارے دین کو علی بن ابی طالب کی رہبری اور ولایت کے ذریعہ کامل کردیا اور اپنی نعمتوں کو تم پر تمام کردیا اور تمہارے لئے اسلام کو دین کے عنوان سے قبول کرلیا اور اس کے بعد اب کوئی واجب نازل نہیں کروںگا ۔ اس سے قبل نماز، زکات ، روزہ اور حج کو دوسرے واجب کے عنوان سے نازل کرچکا ہوں اور ولایت و رہبری پانچواں اور آخری واجب ہے ، ان چاروں واجبات کو بھی علی بن ابی طالب کی ولایت اور رہبری کے بغیر قبول نہیں کروں گا [4] ۔

مزید  بر صيصائے عابد

اس حقیقت کو بیان کرنا ضروری ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور ائمہ معصومین (علیہم السلام) کی تمام روایتیں،الہی واجبات اور قرآنی آیات کی تفسیر ہیں جو معتبر کتابوں میں معتبر راویوں سے نقل ہوئی ہیں ،یہ روایتیں زمانہ کے اعتبار اور انسانوں کی ضرورت کے تحت علم و دانش کے منابع اور خاندان بصیرت سے صادر ہوئی ہیں ۔

اسلام ، عقاید حقہ ،اخلاق حسنہ اور پسندیدہ کردار کا نام ہے اورانسان کو خداوند عالم کے اوامر کے سامنے بغیر کسی دلیل کے تسلیم ہوجانا چاہئے ، جس وقت اسلام انسان کی معنوی اور مادی زندگی کے تمام جوانب میں عملی، اخلاقی اور یقینی صورت میں تجلی کرجائے تو وہ انسان کو مسلمان کے دائرہ سے نکال کر اس کے حقیقی معنی میں داخل کردیتا ہے جس کے نتیجہ میں انسان کو آخرت اور دنیا کی سعادت حاصل ہوجاتی ہے ۔

حضرت حق کے تمام اوامر کے سامنے تسلیم ہوجانے کی قیمت اس قدر زیادہ ہے کہ تمام انبیاء اور اولیاء الہی نے تضرع و زاری کے ساتھ اس کی تمنا کی ہے ۔

حضرت ابراہیم اور اسماعیل (علیہما السلام) نے خانہ کعبہ کو تعمیر کرنے کے بعد دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور خداوند عالم سے عرض کیا: ” رَبَّنا وَ اجْعَلْنا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنا أُمَّةً مُسْلِمَةً لَکَ ”[5] پروردگارا ! ہم دونوںکو اپنا مسلمان او ر فرمانبردار قرار دے دے اور ہماری اولاد میں بھی ایک فرمانبردار امت پیدا کر۔

حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو وصیت کرتے وقت خطاب کیا : ” وَ وَصَّی بِہا ِبْراہیمُ بَنیہِ وَ یَعْقُوبُ یا بَنِیَّ اِنَّ اللَّہَ اصْطَفی لَکُمُ الدِّینَ فَلا تَمُوتُنَّ اِلاَّ وَ أَنْتُمْ مُسْلِمُون ”[6] اور اسی بات کی ابراہیم علیہ السّلام اور یعقوب علیہ السّلام نے اپنی اولاد کو وصیت کی کہ اے میرے فرزندوں اللہ نے تمہارے لئے دین کو منتخب کردیا ہے اب اس وقت تک دنیا سے نہ جانا جب تک واقعی مسلمان نہ ہوجاؤ ۔

مزید  زینبی کردار

یوسف (علیہ السلام) نے حضرت رب الارباب کی خدمت میں اس طرح درخواست کی : ” …ِ تَوَفَّنی مُسْلِماً وَ أَلْحِقْنی بِالصَّالِحین ”[7] ۔ مجھے دنیا سے فرمانبردار اٹھانا اور صالحین سے ملحق کردینا ۔

خدا کے نزدیک صرف دین اسلام قابل قبول ہے

انسان کی تمام مادی اور معنوی زندگی میں عادلانہ طور پر ہدایت کرنا اوراس کی انسانیت کی بنیاد کو مضبوط کرتے ہوئے اس کو کمالات و برکات کامآخذ قرار دینا اسلام کے علاوہ کوئی اور دین اس پر قادر نہیں ہے ۔

اسلام ، خداوند عالم کے مقابلہ میں سرتسلیم خم کرتا ہے اور اس کے احکام کو اجراء کرتے ہوئے انسان کی زندگی کو دنیا میں حیات طیبہ اور آخرت میں ”عیشة راضیة” میںتبدیل کردیتا ہے اور چونکہ کوئی بھی معلم یاتہذیب و تمدن، اسلام کی طرح جامع اور قادر نہیں ہے اس لئے خدا وند عالم نے اس کوانسان کے لئے دین و آئین قرار دیا ہے اور اسلام کے علاوہ کسی دوسرے دین کو مردود جانا ہے ۔

خداوند عالم نے جس طرح سے دنیا میں اسلام کو انسان کے لئے پسندیدہ دین قرار دیا ہے اسی طرح قیامت میں بھی وہ اپنے بندوں سے صرف اسی دین کا مطالبہ کرے گا ۔

خداوند عالم دنیا میں اپنے پسندیدہ دین کے متعلق فرماتا ہے : ” … رضیت لکم الاسلام دینا ”[8] ۔ …تمہارے لئے دین اسلام کو پسندیدہ بنادیا ہے ۔

اور قیامت میں اسلام کے متعلق فرمایا ہے : ” وَ مَنْ یَبْتَغِ غَیْرَ الِْسْلامِ دیناً فَلَنْ یُقْبَلَ مِنْہُ وَ ہُوَ فِی الْآخِرَةِ مِنَ الْخاسِرین ” [9]اور جو اسلام کے علاوہ کوئی بھی دین تلاش کرے گا تو وہ دین اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ قیامت کے دن نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا ۔

اسلام پوری دنیا کا دین ہے

یہ پاک دین معنی کے لحاظ سے خداکے سامنے سرتسلیم خم اور ظاہر میں خداوند عالم کے قوانین کو جاری کرتا ہے ، لہذا یہ دین صرف انسان سے مخصوص نہیں ہے بلکہ اپنے تکوین کے مرحلہ میں اس دنیا کی تمام موجودات کو شامل ہے ۔

مزید  اسلام اور مقام زن

قرآن مجید میں اس کے متعلق ارشاد ہوتا ہے :

”وَ لِلَّہِ یَسْجُدُ ما فِی السَّماواتِ وَ ما فِی الْأَرْضِ مِنْ دابَّةٍ وَ الْمَلائِکَةُ وَ ہُمْ لا یَسْتَکْبِرُون ”[10] 

ور اللہ ہی کے لئے آسمان کی تمام چیزیں اور زمین کے تمام چلنے والے اور ملائکہ سجدہ ریز ہیں اور کوئی تکبر و سرکشی کرنے والا نہیں ہے ۔

دوسری آیت میں فرماتا ہے :

” وَ النَّجْمُ وَ الشَّجَرُ یَسْجُدانِ” [11] ۔ اور بیل بوٹیاںاور درخت سب اسی کو سجدہ کررہے ہیں ۔

بہر حال مرحلہ تکوین میں اسلام ، تمام موجودات کا دین ہے اور مرحلہ تشریع میں انسان کے لئے خدا کا پسندیدہ دین ہے ۔

تمام موجودات کے اوپر جو محکم و متقن نظام حکومت کررہا ہے وہ تکوینی اسلام ہے ۔

انسان اگر تمام موجودات اور محکم و متقن نظام سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تو اس کوتشریعی اسلام(جو کہ قرآن کریم، سنت نبوی اور روایات اہل بیت میں متجلی ہے) کے سامنے سرتسلیم خم کرنا چاہئے اوروہ اپنی زندگی کی تمام مادی اور معنوی ضرورتوں کو اسلام پر ایمان لانے اور اس کے قوانین پر عمل کرنے کے ذریعہ پورا کرسکتا ہے اوراس کے ذریعہ دنیا و آخرت کی بہتری اور سعادت ابدی کو حاصل کرسکتا ہے ۔

[1] . سورہ مائدہ(٥)، آیت ٣۔

[2] . سورہ مائدہ (٥) ، آیت ٣۔

[3] . الکافی، ج١، ص ٢٨٩۔ باب ما نص اللہ عزوجل و رسولہ …، حدیث ٤۔

[4] . ” عن جعفربن محمد الخزاعی عن ابیہ قال : سمعت ابا عبداللہ (علیہ السلام) یقول : لما نزل رسول اللہ عرفات یوم الجمعة اتاہ جبرئیل فقال لہ : یا محمد ان اللہ یقرئک السلام و یقول لک : قل لامتک : الیوم اکملت لکم دینکم بولایة علی بن ابی طالب و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا و لست انزل علیکم بعد ھذا قد انزلت علیکم الصلاة والزکاة و الصوم والحج و هی الخامسة و لست اقبل ھذہ الاربعة الا بھا ” تفسیر العیاشی : ج١ ، ص ٢٩٣، حدیث ٢١۔ بحار الانوار ، ج ٣٧ ، ص ١٣٨، باب ٥٢، حدیث ٢٨۔

[5] . سورہ بقرہ (٢) ، آیت ١٢٨۔

[6] . سورہ بقرة ، آیت ١٢٣۔

[7] . سورہ یوسف (١٢) ، آیت ١٠١۔

[8] . سورہ مائدہ، آیت ٣۔

[9] . سورہ آل عمران (٣) ، آیت ٨٥۔

[10] . سورہ نحل،آیت ٤٩۔

[11] . سورہ رحمن، آیت ٦۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.