اسلامی فوج کا قیام

0 0

پیغمبر اسلاۖم مکہ میں سکونت کے دوران فقط ایک مبلغ تھے اور لوگوں کے لئے عملی میدان میں ایک الٰہی راہنما تھے اور ان کی خدمات، لوگوں کی ہدایت و راہنمائی اور بت پرستوں اور مشرکوں سے فکری اوراعتقادی جنگ تک محدود تھیں۔ لیکن مدینہ میں آنے کے بعد، دینی رسالت کے ابلاغ و راہنمائی کے علاوہ مسلمانوں کی سیاسی رہبری بھی آپ کے ذمہ آگئی تھی؛ کیونکہ مدینہ میں نئی صورت حال پیش آگئی تھی اور آپ نے اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر ایک نئے معاشرے کے قیام کے سلسلہ میں ابتدائی قدم اٹھایا تھا۔ اس بنا پر آپ احتمالی خطرات اور دشواریوں سے مسلمانوں کو آگاہ کرکے ایک دور اندیش، شائستہ اور آگاہ سیاسی رہبر کی شکل میں اس کی چارہ جوئی کی فکر میں لگ گئے، مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیا ن رشتہ اخوت و برادری کی برقراری، عمومی عہد و پیمان کی تنظیم و اجراء و نیز یہودیوں کے ساتھ عدم تجاوز کے معاہدہ پر دستخط یہ وہ اقدامات تھے جنھیں آپ نے بطور احتیاط انجام دیئے تھے۔

جو سورے اور آیات مدینہ میں نازل ہوئیں وہ سیاسی اور سماجی احکام و دستورات پر مشتمل تھیں اوروہ پیغمبر ۖ کیلئے سیاسی امور میں مفید اور راہ گشا تھیں۔ جیسے کہ خداوند عالم کی طرف سے جہاد اور دفاع کا حکم صادر ہوا(١) اور اس کے بعد پیغمبر اسلاۖم نے قصد کیا کہ ایک دفاعی فوج تشکیل دیں۔

اس فوج کا قیام عمل میں آنا اس لحاظ سے اہمیت رکھتا تھا کہ اس بات کا گمان تھا کہ مکہ کے مشرکین (جو ہجرت کے بعد مسلمانوں کو سزائیں اور تکلیف نہیںدے پا رہے تھے) اس مرتبہ مرکز اسلام (مدینہ) پر فوجی حملہ کردیں۔ اس بنا پر پیغمبر ۖ نے اس طرح کے گمان کا مقابلہ کرنے کے لئے ہجرت کے پہلے سال کے آخر میں ایک اسلامی فوج کی بنیاد ڈالی۔ یہ فوج شروع میں تعداد اور جنگی سازو سامان کے لحاظ سے محدود تھی ۔ لیکن بہت جلدی دونوں لحاظ سے اسے ترقی ملی۔ یہاں تک کہ آغاز قیام میں جنگی ماموریت یا گشتی عملیات میں بھیجی جانے والی ٹولیاں ساٹھ افرادسے زیادہ پر مشتمل نہیں ہوتی تھیں۔ اور ان کی سب سے زیادہ تعداد جو بہت کم دیکھنے میںآئی دو سو سے زیادہ نہیں پہنچی۔(٢)

مزید  امام جعفر صادق عليه السلام کي چاليس حديثيں

ہجرت کے دوسرے سال جنگ بدر میںان کی تعداد تین سو سے تھوڑا زیادہ تھی۔ لیکن فتح مکہ میں (ہجرت کے آٹھویں سال ) سربازان اسلام کی تعداد دس ہزار افراد تک پہنچ گئی تھی۔ اور فوجی سازوسامان کے اعتبار سے بھی بہت اچھی حالت ہوگئی تھی۔

بہرحال یکے بعد دیگرے، واقعات کے رونما ہونے سے پتہ چلتا ہے کہ پیغمبر اسلاۖم کی پیش بینی درست تھی۔ کیونکہ ہجرت کے دوسرے سال طرفین کے درمیان متعدد جھڑپیں ہوئیں اگر مسلمانوں کے پاس دفاعی طاقت نہ ہوتی تو ان جھڑپوں کے نتیجہ میں مسلمان، مشرکوں کے ہاتھوں بری طرح سے مارے جاتے۔(٣)

______________________

(١) ”اذن…. یقاتلون بانہم ظلموا و ان اللّٰہ علی نصرہم لقدیر، الذین اخرجوا من دیارہم بغیر حق” (سورۂ حج، آیت ٤٠۔ ٩٣)، اسی طرح سے رجوع کریں : المیزان، ج١٤، ص ٣٨٣؛ تاریخ یعقوبی، ج٢، ص ٣٦.

(٢) ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، (بیروت: دار صادر)، ج٢،ص ١١٢.

(٣) پیغمبر اسلاۖم کے کل غزوات کی تعداد ٢٦ اور سریات کی تعداد ٣٦ نقل ہوئی ہے۔ (ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب ، ج١، ص ١٨٦، طبرسی، اعلام الوریٰ ، ص ٧٢)، کچھ مورخین نے سریات کی تعداد اس سے زیادہ نقل کی ہے (مسعودی، مروج الذھب، ج٢، ص ٢٨٢)، بخاری، ایک روایت میں ان کی تعداد ١٩ ذکرہوئی ہے (صحیح بخاری ، ج٦، ص ٣٢٧.)

فوجی مشقیں

پیغمبر اسلامۖ نے انھیں تھوڑے سے سپاہیوں کے ذریعے ایک طرح کی چھوٹی فوجی نقل و حرکت شروع کردی جس کو درحقیقت ایک مکمل جنگ نہیں کہہ سکتے ہیں۔ اوران مشقوںمیں سے کسی ایک میں دشمن سے نوک جھوک اور جنگ پیش نہیں آئی جیسے حمزہ بن عبد المطلب کا تیس افراد پر مشتمل سریہ (ہجرت کے آٹھویں مہینے میں) جس نے قریش کے قافلہ کو مکہ کی طرف پلٹتے وقت پیچھا کیا تھا۔اور عبیدہ بن حارث کا ساٹھ افراد پر مشتمل سریہ جس  نے (آٹھویں مہینے میں) ابوسفیان کے گروہ کا پیچھا کیا۔ اور سعید بن وقاص کا بیس افراد پر مشتمل سریہ جس نے ( نویں مہینے میں )قریش کے قافلے کا پیچھا کیا۔ لیکن اس کو پانہیں سکا۔(١)

مزید  امام خمینی(رح) اور کار آمد اور مفید حکومت(۱)

اسی طرح سے خود پیغمبر اسلاۖم نے (گیارہویں مہینے میں) مسلمانوں کے ایک گروہ کے ساتھ، قریش کے قافلے کا تعاقب کیا اور سرزمین ”ابوائ” تک پہنچ گئے، لیکن کوئی ٹکراؤ نہیںہوا۔

آنحضرت ۖ نے اس سفر میں قبیلۂ ”بنی ضَمرة” سے عہد و پیمان کیا کہ وہ بے طرف رہیںاور دشمنان اسلام کا ساتھ نہ دیں۔

پیغمبر اسلامۖ نے ربیع الاول کے مہینے (بارہویں مہینے) میں، کرز بن جابر فہری، جس نے گلۂ (ریوڑ) مدینہ کو غارت کردیا تھا اس کا تعاقب، سرزمین بدر تک کیا لیکن وہ مل نہ سکا، جمادی الآخر

______________________

(١) واقدی، المغازی، تحقیق: مارسڈن جونس، ج١، ص ١١۔ ٩؛ محمد بن جریر الطبری، تاریخ الامم والملوک (بیروت: دار القاموس الحدیث)، ج٢، ص ٢٥٩؛ رجوع کریں: ابن ہشام ، السیرة النبویہ، ج٢، ص ٢٤٥۔ ٢٥١؛ ابن اسحاق نے ان سریات کو  ٢ھ کے واقعات میں قرار دیا ہے۔ (طبری، گزشتہ حوالہ،) اگر بالفرض اس نقل کو ہم صحیح قرار دیں تو ہمیں قبول کرنا چاہیئے کہ اسلامی فوج کی تشکیل ٢ھ میں ہوئی ہے لیکن پھر بھی یہ مطلب موضوع کی اہمیت کو کم نہیں کرتا بلکہ اس سلسلہ میں پیغمبر اسلاۖم کے عمل کی تیزی کو بتاتا ہے.

میںایک سو پچاس یا (دوسو) افراد کے ساتھ قریش کے تجارتی قافلہ کو جو کہ ابوسفیان کی سرپرستی میں (مکہ سے شام) جارہا تھا، اس کا تعاقب کیا (غزوہ ذات العشیرہ) اور اس بار بھی اس کے قافلہ تک نہ پہنچ سکے اور قبیلۂ ”بنی مدلج” کے ساتھ عہد و پیمان کیا اور مدینہ پلٹ آئے(١) لہٰذا اس طرح کی چھوٹی فوجی نقل و حرکت کو درحقیقت فوجی مشقیں یا قدرت نمائی کہنا چاہیئے نہ واقعی جنگ۔

مزید  غدیر عدالت علوی کی ابتدا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.