اسلامی عرفان اور حكمت

0 0

انسان اس دنیا میں فضا كے اندر چھوڑے گئے توپوں كے مانند ھیں كہ جو اپنے اندر پرواز كے لئے چھپی ھوئی توانائیوں كو لامتناھی دنیا میں باھر نكالتے ھیں، لیكن زمین كے لذیذ جاذبے اور كشش انھیں طبیعی دنیا كی پستیوں میں كھینچتے ھیں اور سقوط والخطاط آور حركت ان كے اندر پیدا كرتے ھیں، نفسانی خواھشات اور شیطانی چكنی چپڑی باتوں كی چمك دمك، مادی كلچر و تمدن كی سرعت كو بڑھاتے ھیں۔ ان كے درمیان بھت كم افراد اور گروہ ایسے ھیں كہ جنھوں نے اپنے دلوں كی آنكھوں كو معنوی حقائق كے لئے كھول كر نیز اپنے كانوں كی سماعت كے ذریعہ الٰھی پیغامات سے آشنا ھوئے اور كمر ھمت باندھ كر اپنے كو حیوانی آلودگیوں سے بچا لیا اور نورانی ملكوت كے آفاق كی طرف پرواز كرتے ھیں، اپنے ارتقاء كے راستہ میں صعودی رفتار كا۔ ساری خوبیوں، شان و شوكت، قوت تازگی و شادابی اور كمالات كے بے انتھا منبع اور ایك جملہ میں یہ كہ “اللہ كی جانب” قریب ھونے كے لئے۔ آغاز كرتے ھیں، لیكن جو لوگ زمین پر گرے ھوئے توپوں كی طرح سقوط كرتے ھیں، مادّیات كے شكست خوردہ لوگوں كی طرح مشكل میں پھنس جاتے ھیں اور اس كے مشابہ سرعت كے ساتھ، سقوطی وانحطاطی سیر كے بر عكس بالا ترین جھان كی طرف مائل ھو جاتے ھیں اور ایسا بھی ھے كہ یہ واقعہ بارھا تكرار ھوتا ھے۔ 

اس عكس العمل كو اب بھی غربی انحطاط كے كلچر سے شكست خوردہ لوگوں كی جماعت میں بخوبی دیكھا جا سكتا ھے كہ معنوی قدر و قیمت كی بے انتھا پیاس اور شوق كا اپنے اندر احساس كرتے ھیں اور پاك و صاف ماحول و آب زلال كی تلاش میں ادھر ادھر جاتے ھیں، مگر افسوس كہ اكثر اس طرح كے لوگ جادو گروں كے جال میں پھنس جاتے ھیں جو معرفت كی مٹھاس كے بجائے گمراھی و ضلالت كی تلخی ان كے دھن میں ڈالتے ھیں اور گڑھوں سے بھاگنے والوں كو مصیبت و ھلاكت كے كنویں كی طرف راھنمائی كرتے ھیں اور پچھلے دروازہ سے انھیں تباھی و ھلاكت كے دیار میں بھیج دیتے ھیں!

مادّی كلچر كے مركز سے بھاگنا اور معنوی كلچر میں پناہ لینا، صرف شخصی خواھشات میں خلاصہ نھیں ھوتا ھم آج اسلام خواھانہ جنبشوں كی وسعت كو دنیا كے گوشہ و كنار، بلكہ آلودہ ترین، پلید ترین نیز آفت زدہ سر زمینوں میں بھی مشاھدہ كر رھے ھیں، جس نے ان تحریكوں كو سرعت عطا كی ھے وہ ایك عظیم اسلامی انقلاب كی كامیابی ھے كہ جو ایك بلند مرتبہ عارف كی قیادت میں آیا ھے كہ جس نے اسلامی معارف كے انوار كی شعاعوں میں لوگوں كی شگفتہ اور نكھری ھوئی استعدادوں سے استفادہ كرتے ھوئے تمام شیطانی طاقتوں پر غلبہ حاصل كیا اور بڑی سے بڑی ركاوٹوں كے باوجود جو ھر طرف سے ان كی راہ میں كھڑی كی جاتی ھیں، اسی طرح ارتقاء كی راھوں كو طے كر رھا ھے، اگرچہ یہ پھلی بار نھیں ھے كہ ایك ربّانی عارف اور الٰھی انسان نے لوگوں كی تحریك “انقلاب” كو اپنے ذمہ لیا ھے، لیكن كسی دوسرے نمونہ كی نشان دھی اتنی وسعت، گھرائی، استوار اور پائداری كے ساتھ آسان نھیں ھے۔ بھر حال یہ حادثہ بھی اپنی بہ نسبت معنوی رجحانات كے وجود كا ایك قوی ترین باعث ھو سكتا ھے اور خاص سے طور اسلامی عرفان كا نقش انسانوں كی زندگی میں ایك مطلوب و مثبت تحوّلات ایجاد كر سكتا ھے۔ 

اسلامی دنیا میں عرفان

دنیائے اسلام میں عرصۂ دراز سے “عرفان” اور “تصوّف” كے نام سے كچھ رجحانات پائے جاتے ھیں اور چوتھی صدی ھجری سے لے كر آٹھویں صدی ھجری تك بھت سے ملكوں میں جیسے ایران اور تركی میں اپنے عروج كو پھنچے ھیں، اب بھی صوفیوں كے مخلتف مذاھب اسلامی دنیا میں پائے جاتے ھیں، اس سے مشابہ رجحان تمام ادیان كے ماننے والوں میں بھی موجود رھے ھیں۔ لھٰذا اسی ایك مشترك نقطہ كو نظر میں ركھتے ھوئے یہ سوال پیدا ھوتا ھے كہ كیا اسلام میں كوئی چیز اسلامی عرفان كے نام سے پائی جاتی ھے، یا مسلمانوں نے اس كو دوسروں سے لیا ھے اور جو كچھ “اسلامی عرفان ” كے نام سے یاد كیا جاتا ھے وہ در حقیقت مسلمانوں كا عرفان ھے نہ كہ اسلامی عرفان؟ اور اس صورت میں كہ اسلام “عرفان ” كے نام سے كوئی چیز لایا ھو تو كیا یہ وھی چیز ھے كہ جو آج مسلمانوں كے درمیان موجود ھے یا اس تحریف و تبدل بھی واقع ھوا ھے؟ 

اس سوال كے جواب میں بعض لوگوں نے اسلام میں عرفان كے وجود كا بالكل انكار كر دیا ھے اور اس كو ایك بدعت آمیز اور باطل چیز شمار كیا ھے۔ بعض دوسرے لوگوں نے اسے اسلام سے خارج، مگر اس كے سازگار و موافق جانا ھے۔ اس سلسلہ میں بعض افراد نے كھا ھے كہ تصوّف ایك پسندیدہ بدعت ھے، جیسے عیسائیوں میں رھبانیت، جیسا كہ اس كے بارے میں قرآن كا فرمان ھے: (و رھبانیۃً ابتدعُوھا ما كتبناھا علیھم الاّ ابتغاء رضوان اللہ) (حدید۲۷) “اور جس رھبانیت كو ان لوگوں نے خود سے ایجاد كر لیا تھا اس كا ھم نے انھیں پابند نہیں بنایا تھا مگر یہ كہ رضاء الٰھی كو كسب كرنے كے لئے انجام دیں “

آخر كار ایك گروہ نے عرفان كو اسلام كا ایك جزء، بلكہ اس كے مغز و روح كا مرتبہ دے دیا ھے كہ جس كو تمام اسلامی احكام كی طرح، قرآن كریم اور سنت نبوی سے حاصل كیا گیا ھے، نہ یہ كہ تمام مكاتب فكر و مسالك سے اقتباس كیا گیا ھو اور اسلامی عرفان اور سارے عرفانوں كے درمیان شباھت كا ھونا اس بات كی دلیل نھیں ھے كہ ان سے حاصل كیا گیا ھے، جس طرح سے شریعت اسلام كا دوسری تمام آسمانی شریعتوں كے مشابہ ھونے كے معنیٰ یہ نھیں ھیں كہ اسلامی شریعت كو ان سے اقتباس كیا گیا ھے۔ 

آخری نظریہ ممدوح اور بڑا پسندیدہ ھے اور ھم اس پر اضافہ كرتے ھیں كہ اسلامی عرفان كا اصیل ھونا اس معنیٰ میں نھیں ھے كہ جو كچھ عالم اسلام میں “عرفان ” اور “تصوف ” كے نام سے جانا جاتا ھے اس كو صحیح مانیں، جس طرح ھر وہ عقیدہ یا سلوك و رفتار جو اسلام سے منسوب جماعتوں میں موجود ھے اس عقیدہ یا رفتار كو اسلامی نھیں شمار كر سكتے، ورنہ اسلام كو متضاد و متناقض عقیدوں اور اھمیتوں كا مجموعہ ماننا پڑے گا یا ھم متضاد و متعارض اسلام ركھتے ھوں۔ بھر حال ھم اسلامی عرفان كے اصیل ھونے كے اعتراف كے با وجود وہ عرفان جس كا اعلیٰ مرتبہ پیغمبر اكرم (ص) اور ان كے سچے جانشینوں كو حاصل تھا۔ مسلمان عرفاء اور صوفیوں كے درمیان بیگانہ عناصر كے وجود كا انكار بھی نھیں كرتے اور بھت سے آراء و نظریات اور صوفیوں كے مختلف گروھوں كے سیر و سلوك كو قابل تنقید جانتے ھیں۔ 

مزید  اعمال روز عرفہ و دعای عرفہ

عرفان، تصوف، حكمت اور فلسفہ كا مفھوم

اسلامی عرفان كی اصلیت كے بیان سے پھلے مناسب ھے كہ عرفان اور تصوف كے كلمات كی وضاحت كرتا چلوں تا كہ بعض غلط فھمیوں اور خلط مبحث سے ركاوٹ كی جا سكے۔ 

لفظ “عرفان”، “معرفت” كے مثل و مانند كلموں كی طرح لغت میں شناخت و پھچاننے كی معنیٰ میں ھے، مگر اصطلاح میں خاص شناخت سے مخصوص ھے كہ جو حس و تجربہ كے طریقہ سے یا عقل و نقل كے ذریعہ حاصل نھیں ھوتا ھے، بلكہ اندرونی شھود اور باطنی ادراك كے ذریعہ حاصل ھوتا ھے۔ ان شھود كو ایسے خبری جملوں میں عمومیت دی گئی ھے كہ جو مشاھدات و مكاشفات كی حكایت كرتے ھیں۔ اس دلیل كے تحت كہ ایسے كشف و شھود كے حصول كو معمول كے مطابق ایك طرح كی خاص تمرینوں اور ریاضتوں پر موقوف جانتے ھیں، عملی طریقوں یا سیر و سلوك كے آئین كو بھی “عرفان” كا نام دیا گیا ھے اور انھیں “عملی” كی قید كے ذریعہ معین كیا گیا ھے جس طرھ شھود كے بارے میں حكایت كرنے والی خبری جملوں كو “عرفان نظری” كا نام دیا گیا ھے اور بعض لوگوں نے فلسفۂ اشراق كی طرح ایك قسم كے عقلی استدلال سے جوڑ دیا ھے۔ 

لفظ “تصوف” ظاھر ترین احتمالات كی بنا پر لفظ “صوف” سے لیا گیا ھے اور پشمینہ پوشی كو سخت ترین زندگی بسر كرنے كے نمونہ كے عنوان سے اور تن پروری و لذّت پرستی سے دوری كے معنیٰ میں جانتے ھیں نیز “عرفان عملی ” سے كافی حد تك مناسبت ركتھا ھے جس طرح لفظ “عرفان” “عرفان نظری” سے بھت زیادہ مناسبت ركھتا ھے۔ اس ترتیب كے مطابق عرفان كی طبیعت میں كم از كم تین عنصر كی شناخت كرائی جا سكتی ھے: 

اول: كچھ خاص دستور العمل ھیں كہ جو سفارش كرنے والوں كے دعویٰ كے مطابق؛ انسان كو شھودی و باطنی معرفت اور علم حضوری كے ذریعہ آگاھانہ طور پر خدائے متعال، اسمائے حسنیٰ، صفات علیا اور ان كے مظاھر تك پھنچاتے ھیں۔ 

دوم: خاص روحی و نفسانی ملكات و حالات ھیں كہ جس كے نتیجہ میں سالك راہ كے لئے كچھ مشاھدات و مكاشفات حاصل ھوتے ھیں۔ 

سوم: كچھ بیانات اور گزارشیں ھیں كہ جو حضوری و شھودی نتائج كی حكایت كرتےھیں یھاں تك كہ ان لوگوں كے لئے جنھوں نے شخصی طور پر عملی عرفان كے راستے كو طے نھیں كیا ھے ان كے لئے بھی كم و بیش جاننے كے قابل ھیں گرچہ ان كی حقیقت اور كنہ كو جاننا سچے عارفوں سے مخصوص ھے۔ 

ان توضیحات سے واضح ھو گیا كہ حقیقی عارف وہ شخص ھے جو ایك عملی پروگرام كو انجام دے كر خدائے متعال، اس كے صفات و افعال كی نسبت شھودی و حضوری معرفت تك پھونچ گیا ھو اور نظری عرفان در حقیقت، اس چیز كی شرح و تفسیر ھے كہ جس میں بھت سے نقائص و كمیاں بھی پائی جاتی ھوں، اور ایك طرح كی چشم پوشی و اصطلاح میں وسعت دے كر، تمام سیر و سلوك كو حقیقت كو پانے اور كامیابی تك پھونچنے كے لئے انجام دی جاتی ھے اور ان سے وجود میں آنے والے روحی و شھودی حالات كو عرفان كا نام دیا جا سكتا ھے، اس طرح كہ ھندی، بودھائی اور افریقہ كے بعض قبائل اور باشندوں میں جانے والے عرفان كو بھی شامل ھو، لفظ “دین ” بھی اسی وسعت اور چشم پوشی كی بنا پر بدّھسٹ، توتم پرستی(قدیم زمانے میں بعض اقوام و قبائل میں مرسول تھا كہ بعض درختوں اور حیوانوں كا خاص احترام كرتے اور ان كو اپنے قبیلہ و قوم كا حافظ و نگھبان جانتے تھے) اور ان جیسوں پر اطلاق ھوتا ھے۔ 

یھاں پر مناسب ھے كہ حكمت و فلسفہ كے سلسلہ میں بھی ایك اشارہ كرتا چلوں! “حكمت ” كہ جو ایك اصیل عربی لفظ ھے اور محكم و متفق معرفت كے معنیٰ میں استعمال ھوتا ھے اكثر عملی معارف كے موقع پر استعمال ھوتا ھے۔ قرآن كریم میں بھی یہ لفظ انھیں مورد میں استعمال ھوا ھے: (اسراء آیت۳۹) ۔ لیكن رائج اصطلاح میں، الٰھی فلسفہ كے معنیٰ میں اور عملی فلسفہ و علم اخلاق كے معنیٰ میں بھی استعمال ھوتا ھے۔ علم اخلاق میں خاص اصطلاح كے مطابق، ملكۂ نفسانی كے معنیٰ میں كہ جو عقل كو عمل میں لانے سے ارتباط ركھتا ھے زیركی و دانائی اور كند ذھنی كے درمیان حد وسط كے عنوان سے استعمال ھوتا ھے۔ بھر حال الحادی اور شكاكیت كے فلسفہ كے مورد میں استعمال نھیں ھوتا، لفظ “فلسفہ” كے بر خلاف كہ جو اصل میں یونانی زبان سے لیا گیا ھے اور ھر طرح كی فكری و عقلی تلاش كے معنیٰ میں، ھستی كے كلی مسائل كے فھم كے لئے استعمال ھوتا ھے، چاھے یقینی و ثابت معرفت كے انكار كا باعث بنے اور حتیٰ كہ وجود خارجی كے انكار كا باعث ھو۔ 

اسلامی عرفان كی اصالت

جو شخص قرآن كریم كی آیتوں، پیغمبر اكرم(ص) اور اھل بیت(ع) كے كلام میں دقت كے ساتھ غور و فكر سے كام لے گا تو بے شك وہ، بھت بلندو عمیق مطالب، عرفان نظری كے دائرے میں اور بے شمار آداب دستور العمل، عرفان اور سیر و سلوك كے متعلق پائے گا۔ نمونہ كے طور پر توحید ذات، صفات اور افعال سے متعلق آیتون كو سورۂ توحید، سورۂ حدید كی ابتدائی آیات، سورۂ حشر كی آخری آیات اور اسی طرح ان آیتوں كو جو تمام عالم ھستی كو الٰھی حضور اور تمام موجودات پر اس كا احاطہ، تمام مخلوقات كا خدا كے لئے تسبیحات اور تكوینی سجدہ كرنے پر دلالت كرتی ھیں، ان كی طرف اشارہ كیا جا سكتا ھے۔ 

اسی طرح وہ آیتیں جو آداب اور مخصوص سنن كے بارے میں موجود ھیں ان كو اسلامی سیر سلوك كے آئین كا نام دیا جا سكتا ھے، جیسے وہ آیتیں جن میں تفكّر، تامّل، ذكر، دائمی توجہ، سحر خیزی، شب زندہ داری، راتوں میں سجدہ، طولانی تسبیحیں، خضوع و تواضع، گریہ كرنے، قرآنی آیتوں كو پڑھنے یا سننے پر سجدہ ریز ھونے، عبادات میں خلوص، خدا سے عشق و محبت كی بنا پر نیك كاموں كو انجام دینا، قرب و منزلت اور رضائے الٰھی تك پھنچنے كے اسباب وغیرہ كا تذكرہ ھے، نیز وہ آیتیں جن میں پروردگار كے حضور میں تسلیم و رضا اور توكل كا تذكرہ ھے۔ اور جو كچھ پیغمبر اكرم(ص) اور ائمہ اطھار(ع) كے بیانات اور ان كی دعائوں و مناجاتوں میں، ان مطالب سے متعلق باتیں موجود ھیں انھیں شمار نھیں كیا جاسكتا۔ 

مزید  حضرت فاطمہ زہرا(ع) عظيم نعمت الٰہي

ان آیات بیّنات اور پیغمبر اكرم(ص) و اھل بیت طاھرین(ع) كے فصیح و بلیغ بیانات كے ھوتے ھوئے ایك گروہ نے تفریط اور دوسرے نے افراط كا راستہ اختیار كرلیا ھے: پھلے گروہ نے تنگ نظری و ظاھر بینی كی بنا پر ان بیانات اور آیات كو متروك و سادہ معانی میں استعمال كیا ھے یھاں تك كہ خداواند علام كے لئے متغیر حالات اور جسمانی اعتبار سے اوپر نیچے چڑھنے اترنے كے قائل ھو گئے ھیں اور مذكورہ مطالب سے متعلق آیتوں و روایتوں كو ان كے بلند و بالا مطالب سے گرا دیا ھے، یہ وہ لوگ ھیں جو كلّی طور پر اسلام میں “عرفان” نامی چیز كے وجود كے منكر ھو گئے ھیں، دوسرے گروہ نے مختلف معاشرتی اسباب سے متاثر ھو كر بیگانہ عناصر كو غیروں سے حاصل كرتے ھوئے اسے قبول كر لیا ھے اور اس كے نتیجہ میں ایسے امور كے معتقد ھو گئے ھیں كہ انھیں دینی متون اور كتاب و سنت سے حاصل شدہ مضامین میں نھیں شمار كیا جا سكتا ھے، بلكہ شاید ان میں سے بعض صریح نصوص كے مخالف اور غیر قابل تاویل بھی ھوں، اسی طرح ایك طرف مقام عمل میں آداب و رسوم كو اپنی طرف سے وضع كر لیا ھے یا غیر اسلامی فرقوں سے ادھار لے لیا ھے اور دوسری طرف عارف كامل سے شرعی واجباب اور دینی وظائف كے سقوط كے قائل ھو گئے ھیں۔ 

البتہ وہ لوگ جو تمام عرفاء اور صوفیوں كے بارے میں بے حد حسن ظن كے قائل ھوئے ھیں انھوں نے ان سارے مطالب كے لئے تاویلوں اور توجیھوں كو ذكر كیا ھے، لیكن انصاف تو یہ ھے كہ ان میں بعض كلام قابل قبول توجیھ نھیں ركھتے اور ایسے افراد كی عرفانی و عملی شخصیتوں كی عظمت ھمیں اس طرح متاثر نہ كر دے كہ ھم ان كی ساری گفتگو اور نوشتوں كو آنكھ اور كان بند كر كے قبول كر لیں اور اس كی تائید كریں اور ان كے آثار كے بارے میں دوسروں سے ھر طرح كی تنقید و تحقیق كا حق سلب كر لیں، ھاں یہ واضح ھے كہ تنقید كے حق كو قبول كرنے كے معنیٰ، نا پختہ و نا سنجیدہ قضاوت، متعصبانہ وغیر منصفانہ اظھارات اور مثبت و اھم نقطوں كو نظر انداز كرنے كے معنیٰ میں نھیں ھے، بھر حال ھم كو حق و حقیقت كی جستجو میں رھنا چاھتے اور عدل و انصاف كی راہ پر چلنا چاھئے، اور خوش بینی یا بدبینی میں افراط اور تفریط سے پرھیز كرنا چاھئے اور خداوند عالم سے حق كی معرفت اور حق كی راہ میں پائیداری كی خاطر مدد مانگنی چاھئے۔ 

واضح سی بات ھے كہ عرفان، تصّوف، حكمت، فلسفہ اور ان میں ایك دوسرے سے رابطہ نیز اسلام كا ان میں سے ھر ایك سے رابطہ كی تحقیق كوئی ایسا كام نھیں ھے كہ جسے ایك مقالہ میں پیش كیا جاسكے۔ اس لئے اختصار كی رعایت كرتے ھوئے مورد نظر اھم نكتوں كو بیان كرتے ھیں اور وسیع و كامل تحقیق كو كسی دوسرے موقع كے حوالہ كرتے ھیں۔ 

عرفان اور عقل كا رابطہ

ایك بنیادی مسائل میں سے كہ جو عرفان كے طرفداروں اور مخالفوں كے اختلاف كا مورد رھا ھے، وہ یہ ھے كہ عرفان سے حاصل شدہ چیزوں كے بارے میں كہ بر فرض جو درونی كشف و شھود كے ذریعہ حاصل ھوتی ھیں۔ كیا عقل كوئی قضاوت كر سكتی ھے مثال كے طور پر ان میں سے بعض كی نفی كر سكتی ھے یا نھیں؟ ان سوالوں كے جواب، اس اعتبار سے اھمیت ركتھے ھیں كہ بھت سے عرفاء ایسے مطالب كا اظھار كرتے ھیں كہ جو عقلی اعتبار سے قابل بیان نھیں ھیں اور وہ دعویٰ كرتے ھیں كہ ان چیزوں كو انھوں نے باطنی طریقہ سے حاصل كیا ھے، عقل انھیں درك نھیں كر سكتی ھے اور عقل فطری طور پر ان كے نفی و انكار كا حق بھی نھیں ركھتی ھے۔ 

اھم ترین موضوع كہ جو ایسی گفتگو میں معركۃ الآراء رھا ھے وہ (وحدت وجود “كا مسئلہ ھے جو مختلف طریقہ سے بیان ھوا ھے: ان میں سے ایك یہ كہ بنیادی طور پر خدائے متعال كے علاوہ كسی چیز كا وجود نہ ھے اور نہ ھوگا، اور جن چیزوں كو موجودات كا نام دیا جاتا ھے وہ توھّمات و خیالات سے زیادہ كچھ نھیں ھیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں كہا جاسكتا ھے كہ كوئی چیز ذات خدا سے خارج یا علم الٰھی كے حدود سے خارج وجود نھیں ركھتی ھے، اور اس طریقہ سے، ایك قسم كی كثرت، وحدت كے اندر مانی جاتی ھے۔ اس دعویٰ كی دوسری صورت جو زیادہ شائع ھے وہ یہ ھے كہ سالكِ راہ اپنی انتھائی سیر میں منزل فنا تك پھونچ جاتا ھے اور اس كے نام كے علاوہ كچھ باقی نھیں رہ جاتا، آخر كار، اس مدّعیٰ كی معتدل ترین صورت یہ ھے كہ سالك ایسے مقام پر پھونچ جاتا ھے كہ خدا كے علاوہ كسی چیز كو نھیں دیكھتا ھے اور ساری چیزیں اس كے اندر محو ھو جاتی ھیں۔ دقیق ترین تعبیر كے مطابق، تمام چیزوں كو خدائے متعال كے اندر محو مشاھدہ كرتا ھے؛ جیسے ضعیف نور كا خورشید كے نور كے اندر محو ھانا۔ ایسے مقامات پر مخالفین معمول كے مطابق عقلی دلیلوں سے استفادہ كرتے ھیں، جب كہ مدعی لوگ اس كے بارے میں آخری بات جو كہتے ھیں وہ یہ ھے كہ اس طرح كے مطالب عقل كی حدود سے بالاتر ھیں اور اس طریقہ سے، اپنے مدّعا كو عقلی طور پر سمجھانے اور واضح كرنے سے بچا لیتے ھیں۔ 

ان حالات و واقعات كو دیكھتے ھوئے یہ بنیادی سوال پیدا ھوتا ھے كہ كیا ایسے حقائق موجود ھیں عقل جن كے درك كرنے اور نفی یا اثبات كرنے كی توانائی نہ ركھتی ھو؟ جو چیز یھاں پر اختصار سے كھی جا سكتی ھے وہ یہ ھے كہ اگرچہ عقل كا سرو كار ھمیشہ مفاھیم سے رھا ھے اور عقل كا كام عینی وجود كی حقیقی معرفت اور كسی بھی خارجی مصداق كی كنہ كو پانا نھیں ھے۔۔ چہ جائیكہ خدائے متعال كے وجود كی حقیقیت۔۔ لیكن عقل كے ایجابی یا سلبی احكام اس صورت میں جب كہ بدیھی یا بدیھیات پر منتی ھو، وہ قابل نقض نھیں ھیں اور مصادیق خارجی پر مفاھیم كے طریقہ سے منطبق ھوتے ھیں، عقل كے ایسے احكام كو غلط فرض كرنے كا لازمہ تناقض ھے دوسرے الفاظ میں: گرچہ عقل كا كام كلی طور پر وجود كی شناخت نھیں ھے، لیكن مذكورہ شرط كے ساتھ فی الجملہ معرفت میں شك و تردید كو روا نھیں ركھا جا سكتا ۔ 

مزید  قرآن کی نظر میں حضرت علی(علیہ السّلام) کا مقام

ھاں، وحدت وجود كے خاص مسئلہ میں كھنا چاھئے كہ: خدائے متعال كے غیر سے وجود كی نفی اور كثرت كی بطور مطلق نفی كا لازمہ نہ صرف احكام عقل كے اعتبار كی نفی ھے بلكہ علوم حضوری كہ جو نفس، افعال و انفعالات سے متعلق ھیں ان كے اعتبار كی بھی نفی ھے۔ ایسی صورت میں، كس طرح كشف و شھود كے لئے كسی اعتبار كے قائل ھوا جاسكتا ھے، جب كہ اس كے اعتبار كی اعلیٰ ترین سند اس كا حضوری ھونا ھی ھے۔ پس وحدت وجود ایسی تفسیر كے ساتھ كسی بھی طرح قابل قبول نھیں ھے، لیكن اس كے لئے قابل قبول تفسیر كو نظر میں ركھا جا سكتا ھے كہ جو حكمت متعالیہ میں بیان كی گئی ھے، جس كا خلاصہ یہ ھے كہ مخلوقات كا وجود خدائے متعال كی بہ نسبت ربطی و تعلقی ھے، اور دقیق تعبیر كے مطابق كھا جا سكتا ھے كہ ان كا وجود عین ربط و تعلق ھے اور وہ خود كوئی استقلال نھیں ركھتے ھیں اور جس چیز كو عارف پاتا ھے وہ یھی تمام موجودات سے استقلال كی نفی ھے كہ اس كو حقیقی وجود كی نفی كا نام دیا جاتا ھے۔ 

یھاں پر سوال كو دوسرے انداز میں بیان كیا جا سكتا ھے وہ یہ كہ: كیا حكم عقل كو ضمیر و وجدان اور كشف و شھود پر مقدم جانا جا سكتا ھے؟ دوسرے الفاظ میں، كیا حكم عقل كی بنیاد پر كہ جو ایك قسم كا حصولی علم ھے، علم حضوری كے اعتبار كا انكار كیا جا سكتا ھے۔ 

جواب میں كھنا چاھئیے: خالص علم حضوری در حقیقت، خود واقعیت كو پانا ھے اس لئے قابل تخطیہ نھیں ھے، لیكن عام طور سے حضوری علم، ذھنی تفسیر كے ھمراہ ھوتا ھے، اس طرح سے كہ ان میں سے ایك دوسرے كی تفكیك و علٰیحدگی بھت زیادہ وقت كی محتاج ھے اور یہ ذھنی تفسیریں جو علوم حصولی كی قسموں میں داخل ھیں قابل خطا ھیں اور جو كچھ عقلی دلائل سے رد ھوجاتا ھے وہ یہی مشاھدات اور علوم حضوری كی ذھنی تفسریں ھیں نہ كہ وہ چیزیں بطور دقیق علم حضوری كے مورد میں واقع ھوئی ھیں، وحدت وجود كے بارے میں بھی جو چیز دقیق طور پر مورد شھود میں واقع ھوتی ھے وہ خدائے متعال سے استقلالی وجود كا مخصوص ھونا ھے كہ جس كو مسامحہ كے طور پر وجود حقیقی سے تعبیر كیا جاتا ھے اور اس كی بنیاد پر حقیقی وجود سارے موجودات سے نفی ھو جاتا ھے۔ 

لائق ذكر ھے كہ بزرگ اسلامی عرفاء نے تصریح كی ھے كہ بعض مكاشفات، شیطانی و نا معتبر اور بعض شواھد كے ذریعہ وہ مكاشكات پركھنے و تشخیص كے قابل ھیں، و بالآخر ان كو یقینی عقلی دلیلوں اور كتاب و سنت كے ذریعہ بھی پھچانا جاسكتا ھے۔ واضح رھے كہ مكاشفات و مشاھدات كے اقسام اور علوم حضوری كے انواع، نیز ذھن میں ان كے منعكس ھونے كی كیفیت، ان كی بعض ذھنی تفسیروں كے غلط وجھیں اور صحیح كی غیر صحیح سے شناخت اس مقالہ كی وسعت و حدود میں نھیں ھے۔ 

عرفان اور شریعت

ایك دوسرا اھم مسئلہ جو مناسب ھے كہ اس مقالہ كے آخر میں مورد توجہ قرار پائے وہ عملی عرفان كا شرعی احكام سے رابطہ یا طریقت كا شریعت سے رابطہ ھے ایك گروہ نے تصور كیا ھے كہ عملی عرفان كشف حقائق كا ایك مستقل راستہ ھے جو احكام شرعی كی رعایت كے بغیر مورد استفادہ قرار پاسكتا ھے اور اسلام نے بھی اس كی (بدعت مرضیّ) كے نام سے تائید كی ھے یا حد اقل اس سے منع نھیں كیا ھے، اس سلسلہ میں بعض لوگ اس قدر آگے بڑھ گئے ھیں كہ بنیادی طور پر عرفانی مقامات تك پھونچنے كے لئے كسی دین و مذھب كے پابند ھونے كی ضرورت نھیں جانتے ھیں، بعض دوسرے لوگ، ادیان میں سے كسی ایك كے پابند ھونے اور بھترین تعبیر میں، ادیان الٰھی میں سے كسی ایك سے وابستہ ھونے كو كافی جانتے ھیں۔ 

مگر اسلامی نظریہ كے مطابق، عرفانی سیر و سلوك، شریعت كے مقابل میں كوئی مستقل راستہ نھیں ھے، بلكہ اس كا دقیق و لطیف ترین حصّہ ھے اور اگر ھم اصطلاح “شریعت ” كو احكام ظاھری سے اختصاص دیں تو چاھئے كہ ھم كھیں: شریعت ھی میں طریقت یا شریعت كے باطن میں طریقت موجود ھے اور فقط احكام شریعت كی رعایت كے ذریعہ قابل تحقق و وجود ھے۔ نمونہ كے طور پر، شریعت، نماز كے احكام ظاھری كو معین كرتی ھے، جب كہ طریقت حواس كے متمركز ھونے اور اس میں حضورِ قلب، عبادات كے كمال كی شرائطوں كی ذمہ دار ھے۔ شریعت، عذاب الٰھی سے محفوظ رھنے كے لئے عبادات كو انجام دینے اور بھشتی نعمتوں تك پھنچنے پر تاكید كرتی ھے، مگر عرفان نیت كو ان چیزوں سے خالص كرنے كی تاكید كرتا ھے جو خدا كے علاوہ ھے؛ وھی چیز كہ جس كو اھل بیت(ع) كی روایات كی زبان میں(احرار كی عبادت) كا نام دیا گیا ھے، اسی طرح شریعت شرك جلی وھی بتوں كی پرستش اور اس كے مانند چیزوں كی عبادت ھے، لیكن طریقت میں، شرك خفی و اخفیٰ بیان ھوتا ھے اور ھر طرح امید غیر خدا سے ركھتا، اس كے غیر سے ڈرنا، غیر اللہ سے مدد چاھنا اور اس كے غیر سے عشق و محبت كرنا۔ اس صورت میں كہ جب یہ سب اصالت و استقلال كا پھلو ركھتے ھوں اور اللہ كے امر كی اطاعت كی بنیاد پر نہ ھوں۔ ایك قسم كا شرك شمار ھوتا ھے۔ 

اس بنا پر، بدعتوں كے انواع و اقسام اور ساختگی آئین و مذاھب نہ صرف یہ كہ مطلوب نھیں ھیں بلكہ حقیقی عرفان تك پھونچنے میں مانع بھی ھیں، چہ جائیكہ ان امور سے استفادہ كیا جائے كہ جو صریحی اور یقینی طور پر مورد نھی و تحریم واقع ھوئے ھیں، گرچہ ممكن ھے كہ بعض كام وقتی طور پر عرفانی حالات پیدا كریں مگر اس كا انجام اچھا نھیں ھے اور ممكن ھے كہ انتھائی سقوط و انحطاط كے لئے شیطانی جال ھو اور ان كے مكر و فریب میں نھیں آنا چاھئے، خلاصۂ كلام یہ كہ حق كا راستہ وھی ھے كہ جس كو خدائے متعال نے بیان فرمایا ھے: فماذا بعد الحق الاّ الضّلال (یونس، ۳۲) “اور حق كے بعد ضلالت كے سوا كچھ نھیں ھے” 

تبصرے
Loading...