اسلامی تمدن میں تعلیم و تربیت کے مقامات

0 2

گھر: نزول وحی کے بعد رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف لاے جس کے بعد حضرت خدیجہ ایمان لے آئيں اس طرح گھر کو سب سے پہلے تعلیم تربیت کی جگہ ہونے کا شرف ملا۔  اس کے علاوہ سب سے پہلے فقہی مدرسے کی بنیاد مکہ مکرمہ میں ارقم بن ابی الارقم کے گھر میں رکھی گئي  ۔

اسلام میں گھر کو ھمیشہ سے تعلیم و تربیت کے مرکز کی حیثیت سے اھمیت اصل رھی ہے ۔

مسجد : ابتدائے تاسیس سے ہی مسجد دینی امور کے علاوہ مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کا بھی مرکز رہی ہے دراصل مسجد اسلامی ثقافت کو پھیلانے کا مرکز رہی ہے اور صدر اسلام سے تیسری ھجری تک مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کا اھم ترین مرکز تھی مسجدوں میں ہی مسلمانوں کے تمام علمی سیاسی اور اجتماعی مسائل حل ہوا کرتے تھے ۔

پیغمبر اسلام اکثر مسجد میں ہی خطبے ارشاد فرمایا کر مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کا اھتمام فرمایا کرتے تھے خلفا اور صحابہ کے دور میں بھی یہی روش جاری رہی کیونکہ مسلمانوں کو تعلیم دینے کا یہ اھم ترین ذریعہ تھا اسلامی قلمرو میں بڑے بڑے شہروں میں عظیم مسجدیں تھیں جن میں بزرگ علماو مدرسین طلبا کو تعلیم و تربیت دیا کرتے تھے ۔

مکتب: بلاذری نے فتوح البلدان میں مکتب کا تذکرہ کیا ہے جھان ان پڑہ لوگوں کو پڑھنا لکھنا سکھا یا جاتا تھا  مکتب ہی میں بچوں کو بھی تعلیم دی جاتی تھی اور حروف تہجی کے بعد انہیں سب سے پہلے قرآن پڑھایا جاتا تھا  اس طرح کے مکتب اسلام سے پہلے بھی تھے ، اھل مکہ میں سب سے پہلے جس نے لکھنا سیکھا وہ سفیان تھا جس کا تعلق بنی امیہ سے تھا  ابن خلدون کا کہنا ہے کہ اس نے حیرہ میں اسلم بن سدرہ سے لکھنا سیکھا۔

مزید  مقاصدِ شریعت

اندلس اور مشرقی اسلامی ممالک میں مکتبی دروس کے علاوہ عربی نظم و نثر، قواعد عرب اور خط کی تعلیم بھی دی جاتی تھی  ۔

مکتب میں تعلیم حاصل کرنے کے لۓ کسی طرح کی شرط نہیں تھی معاشرے کے تمام طبقے مکتب میں ساتھ بیٹھ کر علم حاصل کیا کرتے تھے اس روش پر متوکل عباسی کے زمانے تک عمل کیا جاتا رہا لیکن اس نے 235 ھجری قمری میں پابندی لگادی کہ اھل ذمہ کے بچے مکتب میں داخلہ نہیں لے سکتے  ۔

مدرسہ : مسجد مسلمانوں کے تمام اجتماعی و دینی کاموں کا مرکزتھی مسلمانوں میں حصول علم کا اشتیاق بڑھنے کی وجہ سے مسجد میں تشنگان علم کی تعداد بھی بڑھنے لگی جس سے لوگوں کی عبادت میں خلل آنے لگا تو مسجد کے کنارے ایک کمرہ بنایا گيا جسے مدرسہ کا نام دیا گيا البتہ مسجد و مدرسہ میں فن تعمیر کے لحاظ سے کوئي فرق نہیں ہوتا تھا اور آج بھی عالم اسلام کے بعض عظیم علمی مراکز جیسے الازھر مدرسہ بھی ہیں اور مسجد بھی  شہر کے مرکزی مدرسہ اور مسجد میں جمعہ کے دن وعظ و نصیحت کے جلسے منعقد ہواکرتے تھے  ۔

459 ھجری قمری میں سلجوقی وزیرنظام الملک نے بغداد میں پہلا مدرسہ قائم کیا ایرانیوں نے بھی چوتھی ھجری قمری کے بعد رائج علوم کی تعلیم کے لۓ مدارس قائم کۓ ان مدرسوں میں ابو حاتم بستی کے مدرسے کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے، سلجوقیوں کے دور میں مدرسوں کی تعمیر کا سلسلہ بند نہیں ہوا بلکہ ان کے بعد آنے والے اتابک خاندان نے بھی یہ کام جاری رکھا ۔ نورالدین زنگی نے سب سے پہلے دمشق میں مدرسہ تعمیر کیا  ۔

مزید  عورت اور حجاب

ان مکانوں کے علاوہ کچھہ اور بھی مکان تھے جھان تعلیم و تربیت کا کام کیا جاتا تھا ان مقامات پر اسلامی سرزمینوں میں مدرسوں کے رواج سے قبل تعلیمی کام کیا جاتاتھا ۔

قرآن و دینی تعلیم کا مکتب خانہ : ڈاکٹر شلبی کا کہنا ہے کہ عالم اسلام میں دوطرح کے مکتب ہواکرتے تھے ،ایک مکتب وہ تھا جس میں بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھایا جاتا تھا اور دوسرا مکتب وہ تھا جس میں قرآن اور دینی مسائل کی تعلیم دی جاتی تھی GOLDZIHER نے بھی ان مکاتب کا ذکر کیا ہے  ۔

کتابوں کی دکانیں اور بازار : زمانہ جاھلیت کے بازاروں جیسے عکاظ ، مجنہ، اور ذی المجاز اور اسلامی زمانے کی کتابوں کی دکانوں میں کچھہ شباھتیں دیکھی جاتی سکتی ہیں تاھم جاھلی عرب اپنے بازاروں میں تجارت کی غرض سے جمع ہوا کرتے تھے لیکن اس موقع سے فائدہ اٹھاکر حماسی اشعار پڑھنے اور مناظرات کرنے کے علاوہ خطبے بھی دیا کرتے تھے، ظہور اسلام کے بعد یہ بازار تدریجا تجارتی صورت سے خارج ہوکر علمی و ثقافتی گفتگو کے مرکز میں تبدیل ہوگۓ  ۔

ادبی مجالس : بظاہر بنی امیہ کے زمانے میں رائج ہوئیں اور بنی عباس کے زمانے میں عروج کو پہنچیں البتہ خلفاء راشدین کے زمانے میں ان کی داغ بیل ڈالی گئي تھی ۔

علماء و دانشوروں کے گھر : عالم اسلام میں دانشوروں کا گھر ھمیشہ سے علمی بحث و مباحثہ کا مرکز رھا ہے اس کی ھزاروں مثالیں دی جا سکتی ہیں جوزجانی ابن سینا کے شاگرد کہتے ہیں کہ ان کے گھر میں ہر رات مجلس درس و مباحثہ سجتی تھی اور چونکہ ابن سینا دن کو شمس الدولہ کے پاس رھا کرتے تھے اس وجہ سے رات کو پڑھایا کرتے تھے ۔

مزید  کلام نور۔ 14 (سورۂ بقرہ 23 ۔ 22 )(قرآنی پیغام)

بادیہ : اسلامی فتوحات کے بعد عرب و عجم قوموں کا اختلاط وجود میں آیا جس کی بناپر عربی زبان میں کافی تبدیلیاں آئیں عجمی قوموں کے لۓ دینی فریضے انجام دینے کے لۓ عربی سیکھنا واجب تھا لیکن یہ لوگ صحیح طرح سے عربی بولنے پر قادر نہیں تھے لھذا عربی زبان گویا بگڑ گئي تھی اور بقول جاحظ کے ایک ایسی زبان وجود میں آئي جسے وہ مولدین یا بلدیین کی زبان کہتے ہیں بنابريں لوگوں کو اگر خالص عربی سیکھنا ہوتی تھی تو وہ بادیہ نشینوں کے پاس جاکر عربی سیکھا کرتے تھے اور پہلی دوصدیوں میں بادیہ دور حاضر کے مدرسہ کا کردار ادا کرتا تھا.

فلیپ ھٹی کہتے ہیں کہ شام کا صحرا بنی امیہ کے امرا کا مدرسہ تھا اور معاویہ اپنے بیٹے یزید کو اس صحرا میں بھیجا کرتا تھا۔

کسائي نے جب خلیل ابن احمد سے سوال کیا کہ تم نے (زبان عرب کا) علم کہاں حاصل کیا تو انہوں نے کہا کہ حجاز و نجد و تھامہ کے صحراوں میں  ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.