اسلامی انقلاب سے بیداری ملی

0 0

امام خمینی رح کے ذریعے دنیا کے گوشے گوشے میں مسلمان قوموں کی بیداری بالخصوص اسلامی انقلاب کے عالمی پیغام کے بارے میں محروم ومستضعف قوموں کے افکار میں تبدیلی نئے استعمار جو اس کوشش میں تھا کہ قوموں کو خواب غفلت میں رکھے اور دین کو معاشرے کیلئے افیون یا زیادہ سے زیادہ انفرادی عبادت کے دستور العمل ثابت کرے، پر کاری ضرب تھی۔ یہ ضرب

   امام خمینی رح کے ذریعے دنیا کے گوشے گوشے میں مسلمان قوموں کی بیداری بالخصوص اسلامی انقلاب کے عالمی پیغام کے بارے میں محروم ومستضعف قوموں کے افکار میں تبدیلی نئے استعمار جو اس کوشش میں تھا کہ قوموں کو خواب غفلت میں رکھے اور دین کو معاشرے کیلئے افیون یا زیادہ سے زیادہ انفرادی عبادت کے دستور العمل ثابت کرے، پر کاری ضرب تھی۔ یہ ضرب اس بات کا باعث بنی کہ یورپ کی بڑی حکومتوں، امریکہ اور صیہونزم نے دنیا بھر میں بہت بڑا سرمایہ ایسے تحقیقاتی مراکز کے قیام میں لگایا جن میں مشرق اور اسلام کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ ہوتا تاکہ دنیا بھر میں اس انقلاب کی روک تھام اور اسے ناکام بنانے کے طریقہ ڈھونڈ کر عملی اقدامات کرسکیں۔
      امریکہ کو انقلاب اسلامی کے عالمی پیغام سے اس قدر شدید خطرہ لاحق تھا کہ ریگن کی حکومت میں امریکی وزیر جنگ ”کیسپیروئن برگر” نے ٢٣ اکتوبر ١٩٨٧ ء کو ایران پر مسلّط کردہ عراق کی جنگ میں عراقی حکومت کی حمایت کی علامت کے طورپر خلیج فارس میں امریکی فوجوں کی طرف سے ایک ایرانی کشتی پر حملے کے بعد امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے نمائندہ اجلاس میں اس حملے کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے ایرانی قوم کو تباہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا اور کہا: ”بائیکاٹ کو جاری رکھتے ہوئے ایران کی جنگی صلاحیت کو ختم کر دینا چاہیے اور حقیقت میں ایرانی قوم کو تباہ کر دینا چاہیے!”
   انقلاب اسلامی ایران کے مقابلے میں امریکہ کے اس ردعمل کا تعلّق سامراجی طاقتوں کے تسلّط سے پاک عالمی نظام کی راہ ہموار ہونے کہ جو قوموں کے افکار پر امام خمینی ؒ کے نظریات کے اثرانداز ہونے کا نتیجہ ہے، کے ساتھ ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے نیوورلڈ آڈر اور اس ملک کے جاسوسی کے ادارے “CIA” کے ڈائریکٹر کی جانب سے کھلی دھمکی کہ ”پوری دنیا میں ”سی آئی اے” اپنے لیے مداخلت کا حق محفوظ رکھتی ہے اور امریکہ دنیا بھر میں جہاں بھی ضروری سمجھے لشکر کشی کر سکتا ہے”٥٣؎ اسی زمرے میں آئی ہے۔ اس کے علاوہ ١٩٩٥ ء سے امریکی کانگریس نے ٢٠ ملین ڈالرز کا سالانہ بجٹ امریکی حکومت کو دیا تاکہ اسے اسلامی حکومت کا تختہ الٹنے سے متعلق اقدامات پر خرچ کیا جائے۔
   واضح ہے کہ اس مسئلے کا تعلّق صنعتی دنیا کی زندگی سے ملانا اسلامی انقلاب کے چہرے کو مسخ کرنے کا ایک تشہیراتی ہتھکنڈہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی انقلاب نے قوموں میں اثر ورسوخ اور دنیا میں بیداری پیدا کر کے مغرب کہ جو اس انقلاب کو اسلامی بنیاد پرستی کا نام دیتا ہے بالخصوص امریکہ کے ناجائز مفادات کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ( جاری ہے )

مزید  ولایت فقیہ اور نیو اسلامک سویلائزیشن کی طرف بڑھتے ہوئے قدم (حصہ دوئم) 



source : tebyan

تبصرے
Loading...