اسلامي گھرانہ اور خانداني نظام زندگي

0 0

ہر وہ ملک جس ميں گھرانے کي بنياديں مستحکم ہوں تو اُس ملک کي بہت سی مشکلات خصوصاً اخلاقي مشکلات اُس مستحکم اورصحيح و سالم گھرانے کي برکت سے دور ہوجائيں گی 

اسلام ميں ايک معاشرے کي اصل اکائي گھرانہ ہے ۔يہي وجہ ہے کہ اسلام گھرانے اور خاندان کے استحکام کو بہت زيادہ اہميت ديتا ہے ۔ اس ليے کہ گھرانہ، آرام و سکون و آسائش ، امن ، تربيت و ايمان اور معنويت کي پرورش کا اور روحي اور نفسياتي مشکلات کے حل کي جگہ ہے ۔ يہ خاندان ہي ہے جہاں ثقافت ، اعتقادات، خانداني روايتيں اور آداب و روسوم اگلي نسلوں تک منتقل ہوتے ہيں ۔ يہي وہ مقام ہے کہ جہاں کھوئي ہوئي طاقت کو بحال کيا جاتا ہے، ارادوں کو مضبوط بنايا جاتا ہے اور خوشبختي اور بہشت بريں کا راستہ اسي گھرانے سے ہو کر گزرتا ہے ۔ اسلام نے گھر کے ماحول ميں شادابي و نشاط اورمعنويت و محبت پر بہت زيادہ تاکيد کي ہے ۔

پہلي فصل

اسلام ميں گھرانے اور خاندان کي اہميت

گھرانہ ، کلمہ طيبہ يا پاکيزہ بنياد

گھرانہ، کلمہ طيبہ ١ کي مانند ہے اور کلمہ طيبہ کي خاصيت يہ ہے کہ جب يہ وجود ميں آتا ہے تو مسلسل اس کے وجود سے خير وبرکت اورنيکي ملتي رہتي ہے اوروہ اپنے اطراف کي چيزوں ميں نفوذ کرتا رہتا ہے ۔ کلمہ طيبہ وہي چيزيں ہيں کہ جنہيں خداوند متعال نے انسان کي فطري ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کي صحيح بنيادوں کے ساتھ اُسے تحفہ ديا ہے ۔ يہ سب کلمہ طيبہ ہيں خواہ وہ معنويات ہوں يا ماديات ٢ ۔

گھرانہ ، انساني معاشرے کي اکائي

جس طرح ايک انساني بدن ايک اکائي ’’سيل ‘‘ يا ’’خليے‘‘ سے تشکيل پاتا ہے اور ان خليوں کي نابودي ،خرابي اور بيماري خودبخود اور فطري طور پر بدن کي بيماري پر اختتام پذير ہوتي ہے ۔ اگر ان اکائيوں ’’خليوں‘‘ ميں پلنے والي بيماري بڑھ جائے تو خطرناک شکل ميں بڑھ کر پورے انساني بدن کيلئے خطرے کا باعث بن سکتي ہے ۔ اسي طرح انساني معاشرہ بھي اکائيوں سے مل کر بنا ہے جنہيں ہم ’’گھرانہ ‘‘ کہتے ہيں اور گھرانہ انسان کے معاشرتي بدن کي اکائي ہے ۔ جب يہ صحيح و سالم ہوں گے اور صحيح اور اچھا عمل انجام ديں گے تو معاشرے کا بدن بھي يقينا صحيح و سالم ہوگا۔ ٣

————-

١ سورہ ابراہيم کي آيت ٢٤ کي طرف اشارہ ہے کہ ’’اللہ تعاليٰ نے کلمہ طيبہ کي مثال پيش کہ ہے کہ جيسے ايک شجر طيبہ کہ جس کي جڑيں زمين ميں مستحکم ہوں اور شاخيں آسمان پر پھيلي ہوئي ہوں ۔۔۔۔‘‘ ٢ خطبہ نکاح 6/3/2000

٣ خطبہ نکاح 29/5/2002

اچھا گھرانہ اور اچھا معاشرہ

اگر کسي معاشرے ميں ايک گھرانے کي بنياديں مستحکم ہوجائيں،مياں بيوي ايک دوسرے کے حقوق کا خيال رکھيں ،آپس ميں خوش رفتاري،اچھے اخلاق اور باہمي تعاون سے پيش آئيں، مل کر مشکلات کو حل کريں اوراپنے بچوں کي اچھي تربيت کريں تو وہ معاشرہ بہتر صورتحال اور نجات سے ہمکنار ہوگا اور اگر معاشرے ميں کوئي مصلح موجود ہوتو وہ معاشروں کي اصلاح کرسکتا ہے ۔ ليکن اگر صحيح و سالم اور اچھے گھرانے ہي معاشرے ميں موجود نہ ہوں تو کتنے ہي بڑے مصلح کيوں نہ آجائيں وہ معاشرے کي اصلاح نہيں کرسکتے ۔ ١

ہر وہ ملک جس ميں گھرانے کي بنياديں مستحکم ہوں تو اُس ملک کي بہت سی مشکلات خصوصاً اخلاقي مشکلات اُس مستحکم اورصحيح و سالم گھرانے کي برکت سے دور ہوجائيں گی يا سرے ہي سے وجود ميں نہيں آئيں گي۔٢

گھر کو بسانا دراصل انسان کي ايک اجتماعي ضرورت ہے ۔ چنانچہ اگر کسي معاشرے ميں ’’گھرانے‘‘ صحيح و سالم اور مستحکم ہوں ، حالات زمانہ اُن کے پائے ثبات ميں لغزش پيدا نہ کريں اور وہ مختلف قسم کي اجتماعي آفات سے محفوظ ہوں تو ايسا معاشرا اچھي طرح اصلاح پاسکتا ہے، اس کے باشندے فکري رشد حاصل کرسکتے ہيں، وہ روحاني لحاظ سے مکمل طور پر صحيح و سالم ہوں گے اور وہ ممکن ہے کہ نفسياتي بيماريوں سے بھي دور ہوں ۔ ٣

گھرانہ، روح و ايمان اور پاکيزہ فکر وخيال کي بہترين پرورش گاہ

اچھے گھرانوں سے محروم معاشرہ ايک پريشان، غير مطمئن اور زبوں حالي کا شکار معاشرہ ہے اور ايک ايسا معاشرہ ہے کہ جس ميں ثقافتي ، فکري اور عقائدي ورثہ آنے والي نسلوں تک با آساني منتقل نہيں ہوسکتا ۔ ايسے معاشرے ميں انساني تربيت کے بلند مقاصد حاصل نہيں ہوپاتے يا اُس ميں صحيح و سالم گھرانوں کا فقدان ہوتا ہے يا پھر اُن کي بنياديں متزلزل ہوتي ہيں ۔ ايسے معاشروں ميں انسان اچھے تربيتي مراکز اور پرورش گاہوں ميں بھي اچھي پرورش نہيں پاسکتے ۔ ٤

صحيح وسالم گھرانے کا فقدان اس بات کا سبب بنتا ہے کہ نہ اُس ميں بچے صحيح پرورش پاتے ہيں اور نہ ہي نوجوان اپني صحيح شخصيت تک پہنچ سکتے ہيں اور انسان بھي ايسے گھرانوں ميں کامل نہيں بنتے ۔ اس گھر سے تعلق رکھنے والے مياں بيوں بھي صالح اور نيک نہيں ہوں گے، اس گھر ميں اخلاقيات کابھي فقدان ہوگا اور گزشتہ نسل کے اچھے اورقيمتي تجربات اگلي نسلوں تک منتقل نہيں ہوسکتے ۔ ١ جب ايسے معاشرے ميں اچھے گھرانے موجود نہ ہوں تو جان ليجئے کہ اس معاشرے ميں ايمان اور دينداري کو وجود ميں لانے کا کوئي مرکز موجود نہيں ہے ۔ ٢

——————

١ خطبہ نکاح 5/9/1993

٢ خطبہ نکاح 23/11/1997

 

٣ خطبہ نکاح 23/8/1995

٤ خطبہ نکاح 1/1/1996

ايسے معاشرے کہ جن ميں گھرانوں کي بنياديں کمزور ہيں يا جن ميں اچھے گھرانے سرے ہي سے وجود نہيں رکھتے يا اگر ہيں تو ان کي بنياديں متزلزل ہيںتو وہ معاشرے نابوي کے دھانے پر کھڑے ہيں ۔ ايسے معاشروں ميں نفسياتي الجھنوں اور بيماريوں کے اعداد و شمار اُن معاشروں کي بہ نسبت زيادہ ہيں جن ميں اچھے اور مستحکم گھرانے موجود ہيں اور مرد و عورت ’’ گھرانے‘‘ جيسے ايک مضبوط مرکز سے متصل ہيں ۔ ٣

گھرانہ ، سکون اور اصلاح کا مرکز

انساني معاشرے ميں گھرانہ بہت اہميت اور قدر وقيمت کا حامل ہے ۔ آنے والي نسلوں کي تربيت اور معنوي،فکري اور نفسياتي لحاظ سے صحيح و سالم انسانوں کي پرورش کيلئے گھرانے کے فوائد تک نہ کوئي پہنچ سکتا ہے اور نہ ہي کوئي چيز تعليم و تربيت کے ميدان ميںگھر و گھرانے کي جگہ لے سکتي ہے ۔ جب خانداني نظام زندگي بہتر انداز ميں موجود ہو تو ان کروڑوں انسانوں ميں سے ہر ايک کيلئے ديکھ بھال کرنے والے (والدين جيسے دو شفيق موجود) ہميشہ ان کے ہمراہ ہوں گے کہ جن کا کوئي نعم البدل نہيں ہوسکتا۔ ٤

’’گھرانہ‘‘ايک امن و امان کي وادي محبت اور پُر فضا ماحول کا نام ہے کہ جس ميں بچے اوروالدين اس پُر امن ماحول اور قابل اعتماد فضا ميں اپني روحي و فکري اور ذہني صلاحيتوں کو بہتر انداز ميں محفوظ رکھتے ہوئے اُن کي پرورش اور رُشد کا انتظام کرسکتے ہيں ۔ ليکن جب خانداني نظام کي بنياديں ہي کمزور پڑجائيں تو آنے والي نسليں غير محفوظ ہوجاتي ہيں ۔ ٥

انسان تربيت، ہدايت اور کمال وترقي کيلئے خلق کيا گيا ہے اور يہ سب اہداف صرف ايک پر امن ماحول

————

١ خطبہ نکاح 20/5/2000

٢ خطبہ نکاح 1/2/1993

٣ خطبہ نکاح 12/3/2000

٤ خطبہ نکاح 25/5/2000

٥ خطبہ نکاح 9/3/1997

ميں ہي حاصل ہوسکتے ہيں ۔ايسا ماحول کہ جس کي فضا کو کوئي نفسياتي الجھن آلودہ نہ کرے اور ايسا ماحول کہ جس ميں انساني صلاحيتيں اپنے کمال تک پہنچ سکيں ۔ ان مقاصد کے حصول کيلئے ايسے ماحول کاوجود لازمي ہے جس ميں تعليمات ايک نسل کے بعد دوسري نسل ميں منعکس ہوں اور انسان بچپن ہي سے صحيح تعليم ، مددگار نفسياتي ماحول اور فطري معلموں يعني والدين کے زير سايہ تربيت پائے جو عالم دنيا کے تمام انسانوں سے زيادہ اس پر مہربان ہيں ۔ ١

اگرمعاشرے ميں صحيح خانداني نظام رائج نہ ہوتو انساني تربيت کے تمام اقدامات ناکام ہوجائيں گے اور اُس کي تمام روحاني ضرورتوں کو مثبت جواب نہيں ملے گا۔ يہ وجہ ہے کہ انساني تخليق اور فطرت ايسي ہے کہ جو اچھے گھرانے، صحيح و کامل خانداني نظام کے پر فضا اور محبت آميز ماحول اور والدين کي شفقت و محبت کے بغير صحيح و کامل تربيت ، بے عيب پرورش اورنفسياتي الجھنوں سے دور اپني لازمي روحاني نشوونما تک نہيں پہنچ سکتي ہے ۔ انسان اپني باطني صلاحيتوں اور اپنے احساسات و جذبات کے لحاظ سے اُسي وقت مکمل ہو سکتا ہے کہ جب وہ ايک مکمل اور اچھے گھرانے ميں تربيت پائے ۔ ايک مناسب اور اچھے خانداني نظام کے تحت چلنے والے گھر ميں پرورش پانے والے بچوں کيلئے کہا جاسکتا ہے کہ وہ نفسياتي لحاظ سے صحيح و سالم اور ہمدردي اور مہرباني کے جذبات سے سرشار ہوں گے ۔ ٢

ايک گھرانے ميں تين قسم کے انسانوں کي اصلاح ہوسکتي ہے ۔ ايک مرد ہيں جو اس گھر کے سرپرست يا والدين ہيں، دوسرے درجے پر خواتين جو ماوں کا کردار ادا کرتي ہيں اور تيسرے مرحلے پر اولاد جو اس معاشرے کي آنے والے نسل ہے ۔ ٣

اچھے گھرانے کي خوبياں

ايک اچھا گھرانہ يعني ايک دوسرے کي نسبت اچھے، مہربان، پرخلوص جذبات اور احساسات کے مالک اور ايک دوسرے سے عشق و محبت کرنے والے مياں بيوي جو ايک دوسرے کي جسماني اور روحاني حالت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ضرورت کے مطابق ايک دوسرے کي مدد کريں،ايک دوسرے کي فعاليت،کام کاج اور ضرورتوں کو اہميت ديں اور ايک دوسرے کو آرام و سکون اور بہتري اوربھلائي کو مدنظر رکھيں ۔

مزید  قرآن سے ایک نمونہ

———–

١ خطبہ نکاح 11/8/1997 ٢ خطبہ نکاح 25/11/1995 ١ خطبہ نکاح 9/5/1995

دوسرے درجے پر اس گھر ميں پرورش پانے والي اولاد ہے کہ جس کي تربيت کيلئے وہ احساس ذمے داري کريں اور مادي اور معنوي لحاظ سے اسے صحيح و سالم پرورش کا ماحول فراہم کريں ۔ اُن کي خواہش يہ ہوني چاہيے کہ اُن کے بچے مادي اور معنوي لحاظ سے بہتري اور سلامتي تک پہنچيں،وہ اپني اولاد کو بہترين تعليم و تربيت ديں، انہيں مودب بنائيں، اچھے طريقوں سے اپني اولاد کو بُرے کاموں کي انجام دہي سے روکيں اور بہترين صفات سے اُن کي روح کو مزين کريں ۔ ايک ايسا گھرانہ دراصل ايک ملک ميں ہونے والي تمام حقيقي اصلاحات کي بنياد فراہم کرسکتا ہے ۔ چونکہ ايسے گھرانوں ميں اچھے انسان ہي تربيت پاتے ہيں اور وہ بہترين صفات کے مالک ہوتے ہيں ۔ جب کوئي معاشرہ شجاعت، عقلي استدلال ، فکري آزادي، احساس ذمے داري، پيارو محبت، جرآت و بہادري، وقت پر صحيح فيصلہ کرنے کي صلاحيت، دوسروں کي خير خواہي اور اپني خانداني پاکيزگي اور نجابت کے ساتھ پرورش پانے والے لوگوں کا حامل ہو تو وہ کبھي بدبختي اورروسياہي کي شکل نہيں ديکھے گا۔ ١

اچھے خانداني نظام ميں ثقافت کي منتقلي کي آساني

ايک معاشرے ميں اُس کي تہذيب وتمدن اور ثقافت کے اصولوں کي حفاظت اور آئندہ نسلوں تک اُن کي منتقلي اچھے گھرانے يا بہترين خانداني نظام کي برکت ہي سے انجام پاتي ہے ۔ ٢

رشتہ ازدواج ميں نوجوان لڑکے اور لڑکي کے منسلک ہونے کا سب سے بہترين فائدہ ’’گھر بسانا‘‘ ہے ۔ اس کا سبب بھي يہي ہے کہ ايک معاشرہ اچھے گھرانوں، خانداني افراد اور بہترين نظام تربيت پر مشتمل ہو تو وہ بہترين معاشرہ کہلائے جانے کا مستحق ہے اور وہ اپنے تاريخي اور ثقافتي خزانوں اور ورثے کو بخوبي احسن اگلي نسلوں تک منتقل کرے گا اور ايسے معاشرے ميں بچے بھي صحيح تربيت پائيں گے ۔ چنانچہ وہ ممالک اور معاشرے کہ جہاں خانداني نظام مشکلات کا شکار ہوتا ہے تو وہاں ثقافتي اور اخلاقي مسائل جنم ليتے ہيں ۔ ٣

اگر موجودہ نسل اس بات کي خواہشمند ہو کہ وہ اپني ذہني اورفکري ارتقا ، تجربات اور نتائج کو آنے والي نسلوں تک منتقل کرے اور ايک معاشرہ اپنے ماضي اور تاريخ سے صحيح معني ميں فائدہ حاصل کرے تو يہ صرف اچھے گھرانوں يا اچھے خانداني نظام کے ذريعے ہي ممکن ہے ۔ گھر کي اچھي فضا ميں اس معاشرے کي ثقافتي اورتاريخي بنيادوں پر ايک انسان اپنے تشخص کو پاتا ہے اور اپني شخصيت کي تعمير کرتا ہے ۔ يہ والدين ہي ہيں جو غير مستقيم طور پر بغير کسي جبر اور تصنع (بناوٹ) کے فطري اور طبيعي طور پر اپنے فکري مطالب، عمل، معلومات اور تمام مقدس امور کو آنے والي نسلوں تک منتقل کرتے ہيں ۔ ١

———–

١ خطبہ نکاح3/3/1998

٢ خطبہ نکاح15/4/1998

٣ خطبہ نکاح 15/4/1998

خوشحال گھرانہ اور مطمئن افراد

اسلام ’’گھرانے‘‘ پر مکمل توجہ ديتا ہے اور گھرانے پر اس کي خاص الخاص نظر اپنے پورے اہتمام کے ساتھ جمي ہوئي ہے کہ جس کي وجہ سے خانداني نظام يا گھرانے کو انساني حيات ميں مرکزيت حاصل ہے ۔اسي ليے اس کي بنيادوں کو کمزور يا کھوکھلا کرنے کو بدترين فعل قرار دياگيا ہے ۔ ٢

اسلام ميں گھرانے کا مفہوم يعني ايک چھت کے نيچے دو انسانوں کي سکونت ،دو مختلف مزاجوں کا بہترين اور تصوراتي روحاني ماحول ميں ايک دوسرے کا جيون ساتھي بننا، دو انسانوں کے اُنس و اُلفت کي قرار گاہ اور ايک انسان کے ذريعے دوسرے انسان کے کمال اور معنوي ترقي کا مرکز ، يعني وہ جگہ کہ جہاں انسان پاکيزگي حاصل کرے اور اُسے روحاني سکون نصيب ہو ۔ يہ ہے اسلام کي نظر اور اسي ليے اس مرکز ’’گھرانے‘‘ کو اتني اہميت دي ہے ۔٣

قرآن کے بيان کے مطابق اسلام نے مرد وعورت کي تخليق ،ان کے ايک ساتھ زندگي گزارنے اور ايک دوسرے کا شريک حيات بننے کو مياں بيوي کيلئے آرام و سکون کا باعث قرار ديا ہے ۔ ٤

قرآن ميں ارشاد خداوندي ہے کہ ’’وَجَعَلَ مِنھَا زَوجَھَا لِيَسکُنَ اِلَيھَا‘‘۔ ٥ جہاں تک مجھے ياد ہے کہ قرآن ميں دو مرتبہ ’’سکون‘‘ کي تعبير آئي ہے ۔ ’’وَمِن آيَاتِہِ خَلَقَ لَکُم مِن آَنفُسَکُم آَزوَاجًا لِتَسکُنُوا اِلَيھَا‘‘٦ خداوند عالم نے انساني جوڑے کو اس کي جنس (انسانيت) سے ہي قرار ديا ہے ۔يعني عورت کا جوڑا مرد اور مرد کا جوڑا عورت تاکہ ’’لِيَسکُنَ اِلَيھَا‘‘ يعني يہ انسان خواہ مرد ہو يا عورت ،اپنے مياں يا بيوي سے آرام وسکون حاصل کرے ۔ ١

———-

١ خطبہ نکاح 5/1/2001

٢ خطبہ نکاح 5/1/2001

٣ خطبہ نکاح 25/12/2005

٤ خطبہ نکاح 27/11/1997 ٥ سورہ اعراف/ ١٨٩ ٦ سورہ روم / ٢١

يہ آرام و سکون دراصل باطني اضطراب کي زندگي کے پر تلاطم دريا سے نجات و سکون پانے سے عبارت ہے ۔ زندگي ايک قسم کا ميدان جنگ ہے اور انسان اس ميں ہميشہ ايک قسم اضطراب و پريشاني ميں مبتلا رہتا ہے لہٰذا يہ سکون بہت اہميت کا حامل ہے ۔ اگر يہ آرام و سکون انسان کو صحيح طور پر حاصل ہوجائے تو اُس کي زندگي سعادت و خوش بختي کو پالے گي، مياں بيوي دونوں خوش بخت ہوجائيں گے اور اس گھر ميں پيدا ہونے والے بچے بھي بغير کسي نفسياتي دباو اور الجھن کے پرورش پائيں گے اور خوش بختي اُن کے قدم چومے گي۔ صرف مياں بيوي کے باہمي تعاون، اچھے اخلاق و کردار اور پرسکون ماحول سے اس گھرانے کے ہر فرد کيلئے سعادت و خوش بختي کي زمين ہموار ہوجائے گي۔ ٢

گھرانہ ، زندگي کي کڑي دھوپ ميں ايک ٹھنڈي چھاوں

جب مياں بيوں دن کے اختتام پر يا درميان ميں ايک دوسرے سے ملاقات کرتے ہيں تو دونوں ايک دوسرے سے يہي اميد رکھتے ہيں کہ اُنہوں نے گھر کے ماحول کو خوش رکھنے، اُسے زندہ رکھنے اور تھکاوٹ اورذہني الجھنوں سے دور کرکے اُسے زندگي گزارنے کے قابل بنانے ميں اپنا اپنا کردار موثر طريقے سے ادا کيا ہوگا تو ان کي ايک دوسرے سے توقع بالکل بجا اور درست ہے ۔ اگر آپ بھي يہ کام کرسکيں تو حتماً انجام ديں کيونکہ اس سے زندگي شيريں اور ميٹھي ہوتي ہے ۔ ٣

انساني زندگي ميں مختلف ناگزير حالات و واقعات کي وجہ سے طوفان اٹھتے رہتے ہيں کہ جس ميں وہ ايک مضبوط پناہ گاہ کا متلاشي ہوتا ہے ۔ مياں بيوں کا جوڑا اس طوفان ميں ايک دوسرے کي پناہ ليتا ہے ۔ عورت اپنے شوہر کے مضبوط بازووں کا سہارا لے کر اپنے محفوظ ہونے کا احساس کرتي ہے اور مرد اپني بيوي کي چاہت و فداکاري کي ٹھنڈي چھاوں ميں سکھ کا سانس ليتا ہے ۔ مرد اپني مردانہ کشمکش والي زندگي ميں ايک ٹھنڈي چھاوں کا ضرورت مند ہے تاکہ وہاں کي گھني چھاوں ميں تازہ دم ہوکر دوبارہ اپنا سفر شروع کرے ۔ يہ ٹھنڈي چھاوں اُسے کب اور کہاں نصيب ہوگي؟ اس وقت کہ جب وہ اپنے گھر کي عشق و اُلفت اور مہرباني و محبت سے سرشار فضا ميں قدم رکھے گا ، جب وہ اپني شريک حيات کے تبسم کو ديکھے گا کہ جو ہميشہ اس سے عشق و محبت کرتي ہے، زندگي کے ہر اچھے برے وقت ميں اُس کے ساتھ ساتھ ہے، زندگي کے ہر مشکل لمحے ميں اس کے حوصلوں ميں پختگي عطا کرتي ہے اور اُسے ايک جان دو قالب ہونے کا احساس دلاتي ہے ۔ يہ ہے زندگي کي ٹھنڈي چھاوں ۔١

———-

١ خطبہ نکاح 25/12/1996 ٢ خطبہ نکاح 22/7/1997 ٣ خطبہ نکاح 13/4/1998

بيوي بھي اپني روزمرہ کي ہزاروں جھميلوں والي زنانہ زندگي ميں (صبح ناشتے کي تياري، بچوں کو اسکول کيلئے تيار کرنے، گھر کو سميٹنے اور صفائي ستھرائي ،دوپہر کے کھانے کي تياري، بچوں کي اسکول سے آمد اور انہيں دوپہر کا کھانا کھلانے ، سلانے ، نماز ظہر وعصر، شام کي چائے، شوہر کي آمد اور رات کے کھانے کي فکر جيسي ديگر) دسيوں مشکلات اور مسائل کا سامنا کرتي ہے ۔ خواہ وہ گھر سے باہر کام ميں مصروف ہو اور مختلف قسم کي سياسي اور اجتماعي فعاليت انجام دے رہي ہو يا گھر کي چار ديواري ميں گھريلو کام کاج ميں عرق جبيں بہار ہي ہو کہ اس کے اندرون خانہ کام کي زحمت و سختي اور اہميت گھر سے باہر اُس کي فعاليت سے کسي بھي طرح کم نہيں ہے !

ايک صنف نازک اپني لطيف و ظريف روح کے ساتھ جب ان مشکلات کا سامنا کرتي ہے یہ تو اُسے پہلے سے زيادہ آرام و سکون اور ايک مطمئن شخص پر اعتماد کرنے کي ضرورت ہوتي ہے، ايسا شخص کون ہوسکتا ہے؟ يہ اُس کے وفادار شوہر کے علاوہ اور کون ہوسکتا ہے! ٢

انسان کوئي گاڑي يا مشين تو نہيں ہے ، انسان روح اور جسم کا مرکب ہے ، وہ معنويت کا طالب ہے، وہ ہمدردي، مہرباني و فداکاري کے جذبات و احساسات کا نام ہے اور وہ زندگي کي کڑي دھوپ ميں آرام و سکون کا متلاشي ہے اور اُسے آرام و سکون صرف گھر کي ہي فضا ميں ميسر آسکتا ہے ۔ ٣

گھر کے ماحول کو آرام دہ ہونا چاہيے ۔ مياں بيوي ميں ايک دوسرے کيلئے موجود ہمدردي اور ايثار ومحبت کے يہ احساسات اُن کے اندروني سکون ميں اُن کے مددگار ثابت ہوتے ہيں ۔ اس آرام و سکون کا ہرگز يہ مطلب نہيں ہے کہ انسان اپنے کام کاج کو متوقف اور فعاليت کو ترک کردے! نہيں، کام کاج اور فعاليت ضروري اور بہت اچھي چيز ہے ۔ آرام وسکون کا تعلق دراصل انساني زندگي کي مشکلات اور مسائل سے ہے ۔

مزید  عصرغیبت میں ہماری ذمہ داریاں

———–

١ خطبہ نکاح 28/8/2002 ٢ حوالہ سابق ٣ خطبہ نکاح 8/2/1989

انسان کبھي کبھي اپني زندگي ميں پريشان ہوجاتا ہے تو اُس کي بيوي يا شوہر اُسے سکون ديتا ہے ۔ يہ سب اُسي صورت ميں ممکن ہے کہ جب گھر کي فضا اور ماحول آپس کي چپقلش، لڑائي، جھگڑوں ،باہمي نااتفاقي اور مشکلات کا شکار نہ ہو ۔١

اچھے گھرکا پرسکون ماحول

ہر انسان کو خواہ مرد ہو يا عورت، اپني پوري زندگي ميں شب وروز مختلف پريشانيوں اور مشکلات کا سامنا رہتا ہے اور غير متوقع حالات وواقعات سے اس کي زندگي اضطراب کا شکار رہتي ہے ۔ يہ حادثات و واقعات انسان کو اعصابي طور پر کمزور،خستہ تن اور اس کي روح کو بوجھل اور طبيعت و مزاج کو چڑچڑا بناديتے ہيں ۔ ايسي حالت ميں جب انسان گھر کي خوشگوار فضا ميں قدم رکھتا ہے تو اُس گھر کا روح افزا ماحول اور سکون بخش نسيم اُسے توانائي بخشتي ہے اور اُسے ايک نئے دن و رات اور نئے عزم و حوصلے کے ساتھ خدمت و فعاليت انجام دينے کيلئے آمادہ و تيار کرتي ہے ۔ اسي لئے خانداني نظام زندگي يا گھرانے، انساني حيات کي تنظيم ميں بہت کليدي کردار ادا کرتے ہیں ۔ البتہ يہ بات پيش نظر رہے کہ گھر کو صحيح روش اور اچھے طريقے سے چلانا چاہيے ۔ ٢

رشتہ ازدواج کے بندھن ميں ايک دوسرے کا جيون ساتھي بننا اور گھر بسانا، مياں بيوي کيلئے زندگي کا سب سے بہترين ہديہ اور سب سے اہم ترين زمانہ ہے ۔ يہ روحاني آرام و سکون ، زندگي کي مشترکہ جدوجہد کيلئے ايک دوسرے کو دلگرمي دينے، اپنے ليے نزديک ترين غمخوار ڈھونڈھنے اور ايک دوسرے کي ڈھارس باندھنے کا ايک وسيلہ ہے کہ جو انسان کي پوري زندگي کيلئے اشد ضروري ہے ۔ ٣

گھريلو فضا ميں خود کو تازہ دم کرنے کي فرصت

ايک گھر ميں رہنے والے مياں بيوي جو ايک دوسرے کي زندگي ميں شريک اور معاون ہيں، گھر کے پرفضا ماحول ميں ايک دوسرے کي خستگي ، تھکاوٹ اور اکتاہٹ کا شکار کرنے والي يکسانيت کودور کرکے کھوئي ہوئي جسماني اور ذہني قوتوں کو بحال اور اپني ہمت کو تازہ دم کرکے خود کو زندگي کي بقيہ راہ طے کرنے کيلئے آمادہ کرسکتے ہيں ۔

———–

١ خطبہ نکاح 29/5/2002

٢ خطبہ نکاح 19/1/1998 ٣ خطبہ نکاح29/2/2001

آپ جانتے ہيں ہيں کہ زندگي ايک ميدان جنگ ہے ۔ پوري زندگي عبادت ہے ايک بڑي مدت والي جنگ سے، فطري و طبيعي عوامل سے جنگ، اجتماعي موانع سے جنگ اور انسان کي اپني اندروني دنيا سے جنگ کہ جسے جہاد نفس کہا گيا ہے ۔ لہٰذا انسان ہر وقت اس حالت جنگ ميں ہے ۔ انسان کا بدن بھي ہر وقت جنگ ميں مصروف عمل ہے اور وہ ہميشہ مضر عوامل سے جنگ ميں برسرپيکار ہے ۔ جب تک بدن ميں اس لڑائي کي قدرت اور قوت مدافعت موجود ہے آپ کا جسم صحيح و سالم ہے ۔ ضروري بات يہ ہے کہ انسان ميں يہ مبارزہ اورجنگ ، درست سمت ميں اپني صحيح اور اچھي روش و طريقے اور صحيح عوامل کے ساتھ انجام پاني چاہيے ۔

زندگي کي اس جنگ ميں کبھي استراحت و آرام لازمي ہوتا ہے ۔ زندگي ايک سفر اور مسلسل حرکت کا نام ہے اور اس طولاني سفر ميں انسان کي استراحت گاہ اس کا گھر ہے ١۔

دينداري ، خاندان کي بقا کا راز

اپنے گھر کو آباد کرنے اور اس کي حفاظت کيلئے اسلامي احکام کا خيال رکھنا ضروري ہے تاکہ يہ گھر ہميشہ آباد اور خوشحال رہے ۔ لہٰذا آپ ، ديندار گھرانوں ميں کہ جہاں مياں بيوي اسلامي احکامات کا خيال رکھتے ہيں، ديکھيں گے کہ وہ سالہا سال مل جل کر زندگي بسر کرتے ہيں اور مياں بيوي کي محبت ايک دوسرے کيلئے ہميشہ باقي رہتي ہے، ہرگزرنے والا دن اُن کي چاہت ميں اضافہ کرتا ہے، ايک دوسرے سے جدائي اور فراق کا تصور بھي دونوں کيلئے مشکل ہوجاتا ہے اور اُن دونوں کے دل ايک دوسرے کي محبت سے سرشار ہوتے ہيں ۔ يہ ہے وہ محبت و چاہت جو کسي گھرانے يا خاندان کو دوام بخشتي ہے اور يہي وجہ ہے کہ اسلام نے ان چيزوں کو اہميت دي ہے٢۔

اگر اسلام کے بتائے ہوئے طريقے اور روش پر عمل درآمد کيا جائے تو ہمارا خانداني نظام پہلے سے زيادہ مستحکم ہوجائے گا کہ جس طرح گزشتہ زمانے ميں_ طاغوتي دور حکومت ميں_ جب لوگوں کا ايمان ، سالم اور محفوظ تھا اور ہمارے گھرانے اور خانداني نظام مضبوط اور مستحکم تھے تو اس ماحول ميں مياں بيوي ايک دوسرے سے پيار کرنے والے تھے اور گھر کے پرسکون ماحول ميں اپني اولاد کي تربيت کرتے تھے اور آج بھي يہي صورتحال ہے ۔ وہ گھرانے اور خاندان جو اسلامي احکامات اور آداب کا خيال رکھتے ہيں وہ غالباً دوسروں کي بہ نسبت زيادہ مضبوط ومستحکم اور بہتر ہوتے ہيں اور وہ اپنے بچوں کو پرسکون ماحول فراہم کرتے ہيں ١۔

———–

١ خطبہ نکاح 29/5/2002

٢ خطبہ نکاح 13/3/2002

دينداري ، خاندان کي حقيقي صورت

اسلامي معاشرے ميں مياں بيوي، زندگي کے سفر ميں ايک ساتھ، ايک دوسرے سے متعلق ، ايک دوسرے کي نسبت ذمہ دار، اپني اولاد کي تربيت اور اپنے گھرانے کي حفاظت کے مسؤل اور جوابدہ تصور کيے جاتے ہيں ۔ آپ ملاحظہ کيجئے کہ اسلام ميں گھرانے اور خاندان کي اہميت کتني ہے! ٢

اسلامي ماحول ميں خاندان کي بنياديں اتني مضبوط اور مستحکم ہيں کہ کبھي آپ ديکھتے ہيں دو نسليں ايک ہي گھر ميں زندگي گزار ديتي ہيں اور دادا، باپ اور بيٹا (پوتا) باہم مل کر ايک جگہ زندگي گزارتے ہيں، يہ کتني قيمتي بات ہے! نہ اُن کے دل ايک دوسرے سے بھرتے ہيں اور نہ ايک دوسرے کي نسبت بدبين و بدگمان ہوتے ہيں بلکہ ايک دوسرے کي مدد کرتے ہيں ۔٣

اسلامي معاشرے ميں يعني ديني اور مذہبي فضا ميں ہم مشاہدہ کرتے ہيں کہ دو آدمي ايک طويل عرصے تک باہم زندگي بسر کرتے ہيں اور ايک دوسرے سے بالکل نہيں اُکتاتے بلکہ ايک دوسرے کيلئے اُن کي محبت و خلوص زيادہ ہوجاتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ايک دوسرے کيلئے اُن کي اُلفت، اُنس اور چاہت ميں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور يہ سب آثار ، دينداري ،مذہبي ہونے اور خداوند عالم کے بتائے ہوئے احکامات اور آداب اسلامي کي رعايت کرنے کا ہي نتيجہ ہيں ۔٤

اسلام اور اسلامي ثقافت و تمدن ميں خاندان کو دوام حاصل ہے ۔ گھر ميں دادا، دادي اور ماں باپ سبھي تو موجود ہيں جو اپنے پوتے پوتيوں کو اپنے ہاتھوں سے کھلا کر جوان کرتے ہيں ۔ يہي لوگ ہيں جو آداب و رسوم کو آنے والي نسلوں تک منتقل کرتے ہيں اور پچھلي نسل اپنے تاريخي اورثقافتي ورثے کو آنے والي نسلوں کے ہاتھوں ميں باحفاظت تھماتي ہے ۔ ايسے ماحول ميں ايک دوسرے کٹ کر رہنے، تنہائي اور عزت نشيني اختيار کرنے اور مہرباني ومحبت سے عاري سلوک روا رکھنے کے تمام دروازے اس گھر کے تمام افراد کيلئے بند ہيں ٥

————–

١ خطبہ نکاح 4/4/1998

٢ خطبہ نکاح 9/9/1992

٣ خطبہ نکاح 10/1/1993

٤ خطبہ نکاح23/3/2001 ٥ خطبہ نکاح 15/8/1995

دوسري فصل

اسلامي تعليمات ميں مذہبي گھرانے کے خدوخال

مذہبي گھرانہ، دنيا کيلئے ايک آئيڈيل

الحمد للہ ہمارے ملک اور مشرق کے مختلف معاشروں ميں خصوصا ً اسلامي معاشروں ميں گھرانے اور خاندان کي بنياديں ابھي تک محفوظ ہيں اور خانداني روابط تعلقات ابھي تک برقرار ہيں ۔ آپس ميں محبت، خلوص، دلوں کا کينہ و حسد سے خالي ہونا ابھي تک معاشرے ميں موجود ہے ۔ بيوي کا دل اپنے شوہر کيلئے دھڑکتا ہے جبکہ مرد کا دل اپني بيوي کيلئے بے قرار رہتا ہے، يہ دونوں دل کي گہرائيوں سے ايک دوسرے کو چاہنے والے اور عاشق ہيں اور دونوں کي زندگي ميں پاکيزگي و نورانيت نے سايہ کيا ہوا ہے ۔ اسلامي ممالک خصوصاً ہمارے ملک ميں يہ تمام چيزيں زيادہ ہيں لہٰذا ان کي حفاظت کيجئے ۔ ١

دومختلف نگاہيں مگر دونوں خوبصورت

فطري طور پر مرد کے بارے ميں عورت کي سوچ ، مرد کي عورت کے بارے ميں فکر وخيال سے مختلف ہوتي ہے اور اُسے ايک دوسرے سے مختلف بھي ہونا چاہيے اور اس ميں کوئي عيب اور مضائقہ نہيں ہے ۔ مرد، عورت کو ايک خوبصورت، ظريف و لطيف اور نازک و حساس وجود اور ايک آئيڈيل کي حيثيت سے ديکھتا ہے اور اسلام بھي اسي بات کي تائيد کرتا ہے ۔ ’’اَلمَرآَۃُ رَيحَانَۃ?‘‘ ،يعني عورت ايک نرم ونازک اور حسين پھول ہے ، يہ ہے اسلام کي نظر۔ عورت، نرم و لطيف اورملائم طبيعت و مزاج سے عبارت ہے جو زيبائي اور لطافت کا مظہر ہے ۔ مرد، عورت کو انہي نگاہوں سے ديکھتا ہے اور اپني محبت کو اسي قالب ميں مجسم کرتا ہے ۔ اسي طرح مرد بھي عورت کي نگاہوں ميں اُس کے اعتماد اور بھروسے کا مظہر اور مضبوط تکيہ گاہ ہے اور بيوي اپني محبت اور دلي جذبات و احساسات کو ايسے مردانہ قالب ميں سموتي اور ڈھالتي ہے ۔

———–

١ خطبہ نکاح 22/7/1997

زندگي کي اس مشترکہ دوڑدھوپ ميں مرد و عورت کے يہ ايک دوسرے سے مختلف دو کردار ہيں اور دونوں اپني اپني جگہ صحيح اور لازمي ہيں ۔ عورت جب اپنے شوہر کو ديکھتي ہے تو اپني چشم محبت و عشق سے اس کے وجود کو ايک مستحکم تکيہ گاہ کي حيثيت سے ديکھتي ہے کہ جو اپني جسماني اور فکري صلاحيتوں اور قوت کو زندگي کي گاڑي کو آگے بڑھانے اور اُس کي ترقي کيلئے بروئے کار لاتا ہے ۔ مر د بھي اپني شريکہ حيات کو اُنس و اُلفت کے مظہر، ايثار و فداکاري کي جيتي جاگتي اور زندہ مثال اور آرام و سکون کے مخزن کي حيثيت سے ديکھتا ہے کہ جو شوہر کو آرام وسکون دے سکتي ہے ۔ اگر مرد زندگي کے ظاہري مسائل ميںعورت کا تکيہ گاہ اور اُس کے اعتماد و بھروسے کا مرکز ہے تو بيوي بھي اپني جگہ روحاني سکون اور معنوي امور کي وادي کي وہ باد نسيم ہے کہ جس کا لطيف احساس انسان کي تھکاوٹ و خستگي کو دور کرديتا ہے ۔ گويا وہ انس و محبت، چاہت و رغبت ، پيار و الفت اور ايثار و فداکاري کا موجيں مارتا ہوا بحر بيکراں ہے ۔ يقينا شوہر بھي محبت، سچے عشق اور پيار سے سرشار ايسي فضا ميں اپنے تمام غم و اندوہ ، ذہني پريشانيوں اور نفسياتي الجھنوں کے بار سنگين کو اتار کر اپني روح کو لطيف وسبک بناسکتا ہے ۔ يہ ہيں مياں بيوي کي روحي اور باطني قدرت و توانائي۔ ١

مزید  خطبات حضرت زینب(سلام اللہ علیہا)

حقيقي اور خيالي حق

کسي بھي قسم کے ’’حق‘‘ کا ايک فطري اور طبيعي منشا سبب ہوتا ہے ، حقيقي اور واقعي حق وہ ہے کہ جو کسي فطري سبب سے جنم لے ۔ يہ حقوق جو بعض محفلوں ٢ ميں ذکر کيے جاتے ہيں، صرف توہمات اور باطل خيالات کا پلندا ہيں ۔

مرد وعورت کيلئے بيان کيے جانے والے حقوق کو اُن کي فطري تخليق ، طبيعت و مزاج اور ان کي بدني طبيعي ساخت کے بالکل عين مطابق ہونا چاہيے ۔ ٣

آج دنيا کے فيمنسٹ (Femuinism) يا حقوق نسواں کے ادارے کہ جو ہر قسم کے مرد و عورتوں سے بھرے پڑے ہيں، حقوق نسواں کے دفاع کے نعرے سے سامنے آتے ہيں ۔ ميري نظر ميں يہ لوگ حقوق نسواں کي الف ب سے بھي واقف نہيں ہيں کيونکہ حق و حقوق کوئي ايسي چيز نہيں ہے کہ جنہيں گڑھا يا اختراح کيا جاسکے اور ان کا حقيقت سے کوئي رابطہ نہ ہو بلکہ ان سب حقوق کا ايک فطري منشا و سبب ہے ۔ ١

٢ اشارہ ہے حقوق نسواں، انساني حقوق کے کميشن اورمختلف ممالک ميں ان کے ذيلي اداروں اورNGOکے بے بنياد فرضيوں اور ايجنڈوں کي جانب جو از خود مرد و عورت کيلئے حقوق اختراح کرتے پھرتے ہيں ۔ (مترجم) ٣ خطبہ نکاح 12/3/1999

————

١ خطبہ نکاح 28/9/2002

خوش بختي کا مفہوم

خوش بختي عبارت ہے روحي آرام و سکون ، سعادت اور امن کے احساس سے ٢ ۔ بڑے بڑے فنکشن اور اسراف وفضول خرچي کسي کو خوش بخت نہيں بناتے ۔ اس طرح مہر کي بڑي بڑي رقميں اورجہيز کي بھر مار بھي انساني سعادت و خوش بختي ميں کسي بھي قسم کا کردار ادا کرنے سے قاصر ہے ۔ يہ صرف شريعت ہي کي پابندي ہے کہ جو انسان کو خوش بخت بناتي اور سعادت سے ہمکنار کرتي ہے ۔ ٣

ايک دوسرے کو جنتي بنائيے

شادي اور شريکہ حيات کا انتخاب انساني قسمت ميں کبھي موثر کردار ادا کرتاہے ۔ بہت سي ايسي بيوياں ہيں جو اپنے شوہروں کو اور بہت سے مرد اپني بيويوں کو جنتي بناتے ہيں اور صورتحال اس کے برعکس بھي پيش آتي ہے ۔ اگر مياں بيوي اس اہم مرکز ’’گھر‘‘ کي قدر کريں اور اس کي اہميت کے قائل ہوں تو ان کي زندگي امن و سکون کوگہواہ بن جائے گي اور اچھي شادي کي برکت سے انساني کمال کا حصول مياں بيوي کيلئے آسان ہوجائے گا۔ ٤

کبھي ايسا بھي ہوتا ہے کہ مرد زندگي ميں ايسے دوراہے پر جاپہنچتا ہے کہ جس ميں ايک راہ کا انتخاب اُس کيلئے ضروري ہوتا ہے کہ وہ دنيا يا صحيح راہ اور امانت داري و صداقت ميں سے کسي ايک کو منتخب کرے ۔ يہاں اس کي بيوي اہم کردار ادا کرتي ہے کہ اُسے پہلے يا دوسرے راستے کي طرف کھينچ کر لے جائے ۔ صورتحال اس کے برعکس بھي ہوتي ہے کہ شوہر حضرات بھي اپني شريکہ حيات کيلئے موثر ثابت ہوسکتے ہيں ۔ آپ سعي کيجئے کہ آپ دونوں اچھي راہ کے انتخاب ميں ايک دوسرے کي مدد کريں ۔

آپ کوشش کريں کہ دينداري ،خدا اوراسلام کي راہ ميں قدم اٹھانے ، حقيقت ، امانت اور صداقت کي راہ ميں اپنا سفرجاري رکھنے کيلئے ايک دوسرے کي مدد کريں اور انحراف اورلغزش سے ايک دوسرے کي حفاظت کريں ٢۔

———-

١ حوالہ سابق

٢ خطبہ نکاح0 20/6/200

٣ خطبہ نکاح 30/5/1996

٤ خطبہ نکاح 30/5/1996

٥ خطبہ نکاح 12/3/2001

اسلامي انقلاب کي کاميابي سے قبل اور ا س کے بعد ابتدائي سخت سالوں اورجنگ کے مشکل زمانے ميں بہت سي خواتين نے اپنے صبر و تعاون سے اپنے شوہروں کو جنتي بناليا۔ مرد مختلف قسم کے محاذوں پرگئے اور انہوں نے گونا گوں قسم کي مشکلات اورخطرت کو مول ليا، يہ خواتين گھروں ميں تنہا رہ گئيں اور انہوں نے تن تنہا مشکلات کا مقابلہ کيا ليکن زبان پر کسي قسم کا شکوہ نہيں لائيں اور يوں انہوں نے شوہروں کوبہشت بريں کا مسافر بنايا۔ جبکہ وہ ايسا بھي کرسکتي تھيں کہ ان کے شوہر ميدان جنگ جانے اور جنگ کرنے سے پشيمان ہوجائيں مگر انہوں نے ايسا نہيں کيا اور صبر کادامن ہاتھ سے نہيں چھوڑا۔ بہت سے ايسے شوہر تھے کہ جنہوں نے اپني بيويوں کو جنت کا راہي بنايا۔ ان کي ہدايت ، تعاون، دستگيري اورمدد سے يہ خواتين اس قابل ہوئيں کہ خدا کي راہ ميں حرکت کرسکيں ۔

صورتحال اس کے برعکس بھي ہے ۔ بہت سي خواتين اور مرد ايسے تھے کہ جنہوں نے ايک دوسرے کو جہنمي بنايا۔ آپ کو چاہيے کہ ايک دوسرے کي مدد کريں اور ايک دوسرے کو جنتي اور سعادت مند بنائيں ۔ آپ کي کوشش ہوني چاہييے کہ تحصيل علم، کمال کے حصول ، پرہيز گاري ، تقويٰ کے ساتھ سادہ زندگي گزارنے کيلئے ايک دوسرے کي مدد کريں ۔١

ايک دوسرے کو خوش بخت کيجئے

بہت سي بيوياں اپنے شوہروں کو جنتي اور بہت سے مرد اپني بيويوں کو حقيقتاً سعادت مند بناتے ہيں جبکہ اس کے برخلاف بھي صورتحال تصور کي جاسکتي ہے ۔ ممکن ہے کہ مرد اچھے ہوں ليکن اُن کي بيوياں انہيں اہل جہنم بناديں يا بيوياں اچھي اور نيک ہوں مگر اُن کے شوہر انہيں راہ راست سے ہٹاديں ۔ اگرمياں بيوي ان مسائل کي طرف توجہ رکھيں تو اچھي باتوں کي تاکيد ، بہترين انداز ميں ايک دوسرے کي اعانت و مدد اور گھر کي فضا ميں ديني اوراخلاقي احکامات کو زباني بيان کرنے سے زيادہ اگر عملي طور پر ايک دوسرے کے سامنے پيش کريں اور ہاتھ ميں ہاتھ ديں تو اس وقت ان کي زندگي کامل اورحقيقتاً خوش بخت ہوگي ۔ ٢

———–

١خطبہ نکاح 13/3/2000 ٢ خطبہ نکاح 2/3/1998

ايک مرد اپني ہمدردانہ نصيحتوں ، راہنمائي ،وقت پر تذکر دينے اوراپني بيوي کي زيادہ روي ،زيادتي اور اس کے بعض انحرافات کا راستہ روک کر اُسے اہل جنت بناسکتا ہے ۔ البتہ اُس کے برعکس بھي اس کي زيادتي، ہوس، بے جا توقعات اور غلط روش کي اصلاح نہ کرتے ہوئے اُسے جہنمي بھي بناسکتا ہے ۔ ١

حق بات نصيحت اورصبر کي تلقين

مياں بيوي کے دلوں کے ايک ہونے اورايک دوسرے کي مدد کرنے کا معني يہ ہے کہ آپ راہ خدا ميں ايک دوسرے کي مدد کريں ۔ ’’تَوَاصَوا بِالحَقِّ وَتَوَاصَوا بِالصَبرِِ‘‘ ،يعني حق بات کي نصيحت اور صبر کي تلقين کريں ۔

اگر بيوي ديکھے کہ اُس کا شوہر انحراف کا شکار ہورہا ہے ، ايک غير شرعي کام انجام دے رہا ہے يا رزق حرام کي طرف قدم بڑھارہا ہے اور غير مناسب دوستوں کے ساتھ اٹھنے بيٹھنے لگا ہے تو سب سے پہلے جو اُسے تمام خطرات سے محفوظ رکھ سکتا ہے ، وہ اس کي بيوي ہے ۔ يا اگر مرد اپني بيوي ميں اس قسم کي دوسري برائيوں کامشاہدہ کرے تو اُسے بچانے والوں ميں سب سے پہلے اس کا شوہر ہوگا۔ البتہ ايک دوسرے کو برائيوں سے بچانا اور خطرات سے محفوظ رکھنا محبت ، ميٹھي زبان ، عقل و منطق کے اصولوں کے مطابق ،حکيمانہ اورمدبرانہ رويے کے ذريعے سے ہو نہ کہ بداخلاقي اور غصے وغيرہ کے ذريعے ۔ يعني دونوں کي ذمے داري ہے کہ وہ ايک دوسرے کي حفاظت کريں تاکہ وہ راہ خدا ميں ثابت قدم رہيں ۔٢

ايک دوسرے کا ساتھ ديں اور مدد کريں خصوصاًديني امور ميں ۔ اگرآپ يہ ديکھيں کہ آپ کا شوہر يا بيوي نماز کي چور ہے، دونوں ميں کوئي ايک نماز کو کم اہميت ديتا ہے، سچ بولنے يا نہ بولنے ميں اُسے کوئي فرق نہيں پڑتا، شوہر لوگوں کے مال ميں بے توجہي سے کام ليتا ہے اوراپنے کام سے غير سنجيدہ ہے تو يہ آپ کا کام ہے کہ اُسے خواب غفلت سے بيدار کريں، اُسے بتائيے، سمجھائيے اور اس کي مدد کيجئے تاکہ وہ اپني اصلاح کرے ۔

اگر آپ ديکھيں کہ وہ محرم ونامحرم ، پاک و نجس اورحلال و حرام کي پرواہ نہيں کرتا اور اُن سے بے اعتنائي برتتا ہے تو آپ اُسے متوجہ کريں، اُسے تذکر ديں اور اُس کي مددکريں تاکہ وہ بہتر اور اچھا ہوجائے ۔ يا وہ جھوٹ بولنے يا غيبت کرنے والا ہو تو آپ کي ذمہ داري ہے کہ اُسے سمجھائيے نہ کہ اُس سے لڑيں جھگڑيں،نہ کہ اپنے گھر کي فضا خراب کريں اور نہ اس شخص کي مانند اسے زباني نصيحت کريں جو الگ بيٹھ کر صرف زباني تنقيد کے نشتر چلاتا ہے ۔ ٣

———–

١ خطبہ نکاح 20/9/1999

٢ خطبہ نکاح 12/11/2000

٣ خطبہ نکاح 4/9/1995

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.