اسلامي روح ہميشہ زندہ رہے

0 0

  اسي طرح گذشتہ صديوں ميں جب ہندوستان سے سلطنت مغليہ اور پھر خلافتِ عثمانيہ کا زوال ہوا ، اور نتيجہ کے طور پر اسلامي ممالک پر يوروپي استعمار کا تسلط ہوا ، اس وقت کچھ لوگوں کو محسوس ہونے لگا کہ اسلام اب شايد زوال پذير ہے- اس وقت بھي مسلمانوں کي سياسي طاقت يقينا شکست خوردہ اور زوال پذير تھي؛ ليکن اسلام کي روحاني طاقت اور قوتِ تسخير نے شکست تسليم نہيں کيا اور اس نے اہلِ يورپ و امريکہ کے قلوب کو مسخر کرنا شروع کيا- خلافتِ عثمانيہ کے زوال اور اکثر اسلامي ممالک و علاقہ جات پر يورپ کے استعماري قبضہ و تسلط کي وجہ سے گذشتہ انيسويں اور بيسويں صدي کے نصفِ اول ميں يہ تصور بھي مشکل تھا کہ مسلمان کبھي امريکہ يا يورپ ميں اپني بستياں بسائيں گے اور وہاں پورے اسلامي تشخص و امتيازکے ساتھ نہ صرف آباد ہوں گے؛ بلکہ مساجد و اسلامي مراکز بنا کر يورپ و امريکہ کي ترقي يافتہ قوموں کو اپنا مدعوبنائيں گے- آج صور تِ حال يہ ہے امريکہ  ميں مسلمانوں کي تعدادتقريباً ايک کڑوڑ  اور يورپ ميں تقريباً پانچ کڑوڑ ہو رہي ہے- اسلام اس وقت امريکہ و يورپ ميں سب سے زيادہ تيزي سے پھيلنے والا مذہب ہے-

    اسلام کي تسخيري قوت اور اس کے روحاني طور پر سپر پاور ہونے کا تصورمسلمانوں کا بنايا ہوا کوئي خواب نہيں؛ بلکہ تاريخ اسلام کے مختلف مراحل ميں اس کا تجربہ ہوچکا ہے اور ماضي قريب ميں بھي ايسے خيالات پائے جاتے رہے ہيں- مشہور انگريزي مفکر اور فلسفي جارج برنارڈ شا نے نہايت کھل کر اس حقيقت کا اعتراف کيا ہے- وہ لکھتے ہيں:  ’’آئندہ سو برسوں ميں اگر کوئي مذہب انگلينڈ؛ بلکہ پورے يورپ پر حکومت کرنے کا موقع پا سکتا ہے تو وہ مذہب ’’اسلام‘‘ ہي ہوسکتا ہے- … ميں نے اسلام کو اس کي حيرت انگيز حرکت و نمو کي وجہ سے ہميشہ قدرکي نگاہ سے ديکھا ہے – يہي صرف ايک ايسا مذہب ہے جو زندگي کے بدلتے ہوئے حالات سے ہم آہنگ ہونے کي بھرپور صلاحيت رکھتا ہے، جو اس کو ہر زمانہ ميں قابلِ توجہ بنانے ميں اہم کردار ادا کرسکتا ہے- …ميں نے محمد (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) کے مذہب کے بارے ميں پيشين گوئي کي ہے کہ وہ کل کے يورپ کو قابلِ قبول ہوگا جيسا کہ وہ آج کے يورپ کو قابلِ قبول ہونا شروع ہوگيا ہے-‘‘(George Bernard Shaw in ‘The Genuine Islam,’ Vol. 1, No. 8, 1936)

مزید  كربلا اور حائر حسینی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.