اربعین حسینی مکتب اہل بیت کی ثقافت کا عالمی مظہر



*اربعین حسینی مکتب اہل بیت کی ثقافت کا عالمی مظہر*

*محمد حسن غدیری*

*پیشکش:شعبہ تحقیق مجمع طلاب شگر*

اربعین حسینی پرہرسال کروڑوں عاشقان حسینی ومحبان اہل بیت زیارت حسین ابن علی کے لیے کربلا جاتے ہیں اور اس عظیم دن کو اسلامی ثقافت کے طور پر زندہ رکھتے ہیں۔

اربعین لغت میں چالیس کو کہا جاتا ہے۔اصطلاح میں اربعین شیعوں کے اس مذہبی مناسبت کانام ہے کہ 20 صفر،شہادت امام حسین کے ٹھیک 40 دن مکمل ہونے پر بعض اہم مناسبات کی بناپر مناتے ہیں۔

بعض روایات کے مطابق اسی دن یعنی عاشورا کے چالیس دن بعد اسیران کربلا شام سے واپس کربلا پہچ کر قبر حسین پر حاضری دی اور عزاداری قائم کی۔اور سر مطہر مظلوم کربلا اباعبداللہ حسین بھی اربعین کے دن کربلا میں بدن مطہر حسین کے ساتھ دفن ہوا۔
تحریک عاشورا اسلام کی بقاء کے لیے وجود میں آئی اس قیام میں دو عظیم ہستیوں نے سب عظیم کارنامے انجام دیا۔
ایک مظلوم کربلا
دوسری زینب کبریٰ
شاعر کہتا ہے
کربلا کی خاک پر رنگ دونوں نے بھرے
ابتداء شبیر نے کی انتہا زینب نے کی
یعنی ان دونوں ہستیوں نے دین اسلام کی بقاء کی خاطر اپنا سب کچھ خدا کی راہ میں قربان کردیا۔یہ خدا کا وعدہ ہے کہ:
*فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ*
تم مجھے یاد کرو تاکہ میں اپکو یاد کروں۔
جو کوئی خدا کو یاد کرئےخدا اس کے ذکر کو بقاءوجایدانی عطاکرتاہے۔
آج پوری دنیا سے لبیک یا حسین کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔ اور حسین کی محبت میں لوگ نجف سے کربلا تک پیدل سفر کر رہے ہیں تو اس میں صرف ثواب مدنظر نہیں بلکہ یہ کار خدا ہے کہ جس طرح حسین نے زندگی بھر ذکر خدا کی۔ اور اپنی آخری سانس میں بھی سر بسجود ہوکر نام ودین خدا کوزندہ رکھا تو خدا نے بھی ذکر حسین کو زندہ رکھااور اسی لیے دنیا کے گوشہ و کنار سے لوک لبیک یا حسین کہتے ہوئے عراق کی طرف سفر کر رہے ہیں اور نجف اشرف سے کربلا تک پیدل چلتے ہوئے ذکر حسین کر رہے ہیں یہ وعدہ الہیٰ پورا ہو رہا ہے۔یہ عظیم تحریک،الہی کارنامہ ہے۔جو قیام قیامت تک جاری و ساری رہے گا۔

*زیارت حسین ابن علی کی فضیلت*
قال امام صادق (ع):
«مَنْ خَرَجَ مِنْ مَنْزِلِهِ یُرِیدُ زِیَارَةَ قَبْرِ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ ص إِنْ کَانَ مَاشِیاً کَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِکُلِّ خُطْوَةٍ حَسَنَةً وَ مَحَی عَنْهُ سَیِّئَةً حَتَّی إِذَا صَارَ فِی الْحَائِرِ کَتَبَهُ اللَّهُ مِنَ الْمُصْلِحِینَ الْمُنْتَجَبِینَ [الْمُفْلِحینَ الْمُنْجِحِینَ حَتَّی إِذَا قَضَی مَنَاسِکَهُ کَتَبَهُ اللَّهُ مِنَ الْفَائِزِینَ حَتَّی إِذَا أَرَادَ الِانْصِرَافَ أَتَاهُ مَلَکٌ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ص یُقْرِؤُکَ السَّلَامَ وَ یَقُولُ لَکَ اسْتَأْنِفِ الْعَمَلَ فَقَدْ غُفِرَ لَکَ مَا مَضَی.

حسین علیہ سلام کی زیارت کا ثواب اتنا زیادہ ہے کہ جو گھر سے زیارت کی قصد کے ساتھ نکلے تو اس کے ھر قدم کے بدلے میں اللہ تعالیٰ حسنات عطا کرتا ہے اور ساتھ ساتھ اس کے سیئات کو مٹا دیتاہے۔

کیونکہ حسین نجات کی کشی ہے
*ان الحسین مصباح الھُدى و سفینة النجاۃ۔*
جو بھی ا س کشتی نجات میں سوار ہوگا وہ نجات پانے گا۔لہذا اس کے تمام گناہ مٹا دیے جاتے ہیں اور ھر قدم پر حسنات لکھے جاتے ہیں کیونکہ اس نے نجات کی کشتی کو انتخاب کیا ہے۔
امام حسن عسکری علیہ سلام نے فرمایا :
علامات المؤمن خمس: صلاة خمسين و زيارة الاربعين و التّختّم في اليمين و تعفير الجبين و الجهر بسم الله الرحمن الرحيم ۔
امام علیہ السلام نے مؤمن کی علامات میں سے ایک علامت کو زیارت اربعین قرار دیا ہے یعنی زیارت اربعین مؤمن کی پہچان ہے۔
اس کے علاوہ بھی بہت سی احادیث و روایات زیارت اربعین کی فضیلت و اھمیت پر موجود ہے ان سب کو یہاں ذکر کرنا طوالت کا سب بنے گا۔

*اربعین اسلامی ثقافت کا عالمی مظہر*
ثقافت و تمدن اقوام کی شناخت ہوا کرتی ہے۔
لہذا دنیا میں شیعوں کی شناخت کے ذرائع میں سے ایک اہم وسیلہ اربعین حسینی کا یہ عظیم مارچ ہےجومکتب اہل بیت اور اس کے حقیقی پیغام کو دنیا تک پہنچانے کا بہترین موقع ہے۔

دنیا کے گوشہ و کنار سے محبان اھل بیت علیہ سلام اپنی اس عظیم ثقافت کی انجام دہی کیلیے اربعین کے ایام میں سرزمین عراق میں آتے ہیں اور نجف اشرف سے کربلا کاسفر پیدل طے کرکے اس عظیم ثقافت کو احیا کرتے ہیں۔ کیونکہ حسینیت وکربلا ہی ہماری پہچان و ثقافت ہے۔

اس عظیم اجتماع کے لیے عراقی عوام کی مہمان نوازی،خدمات اور زائرین کے لیے انتظامات بھی حیران کن اور قابل دید ہے۔یہ سب عشق حسین و اھل بیت میں انجام پاتے ہیں۔اور قدیم زمانے سے لے کر اج تک اس عمل کو ترک ہونے نہیں د یا بلکہ قدیم زمانے میں محبان و عاشقان حسین نے اپنے اعضاء بدن کاٹ کر، اپنی اولادیں قربان اور سختیاں برداشت کرکے اس عظیم میراث و تمدن کی حفاظت کی ہے۔آج یہ ثقافت عالمی سطح پرمنائی جارہی ہے۔

دنیا کرونا کے خوف سے اپنے رشتہ داروں تک سے ملنا چھوڑ چکی ہے،ملاقات و سفر محدود کر دیا ہے۔
لیکن یہ عظیم میراث و ثقافت اربعین حسینی آپنی آب وتاب کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔نازک وسخت حالات میں بھی لاکھوں زائرین حسین عراق پہنچ کر نجف سے کربلا کی طرف پیدل سفر کرتے ہوئے امام کی زیارت کے لیے رواں دواں ہے۔

کتنے خوش نصیب ہیں یہ لوگ جو عقیدت جذبہ عشق اور حق کے دفاع کاعزم لے کر دنیا کی ساری مصیبتوں و مشکلوں سے نجات دینے والی عظیم ہستیوں کے پاس حاضری،تجدید عہد اور حق کے دفاع وباطل سے پیزاری کے لیے سرزمین عشق کربلاکی جانب روان دواں ہیں۔ان کو پتہ ہے دنیا کے تمام مشکلوں کا حل اور مصیبتوں سے نجات اسی در سے ہی ملے گی۔اور یہ بھی معلوم ہےکہ اس در پر جانے سے ا ن کو کوئی بہانہ،خوف وڈر نہیں روک سکتا۔

اللہ تمام زائرین کی حفاظت وہم سب کو بھی زیارت نصیب کرے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More