ادائے شکر ميں کوتاہي کا اعتراف

0 1

امام زين العابدين عليہ السلام

بارِ الہا! کوئي شخص تيرے شکر کي کسي منزل تک نہيں پہنچتا مگر يہ کہ تيرے اتنے احسانات مجتمع ہو جاتے ہيں کہ وہ اس پر مزيد شکريہ لازم و واجب کرديتے ہيں اور کوئي شخص تيري اطاعت کے کسي درجہ پر چاہے وہ کتني ہي سرگرمي دکھائے، نہيں پہنچ سکتا۔ اور تيرے اس استحقاق کے مقابلہ ميں جو بربنائے فضل و احسان ہے ، قاصر ہي رہتاہے۔

جب يہ صورت ہے تو تيرے سب سے زيادہ شکر گزار بندے بھي ادائے شکر سے عاجز اور سب سے زيادہ عبادت گزار بندے بھي درماندہ ثابت ہوں گے۔اگر بندہ آزاد کرنا دسترس میں نہ ہو تو باقی دو کفارے ساقط نہیں ہوتے۔

کوئي (تجھ پر) استحقاق ہي نہيں رکھتا کہ تو اس کے استحقاق کي بنا پر بخش دے يا اس کے حق کي وجہ سے اس سے خوش ہو۔ جسے تو نے بخش ديا وہ تيرا انعام ہے، اور جس سے تو راضي ہوگيا تو يہ تيرا تفضل ہے۔

جس عملِ قليل کو تو قبول فرماتا ہے اس کي جزا فرواں ديتا ہے اور مختصر عبادت پر بھي ثواب مرحمت فرماتا ہے گويا کہ بندوں کا وہ شکر بجالانا جس کے مقابلہ ميں تو نے اجر و ثواب کو ضروري قرار ديا ہے اور جس کے عوض ان کو اجرِ عظيم عطا کيا ہے، ايک ايسي بات تھي کہ اس شکر سے دست بردار ہونا ان کے اختيار ميں تھا تو اس لحاظ سے تو نے اجر ديا کہ انہوں نے اپنے اختيار سے شکر ادا کيا، يا يہ کہ ادائے شکر کے اسباب تيرے قبضہ قدرت ميں نہ تھے (اور انہوں نے خود اسباب شکر مہيا کئے) جس پر تو نے انہيں جزا مرحمت فرمائي۔

مزید  مغرب ميں عشق کا غروب اور ہمدردي و مہرباني کا فقدان

(ايسا تو نہيں ) بلکہ اے ميرے معبود! تو ان کے جملہ امور کا مالک تھا۔ قبل اس کے کہ وہ تيري عبادت پر قادر و توانا ہوں اور تو نے ان کے لئے اجر و ثواب کو مہيا کرديا تھا قبل اس کے کہ وہ تيري اطاعت ميں داخل ہوں اور يہ اس لئے کہ تيرا طريقہ انعام و اکرام، تيري عادت تفضل و احسان اور تيري روش عفو و درگذر ہے۔ چنانچہ تمام کائنات اس کي معترف ہے کہ تو جس پر عذاب کرے اس پر کوئي ظلم نہيں کرتا اور گواہ ہے اس بات کي کہ جس کو تو معاف کردے، اس پر تفضل و احسان کرتا ہے۔ اور ہر شخص اقرار کرے گا اپنے نفس کي کوتاہي کا اس (اطاعت) کے بجالانے ميں جس کا تو مستحق ہے۔

اگر شيطان انہيں تيري عبادت سے نہ بہکاتا تو پھر کوئي شخص تيري نافرماني نہ کرتا، اور اگر باطل کو حق کے لباس ميں ان کے سامنے پيش نہ کرتا تو تيرے راستہ سے کوئي گمراہ نہ ہوتا۔

پاک ہے تيري ذات! تيرا لطف و کرم، فرمانبردار ہو يا گنہگار، ہر ايک کے معاملہ ميں کس قدر آشکارا ہے يوں کہ اطاعت گزار کو اس عملِ خير پر جس کے اسباب تو نے خود فراہم کئے ہيں جزا ديتا ہے۔ اور گنہگار کو فوراً سزا دينے کا اختيار رکھتے ہوئے بھي اسے مہلت ديتا ہے۔

تو نے فرمانبردارو نافرمان دونوں کو وہ چيزيں دي ہيں جن کا انہيں استحقاق نہ تھا۔ اور ان ميں سے ہر ايک پر تو نے وہ فضل و احسان کيا ہے جس کے مقابلہ ميں ان کا عمل بہت کم تھا۔ اور اگر تو اطاعت گزار کو صرف ان اعمال پر جن کا سرو سامان تو نے مہيا کيا ہے جزا ديتا تو قريب تھا کہ وہ ثواب کو اپنے ہاتھ سے کھوديتا اور تيري نعمتيں اس سے زائل ہوجاتيں۔ ليکن تو نے اپنے جود و کرم سے فاني و کوتاہ مدت کے اعمال کے عوض طولاني و جاوداني مدت کا اجر و ثواب بخشا اور قليل و زوال پذير اعمال کے مقابلہ ميں دائمي و سرمدي جزا مرحمت فرمائي۔

مزید  مسلم بن عقیل سفیر حسین بن علی علیہ السلام

پھر يہ کہ تيرے خوانِ نعمت سے جو رزق کھاکر اس نے تيري اطاعت پر قوت حاصل کي اس کا کوئي عوض تو نے نہيں چاہا اور جن اعضا و جوارح سے کام لے کر تيري مغفرت تک راہ پيدا کي اس کا سختي سے کوئي محاسبہ نہيں کيا۔ اور اگر تو ايسا کرتا تو اس کي تمام محنتوں کا حاصل اور سب کوششوں کا نتيجہ تيري نعمتوں اور احسانوں ميں سے ايک ادنيٰ و معمولي قسم کي نعمت کے مقابلے ميں ختم ہوجاتا اور بقيہ نعمتوں کے لئے وہ تيري بارگاہ ميں گروي ہوکر رہ جاتا، (يعني اس کے پاس کچھ نہ ہوتا کہ اپنے کو چھڑاتا)تو ايسي صورت ميں وہ کہاں تيرے کسي ثواب کا مستحق ہوسکتا تھا؟!

نہيں! وہ کب مستحق ہوسکتا تھا اے ميرے معبود! يہ تو تيري اطاعت کرنے والے کا حال اور تيري عبادت کرنے والے کي سرگزشت ہے اور وہ جس نے تيرے احکام کي خلاف ورزي کي اور تيري منہيات کا مرتکب ہوا سے بھي سزا دينے ميں تو نے جلدي نہيں کي تاکہ وہ معصيت و نافرماني کي حالت کو چھوڑ کر تيري اطاعت کي طرف رجوع ہوسکے۔ سچ تو يہ ہے کہ جب پہلے پہل اس نے تيري نافرماني کا قصد کيا تھا جب ہي وہ ہر اس سزا کا جسے تو نے تمام خلق کے لئے مہيا کيا ہے مستحق ہوچکا تھا۔ تو ہر وہ عذاب جسے تو نے اس سے روک ليا اور سزا و عقوبت کا ہر وہ جملہ جو اس سے تاخير ميں ڈال ديا، يہ تيرا اپنے حق سے چشم پوشي کرنا اور استحقاق سے کم پر راضي ہونا ہے۔

مزید  میں خطبہ حضرت زھرا(س) کو پڑھ کر شیعہ ہوا/ قیام امام خمینی(رہ) نے یمن میں دس لاکھ افراد کو شیعہ کیا

اے ميرے معبود! ايسي حالت ميں تجھ سے بڑھ کے کون کريم ہوسکتا ہے اور اس سے بڑھ کے جو تيري مرضي کے خلاف تباہ و برباد ہو، کون بدبخت ہو سکتا ہے! نہيں! کون ہے جو اس سے زيادہ بدبخت ہو؟!

تو مبارک ہے کہ تيري توصيف لطف و احسان ہي کے ساتھ ہوسکتي ہے، اور تو بلند تر ہے اس سے کہ تجھ سے عدل و انصاف کے خلاف کا انديشہ ہو۔ جو شخص تيري نافرماني کرے تجھ سے يہ انديشہ ہو ہي نہيں سکتا کہ تو اس پر ظلم و جور کرے گا اور نہ اس شخص کے بارے ميں جو تيري رضا و خوشنودي کو ملحوظ رکھے تجھ سے حق تلفي کا خوف ہوسکتا ہے۔ تو محمد۰ اور ان کي آلٴ پر رحمت نازل فرما اور ميري آرزووں کو برلا اور ميرے لئے ہدايت اور رہنمائي ميں اتنا اضافہ فرما کہ ميں اپنے کاموں ميں توفيق سے ہمکنار رہوں۔ اس لئے کہ تو نعمتوں کا بخشنے والا اور لطف و کرم کرنے والا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.