اخلاق کے اصول- اخلاقی عمل

0 0

اخلاقی عمل  عناوین

( الف ) ا خلا قی عمل کے قیمتی عناصر

١۔فاعلی عناصر

(ایک) فاعل کی آ ز ا د ی اور اس کا اختیار ۔

(دو) فاعل کی نیت  اور مقصد

٢۔ فعلی اور عینی عنصر

( ب ) اخلا قی ذمہ داری کی شرطیں

١۔ بلو غ

٢۔ عقل

٣۔ علم یا اسے حاصل کرنے کا امکان ۔

٤۔ قد ر ت

٥۔ اضطرار ( مجبوری ) کا نہ ہونا ۔

٦۔ اکراہ واجبار کا نہ ہونا ۔

٧۔قصد و عمل

(ج ) اخلاقی عمل کی پہچان

١۔ عقل

٢۔ فطرت ۔

٣۔ و حی ۔

(د) اخلاقی اقدار کا تزاحم اورترجیح کامعیار

اس حصہ میں اُن بنیادی موضوعات پرگفتگوکی جائے گی جوفلسفہ اخلاق کی بحثوں میں اخلاق کے عنوان سے بیان کئے گئے ہیں یعنی ”اخلاقی اچھائی اوربرائی کا معیار ”۔ وہ بنیادی سوالات جن کے جوابات اس فصل میں دئے جائیں گے مندرجہ ذیل ہیں:

١ ۔ ایک عمل کس صورت میں علم اخلاق کی عدالت کے دائرہ میں قرار پاتا ہے ؟

٢ ۔ اخلاق اسلامی کی نظر میں کن عام شرطوں کے تحت ایک عمل اچھا یا برا مانا جاتا ہے؟

٣ ۔ اسلام کی نظر میں اخلاقی ذمہ داری کی عام شرطیں کیا ہیں؟

٤۔ اخلاقی فضائل ورذائل کے کلی معیار کی شناسائی کے بعد اچھے یابرے عمل کے مصداق کی پہچان کے لئے دین میں کن وسیلوں کو پہچنوایا گیا ہے ؟

٥ ۔ کیا دین میں اخلاقی اچھائی اور برائی کو پہچنوانے کے لئے مشخص مفاہیم اور کلمات موجود ہیں؟

٦ ۔کبھی عمل کے مقام پر ایک وقت یاموضوع میں دو اخلاقی حکم اس طرح جمع ہوجاتے ہیں کہ انسان دونوں کا پابند ہوتا ہے دونوں کی پیروی کی قدرت نہیں رکھتا۔کیا اسلامی اخلاق کے نظام میں ان موارد کے لئے کوئی راہ حل تلاش کیا گیا ہے اور کیا ایک اخلاقی حکم کو دوسرے پر ترجیح دینے کے لئے کوئی معیار بتایا گیاہے؟

ان تمام سوالوں کو ان چار محوروں میں خلاصہ کیا جا سکتاہے:

١لف ۔ اخلاقی عمل کے حدود اور ان کی کلی شرطیں۔

ب۔ اخلاقی ذمہ داری کی عمومی شرطیں۔

ج۔ اخلاقی اچھائیوں اور برائیوں کو پہچنوانے کے راستے اوروسیلے۔

د۔ اخلاقی تعارض اور تزاحم کا معیاراس بناپراس فصل کے مطالب چار عنوان میں ترتیب پاتے ہیں۔

١لف ۔اخلاقی عمل کے قیمتی عناصر

اس بحث میں اخلاقی عمل سے مراد ”اچھا عمل” ہے اسلامی اخلاق کے نظام میں، جہاں اخلاق کے لئے جزا وسزا کو ضروری مانا گیا ہے، اچھا عمل وہ عمل ہے جس کے ہمراہ اخروی بدلہ اور ثواب موجود ہو، خواہ اس کے ہمراہ دنیوی بدلہ ہو یا نہ ہو۔

اس بنا پراس بحث کا مقصد ایسی شرطوں کو بیان کرنا ہے کہ ایک عمل انجام دینے والا اُخروی ثواب اور جزا کو حاصل کر سکے۔

ایک مجموعی تقسیم بندی کے لحاظ سے ایک اچھے اور قیمتی اخلاقی عمل کے لئے اس کے ضروری عناصر کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے: فاعلی عناصر اور فعلی یاعینی عناصر۔ فاعلی عناصر سے مراد ایسے حالات ہیں جو ایک طرح سے فاعل کی طرف پلٹتے ہیں۔ فعلی یا عینی عناصر یعنی ایسے حالات جن کا فاعل کے ارادہ اور حالات سے آزاد ہو کر ایک واقعی اور عینی امر کے عنوان سے فعل میں موجود رہنا ضروری ہو۔ مجموعی طورپریہ دو طرح کے عناصر جو اخلاق کی اصلی فضیلتوں کی بنیادوں کوتعمیر کرتے ہیں، درج ذیل ہیں: (١)

١ ۔فاعلی عناصر

فاعل میں دو اساسی عنصر کی موجودگی لازم ہے تا کہ اس کے عمل فعل میں موجود دوسری شرطوں کے باوجود اخلاق کے اچھے اور قیمتی زیورسے آراستہ ہو۔ یہ دو عنصر جنھیں ”فاعل کی آزادی اور اس کے اختیار ” اور ”ایک خاص نیت اور مقصد کے وجود” سے تعبیر کیا گیا ہے اس انسان میں فعل کے شروع ہونے سے تمام ہونے تک پائے جاتے ہیں۔

١۔ توجہ کرنی چاہئے کہ اخلاق اسلامی کی کلامی شرطیں جیسے مبدأ ومعاد ورسالت پر عقیدہ جو بعض عناصر کے محقق ہونے کے لئے مبنأاور ابتدائی شرطیں ہیں، یہاں ان کے سلسلہ میں بحث نہیں کی جائے گی۔ بلکہ علم اخلاق کے کلامی اصول کے عنوان سے ان کو مسلم جانا جاتا ہے۔ اس تصور کے ساتھ کہ کلامی بحثوں اور اسلامی معارف کے درسوں میں ان پر تحقیق ہوئی ہے اور ان کو قبول کیا گیا ہے۔

ایک:  فاعل کی آزادی اور اس کا اختیار

جیسا کہ علم اخلاق کی تعریف سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اخلاق انسان کے اُن اختیاری اعمال اوراس کی اُن قدرتوں اور صفتوں کے بارے میں گفتگو کرتا ہے جو اختیاری مبدا ٔکی حیثیت رکھتی ہیں اوروہ چیزیں جو اس کی آزادی اور اختیار سے باہر ہیں اصولی طور پر وہ اخلاقی تحسین وتقبیح اور فیصلہ کے دائرہ سے باہرہیں اوروہ اخلاقی حکم کو قبول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں اوروہ اس کی مستحق بھی نہیں ہیں۔

انسان دو طرح کے افعال انجام دیتا ہے: ایک وہ افعال ہیں جو فطری اور اضطراری (بے اختیاری) طور پر انجام دئے جاتے ہیں اور دوسرے وہ افعال ہیں جواختیاری اور ارادی طور پر انجام دئے جاتے ہیں۔

فطری اور اضطراری افعال انسان کی طبیعت سے صادر ہوتے ہیں اور ان کے انجام میں علم وآگاہی کا دخل نہیں ہوتا ہے جیسے سانس لینا۔ انسان کے ارادی اور اختیاری افعال اس کے علم وآگاہی کے ذریعہ صادر ہوتے ہیں۔ یعنی انسان ابتدا میں اس عمل کو پہچانتا ہے اور اسے دوسرے تمام اعمال  سے جدا کرتا ہے، پھر اسے نفس کے کمال  کا مصداق سمجھتا ہے۔ اس کے بعد اسے انجام دینے کے لئے اقدام کرتا ہے۔ (١)

البتہ جس طرح فلسفی اور کلامی بحثوں میں ثابت ہوچکا ہے اوراس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انسان ان کاموں کی نسبت جوعلم وارادہ سے انجام دیتا ہے، اختیار تکوینی رکھتا ہے۔ ہاں یہ جاننا چاہئے کہ آدمی کا اختیار مطلق نہیں ہوتاہے، کیونکہ اس کااختیار سلسلہ ٔ علل کے اجزاکاایک جز ہے۔ خارجی اسباب وعلل بھی اس کے اختیاری افعال کے محقق ہونے میں دخیل ہیں۔ مثلاً تغذیۂ انسان، اس کے ارادہ وخواہش کے علاوہ غذا کے خارج میں موجود ہونے اور اس تک دسترسی و کھانے کی قابلیت و صلاحیت اور قوۂ ہاضمہ کی سلامتی اور دسیوں بلکہ سیکڑوں ایسی علتیں ہیں جو اس کے اختیار سے باہر ہیں، ان علتوں کے سلسلہ میں خدا کی مرضی و ارادہ کی بھی ضرورت ہے، یہ ایسی حالت میں ہے کہ انسان کے ارادہ کی بقا بھی اس کی مرضی سے وابستہ ہے۔ (٢) اس بنا پر انسان کے ارادہ کی آزادی، اس کے ارادی افعال کے دائرہ میں بھی محدود اور مشروط ہوتی ہے لیکن اس کے عمل کی نسبت اخلاقی تعریفیں اور مذمتیں اس کے اختیاری فعل کے دائرہ کے لحاظ سے محدود ہیں۔

١۔ رجوع کیجئے علامہ طباطبائی ، المیزان، ج١، ص ١٠٦،١٠٧۔

٢۔ ایضاً، ج١٦، ص٦٧۔

اختیاری اور ارادی فعل کے مقابلہ میں طبیعی اور جبری (غیر ارادی) فعل ہے، جبر واختیار کے الفاظ کا مختلف علوم کی اصطلاح میں مختلف طریقہ سے اور سماج کی عام بول چال میں اس کے بہت سے معانی میں استعمال ہونے کی بناپر لوگوں کے ذہنوں میں بہت سے شبہے پیدا ہوتے ہیں۔یہاں مناسب ہے کہ جبر واختیار کے مختلف استعمالات اور ان کی اہم قسموں کو بیان کیا جائے۔

کلمۂ جبر مندرجہ ذیل مقامات پر استعمال ہوتاہے اورآزادی واختیارہر جگہ اس کے مقابل معنی رکھتا ہے:

١۔فلسفی جبر: وہ اعمال جو انسان سے صادر ہوتے ہیں لیکن ان کے وجود میں آنے کے لئے اس کاکچھ بھی دخل نہیں ہوتاہے۔جیسے آدمی کا سانس لینا، اس کی طبیعت کے مطابق ہے۔

اس طرح کے جبر کے مقابلہ میں، فلسفی آزادی اور اختیار ہے۔

٢۔ اخلاقی جبر: وہ اعمال جنھیں اخلاقی حکم وتقاضہ کے مطابق انسان انجام دیتا ہے یا ترک کرتا ہے جیسے یہ کہ انسان اخلاقی لحاظ مامور سے ہے کہ نماز پڑھے یا حرام ہے کہ وہ شراب پئے اس طرح کا جبر، اخلاقی آزادی واختیار کے مقابلہ میں ہے۔

٣۔ حقوقی جبر: قانونی لحاظ سے انسان کے لئے ضروری ہو تاہے کہ اپنی اجتماعی زندگی میں کچھ مخصوص اعمال کو انجام دے یا کچھ خاص اعمال کو ترک کرے۔جیسے قانون کے مطابق ہم سب مجبور ہیں کہ اپنی آمدنی کے لحاظ سے ٹیکس اور مال گذاری ادا کریں یادوسروں کی ملکیت اوران کی خصوصی زندگی کے حقوق کا احترام کریں۔ ان امورکی مخالفت کی صورت میں قانونی سزائوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جبرکے اس مفہوم کے مقابلہ میں حقوقی آزادی اور اختیار ہے۔ علم حقوق میں جن ضروری اعمال کی مناسبت سے گفتگو ہوتی ہے وہ اسی زمرہ میں آتے ہیں۔

٤۔ نفسیاتی جبر: کبھی ایساہوتاہے کہ انسان نفسیاتی وضعیت اور باطنی حالت سے متاثر ہوکر کچھ ایسے اعمال کو انجام دیتایاترک کرتاہے کہ وہ اس کے لئے ناگزیر ہوتاہے۔ جیسے کوئی انسان اپنی ماں کے انتقال کی وجہ سے غمگین ہوجاتاہے اوراس پر قلبی رقت طاری ہوجاتی ہے اوروہ اس حالت میں دوسرے کے ساتھ مہربانی کے ساتھ پیش آتا ہے یااپنی زوجہ کو تکلیف نہیں پہنچاتا ہے یا اپنی روزانہ کی مالا مال آمد کی کثرت سے مست ہوجاتا ہے، یا اپنے عزیزوں سے ملاقات کے شوق وولولہ کی خاطر ناگزیر ہوکر خودسے متعلق دوسروں کی بداعمالیوں کو معاف کردیتا ہے اور بذل وبخشش سے کام لیتاہے۔اس طرح کا جبر نفسیاتی آزادی اور اختیار کے مقابلہ میں ہے۔ علم نفسیات میں، جبر واختیار کا اس طرح سے معنی کرنا زیادہ رائج ہے۔

٥۔سماجی جبر: کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اجتماعی اور سماجی حالات، آداب وتہذیب اس کی رسموں اور طور طریقوں کی وجہ سے انسان خود سے ایک خاص فعل کو ظاہر کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے اور مجبوراً بعض اعمال کو ترک کردے۔ جیسے ہمارے سماج میں ایک بازاری دوکاندار پر یہ سماجی دبائو رہتا ہے کہ عاشور کے دن وہ اپنے کار وبار کو بند کردیتا ہے ، اگرچہ اس کی مرضی نہ بھی ہو۔ یا اجتماعی تحولات وتعمیرات کے موقع پر جو صنعتی ترقی کی بنا پر ہوتے ہیں، انسان مجبور ہے مٹرو سے اُترتے وقت تکلفات کونظر انداز کردے اور اس کے دروازوں کے بند ہونے سے پہلے مختصر وقت میں ہی اس سے باہر آجائے۔ سماجی آزادی اور اختیار، اس طرح کے جبر کے مقابلہ میں ہے۔ اجتماعی اور سماجی علوم میں جبر کا یہ مفہوم وسیع پیمانہ پر مستعمل ہے۔

کلمۂ جبر و اختیار کے مشہور طریقۂ استعمالات کی اجمالی شرح کے بعد اب ہم جبر واختیار کے نوعی مفہوم کو جو اخلاقی عمل کارکن ہے، آسانی سے جان اور سمجھ سکتے ہیں۔ کسی عمل کوجو چیزعلم اخلاق کی عدالت میں حاضر کرتی ہے وہ فلسفی مفہوم میں عمل کا اختیاراورآزادہونا ہے۔ فلسفی وتکوینی آزادی اور اختیار، اعتباری جبر جیسے حقوقی واخلاقی جبر سے مغایرت وبے گانگی نہیں رکھتا ہے اور اخلاقی یا حقوقی دستوروں کی موجودگی کسی خاص فعل سے متعلق انسان کی تکوینی آزادی اور اختیار کو سلب نہیں کرتی ہے۔ اُسی طرح جیسے اکراہ واجبار واضطرار، فاعل کی تکوینی آزادی اور اختیار سے ٹکرائو نہیں رکھتے ہیں۔ (١)

اس طرح وہ چیزیں جو کبھی نفسیاتی یا سماجی جبر کے نام سے جانی جاتی ہیں، ہرگزتکوینی وفلسفی آزادی سے مغایرت نہیں رکھتی ہیں۔ ہاں، سبھی اخلاقی یاحقوقی اوامر ونواہی اور نفسانی اور سماجی عوامل کسی عمل کے انجام یا ترک سے متعلق، انسان کے عزم وارادہ کے پیدا ہونے میں اثرانداز ہوسکتے ہیں اوربہت سی جگہوں پر ایسا ہوتابھی ہے لیکن یہ دخالت وہیں سے گذرتی ہے جہاں انسان کی تکوینی آزادی اور ارادہ وجود میں آتاہے اور یہ کبھی انسان کو حقیقی لحاظ سے مجبور اور مسلوب الاختیار نہیں کرتی ہے۔

َ

١۔ رجوع کیجئے علامہ طباطبائی المیزان، ج١، ص١٠٧۔

دو: فاعل کی نیت اورمقصد

بہت سے دوسرے اخلاقی مکاتب کے برخلاف، مکتب اخلاق اسلامی، اخلاقی عمل کوانجام دینے کے لئے فاعل کی نیت اور مقصد پر بہت زیادہ زور دیتاہے۔ اصولی طور پر فلسفی لحاظ سے ایک آزاد اور مختار فاعل کے ذریعہ صادر ہونے والا فعل ان چار علتوں (فاعلی، مادی، صوری، غائی) کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ یہاں نیت اور مقصد سے مراد وہی علت غائی ہے جو فاعل کو کسی عمل پر مجبور کرتی ہے۔ اس بنا پر اختیاری عمل کے محقق ہونے میں مقصد کے موجود ہونے کی اصل ضرورت ایک ایسی بات ہے جس سے انکار نہیں کیا سکتا۔ لیکن بات اصل یہ ہے کہ عمل کو انجام دیتے وقت فاعل کے کسی خاص مقصد کی موجودگی آیااخلاقی عمل کے قابل قدر ہونے کے لئے ایک لازم شرط ہے؟ بہت سے اخلاقی مکاتب نے اس سوال کا جواب منفی دیاہے(١) ، اسلامی اخلاقی مکتب کے نظریہ کے مطابق فاعل میں نیت ومقصد کا ہونا، اخلاقی اقدار کے لئے ایک ضروری شرط ہے۔

یہاں پر اس بات کی یاددہانی ضروری ہے کہ مخصوص نیت اورمقصد کے تحقق کے لئے دواساسی رکن کی موجودگی ضروری ہے، پہلا: فاعل کسی فعل کو انجام دینے کے لئے ارادہ اور توجہ رکھتاہو، دوسرا: فعل کو انجام دینے سے اس  کا مقصدفقط خدا کی خوشنودی حاصل کرنا ہو جسے اخلاص کہا جاتا ہے۔ اس طرح اخلاقی عمل کا فاعلی عنصر یا اس کی شرط اُس صورت میں مخدوش ہوتی ہے جب فاعل کسی کام کو غفلت اورسہوکی وجہ سے انجام دے یاخوشنودی پروردگار کے علاوہ کوئی دوسرا مقصد رکھتا ہو۔ البتہ پہلے رکن کا فقدان ہمیشہ دوسرے رکن کے نہ ہونے کے برابر ماناجائے گا۔ لیکن دوسرارکن، پہلے رکن کے تابع نہیں ہے۔(٢)

اخلاق اسلامی کے فلسفہ میں کسی عمل کی اس وقت اخلاقی قدر وقیمت ہوتی ہے اور اس وقت نیک بدلہ اور اجر کا مستحق ہوتا ہے جب دوسری شرطوں کے محقق ہونے کے علاوہ فاعل کا مقصد خداکی مرضی حاصل کرنا ہو اورعمل کے انجام دینے کو کمال الٰہی اور اس کے جمال وجلال وصفات سے معنوی طور پر نزدیک ہونے کے لئے ایک وسیلہ اور ذریعہ قراردے۔ بس جب بھی کوئی مجنون یااحمق فاعل، پروردگار کی خوشنودی کے علاوہ کسی دوسری وجہ سے کوئی کام انجام دے تو اس کا عمل اخلاقی قدر و قیمت طے کرنے کے لئے ضروری نصاب سے محروم رہے گا۔

١۔ کانٹ کانظریہ یہ نہیں ہے وہ معتقد ہے کہ اخلاقی عمل کو انجام دینے کے لئے انجام فریضہ کے لئے ضروری مصداق ہونا چاہئے اس کے علاوہ انجام فریضہ کی نیت بھی اخلاقی عمل کے لئے شرط ہے۔ ر۔ک: ایمانوئل کانٹ: بنیاد مابعد الطبیعة اخلاق ترجمۂ (فارسی) حمید عنایت وعلی قیصری، ص٢٣،٢٤۔

٢۔رجوع کیجئے مطہری، مرتضیٰ، تعلیم وتربیت در اسلام(اسلام میں تعلیم وتربیت) ص١٩٥۔١٩٦۔

اس کے علاوہ فاعل کا مقصد یگانہ اورخالص ہونا چاہئے۔ یعنی فاعل کی نیت بہترین مقصدکے تحت اور خالص ہو۔ کبھی اس شرط کوضرورت کے تحت حسن فاعلی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔یہ حسن فعلی کے مقابلہ میں ہے جوآگے بیان ہو گا۔

اخلاقی عمل کی قدروقیمت کو طے کرنے میںنیت کی اہمیت اور اس کی تاثیر کو عقل وفلسفہ کی نظرسے اوراسلام کی مقدس کتابوں کی زبان سے بھی بیان کیاجاسکتا ہے:

١۔مقصدکی عقلی اہمیت: فلسفۂ اخلاق اسلامی کی نظرمیں انسان کا سب سے بلند و جودی مرتبہ اس کا روحانی مرتبہ ہے۔اس مرتبہ میں انسان کا حقیقی کمال خدا کے صفات کمالیہ زیادہ سے زیادہ معنوی تقرب حاصل کرنے میں ہے۔ دوسرے لفظوں میں انسان کا سب سے بلند روحی مرتبہ اس چیز میں ہے کہ روح جو انسان کا جوہر ہے، الہی اسماء وصفات جمال وجلال کی جلوہ گاہ بن چائے۔ یہ چیز علم اخلاق کے کلامی شرائط اوراس کے مقصد ورسالت سے مربوط ہے۔ یہ عظیم کام اس صورت میں ممکن ہے جب انسان اپنے اختیاری عمل میں، جو روح کی ترقی وتنز لی میں وجودی تاثیر رکھتا ہے، خدا وند متعا ل سے نزدیک ہو نے کے لئے مقصداور نیت کے ساتھ حرکت کرے۔ نیت اور اخلاقی قدروں کے درمیان یہ تاثیر اور  رابطہ ایک تکوینی اور حقیقی رابطہ ہے نہ کہ جعلی اور قرارداری۔

٢۔وحی کے مطابق مقصدکی اہمیت: اسلام کی مقدس کتابوں میں، خواہ وہ قرآن سے مربوط ہویا سنت سے اخلاقی عمل کے لئے خدائی مقصد کے موجود رہنے کی ضرورت پرواضح طریقہ سے تاکید کی گئی ہے۔ان کی چند مشہور مثالیں مندرجہ ذیل ہیں:

مزید  اپنے دل کے دائمي بتوں کو توڑ ڈالو

”یہ غنائم یا بلند درجہ اُن فقیرمہا جرین کے لئے ہے جن کو اپنے وطن اور مال سے محروم کردیا گیا۔ جبکہ وہ خوشنودی خدااور فضل الہی حاصل کرنے کے لئے کام کرتے ہیں اور خدا اور اس کے رسول کے امورمیں مدد کرتے ہیں۔ یہ سچے اور حقیقت پسند لوگ ہیں۔” (١)

”وہ لوگ خداسے دوستی کی بناپرمسکین ویتیم واسیرکو کھانا کھلاتے ہیں۔ (اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ) ہم خوشنودی خداکے لئے کھانا کھلاتے ہیں اورتم سے کوئی بدلہ اورشکریہ نہیں چاہتے ہیں۔” (٢)

١۔ سورۂ حشرآیت ٨۔

٢۔ سورۂ انسان۔آیت ٨و٩۔

”اور جن لوگوں نے اپنے خداکی خوشنودی کے لئے صبروشکیبائی سے کام لیا اور نمازکو قائم کیا اور ہم نے اُن کو جو روزی دی ہے اس میں سے پوشیدہ وآشکارطریقہ سے انفاق کیا اور بدی کو نیکی کے ذریعہ دفع کرتے ہیں آخرت کا گھر اِنھیں کے لئے ہے ”۔ (١)

یہ بات واضح ہے کہ الٰہی مقصد پر قرآن کی یہ تاکید صرف مذکورہ موارد اور مقامات سے مخصوص نہیں ہے، اور مخصوص اعمال کا ذکر بعنوان مثال اورشاید الٰہی مقصد کی حفاظت میں انسان کے ذریعہ ہونے والی لغزشوں کے سب سے مشہور اور بنیادی مقامات کے ذکر کے عنوان سے ہے۔

پیغمبر اکرم  ۖ سے یہ نقل ہواہے کہ فرمایا:

”بیشک اعمال کی اہمیت انہیں انجام دینے کی نیت پر منحصر ہے اورانسان کے لئے وہی چیزیں رہیں گی جن کی نیت کی ہے (٢) ، مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے” (٣)

نیت کے مراتب:کبھی ایسا ہوتا ہے کہ حتیٰ وہ افراد جو خدا کے وجود کو قبول کرتے ہیںاور قیامت اور پیغمبروں کی بعثت پر عقیدہ رکھتے ہیں وہ بھی اپنے اعمال کو ثواب حاصل کرنے وبہشت میں جانے، اس کی لازوال نعمتوں سے بہرہ مندہونے اور دوزخ وجہنم کے کیفر اور سزائوں سے نجات کی غرض سے انجام دیتے ہیں، نہ کہ خداکی مرضی حاصل کرنے کے لئے۔مقدس اسلامی کتابیں خاص طور سے قرآن بہشت کی زیبائیوں اور خصوصیتوں سے نیز اخروی سزائوں کی شدت اور ان کے قطعی ہونے سے خبردار وہوشیا رکرکے ایک طرح سے کیفر سے ڈرنے اورجزاو ثواب کی امید کی نیت سے عمل کرنے کو صحیح مانتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا اس طرح کے اخلاقی اعمال کی قبولیت بیان شدہ اخلاقی عمل کی قیمتی شرطوں سے سازگار ہے؟ اس بنیادپرکہ فاعل کو اپنے عمل میں فقط خداکی مرضی کا حصول مدّنظر رکھنا چاہئے۔

َ

١۔ سورۂ رعد، آیت ٢٢، اسی طرح سورۂ مائدہ آیت نمبر١٥۔١٦، سورۂ بقرہ آیت ٢٠٧، ٢٢٥، ٢٦٤، ٢٧٢، ٢٨٤، سورۂ ممتحنہ آیت نمبر١، سورۂ نساء آیت نمبر٣٨، سورۂ روم آیت ٣٨۔٣٩ کی طرف رجوع کیجئے۔

٢۔ مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، ج٧٠، ص٢١٢، ح٣٨۔

٣۔ کلینی، کافی، ج٢، ص٨٤۔

اس سوال کے جواب میں کہا گیا ہے کہ خدا کی مرضی کے متعدد مراتب ہیں اور انسان انہیں حاصل کرنے کے لئے مختلف طریقہ اختیار کرتاہے۔کبھی خدا کی مرضی کواس وجہ سے اختیار کرتا ہے کہ وہ اخروی بدلہ وثواب کا باعث یا قیامت کے دن کیفر وسزا سے نجات کا ذریعہ وسبب ہے لہٰذا وہ اخلاقی عمل کے انجام میں انسان کے لئے توجہ کا مرکزقرار پاتی ہے اور کبھی صرف خدا کی مرضی کو حاصل کرنا صرف مقصد کے تحریک کرنے اور آگے بڑھانے کے لئے ہوتاہے(١) یعنی خدا کے نزدیک عمل کی محبوبیت ہے جوعمل کی انجام دہی میں انسان کی اس سے محبت اور اس کی طرف مائل ہونے کا سبب بنتی ہے لہٰذا خدا کے نزدیک بھی فاعل کی محبوبیت وجود میں آئے گی اورخدا اس سے محبت کرے گا۔ البتہ اس طرح کے اخلاقی عمل کی انجام دہی، خدا کے صرف خاص بندوں کے ذریعہ ہی میسر ہے۔

اس بناپر پہلی صورت میں بھی فاعل کا مقصد، خدا کی مرضی کا حصول ہے اس وجہ سے کہ وہ بدلہ دینے کا باعث اور کیفر وسزا سے بچنے کا سبب ہے۔

مقصد اور ایمان کارشتہ:یہ بات ذکر ہوچکی ہے کہ اسلام کے اخلاقی نظام میں، اخلاقی عمل اس وقت اہمیت اورقیمت رکھتا ہے جب فاعل اسے انجام دینے میں معبود کی مرضی کاسودا کرے۔ چاہے خدا کی مرضی ذاتی طور پر مطلوب ہو اور چاہے پروردگار کی خوشنودی اس وجہ سے کہ وہ ثواب کا باعث اور عذاب سے بچنے کاسبب ہے، اس وجہ سے اسے اپنا مقصد قرار دیدے۔ (دونوں صورتوں میں اہمیت رکھتا ہے) عقلی طور پر اس امر کا محقق ہونااس صورت میں ممکن ہے جب فاعل خدا کے وجود روز قیامت اور جزا و سزا کی حقّانیت، انبیاء کی بعثت اور ان کی تعلیمات پر یقین اور عقیدہ رکھتا ہو۔ البتہ خدا پر ایمان رکھنے میں، معاد ونبوت سے متعلق ایمان بھی اس کے شامل حال ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ہماری دینی کتابوں میں ایمان پر اخلاقی قدروں کے لئے ضروری شرط کے عنوان سے بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ اس کے کچھ نمونے مندرجہ ذیل ہیں:

”عورت اورمرد میں سے جوکوئی نیک اور شائستہ کام انجام دے اورمؤمن ہو، قطعی طور پر ہم اسے ایسی زندگی عطا کریں گے جو حیات طیبہ اور پاکیزہ ہے اور مسلّم طور پر جو کچھ انہوں نے انجام دیا ہے اس سے بہتر ان کے کئے ہوئے کا بدلہ دیں گے”۔(٢)

١۔رجوع کیجئے مصبا ح یزدی، محمد نقی، اخلاق درقرآن، ص٩٦۔

٢۔ سورۂ نحل، آیت٩٧۔

”نیکی صرف یہ نہیں ہے کہ اپنے چہرہ کو مشرق ومغرب کی طرف کرلیں بلکہ نیکی یہ ہے کہ کوئی خدا، قیامت، فرشتوں، آسمانی کتاب اور نبیوں پر ایمان لائے اور ….. (١)

”خدا کے پیغمبر اُن چیزوں پرجو اس کے پروردگار کی طرف سے اس پر نازل ہوئی ہیں ایمان لائے ہیں اور مؤمنین بھی سب  خدا، فرشتوں، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اس کے رسولوں میں کسی کے سلسلہ میں فرق نہیں کرتے ہیں اور وہ یوں کہتے ہیں کہ ہم نے پیغام الٰہی کو سنا ہے اور اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ اے پروردگار! ہم تیری مغفرت چاہتے ہیں اور ہم تیری طرف پلٹ کے آنے والے ہیں”۔(٢)

ایمان کی حقیقت اور علم کے درمیان کے متعلق ایک طرف اوردوسری طرف اس کے اور اسلام کے درمیان فرق کے بارے میں یہ کہا جاچکا ہے کہ ایمان ایک قلبی بات ہے، اسی کے ساتھ اختیاری بھی ہے۔ جبکہ علم وعقیدہ انسان کے لئے ممکن ہے غیراختیاری صورت میں بھی حاصل ہوجائے، اس لئے علم اورایمان کے درمیان وجودی حقیقت کے لحاظ سے کوئی ملازمہ اور اُن میں وابستگی ضروری نہیں ہے۔ یعنی ممکن ہے کوئی انسان کسی حقیقت کے سلسلہ میں عالم ہو لیکن اسی سلسلہ میں کفر کا اظہار کرے”(٣)

قرآن کریم ایمان سے علم کے جداہونے کے بارے میں فرماتاہے:

”اس کے باوجود کہ ان کے دل اس کے سلسلہ میں یقین کرچکے تھے، لیکن ظلم وزیادتی اورتکبر کی بناپر اس سے انکار کردیا۔ بس دیکھ لو فساد کرنے والوں کا انجام کیا ہوتاہے”(٤)

البتہ فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ ایمان کا عام راستہ علم سے ہوکر گذرتا ہے۔ لیکن علم انفرادی طور پر ایمان کے محقق ہونے کے لئے کافی نہیں ہے۔

١۔ سورۂ بقرہ، آیت١٧٧۔

٢۔ سورۂ بقرہ، آیت ٢٨٥۔

٣۔ رجوع کیجئے علامہ طباطبائی ، المیزان، ج١٨، ص٢٥٩۔

٤۔ سورۂ نحل، آیت ١٤۔

ایمان اور اسلام کے فرق کے بارے میں قرآن کی آیۂ شریفہ اس طرح بیان کرتی ہے:

(اِنّ الْمُسلمینَ والمسلمات والمؤمنین والمؤمنات۔۔۔) (١)

اوراسی طرح دوسری آیتیں بھی(٢) اسلام کو ایمان کے مقابلہ میں قراردیتی ہیں۔ دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ اسلام دین کے سامنے عملی طور پر تسلیم ہوجانے کے معنی میں ہے اور تسلیم عملی بدن کے ظاہری اعضاء وجوارح کے ذریعہ محقق ہوتی ہے۔ لیکن ایمان ایک قلبی، اعتقادی اور باطنی چیز ہے اور یہ چیز اس طرح ہے کہ اس کے آثار بدنی اور ظاہری اعمال میںبھی ظاہر ہوتے ہیں۔ اس بناپر ہر مؤمن مسلمان ہے لیکن ہر مسلمان مؤمن نہیں ہے(٣) جیسے منافق، جودین کے دستور وں پر عمل کرتاہے لیکن ایمان نہیں رکھتا۔

ایمان اورعمل کا رشتہ : قرآن مجید کی بہت سی آیتوں میں ایمان کو قیمتی، موجب سعادت اور صالح عمل کے ساتھ شمارکیاگیا ہے۔ اُن میں سے اس مثال کو ملاخطہ فرمائیے:

”جولوگ ایمان لائے ہیں اورعمل صالح انجام دیتے ہیں ہم ان کو بہت جلدان باغ ہائے جنت میں داخل کریں گے جن کے درختوں کے نیچے نہریں بہتی ہو نگی اوروہ ہمیشہ اس میں زندگی گزاریں گے …..۔”(٤)

بعض دوسری آیتوں میں صرف ایمان کو انسان کی سعاتمند ی اورکامیابی اوربہشت میں داخل ہو نے کے لئے ایک شرط کے طورپرپیش کیا گیا ہے۔

”خدا نے مومنین ومومنات سے ان باغات کا وعدہ کیا ہے جہاں درختوں کے نیچے نہریں جاری ہو ں گی اور وہ اُن میں سے ہمیشہ زندگی گزاریں گے، ان جنّات عدنٍ میں پاکیزہ جگہ دینے کا بھی وعدہ کیا ہے اور خدا کی خوشنودی سب چیزوں سے بڑی ہے اوریہ سب سے بڑی کا میا بی ہے۔”(٥)

١۔ سورۂ احزاب ۔آیت: ٣٥۔

٢۔ جیسے سورۂ حجرات کی چودہویں اور پندرہویں آیت۔

٣۔ رجوع کیجئے علامہ طباطبائی المیزان، ج١٦، ص٣١٣۔٣١٤۔

٤۔ سورۂ نساء آیت٥٧، ١٢٢، اورسورۂ بقرہ کی آیت ١٠٣، سورۂ نساء کی آیت١٢٤، اورسورۂ کہف کی آیت٣٠ کی طرف رجوع کیاجائے۔

٥۔ سورۂ توبہ، آیت٧٢۔

اس آیت میں واضح طریقہ سے خدا کی بڑی نعمتوں مثلاً ایمان کے ساتھ اس کی مرضی کی بشارت دی گئی ہے اور اس کے ساتھ کسی عمل کے موجود ہونے اور اس کی ضرورت پرکوئی گفتگونہیں کی گئی ہے۔ کیا اس طرح کی آیتیں، گزری ہوئی یاآگے آنے والی آیتوں سے، اس بناپر کہ اخلاقی قدروں کے محقق ہونے کے لئے عمل صالح کا موجود ہونا ضروری ہے، اختلاف نہیں رکھتیں؟ کیا اسلام کے اخلاقی نظام میں صرف ایمان، اخلاقی قدروں اور تعریف وجزا کے مستحق ہونے کا سبب بن سکتاہے؟ اس سوال کا جواب دینے اور ان دو طرح کی آیتوں کے مفہوم کے درمیان مناسب رابطہ برقرار کرنے کے لئے یہ کہاگیاہے:

” ایمان کی حقیقت اور اسلام وعمل سے اس کی نسبت کے بارے میں جوکچھ بیان ہواہے اس پر توجہ کرتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ وہ آیتیں جو ایمان کے ساتھ عمل کا ذکر کرتی ہیں، وہ عام حالات پر نظر رکھتی ہیں، یعنی ان لوگوں سے مربوط ہیں جن کے لئے کام کرنے کی شرطیں جیسے قدرت، فرصت وغیرہ فراہم ہیں اور وہ ان حالات میں عمل کرتے ہیں اور وہ آیتیں جو صرف ایمان کو ہی کامیابی کا سبب قرار دیتی ہیں، ان حالات سے مربوط ہیں جن میں انسان ایمان لاتاہے لیکن عمل کو انجام دینے کے لئے حالات جیسے قدرت، فرصت وغیرہ اس کے لئے فراہم نہیں ہیں۔ ”(١)

کافروں کے نیک اعمال:آخری سوال جو مقصداور نیت کے بارے میں جواب کا مستحق ہے یہ ہے: جو کافرین اور غیر مؤمن افراد مبدأ، معاد اور نبوت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں لہٰذا اپنے اعمال کی انجام دہی میں (اگر چہ ذاتی طور پر وہ عمل پسندیدہ ہیں) خداکی مرضی حاصل کرنے کی نیت نہیں رکھتے ہیں، کیا وہ لوگ اسلام کے اخلاقی اصول کی رو سے کسی طرح کی تعریف اور جزا کے مستحق نہیں ہیں؟ کیا ان کے نیک اعمال کی کوئی اہمیت وقیمت نہیں ہے اور کیاپروردگار کی جانب سے انہیں بدلہ نہیں ملے گا؟

اس سوال کے جواب میں یہ کہا گیاہے:

”وہ اعمال جو مذکورہ خصوصیت نہیں رکھتے ہیں لیکن شارع کے معین کردہ طریقوں کے مخالف بھی نہیں ہیں اور

١ ۔ر۔ک مصباح یزدی، محمد تقی، اخلاق درقرآن، ص١١٢،١١٣۔

کوئی منفی مقصد بھی نہیں رکھتے ہیں یعنی دین حق اور اس کے ماننے والوں سے دشمنی کے مقصد سے انجام نہیں دیتے اور فاعل انھیں انجام دینے کے لئے مادی اور حیوانی ضرورتوں کے پورا کرنے سے بالاتر مقصد دکھاتا ہے یعنی اس کا عمل، انسانی احساسات وعواطف کی خاطر انجام پاتاہے (جیسے کسی کو معاف کردیتا ہے اور سخاوت کو ظاہر کرتا ہے اس جیسے دوسرے اعمال) اگرچہ انسانی نفس کی بلندی وتکامل کے لئے ضروری شرطیں نہیں رکھتے اور اس کے لازمی نصاب تک نہیں پہنچتے لیکن وہ اس کے لئے مقدمہ فراہم کرتے ہیں یعنی انسان کی روح وجان کو معنوی سفر طے کرنے کے لئے آمادہ کردیتے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض روایتوں کی بناپر اُخروی سزائوں کے رفع ہونے یا اُن میں تخفیف ہونے کا سبب بن جاتے ہیں اور اگرچہ لازم شرطوں کے نہ ہونے کی بناپر بہشت میں داخل نہیں ہوگا اوراسے ابدی سعادت میسر نہیں ہوگی لیکن مطلق ایسا بھی نہیں ہے کہ اس کی کوئی اہمیت نہ ہو”۔ (١)

٢۔فعلی اور عینی عنصر

اخلاقی عمل کے لئے ان شرطوں کے علاوہ جو فاعل کے ذریعہ ان کی انجام دہی میں ہونی چاہئے، لازم ہے کہ وہ عمل فی نفسہ اورذاتی طور پربھی نیک، اچھا اور پسندیدہ ہو۔

اسلامی علوم میں رائج تعبیر کے مطابق اُسے حُسن فعلی کے عنوان سے یاد کرتے ہیں یہ حُسن فاعلی کے مقابلہ میں ہے جس کے بارے میں عنصر فاعلی کے عنوان کے تحت اس کتاب میں گفتگو ہوئی ہے۔

اس سوال کے بارے میں کہ کیا کوئی عمل ذاتی طور پر نیک اور شائستگی کا حامل ہے یانہیں؟ اس سے پہلے اس سلسلہ میں اجمالی طور پر گفتگو ہوچکی ہے اور اس سلسلہ میں زیادہ تحقیق اورمعلو مات کے لئے اس سے مربوط منابع ومصادر میں جستجو کرنی چاہئے (٢) لیکن اس نکتہ کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے کہ اس عمل کا معیار اور اس کی نشانی انسان پر منحصر ہیں اور انھیںنشانیوں  کی بنیاد پر اُسے نیکی اور برائی سے متّصف قرار دیاجاتاہے اور وہ ثواب یا عقاب کا مستحق ہوتا ہے اور محاسبہ وآزمائش کی بنیاد پر انسان خدا کے نزدیک جگہ پاتاہے۔ جب کہ اگر خارجی عمل پر اس کے علائم سے ہٹ کر اس پر توجہ کی جائے تو صرف ایک بدنی حرکت ہوگی اور وہ حرکت باقی تمام حرکتوں کی طرح نہیں ہوگی اور اس کی بہ نسبت اچھائی اور برائی کوئی معنی نہیں رکھتی ہے۔(٣)

١۔ ر۔ک مصباح یزدی، محمد تقی، اخلاق درقرآن، ص١١٧١،١٧٢۔

٢۔ سبحانی، جعفر: حسن وقبح عقلی، پایہ ہائے جاودان اخلاق کی طرف رجوع کیجئے۔

٣۔ علامہ طباطبائی: المیزان، ج١٦، ص٨٢۔

اخلاقی عمل کے لئے حُسْن فعلی کی ضرورت کو عقلائی لحاظ سے بیان کرنے کے لئے کہا جاسکتاہے کہ انسان کا ارادی وآزادانہ (غیر ارادی) فعل اس کے نفس کے ذریعہ وجود میں آتاہے اورکمیّت، کیفیت، شکل، زمانی ومکانی خصوصیات وغیرہ کے لحاظ سے وہ فاعل کے مقصد کے تابع ہے۔ یعنی حقیقت میں فاعل کا مقصد اس کے عمل کی روح اور اسے وجود میں لانے والا ہے۔ اس بناپر ہر کام کو ہر مقصد کے ساتھ انجام نہیں دیا جاسکتا ہے اور ہر مقصد ایک خاص طریقہ سے کسی عمل کے ساتھ سنخیت اورمناسبت رکھتا ہے۔ سونے کی حالت میں کسی علمی امتحان میں کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی ہے۔ گھرمیں بیٹھ کر کعبہ کی زیارت نہیں ہو سکتی ہے اوردوسروں کی عزت وحرمت اور مال کے ساتھ زیادتی کر کے پروردگارکی خوشنودی حاصل نہیں کی جاسکتی ہے۔(١)

اس طرح فلسفۂ اخلاق اسلامی میں فاعل کی نفسانی حالت اور مقصد پر بھی تو جہ کی جاتی ہے اس کے علاوہ عمل کی عینی ماہیت اوراس کے واقعی وحقیقی آثار کو بھی تو جہ کامرکزبنا یاجاتاہے۔یہ مکتب اُن اصالتِ فاعل کے طرفدار مکاتب کے برخلاف ہے جو عمل کی انجام دہی میں فقط فاعل کے نفسانی پہلووں پرتاکیدکرتے ہیں اور اصالت عین کے طرفدار مکاتب کے بر خلاف بھی ہے جو صرف خارجی عمل کی طبیعت اوراس کے عینی ومادی آثار کو اخلاقی اچھائی اوربرائی کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔اس کے علاوہ جو شرائط وحالات اخلاق اسلامی میں فاعل کے مقصد کے لئے عمل کا معنوی عنصرہیں اوراسی طرح اخلاقی عمل کے مادی عنصرکے لئے ضروری مانے جاتے ہیں، وہ

مزید  روز عاشورہ امام حسین علیہ السلام کا پہلا خطبہ

دوسرے اخلاقی مکاتب میں بیان ہونے والے شرائط وحالات سے بنیادی طورپرمختلف ہیں۔

ب: اخلاقی ذمہ د اری کی شرطیں

گزشتہ بحث میں اخلاقی عمل کی اہمیت کی شرطوں اور ان کے عنصروں کے بارے میں گفتگو ہو چکی ہے۔ اخلاقی تعریف، جزا اور اس کی اہمیت اور قدر وقیمت کے مقابلہ میں اخلاقی سرزنش، مذمّت وسزااوراس کی ذمہ داری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ علم اخلاق میں ”قدروقیمت ”اور”ذمہ داری” دوفیصلہ کن بنیادی رکن کی حیثیت رکھتی ہیں اور اُن میں سے کسی ایک کے فقدان کی وجہ سے ایک اخلاقی نظام کے بارے میں کوئی گفتگو نہیں کی جاسکتی۔ اس وجہ سے مناسب ہے کہ اخلاقی ذمہ داری کے اصلی عناصر اور ارکان کے بارے میں بھی کچھ بیان کیا جائے۔

١۔ر۔ک: مصباح یزدی، محمدتقی، دروس فلسفۂ اخلاق، ص١٦٧،١٦٨۔

اخلاقی ذمہ داری سے مراد پروردگار کے حضور میں ذمہ داری ہے اوراس کے نتیجہ میں اخروی جزاوسزاہوتی ہے خواہ دنیوی ذمہ داری اورسزا وجودرکھتی ہو یانہ رکھتی ہو۔دوسرے لفظوں میں اخلاقی ذمہ داری کی علامت، عمل پر مترتب ہو نے والااخروی عقاب اور سزا ہے، یہ اسی طرح ہے جیسے اخلاقی قدر وقیمت آخرت میں جزا وثواب کو وجودمیں لاتی ہے ۔ مسلمان متکلمین، اخلاقی دستوروں کے مقابلہ میں ذمہ داری کی شرطوں کو چارحصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ان شرطوں میں کچھ اصل دستور اور اخلاقی تکلیف سے مربوط ہیں، کچھ دوسری شرطیں، دستور دینے والے سے مربوط ہوتی ہیں اُن میں سے بعض شرطیں ایسی ہیں جواُن موضوعات کے لئے ہیں جن سے دستور کا رابطہ ہو تا ہے اوربعض دوسری شرطیں مسئول وذمہ دارانسان سے مربوط ہو تی ہیں۔ (١)

اخلاقی اوامر واحکام کے پسندیدہ ہونے کی وہ شرطیں جو شریعت کی اساس اور بنیاد کا اہم حصہ ہیں اور اسی طرح حاکم اور اخلاقی فرمان جاری کرنے کے لائق انسان کی خصوصیات، علم اخلاق کے کلامی موضوعات وافکار کی جزٔ ہیں اوران کے سلسلہ میں تحقیق وبحث کرنے کی جگہ، علم کلام ہے جہاں خداشناسی، نبوت اور دین کی ضرورت، جیسے مباحث میں بحث وتحقیق کی گئی ہے۔ اُن عملی شرطوں کو بیان کیا جاچکا ہے جن کے لئے حکم دیا جاتا ہے یا ان کی انجام دہی سے نہی کی جاتی ہے، اب اُن بنیادی عناصر کے سلسلہ میں گفتگو ہوگی جن کا انسان کے اندر موجود ہونا اخلاقی ذمہ داری کو قبول کرنے کے لئے شرط اور ضروری ہے۔

١۔بلوغ

بچے اورنا بالغ افراد اخلاقی ذمہ داری کے بارسے آزاداور بری ہیں۔البتہ اُن کے سرپرست اُن کے اعمال کی خاطر حقوقی طورپر ذمہ دارہیں۔اس وجہ سے اسلام کے اخلاقی نظام میں بچوں کے نیک اعمال اخلاقی اہمیت اور ثواب وجزا کے حامل ہیں لیکن ان کی اخلاقی برائیوں سے متعلق سوال نہیں ہو گا اور اُن کے لئے آخرت میں کوئی کیفروسزانہ ہوگی۔

اسلام کی مقدس کتابوں میں اخلاقی ذمہ داری کی بنیادی شرطوں میں سے بلوغ کو ایک شرط کے طور پرپیش کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پرحضرت امام محمد باقر  ـ ایک روایت میں بلوغ کے زمانہ آغاز کو بیان کرتے ہو ئے فرماتے ہیں: ”انسان کے سنّ بلوغ تک پہنچنے کے بعد حدودالہی مکمل طورپراس کے نفع اورنقصان میں جاری ہو جائیں گے۔” (٢)

١۔ علامہ حلی: کشف المراد، ص ٣٢٢، شیخ طوسی: الاقتصاد فی ما یتعلق بالاعتقاد، ص١٠٧۔ حمصی رازی شیخ سدید الدین: المنقذسن التقلید، ص٢٨٨کی طرف رجوع کیجئے۔

٢۔ رک۔ کلینی: کافی، ج: ٧، ص: ١٩٨۔ شیخ صدوق: فقیہہ، ج٤، ص١٦٤۔

٢۔عقل

طبیعی وفطری بلوغ کے علاوہ قوۂ عقل کی موجودگی اخلاقی ذمہ داری کی شرط ہے۔ اس بناپر وہ افراد جو عقل سلیم نہیں رکھتے اورقدرت تعقل کی کمی سے دوچارہیں وہ اخلاقی ذمہ داری کے حامل نہیں ہیں۔ اگر چہ ان کے سرپرست اُن کے اعمال کے نتیجہ میں دوسروں کو ہو نے والے نقصانات کے تئیں حقوقی طور پر ذمہ دار ہوتے ہیں۔

فاعل میں عقل کے موجود ہو نے کی ضررت پر جودلیلیں ہیں اُن میں سے ایک وہ اثر ہے جو فاعل میں علم وآگاہی کے لئے عقل رکھتی ہے(١)۔ آئندہ بیان ہو گا کہ اخلاقی ذمہ داری کی شرطوں میں سے ایک فعل کی اچھائی اور برائی سے متعلق فاعل کا علم اور اس کی آگاہی ہے۔ اس وجہ سے کہ یہ شرط عقلی قدرت پر موقوف ہے انسان کے اندر عقل وادراک کی موجودگی آگاہی کے لئے ضروری مقدمہ ہے اور خود اخلاقی ذمہ داری کے لئے ایک شرط محسوب ہو تی ہے۔

٣۔علم یا اسے حاصل کرنے کا امکان

کو ئی انسان اخلاقی طور پراس وقت ذمہ دارہو تا ہے جب ترک کی جانے والے اعمال کی خرابی، برائی اور ممنوعیت کے بارے میں اورانجام دئے جانے والے اعمال کی خوبی، شائستگی، وجوب اور اسی طرح اُن کو انجام دینے کے سلسلہ کی کیفت میں علم وآگاہی رکھتا ہو یا یہ کہ ضروری علم حاصل کرنا اس کے لئے ممکن ہو۔یعنی ایسے حالات وشرائط کے تحت ہو جن میں وہ ان سے متعلق علم کو حاصل کرسکے۔(٢)

اس بنا پر بہت سے ایسے مسلمان یا غیر مسلمان جو اپنے اخلاقی فرائض کے بارے میں علم نہیں رکھتے لیکن اُن کے لئے اس طرح کا علم حاصل کرنا ممکن ہے، وہ اس طرح کے اپنے اعمال کے سلسلہ میں اخلاقی طور پر ذمہ دار ہیں اور اخروی سزائیں ان لوگوں سے بھی متعلق ہیں اگر چہ فی الحال علم نہ رکھتے ہوں ان کے مقابلہ میں وہ مسلمان یا غیرمسلمان جن کے لئے اس طرح کا امکان فراہم نہیں ہے اوران سے ممکن بھی نہیں ہے وہ اس طرح کی اخلاقی ذمہ داری سے بری ہونگے۔اخلاق کے علاوہ موجودہ حقوقی نظام بھی انسان کے علم یا اس کے لئے علم حاصل کرنے کے امکانات کو کیفری طور پر ذمہ دار ہونے کے لئے شرط سمجھتے ہیں۔

١۔ رک۔ شیخ طوسی: الاقتصاد فی ما یتعلق بالاعتقاد، ص١١٧۔

٢۔ ایضاً ١١٦، ١١٧۔ علامہ حلی: کشف المراد، ص٣٢٢۔

فرائض سے متعلق علم یااسے حاصل کرنے کے امکان کو اخلاقی ذمہ داری کے لئے ایک شرط کیوں مانا گیاہے؟

علم کی شرط اور اس کی موجو دگی کی ضرورت کے سلسلہ میں اس کیوں کا جواب دینے کے لئے فطری ، وجدانی، عقلی وعقلائی اور دینی لحاظ سے متعدد دلیلیں پیش کی جاسکتی ہیں:

پہلی دلیل :انسان کا سالم وجدان کسی انسان کے لئے کیفر اورسزاکے اعلان وابلاغ کے بغیر اور اس وقت تک پسند نہیں کرتا جب تک وہ اپنے فریضہ سے متعلق علم کے حاصل کرنے میں کوتاہی نہ کرے۔(١)

یہاں یہ بیان کرنا مناسب ہے کہ یہ شرط حتّیٰ اس نظریہ کی صورت میں بھی قابل قبول ہے کہ بدلہ اور سزاکو اخلاقی عمل کا طبیعی نتیجہ مان لیں، کیونکہ وہ لوگ بھی جو عمل اور بدلہ کے درمیان قراردادی رابطہ کی نفی کرتے ہیں اور تکوینی رابطہ کو قبول کرتے ہیں عمل کا لحاظ اس کے معنوی عناصر کے ساتھ کرتے ہیں نہ کہ فقط مادی عنصر کے ساتھ۔ یعنی اخلاقی عمل اس کے تمام عنصروں، منجملہ ان کے اس کا مادی پیکر کے ساتھ، فاعل کے مقصد اور نیت اور اس کے آگاہ ہونے اور نہ ہونے کے نتیجہ میں بدلہ اور کیفر کی صورت میں نتیجہ دیتاہے اور یہ فقط اس کے مادی پیکر میں نہیں ہے۔

دوسری دلیل: عقل، فریضہ سے متعلق علم وآگاہی کو فریضہ کی انجام دہی کے لئے تکوینی اور فلسفی شرط کے طور پر مانتی ہے اور اس بنا پر اس کے فقدان کی صورت میں فریضہ کی انجام دہی کو محال جانتی ہے۔ کیونکہ فرائض سے متعلق جہل کی حالت میں فریضہ سے متعلق پابندی کے لئے فاعل میں کوئی مقصد اور اسے تحریک کرنے والی کوئی چیز موجود نہ ہوگی اس طرح مقصد کے بغیر فعل کا صادر ہوناعقلی طور پر محال ہے (٢) اس کے علاوہ عقل اصولی طورپر انسان کی جواب دہی، بازپرس اور سزائوں کو مجہول تکلیف (نامعلوم فریضہ) اوران حالات کی بناپر جن میں انسان نے اپنے اخلاقی فرائض سے آگاہی کے لئے پوری کوششیں کی ہیں، برا، ناپسند، اور حقیقت میں تشریعی عدالت کے خلاف جانتی ہے (٣) عقل کے اس فیصلہ کو علم اصول کے علماء قاعدہ ”قبح عقاب بلابیان” کے عنوان سے یاد کرتے ہیں۔

١۔ رک۔ آخوند خراسانی: کفایة الاصول، ص: ٣٤٣۔

٢۔ میرزا نائینی: فوائد الاصول (تقریر شیخ محمد علی کاظمی) ، ج٣، ص٣٦٥۔٣٧١۔

٣۔ آخوند خراسانی: کفایة الاصول۔

تیسری دلیل:عقلائی اور عرفی وجدان، مجہول تکلیف (نامعلوم فریضہ) کے ترک کرنے پر سزاکا مستحق نہیں جانتا ہے، دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ سماج کے عقلمند لوگ، اپنے ماتحت رہنے والوں کو اس دستور کی بنا پر جو ان کے لئے اعلان نہیں ہوا اوران تک نہیں پہنچا ہے یا جس کی دستیابی میں ان لوگوں نے کوتاہی اور تقصیر نہیں کی ہے، جواب دہی اور سزا کا مستحق نہیں جانتے ہیں اور اُن لوگوں کو سزا دینا غیر مناسب اور برا مانتے ہیں۔

چوتھی دلیل:کتاب وسنت میں مذکورہ قاعدہ (قبح عقاب بلا بیان) کی تائید کثرت کے ساتھ کی گئی ہے۔ نمونہ کے طور پر ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کیاجاتاہے:

خداوند عالم فرماتا ہے: ”ہم نے جب تک پیغمبر کو مبعوث نہیں کرتے، اس وقت تک عذاب نازل نہیں کرتے”۔ (١)

معروف تفسیروں کے مطابق پیغمبر کو (بغیر کسی مقصد کے) بھیجنا اہم نہیں ہے بلکہ حقیقت میں اس سے مراد یہ ہے کہ جب تک ضروری علم وآگاہی کو لوگوں تک نہیں پہنچا دیا جاتا، ان لوگوں کو ذمہ دار نہیں جاناجاسکتا ہے اور سزا نہیں دی جاسکتی ہے۔

دوسری جگہ پر فرماتاہے: ”خداکسی کو بھی تکلیف نہیں دیتا مگر صرف اتنی جتنی کہ اسے قدرت دی ہے”۔ (٢) اس آیت کے مطابق بھی انسان اسی قدر ذمہ دار ہے جس قدر اس نے کچھ حاصل کیا ہے یا حاصل کرسکتا ہے۔ خواہ علم وآگاہی ہو یاقدرت واستعداد۔

پیغمبراکرم  ۖنے بھی فرمایا ہے:

”ہماری امت سے نو چیزوں (کے بدلہ) کو اُٹھا لیاگیا ہے: خطا، فراموشی، لاعلمی، ناتوانی، وہ امور جن کی خاطر قدرت نہیں ہے، وہ امور جن کو اضطرار یا اکراہ یا اجبار کی وجہ سے انجام دیا جاتا ہے، فال بد نکالنا، خلقت میں اور تفکّر وتدبّر میں وسوسہ پیدا ہونا اور حسد اس صورت میں کہ زبان یا ہاتھ سے ظاہر نہ ہو۔ (٣)

١۔ سورۂ اسراء آیت١٥ ( وَمَاکُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّیٰ نَبْعَثْ رَسُوْلاً )۔

٢۔ سورۂ طلاق آیت٧(لَایُکَلِّفَ اللّٰہُ نَفْساً اِلّا مَا آتَاہَا)۔

٢۔ کلینی، کافی، ج٢ ]کتاب الایمان والکفر، باب ما رفع عن الامة[ح٢۔ صدوق، فقیہہ، ج١، ص٣٦۔ خصال، ج٢، ص٤١٧۔

اس حدیث میں انسان نوچیزوں سے متعلق اپنی اخلاقی ذمہ داری اور جواب دہی وسزا سے معاف ہوگیا ہے، ان میں سے یہ بھی ہے کہ انسان ان تکلیفوں اور فرائض کے سلسلہ میں جواب دہ نہ ہوگا جن کے بارے میں علم وآگاہی نہیں رکھتا ہے مگر یہ کہ اس کی لاعلمی تقصیر اور کوتاہی کی بنا پر ہو، نہ کہ غلطی اورمجبوری کی بناپر۔ اس (غلطی کی) صورت میں بے خبررہنا ذمہ داری کو ختم نہیں کرتا ہے۔اس وجہ سے کہ علم کا دوام اورباقی رہنابھی اخلاقی ذمہ داری کے تحقق کے لئے مؤثر ہے اور عقلی طور پر بھولنے والے انسان کے لئے تکلیف اور ذمہ داری نہ ہونے کی دلیل کی بنا پر وہ انسان جو پہلے اپنی اخلاقی ذمہ داری سے متعلق علم رکھتا تھا لیکن اسے انجام دیتے وقت غفلت اور فراموشی کا شکار ہوگیا، اخلاقی طور پرذمہ دارنہ ہوگا۔

٤۔قدرت

اس شرط کی بنیاد پرانسان اُن چیزوں کے بارے میں جن کی پابندی کے لئے توانا ئی نہیں رکھتا اخلاقی طور پر ذمہ دارنہیں ہے۔ (خواہ وہ فعل کو انجام دینے کے لئے ہو یا ترک کرنے کے لئے) اور قیامت کے دن اس سلسلہ میں اس سے سوال وجواب نہ کیا جائے گا اور قابل توبیخ نہ ہو گا۔ اسلامی علوم میں یہ شرط ”تکلیف مالا یطاق” کے عنوان کے تحت محال اور قبیح ہے اور یہ مسئلہ تمام لوگوں کے نزدیک مشہور، رائج اور قابل قبول ہے۔

مسلمان حکما اور متکلمین نے اس شرط کو ثابت کرنے کے لئے اس کے عقلی پہلو (یعنی یہ کہ نا قابل برداشت تکلیف اور فریضہ کی انجام دہی کا حکم دینا عدالت کے باخلاف اور ظلم کے واضح مصداقوں میں سے ہے) پر زور دینے کے علاوہ الہی حکمت اور خدا کے افعال کے بامقصد ہونے کو دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ خدا کے تکوینی اور تشریعی افعال کے حکیمانہ ہونے کی مصلحت کی بناپر یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ اُنہیں تکلیفوں کو بندوں کے لئے مقرر کرتا ہے جن کے نتیجہ میں مقصد حاصل ہوسکے۔یہ بات واضح ہے کہ یہ مقاصد اس صورت میں قابل مقدور ہونگے کہ مقررشدہ فرائض کی انجام دہی افراد کی طاقت و توانائی سے باہر نہ ہو۔ اس بناپر ایسے امور کے لئے تکلیف معین کرنا جو انسان کے لئے غیر مقدور و ناممکن ہے، بے کار وبے فائدہ اور حکمت و مصلحت کے خلاف ہے اور اُن کا حکیم پرور دگار کی طرف سے نافذ ہو نامحال ہے۔(١)

١۔ رک۔ سبحانی ، جعفر، الہیات، ج١، ص٣٠١۔ شہیدصدر: دروس فی علم الاصول، حلقہ دوم، ص٢٣٥تا ٢٤٠۔

یہ شرط کتاب وسنت میں بھی کئی بار تائید اور تأکید کے مرحلہ سے گذری ہے۔اُن کی بعض مثالیں ذیل میں درج کی جاتی ہیں:

”خدا کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگراسی قدر جتنی کہ اس کے پاس توانائی ہے۔ جو کچھ نیکی سے حاصل کیا اس کے لئے مفید اور جو کچھ برائی سے حاصل کیا اس کے لئے نقصان دہ ہے ”۔(١)

”ہم کسی کو تکلیف نہیں دیتے مگر اسی قدر جتنی کہ اس کے پاس طاقت ہے۔ اور ہمارے پاس وہ کتاب ہے جوحق بیان کرتی ہے اوران پرکوئی ظلم نہیں کیا جاتا ہے”۔(٢)

اس بات کے علاوہ کہ انسان کو اصل فعل کی انجام دہی پر قادرہونا چاہئے، یہ بھی ضروری ہے کہ اگر مکلّف کے لئے فریضہ کو انجام دینے میں وسائل ومقدمات فراہم کرنے کی ضرورت ہو تو مکلف کے لئے ضروری ہے کہ اس کے مقدمات کو بھی حاصل کرنے کی قدرت رکھتا ہو، ورنہ حقیقت میں وہ اس فریضہ سے متعلق قدرت اور توانائی نہیں رکھتا۔ (٣)

یاد رہے کہ جس طرح علم کا فقدان اس صورت میں اخلاقی ذمہ داری کو معاف کرتا ہے جب انسان نے اپنی لاعلمی کے سلسلہ میں تقصیر اور کوتاہی نہ کی ہو، اسی طرح قدرت اور توانائی کی شرط کے سلسلہ میں بھی کہنا چاہئے کہ ہم بہت سے مقامات پر قدرت وتوانائی حاصل کرنے کے لئے ذمہ دار ہیں (٤) ، مثلاً ہمارا فریضہ ہے کہ اسلامی سرزمین اورملکوں کی حفاظت اور ان کے دفاع کی قدرت وتوانائی اور آمادگی کے وسائل کو فراہم کریں۔

”( اے ایمان لانے والو!) تم سب ان کے مقابلہ کے لئے ہر ممکن طاقت (جنگی سامان) اور گھوڑوں کی صف بندی کا انتظام کر لو تاکہ اُن کے ذریعہ خداکے دشمن اور خود اپنے دشمن اور اُن دشمنوں کو جن کو تم نہیں جانتے اور اﷲ جانتا ہے ڈرائو۔ (٥)

١۔ سورہ ٔبقرة، آیت٢٨٦ ۔ علامہ طباطبائی: المیزان، ج٢، ص٤٤٣، ٤٤٤۔

٢۔ سورۂ مومنون، آیت ٦٢۔ اور اسی طرح سورۂ انعام، آیت١٥٢۔ اور علامہ طباطبائی: المیزان، ج١٥، ص٤١تا٤٣۔

٣۔ ر،ک۔ شیخ طوسی، الاقتصاد فیما یتعلق بالاعتقاد، ص١١٨،١١٩۔

٤۔ ر،ک۔شہید مرتضیٰ مطہری: مقدمہ ای بر جہان بینی اسلامی (انسان درقرآن ) ، ص٢٧٦،٢٧٧۔

٥۔ سورہ ٔانفال، آیت٦٠

٥۔ اضطرار (مجبوری) کا نہ ہونا

اضطرار (مجبوری) بہت سی جگہوں پر اخلاقی ذمہ داریوں کو ختم کردیتا ہے۔” مضطر”اس انسان کو کہتے ہیں جسے مشکل حالات کا سامنا ہو۔ جیسے یہ کہ کوئی انسان کسی بیابان میں عاجز وناتوان اور بھوکا ہو اور اسے کھانے کے لئے مردار کے علاوہ کوئی چیز نہیں ملتی۔

٦۔ اکراہ واجبار کا نہ ہونا

اکراہ اس وقت وجود میں آتا ہے جب انسان کو کسی دوسرے جابر انسان یا گروہ کے ذریعہ دھمکی دی جاتی ہے اور وہ اپنی باطنی مرضی کے برخلاف ایسے فعل کو ترک کرنے یا انجام دینے پر مجبور ہوتاہے جو اخلاقی لحاظ سے برا اور ناپسند ہے۔ جیسے یہ کہ اس سے کہا جائے کہ اگر تم نے اپنے روزہ کو نہیں توڑا تو تمہاری جان لے لوں گا یا یہ کہ اگر فلاں مسئلہ میں سچ بولوگے تم کو کام سے ہٹادیاجائے گا۔

مزید  حج ابراہیمی(ع) اور امام خمینی(رح)

وہ حدیث جسے حدیث رفع کہا جاتا ہے ایسے مختلف امور کو بیان کرتی ہے جن میں انسان کے لئے تکلیف اور ذمہ داری نہیں ہے، اُن امور میں سے ایک ”ما استکر ہوا علیہ” ہے یعنی وہ امور جنہیں انجام دینے یا ترک کرنے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے۔اکراہ اور اضطرار میں فرق یہ ہے کہ اضطرار میں دھمکی دینے والا کوئی نہیں ہوتا ہے بلکہ مجموعی حالات اس طرح ہوجاتے ہیں کہ وہ ناپسند حالات انسان کے اوپر بار ہو جاتے ہیں اور انسان ان نامطلوب حالات کو رفع کرنے کے لئے ناچار ہو جاتا ہے کہ اپنے اخلاقی فریضہ کے برخلاف عمل کرے اور اکراہ میں انسان اس مصیبت اور نقصان کو دفع کرنے کے لئے مجبور ہوتاہے کہ اپنے اخلاقی فریضہ کے برخلاف عمل کو انجام دے جو کسی دوسرے کی دھمکی کے نتیجہ میں اس کے سامنے ہے۔

اکراہ اور اضطرار مندرجہ ذیل دو بنیادی اسباب سے وابستہ ہے

ایک۔ ایسا صدمہ اور نقصان جس سے بچنا ضروری ہے۔

دو۔ اس تکلیف اور وظیفہ کی اہمیت کہ انسان اکراہ یا اضطرار کی بناپر اسے انجام دینے سے پرہیز کرتا ہے۔

اسلام کے اخلاقی نظام میں بعض اخلاقی فرائض کو اکراہ یا اضطرار کی بنا پر ہرگز ترک نہیں کیا جاسکتا ہے اور ہر حالت میں ان کی پابندی نہیں کی جاسکتی اور اس کے نتیجہ میں ہونے والے نقصان کو برداشت نہیں کیا جاسکتا ہے، جیسے کبھی بھی اکراہ یا اضطرار کی بناپر دوسروں کی جانوں کو خطرہ میں نہیں ڈالاجاسکتاہے یاسماجی مصلحتوں کے خلاف عمل نہیں کیا جاسکتا ہے یا دین کی اہم مصلحتوں کو نظر اندازنہیں کیا جاسکتا ہے۔ (١)

١۔رک۔ شہید مرتضیٰ مطہری: مقدمہ ای بر جہان بینی اسلامی، ٢٧٧۔٢٧٨۔

٧۔قصد وعمد

اخلاقی طور پر ذمہ دار (جوابدہ) ہونے کی دوسری شرط یہ ہے کہ انسان قصداً اورعمداً اپنے اخلاقی فریضہ کو نظر انداز کردے۔ اس بناپر جب بھول چوک کی وجہ سے اپنے اخلاقی فریضہ کو ترک کردے تو اخلاقی لحاظ سے وہ ذمہ دار نہ ہوگا۔

ج: ۔ اخلاقی عمل کی پہچان

کار آمد اخلاقی نظام کی بنیادی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ اخلاقی اچھائیوں اور برائیوں کی تعیین کے لئے عقلی اصولوں اور معیاروں کو پہچنوانے کے علاوہ ان کے مصداقوں کی بھی واضح طریقہ سے پہچان کرأے۔ انسانی اخلاقی نظام کے ناقص ہونے کے اسباب میں سے ایک یہ ہے کہ اخلاقی فضائل ورذائل کو پہچنوانے کے لئے مفید قاعدوں، طریقوں اور راستوں کو پیش کرنے میں وہ ناکام ہیں حتی اگر یہ بھی قبول کر لیا جائے کہ اخلاقی اچھائیوں اور برائیوں کے سلسلہ میں اُن کی طرف سے پیش کردہ کلی اصول اور معیار صحیح ہیں۔(١)

اسلام کے اخلاقی نظام میں اخلاقی فضائل ورذائل کے مصداقوں تک پہنچنے کے لئے اِن تین بنیادی طریقوں پر تاکید کی گئی ہے جو اپنی خاص ماہیت رکھتے ہیں:

ا۔عقل(٢)

اعمال اور اشیاء کے ذاتی حُسن وقبح کو قبول کرنے اور اچھائی اور برائی کو درک کرنے اور پہچاننے کے لئے انسانی عقل کی توانائی کا اعتراف کرنے کے ساتھ انسانی عقل کو اسلام کے اخلاقی نظام میں ایک مستقل قاضی کی حیثیت سے مانا گیا ہے۔ عقلی راستہ ایک ایسا راستہ ہے جووحی سے جدا اور مستقل طریقہ ہے اور یہ بہت سی اچھائیوں اور برائیوں کو پہچنوانے کے لئے ذاتی طور پر قادر ہے۔

١۔ نمونہ کے طور پر کانٹ کے اخلاقی نظریہ میں جو ممتاز اخلاقی مکاتب میںسے ہے کہاگیا ہے کہ وہ عمل اخلاقی لحاظ سے اہمیت رکھتاہے جو تکلیف اور فریضہ کا مصداق ہو اور فاعل کی نیت اور مقصد صرف فریضہ کو انجام دینا۔ وہ اس سوال کے جواب میں کہ فریضہ کوکس طرح پہچانا جاسکتاہے ؟ جواب دیتا ہے کہ فریضہ ایک مطلق اور کلی بات ہے جو عام قانونی صورت میں مقرر ہوسکتا ہے۔ کانٹ اس بات کی تشخیص دینے کو انسان کی مشترک عقل یا وجدان کے سپرد کرتاہے۔یہ بات واضح ہے کہ یہ ضابطہ اور قانون بہت زیادہ کلی، غیرشفاف اور تفسیرکا محتاج ہے جس کے نتیجہ میں اس نظریہ کے کارگر اور مفید ہونے کو بہت زیادہ محدود کر دیتا ہے۔ (رجوع کیجئے: ایما نوئل کانٹ، ص١٢ تا ٣٤)۔

٢۔ یہاں پر ”عقل” سے مراد عقلی احکام کی وہ قسم ہے جو قاعدۂ کلیہ: ”حکم عقل وشرع کے درمیان ملازمہ” کے تحت قرار پا سکتی ہے اور اس قاعدہ کی مدد سے ارادۂ شریعت کی حکایت کرسکتی ہے۔ اس بات کے شرائط وکیفیات کو اصول فقہ کی کتابوں میں ملازمات عقلیہ کی بحث میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔

انسانی عقل قطعی طور پر درک کرتی ہے کہ دوسروں کی خوبیوں کا احترام کرنا چاہئے، ان کے ساتھ ایسا برتائو کرنا چاہئے جوان کے لئے مناسب ہے، دوسروں کے مال پر ان کی ملکیت کا احترام کرنا چاہئے، اپنے فائدہ کو دوسروں کے نقصان پہنچانے کا ذریعہ نہ بنائے، دوسروں کی زیادتیوں کی تلافی عادلانہ طریقہ سے کی جائے، افراد کے مخصوص حقوق کا احترام کیا جائے اور اس طرح کی دسیوں ایسی مثالیں ہیں جو اخلاقی فضیلتوں کے اصولوں میں سے ایک اصل ہیں۔ انسانی اور الٰہی اخلاقی مکاتب کے درمیان پائی جانے والی اخلاق کی بعض مشترک چیزیں، اخلاقی اچھائی اور برائی کے متعلق انسانی عقل کا حاصل کروہ نتیجہ اور معلول ہیں۔ البتہ اخلاق کی بہت سی جزئی چیزوں کو سمجھنے میں عقل کی ناتوانی کی بنا پروہ (عقل) ہر گز انفرادی حیثیت سے اخلاق کی جامع وکا مل عمارت نہیں کرسکتی ۔

٢۔فطرت (١)

اخلاق سے متعلق نیکیوں کی طرف فطرت کی رغبتیں اوربرائیوں سے باطنی طور پر نفرتیں آدمی کی سرشت میں ہیں اور یہ ایسا قابل اعتماد اور اطمینان بخش طریقہ اور راستہ ہے جس کا مقصد ومبداء انسانیت کا پاک اور غیر آلودہ گو ہر قلب سلیم ہے۔انسان کی فطری رغبتوں کو ان کے مثبت اور معنوی ہونے، ارادی اور زیادہ با خبر ہونے اور ان کا انسانی زندگی سے مخصوص ہونے جیسے معیا روںکے ذریعہ آسانی کے ساتھ ان غریزی اورطبیعی میلانات سے جدا کیا جاسکتا ہے جو انسان کے اندر پائے جاتے ہیں۔بہت سے لوگ ایسے ہیں جو رائج عام تہذیب وتمدن اور علم و تعلیم و تربیت سے بے خبر ہیں لیکن اس (فطرت) کے جہاں ہیں جام اور حق نما آئینہ کا نظارہ کرنے کی برکت سے مکارم اخلاق کے شفاف سرچشموں سے سیراب اور اخلاقی فضائل کے زیور سے آراستہ ہیں۔اُویس قرنی وہ یمنی بادیہ نشین ہیں جو رسول خدا(ص) کے جمال کو دیکھے بغیر آپ کے فضائل ومکارم کے شیفتہ ہو جاتے ہیں اور آپ سے ملنے کے لئے اپنے وطن اورمال و دولت کو ترک کردیتے ہیں۔ سلمان فارسی فضیلت اور حقیقت کی جستجو میں ہر دَیر و خانقاہ کا چکر لگاتے ہیں اور عیسائی راہب اور یہودی خاخام سے جس کادل اس کے بارے میں خبر رکھتا تھا سوال کرتے ہیں اور اس سلسلہ میں وہ بے حد مشقت کا سامنا کرتے ہیں اور آخر کار یثرب کے اطراف نخلستانوں میں اپنی آرزئوں کی تجلی، امیدوں کی کرن اور اپنے گم گشتہ محبوب کو جبیب خداۖ کی صورت میں پالیتے ہیں اوریہاں تک آگے بڑھ جاتے ہیں کہ اہلبیت اطہار  ٪ کے راز داروں میں شمار کئے جانے لگتے ہیں۔

١۔ یہاں فطرت سے مراد ایسے واضح، معلوم شدہ اور اختیاری، مثبت ، عالی ، غیر اکتسابی اور باطنی رجحانات ہیں جو تمام انسانوںمیں بالقوة پائے جاتے ہیں اور حالات کے فراہم ہونے پر فعلیت حاصل کرتے ہیں۔

قرآن کریم نے معرفت کے سرچشموں اور ترقی کی راہوں کو اور اس سلسلہ میں آنے والی رکاوٹوں کوباربار یاد دلایاہے اور ان کی نشان دہی کی ہے۔ سورۂ شمس میں کئی بار قسمیں کھانے کے بعد، جس میں آخری قسم آدمی کی جان اور نفس کی قسم ہے، فرماتاہے: ”پھر اُس کو بدی اور تقویٰ کا الہام کیا ہے”۔ (١)

الہام سے مراد وہ علم ہے جو تصور اورتصدیق کی صورت میں انسانی جان کے سپرد کردیا گیا ہے۔خدا کی طرف سے فجور اور تقویٰ کا الہام  اس معنی میں ہے کہ انسانی رفتار کی اچھائی اور برائی کو فطری طور پر اسے بتایا اور سکھایا گیا ہے۔ مثلاً انسان واضح طور پر یتیم کا مال کھانے کی برائی کو اپنے مال کے استعمال سے جدا کرنے کی صلاحیت اور قدرت رکھتاہے (٢)

خدا وند عالم سورۂ روم میں فرماتا ہے:

”بس (اے رسول!) اپنے رُخ کو دین توحید (اسلام) کی طرف رکھیئے اس حال میں کہ آپ دوسرے تمام ادیان ومذاہب سے منہ پھیرے رہیں اور حق پرست رہیں۔ یہ دین وہ فطرت الٰہی ہے جس پر خدا نے لوگوں کو خلق کیا ہے خدا کی خلقت (توحیدی فطرت) میں کسی طرح کی تبدیلی نہیں ہوسکتی یہی ہے سیدھا اور مستحکم دین۔ لیکن اکثر لوگ یہ بات نہیں جانتے ہیں”۔ (٣)

اس آیت میں اس دین کوجو عقائد اور اخلاق، حقوق وغیرہ کی تعلیمات کا مجموعہ ہے، ایک فطری بات کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ جسے پہچاننا اور اس کی طرف رغبت پیدا کرنا انسان کی سرشت میں ڈال دیا گیا ہے۔ (٤)

٣۔وحی

گذشتہ دو طریقے اگرچہ بہت سی جگہوں پر مشکل کشائی کرتے ہیں لیکن اُن کا مفید وکارگر ہونا کلی اور اصولی امور تک منحصر ہے اور جزئیات کی تفصیل بتانے اور اُن کو معین کرنے کے مرحلہ میں سخت نقصاندہ، ناکام اور اختلاف کا باعث بنتے ہیں۔

١۔ سورۂ شمس، آیت٨۔

٢۔ علامہ طباطبائی  ، المیزان، ج٢٠، ص٢٩٧، ٢٩٨۔

٣۔ سورہ ٔروم، آیت ٣٠۔

٤۔ رک۔ علامہ طباطبائی، المیزان ج١٦، ص١٧٨۔

اسی بنیاد پر خدا پرستی پر مبنی اخلاقی نظام میں”وحی” پہچان کاتیسرا طریقہ جو گذشتہ دو طریقوں کو مکمل کرتی ہے۔ وحی کو اخلاقی مفاہیم کی تعیین وتفسیر میں اور ان کی جزئیات کو بیان کرنے کی قدرت رکھنے کی بناپر اخلاقی عمل کو پہچنوانے کے سلسلہ میں پہلا مرتبہ حاصل ہے۔  اگرچہ یہ کبھی بھی اُن دونوں کو نظرانداز نہیں کرتی ہے بلکہ ہمیشہ اُن کی ترقی اور زیادہ مفیدقرار دینے پر تاکید کرتی ہے۔

اسلام کے اخلاقی نظام میں اخلاقی فضیلتوں کو اِن عنوانات کے تحت پہچنوانا گیا ہے: حَسَنَہ(نیک، پسندیدہ) ، حلال، اجرو ثواب کا باعث اور جو کچھ انسان کے بہشت میں جانے کا سبب ہے۔ اور اس کے ساتھ اخلاقی برائیوں کو ذنب(جرم) ، اِثم(گناہ) ، حرام، گھاٹے اور جو کچھ، جہنم میں جانے کا باعث ہے ان جیسے عنوانات کے ذریعہ شناخت کرائی گئی ہے۔ اسی طرح اخلاقی لحاظ سے تمام مثبت اور منفی مفاہیم کی اہمیت اور اس سلسلہ میں داخل نمایاں باتیں جیسے سہل ودشوار، پوشیدہ وآشکار، فاعل کے مقصد اور نیت کی حالت وحقیقت اور اس کے ہمراہ یا بعد میں آنے والے کمی اور کیفی آثار ونتائج پر توجہ کرتے ہوئے کافی دقت کے ساتھ تحقیق کی گئی ہے اور انھیں جانچا اور پرکھا گیا ہے ۔ کتاب وسنت میں اخلاقی اچھائیوں اور برائیوں کی طبقہ بندی کے سلسلہ میں پائے جانے والے بہت سے نکات پر دقت کی ضرورت ہے، جن کو تفصیل کے ساتھ بیان کرنااس کتاب کی گنجائش سے باہر ہے۔

د۔ اخلاقی اقدار کا تزاحم اورترجیح کا معیار

عمل کے مرحلہ میں اخلاقی قدروں کا تزاحم انسان کی اخلاقی مشکلات میں سے ایک ہے۔یعنی انسان ہمیشہ اپنی شخصی اور سماجی زندگی کے دوران ایک ہی وقت میں دو یا اس سے زیادہ اخلاقی تکلیفوں سے سامنا کرتا ہے اس طرح سے کہ اُن سب کی پابندی ایک وقت میںممکن نہیں ہوتی اور اُن میں سے بعض فرائض کی انجام دہی دوسرے زمانہ میں بھی نہیں ہوسکتی ہے۔ اس بناپر اس کے پاس اس کے سوادوسرا راستہ نہیں رہ جاتا ہے کہ وہ اُن میں سے ایک کا انتخاب کرلے۔ اس ناگزیر انتخاب کے سلسلہ میں ترجیح کا  معیار کیاہے ؟ کیا اسلام کے اخلاقی نظام میں اس طرح کے انتخابات کے لئے کوئی معیار وملاک بیان کیا گیا ہے؟ ایک مفید اخلاقی نظام سے یہی امید کی جاسکتی ہے کہ اس طرح کی مشکلوں کو حل کرنے لئے ایسے معقول معیارکا مشورہ دیا جائے جسے سمجھا اور بروئے کار لایا جاسکے ۔ اسی بنیاد پر فلسفۂ اخلاق کی بعض کتابوں میں اس  بات پر توجہ کی گئی ہے۔(١)

١۔ رک۔ فرانکنا: فلسفۂ اخلاق، ترجمۂ ہادی صادقی (فارسی) ص١٢١؛ اٹکینسون: فلسفۂ اخلاق، ترجمہ سہراب علوی نیا، ص ٣١، ٥٠۔

اسلامی علوم میں فرائض کے درمیان  کا مسئلہ خواہ اخلاقی ہو یا حقوقی، علماء اصول کی توجہ کا خاص مرکزبنا ہوا ہے اور تزاحم کے باب میں اس پر گفتگو کی گئی ہے۔ اِن لوگوں نے مقام عمل میں قدروں کے ٹکرائو اور تزاحم وکشمکش کی قسموں کو بیان کرنے کے علاوہ ان میں سے کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح دینے کے معیاروں اور قاعدوں کو بھی بتایا اور پہچنوایا ہے۔(١)

اُن معیاروں میں سب سے زیادہ اہم اورقابل فہم مندرجہ ذیل ہیں:

اخلاق اور حقوق کے درمیان میں عقلی اور شرعی لحاظ سے ترجیح دینے کا بہترین معیار، ہر فریضہ کی اہمیت کا اندازہ کرنا ہے۔ یعنی جب مجبور ہوجائیں کہ دو یا چند اخلاقی تکلیفوں میں سے کسی ایک کو اطاعت اورپابندی کے لئے

انتخاب کریں تو اُن میں سب سے زیادہ اہم تکلیف کاانتخاب کرکے اس پر عمل کرنا چاہئے۔ لیکن سب سے زیادہ اہم تکلیف کا انتخاب کس طرح کیا جائے؟ کیا سب سے زیادہ اہم تکلیف کی تشخیص کے لئے کوئی معیار ہے؟ انسانی عقل بہت سی جگہوں پر سب سے زیادہ اہم تکلیف کی پہچان کرنے پر قادر ہے۔ (مثال کے طور پر) جب مجبور ہوجائیں کہ دوسرے کی گاڑی کو اس سے پوچھے بغیراستعمال کرکے ایک مریض کی جان کو (ڈاکٹر کے پاس جاکر) خطرہ سے بچایا جائے یا دوسروں کے مال کا احترام کرنے کے اصول کی پابندی کی جائے، اِن دونوں باتوں

میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے تو عقلاً بیمار کی جان کو بچانا اہم اورنہایت ضروری ہوگا۔ انسانی عقل یہاں اور اس طرح کی دوسری جگہوں پر انسان کے حق مالکےّت کو نظر انداز کرنے کو موجّہ اور معقول مانتی ہے۔ بہت سی جگہوں پرعقل اور انسان کے وجدانی اور باطنی معلومات کے درمیان تزاحم سے حل کا راستہ نہیں ملتا لیکن شریعت نے اپنے خاص طریقوں سے اصولوں کو بیان کرکے اور اخلاقی اچھائیوں اور برائیوں کی درجہ بندی اور قدر وقیمت کو طے کرکے مہم تر فریضہ کی نشاندہی کی ہے مثلاً اسلام کے اخلاقی نظام میں جب بھی انسان کے ذمہ خدا سے متعلق اور بندوں سے مربوط فرائض میں ٹکرائو ہو تو لوگوں سے مربوط فریضہ زیادہ اہم ہوتا ہے۔ اسی بناپر دین کی مقدس کتابوں میں لوگوں کی جان ومال وآبرو کو اہم امور میں شمار کیا گیا ہے جن کے سلسلہ میں دست درازی اور زیادتی

نہیں ہونی چاہئے۔ اِن تینوںچیزوں میں سے لوگوں کی جان اور زندگی کی حفاظت  بقیہ دو چیزوں پر مقدم ہے۔ اس بناپر اخلاقی مفاہیم کو کتاب وسنت میں موجود مطالب اور اُن کے سلسلہ میں پائی جانے والی تعبیر ات اور نظریات پر توجہ کرتے ہوئے حاصل کرنا چاہئے۔

١۔ رک: نائینی فوائد الاصول(تقریر شیخ محمد علی کاظمی) ، ج١، ٢، ص٣١٧، اور ٣٣٥۔

کبھی ممکن ہے عقلی اور وجدانی قاعدے اور دینی کتابوں کی تعبیریں ایک فریضہ کی دوسرے کے مقابلہ میں اہمیت اور برتری کو معین کرنے کے لئے موجود نہ ہوں تو ایسی جگہوں پر انسان کسی کو بھی حسب خواہش انتخاب کرسکتا ہے۔ اس طرح اسلام کے اخلاقی نظام نے اخلاق سے متعلق اچھائیوں اور برائیوں کی جزئیات اور مصادیق کو پہچنوانے کے سلسلہ میں ضروری تدبیروں پر غور وفکر سے کام لیا ہے جو ایک مفید اخلاقی نظام کے ارکان میں سے ہے اور اس سلسلہ میں بھی اس کی حیثیت بے مثال ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.