اخلاق کى قدر و قيمت

0 0

ہر معاشرہ کى زندگى اور ہر قوم کے تکامل ميں اخلاق شرط اساسي ہے ۔ انسانى پيدائش کے ساتھ ساتھ اخلاقيات کي بھى تخليق ہوئى ہے ۔ اخلاقيات کي عمرانسانى عمر کے برابر ہے ۔ 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

دنيا کا کوئى عقلمند ايسا نھيں ہے جس کو انسانى روح کى آسائش و سلامتى کے لئے اخلاقيات کے ضرورى ہونے ميں ذرہ برابر بھى شک ہو ، يا رشد اجتماعى کى بنياد پر تقويت دينے اور عمومى اصلاحات ميں اس کے سود بخش ہونے ميں کسى قسم کا شبہ ہو ۔ بھلا کون ايسا شخص ہے جس کو صداقت و امانت سے تکليف ہوتى ہو ؟ يا وہ کذب و خيانت کے زير سايہ سعادت کا متلاشى ہو ؟ اخلاق کى اھميت کے لئے يھى کافى ہے کہ ہر پسماندہ و ترقى يافتہ قوم چاہے وہ کسى دين و مذھب کى پابند بھى نہ ہو اخلاقي فضائل کو بڑے احترام و تقدس کى نظر سے ديکھتى ہے ۔ اور زندگى کى پُر پيچ راہوں ميں کچھ سلسلھٴ احکام کى پابندى کو ضرورى سمجھتى ہے ۔ انسان اپني زندگى ميں تمام مختلف راہوں کے اختيار کرنے کے باجود ہر جگہ ،ہر شخص اور ہر قوم و ملت کے لئے بلندى اخلاق کو ضرورى سمجھتا رھا ہے اور طول تاريخ ميں اس کى اھميت مختلف صورتوں ميں باقى رھى ہے ۔

مشہور انگريزى دانشمند ساموئيل اسمايلز کھتا ہے : اس کائنات کى محرک قوتوں ميں سے ايک قوت کا نام اخلاق ہے ۔ اور اس کے بھترين کارناموں ميں انسانى طبيعت کو بلند ترين شکل ميں مجسم کرنا ہے ، کيونکہ واقعى انسانيت کا معرف يھى اخلاق ہے ۔جو لوگ زندگى کے ہر شعبہ ميں تفوق و امتياز رکھتے ھيں ان کى پورى کوشش يھي ہوتى ہے کہ نوع بشر کا احترام و اکرام اپنے لئے حاصل کر ليں۔ تمام لوگ ان پر اعتماد و بہرسہ کريں اور ان کى تقليد کريں ، کيونکہ ان حضرات کے خيالات يہ ہوتے ھيں کہ دنيا کى ہر چيز کا تعلق ان ھى سے ہے اور يہ کہ اگر ان کا وجود نہ ہوتا تو دنيا رھنے کے قابل نہ ہوتى ۔ اگر چہ وراثتي نبوغ خود ھى لوگوں کو اپنى طرف کھينچتا ہے اور ان کي تعظيم و احترام پر آمادہ کرتا ہے پہر بھى عام لوگوں کا ايسے اشخاص کى طرف کھنچاؤ فکرى نتيجہ کا مرہون ہوتا ہے اور تعظيم و احترام کا تعلق دل ھى سے ہوا کرتا ہے ۔ يہ بات دنيا جانتى ہے کہ ھمارى پورى زندگى پر قلب کى حکومت ہوتى ہے اور پورى زندگى کا ادارہ يھى قلب کرتا ہے ۔ جو لوگ اپنى زندگى ميں عظمت و ارتقاء کى چوٹى پر پہونچ گئے ھيں وہ حيات بشرى کى پر پيچ گليوں کے روشن چراغ ھيں اور يھى وہ لوگ ھيں جو اپنى ذات سے عالم کو منور کر ديتے ھيں اور لوگوں کو فضائل و تقويٰ کے راستوں کي طرف ھدايت کرتے ھيں ، ليکن جب تک کسى بھى معاشرہ کے افراد تربيت يافتہ اور خوش اخلاق نہ ہو ں گے چاہے وہ سياسى بلنديوں کے ھمالہ تک پہونچ جائيں وہ اپنے کو ترقى و بلندى تک نھيں پہونچا سکتے کوئى بھى قوم ہو يا ملت اگر وہ سر بلندى کى يقينى زندگي بسر کرنا چاھتى ہے تو اس کے لئے ملک کى وسعت ضرورى نھيں ہے ۔ کيونکہ بھت سى قوميں جو کثرت افراد رکھتي تھيں اور ان کے ملک کى زميں بھى بھت طويل و عريض تھى ليکن وہ عظمت و تکامل کى زندگى سے عارى تھيں اور يہ حقيقت ہے کہ جس قوم کا سر مايہ اخلاق تباہ ہو جائے وہ بھت جلد فنا کے گھاٹ اتر جاتى ہے ۔

مزید  شخصیت علی (ع) پر امت اسلامی کا بے مثال اجماع

اس انگريزى دانشمند کا قول نظرى و فکرى اعتبار سے متفق عليہ ہے ليکن دنيا ميں لوگوں نے علم و عمل کے درميان بھت لمبا فاصلہ پيدا کر ديا ہے اور عملي دنيا ميں انہوں نے مکارم اخلاق کى جگہ خواھشات نفسانى کے سپرد کر دى اور ايسى جذباتى خواھشات کى تلاش ميں لگ گئے جو زندگى کے سمندر ميں ناپائدار حباب کى طرح ہوا کرتى ھيں ۔

انسان کار گاہ تخليق سے ايسے فضائل لے کر آيا ہے جو آپس ميں متضاد ھيں (مثلاً ) دل اچہے و برے صفات کا مرکز ہے اس لئے وجود انسانى کو برے صفات سے بچانے کے لئے سب سے پھلى کوشش ہونى چاھئے اور اس سلسلے ميں سب سے پھلے ان دو طاقتوں کو مسخر کرنا چاھئے جو تمام حيوانى صفات کا منبع ھيں ۔ يعنى غضب و شہوت، پس جو شخص بھى منزل سعادت و تکامل کى طرف گامزن ہو اس کو چاھئے کہ ان دونوں طاقتوں ميں افراط سے پرھيز کرے اور ان دونوں قوتوں کے سخت و مضر ميلانات کو مفيد و زيبا ترين جذبات سے بدل دے کيونکہ انسان اپنى زندگى ميں اپنے عواطف و جذبات سے بھت فائدہ اٹھاتا ہے ليکن اس کے جذبات کاصحيح اظھار اسى وقت ہوتا ہے جب وہ جذبات عقل کے کنٹرول ميں ہوں ۔

ايک علم النفس کا ماہر کھتا ہے : انسانى جذبات ايک ايسا خزانہ ہے جو دو چيزوں سے مرکب ہے ايک چيز ايسى طاقتوں کا مرکز ہے جو فشار دينے والى ھيں اور دوسرى چيز کے اندر مقاومت کى طاقتوں کو وديعت کر ديا گيا ہے ۔ اب جو بھى قدرت مقاومتى دستگاہ پر غالب آگئى وھى قدرت ھمارے وجود پر براہ راست حکومت کرے گى اور ھم کو اپنا تابع و فرمانبردار بنا لے گى ۔

جن لوگوں نے اپنى باطنى قوتوں ميں توازن بر قرار رکھا ۔ خواھشات ميں توافق رکھا اور اپنے عقل و دل ميں صلح و آشتى کو قائم کيا ۔ انھيں لوگوں نے مشاکل حيات ميں اپنے مستحکم و غير متزلزل ارادہ کے ساتھ خوشبختي کے مسلم راستہ کو طے کيا ہے ۔ يہ بات اپنى جگہ پر درست ہے کہ آج کل کى زندگى مشينى زندگى بن کر رہ گئى ہے اور انسان نے اپنى فکرى قوتوں کے سھارے سمندروں کا سينہ چاک کر ڈالا ہے ليکن تمدن و تھذيب کے سينہ ميں جو بد بختياں موجود ھيں اور نسل بشرجن مشکلات کے تھپيڑوں ميں گرفتار ہے اور پورا معاشرہ جس بد نظمى و تباھى کا شکار ہے اسکى علت روحانيت کى شکست اور فضائل اخلاقى سے دوري کے علاوہ کچھ بھى نھيں ہے۔

ڈاکٹر ژول رومان کا کھنا ہے : اس زمانہ ميں علوم نے تو کافى ترقي کى ہے ليکن ھمارے اخلاقيات اور غريزى احساسات اپنے ابتدائى مراحل ميں ھيں ۔ اگر ھمارے اخلاقيات بھى عقل و دانش کے شانہ بہ شانہ ترقى کرتے تو ھم کو يہ کھنے کا حق ہوتا کہ انسان کى مدنيت بھى ترقى کر گئى ہے !!!

مزید  جنت البقیع تاریخ کے آئینے میں

ھاں يہ صحيح ہے کہ جس تمدن پر مکارم اخلاق کى حکمراني نھيں ہوتى وہ توازن و تعادل کے قانون کے بموجب تباہ و برباد ہو جاتا ہے ۔ معاشروں اور رتمدنوں کے اندر موجود شقاوت و بد بختي، نقص و کمى آج بھى لوگوں کو يہ احساس دلانے کے لئے کافي ہے کہ وہ اس زمانہ ميں بھى اخلاقى اقدار کے ويسے ھي محتاج ھيں جيسے پھلے تہے ۔ مکارم اخلاق کے اندر آج بھى اتنى طاقت و قوت موجود ہے جو اس مردہ معاشرہ کے جسم ميں نئى روح پہونک دے ۔

فاسد اخلاق سے دین كی جنگ

قرآن مجید ایك مختصر اور رسا ترین جملہ میں بھت ھی دلچسپ انداز سے غیبت كی حقیقت كو بیان كرتا ہے ”

”كیا تم میں سے كوئی اس بات كو پسند كرے گا كہ اپنے مرے ہوئے بھائی كا گوشت كھائے“

مذھبی رھنماؤں نے جس طرح شرك و بیدینی كا مقابلہ كیا ہے اسی طرح اندرونی صفات كی اصلاح كی طرف بھت زیادہ توجہ دی ہے ۔حضور سروركائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ھیں: مجہے اس لئے نبی بنا كر بھیجا گیا ہے تاكہ مكارم اخلاق كو منزل كمال تك پہونچا دوں، اسی لئے آپ نے بڑی متین منطق اور سعادت بخش پروگرام كے ذریعہ لوگوں كی رھبری فرمائی ہے اور حدود فضیلت سے باہر جانے كو جرم قرار دیا ہے اور بڑی سختی كے ساتھ اس سے روكا ہے ۔ نہ صرف غیبت كا سننا اور غیبت كرنا گناہ ہے بلكہ شارع اسلام نے شخص غائب كی حیثیت كا دفاع كرنا بھی ہر مسلما ن كا فریضہ قرار دیا ہے ۔ چنانچہ ارشاد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے: اگر كسی مجمع میں كسی شخص كی غیبت كی جائے تو تمھارا فریضہ ہے كہ جس كی غیبت كی جا رھی ہے اس كا دفاع كرو اور لوگوں كو اس كی غیبت سے روكو اور وھاں سے اٹھ كر چلے جا وٴ ۔

دوسری جگہ ارشاد فرماتے ھیں:

جو شخص اپنے برادر مومن كی غیبت كا دفاع كرے اللہ پر اس كا حق ہے كہ اس كے جسم كو جھنم سے بچائے ۔

جو شخص بھی اپنے برادر مومن كی عدم موجودگی میں اس كی آبرو كا دفاع كرتا ہے خدا اس كو عذاب جھنم سے بچا لیتا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ھیں: جو شخص كسی مسلمان كی غیبت كرتا ہے خدا چالیس دن تك اس كی نماز اور اس كے روزے كو قبول نھیں كرتا ۔ ھاں جس كی غیبت كی گئی ہے اگر وہ معاف كر دے تب قبول كر لیتا ہے، ایك اور جگہ ارشاد فرماتے ھیں: جو شخص كسی مسلمان كی ماہ رمضان میں غیبت كرتا ہے خدا اس كے روزے كے اجر كو ختم كر دیتا ہے ۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واقعی مسلمان كی پھچان بتاتے ہوئے فرماتے ھیں: وھی شخص مسلمان ہے جس كی زبان اور جس كے ھاتہ سے تمام مسلمان محفوظ رھیں ۔بھت ھی واضح سی بات ہے كہ غیبت كرنے والا حصار فضیلت سے باہر ہو جاتا ہے ۔ اور اپنے كو انسانیت كی نگاہ میں ذلیل كر لیتا ہے مسلمانوں كا اجماع ہے كہ غیبت گناہ كبیرہ ہے كیونكہ غیبت كرنے والا علاوہ اس كے كہ دستور الٰھی كی مخالفت كرتا ہے وہ حق خدا كی بھی رعایت نھیں كرتا ہے اور حقوق مردم پر تعدی كرتا ہے ۔

مزید  توسل کے بارے میں ایک جد وجھد

جس طرح مردہ جسم اپنا دفاع نھیں كر سكتا اور نہ اپنے بدن پر ہونے والے ظلم كو روك سكتا ہے بالكل اسی طرح شخص غائب اپنی آبرو كی حفاظت نھیں كر سكتا اور نہ اس كا دفاع كر سكتا ہے جس طرح مسلمان جان كی حفاظت ضروری ہے اسی طرح اس كے آبرو كی بھی حفاظت ضروری ہے ۔

غیبت و بد گوئی كی علت روحانی دباؤ اور رنج و غم ہوتا ہے ۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں: كمزور و ناتوان شخص كی انتھائی كوشش غیبت كرنا ہے ۔

ڈاكٹر ھیلن شاختر كھتا ہے: انسان كی جو بھی حاجت پوری نھیں ہوتی وہ رنج و الم كا سبب بن جاتی ہے ۔ اور ہر رنج و غم ھم كو اس كے دفاع و تدبیر پر آمادہ كرتا ہے ۔ لیكن الم و تكلیف كے دور كرنے كا طریقہ ہر شخص كا ایك جیسا نھیں ہوتا ۔ جب انسان دوسروں كو دیكھتا ہے كہ وہ اس كی طرف اس طرح متوجہ نھیں ہوتے جس طرح وہ چاھتا ہے تو وہ گوشہ نشین ہو جاتا ہے ۔ اور اس خوف سے كہ كھیں لوگوں كے درمیان اس كی ذلت و رسوائی نہ ہو جائے وہ ملنے جلنے پر تنھائی اور گوشہ نشینی كو ترجیح دیتا ہے ۔ اور اگر لوگوں كے درمیان بیٹھتا بھی ہے تو مضطرب، پریشان خوفزدہ ہو كر ایك كنارے میں بیٹھتا ہے اور ایك كلمہ بھی نھیں كھتا اورخاموش و ساكت بیٹھا رھتا ہے اور پہر اپنے احساس كمتری كو دور كرنے كے لئے دوسروں سے مسخرہ پن كرتا ہے اور بے جا قھقہے لگاتا ہے ۔ اور یا غیر موجود لوگوں كی بدگوئی كرتا ہے ۔ یا موجود ہ لوگوں سے جھگڑنے لگتا ہے ۔ اور یا دوسروں پر اعتراض كرنے لگتا ہے ۔ ان تمام طریقوں میں سے كسی ایك طریقے كو اپنا كر لوگوں كو اپنی طرف متوجہ كرنے كی كوشش كرتا ہے ۔

ڈاكٹر مان اپنی كتاب ”اصول علم نفس“ میں كھتا ہے: اپنی شكست كا جبران كرنے كے لئے اور اپنے عیوب كی پردہ پوشی كے لئے انسان كبھی اپنے گنا ہ كو دوسروں كے سر منڈہ دیتا ہے اور اس طرح اپنی ذات كے احترام كو اپنی نظر میں محفوظ كر لیتا ہے ۔ اور اگر امتحان میں فیل ہو گیا تو كبھی معلم كو اور كبھی امتحانی سوالات كی ملامت كرتا ہے ۔ اور اگر وہ اپنے حسب منشاء مقام و عھدہ نھیں پاتا تو كبھی اس عھدے كی برائی كرتا ہے ۔ اور كبھی اس شخص كی جو اس عھدے پر فائز ہے ۔ اس كی ملامت كرتا ہے ۔ اور كبھی اپنی شكست كی پوری ذمہ داری ایسے دوسرے لوگوں كے سر ڈال دیتا ہے، جن كا اس سے كوئی واسطہ بھی نھیں ہوتا ۔

ان چیزوں سے یہ نتیجہ نكلتا ہے كہ خود ھمارا فریضہ ہے كہ ایك روحانی جھاد كر كے خلوص نیت كے ساتھ اپنے بلند جذبات كو تقویت پہونچائیں اور سب سے پھلے اپنے نفس كی اصلاح و تھذیب كی كوشش كریں تاكہ نیك بختی كی سر زمین پر قدم جما سكیں اور اپنے معاشرے كی ہر پھلو سے اصلاح كر سكیں ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.