اخلاقی حالت

0 0

آخر زمانہ کی نشانیوں میں بارزنشانی خاندانی بنیاد کاکمزور ہونا ،رشتہ داری ، دوستی ، انسانی عواطف کا ٹھنڈا پڑنا مہر و وفا کا نہ ہونا ہے ۔

الف)انسانی جذبات کا سرد پڑجانا

رسول خدا اس زمانے کی عاطفی اعتبار سے حالت یوں بیان فرماتے ہیں: ”اس زمانہ میں،بزرگ اپنے چھوٹوں اور ماتحت افراد پر رحم نہیں کریں گے نیز قوی ناتواں پر رحم نہیں کرے گا اس وقت خدا وند عالم اسے (مہدی)کو قیام و ظہور کی اجازت دے گا۔

 نیز آنحضرت فرماتے ہیں کہ: قیامت نہیں آئے گی جب وہ دور نہ آئے کہ ایک شخص فقر و فاقہ کی شدت سے اپنے رشتہ داروں اور قرابتداروں  سے رجوع کرے گا اور انھیں اپنی رشتہ داری کہ قسم دے گا تاکہ لوگ اس کی مدد کریں لیکن لوگ اسے کچھ نہیں دیں گے پڑوسی اپنے پڑوسی سے مدد مانگے گا اور اس کی قسم دے گا لیکن مدد نہیں ہوگی ۔

نیز آنحضرت فرماتے ہیں کہ : قیامت کی علامتوں میں ایک علامت پڑوسی سے بد رفتاری اور رشتہ داری کو ختم کر دینا ہے ۔

بعض روایات میں ”الساعة“کی تاویل حضرت کے ظہور سے کی گئی ہے روایات ”اشراط الساعة“ظہور کی علامتوں سے تفسیر کی گئی ہیں۔

ب)اخلاقی فساد

جنسی فساد کے علاوہ ہر طرح کے فساد پر تحمل کیا جا سکتا ہے اس لئے کہ جنسی فساد غیر ت مند اور شرفاء کے لئے بہت ہی ناگوار اور ناقابل تحمل ہے ۔

ظہور سے پہلے بد ترین انحراف و فساد جس سے سماج دوچار ہو گا ۔ناموس اور خانوادگی ناامنی ہے اس وقت اخلاقی گراوٹ اور فساد وسیع پیمانہ پر پھیلاہوا ہوگا انسان نما گروہ حیوانی کر دار کی برائی، پھیلے ہوئے فساد اور اس کی تکرار سے ختم ہو چکی ہو گی عام حالت ہوگی فساد اس درجہ پھیلا ہوگا کہ کم لوگ روک پائیں گے ۔

محمد رضا پہلوی کے دور حکومت میں  ۱۳۵۰ ئشمسی میں ۲۵۰۰ /سو سالہ جشن منایا گیا جس میں حیوانی زندگی کی بد ترین نمایش ہوئی اور اسے ہنر شیراز کا نام دیا گیاتو جامعہ اسلامی ایران نے غیض و غضب کے ساتھ ساتھ اعتراض بھی کیا ۔لیکن ظہور سے پہلے ایسے اعتراض کی کوئی خبر نہیں ہے فقط اعتراض یہ ہوگا کہ کیوں ایسے برُے افعال چوراہوں پر ہو رہے ہیں یہ سب سے بڑا نہی از منکر ہے جس پر عمل ہوگا ۔ایسا شخص اپنے زمانہ کا سب سے بڑا عابد ہے۔

مزید  وفائے مجسم حضرت ابوالفضل العباس(ع) کی ولادت با سعادت مبارک

اب روایات پر نظر ڈالیں تاکہ اسلامی اقدارکا خاتمہ اور اس عمیق فاجعہ اور وسعت فساد کو اس زمانے میں در ک کریں ۔

رسول خدا  فرماتے ہیں : کہ قیامت نہیں آئے گی مگر جب روز روشن میں عورتوں کو

ان کے شوہر سے چھین کر کھلم کھلا ( لوگوں کے مجمع میں)راستوں میں تعدی نہ کی جائے لیکن کوئی اس کام کو برا نہیں کہے گا اورنہ ہی اس کی روک تھام کرے گا لوگوں میں سب سے اچھا انسان وہ ہوگا جو کہے گا کہ کاش بیچ راستے سے ہٹ کر ایسا کام کرتے ۔

اسی طرح حضرت فرماتے ہیں : کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ، یہ امت اس وقت ختم نہیں ہو گی جب تک مرد عورتوں کے راستے میں نہ بیٹھیں اور درندہ شیر کی طرح تجاوز نہ کریں لوگوں میں سب سے اچھا انسان وہ ہوگا جو کہے کہ کاش اسے اس دیوار کے پیچھے انجام دیتے اور ملاء عام میں ایسا نہ کرتے ۔“(۲)

دوسرے بیان میں فرماتے ہیں : کہ وہ لوگ حیوانوں کی طرح وسط راہ میں ایک دوسرے پر حملہ بولیں گے اور آپس میں جنگ کریں گے اس وقت ان میں سے کوئی ایک ماں ،بہن، بیٹی کے ساتھ بیچ راہ میں اس کے سامنے تجاوزکریں گے پھر انھیں دوسرے لوگوں کو تعدی و تجاوز کا موقع دیں گے اور یکے بعد دیگر اس بد فعلی کا شکار ہوگا لیکن کوئی اس بد کرداری کی ملامت نہیں کرے گا اور اسے بدلنے کی کوشش نہیں کرے گا ان میں سب سے بہتر وہی ہوگا جو کہے گا کہ اگرراستے سے ہٹ کر لوگوں کی نگاہوں سے بچ کر ایسا کرتے تو اچھا تھا۔

مزید  پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله) کے سینہ کو کشادہ کرنے کے کیا معنی هیں؟

ج)بد اعمالیوں کا رواج

محمد بن مسلم کہتے ہیں کہ امام محمدباقر (علیہ السلام)سے عرض کیا : کہ اے فرزند رسول خدا   آپ کے قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) کب ظہور کریں گے ؟ تو امام (ع)نے کہا!”اس وقت جب مرد خود کو عورتوں کے مشابہ اور عورتیں مردوں کے مشابہ بنالیں۔ اس وقت جب مرد مرد پہ اکتفاء کرے (یعنی لو اط) اور عورتیں عورتوں کو چپٹیں

امام صادق(علیہ السلام) سے اسی مضمون کی ایک دوسری روایت بھی نقل ہوئی ہے۔ اور ابو ہریرہ نے بھی رسول خدا  سے نقل کی ہے۔ اس وقت قیامت آئے گی جب مرد بد اعمالی پرا یک دوسرے پر سبقت حاصل کریں جیسا کہ عورتوں کے سلسلے میں بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔

اسی مضمون کی ایک دوسری روایت بھی ہے۔

د)اولا دکم ہونے کی آرزو

رسول خدا   فرماتے ہیں :کہ اس وقت قیامت آئے گی جب پانچ فرزند والے چار فرزند اور چار فر زند والے تین فر زند کی آرزو کرنے لگیں تین والے دو کی اور دو والے ایک کی اور ایک فرزند والا آرزو کرنے لگے کہ کاش صاحب فرزند نہ ہوتے ۔

دوسری روایت میں فرماتے ہیں :کہ ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ تم لوگ کم فرزند والے سے رشک کروگے جس طرح کہ آج اولاد و مال میںاضافہ کی آرزو کرتے ہو ۔حد یہ ہو گی کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی قبر سے گذرے گا تو اس کی قبر پر لوٹنے لگے گا جس طرح حیوانات اپنی چراگاہوں کی خاک پر لوٹتے ہیں ۔اور کہے گا کہ اے کاش اس کی جگہ میں ہوتا نہ تو یہ بات خدا وندا عالم کے دیدار کے شوق میں ہوگی اور نہ ہی ان نیک اعما ل کی بنیاد پر ہوگی جو اس نے انجام دیئے ہیں بلکہ اس مصیبت و بلاء کی وجہ سے ایسا کہے گا جو اس پر نازل ہو رہی ہیں۔(۲)

 نیز آنحضرت فرماتے ہیں :کہ قیامت اس وقت آئے گی جب اولاد کم ہونے لگے گی۔(۳) اس روایت میں ”الولد غیضا “آیا ہے جس کے معنی بچوں کے ساقط کرنے اور حمل نہ ٹھہرنے کے معنی ہیں لیکن کلمہ ”غیضا “دوسری روایت میں،غم و اندوہ ، زحمت و مشقت اور غضب کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔

مزید  مکروفریب

یعنی لوگ اس زمانے میں (LOSE )سقط اور افزایش فرزند اور ان کی زیادتی سے مانع ہوں گے یا فرزند کا وجود غم و اندوہ کا باعث ہوگا شاید اس کی علت اقتصادی مشکل ہو یا بچوں میں بیماریوں کی وسعت اور آبادی کے کنٹرول کرنے کے لئے ذرائع ابلاغ و تبلیغ اثر انداز ہوں یا کوئی اور وجہ ۔

ھ)بے سر پر ست خاندانوں کی زیادتی

رسو ل خدا   فرماتے ہیں :کہ قیامت کی ایک علامت یہ ہے کہ مرد کم ہوں گے اورعورتیں زیادہ ہوں گی حد یہ ہے کہ ہر ۵۰/عورت پرایک  مرد سر پرست ہوگا۔

شاید یہ حالت مردوں کے جانی نقصان سے ہو جو لگا تار اور طولانی جنگوں میں ہوا ہوگا ۔

نیز آنحضرت فرماتے ہیں: کہ اس وقت قیامت آئے گی جب ایک مرد کے پیچھے تقریبا ۳۰/ عورت لگ جائے گی اور ہرا یک اس سے شادی کی در خواست کریں گی۔

حضرت دوسری روایت میں فرماتے ہیں : کہ خدا وند عالم اپنے دوستوں اور منتخب افراد کو دوسرے لوگوں سے جدا کر دے گا تاکہ زمین منافقین و گمراہوں  نیزان کے فرزندوں سے پاک ہو جائے ایسا زمانہ آئے گا کہ ۵۰/ عورت ایک مر د سے کہے گی اے بندہ خدا یا مجھے خرید لو یا مجھے پناہ دو۔

انس کہتے ہیں : کہ رسول خدا فرماتے ہیں : کہ قیامت اس وقت آئے گی جب مردوں کی کمی اور عورتوں کی زیادتی ہو گی۔اگر کوئی عورت راستے میں کوئی جوتا ،چپل دیکھے گی تو بے دریغ افسوس سے کہے گی کہ یہ فلاں مرد کی ہے اس زمانہ میں ہر ۵۰/ عورت پر ایک مرد سر پر ست ہوگا۔

انس کہتے ہیں : کہ کیا تم نہیں چاہتے کہ جو رسول خداسے حدیث سنی ہے بیان کروں ،رسول خدا  نے فرمایا : ہے کہ مردوں کاخاتمہ ہو جائے گا اور عورت باقی رہ جائیں گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.