ابوطالب علیہ السلام

0 0

 

حضرت ابوطالب علیہ السلام، امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے والد بزرگوار اور رسول اللہ (ص) کے چچا اور آپ (ص) کے والد ماجد کے سگّے بھائی ہیں دونوں کی والدہ بھی ایک ہے. انہوں نے اس بارے میں شاعری کی زبان میں فرمایا ہے:

لا تخذلا و انصرا ابن عمكما إخی لامی من بينہم و إبی[1]

[بیٹو] اپنے چچا زاد بھائی کو تنہا مت چھوڑو اور اس کی مدد کرو کہ وہ میرے بھائیوں کے درمیان والد اور والدہ دونوں کی طرف سے میرے بھائی کا فرزند ہے.

آپ کے بہت سارے کمالات و صفات ہیں لیکن ہم ذیل میں ان کمالات و صفات اورآپ کی دین مبین اسلام کی خدمات میں سے کچھ کو مختصراً بیان کریں گے:

1. ابوطالب علیہ السلام رسول خدا(ص) کا سرپرست:

حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کے بیٹوں میں حضرت ابوطالب (ع) برتر اخلاقیات کے مالک تھے؛ ان کی روش دوسرے بھائیوں کی نسبت زیادہ شائستہ تھی؛ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ شدید محبت کرتے تھے اور آپ (ص) پر بہت مہربان تھے اور ان اوصاف کے علاوہ وہ رسول اللہ (ص) کے لئے نہایت عمیق عقیدت و احترام کے قائل تھے چنانچہ حضرت عبدالمطلب (ع) نے اپنے انتقال سے قبل ان کو حضرت رسول (ص) کا سرپرست مقرر کیا. آپ علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے شدید محبت کرتے تھے؛ علاوہ ازیں وہ آپ (ص) کے روشن مستقبل سے آگاہ تھے اور انہیں معلوم تھا کہ آپ (ص) مستقبل میں رسالت الہیہ کے حامل ٹہریں گے؛ چنانچہ انہوں نے آپ (ص) کی پرورش و تربیت اور حفاظت کے سلسلے میں ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا اور اس راستے میں انہوں نے قربانی اور ایثار کی روشن مثالیں قائم کیں اور ہر جگہ اور ہر مقام پر خطروں میں بھی آپ (ص) کو اپنے آپ پر مقدم رکھا[2].

2 – ابوطالب علیہ السلام مشرکین کے مد مقابل آہنی دیوار:

مورخین نے عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ: ابوطالب (ع) رسول خدا (ص) کو بہت دوست رکھتے تھے اور اپنے بیٹوں پر بھی اتنی مہربانی روا نہیں رکھتے تھے جتنی کہ وہ رسول اللہ (ص) پر روا رکھتے تھے؛ ابوطالب (ع) رسول اللہ (ص) کے ساتھ سویا کرتے تھے اور گھر سے باہر نکلتے وقت آپ (ص) کو ساتھ لے کر جاتے تھے؛ مشرکین نے ابوطالب علیہ السلام کے انتقال کے ساتھ ہی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو آزار و اذیت پہنچانے کا وہ سلسلہ شروع کیا جو حیات ابوطالب (ع) میں ان کے لئے ممکن نہ تھا؛ چنانچہ رسول اللہ (ص) نے خود بھی اس امر کی طرف بار بار اشارہ فرمایا ہے[3].

3. رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دشمنوں کو سزا:

ایک دفعہ حضرت رسول اکرم صلی الله علیہ و آلہ و سلم مسجد الحرام مین نماز ادا کررہے تھے کہ قریشی مشرکین نے اونٹ کی اوجڑی آپ (ص) کے جسم مبارک پر پھینک دی اور آپ (ص) کے کرتے کو آلودہ کیا. رسول اللہ (ص) حضرت ابوطالب(ع) کے پاس آئے اورفرمایا: چچاجان! آپ اپنے خاندان میں میرے رتبے کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟ ابوطالب نے کہا: پیارے بھتیجے ہؤا کیا ہے؟

رسول اکرم (ص) نے ماجرا کہہ سنایا. ابوطالب (ع) نے فوری طور پر بھائی حمزہ کو بلایا اور شمشیر حمائل کرکے حمزہ سے کہا: ایک اوجڑی اٹھالاؤ اور یوں دونوں بھائی قوم قریش کی طرف روانہ ہوئے جبکہ نبی اکرم (ص) بھی ان کے ہمراہ تھے. کعبہ کے ارد گرد بیٹھے ہوئے قریش کے سرداروں کے پاس پہنچے. جب انہوں نے ہاشمی بھائیوں اور رسول اللہ (ص) کو اس حالت میں دیکھا تو سب اپنا انجام بھانپ گئے. مؤمن قریش نے بھائی حمزہ کو ہدایت کی کہ اوجڑی کو قریشیوں کی داڑھیوں اور مونچھوں پر مل لیں. حمزہ نے ایسا ہی کیا اور آخری سردار تک کے ساتھ ہدایت کے مطابق سلوک کیا. اس کے بعد ابوطالب علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: جان سے پیارے بھتیجے یہ ہے آپ کا مقام او رتبہ ہمارے درمیان[4]۔

مزید  حقيقت تشيع

یوں قریشی مشرکین کو اپنے کئے کی سزا ملی اور قریش کے سرغنوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ «جب تک ابوطالب زندہ ہیں رسول اللہ (ص) کو حصول ہدف سے روک لینا، ممکن نہیں ہے.

4. ابوطالب علیہ السلام کا اپنے بیٹے کو ہدایت:

جب غار حرا میں خدا کا کلام آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل ہؤا تو علی علیہ السلام آپ (ص) کے ہمراہ تھے چنانچہ آپ (ص) نے سب سے پہلے اپنے وصی و جانشین اور بھائی کو دعوت دی اور علی علیہ السلام نے لبیک کہتے ہوئے رسول اللہ (ص) کی امامت میں نماز ادا کی اور جب گھر آئے تو اپنے والد کو ماجرا کہہ سنایا اور کہا «میں رسول اللہ (ص) پر ایمان لایا ہوں تو مؤمن قریش نے ہدایت کی: «بیٹا! وہ تم کو خیر و نیکی کے سوا کسی چیز کی طرف بھی نھیں بلاتے اور تم ہر حال میں آپ (ص) کے ساتھ رہو»[5].

5. ابوطالب علیہ السلام کی واضح و روشن حمایت:

جب آیت «وانذر عشيرتك الاقربين»[6] نازل ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے رشتہ داروں کو بلا کر انہیں اپنے دین کی دعوت دی تو ان کی مخالفت کے برعکس حضرت ابوطالب علیہ السلام نے کہا: «یا رسول اللہ (ص)! آپ کی مدد اور نصرت ہمارے لئے بہت ہی زیادہ محبوب اور مقبول و پسندیدہ ہے؛ میں آپ کی خیرخواہی کی طرف متوجہ ہوں اور آپ کی مکمل طور پر تصدیق کرتا ہوں؛ جائیں اور اپنی مأموریت اور الہی فریضہ سرانجام دیں؛ خدا کی قسم میں آپ کی حفاظت کرتا رہوں گا اور کبھی بھی آپ سے جدائی پر راضی نہ ہونگا[7].

6. تہديد دشمنان رسول خدا(ص):

ایک روز رسول اللہ (ص) گھر سے نکلے تو واپس نہیں ائے. حضرت ابوطالب علیہ السلام فکرمند ہوئے کہ مشرکین قریش نے کہیں آپ (ص) کو قتل ہی نہ کیا ہو؛ چنانچہ انہوں نے ہاشم اور عبدالمطلب کے فرزندوں کو اکٹھا کیا اور ان سب کو حکم دیا کہ : تیزدھار ہتھیار اپنے لباس میں چھپا کر رکھو؛ مل کر مسجدالحرام میں داخل ہوجاؤ اور تم میں سے ہر مسلح ہاشمی شخص قریش کے کسی سردار کے قریب بیٹھ جائے اور جب میں تم سے تقاضا کروں تو اٹھو اور قریش کے سرداروں کو موت کی گھاٹ اتارو.

ہاشمیوں نے حضرت ابوطالب کے حکم کی تعمیل کی اور سب کے سب مسلح ہوکر مسجدالحرام میں داخل ہوکر قریش کے سرداروں کے قریب بیٹھ گئے مگر اسی وقت زید بن حارثہ نے ان کو خبر دی کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو کوئی گزند نہیں پہنچی ہے اور بلکہ آپ (ص) مسلمان کے گھر میں تبلیغ اسلام میں مصروف ہیں چنانچہ منصوبے پر عملدرآمد رک گیا مگر مؤمن قریش ہاشمی شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشرکین قریش کو رسول اللہ (ص) کے خلاف کسی بھی معاندانہ اقدام سے باز رکھنے کی غرض سے اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا: میرا بھتیجا گھر سے نکلا اور گھر واپس نہیں آیا تو مجھے اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں تم نے اس کو کوئی نقصان نہ پہنچایا ہو چنانچہ میں نے تمہیں قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ پھر انہوں نے ہاشمی نوجوانوں کو حکم دیا کہ اپنے ہتھیار انہیں دکھا دیں. قریش کے سرداروں نے کانپتے ہوئے کہا: اے اباطالب! کیا تم واقعی ہمیں قتل کرنے کا ارادہ لے کر آئے تھے؟ فرمایا: اگر رسول اللہ کو تمہاری جانب سے کوئی نقصان پہنچا ہوتا تو میں تم میں سے ایک فرد کو بھی زندہ نہ چھوڑتا اور آخری سانس تک تمہارے خلاف لڑتا.

مزید  امام حسن (ع) کی صلح اور امام حسین (ع)کے جہاد کا فلسفہ

7. ابوطالب علیہ السلام دین اسلام کے مبلغین کے حامی:

سنی عالم و مورخ و ادیب ابن ابی الحدید معتزلی کہتے ہیں:

ولولا ابوطالب علیہ السلام وابنہ لما مثل الدین شخصا وقام

فذاک بمکة آوی وحامی وھذا بیثرب جس الحمام

اگر ابوطالب (ع) اور ان کا بیٹا (علی (ع)) نہ ہوتے مکتب اسلام ہرگز باقی نہ رہتا اور اپنا قدسیدھا نہ کرسکتا ابوطالب (ع) مکہ میں پیغمبر کی مدد کےلئے آگے بڑہے اور علی (ع) یثرب (مدینہ) میں حمایت دین کی راہ میں موت کے بھنور میں اترے“

کثیر تعداد میں متواتر اخبار و روایات سے ثابت ہے کہ حضرت ابوطالب علیہ السلام دین مبین کی ترویج کے سلسلے میں رسول اللہ (ص) کی مدد کیا کرتے تھے اور اپنے فرزندوں، اقرباء اور اہل مکہ کو آپ (ص) کی حمایت اور پیروی کی دعوت دیا کرتے تھے.

8. ابوطالب علیہ السلام رسول خدا (ص) کا حافظ و حامی:

قریش کے تمام مشرک قبائل نے شعب ابی طالب (ع) میں خاندان رسالت اور مسلمانوں کو مکہ سے جلاوطن کیا اور شعب ابی طالب (ع) میں ان کی ناکہ بندی کردی. یہ ناکہ بندی معاشی، سماجی اور سیاسی ناکہ بندی تھی. شعب ابی طالب اس وقت شہر مکہ سے باہر واقع ایک درہ تھا. یہ ناکہ بندی شدید ترین اقدام کے طور پر قریش کی طرف سے مسلمانوں پر ٹھونسی گئی تھی اور اس دوران پیغمبر اکرم (ص) اور آپ (ص) کے ہمراہ دیگر مسلمان و مؤمنین صرف حرام مہینوں اور ایام حج میں بیت اللہ الحرام آسکتے تھے اور حج اور عمرہ بجالاسکتے تھے اور اسی دوران تبلیغ اسلام بھی کیا کرتے تھے. اس دوران صرف حضرت ابوطالب علیہ السلام تھے جو پیغمبر کی حفاظت کرتے اور رات بهر جاگتے اور نبی اکرم (ص) کے سونے کے مقام کو تبدیل کرکے اپنے بیٹے علی علیہ السلام کو آپ (ص) کے بستر پر لٹایا کرتے تا کہ اگر دشمن حملہ کرنا چاہے تو نبی (ص) کی بجائے علی قربان ہوجائیں اور ایسا عمل صرف مؤمن قریش ہی کے بس میں تھا جو اپنے ایمان کی بنیاد پر بیٹے کو بآسانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر قربان کرنے کے لئے تیار ہوجاتے تھے مگر علی علیہ السلام بھی اس قربانی پر سمعاً و طاعتاً راضی و خوشنود تھے. قریش نے ایک میثاق تحریر کی تھی جس پر ناکہ بندی کے حوالے سے متعدد نکات درج تھے اور یہ عہدنامہ کعبہ کی دیوار پر ٹانکا گیا تھا جسے ایک دیمک نے نیست و نابود کردیا تو ابوطالب علیہ السلام نماز شکر بجالانے بیت اللہ الحرام میں حاضر ہوئے اور وہیں انہوں نے مشرکوں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مخالفین کو بددعا دی اور ان پر نفرین کردی.[8]

مزید  قرآنی جوان

9. كلام نور میں ابو طالب کا مقام:

امام سجاد (ع) نے حضرت ابوطالب علیہ السلام کے ایمان کے بارے میں شک کرنیے والے افراد کے جواب میں فرمایا: عجب ہے کہ خدا اور اس کے رسول (ص) نے غیر مسلم مرد کے ساتھ مسلم خاتون کا نکاح ممنوع قرار دیا جبکہ حضرت فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا – جو سابقین مسلمین میں سے ہیں – حضرت ابوطالب علیہ السلام کے انتقال تک ان کے عقد میں رہیں”.

کسی نے امام باقر(ع) کو بعض جھوٹی محدثین کی یہ جعلی حدیث سنائی کہ “ابوطالب (ع) [معاذاللہ] آگ کی کھائی میں ہیں!”

امام علیہ السلام نے فرمایا: “اگر ایمان ابوطالب (ع) ترازو کے ایک پلڑے میں رکها جائے اور ان سب لوگوں کا ایمان دوسرے پلڑے میں تو ابوطالب (ع) کا ایمان ان سب پر بهاری نظر آئے گا”.

“ابان بن محمود” نامی شخص نے امام رضا علیہ السلام کو خط میں لکها کہ “میں آپ پر قربان جاؤں! میں ابوطالب کے ایمان کے سلسلے میں شک و تردید میں مبتلا ہوا ہوں”.

امام علیہ السلام نے جواب میں تحریر فرمایا: ” وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءتْ مَصِيرًا جو شخص حق ظاہر و آشکار ہونے کے بعد پیغمبر (ص) کی مخالفت کرے اور مؤمنوں کی راہ کے سوا کسی دوسرے راستے کی پیروی کرے ہم اسے اسی راستے پر لے چلیں گے جس پر کہ وہ گامزن ہے اور اسے جہنم میں داخل کردیں گے اور جہنم بہت ہی بری جگہ ہے”[9] اما بعد جان لو کہ اگر تم ایمان ابوطالب کا یقین نہیں کروگے تو تم بھی آگ کی طرف لوٹا دئیے جاؤگے.[10]

10. غم ہجران:

شعب ابی طالب (ع) میں ناکہ بندی کے دوران مؤمن قریش کو شدید صعوبتیں جهیلنی پڑیں اور شدید دباؤ اور مشکلات سہہ لینے کی وجہ سے حضرت ابوطالب کمزور ہوگئے چنانچہ ناکہ بندی کے خاتمے کے چھ مہینے بعد بعثت نبوی کے دسویں برس کو حضرت ابوطالب علیہ السلام وفات پاگئے جس کی وجہ سے حضرت رسول اللہ (ص) کو شدید ترین صدمہ ہوا اور بے تاب ہوکر اپنے چچا اور غمخوار کے سرہانے تشریف فرما ہوئے اور ان کے چہرے پر اپنے مقدس ہاتھ پھیر پھیر کر فرمایا: چچا جان! آپ نی بچپن میں میری تربیت کی؛ میری یتیمی کی دور میں آپ نے میری سرپرستی کی اور جب میں بڑا ہؤا تو آپ نے میری حمایت اور نصرت کی؛ خداوند متعال میری جانب سے آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے. میت اٹھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جنازے سے آگے آگے قبرستان کی طرف روانہ ہوئے اور راستے میں بھی محسن اسلام کے لئے دعائے خیر فرماتے رہے.[11]

[1] – بحارالانوار، ج 35، ص121.

[2] – امام علی صدای عدالت انسانی، جرج جرداق، ترجمه سيدهادی خسروشاهی، ج1 . 2، ص 74.

[3] – تاريخ طبری ،ج 2، ص 229.

[4] – الکافی ج1 ص 449۔

[5] – امام علی صدای عدالت انسانی، ج 1.2، ص 77 . 78.

[6] – شعرا، 214.

14. طرائف، ص 85 و طبقات كبری، ابن سعد، ج 1، ص 302.303.

[7] – الكامل، ابن اثير، ج 2، ص 24.

[8] – الغدير، ج 7، ص 364 والكامل فی التاريخ، ج 2، ص 71.

[9] نساء ، 115.

[10] – الغدير، ج 7، ص 36.

[11] – تاريخ انبيإ، ج 3، ص 218.

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.